اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام
کو کائنات کی عظیم شخصیات قرار دیا جن کی ادنیٰ گستاخی بھی کفر کا سبب بن جاتی ہے یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کے سامنے فرشتوں بھی بادب ہوکر حاضر ہوتے ہیں پھر ان تمام انبیاء
کے امام اور کائنات کی سب سے افضل ہستی یعنی ہمارے آقا ﷺ جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ فضیلت اور شرافت بخشی جو آج تک کسی کو نہ ملیں اور نہ کسی کو کبھی ملیں گی ،پھر ان سے محبت کرنے والے کو جنت کی بشارت ملتی ہے اور بغض اور نفرت رکھنے والوں کو جہنم کی نوید سنادی جاتی ہے ،آپ
سے جن لوگوں نے نفرت کی امت نے بھی ان لوگوں سے نفرت کا اظہار کیا ان ہی بے نصیب لوگوں میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ناخلف ذریت ہیں جنہوں نے نبی
کی شخصیت کی بھی پروا نہ کیں ا ور آپ
کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی نازیبا کلمات اپنی زندگی میں بکتا رہا اور بعض جگہ تو اپنے کو آپ کو فضیلت دیتا نظر آتا ہے یہی کام اس کے پیروکاروں نے بھی سر انجام دیا ، ذیل میں ان ہی عبارات کو مع الحوالہ جات ذکر کیا گیا ہیں :
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب” خطبہ الہامیہ “میں لکھتا ہے کہ:
”ومن فرق بیني وبین المصطفيٰ، فما عرفني وماراي“1
”اور جو شخص مجھ میں اور مصطفی ٰمیں تفریق کرتا ہے اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔“(ترجمہ مرزا قادیانی )

(خطبہ الہامیہ،ص:171،روحانی خزائن ،ج:16،ص:259 )
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب” تحفہ گولڑویہ “کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ:
”قرآن شریف کی آیت ”وآخرین منھم لما یلحقوا بھم “ میں آنحضرت ﷺ کی آمد ثانی کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اس وعدہ کی ضرورت اسی وجہ سے پیدا ہوئی کہ تا دوسرا فرض منصبی آنحضرت ﷺ کا یعنی تکمیل اشاعت ہدایت دین جو آپ کے ہاتھ سے پورا ہونا چاہیے تھا اس وقت بباعث عدم وسائل پورا نہیں ہوا سو اس فرض کو آنحضرت ﷺ نے اپنی آمد ثانی سے جو بروزی رنگ میں تھی ایسے زمانہ میں پورا کیا جبکہ زمین کی تمام قوموں تک اسلام پہنچانے کے لیے وسائل پیدا ہو گئے تھے۔“2

(تحفہ گولڑویہ (حاشیہ)، روحانی خزائن، ج: 17، ص: 263)
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”پس خدا نے ارادہ فرمایاکہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بنا کو کمال تک پہنچا دے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں۔“3

(خطبہ الہامیہ، ص: 112، روحانی خزائن، ج: 16، ص: 178 )
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب” ایک غلطی کا ازالہ“ میں رقم طراز ہے کہ:
”مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے۔ “4

(ایک غلطی کا ازالہ، ص: 6، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 216)
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں تحریر کرتا ہے کہ:
”گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرت ﷺ کا ظہور تھا۔“5

(تحفہ گولڑویہ (حاشیہ)، روحانی خزائن، ج: 17، ص: 263)
مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ:
”میرا نفس درمیان میں نہیں ہے بلکہ محمد ﷺ ہے اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد رکھا۔“6

(ایک غلطی کا ازالہ، ص: 6، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 216)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تحریر میں تحریر کرتا ہے کہ:
”چونکہ آنحضرت ﷺ کا دوسرا فرض منصبی جو تکمیل اشاعت ہدایت ہے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بوجہ عدم وسائل اشاعت غیر ممکن تھا۔“7

