قادیانی لٹریچر میں مسلمانوں کے ساتھ معاشرتی تعلقات کے حوالے سے ایسے مؤقف ملتے ہیں جن کی رو سے وہ مسلمانوں سے الگ مذہبی جماعت ہونے پر زور دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود مسلم معاشرے کے ساتھ اپنے روابط برقرار رکھنے کے خواہاں بھی رہتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کے حوالے سے درج ذیل حوالہ جات پیش کیے جا رہے ہیں، جن کی روشنی میں قادیانی جماعت کے اپنے تشخص، مسلمانوں سے امتیاز اور معاشرتی تعلقات سے متعلق مؤقف کا جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ قادیانی حضرات مسلمانوں کے بارے میں معاشرتی اور سماجی مؤقف کیا رکھتے ہیں:
1۔ مسلمانوں سے ہر چیز میں اختلاف:
قادیانی فکر کا اخبار ”الفضل“ میں موجود ہے کہ:
”حضرت مسیح نے تو فرمایا ہے کہ ان (غیر احمدیوں) کا اسلام اور ہے۔“
(روزنامہ الفضل قادیان،ج :5 ،نمبر: 15،ص:8،کالم:1،مورخہ 21 اگست ،1917ء)
2۔ مسلمانوں سے عیسائیوں والا سلوک:
مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”ریویو آف ریلیجنز“ میں لکھتا ہے کہ:
”ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریم ﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔“
(ریویو آف ریلجنز، ج:14،نمبر:3،4، ص:169،170،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)
3۔ مسلمانوں سے ہر چیز میں اختلاف:
قادیانی فکر کا اخبار ”الفضل“ میں موجود ہے کہ:
”اور ہمارا اور ان (غیر احمدیوں) کا خدا اور ہے۔“
(روزنامہ الفضل قادیان،ج :5 ،نمبر: 15،ص:8،کالم:1،مورخہ 21 اگست،1917ء)
4۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ:
مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”ریویو آف ریلیجنز“ میں رقم طراز ہے کہ:
”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔“
(ریویو آف ریلجنز، ج:14،نمبر:3،4، ص:169،170،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)
5۔ مسلمانوں سے ہر چیز میں اختلاف:
قادیانی فکر کا اخبار ”الفضل“ میں موجود ہے کہ:
”ہمارا حج اور ہے اور ان (غیر احمدیوں) کا حج اور۔“
(روزنامہ الفضل قادیان،ج :5 ،نمبر: 15،ص:8،کالم:1،مورخہ 21 اگست ،1917ء)
6۔ مسلمانوں سے تعلقات حرام:
مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”ریویو آف ریلجنز“ میں لکھتا ہے کہ:
”ان (غیر احمدیوں) کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔“
(ریویو آف ریلجنز، ج:14،نمبر:3،4، ص:169،170،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)
7۔ مسلمانوں کے پیچھے نماز قطعی حرام:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”تذکرہ مجموعہ رؤیا والہامات“ میں لکھتا ہے کہ:
”خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفّر اور مکذّب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔“
(تذکرہ مجموعہ رؤیا والہامات، ص :318)
8۔ مسلمانوں سے ہر چیز میں اختلاف:
قادیانی فکر کا اخبار ”الفضل“ میں موجود ہے کہ:
”اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“
(روزنامہ الفضل قادیان،ج :5 ،نمبر: 15،ص:8،کالم:1،مورخہ 21 اگست ،1917ء)
9۔ مسلمانوں سے تعلقات حرام:
مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”ان (غیر احمدیوں) کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔“
(ریویو آف ریلجنز، ج:14،نمبر:3،4، ص:169،170،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)
10۔ مسلمانوں کے پیچھے نماز قطعی حرام:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”تذکرہ مجموعہ رؤیا والہامات“ میں لکھتا ہے کہ:
”بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔“
(تذکرہ مجموعہ رؤیا والہامات، ص :318)
11۔ غیر احمدی سے سلام یہود والا سلام ہے:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”تذکرہ مجموعہ رؤیا والہامات“ میں تحریر کرتا ہے کہ:
”اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم ﷺ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ رؤیا والہامات، ص :318)
12۔ غیر احمدی مسلمان نہیں:
مرزابشیر الدین محمود احمد اپنی کتاب ”انوار خلافت“ میں لکھتا ہے کہ:
”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں۔‘‘
(انوارِ خلافت،ص: 90،انوار العلوم ،ج:30،ص:149)
13۔ مسلمانوں سے تعلقات حرام:
مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں تحریر کرتا ہے کہ:
”اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ وناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیئے گئے۔“
(ریویو آف ریلجنز، ج:14،نمبر:3،4، ص:169،170،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)
14۔ غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں:
مرزا محمود احمد اپنی کتاب ”انوار خلافت“ میں رقم طراز ہے کہ:
”اور ان (غیر احمدیوں) کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔‘‘
(انوارِ خلافت،ص: 90،انوار العلوم ،ج:30،ص:149)
