logoختم نبوت

مرزا قادیانی کا دعوتی پیغام

کسی بھی جماعت کی پہچان اس کی تعلیمات ہیں ۔مثلاً مسلمانوں کی تعلیمات وہ ہوں گی جو نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں دیں اور ہماری یہی پہچان ہیں۔ عیسائیوں کی وہ ہوں گی جو ان کے پیشوائوں نے ان کو دیں اور ان کی وہی پہچان ہے ۔یہود کی وہ تعلیمات ہوں گی جو انہیں ان کے بڑوں سے ملیں اور ان کی وہ پہچان ہیں ۔ ہر جماعت کی تعلیمات اس کے مقاصد کی وضاحت کرتی ہیں ۔ قادیانیت کی تعلیمات وہ ہیں جو مرزا قادیانی نے انہیں دیں ۔ ان تعلیمات کوپڑھیں اور اندازہ لگا لیں کہ قادیانی جماعت کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں ۔ مرزا قادیانی کس مذہب کا پیغام لایا تھا اس کی اپنی تحریروں سے ملاحظہ فر مائیں :


1۔ انگریز حکومت کیا طاعت اسلام کا حصہ:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”شہادت القرآن“ میں لکھتا ہے کہ:

”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں، دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“


undefined


(شہادت القرآن، ص: 84 ،روحانی خزائن ،ج:6، ص:380)


2۔ گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ ہو جائیں:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”البلاغ“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”بے شک ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے خیر خواہ ہوں۔“


undefined


(البلاغ، ص: 20، روحانی خزائن، ج: 13، ص: 400 )


3۔ انگریز کی اطاعت فرض ہے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ اشتہارات“ میں رقم طراز ہے کہ:

”بیس برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں پر یہ فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیرخواہ اور دلی جان نثار ہوجائیں اور جہاد اور خونی مہدی کے انتظار وغیرہ بیہودہ خیالات سے جو قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوسکتے، دست بردار ہوجائیں۔“


undefined


(مجموعہ اشتہارات، ج:2،ص: 355 )


4۔ ہم اور ہماری اولاد پر فرض:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں لکھتا ہے کہ:

”ہم پر اور ہماری ذریت پر یہ فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں۔“


undefined


(ازالہ اوہام، ص: 132، روحانی خزائن، ج: 3، ص:166)


5۔ ملکہ وکٹوریہ کا شکر ہر زبان میں:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ اشتہارات“ میں رقم طراز ہے کہ:

”وہ تقریر جو دُعا اور شکر گزاری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند میں سُنائی گئی جس پر لوگوں نے بڑی خوشی سے آمین کے نعرے مارے، وہ چھ زبانوں میں بیان کی گئی تا ہمارے پنجاب کے ملک میں جس قدر مسلمان کسی زبان میں دسترس رکھتے ہیں، اُن تمام زبانوں سے شکر ادا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پنجابی میں اس لیے کہ وہ ہماری مادری زبان ہے جس میں شُکر کرنا واجب ہے اور پشتو میں اس لیے کہ وہ ہماری زبان اور فارسی زبان میں ایک برزخ اور سرحدی اقبال کا نشان ہے۔اسی تقریب پر ایک کتاب شکر گزاری جناب قیصرہ ہند کے لیے تالیف کر کے اور چھاپ کر اُس کا نام تحفہ قیصریہ رکھا گیا اور چند جلدیں اس کی نہایت خوبصورت مجلد کرا کے اُن میں سے ایک حضرت قیصرہ کے حضور میں بھیجنے کے لیے بخدمت صاحب ڈپٹی کمشنر بھیجی گئی اور ایک کتاب بحضور وائسرائے گورنر جنرل کشور ہند روانہ ہوئی اور ایک بحضور جناب نواب لیفٹیننٹ گورنر پنجاب بھیج دی گئی۔“            


undefined


(مجموعہ اشتہارات،ج: 2، ص: 114، 115)


6۔ خدا تعالیٰ سے عہد:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”نور الحق“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”پس اس الہٰی اور آسمانی دولت نے مجھے غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں میں داخل کیا۔ سو میں نے چاہا کہ اس مال کے ساتھ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کروں۔ اگرچہ میرے پاس روپیہ اور گھوڑے اور خچریں تو نہیں اور نہ میں مالدار ہوں۔ سو میں اس کی مدد کے لیے اپنے قلم اور ہاتھ سے اُٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اسی زمانہ سے خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔“


undefined


(نور الحق حصہ اوّل،ص: 28، 29، روحانی خزائن، ج: 8، ص: 39)


