قادیانیوں کے ساتھ محبت، رواداری اور حسنِ سلوک کا درس دینے والے، نیز ان کے عقائد و نظریات کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے والے حضرات سے گزارش ہے کہ وہ ذیل میں درج مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارات پر بطورِ خاص غور فرمائیں اور انہیں تعصب سے بالاتر ہو کر پڑھیں۔ ان عبارات سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص اپنے مخالفین، بالخصوص مسلمانوں اور علمائے اسلام، کے بارے میں اس قدر سخت، توہین آمیز اور ناشائستہ زبان استعمال کرے، اس کے طرزِ کلام کا دفاع آخر کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟
مرزا قادیانی کی تحریروں میں مسلمانوں کے لیے کفر، جہنم اور دیگر سخت الفاظ کے استعمال کے ساتھ بعض مقامات پر خنزیر، کتوں اور بدکار عورتوں کی اولاد جیسے توہین آمیز الفاظ بھی ملتے ہیں۔ ان عبارات کو محض اختلافِ رائے یا علمی مناظرے کا معمول کا انداز قرار دے کر نظر انداز کرنا درست نہیں؛ بلکہ ضروری ہے کہ ان کا اصل متن، سیاق و سباق اور مستند حوالہ پیشِ نظر رکھ کر ان کا جائزہ لیا جائے۔
ذیل میں بطورِ حوالہ چند عبارات درج کی جا رہی ہیں، جنہیں پڑھ کر قارئین خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کے لیے کس نوعیت کی زبان استعمال کی۔ جو حضرات قادیانیوں کے حق میں رواداری اور نرم گوشے کی بات کرتے ہیں، ان سے بھی گزارش ہے کہ وہ ان تحریروں کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں :
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے نام نہاد الہامات میں لکھتا ہے کہ:
”خداتعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف و رؤیا، ص: 519)
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے کہ:
”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(ریویو آف ریلجنز، ج:14،نمبر:3،4، ص:110،بابت ماہ مارچ واپریل1915ء)
مرزا بشیر الدین محمود المعروف خلیفہ ثانی اپنی کتاب” آئینہ صداقت“ میں کہتا ہے کہ:
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت،ص: 35، انوار العلوم ،ج:6،ص:110)
مرزا بشیر الدین محمود اپنی کتاب” انوار خلافت“ میں لکھتا ہے کہ:
”ہمارا فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔“
(انوار خلافت، ص:93 ،انوار العلوم ،ج:3،ص:148)
مرزا قادیانی اپنے مخالفین کے بارے میں کہتا ہے کہ:
”جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“
(نزول المسیح،ص: 4، روحانی خزائن،ج: 18،ص: 382)
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں تحریر کرتا ہے کہ:
”ان الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیاگیا ہے کہ یہ خدا کافرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جوکچھ کہتاہے اس پر ایمان لاؤ اور اسکا دشمن جہنمی ہے۔“
(رسالہ دعوت قوم،ص:62، روحانی خزائن ،ج: 11،ص: 62)
7۔ مرز اقادیانی کا مخالف جہنمی ہے:
مرزا قادیانی اپنی تحریر میں لکھتا ہے کہ:
”جو شخص تیری پیروی نہیں کریگا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہیگا ۔وہ خدا اور رسول کی نا فرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف و رؤیا،ص: 280)
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”جو پیغمبر ﷺ کو نہ مانے وہ کافر ہے، مگر جو مہدی اور مسیح کو نہ مانے اس کا بھی سلبِ ایمان ہو جائے گا۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف و رؤیا،ص: 280)
مرزاقادیانی کا لڑکا مرزا بشیر الدین محمود لکھتاہے کہ :
”میں کہتا ہو کہ تم جتنی دفعہ بھی پوچھوگے اتنی دفعہ ہی میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ۔جائز نہیں ۔جائز نہیں۔“
(انوار خلافت، ص:147،انوار العلوم ،ج:30،ص:147)