(تحفہ گولڑویہ (حاشیہ)، ص:101،روحانی خزائن، ج: 17، ص: 263)
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔8

(ایک غلطی کا ازالہ، ص: 6، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 216)
مرزا غلام احمد قادیانی” حقیقۃ الوحی“ کے تتمہ میں لکھتا ہے کہ:
”آنحضرت ﷺ کا بروز مجھے قرار دیا ہے۔“9

(حقیقۃ الوحی تتمہ، ص: 67، روحانی خزائن، ج: 22، ص: 502)
مرزا قادیانی تحریر کرتا ہے کہ:
”اور اسی بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں۔“10

(ایک غلطی کا ازالہ، ص: 6، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 216)
مرزا غلام احمد قادیانی روضہ رسول ﷺ پر بکواس کرتے ہوئے لکھتا ہےکہ:
”خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لیے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔“11

(تحفہ گولڑویہ، ص: 112،روحانی خزائن، ج: 17، ص: 205)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”میں محمد ﷺ ہوں۔“12

(تتمہ حقیقت الوحی، ص: 521، روحانی خزائن، ج: 22، ص: 521)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کاذبانہ الہام میں کہتا ہے کہ:
”لولاک لما خلقت الافلاک“13
”اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ۔“(قادیانی ترجمہ)

(تذکرہ مجموعہ والہامات ،کشوف ورؤیا، ص: 525)
مرزا قادیانی کہتا ہے کہ:
”محمد رسول اللہ والذین آمنوا معہ اشداء علی الکفار رحمآء بینھم“”اس وحی الہٰی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“14

(ایک غلطی کا ازالہ، ص: 4، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 207)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے۔“15

(حقیقۃ الوحی تتمہ، ص: 67، روحانی خزائن، ج: 22، ص: 502)
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں رقم طراز ہے کہ:
”بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں۔“16

(ایک غلطی کا ازالہ، ص: 5، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 212)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“17

(ایک غلطی کا ازالہ، ص: 5، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 212)
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں تحریر کرتا ہے کہ:
”میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں۔“18

(ایک غلطی کا ازالہ، ص: 5، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 212)
مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ:
”اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔“19

(ایک غلطی کا ازالہ، ص: 5، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 212)
مرز اقادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”مگر مسیح موعود کو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا۔“20

(ریویو آف ریلجنز، ج:4،نمبر:3،4، ص:113،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)
مرز اقادیانی کا بیٹامرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں تحریر کرتا ہے کہ:
”پس مسیح موعود کی ظلی نبوت کوئی گھٹیا نبوت نہیں بلکہ خدا کی قسم اس نبوت نے جہاں آقا کے درجہ کو بلند کیا ہے وہاں غلام کو بھی اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔“21

(ریویو آف ریلجنز، ج:4،نمبر:3،4، ص:114،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)
مرز ا غلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“22

(ریویو آف ریلجنز، ج:4،نمبر:3،4، ص:113،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)
مرز اقادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب” ریویو آف ریلجنز“میں لکھتا ہے کہ:
”وہی نبی تھا جس کو نبی کریم ﷺ نے نبی اللہ کے نام سے پکارا۔“23

(ریویو آف ریلجنز، ج:4،نمبر:3،4، ص:114،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)
مرز ا غلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں رقم طراز ہے کہ:
”قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا۔“24

(ریویو آف ریلجنز، ج:4،نمبر:3،4، ص:105،بابت ماہ مارچ واپریل1915ء)
مرز ا غلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”مسیح موعود چونکہ تمام دنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا گیا تھا۔“25

(ریویو آف ریلجنز، ج:4،نمبر:3،4، ص:114،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)
مرز ا غلام احمد قادیانی کا بڑا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”اور جس نے مسیح موعود اور نبی کریم میں تفریق کی اس نے بھی مسیح موعود کی تعلیم کے خلاف قدم مارا۔“26