7۔ مسلمانوں کی محسن گورنمنٹ برطانیہ:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”ستارہ قیصریہ“ میں لکھتا ہے کہ:

”مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی، وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کیے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔“


undefined


(ستارہ قیصرہ، ص: 4، روحانی خزائن، ج: 15، ص: 114)


8۔ لازم ہے کہ:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ اشتہارات“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”مسلمانان ہند پر لازم ہے کہ نہ صرف اتنا ہی کریں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے مقابل پر بدارادوں سے رُکیں بلکہ اپنی سچی شکر گزاری اور ہمدردی کے نمونے بھی گورنمنٹ کو دکھلاویں۔“


undefined


(مجموعہ اشتہارات، جلد اوّل، ص: 459)

9۔ تمام ہندوستان پر یہ حق واجب ہے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”براہین احمدیہ“ میں رقم طراز ہے کہ:

”بالآخر یہ بات بھی ظاہر کرنا ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ اگرچہ تمام ہندوستان پر یہ حق واجب ہے کہ بنظر ان احسانات کے جو سلطنت انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامہ خلائق پر وارد ہیں۔ سلطنت ممدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مثل اور نعماء الٰہی کے، اس کا شکر بھی ادا کریں۔ لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکر گزار ہوں گے، اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے، نعمت عظمیٰ یقین نہ کریں۔“

undefined


(براہین احمدیہ، ص: 140، روحانی خزائن، ج: 1، ص: 140)


10۔ مسلمان سلطنت کے سچے خیر خواہ بن جائیں:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”تریاق القلوب“ میں لکھتا ہے کہ:

”میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں۔“


undefined


(تریاق القلوب، ص: 27، 28، روحانی خزائن، ج: 15، ص: 155، 156)


11۔ 22 برس سے… اپنے ذمہ فرض کر رکھا ہے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ اشتہارات“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلاد عرب یعنی حرمین اور شام اور مصر وغیرہ میں بھی بھیج دوں کیونکہ اس کتاب کے صفحہ 152 میں جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا ہے اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی ممانعت ہو، اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔“


undefined


(مجموعہ اشتہارات، ج:2، ص:533 )


12۔ شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”شہادت القرآن“ میں رقم طراز ہے کہ:

”بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے، یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکارآدمی کا کام ہے۔“


undefined


(شہادت القرآن، ص:84، روحانی خزائن، ج:6، ص:380)


13۔ گورنمنٹ کی وفاداری:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”انوار خلافت“ میں لکھتا ہے کہ:

”ایک اور خاص بات ہے جس کا بیان کر دینا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کے متعلق بھی حضرت صاحب نے بار بار تاکید فرمائی ہے۔ میں نے پچھلے جلسہ پر اس کے متعلق بیان کیا تھا۔ اور وہ گورنمنٹ کی وفاداری ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی یہی کہتا ہوں کہ گورنمنٹ کی وفاداری ہمیں دل و جان سے کرنی چاہیے۔ میں اگر کسی سے کوئی ایسی بات سنتا ہوں جو گورنمنٹ کے خلاف ہوتی ہے تو کانپ جاتا ہوں۔ کیونکہ اس قسم کی کوئی بات کرنا بہت ہی نمک حرامی ہے۔“


undefined


(انوار خلافت،ص:65،66،انوار العلوم ،ج:3،ص:152)


14۔ ہم اور ہمارے بزرگ گورنمنٹ کے خیر خواہ اور مخلص:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”شہادت القرآن“ میں لکھتا ہے کہ:

”ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے۔“


undefined


(شہادت القرآن، ص: 84 ،روحانی خزائن ،ج:6، ص:380)


15۔ گورنمنٹ کیلیے دعائے خیر:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”شہادت القرآن“ میں رقم طراز ہے کہ:

”ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر یک شر سے محفوظ رکھے۔“


undefined


(شہادت القرآن، ص: 84،روحانی خزائن ،ج:6، ص:380)


16۔ گورنمنٹ کا شکر کرنا فرض ہے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”شہادت القرآن“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا۔“


undefined


(شہادت القرآن، ص: 84 ،روحانی خزائن ،ج:6، ص:380)