15۔ مسلمانوں کی نماز قبول نہیں:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے ”ملفوظات“ میں کہتے ہے کہ:
”مرزاصاحب نے اس سوال کے جواب میں کہ انہوں نے اپنے مریدوں کو غیر احمدیوں یعنی مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے کیوں منع کر رکھا ہے؟ کہا:’’جن لوگوں نے جلدبازی کے ساتھ بدظنی کر کے اس سلسلہ کو جو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے، رد کر دیا ہے اور اس قدر نشانوں کی پروا نہیں کی اور اسلام پر جو مصائب ہیں ان سے لاپروا پڑے ہیں ان لوگوں نے تقویٰ سے کام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے ”انما یتقبل اللہ من المتقین“ (المائدہ: 28) ’خدا صرف متقی لوگوں کی نماز قبول کرتا ہے۔‘ اس واسطے کہا گیا ہے کہ ایسے آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو جس کی نماز خود قبولیت کے درجہ تک پہنچنے والی نہیں۔“
(ملفوظات احمدیہ، 1: 449)
16۔ مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کی مرزائی حکمت:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے ”ملفوظات“ میں تحریر کرتے ہے کہ:
”صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔ دیکھو، دنیا میں روٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خداکے لیے ہے تم اگر ان میں رلے ملے رہے تو خدا تعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے وہ نہیں رکھے گا۔ پاک جماعت جب الگ ہو تو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے۔“
(ملفوظات احمدیہ، ج: 1، ص: 525)
17۔ غیر احمدیوں کو احمدی لڑکیوں کا رشتہ دینے کی ممانعت:
مرزا محمود قادیانی اپنی کتاب ”انوار خلافت“ میں رقم طراز ہے کہ:
”ایک اور بھی سوال ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو احمدیوں کی امارت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی باوجودیکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“
(انوار خلافت،ص: 92،انوار العلوم ،ج:3،ص:151)
18۔ مسلمانوں کا جنازہ پڑھنے کی ممانعت :
خلیفہ قادیاں ابن مرزائے قادیاں میاں محمود صاحب اپنی کتاب ”انوار خلافت“ میں لکھتا ہے کہ:
”قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بظاہر اسلام لے آیا ہے لیکن یقینی طور پر اس کے دل کا کفر معلوم ہو گیا ہے تو اس کا بھی جنازہ جائز نہیں۔ پھر غیر احمدی کا جنازہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔“
(انوار خلافت،ص: 90،انوار العلوم ،ج:30،ص:149)
19۔ مسلمان کے بچے ہندوؤں کے بچوں کی طرح:
مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیانی اپنی کتاب ”انوار خلافت“ میں لکھتا ہے کہ:
”غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے اس لیے ان کا جنازہ نہ پڑھنا چاہیے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح
کا مکفر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟“
(انوار خلافت،ص: 91,انوار العلوم ،ج:30،ص:150)
20۔ مرزا صاحب نے اپنے مسلمان بیٹے کا جنازہ نہ پڑھا:
مرزا بشیر الدین محمود احمد اپنی کتاب ”انوار خلافت“ میں تحریر کرتا ہے کہ:
”آپ (مرزا قادیانی) کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق بھی کرتا تھا جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہ کی تھی بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا ہے۔ ایک دفعہ میں سخت بیمار ہوا اور شدت مرض میں مجھے غش آ گیا، جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رو رہا تھا۔ آپ یہ بھی فرماتے کہ یہ میری بڑت عزت کیا کرتا تھا لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔ محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو اس کی بیوی اور اس کے رشتہ دار بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ حضرت نے اس کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ اس نے طلاق لکھ کر حضرت کو بھیج دی کہ آپ کی جس طرح مرضی ہے اسی طرح کریں لیکن باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔“
(انوار خلافت،ص: 90،انوار خلافت،ج:30،ص:149)
مرزا قادیانی کا بیٹا فضل احمد اپنے والد کے دعوائے نبوت کو امتِ مسلمہ کے ساتھ غداری تصور کرتا تھا، اسی لیے اس نے مرزا قادیانی کے اس دعوے کو کبھی قبول نہیں کیا۔ اس بنا پر مرزا قادیانی نے اپنے ہی بیٹے کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی، کیونکہ وہ اسے غیر احمدی خیال کرتا تھا۔ اب وہ لوگ جو قادیانیوں کی نمازِ جنازہ پڑھنے اور انہیں مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کرنے کی اجازت دینے پر اصرار کرتے ہیں، کیا وہ اس واقعے پر غور کرکے اپنے مؤقف کا جائزہ لیں گے؟
21۔ ہمارے دشمن خنزیر، عورتیں کتیاں ہیں:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”نجم الہدیٰ“ میں لکھتا ہے کہ:
”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور اُن کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“