(ریویو آف ریلجنز، ج:4،نمبر:3،4، ص:105،بابت ماہ مارچ واپریل1915ء)
مرز اقادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے۔“27

(ریویو آف ریلجنز، ج:4،نمبر:3،4، ص:158،بابت ماہ مارچ واپریل1915ء)
مرز ا غلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں کہتا ہے کہ:
”مسیح موعود کو محمد کی شان میں قبول کرے۔“28

(ریویو آف ریلجنز، ج:4،نمبر:3،4، ص:105،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)
مرز اقادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم ﷺ کا اسم مبارک اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود نبی کریم ﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ (مرزا غلام احمد قادیانی )خود فرماتا ہے:صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وماری“29

(ریویو آف ریلجنز ج:4،نمبر:3،4، ص:158،بابت ماہ مارچ واپریل1915ء)
مرز ا غلام احمد قادیانی کا بڑا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”ریویو آف ریلجنز“میں لکھتا ہے کہ:
”محمد ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے اپنی نبوت کی چادر اس پر چڑھائی ہے۔“30

(ریویو آف ریلجنز، ج:4،نمبر:3،4، ص:105،بابت ماہ مارچ واپریل1915ء)
قادیانی فکر کا اخبار” الفضل“ میں موجود ہے کہ:
”ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتی کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“31

(اخبار الفضل قادیان، ج:10،نمبر:5،ص:5،کالم :3،مورخہ 17 جولائی ،1922ء)
مرز اقادیانی کا بیٹامرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ باللہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔“32

(ریویو آف ریلجنز، ج:4،نمبر:3،4، ص:158،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)
اخبار” بدر“ قادیان میں کالم نگار بطور نظم لکھتا ہے:
”محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل“
”غلام احمد کو دیکھے قادیان میں“33

(اخبار بدر قادیان،جلد:2،نمبر :43،ص:14،کالم :1،2،مورخہ 25 اکتوبر ،1906ء )
اخبار ”بدر “قادیان میں کالم نگار بطور نظم کہتا ہے کہ :
”محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں“
”اور آگے سے بڑھ کر ہے اپنی شان میں“34

(اخبار بدر قادیان،جلد:2،نمبر :43،ص:14،کالم :1،2،مورخہ 25 اکتوبر، 1906ء )
اخبار” الفضل“ قادیان میں ہے کہ:
”آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب وہمیوں کی طرح ہر وقت کپڑے صاف نہیں کرتے تھے۔“35

(اخبار الفضل قادیان ج:11،ص:66،ص:9،کالم :3،مورخہ:22 فروری ،1924ء)
اخبار” بدر “قادیان میں کالم نگار بطور نظم تحریر کرتا ہے کہ :
”محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں“
”اور آگے سے بڑھ کر ہے اپنی شان میں“36

(اخبار بدر قادیان،جلد:2،نمبر :43،ص:14،کالم :1،2،مورخہ 25 اکتوبر ،1906ء )
اخبار” الفضل“ قادیان میں ہے کہ:
”آپ ﷺ )عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔“37

