اللہ تعالیٰ عزوجل نے انبیائے کرام
کو دنیا میں لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ،اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام
کو نبوت کے اثبات کے لئے معجزہ عطا فرمایا کہ جس کے ذریعہ وہ لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ ہم من جانب اللہ ہیں یعنی معجزہ نبوت پر دلیل ہوا کرتا ہے اور اس کی شان اور اہمیت مسلم ہے لیکن قادیان کے مرزا کو یہ بھی ہضم نہ ہوسکتا قرآن نے جن معجزات کو بیان فرمایا مرزا غلام احمد قادیانی نے ان معجزات کا مذاق اڑایا اور من مانی توہین آمیز الفاظ کہے ،ذیل میں حوالے ملاحظہ فرمائیں:
مرزاقادیانی اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں لکھتا ہے کہ:
”یہ اعتقاد بالکل مشرکانہ اور فاسد خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر ان کو سچ مچ کے جانور بنادیتا تھا بلکہ یہ صرف عمل التراب (مسمریزم) تھا۔“ 1
(ازالہ اوہام ،ص:322،روحانی خزائن ،ج:3،ص:263)
قرآنِ مجید میں حضرت عیسیٰ
کا یہ معجزہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ
فرماتے ہیں: أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ2یعنی میں تمہارے لیے مٹی سے پرندے جیسی شکل بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔
اب غور طلب بات یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کے قول کے مطابق یہ عمل محض مسمریزم تھا، تو کیا قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسمریزم کو حضرت عیسیٰ
کا معجزہ قرار دے رہا ہے؟ اگر قرآنِ مجید کی بیان کردہ یہ حقیقت برحق ہے کہ حضرت مسیح
مٹی سے پرندے کی شکل بناتے، اس میں پھونک مارتے اور وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے زندہ پرندہ بن کر اڑنے لگتا تھا، تو پھر اس معجزے کو مسمریزم قرار دینے والے کے موقف کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ قادیانی حضرات کو چاہیے کہ وہ تعصب سے بالاتر ہو کر اس معاملے پر غور کریں اور خود فیصلہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کے معجزے کو محض مسمریزم قرار دینا درست ہے یا نہیں، تاکہ وہ حقائق کو سمجھ کر اپنی آخرت کے بارے میں درست فیصلہ کر سکیں۔
مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ:
”حضرت مسیح کے عمل الترب سے وہ مردے زندہ ہوتے تھے۔“ 3
(ازالہ اوہام ،ص:311، روحانی خزائن ،ج:3، ص:258)
قرآنِ مجید میں حضرت عیسیٰ
کا ایک معجزہ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:وَأُحْيِي الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ اللَّهِ4، یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتا ہوں اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ مردوں کو اللہ تعالیٰ کے اذن سے دوبارہ زندہ کرنا حضرت مسیح
کے معجزات میں شامل تھا دوسری جانب مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف یہ موقف منسوب کیا جاتا ہے کہ اس عمل کو مسمریزم سے تعبیر کیا گیا۔ اب قابلِ غور سوال یہ ہے کہ جب قرآنِ مجید اس عمل کو اللہ تعالیٰ کے اذن سے ظاہر ہونے والا معجزہ قرار دیتا ہے، تو اسے مسمریزم کہنا کس حد تک درست ہے؟ قادیانی حضرات کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں، قرآنِ مجید کی مذکورہ آیت اور مرزا قادیانی کے اصل بیان کا تقابل کریں اور دلائل کی روشنی میں اپنا فیصلہ کریں۔ حقائق کو سمجھنے اور کسی نتیجے تک پہنچنے میں تعصب کے بجائے دیانت داری اور تحقیق سے کام لینا چاہیے۔
کا معجزہ قابل نفرت ہے:مرزاقادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”اگر یہ عاجز (مرزاقادیانی) اس عمل (مسمریزم/ عمل التراب) کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل وتوفیق سیے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم(علیہ السلام) سے کم نہ رہتا۔“ 5
(ازالہ اوہام ،ص:309،روحانی خزائن، ج:3 ،ص:258)
مرزا غلام احمد قادیانی نے سابقہ حوالوں میں حضرت مسیح
کے معجزات کو مسمریزم اور عملُ التراب سے تعبیر کیا، جبکہ زیرِ بحث حوالے میں اسی عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت قرار دیا گیا ہے۔ اس صورتِ حال میں قادیانی حضرات کے سامنے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ اپنے انبیائے کرام
کے ذریعے ایسے اعمال ظاہر فرماتا ہے جنہیں مکروہ اور نفرت کے لائق سمجھا جائے؟ قرآنِ مجید میں تو حضرت عیسیٰ
کے معجزات کو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے اذن سے وابستہ کیا گیا ہے، بلکہ ان نعمتوں کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ کے احسان کے طور پر کیا گیا ہے۔ اب غور طلب بات یہ ہے کہ اگر یہ معجزات واقعی اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ انعامات تھے، تو انہیں مکروہ اور قابلِ نفرت قرار دینے کی کیا توجیہ پیش کی جائے گی؟ اور اگر انہیں مکروہ کہا جائے، تو پھر ان کے الٰہی انعام ہونے کا مفہوم کیسے سمجھا جائے؟ قادیانی حضرات کو چاہیے کہ وہ مرزا قادیانی کے اصل اقتباسات اور قرآنِ مجید کی متعلقہ آیات کا باہمی تقابل کرکے اس اشکال کا مدلل جواب دیں اور اس معاملے میں تحقیق و انصاف سے کام لیں۔
مرزاقادیانی لکھتا ہے:
”مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔ “ 6
(ازالہ اوہام ،ص:308، روحانی خزائن ،ج:3،ص :257)
مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک مقام پر عملُ التراب، یعنی مسمریزم، کو مکروہ اور قابلِ نفرت قرار دیا، جبکہ دوسرے حوالے میں یہ کہا کہ حضرت مسیح ابنِ مریم
اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس عمل میں مہارت رکھتے تھے۔ اس بیان سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ اپنے انبیائے کرام
کو ایسے اعمال انجام دینے کا حکم دیتا ہے جنہیں خود مکروہ اور نفرت کے قابل کہا جائے؟ اور کیا کسی نبی کا ایسے اعمال میں کمال حاصل کرنا اس کی فضیلت بیان کرنا ہے یا اس کے مقام و مرتبے کے منافی بات ہے؟ قادیانی حضرات کو چاہیے کہ وہ مرزا قادیانی کے ان دونوں بیانات کا تقابل کریں اور واضح کریں کہ ان کے نزدیک ان میں کیا مطابقت ہے۔ نیز یہ بھی بتائیں کہ اس طرزِ بیان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان کے بیان کے طور پر کیسے سمجھا جائے۔
کے معجزات مکر و فریب :مرزا قادیانی ”چشمہ مسیحی“ میں لکھتا ہے کہ:
”کوئی معجزہ نہیں ہوا محض فریب اور مکر تھا۔“ 7
(چشمہ مسیحی، ص:9، روحانی خزائن ، ج:20، ص:344)
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں عیسی
کی بدترین گستاخی نیز معجزہ کی توہین و تنقیص کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:
”عیسائیوں نے بہت سے آپ (یسوع مسیح) کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا ممکن ہے آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کو ر وغیرہ کا علاج کیا ہو مگر بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کردیا کہ آپ سے کوئی معجزہ ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے کچھ نہ تھا۔“ <8>حاشیہ انجام آتھم ،ص:6،7 ،روحانی خزائن ، ج:11،ص:290،291
( حاشیہ انجام آتھم ،ص:6،7 ،روحانی خزائن ، ج:11،ص:290،291 )
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ
کے معجزات کا ذکر فرمایا ہے، جن سے آپ
کے بلند مقام و مرتبے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خصوصیات کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف منسوب بیانات میں ایک طرف حضرت عیسیٰ
کے معجزات کو مکر و فریب سے تعبیر کیا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ آپ
سے کوئی معجزہ سرزد ہی نہیں ہوا۔ اس صورتِ حال میں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآنِ مجید حضرت عیسیٰ
کے معجزات کو اللہ تعالیٰ کے اذن سے ظاہر ہونے والی نشانیاں قرار دیتا ہے، تو ان معجزات کو مکر و فریب کہنا یا ان کے سرے سے وقوع ہی کی نفی کرنا قرآنِ مجید کے بیان سے کس طرح مطابقت رکھتا ہے؟
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:
”نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آ پ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویایہ میری تعلیم ہے۔“ 9
(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن ،ج:11،ص:290)
ہر نبیِ مرسل کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ کتاب اس کی نبوت کی ایک عظیم نشانی ہوتی ہے۔ حضرت عیسیٰ
کو بھی اللہ تعالیٰ نے انجیل عطا فرمائی، جو آپ
پر نازل ہونے والی آسمانی کتاب تھی۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف منسوب بیان میں انجیل کو معاذ اللہ مسروقہ قرار دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر نازل فرمایا، اسے مسروقہ کہنا کس بنیاد پر درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا ایسا بیان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان اور آپ
کو عطا کردہ الٰہی کتاب کے مقام سے مطابقت رکھتا ہے؟
(1)”یہ اعتقاد بالکل مشرکانہ اور فاسد خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر ان کو سچ مچ کے جانور بنادیتا تھا بلکہ یہ صرف عمل التراب (مسمریزم) تھا۔“ (ازالہ اوہام ،ص:322،روحانی خزائن ،ج:3،ص:263)
(2)”حضرت مسیح کے عمل الترب سے وہ مردے زندہ ہوتے تھے۔“ (ازالہ اوہام ،ص:311، روحانی خزائن ،ج:3، ص:258)
(3)”اگر یہ عاجز (مرزاقادیانی) اس عمل (مسمریزم/ عمل التراب) کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل وتوفیق سیے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم(
) سے کم نہ رہتا۔“ (ازالہ اوہام ،ص:309،روحانی خزائن، ج:3 ،ص:258)
(4)”مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔“ (ازالہ اوہام ،ص:308، روحانی خزائن ،ج:3،ص :257)
(5)”کوئی معجزہ نہیں ہوا محض فریب اور مکر تھا۔“ (چشمہ مسیحی، ص:9، روحانی خزائن ، ج:20، ص:344)
(6)”عیسائیوں نے بہت سے آپ (یسوع مسیح) کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا ممکن ہے آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کو ر وغیرہ کا علاج کیا ہو مگر بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کردیا کہ آپ سے کوئی معجزہ ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے کچھ نہ تھا۔“ (حاشیہ انجام آتھم ،ص:6،7 ،روحانی خزائن ، ج:11،ص:290،291)
(7)”نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آ پ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویایہ میری تعلیم ہے۔“ (حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن ،ج:11،ص:290)
اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام
کو اپنی نبوت کی صداقت واضح کرنے کے لیے معجزات عطا فرمائے، جو ان کی نبوت کی نشانیاں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر ہوتے ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کے بعض بیانات کے حوالے سے یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ ان میں انبیائے کرام
، بالخصوص حضرت عیسیٰ
کے معجزات کی حیثیت کو مشکوک بنایا گیا اور ان کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جو قابل گرفت ہیں۔