انوار و تجلیات، فیوض و برکات، عقیدت و افتخار کے لحاظ سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دو ایسے روحانی و نورانی مراکز ہیں جن کی روئے زمین پر نظیر نہیں ملتی مکہ مکرمہ اللہ تعالیٰ کا وہ گھر ہے جسے ابراہیم
و اسماعیل
نے مل کر از سرِ نو اللہ کے حکم سے تعمیر کیا ۔اس شہر ِ مبارکہ میں انبیا کرام
کے امام حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ یہی وہ شہر ہے جس کی اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں قسمیں کھاتا ہے اور کئی فضائل و کمالات اس کے مسلم ہیں ،
جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کا دل حضور رسالت مآب ﷺکی ذات اور آپ ﷺکے دونوں شہروں کے بارہ میں بغض اور عداوت سے بھرا پڑا تھا حالانکہ وسائل کے باوجود اس کا ارتدادی جذبہ اور زندیقیت اسے مکہ اور مدینہ نہ لے جا سکی اور نہ اسے مراکز مہر و وفا کا دیدار ہی کرنے کی توفیق ہوئی مرزا قادیانی کو حرمین کی حاضری سے قدرت نے محروم رکھا۔ جس طرح حضور رسالت مآب ﷺمقابل مرزا قادیانی نے اپنی جھوٹی اور خانہ ساز نبوت کا ڈھونگ رچایا، اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مرکز قادیان کو مکہ و مدینہ سے برتر ثابت کرنے میں مختلف نوعیت کے دعوے کیے ذیل میں ملاحظہ ہو:
مرزا غلام احمد قادیانی ”تریاق القلوب“ میں لکھتا ہے کہ:
”میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا، اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا، تو کیونکر ممکن تھا کہ ان تمام ہدایتوں کے برخلاف کسی بغاوت کے منصوبے کی میں تعلیم کروں۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے، نہ مدینہ میں، اور نہ سلطانِ روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔“
(تریاق القلوب ،ص:28، روحانی خزائن، ج:15،ص:156 )
2۔ مکہ معظمہ سے لندن بہتر:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”میرے خیال میں مذاہب کے پرکھنے اور جانچنے اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرنے کے لیے اس سے بہتر کسی ملک کے باشندوں کو موقعہ ملنا ممکن نہیں۔ جو ہمارے ملک پنجاب اور ہندوستان کو ملا ہے۔ اس موقع کے حصول کے لیے پہلا فضل خدا تعالیٰ کا گورنمنٹ برطانیہ کا ہمارے اس ملک پر تسلط ہے۔ ہم نہایت ہی ناسپاس اور منکر نعمت ٹھہریں گے۔ اگر ہم سچے دل سے اس محسن گورنمنٹ کا شکر نہ کریں جس کے بابرکت وجود سے ہمیں دعوت اور تبلیغ اسلام کا وہ موقعہ ملا جو ہم سے پہلے کسی بادشاہ کو بھی نہ مل سکا کیونکہ اس علم دوست گورنمنٹ نے اظہار رائے میں وہ آزادی دی ہے جس کی نظیر اگر کسی اور موجودہ عملداری میں تلاش کرنا چاہیں تو لاحاصل ہے۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہم لنڈن کے بازاروں میں دین اسلام کی تائید کے لئے وہ وعظ کر سکتے ہیں جس کا خاص مکہ معظمہ میں میسر آنا ہمارے لئے غیر ممکن ہے۔“
(رسالہ معیار المذاہب، ص:2، 3، روحانی خزائن ،ج :9، ص :461,460 )
3۔ مکہ و مدینہ والے میرے لیے درندوں کی طرح ہیں:
مرزا قادیانی” براہین احمدیہ “میں لکھتا ہے کہ:
”قدیم سے میں نے اپنی بہت سی کتابوں میں بار بار یہی شائع کیا ہے کہ اس گورنمنٹ کے ہمارے سر پر احسان ہیں کہ اس کے زیر سایہ ہم آزادی سے اپنی خدمت تبلیغ پوری کرتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ ظاہری اسباب کی رو سے آپ کے رہنے کے لیے اور بھی ملک ہیں اور اگر آپ اس ملک کو چھوڑ کر مکہ میں یا مدینہ میں یا قسطنطنیہ میں چلے جائیں تو سب ممالک آپ کے مذہب اور مشرب کے موافق ہیں لیکن اگر میں جاؤں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ سب لوگ میرے لیے بطور درندوں کے ہیں۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ، حصہ پنجم ، ص: 128 ،روحانی خزائن، ج:21، ص: 294 )
قادیان کی عبادت گاہ کے بارے میں مرزا قادیانی کو الہام ہوا:
”وَمَنْ دَخَلَه کَانَ اٰمِنًا“
(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف ورؤیا ،ص:82)
یہ قرآن مجید کی آیت ہے (آل عمران:97) جو اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جو اس میں داخل ہو گیا، اسے امن مل گیا۔ لیکن مرزا قادیانی اسے قادیان میں اپنی عبادت گاہ پر منطبق کر رہا ہے۔
5۔ حج معمولی ہے :
مرزا قادیانی حج کے متعلق لکھتا ہے کہ:
”لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام، ص:352، روحانی خزائن، ج:5،ص:352 )
6۔ قادیانی جلسہ، حج کی طرح:
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر الدین محمود قادیانی لکھتا ہے کہ:
”آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ حج خدا تعالیٰ نے مومنوں کی ترقی کے لیے مقرر کیا تھا۔“
(برکات خلافت ،ص:5،، خطبات محمود، ج: 4، ص :254)
قادیانی فکر کا اخبار ”الفضل“ میں ہے کہ:
”میں تمہیں سچ سچ کہتا ہو ں کہ اللہ تعالی نے مجھے بتا دیا ہے کہ قادیان کی زمین با برکت ہے یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔“
(الفضل ، ج :20، نمبر :70،ص:1،کالم :2،مورخہ 11 دسمبر ،1932ء)
مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کہتا ہے کہ:
”آج احمدیوں کے لیے دینی لحاظ سے حج تو مفید ہے مگر اس سے جو اصل غرض یعنی قوم کی ترقی تھی، وہ انھیں حاصل نہیں ہو سکتی۔“
(برکات خلافت ،ص:5، خطبات محمود، ج: 4، ص :254)
مزید کہتا ہے کہ:
”ہمارے آدمیوں میں سے جن کو خدا تعالیٰ توفیق دیتا ہے، حج کرتے ہیں مگر وہ فائدہ جو حج سے مقصود ہے، وہ سالانہ جلسہ پر ہی آ کر اٹھاتے ہیں۔“
(برکات خلافت ،ص:5،، خطبات محمود، ج: 4، ص :254)
مرزا قادیانی اپنی کتاب” آئینہ کمالات اسلام“ میں لکھتا ہے کہ:
”اس جگہ (قادیان میں آنا) نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر، کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص:352 روحانی خزائن ج:5،ص:352 )
مرزا بشیر الدین محمود اپنی کتاب” برکات خلافت“ میں کہتا ہے کہ:
”حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے، جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لیے مقرر کیا ہے۔“
(برکات خلافت ،ص:5،، خطبات محمود، ج: 4، ص :254)
قارئین کرام ! آپ نے پڑھ کر اندازہ لگایا کہ مرزا قادیانی اور مرزا قادیانی کا بیٹا کس طرح حرمین شریفین کا ذکر کرتے ہیں اور ان کے کسی الفاظ سے نظر نہیں آرہا کہ ان کے دلوں میں مکہ اور مدینہ شریفین کی کوئی عزت اور احترام ہیں بلکہ یہ تو اس کے برعکس حرمین کے فضائل اپنی جگہاؤں پر منطبق کرتے نظر آرہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ناپاک عزائم سے ہمیں محفوظ فرمائے !