logoختم نبوت

مرزا قادیانی کی قلم سے قرآن و حدیث کی توہین و تنقیص

اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں آسمانی کتابیں نازل فرمائیں، جن میں آخری کتاب قرآنِ مجید ہے۔ یہ عظیم کتاب اپنی حقانیت، عظمت اور کمال کے ساتھ تمام آسمانی کتابوں میں سب سے اعلیٰ اور آخری کتاب ہے، جس کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے باطل عقائد کو ثابت کرنے کے لیے قرآنِ مجید کی آیات میں من پسند تاویلات اور تحریفات کیں، بلکہ اپنے الہامات کو بھی قرآن کے مقابل قطعی قرار دینے کی کوشش کی ان ہی حوالوں میں سے کچھ حوالے یہاں ذکر کئے گئے ہیں:


1۔ قرآن شریف ،مرزا قادیانی کی باتیں:

مرزاغلام احمد قادیانی لکھتاہے کہ:

”قرآن مجید خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“


undefined


(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف ورؤیا ،ص: 77)


2۔ قرآن مرزا قادیانی پر دوبارہ اترا:

مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے کہ:

”ہم کہتے ہیں کہ قرآن مجید کہاں موجود ہے؟ اگر قرآن موجود ہوتاتو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی، مشکل تو یہ ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے۔ اسی لیے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کرکے آپ پر قرآن شریف اتارا جائے۔“


undefined


(ریویو آف ریلجنز، ج:14،نمبر:3،4، ص:173،بابت ماہ مارچ واپریل،1915ء)


3۔ مرزا قادیانی کے الہام قرآن کی طرح:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب” حقیقۃ الوحی “میں لکھتا ہے کہ:

”میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتاہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتاہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتاہے۔ خدا کا کلام یقین کرتاہوں۔“


undefined


(حقیقۃ الوحی ،ص:211،روحانی خزائن ج: 22 ص :220)


4۔ قرآن مجید قادیان کے قریب نازل ہوا:

مرزا قادیانی اپنی نام نہاد ”مجموعہ الہامات“ میں تحریر کرتا ہے کہ:

”انا انزلنه قریبا من القادیان“

اس کی تفسیر یہ ہے کہ:

”انا انزلنه قریبا من دمشق بطرف شرقی عند المنارة البیضاء“

”یعنی ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پر از معارف او حقائق کو قادیان کے قریب اتارا ہے کیونکہ کہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے۔“


undefined


(تذکرہ، مجموعہ الہامات،کشوف ورؤیا ،ص:59)


5۔ قادیان کا نام قرآن مجید میں:

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ:

”اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلناہ قریبا من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہے؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے، تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ پر شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے جن میں مکہ، مدینہ اور قادیان۔“


undefined


(ازالہ اوہام ،حصہ اول حاشیہ ،ص:77، روحانی خزائن ،ج :3، ص: 140)


6۔ قادیان کا نام قرآن میں:

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ:

”خواب میں دیکھا کہ میرے پاس مرزا غلام قادر میرے بھائی کھڑے ہیں اور میں یہ آیت قرآن شریف کی پڑھتا ہوں۔“

”غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِیْ ۤاَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَ“

”اور میں کہتا ہوں کہ ادنی الارض سے قادیان مراد ہے اور میں کہتا ہوں کہ قرآن شریف میں قادیان کا نام درج ہے۔“


undefined


(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف ورؤیا، ص :649)


7۔ مجھ پر خدا کا کلام کثرت سے :

مرزا قادیانی اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں لکھتا ہے کہ:

”خدا کلام اس قدر مجھ پر ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو (سپارے) سے کم نہ ہوگا۔“


undefined


(حقیقۃ الوحی، ص: 407، روحانی خزائن ،ج:22، ص: 407)


8۔ میں قرآن کی طرح ہوں:

مرزا قادیانی تحریر کرتا ہے کہ:

”ما انا الا کالقرآن وسیظھر علی یدی ما ظھر من الفرقان“

”میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہو اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔“


undefined


(تذکرہ مجموعہ الہامات ،کشوف ورؤیا ، ص: 570)


9۔ میری وحی کلام مجید ہے:

مرزا قادیانی اپنی کتاب نزول المسیح میں لکھتا ہے کہ:

”آنچہ من بشنوم ز وحی خدا۔۔بخدا پاک دانمش ز خطا ۔۔ہمچوں قرآن منزہ اش دانم ۔۔از خطاہا ہمنیست ایمانم۔۔بخدا ہست این کلام مجید۔۔از دہانخدائے پاک و وحید۔۔آں یقینی کہ بود عیسی را۔۔بر کلامے کہ شد برو القاء۔۔وان یقین کلیم بر تورات۔۔وان یقینہائے سید سادات۔۔کم نیم زان ہمہ بروئے یقین۔۔ہر کہ گوید دروغ ہست لعین۔“

