logoختم نبوت

رشید الدین ابو الحشر سنان

محمد ثانی بن حسن ثانی باطنی کے عہد حکومت میں شام کے اسماعیلیوں نے الموت سے قطع تعلق کر کے رشید الدین ابو الحشر کو جو سنان کے لقب سے مشہور تھا اپنا سردار بنا لیا تھا۔ سنان نے خود نبوت کا دعوی کیا اور ایک الہامی کتاب بھی معتقدین کے سامنے پیش کی۔ یہ شخص اپنے آپ کو ایک اوتار اور مظہر ایزدی بتاتا تھا۔ باطنی لوگ اس کے بڑے معتقد تھے۔ ایک مرتبہ سنان نے اپنا ایک سفیر بیت المقدس کے عیسائی فرمانروا شاہ اموری کے پاس بھیجا۔ لیکن وہاں ایسی بدنظمیاں پھیل رہی تھیں کہ سفیر متعصب عیسائیوں کے ہاتھ سے مارا گیا۔ سنان نے قاتل کی حوالگی کا مطالبہ کیا لیکن اس سے بھی انکار کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شام کے باطنیوں اور فلسطین کے عیسائی حکمرانوں میں بگڑ گئی۔ اس سے پیشتر باطنی لوگ مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کا ساتھ دیا کرتے تھے۔ اب عیسائیوں کے بھی دشمن ہو گئے اور فدائیوں کی چھریاں ان پر تیز ہونے لگیں اس سلسلہ میں فرانس کا ایک بڑا حاکم کنٹراڈ نام ایک فدائی کے خنجر کا نشانہ بنا۔ اسی طرح یورپ کا ایک نامی گرامی فرمانروا فریڈرک جبکہ شمالی اٹلی کے شہر میلان کا محاصرہ کیے ہوئے تھا۔ ایک فدائی کی چھری سے مارا گیا۔

کنٹراڈ کی ہلاکت کے دو سال بعد کاؤنٹ شاہ سپین فلسطین کے سفر کو گیا اور اثنائے راہ میں شہر مصیات میں سنان کا مہمان ہوا۔ سنان نے اسے قلعہ کے دُھس اور برج دکھائے۔ ایک برج جو سب سے بڑا تھا اس کے ہر زینہ پر دو دو سپاہی ادب سے کھڑے ہوئے تھے۔ فوجی جمعیتوں کے تذکرہ پر سنان نے اپنے مسیحی مہمان سے کہا کہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ ہمارے جیسے اطاعت شعار اور جان سپار سپاہی دنیا کی کسی قوم کو نصیب نہیں ہے۔ یہ کہہ کر سنان نے اپنے دعویٰ کا عملی ثبوت پیش کرنا چاہا اور جھٹ بُرج کے ایک زینہ کی طرف اشارہ کیا۔ اس اشارہ کے ساتھ ہی دو سپاہی جو وہاں کھڑے تھے نیچے کی طرف کود پڑے اور زمین پر گرتے ہی ہلاک ہو گئے۔

یہ عبرتناک تماشہ دکھا کر سنان بولا کچھ انہی پرمنحصر نہیں۔ یہ جتنے سپاہی سفید لباس میں کھڑے ہیں اشارہ کروں تو سب کے سب گر گر کر جانیں دے دیں گے۔ یہ نظارہ دیکھ کر نصرانی حکمران انگشت بدنداں رہ گیا اور کہنے لگا مجھ پر کیا موقوف ہے واقعی دنیا کے کسی تاجدار کو ایسی جانباز رعایا نصیب نہ ہوگی۔ جب کاؤنٹ شاہ سپین مصیات سے رخصت ہونے لگا تو سنان اس سے کہنے لگا اگر آپ کا کوئی دشمن ہو تو بتا دیجیے۔ میرے فدائی بہت جلد اس کو ٹھکانے لگا دیں گے۔

یہ فدائی سلطان صلاح الدین ایوبی فاتح بیت المقدس sym-4 کی جان ستانی میں بہت کوشاں رہے لیکن خدائے عزیز وبرتر نے انہیں کبھی کامیاب نہ ہونے دیا۔ ملک شام میں سلطان صلاح الدین sym-4 کے فتوحات نے باطنیوں کی قوت کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔ اس لیے ان کے نزدیک سلطان ان کے مذہب کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ ایک مرتبہ فدائی خنجر باندھ کے سلطان کی جان لینے کو روانہ ہوئے۔ شہر حلب کے باہر جبکہ سلطان اپنے کیمپ میں قیام فرما تھا یکے بعد دیگرے چار فدائی خنجر لے لے کر جھپٹے لیکن حق تعالیٰ نے ان کو اس ناپاک کوشش میں نا مراد رکھا۔ بعض تو ایک مرتبہ بالکل سلطان کے پاس پہنچنے میں کامیاب ہو گئے لیکن سلطان نے ان کے ہاتھ پکڑ لیے۔ بہر حال یہ سلطان صلاح الدین کی کرامت سمجھنی چاہیے ورنہ یہ جو خونخوار فدائی جس کے پیچھے پڑتے جان لیے بغیر چین نہ لیتے تھے۔

سلطان صلاح الدین sym-4 کو فرنگیوں کی جنگ سے فرصت نہ تھی تاہم جب سیاہ دل باطنیوں نے اس کی جان لینے کی کوشش کی تو سلطان نے فرنگیوں کی طرف سے عنان توجہ پھیر کر باطنیوں کی سرکوبی کا قصد فرمایا۔ چنانچہ جاتے ہی باطنیوں کے شہروں کو لوٹ کر ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اس کے بعد قتل وغارت کرتا اور ان کی آبادیوں کو خاک سیاہ کرتا مصیات پہنچا اور قلعہ کا محاصرہ کر لیا۔ قلعہ مصیات الموت کے بعد باطنیوں کا سب سے بڑا قلعہ تھا۔ سلطان نے محاصرہ کر کے منجنیقیں نصب کر دیں۔ جب محاصرہ نے طول کھینچا اور محصورین کی حالت زیادہ ابتر ہونے لگی تو سنان نے سلطان صلاح الدین sym-4 کے ماموں شہاب الدین حارمی والئ حماۃ کے پاس پیغام بھیجا کہ از راہ کرم تم سلطان کے پاس ہماری شفاعت کرو۔ اور بیچ بچاؤ کر کے محاصرہ اٹھوا دو۔ حارمی نے اس درخواست کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ اس بے التفاتی پر باطنی قاصد نے حارمی کو قتل کی دھمکی دی اور بولا ہمارا سردار سنان کہتا ہے کہ اگر سلطان صلاح الدین sym-4 ہماری ایذا رسانی سے باز نہ آیا تو جس طرح بن پڑا ہم اس کے ماموں کی جان لے لیں گے۔ حارمی ان فقروں میں آگیا اور سلطان صلاح الدین sym-4 کو پیغام بھیجا کہ خدا کے لیے تم ان کا پیچھا چھوڑ دو ورنہ میری جان کی خیر نہیں۔ ماموں کی منت سماجت پر سلطان کا دل نرم ہو گیا اور محاصرہ اٹھا کر مصر چلا گیا۔

Netsol OnlinePowered by