نبی آخر الزمان حضرت محمدرسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے قبل اللہ تعالیٰ نے صاحبِ کتاب اور صاحبِ شریعت پیغمبر کی حیثیت سے حضرت عیسٰی
کو دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجا۔مرزا غلام احمد قادیانی نے یہودیوں کے طرز کو دہراتے ہوئے سیدنا مسیح
اور ان کی عظیم المرتبت والدہ محترمہ کے خلاف وہ وہ بہتان طرازیاں کیں اور جھوٹ بولیں اور دشام طرازیاں کیں کہ شاید یہود کی روح بھی شرما اٹھی ہو مرزائی اور مرزائی نواز مرزا قادیانی کی ان تحریروں کا مطالعہ کرکے فیصلہ کریں یہ لکھنے والا انسان ہوسکتا ہے؟
پر بد زبانی کا الزام:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ:
” آپ (عیسیٰ) کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔ “1

(حاشیہ انجام آتھم ،ص:5، روحانی خزائن ،ج:11، ص:289 )
نفس کو جذبات سے نہیں روک سکتے تھے:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ:
”(آپ) اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے۔ اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔“2

(حاشیہ انجام آتھم ،ص:5 روحانی خزائن، ج:11 ،ص:289 )
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں تحریر کرتا ہے کہ:
نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آ پ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے۔3

(حاشیہ انجام آتھم ،ص:6، روحانی خزائن ،ج:11 ،ص:290)
مرزا غلام احمدقادیانی اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں رقم طراز ہے کہ:
”یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“4

(حاشیہ انجام آتھم ،ص:5 روحانی خزائن،ج:11، ص:289 )
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں تحریر کرتا ہے کہ:
(انجیل کو) یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔5

(حاشیہ انجام آتھم ص:6، روحانی خزائن ج:11 ص:290)
کو غصہ آ جاتا تھا:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ:
”(آپ کو) ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا۔“6

(حاشیہ انجام آتھم ص:5، روحانی خزائن، ج:11، ص:289 )
کا کوئی معجزہ نہیں:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں تحریر کرتا ہے کہ:
عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔7

(حاشیہ انجام آتھم ص:6 ،روحانی خزائن ج:11، ص:290)
نے معجزہ مانگنے والوں کو گالیاں دی:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں تحریر کرتا ہے کہ:
اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں۔8

(حاشیہ انجام آتھم، ص:6 ،روحانی خزائن،ج:11،ص:290)
نے معجزہ مانگنے والوں کو حرام اور حرام کی اولاد ٹھہرایا:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ:
اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔9

(حاشیہ انجام آتھم، ص:6 ،روحانی خزائن،ج:11،ص:290)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں تحریر کرتا ہے کہ:
اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔10

(حاشیہ انجام آتھم ،ص:6 ،روحانی خزائن،ج:11،ص:290)
پرغلیظ الزام:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
آپ(عیسیٰ) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں (جسم فروش عورتیں) تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا مگر شاید یہ بھی خدائی کیلئے ایک شرط ہوگی۔11

(حاشیہ انجام آتھم ص:7 روحانی خزائن ،ج:11 ص:291)
شراب پیا کرتے تھے:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں رقم طراز ہے کہ
یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰشراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔12

(کشتی نوح حاشیہ ص:73 ،روحانی خزائن ،ج:19،ص:71)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”نسیم دعوت“ میں لکھتا ہے کہ
ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نےجواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی لیکن اگر میں ذیا بیطس کیلئے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو میں ڈرتاہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔13
(نسیم دعوت ص:67، روحانی خزائن، ج:19، ص:435)
سے بڑھ کر ہوں مرزا قادیانی کا دعویٰ:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”دافع البلاء“ میں تحریر کرتا ہے کہ
خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔14

(دافع البلاء ص:13 روحانی خزائن، ج:18 ص:233 )
شرابی کبابی:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”ست بچن“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے۔15

(ست بچن حاشیہ ص:172، روحانی خزائن ج:10 ص:296 )
کا چال چلن:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”ست بچن“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خواری کا ایک بد نتیجہ ہے۔16

