logoختم نبوت

قطعیات دینیہ کے منکر سے اتحاد کا مغالطہ۔(مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ)

استفتاء:

مسئولہ:محمد مبین ہالینڈ

زید جواہل سنت کا مذہبی رہنما بھی کہلاتا ہے اور پیر طریقت بھی، اس نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ مسلمانوں کو چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل سے ان کی توجہ ہٹا کر ایک عالم گیر اتحاد کی طرف ان کو لگانا یہ آج کی ضرورت ہے۔ اس کے متعلق دریافت طلب امر یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس طرح کی دعوت دینا کیا مسلک اہل سنت کے مطابق ہے ؟ اور عالم گیر اتحاد کے لیے مذہب کے فروعی مسائل سے مسلمانوں کو ہٹانے کی تحریک چلانا کیا از روئے شرع درست ہے ؟

الجواب:

زید کی یہ بات بظاہر حق ہے واقعی مسلمانوں کو چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل میں الجھ کر لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایسا کرنا حرام و گناہ ہے۔ لیکن زید اپنی چالاکی سے کلمہ حق بول کر باطل معنی مراد لے رہا ہے۔ یہ مسلمان بول کر بدمذہب، کلمہ گو، مرتدین، قادیانیوں، وہابیوں کو بھی مراد لے رہا ہے جب کہ قادیانی، مرزائی اور وہابی سرے سے مسلمان ہی نہیں۔ ان کے کفریات پر مطلع ہوتے ہوئے ان کو مسلمان کہنا خود اسلام سے ہاتھ دھونا ہے ، اور فروعی مسائل سے ان کی تکفیر اور ان سے مقاطعہ بھی مراد لے رہا ہے۔ جہاں کہ ان ضروریات دین کے منکرین گستاخان انبیا و مرسلین کی تکفیر کا مسئلہ فروعی نہیں جزوایمان اور بنیادی ہے ۔ جو شخص ضروریات دین میں کسی ایک کا منکر ہو یا کسی نبی کی توہین کرے وہ کافر و مرتد ہے۔ اس پر امت کا اجماع ہے یہ شخص سنی مسلمان ہر گز نہیں صلح کلی، دنیادار، بندۂ زر ہے ۔ واللہ تعالی اعلم

(المواھب الالھیۃ فی الفتاوی الشریفۃ المعروف بہ فتاوی شارح بخاری ،ج:3 ،ص:55تا57،دائرۃ البرکات، کریم الدین پور ،گھوسی ضلع مئو)

Netsol OnlinePowered by