(اخبار الفضل قادیان ج:11،ص:66،ص:9،کالم :3،مورخہ:22 فروری، 1924ء)
(1)”اور جو شخص مجھ میں اور مصطفی ٰمیں تفریق کرتا ہے اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔“(خطبہ الہامیہ،ص:171،روحانی خزائن ،ج:16،ص:259 )
(2) ”قرآن شریف کی آیت ”وآخرین منھم لما یلحقوا بھم “ میں آنحضرت ﷺ کی آمد ثانی کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اس وعدہ کی ضرورت اسی وجہ سے پیدا ہوئی کہ تا دوسرا فرض منصبی آنحضرت ﷺ کا یعنی تکمیل اشاعت ہدایت دین جو آپ کے ہاتھ سے پورا ہونا چاہیے تھا اس وقت بباعث عدم وسائل پورا نہیں ہوا سو اس فرض کو آنحضرت ﷺ نے اپنی آمد ثانی سے جو بروزی رنگ میں تھی ایسے زمانہ میں پورا کیا جبکہ زمین کی تمام قوموں تک اسلام پہنچانے کے لیے وسائل پیدا ہو گئے تھے۔“ (تحفہ گولڑویہ (حاشیہ)، روحانی خزائن، ج: 17، ص: 263)
(3) ”پس خدا نے ارادہ فرمایاکہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بنا کو کمال تک پہنچا دے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں۔“ (خطبہ الہامیہ، ص: 112، روحانی خزائن، ج: 16، ص: 178)
(4)”مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے۔“ (ایک غلطی کا ازالہ، ص: 6، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 216)
(5)”گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرت ﷺ کا ظہور تھا۔“ (تحفہ گولڑویہ (حاشیہ)، روحانی خزائن، ج: 17، ص: 263)
(6)”میرا نفس درمیان میں نہیں ہے بلکہ محمد ﷺ ہے اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد رکھا۔“ (ایک غلطی کا ازالہ، ص: 6، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 216)
(7)”چونکہ آنحضرت ﷺ کا دوسرا فرض منصبی جو تکمیل اشاعت ہدایت ہے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بوجہ عدم وسائل اشاعت غیر ممکن تھا۔“ (تحفہ گولڑویہ (حاشیہ)، روحانی خزائن، ج: 17، ص: 263)
(8)”پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ، ص: 6، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 216)
(9)”آنحضرت ﷺ کا بروز مجھے قرار دیا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی تتمہ، ص: 67، روحانی خزائن، ج: 22، ص: 502)
10۔ ”اور اسی بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ، ص: 6، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 216)
(11)”خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لیے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔“ (تحفہ گولڑویہ، ص: 112، روحانی خزائن، ج: 17، ص: 205)
(12)”میں محمد ﷺ ہوں۔“ (تتمہ حقیقت الوحی، ص: 521، روحانی خزائن، ج: 22، ص: 521)
(13)”لولاک لما خلقت الافلاک“”اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔“ (قادیانی ترجمہ) (تذکرہ مجموعہ والہامات، کشوف ورؤیا، ص: 525)
(14)”محمد رسول اللہ والذین آمنوا معہ اشداء علی الکفار رحمآء بینھم“ ”اس وحی الہٰی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ، ص: 4، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 207)
(15)”خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی تتمہ، ص: 67، روحانی خزائن، ج: 22، ص: 502)
(16)”بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ، ص: 5، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 212)
(17)”مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“ (ایک غلطی کا ازالہ، ص: 5، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 212)
(18)”میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ، ص: 5، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 212)
(19)”اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ، ص: 5، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 212)
(20)”مگر مسیح موعود کو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا۔“ (ریویو آف ریلجنز، ج: 4، نمبر: 3، 4، ص: 113، بابت ماہ مارچ و اپریل، 1915ء)