(ست بچن حاشیہ ص:172، روحانی خزائن ج:10 ص:296 )
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”نور القرآن“ میں لکھتا ہے کہ
مسیح کا چال چلن آپ کے نزدیک کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو۔ شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خودبین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔17

(نور القرآن ص:12 ، روحانی خزائن ج:9، ص:387 )
کے دماغ میں مسئلہ تھا:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ میں تحریر کرتا ہے کہ
آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔18

(انجام آتھم ضمیمہ، ص:6، روحانی خزائن، ج:11 ص:290 )
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ میں تحریر کرتا ہے کہ
اور وہ (بھائی) ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو، شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔19

(انجام آتھم ضمیمہ، ص:6، روحانی خزائن، ج:11 ص:290 )
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”نور القرآن“ میں تحریر کرتا ہے کہ
یورپ جو زناکاری سے بھر گیا، اس کا کیا سبب ہے۔ یہی تو ہے کہ نامحرم عورتوں کو بے تکلف دیکھنا عادت ہو گیا۔ اول تو نظر کی بدکاریاں ہوئیں اور پھر معانقہ بھی ایک معمولی امر ہو گیا۔ پھر اس سے ترقی ہو کر بوسہ لینے کی بھی عادت پڑی، یہاں تک کہ استاد جو ان لڑکیوں کو اپنے گھروں میں لے جا کر یورپ میں بوسہ بازی کرتے ہیں، اور کوئی منع نہیں کرتا۔ شیرینیوں پر فسق و فجور کی باتیں لکھی جاتی ہیں۔ تصویروں میں نہایت درجہ کی بدکاری کا نقشہ دکھایا جاتا ہے۔ عورتیں خود چھپواتی ہیں کہ میں ایسی خوبصورت ہوں اور میری ناک ایسی اور آنکھ ایسی ہے۔ اور ان کے عاشقوں کے ناول لکھے جاتے ہیں اور بدکاری کا ایسا دریا بہہ رہا ہے کہ نہ تو کانوں کو بچا سکتے ہیں نہ آنکھوں کو نہ ہاتھوں کو۔ نہ منہ کو۔ یہ یسوع صاحب کی تعلیم ہے۔ کاش! ایسا شخص دنیا میں نہ آیا ہوتا۔20

(نور القرآن، ص:42، روحانی خزائن، ج:9، ص:417 )
اور کیڑے مکوڑے:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”چشمہ مسیحی“ میں لکھتا ہے کہ
جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اور حضرت آدمبھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ
کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قویٰ سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔21

(چشمہ مسیحی، ص:24، روحانی خزائن، ج:20، ص:356)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”نور القرآن“ میں تحریر کرتا ہے کہ
یورپ جو زناکاری سے بھر گیا، اس کا کیا سبب ہے۔ یہی تو ہے کہ نامحرم عورتوں کو بے تکلف دیکھنا عادت ہو گیا۔ اول تو نظر کی بدکاریاں ہوئیں اور پھر معانقہ بھی ایک معمولی امر ہو گیا۔ پھر اس سے ترقی ہو کر بوسہ لینے کی بھی عادت پڑی، یہاں تک کہ استاد جو ان لڑکیوں کو اپنے گھروں میں لے جا کر یورپ میں بوسہ بازی کرتے ہیں، اور کوئی منع نہیں کرتا۔ شیرینیوں پر فسق و فجور کی باتیں لکھی جاتی ہیں۔ تصویروں میں نہایت درجہ کی بدکاری کا نقشہ دکھایا جاتا ہے۔ عورتیں خود چھپواتی ہیں کہ میں ایسی خوبصورت ہوں اور میری ناک ایسی اور آنکھ ایسی ہے۔ اور ان کے عاشقوں کے ناول لکھے جاتے ہیں اور بدکاری کا ایسا دریا بہہ رہا ہے کہ نہ تو کانوں کو بچا سکتے ہیں نہ آنکھوں کو نہ ہاتھوں کو۔ نہ منہ کو۔ یہ یسوع صاحب کی تعلیم ہے۔22