(نجم الہدیٰ، ص: 53، روحانی خزائن، ج: 14، ص: 53)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”انجام آتھم“ میں لکھتا ہے کہ:22۔ خنزیر سے پلید وہ جس نے دیانت کی گواہی چھپائی:
”دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لیے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔“

(نجم الہدیٰ، ص: 53، روحانی خزائن، جلد: 14، ص: 53)
23۔ مردار خور مولویو نے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”انجام آتھم“ میں لکھتا ہے کہ:”اے مردار خود مولویو۔ اور گندی روحو۔ تم پر افسوس کہ تم نے میری عداوت کے لیے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا۔ اے اندھیرے کے کیڑو! تم سچائی کی تیز شعاعوں کو کیونکر چھپا سکتے ہو۔“

(نجم الہدیٰ، ص: 53، روحانی خزائن، جلد: 14، ص: 53)
24۔ غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے:
مرزا محمود احمد اپنی کتاب ”انوار العلوم“ میں لکھتا ہے کہ:”کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔“

(انوار خلافت، ص: 90، 91، انوار العلوم، ج: 3، ص: 147، 148)
مرزا محمود احمد اپنی کتاب ”انوار العلوم“ میں رقم طراز ہے کہ:25۔ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی ناجائز:
”غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ۔ جائز نہیں۔ جائز نہیں۔“

(انوار خلافت، ص: 90، 91، انوار العلوم، ج: 3، ص: 147، 148)
26۔ ایک مغضوب کو اپنے آگے کھڑا نہیں کرنا چاہیے:
مرزا محمود احمد اپنی کتاب ”انوار العلوم“ میں لکھتا ہے کہ:”یہ کونسی عقلمندی ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کے لیے ایک ایسے آدمی کو اپنے آگے کھڑا کیا جائے جو مغضوب ہو۔“

(انوار خلافت، ص: 90، 91، انوار العلوم، ج: 3، ص: 147، 148)
27۔ غیر احمدی کو امام نہ بناؤ:
مرزا محمود احمد اپنی کتاب ”انوار العلوم“ میں لکھتا ہے کہ:”اس لیے ان لوگوں کو اپنا امام نہیں بنانا چاہیے جنہوں نے حضرت مسیح موعود کو قبول نہیں کیا۔“

(انوار خلافت، ص: 90، 91، انوار العلوم، ج: 3، ص: 147، 148)
مرزا محمود احمد اپنی کتاب ”انوار العلوم“ میں تحریر کرتا ہے کہ:28۔ جب تک بیعت نہ کریں ان کے پیچھے نماز نہیں:
”ہمیں اس وقت تک کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے جب تک کہ وہ بیعت میں داخل نہ ہو جائے۔“

(انوار خلافت، ص: 90، 91، انوار العلوم، ج: 3، ص: 147، 148)
مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیانی اپنی کتاب ”انوار العلوم“ میں لکھتا ہے کہ:29۔ جو مسیح کو قبول نہیں کرتا وہ خدا کی نظر میں مقبول نہیں:
”جو ان (مرزا قادیانی) کو قبول نہیں کرتا وہ خدا کی نظر میں قبول نہیں ہو سکتا۔“

(انوار خلافت، ص: 90، 91، انوار العلوم، جلد: 3، ص: 147، 148)
مرزا محمود احمد اپنی کتاب ”انوار العلوم“ میں رقم طراز ہے کہ:30۔ ہم مجبور ہیں کہ ان (مسلمانوں) کے پیچھے نماز نہ پڑھیں:
”ہم بھی مجبور ہیں کہ ایسے لوگوں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ خواہ کسی وجہ سے سہی وہ حق کے منکر ہیں۔“

(انوار خلافت، ص: 90، 91، انوار العلوم، ج: 3، ص: 147، 148)
مرزا محمود احمد قادیانی اپنی کتاب ”انوار العلوم“ میں تحریر کرتا ہے کہ:31۔ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیں:
”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔“

(انوار خلافت، ص: 90، 91، انوار العلوم، ج: 3، ص: 147، 148)
اختتامیہ
قارئین کرام ! آپ نے دیکھا کہ مرزا قادیانی اور اس کی ذریت مسلمانوں کو کس نفرت سے دیکھتے ہیں اور مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے تک کو اپنے اوپر حرام سمجھتے ہیں اب جو لوگ قادیانیوں کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں ان کو چاہیئے کہ وہ اس پر غور کریں قادیانی حضرات ان کو بھی مسلمان نہیں سمجھتے ،سمجھنے والوں کے لئے یہ تحریر کافی ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ فرمائے ۔