”جو کچھ میں اللہ کی وحی سے سنتا ہو۔خدا کی قسم اسے ہر قسم کی خطا سے پاک سمجھتا ہو۔قرآن کی طرح میری وحی خطاؤں سے پاک ہے۔یہ میرا ایمان ہے۔خدا کی قسم یہ کلام مجید ہے جو خدائے پاک یکتا کے منہ سے نکلا ہے۔جو یقین عیسی کو اپنی وحی پر اور موسی کو توریت پر اور حضور ﷺ کو قرآن پر تھا میں از رو یقین ان سب سے کم نہیں ہوجو جھوٹ کہے وہ لعنتی ہے۔“


undefined


(نزول المسیح، ص: 99، روحانی خزائن، ج: 18،ص: 477، 478)


10۔ قرآن شریف میں گندی گالیاں :

مرزا قادیانی اپنی کتاب” ازالہ اوہام “میں لکھتا ہے کہ:

”قرآن شریف جس آوازِ بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے، ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر اُن پر لعنت بھیجتا ہے۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف نہ صرف حیوان بلکہ کفار اور منکرین کو دنیا کے تمام حیوانات سے بدتر قرار دیتا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ ان شر الادواب عنداللّٰہ الذین کفروا۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی خاص آدمی کا نام لے کر یا اشارہ کے طور پر اس کو نشانہ بنا کر گالی دینا زمانۂ حال کی تہذیب کے برخلاف ہے لیکن خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں بعض کا نام ابولہب اور بعض کا نام کلب اور خنزیر کہا اور ابوجہل تو خود مشہور ہے۔ ایسا ہی ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں، استعمال کیے ہیں۔“


undefined


(ازالہ اوہام، ص: 28 ،روحانی خزائن، ج: 3 ،ص :115، 116)


۔ احادیث رسول ﷺ کی توہین و تنقیص:

احادیثِ رسولِ اکرم ﷺ آپ کے مبارک ارشادات اور فرامین پر مشتمل ہیں، جنہیں اسلامی تعلیمات میں قرآنِ مجید کے بعد نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ثابت شدہ تعلیمات کی تصدیق اور ان کی پیروی دینِ اسلام کا بنیادی تقاضا ہے۔ لیکن جب کوئی شخص قرآنِ مجید کی تشریح و تفہیم کے حوالے سے ایسے نظریات پیش کرے جو امتِ مسلمہ کے مسلمہ عقائد سے مختلف ہوں۔ حدیث رسول ﷺ کے بارے میں مرزائی عقائد ملاحظہ کیجئے! قادیانی عقیدے کے مطابق اگر مرزا غلام احمد قادیانی کی بات کے مقابل حدیث آجائے تو تر جیح مرزاقادیانی کی بات کو ہوگی اور حدیث رسول ﷺ کو ردی کی طرح پھینک دیاجائے گا۔ مرزاقادیانی لکھتاہے کہ:


1۔ ”میرے اس دعویٰ (مسیح موعود) کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی ہے۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ردی کیطرح پھینک دیتے ہیں۔“


undefined


(اعجازی احمدی،ص:31،روحانی خزائن، ج: 19، ص :140)


2۔ میں احادیث کو رد کرنے کا اختیار رکھتا ہوں:

احادیث رسول کے قبول ورد کرنے کے بارے میں اپنے قول کو حکم بناتے ہوئے لکھتاہے کہ:

”میرا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں جس انبار کوچاہوں خدا سے علم پاکر قبول کروں اور جس ڈھیر کو چاہوں خدا سے علم پاکر رد کردوں۔“


undefined


(اربعین،ص:15، روحانی خزائن ،ج:17، ص :401)


3۔ احادیث تحریف معنوی اور لفظی سے آلودہ ہیں:

مرزا قادیانی اپنی کتاب” اربعین “میں لکھتا ہے کہ:

”خدا بے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں۔“


undefined


(اربعین ،ص:15، روحانی خزائن، ج:17، ص :401)


4۔ حدیثوں کی بحث طریق تصفیہ نہیں ہے:

مرزا قادیانی تحریر کرتا ہے کہ:

”پس حدیثوں کی بحث طریق تصفیہ نہیں ہے۔“


undefined


(اربعین ،ص:15، از روحانی خزائن ،ج:17، صفحہ :401)


اختتامیہ

قارئین کرام ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت قرآن و حدیث کے متعلق کس طرح کے نظریات اور معتقدات رکھتے ہیں جو کسی بھی طرح مسلمانوں کو قبول نہیں ،یہ مقام غور ہے کہ قادیانی حضرات مسلمانوں سے بلکل الگ شناخت رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ہم کو ان کے شر سے محفوظ فرمائیں ۔

Netsol OnlinePowered by