(نور القرآن، ص:42، روحانی خزائن، ج:9، ص:417 )
مرزا قادیانی کی درج ذیل تحریروں سے بات صاف ظاہر ہو جائے گی کہ اس خبیث مرزا قادیانی نے اُنھیں عیسیٰ
کی شان میں توہین کی ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے اور یسوع یا مسیح سے مراد بھی عیسیٰ ابن مریم ہی ہیں۔ تحریریں ملاحظہ ہوں:
لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ا یک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے خدا نےقرآن میں یحییٰ کانام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔23

(دافع البلاء مقدمہ، ص:4، روحانی خزائن ج:18، ص:220)
کے دوسرے نام:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”راز حقیقت“ میں لکھتا ہے کہ
حضرت عیسیٰجویسوع اور جیزس یایوز آسف کے نام سے بھی مشہور ہیں۔24
(راز حقیقت ص:19 روحانی خزائن ج:14 ص:171)
مرزا قادیانی کی درج ذیل تحریروں سے بات صاف ظاہر ہو جائے گی کہ اس خبیث مرزا قادیانی نے اُنھیں عیسیٰ
کی شان میں توہین کی ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے اور یسوع یا مسیح سے مراد بھی عیسیٰ ابن مریم ہی ہیں۔ تحریریں ملاحظہ ہوں:
ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے خدا نےقرآن میں یحییٰ کانام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔25

(دافع البلاء مقدمہ، ص:4، روحانی خزائن ج:18، ص:220)
مرزا قادیانی کی درج ذیل تحریروں سے بات صاف ظاہر ہو جائے گی کہ اس خبیث مرزا قادیانی نے اُنھیں عیسیٰ
کی شان میں توہین کی ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے اور یسوع یا مسیح سے مراد بھی عیسیٰ ابن مریم ہی ہیں۔ تحریریں ملاحظہ ہوں:
یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے خدا نےقرآن میں یحییٰ کانام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔26

(دافع البلاء مقدمہ، ص:4، روحانی خزائن ج:18، ص:220)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”توضیح مرام“ میں لکھتا ہے کہ
وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے، دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔27
(توضیح مرام، ص:4 روحانی خزائن ج:3، ص:52)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”سو یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان ہی جائیں۔“28

(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن ج:11، ص:289 )
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”اپنا پیچھا چھڑانے کے لیے کیسا داؤ کھیلا۔“29

(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن ج:11، ص:289 )
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں رقم طراز ہے کہ
”آپ کو یہ سوال سنتے ہی اپنی جان کی فکر پڑ گئی کہ کہیں باغی کہلا کر پکڑا نہ جاؤں۔“30

(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن ج:11، ص:289 )
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں تحریر کرتا ہے کہ
”سو جیسا کہ معجزہ مانگنے والوں کو ایک لطیفہ سنا کر معجزہ مانگنے سے روک دیا تھا۔“31

(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن ج:11، ص:289 )
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”اس جگہ بھی وہی کاروائی کی اور کہا کہ قیصر کا قیصر کو دو اور خدا کا خدا کو۔“32

(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن ج:11، ص:289 )
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”حضرت کا اپنا عقیدہ یہ تھا کہ یہودیوں کے لیے یہودی بادشاہ چاہیے نہ کہ مجوسی۔ اسی بنا پر ہتھیار بھی خریدے۔ شہزادہ بھی کہلایا مگر تقدیر نے یاوری نہ کی۔“33

(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن ج:11، ص:289 )
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں رقم طراز ہے کہ
”متی کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عقل بہت موٹی تھی۔“34

(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن ج:11، ص:289 )
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں تحریر کرتا ہے کہ
”جن جن پیشگوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا۔“35

(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن ج:11، ص:289 )
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”جب سے یہ (انجیل کی) چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔“36

(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن ج:11، ص:290)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”آپ نے یہ حرکت شاید اس لیے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔“37

(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن ج:11، ص:290)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں رقم طراز ہے کہ
”لیکن آپ کی اس بے جا حرکت (چوری) سے عیسائیوں کی سخت رو سیاہی ہوئی۔“38

(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن ج:11، ص:290)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں۔“39

(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن ج:11، ص:290)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں تحریر کرتا ہے کہ
”عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔“40

(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن ج:11، ص:290)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”آپ (یسوع) کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقًا سبقًا پڑھا تھا۔“41