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”تلك كتب ینظر الیها كل مسلم بعین المحبة و المودة و ینتفع من معارفها و یقبلني و یصدق دعوتي الا ذریّة البغایا“
”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کو قبول کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“(ترجمہ راقم)
(آئینہ کمالات اسلام، ص:547، 548، روحانی خزائن ،ج: 5 ،ص :547، 548)
”البغایا جمع کا صیغہ ہے، اس کا واحد بغیۃ ہے، جس کا معنی بدکار، فاحشہ، زانیہ ہے۔“
خود مرزا صاحب نے ’’خطبہ الہامیہ (ص: 49)‘‘، مندرجہ ’’روحانی خزائن (16: 49)‘‘ اور ’’انجام آتھم (ص: 282)‘‘، مندرجہ روحانی خزائن (11: 282)‘‘ میں لفظ بغایا کا ترجمہ بازاری عورتیں کیا ہے اور ایسے ہی ’’نور الحق (حصہ اول، ص: 123)‘‘، مندرجہ ’’روحانی خزائن (8: 163)‘‘ میں لفظ بغایا کا ترجمہ زن بدکار وغیرہ کیا ہے۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب” نجم الھدی“ میں تحریر کرتا ہے کہ:
”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“
(نجم الہدیٰ، ص :53، روحانی خزائن، ج :14 ،ص: 53)
12۔ میری دعوت کو نہ ماننے والے خنزیر ہیں:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”انجام آتھم “میں لکھتا ہے کہ:
”دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں ۔اے مردار خور مولویوں اور گندی روحو تم پر افسوس کہ تم نے میری عداوت کے لئے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا ۔اے اندھیروں کے کیڑو۔“
(انجام آتھم ،ص :21 ،روحانی خزائن ،ج: 11 ،ص:305)
13۔ مسلمانوں کے ساتھ سلوک:
مرزا قادیانی کا لڑکا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتاہے کہ :
”حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے غیر احمدیوں کے ساتھ وہی سلوک جائز رکھاہے جو نبی کریم ﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ رکھا ہے۔“
(ریویو آف ریلجنز، ج:14،نمبر:3،4، ص:169،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء )
14۔ مسلمانوں کے ساتھ رشتہ نہیں ہوسکتا :
مرزا قادیانی کا بیٹا لکھتا ہے کہ:
”دو کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی اور دوسرے دنیوی، دینی تعلق کا بھاری ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیاوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دئیے گئے۔“
(ریویو آف ریلجنز، ج:14،نمبر:3،4، ص:169،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)
15۔ مسلمانوں کے پیچھے نماز حرام ہے:
مرزاقادیانی اپنے الہامات میں لکھتا ہے کہ :
”تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب مرتد کے پیچھے نماز پڑھو۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات ،کشوف و رؤیا، ص:318)
مرزا بشیر الدین محمود احمد مسلمان کا جنازہ پڑھنے کے بارے میں لکھتاہے کہ :
”جیسے غیر احمدی (مسلمان) کا جنازہ پڑھنا درست نہیں اسی طرح ان کے بچوں کا جنازہ پڑھنا بھی درست نہیں ہے کیونکہ یہ ایسے ہیں جیسے ہندوں کے بچوں کا جنازہ۔“
(انوار خلافت: 93 ،انوار العلوم ،ج:0 3، ص :150)
قارئینِ کرام! آپ نے گزشتہ عبارات میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں کا مطالعہ کیا کہ ان میں مسلمانوں کے بارے میں کس نوعیت کے سخت اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، نیز بعض مقامات پر مسلمانوں سے قطع تعلقی اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق کیا موقف اختیار کیا گیا ہے۔ ان عبارات کو سامنے رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ محض خوش اخلاقی، ظاہری میل جول اور نرم گفتاری سے متاثر ہو کر کسی کے عقائد و نظریات کے بارے میں رائے قائم نہ کی جائے، بلکہ اس کی اصل تحریروں اور واضح مذہبی مؤقف کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے ۔