(21)”پس مسیح موعود کی ظلی نبوت کوئی گھٹیا نبوت نہیں بلکہ خدا کی قسم اس نبوت نے جہاں آقا کے درجہ کو بلند کیا ہے وہاں غلام کو بھی اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔“ (ریویو آف ریلجنز، ج: 4، نمبر: 3، 4، ص: 114، بابت ماہ مارچ و اپریل، 1915ء)
(22)”پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“ (ریویو آف ریلجنز، ج: 4، نمبر: 3، 4، ص: 113، بابت ماہ مارچ و اپریل، 1915ء)
(23)”وہی نبی تھا جس کو نبی کریم ﷺ نے نبی اللہ کے نام سے پکارا۔“ (ریویو آف ریلجنز، ج: 4، نمبر: 3، 4، ص: 114، بابت ماہ مارچ و اپریل، 1915ء)
(24)”قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا۔“ (ریویو آف ریلجنز، ج: 4، نمبر: 3، 4، ص: 105، بابت ماہ مارچ و اپریل، 1915ء)
(25)”مسیح موعود چونکہ تمام دنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا گیا تھا۔“ (ریویو آف ریلجنز، ج: 4، نمبر: 3، 4، ص: 114، بابت ماہ مارچ و اپریل، 1915ء)
(26)”اور جس نے مسیح موعود اور نبی کریم میں تفریق کی اس نے بھی مسیح موعود کی تعلیم کے خلاف قدم مارا۔“ (ریویو آف ریلجنز، ج: 4، نمبر: 3، 4، ص: 105، بابت ماہ مارچ و اپریل، 1915ء)
(27) ”پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے۔“ (ریویو آف ریلجنز، ج: 4، نمبر: 3، 4، ص: 158، بابت ماہ مارچ و اپریل، 1915ء)
(28)”مسیح موعود کو محمد کی شان میں قبول کرے۔“ (ریویو آف ریلجنز، ج: 4، نمبر: 3، 4، ص: 105، بابت ماہ مارچ و اپریل، 1915ء)
(29)”اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم ﷺ کا اسم مبارک اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود نبی کریم ﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ (مرزا غلام احمد قادیانی) خود فرماتا ہے: صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وماری“ (ریویو آف ریلجنز، ج: 4، نمبر: 3، 4، ص: 158، بابت ماہ مارچ و اپریل، 1915ء)
(30)”محمد ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے اپنی نبوت کی چادر اس پر چڑھائی ہے۔“ (ریویو آف ریلجنز، ج: 4، نمبر: 3، 4، ص: 105، بابت ماہ مارچ و اپریل، 1915ء)
(31)”ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتی کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“ (اخبار الفضل قادیان، ج: 10، نمبر: 5، ص: 5، کالم: 3، مورخہ 17 جولائی، 1922ء)
(32)”لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ باللہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔“ (ریویو آف ریلجنز، ج: 4، نمبر: 3، 4، ص: 158، بابت ماہ مارچ و اپریل، 1915ء)
(33)”محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل“ ”غلام احمد کو دیکھے قادیان میں“ (اخبار بدر قادیان، جلد: 2، نمبر: 43، ص: 14، کالم: 1، 2، مورخہ 25 اکتوبر، 1906ء)
(34)”محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں“”اور آگے سے بڑھ کر ہے اپنی شان میں“ (اخبار بدر قادیان، جلد: 2، نمبر: 43، ص: 14، کالم: 1، 2، مورخہ 25 اکتوبر، 1906ء)
(35)”آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب وہمیوں کی طرح ہر وقت کپڑے صاف نہیں کرتے تھے۔“ (اخبار الفضل قادیان، ج: 11، ص: 66، ص: 9، کالم: 3، مورخہ 22 فروری، 1924ء)
(36)”آپ ﷺ عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔“ (اخبار الفضل قادیان، ج: 11، ص: 66، ص: 9، کالم: 3، مورخہ 22 فروری، 1924ء)
قارئین کرام! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ناخلف ذریت کس طرح آپ ﷺ کی ذات ِ مبارکہ پر حملہ کررہے ہیں اور ایک ایک جملہ ان کا گستاخی پر مبنی ہے جسے ہرگزہرگز قبول نہیں کیا جاسکتا ،لہذا مسلمانوں کو چاہیئے کہ اس گستاخانہ گروہ سے اپنے آپ کو اور اپنے احباب کو بچائیں اور قادیانی حضرات اس بات پر غور کریں کہ جن کو یہ اپنا بڑا بنائے ہوئے ہیں وہ جانِ عالم ﷺ کے بارے میں کس طرح کی زبان استعمال کررہے ہیں اگر وہ غور کرلیں تو یہی ان کی ہدایت کا سبب بن سکتا ہے اللہ تعالیٰ ہم کو حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