(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن ج:11، ص:290)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”آپ (یسوع) علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔“42

(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن ج:11، ص:290)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں تحریر کرتا ہے کہ
”آپ (یسوع) ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔“43

(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن ج:11، ص:290)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”آپ (یسوع) کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ شیطانی الہام بھی ہوا تھا۔“44

(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن ج:11، ص:290)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”ایک مرتبہ آپ اسی الہام (شیطانی) سے خدا سے منکر ہونے کے لیے طیار ہو گئے تھے۔“45

(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن ج:11، ص:290)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”آپ کا یہ کہنا کہ میرے پیرو زہر کھائیں گے اور ان کو کچھ اثر نہیں ہوگا۔ یہ بالکل جھوٹ نکلا۔“46

(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن ج:11، ص:291)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں رقم طراز ہے کہ
”ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو۔“47

(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن ج:11، ص:291)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں تحریر کرتا ہے کہ
”آپ کی بد قسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اُس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے۔“48

(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن ج:11، ص:291)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔“49

(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن ج:11، ص:291)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں رقم طراز ہے کہ
”آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“50

(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن ج:11، ص:291)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدّی مناسبت درمیان ہے۔“51

(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن ج:11، ص:291)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں تحریر کرتا ہے کہ
”ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے۔“52

(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن ج:11، ص:291)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے۔“53

(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن ج:11، ص:291)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں رقم طراز ہے کہ
”اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔“54

(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن ج:11، ص:291)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے حاشیہ میں لکھتا ہے کہ
”سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“55

(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن ج:11، ص:291)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”دافع البلاء“ میں لکھتا ہے کہ
”یحیٰی نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا۔“56

(دافع البلاء، مقدمہ، ص:3، روحانی خزائن ج:18، ص:220)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”دافع البلاء“ میں تحریر کرتا ہے کہ
”حضرت عیسیٰنے یحیٰی کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوحنّا کہتے ہیں جو پیچھے ایلیا بنایا گیا اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی۔“57

(دافع البلاء، مقدمہ، ص:3، روحانی خزائن ج:18، ص:220)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”ست بچن“ میں رقم طراز ہے کہ
”ایک مرتبہ یسوع کے چاروں حقیقی بھائیوں نے اُس وقت کی گورنمنٹ میں درخواست بھی دی تھی کہ یہ شخص دیوانہ ہو گیا ہے اس کا کوئی بندوبست کیا جاوے۔ تو یہ درخواست بھی صریح اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع در حقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔“58

(ست بچن، ص:171، روحانی خزائن ج:10، ص:295)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں لکھتا ہے کہ
”حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الہٰی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔“59

(ازالہ اوہام، ص:309، روحانی خزائن ج:3، ص:257)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں رقم طراز ہے کہ
”مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے۔“60

(ازالہ اوہام، ص:321، روحانی خزائن ج:3، ص:263)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں تحریر کرتا ہے کہ
”مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا۔“61

(ازالہ اوہام، ص:321، روحانی خزائن ج:3، ص:263)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”چشمہ مسیحی“ میں لکھتا ہے کہ
”جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اور حضرت آدمبھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ
کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی۔“62

(چشمہ مسیحی، ص:27، 28، روحانی خزائن ج:20، ص:356)
مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”چشمہ مسیحی“ میں تحریر کرتا ہے کہ
”بغیر باپ سے پیدا ہونا بعض قوی سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔“63

(چشمہ مسیحی، ص:27، 28، روحانی خزائن ج:20، ص:356)
نے ہتھیار بادشاہ بننے کیلیے لئے:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”تتمہ حقیقۃ الوحی“ میں رقم طراز ہے کہ
”حضرت عیسیٰنے بھی اجتہادی غلطی سے اپنے تئیں بادشاہ بننا یقین کر لیا اور کپڑے بیچ کر ہتھیار بھی خریدے گئے۔“64

(تتمہ حقیقۃ الوحی، ص:135، روحانی خزائن ج:22، ص:573)
کی سب پیشگوئیاں غلط نکلیں:مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”تتمہ حقیقۃ الوحی“ میں تحریر کرتا ہے کہ
”(مسیح نے) اسی زمانہ میں آسمان سے واپس آنے کا بھی پختہ وعدہ دیا آخر وہ سب پیشگوئیاں غلط نکلیں۔“65