17۔ گورنمنٹ کی ناشکری رب کی ناشکری ہے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”شہادت القرآن“ میں لکھتا ہے کہ:

”اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا۔“


undefined


(شہادت القرآن، ص: 84،روحانی خزائن ،ج:6، ص:380)


18۔ گورنمنٹ ہماری محسن:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”شہادت القرآن“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطا کرے۔“


undefined


(شہادت القرآن، ص: 84 ،روحانی خزائن ،ج:6، ص:380)


19۔ انگریز حکومت کی سرکشی خدا ورسول کی سرکشی ہوگی:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”شہادت القرآن“ میں رقم طراز ہے کہ:

”اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“


undefined


(شہادت القرآن، ص:85 ،روحانی خزائن ،ج:6، ص:381)


20۔ گورنمنٹ پر جان فدا:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”البلاغ“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”بے شک ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے خیر خواہ ہوں اور ضرورت کے وقت جان فدا کرنے کو بھی طیار ہوں۔“


undefined


(البلاغ، ص: 20، روحانی خزائن، ج: 13، ص: 400 )


21۔ گورنمنٹ کی اطاعت مسلمان پر فرض:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”ستارہ قیصریہ“ میں لکھتا ہے کہ:

”ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رے۔“


undefined


(ستارہ قیصرہ، ص: 4، روحانی خزائن، ج: 15، ص: 114)


22۔ میں نے ممانعت جہاد پر بہت کتابیں لکھیں:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”تریاق القلوب“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“


undefined


(تریاق القلوب، ص: 27، 28، روحانی خزائن، ج: 15، ص: 155، 156)


23۔ ممانعت جہاد کی کتب کو بلاد عرب تک پہنچا دیا:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”تریاق القلوب“ میں لکھتا ہے کہ:

”میں نے ایسی کتابوں (ممانعت جہاد پر) کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔“


undefined


(تریاق القلوب، ص: 27، 28، روحانی خزائن، ج: 15، ص: 155، 156)


24۔ جہاد کے مسائل احمقوں کے دل خراب کر رہے ہیں:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”تریاق القلوب“ میں رقم طراز ہے کہ:

”جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“


undefined


(تریاق القلوب، ص: 27، 28، روحانی خزائن، ج: 15، ص: 155، 156)


25۔ بیس برس سے ممانعت جہاد کی تعلیم رہی:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”تریاق القلوب“ میں لکھتا ہے کہ:

”میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا۔“


undefined


(تریاق القلوب، ص: 28، روحانی خزائن، ج: 15، ص: 156)


26۔ جہاد کا خیال رکھنے والا ظالم:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”تریاق القلوب“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بد خیال جہاد اور بغاوت کے دلوں میں مخفی رکھتے ہوں میں ان کو سخت نادان بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں۔“


undefined


(تریاق القلوب، ص: 28، روحانی خزائن، ج: 15، ص: 156)


27۔ اسلام نے جہاد کا مسئلہ نہیں سکھایا:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”تریاق القلوب“ میں رقم طراز ہے کہ:

”یہ بیہودہ الزام دین اسلام پر مت لگاؤ کہ اس نے جہاد کا مسئلہ سکھایا ہے۔“


undefined


(تریاق القلوب، ص: 28، روحانی خزائن، ج: 15، ص: 156)


28۔ مریدوں میں ممانعت جہاد کی تعلیم رہی:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”تریاق القلوب“ میں لکھتا ہے کہ:

”میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا۔ اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا۔“


undefined


(تریاق القلوب، ص: 28، روحانی خزائن، ج: 15، ص: 156)


29۔ میری تعلیم ہے کہ حکومت کے تابعدار رہو:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”کشف الغطا“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”جس گورنمنٹ کے ہم ماتحت ہیں یعنی گورنمنٹ برطانیہ اس کے سچے خیر خواہ اور تابعدار ہو جاؤ۔“


undefined


(کشف الغطاء، ص: 37، روحانی خزائن، ج: 14، ص: 213)


30۔ اللہ ملکہ کا اقبال بڑھائے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”کشف الغطا“ میں لکھتا ہے کہ:

”خدا تعالیٰ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا اقبال دن بدن بڑھاوے۔“


undefined


(کشف الغطاء، ص: 37، روحانی خزائن، ج: 14، ص: 213)


31۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ حکومت کے تابعدار رہیں:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”کشف الغطا“ میں رقم طراز ہے کہ:

”(خدا تعالیٰ) ہمیں توفیق دے کہ ہم سچے دل سے اس (سلطنت) کے تابعدار اور امن پسند انسان ہوں۔“


undefined


(کشف الغطاء، ص: 37، روحانی خزائن، ج: 14، ص: 213)


32۔ میں گورنمنٹ کا سچا خیر خواہ اور وفادار ہوں:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”انجام آتھم“ میں لکھتا ہے کہ:

”یہ گورنمنٹ خدا کی گناہ گار ہوگی اگر میرے جیسے خیر خواہ اور سچے وفادار کو بدخواہ اور باغی تصور کرے۔“


undefined


(انجام آتھم، ص: 68، روحانی خزائن، ج: 11، ص: 68)


33۔ گورنمنٹ کی خیر خواہی میں اتنا کام کیا جس کی نظیر نہیں:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”انجام آتھم“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”میں نے اپنی قلم سے گورنمنٹ کی خیر خواہی میں ابتداء سے آج تک وہ کام لیا ہے جس کی نظیر گورنمنٹ کے ہاتھ میں ایک بھی نہیں ہوگی۔“


undefined


(انجام آتھم، ص: 68، روحانی خزائن، ج: 11، ص: 68)


34۔ گورنمنٹ کی خیر خواہی کا حکم:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”انجام آتھم“ میں لکھتا ہے کہ:

”مسلمانوں کی اس گورنمنٹ کی خیر خواہی چاہیے۔“


undefined


(انجام آتھم، ص: 68، روحانی خزائن، ج: 11، ص: 68)


35۔ اس حکومت کی بغاوت بد ذاتی ہے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”انجام آتھم“ میں رقم طراز ہے کہ:

”اور رعایا ہو کر بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا نہایت درجہ کی بد ذاتی ہے۔“


undefined


(انجام آتھم، ص: 68، روحانی خزائن، ج: 11، ص: 68)


36۔ میں نے اپنی کتابوں کو خیر خواہی میں عرب تک پہنچایا:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”انجام آتھم“ میں لکھتا ہے کہ:

”میں نے ایسی کتابوں کو نہ صرف برٹش انڈیا میں پھیلایا ہے بلکہ عرب اور شام اور مصر اور روم اور افغانستان اور دیگر اسلامی بلاد میں محض للّٰہی نیت سے شائع کیا ہے۔“


undefined


(انجام آتھم، ص: 68، روحانی خزائن، ج: 11، ص: 68)


37۔ یہ گورنمنٹ عادلہ:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”انجام آتھم“ میں لکھتا ہے کہ:

”میں بار بار اس گورنمنٹ عادلہ کو یاد دلاتا ہوں کہ میری مثال مسیح کی مثال ہے۔“


undefined


(انجام آتھم، ص: 68، روحانی خزائن، ج: 11، ص: 68)


38۔ میں بغاوت کو بد ذاتی سمجھتا ہوں:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”انجام آتھم“ میں رقم طراز ہے کہ:

”میں بغاوت کو سخت بدذاتی سمجھتا ہوں۔“


undefined


(انجام آتھم، ص: 68، روحانی خزائن، ج: 11، ص: 68)


39۔ گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر کواہ بننا میری تعلیم:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”گورنمنٹ انگریزی اور جہاد“ میں لکھتا ہے کہ:

”میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ اس کو بننا پڑتا ہے۔“


undefined


(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، ص: 7، روحانی خزائن، ج: 17، ص: 29)


40۔ میرے مرید بڑھیں گے تو جہاد کے معتقد کم ہوں گے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ اشتہارات“ میں لکھتا ہے کہ:

”جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔“


undefined


(مجموعہ اشتہارات، ج: 2، ص: 408، اشتہار، ص: 189)


41۔ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی جہاد کا انکار ہے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ اشتہارات“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“


undefined


(مجموعہ اشتہارات، ج: 2، ص: 408، اشتہار، ص: 189)


42۔ آج سے انسانی جہاد بند کیا گیا:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ اشتہارات“ میں لکھتا ہے کہ:

”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔“


undefined


(مجموعہ اشتہارات، ج: 3، ص: 61، اشتہار، ص: 226)


43۔ جہاد ختم:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ اشتہارات“ میں رقم طراز ہے کہ:

”سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔“


undefined


(مجموعہ اشتہارات، ج: 3، ص: 61، اشتہار، ص: 226)


44۔ انگریزوں کی بادشاہت اولی الامر ہے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”ضرورۃ الامام“ میں لکھتا ہے کہ:

”میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے ”اولی الامر“ میں داخل کریں۔“


undefined


(ضرورۃ الامام، ص: 23، روحانی خزائن، ج: 13، ص: 493، 494)


45۔ سلطنت برطانیہ کے سچے دل سے مطیع رہے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”ضرورۃ الامام“ میں لکھتا ہے کہ:

”اور دل کی سچائی سے ان (سلطنت برطانیہ) کے مطیع رہیں۔“


undefined


(ضرورۃ الامام، ص: 23، روحانی خزائن، ج: 13، ص: 493، 494)


46۔ انگریزوں نے ہمارے دین کو مدد دی:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”ضرورۃ الامام“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”انگریزوں نے ہمارے دین کو ایک قسم کی وہ مدد دی ہے کہ جو ہندوستان کے اسلامی بادشاہوں کو بھی میسر نہیں آ سکی۔“


undefined


(ضرورۃ الامام، ص: 23، روحانی خزائن، ج: 13، ص: 493، 494)


47۔ انگریزوں نے دین اسلام کی حمایت کی:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”ضرورۃ الامام“ میں رقم طراز ہے کہ:

”اور انہوں (انگریزوں) نے دین اسلام کی حمایت کی۔“


undefined


(ضرورۃ الامام، ص: 23، روحانی خزائن، ج: 13، ص: 493، 494)


48۔ سلطنت برطانیہ کے مقابل تمام دنیا پر فخر کر سکتے ہیں:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”البلاغ“ میں لکھتا ہے کہ:

”ہماری محسن گورنمنٹ برطانیہ کی یہی ایک قابل تعریف خصلت ہے جس کے ساتھ ہم تمام دنیا کے مقابل پر فخر کر سکتے ہیں۔“


undefined


(البلاغ، ص: 32، روحانی خزائن، ج: 13، ص: 400)


49۔ گورنمنٹ پیاری اور ہر دلعزیز:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”البلاغ“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”جس گورنمنٹ کے ایسے بے تعصب اور آزادانہ اصول ہوں وہ گورنمنٹ خواہ نخواہ پیاری اور ہر دلعزیز معلوم ہوتی ہے۔“


undefined


(البلاغ، ص: 33، روحانی خزائن، ج: 13، ص: 401)


50۔ گورنمنٹ دیر تک ہمارے سروں پر سلامت رہے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”ستارہ قیصرہ“ میں لکھتا ہے کہ:

”یا الہٰی اس مبارکہ قیصرہ دام ملکھا کو دیر گاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ۔“


undefined


(ستارہ قیصرہ، ص: 4، روحانی خزائن، ج: 15، ص: 114)


 ایسے مذہب کے پیروکار کہ جس مذہب کا مدار ہی نصاریٰ کی اطاعت ہو، اس کے مذہبی پیشوا نصاریٰ کی خوشنودی کو اﷲ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بتاتا ہو، نصاریٰ سے بے وفائی کو نمک حرامی قرار دیں، وہ نصاریٰ کی مدد کیلئے جان تک قربان کر دینے کا درس دیتے ہوں تو ایسے مذہب کو ماننے والے کیوں کر کسی بھی مسلمان حکومت کے ساتھ مخلص ہو سکتے ہیں۔ اور بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھنے والے یہ لوگ مسلمان ممالک کے حساس اداروں اور کلیدی عہدوں پر بیٹھ کر کس کے مقاصد کے حصول کے لئے کام کر رہے ہوں گے۔ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

 اس گروہ کو نظر انداز کر نے کے بھیانک نتائج مسلمان آج تک دیکھ چکے ہیں اورمستقبل میں بھی اگرمسلمان حکومتوں کی جانب سے کوئی واضح حکمت نہ اپنائی گئی تو یہ گروہ مستقل مسلمانوں کے لئے خطرناک حالات پیدا کر تا رہے گا۔

مرزا قادیانی کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ غلامی پر قناعت کرو اور دن رات انگریزی حکومت کے گن گاتے رہو حالانکہ ان کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ کسی نبی کی تعلیم ہے۔

Netsol OnlinePowered by