یہ خاتون علی محمد باب کی پیروکار اور بہائی مذہب کی بہت بڑی داعی تھی۔ یہ خاتون تفسیر، حدیث، فقہ، الہٰیات اور فلسفہ میں کامل دستگاہ رکھتی تھی۔ یہ خود کو سیدہ کائنات حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء
کا مظہر کہا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ میری آنکھ حضرت سیدہ کائنات
کی چشم مبارک کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ بابیوں کے سوا ہر شخص کو کافر اور ناپاک سمجھتی تھی۔
یہ خاتون علی محمد باب کے ساتھ بذریعہ خط وکتابت رابطے میں رہتی۔ جب قزوین میں اس کے سُسر مجتہد عصر ملا محمد تقی اور شوہر نے اس پر تبلیغ بابیت پر سختیاں کیں تو یہ کربلا چلی گئی اور بابیت کی تبلیغ شروع کر دی۔ کربلا کے ترک حاکم نے اس کے متعلق بغداد سے رجوع کیا مگر یہ کربلا سے کسی ترکیب سے فرار ہو کر بغداد آ گئی۔ پھر کرمان، ہمدان، قزوین میں بابیت کا پرچار کرتے ہوئے خراسان کی حدود میں داخل ہو گئی۔ یہاں اس کی ملاقات باب کے فرنٹ مین اور زبردست داعی ملا محمد علی بار فروشی سے ہوئی۔ جب دونوں سفر کرتے کرتے بدشت کے صحرا میں پہنچے تو رات کو قزاقوں نے لوٹ لیا۔ ملا محمد علی تو بار فروش چلا گیا اور یہ بھٹکنے لگی بالآخر گرفتار کر لی گئی اور اسے تہران بھیج دیا گیا جہاں بعد ازاں عبرتناک طریقے سے اس کو قتل کر دیا گیا۔