(تتمہ حقیقۃ الوحی، ص:135، روحانی خزائن ج:22، ص:573)
(1)” آپ (عیسیٰ
) کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔ “(حاشیہ انجام آتھم ص:5 روحانی خزائن ج:11 ص:289 )
(2)’’(آپ) اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے۔ اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن، ج:11، ص:289)
(3)’’نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے، یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(4)’’یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن، ج:11، ص:289)
(5)’’(انجیل کو) یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے۔ اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(6)’’(آپ کو) ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن، ج:11، ص:289)
(7)’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(8)’’اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(9)’’اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(10)’’اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(11)’’آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں (جسم فروش عورتیں) تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا مگر شاید یہ بھی خدائی کیلئے ایک شرط ہوگی۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن، ج:11، ص:291)
(12)’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“(کشتی نوح، حاشیہ، ص:73، روحانی خزائن، ج:19، ص:71)
(13)’’ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی لیکن اگر میں ذیابیطس کیلئے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“(نسیم دعوت، ص:67، روحانی خزائن، ج:19، ص:435)
(14)’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“(دافع البلاء، ص:13، روحانی خزائن، ج:18، ص:233)
(15)’’یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے۔“(ست بچن، حاشیہ، ص:172، روحانی خزائن، ج:10، ص:296)
(16)’’اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خواری کا ایک بد نتیجہ ہے۔“(ست بچن، حاشیہ، ص:172، روحانی خزائن، ج:10، ص:296)
(17)’’مسیح کا چال چلن آپ کے نزدیک کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو۔ شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خودبین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“(نور القرآن، ص:12، روحانی خزائن، ج:9، ص:387)
(18)’’آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔“(انجام آتھم، ضمیمہ، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(19)’’اور وہ (بھائی) ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو، شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔“(انجام آتھم، ضمیمہ، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(20)’’یورپ جو زناکاری سے بھر گیا، اس کا کیا سبب ہے۔ یہی تو ہے کہ نامحرم عورتوں کو بے تکلف دیکھنا عادت ہو گیا۔ اول تو نظر کی بدکاریاں ہوئیں اور پھر معانقہ بھی ایک معمولی امر ہو گیا۔ پھر اس سے ترقی ہو کر بوسہ لینے کی بھی عادت پڑی، یہاں تک کہ استاد جو ان لڑکیوں کو اپنے گھروں میں لے جا کر یورپ میں بوسہ بازی کرتے ہیں، اور کوئی منع نہیں کرتا۔ شیرینیوں پر فسق و فجور کی باتیں لکھی جاتی ہیں۔ تصویروں میں نہایت درجہ کی بدکاری کا نقشہ دکھایا جاتا ہے۔ عورتیں خود چھپواتی ہیں کہ میں ایسی خوبصورت ہوں اور میری ناک ایسی اور آنکھ ایسی ہے۔ اور ان کے عاشقوں کے ناول لکھے جاتے ہیں اور بدکاری کا ایسا دریا بہہ رہا ہے کہ نہ تو کانوں کو بچا سکتے ہیں نہ آنکھوں کو نہ ہاتھوں کو۔ نہ منہ کو۔ یہ یسوع صاحب کی تعلیم ہے۔ کاش! ایسا شخص دنیا میں نہ آیا ہوتا۔“(نور القرآن، ص:42، روحانی خزائن، ج:9، ص:417)
(21)’’جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قویٰ سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔“(چشمہ مسیحی، ص:24، روحانی خزائن، ج:20، ص:356)
