علماء وائمہ کرام کا ادب و احترام امتِ مسلمہ کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے، کیونکہ علماء انبیائے کرام
کے وارث، دین کے محافظ، شریعت کے شارح، اسلام کے مبلغ اور علم و حکمت کے سرچشمے ہیں۔ یہی وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جو لوگوں کو حق و باطل میں تمیز سکھاتے، دین کی صحیح تعلیمات سے روشناس کراتے اور گمراہی کے اندھیروں میں ہدایت کی روشنی فراہم کرتے ہیں۔ اسی بنا پر شریعتِ اسلامیہ میں انہیں ایک خاص مقام، عظمت اور عزت و توقیر حاصل ہے قرآن مجید اور احادیث نبویہ ان کے فضائل و مناقب سے بھرے پڑے ہیں پھر چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کی یہ روش ہے کہ جن کو امت مسلمہ مقام و مرتبہ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں یہ لوگ اسی میں نکتہ چینی اور توہینات شروع کردیتے ہے لہذا انہوں نے علمائے کرام اور ائمہ کرم کی توہین کو بھی ہاتھ نہ جانے دیا ان ہی میں سے کچھ حوالے ملاحظہ فرمائیں:
کو گالیاں :مرزا قادیانی نے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی
کے متعلق ایسی لغو اور بے ہودہ زبان استعمال کی ہے کہ جو کسی عام مسلمان کے لیے بھی روا نہیں رکھی جا سکتی مرزا اپنی کتاب ”اعجاز احمدی“ میں لکھتا ہے:
”مجھے ایک کتاب کذاب (حضرت پیر مہر علی شاہ) کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن۔“
(اعجاز احمدی،ص: 75، روحانی خزائن، ج:19،ص: 188)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”نزول المسیح“ میں لکھتا ہے کہ:
”اور لونمبڑی کی طرح بھاگا پھرتا ہے، اے نادان اول کسی تفسیر کو عربی فصیح میں لکھنے سے اپنی عربی دانی ثابت کر، پھر تیری نکتہ چینی بھی قابل توجہ ہو جائے گی۔ ورنہ بغیر ثبوت عربی دانی کے میری نکتہ چینی کرنا اور کبھی سرقہ کا الزام دینا اور کبھی صرفی نحوی غلطی کا، یہ صرف گوہ کھانا ہے۔“
(نزول المسیح،ص: 65، روحانی خزائن، ج:18،ص: 441)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت، تو ملعون کے سبب سے ملعون ہو گئی پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔“
(اعجاز احمدی،ص: 75، روحانی خزائن، ج:19،ص: 188)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”نزول المسیح“ میں لکھتا ہے کہ:
”اے جاہل، بے حیاء اول عربی بلیغ و فصیح میں کسی سورۃ کی تفسیر شائع کر پھر تجھے ہر ایک کے نزدیک حق حاصل ہو گا کہ میری کتاب کی غلطیاں نکالے یا مسروقہ قرار دے۔“
(نزول المسیح،ص: 65، روحانی خزائن، ج:18،ص: 441)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”نزول المسیح“ میں لکھتا ہے کہ:
”آپ کی ذاتی لیاقت تو یہ ہے کہ ایک سطر بھی عربی نہیں لکھ سکتے چنانچہ سیف چشتیائی میں بھی آپ نے چوری کے مال کو اپنا مال قرار دیا تو پھر اس لیاقت کے ساتھ کیوں آپ کے نزدیک شرم نہیں آتی۔“

(نزول المسیح،ص: 65، روحانی خزائن، ج:18،ص: 441)
پر توریت وانجیل کو محرف نہ ماننے کا الزام:یعقوب علی عرفانی اپنی کتاب ”حیات احمد“ میں لکھتا ہے کہ:
”صاحب صحیح بخاری کا یہ عقیدہ تھا کہ کتب سابقہ یعنی توریت وانجیل وغیرہ محرف نہیں ہیں اور ان میں کچھ لفظی تحریف نہیں ہوئی۔“

(حیات احمد، ج :3، ص: 198، 199)
پر اجماع کے انکار کا الزام :یعقوب علی عرفانی قادیانی اپنی کتاب میں امام بخاری
سے متعلق لکھتا ہے کہ:
یعقوب علی عرفانی اپنی کتاب ”حیات احمد“ میں لکھتا ہے کہ:
”ایسا ہی قریب اجماع کے یہ عقیدہ بھی ہے جو کتب سابقہ توریت وغیرہ میں تحریف لفظی ہو گئی ہے۔ مگر حضرت محمد اسماعیل رئیس المحدثین اس اجماع کے مخالف ہیں۔“

(حیات احمد، ج: 3، ص :198، 199)
قارئین کرام ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح مرزا قادیانی اور اس کی فکر کے پابند لوگوں نے علمائے کرام کے بارے میں کس طرح کی زبان استعمال کیں حالانکہ علماء کا احترام درحقیقت علمِ دین کی عظمت کا اعتراف اور ان دینی خدمات کی قدر شناسی ہے جو وہ نسل در نسل امت تک پہنچاتے چلے آئے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت، دینی رہنمائی، اصلاحِ معاشرہ اور تحفظِ عقیدہ کی کوششیں امت کے لیے گراں قدر سرمایہ ہیں ،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ قادیانیوں کو ہدایت اور ہمیں ان کے شر سے محفوظ فرمائے ۔