(22)’’یورپ جو زناکاری سے بھر گیا، اس کا کیا سبب ہے۔ یہی تو ہے کہ نامحرم عورتوں کو بے تکلف دیکھنا عادت ہو گیا۔ اول تو نظر کی بدکاریاں ہوئیں اور پھر معانقہ بھی ایک معمولی امر ہو گیا۔ پھر اس سے ترقی ہو کر بوسہ لینے کی بھی عادت پڑی، یہاں تک کہ استاد جو ان لڑکیوں کو اپنے گھروں میں لے جا کر یورپ میں بوسہ بازی کرتے ہیں، اور کوئی منع نہیں کرتا۔ شیرینیوں پر فسق و فجور کی باتیں لکھی جاتی ہیں۔ تصویروں میں نہایت درجہ کی بدکاری کا نقشہ دکھایا جاتا ہے۔ عورتیں خود چھپواتی ہیں کہ میں ایسی خوبصورت ہوں اور میری ناک ایسی اور آنکھ ایسی ہے۔ اور ان کے عاشقوں کے ناول لکھے جاتے ہیں اور بدکاری کا ایسا دریا بہہ رہا ہے کہ نہ تو کانوں کو بچا سکتے ہیں نہ آنکھوں کو نہ ہاتھوں کو۔ نہ منہ کو۔ یہ یسوع صاحب کی تعلیم ہے۔“(نور القرآن، ص:42، روحانی خزائن، ج:9، ص:417)
(23)’’لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“(دافع البلاء، مقدمہ، ص:4، روحانی خزائن، ج:18، ص:220)
(24)’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو یسوع اور جیزس یا یوز آسف کے نام سے بھی مشہور ہیں۔“(راز حقیقت، ص:19، روحانی خزائن، ج:14، ص:171)
(25)’’ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“(دافع البلاء، مقدمہ، ص:4، روحانی خزائن، ج:18، ص:220)
(26)’’یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“(دافع البلاء، مقدمہ، ص:4، روحانی خزائن، ج:18، ص:220)
(27)’’وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے، دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“(توضیح مرام، ص:4، روحانی خزائن، ج:3، ص:52)
(28)’’سو یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان ہی جائیں۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن، ج:11، ص:289)
(29)’’اپنا پیچھا چھڑانے کے لیے کیسا داؤ کھیلا۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن، ج:11، ص:289)
(30)’’آپ کو یہ سوال سنتے ہی اپنی جان کی فکر پڑ گئی کہ کہیں باغی کہلا کر پکڑا نہ جاؤں۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن، ج:11، ص:289)
(31)’’سو جیسا کہ معجزہ مانگنے والوں کو ایک لطیفہ سنا کر معجزہ مانگنے سے روک دیا تھا۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن، ج:11، ص:289)
(32)’’اس جگہ بھی وہی کاروائی کی اور کہا کہ قیصر کا قیصر کو دو اور خدا کا خدا کو۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن، ج:11، ص:289)
(33)’’حضرت کا اپنا عقیدہ یہ تھا کہ یہودیوں کے لیے یہودی بادشاہ چاہیے نہ کہ مجوسی۔ اسی بنا پر ہتھیار بھی خریدے۔ شہزادہ بھی کہلایا مگر تقدیر نے یاوری نہ کی۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن، ج:11، ص:289)
(34)’’متی کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عقل بہت موٹی تھی۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن، ج:11، ص:289)
(35)’’جن جن پیشگوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:5، روحانی خزائن، ج:11، ص:289)
(36)’’جب سے یہ (انجیل کی) چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(37)’’آپ نے یہ حرکت شاید اس لیے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(38)’’لیکن آپ کی اس بے جا حرکت (چوری) سے عیسائیوں کی سخت رو سیاہی ہوئی۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(39)’’اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(40)’’عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(41)’’آپ (یسوع) کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(42)’’آپ (یسوع) علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(43)’’آپ (یسوع) ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(44)’’آپ (یسوع) کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ شیطانی الہام بھی ہوا تھا۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(45)’’ایک مرتبہ آپ اسی الہام (شیطانی) سے خدا سے منکر ہونے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:6، روحانی خزائن، ج:11، ص:290)
(46)’’آپ کا یہ کہنا کہ میرے پیرو زہر کھائیں گے اور ان کو کچھ اثر نہیں ہوگا۔ یہ بالکل جھوٹ نکلا۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن، ج:11، ص:291)
(47)’’ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن، ج:11، ص:291)
(48)’’آپ کی بد قسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اُس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن، ج:11، ص:291)
(49)’’اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن، ج:11، ص:291)
(50)’’آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن، ج:11، ص:291)
(51)’’آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدّی مناسبت درمیان ہے۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن، ج:11، ص:291)
(52)’’ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن، ج:11، ص:291)
(53)’’اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن، ج:11، ص:291)
(54)’’اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن، ج:11، ص:291)
(55)’’سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“(حاشیہ انجام آتھم، ص:7، روحانی خزائن، ج:11، ص:291)
(56)’’یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا۔“(دافع البلاء، مقدمہ، ص:3، روحانی خزائن، ج:18، ص:220)
(57)’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یحییٰ کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوحنّا کہتے ہیں جو پیچھے ایلیا بنایا گیا اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی۔“(دافع البلاء، مقدمہ، ص:3، روحانی خزائن، ج:18، ص:220)
(58)’’ایک مرتبہ یسوع کے چاروں حقیقی بھائیوں نے اُس وقت کی گورنمنٹ میں درخواست بھی دی تھی کہ یہ شخص دیوانہ ہو گیا ہے اس کا کوئی بندوبست کیا جاوے۔ تو یہ درخواست بھی صریح اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع در حقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔“(ست بچن، ص:171، روحانی خزائن، ج:10، ص:295)
(59)’’حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الہٰی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔“(ازالہ اوہام، ص:309، روحانی خزائن، ج:3، ص:257)
(60)’’مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے۔“(ازالہ اوہام، ص:321، روحانی خزائن، ج:3، ص:263)
(61)’’مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا۔“(ازالہ اوہام، ص:321، روحانی خزائن، ج:3، ص:263)
(62)’’جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی۔“(چشمہ مسیحی، ص:27، 28، روحانی خزائن، ج:20، ص:356)
(63)’’بغیر باپ سے پیدا ہونا بعض قویٰ سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔“(چشمہ مسیحی، ص:27، 28، روحانی خزائن، ج:20، ص:356)
(64)’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اجتہادی غلطی سے اپنے تئیں بادشاہ بننا یقین کر لیا اور کپڑے بیچ کر ہتھیار بھی خریدے گئے۔“(تتمہ حقیقۃ الوحی، ص:135، روحانی خزائن، ج:22، ص:573)
(65)’’(مسیح نے) اسی زمانہ میں آسمان سے واپس آنے کا بھی پختہ وعدہ دیا آخر وہ سب پیشگوئیاں غلط نکلیں۔“(تتمہ حقیقۃ الوحی، ص:135، روحانی خزائن، ج:22، ص:573)
ان مسلمانوں سے جو قادیانیوں سے میل ملاپ رکھتے ہیں اور قادیانیوں کو عام کافر سمجھتے ہیں صرف ایک سوال ہے کہ کیا مندرجہ بالا با حوالہ تحریریں آپ کے دل و دماغ کے منجمد اور بند دریچوں کو کھولنے کے لئے کافی نہیں ہیں ؟قادیانیت کے جال میں پھنسنے والے اور ان کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھنے والے مسلمان ذرا مرزا قادیانی کی ان تحریروں کا مطالعہ کر کے فیصلہ کریں کہ کیا ایسا شخص ابلیس کا پیروکار نہیں؟ اگر کوئی شخص آپ کی ذات کے متعلق کہے کہ جناب آپ کی تین دادیاں اور نانیاں رنڈیاں تھیں اور سر بازار ان کی بولی لگا کرتی تھی اور انھیں کے وجود سے آپ پیدا ہوئے ہیں کیا آپ ایسے شخص سے تعلق رکھنا گوارہ کریں گے ؟اے مسلمانو ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ اپنی ذات کے معاملے میں تو اتنے غیرت مندہوتے ہیں مگر اللہ کے برگزیدہ رسول جن کی عزت اور بڑائی خود قرآن بیان کرتا ہے جن کی نبوت پربھی ایمان ہمارے لئے ضروری ہے اور جن کا قرب قیامت آنا اور ہمارا حاکم ہونا یقینی ہے ان کے بارے میں ایسی فضولیات کہنے والوں کے ساتھ ہم تعلق رکھ لیتے ہیں ۔ ان کی بنائی مصنوعات کو ہم اطمینان سے خرید کر استعمال کر لیتے ہیں ۔خدارا اس پر غور کریں ۔