پیرانِ پیر، محبوبِ سبحانی، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی
، المعروف حضور غوثِ اعظم
، کی شان و منزلت اہلِ اسلام کے نزدیک نہایت بلند و بالا ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت و یاد، دینِ متین کی خدمت، اشاعتِ علومِ دینیہ اور اصلاحِ خلق میں گزاری۔ آپ کی تعلیمات، روحانی فیوض و برکات اور نسبت سے وابستہ سلاسلِ طریقت صدیوں سے مسلمانوں کی دینی و روحانی رہنمائی کا ذریعہ چلے آ رہے ہیں۔ امتِ مسلمہ کے دلوں میں آپ کی عقیدت و محبت کا ایک خاص مقام ہے، اور آپ کی علمی و روحانی خدمات تاریخِ اسلام کا روشن باب ہیں۔ لیکن افسوس کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت نے حضرت غوثِ اعظم
کی قدر و منزلت اور مسلمانوں کے دلوں میں آپ کے مقام و مرتبے کا لحاظ بھی نہ رکھا اور آپ کے متعلق نازیبا تحریرات لکھی آپ خود حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:
اور میری روح میں مناسبت ہے:مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”فطرتًا بعض طبائع کو بعض طبائع سے مناسبت ہوتی ہے۔ اسی طرح میری روح اور سید عبد القادر کی روح کو خمیر فطرت سے باہم ایک مناسبت ہے جس پر کشوف صحیحہ صریحہ سے مجھ کو اطلاع ملی ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات ،کشوف و رؤیا،ص: 15، 16)
صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”سیرت مہدی“ میں لکھتا ہے کہ:
”ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک دفعہ دیکھا کہ سید عبد القادر صاحب جیلانی آئے ہیں اور آپ نے پانی گرم کرا کر مجھے غسل دیا ہے۔“

(سیرت مہدی، ج: 1، حصہ سوم، ص: 509، 510، روایت نمبر: 481)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ الہامات“ میں لکھتا ہے کہ:
”یہ اسی قسم کا فقرہ ہے جیسا کہ یہ فقرہ کہ ”قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ“ یہ فقرہ سید عبدالقادر جیلانی کا ہے جس کے معنی ہیں کہ ہر ایک ولی کی گردن پر میرا قدم ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف و رؤیا ،ص:599)
پر ایک جھوٹ:مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ الہامات“ میں رقم طراز ہے کہ:
”حضرت سید عبد القادر جیلانیکا قول ہے کہ ”رایت ربی علی صورۃ ابی“ یعنی میں نے اپنے رب کو اپنے باپ کی شکل پر دیکھا۔ میں نے بھی اپنے والد صاحب کی شکل پر اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات ،کشوف و رؤیا ،ص:342)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ الہامات ،کشوف و رؤیا“ میں لکھتا ہے کہ:
”اس بات پر تیس برس کے قریب زمانہ گذر گیا ہے کہ جب ایک رات مجھے خدا نے اطلاع دی کہ اُس نے مجھے اپنے لیے اختیار کر لیا ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات ،کشوف ورؤیا،ص: 15، 16)
مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ:
”یہ عجیب اتفاق ہوا کہ اُسی رات ایک بڑھیا کو خواب آئی جس کی قریبًا اسی برس کی تھی اور اس نے صبح مجھ کو آ کر کہا کہ میں نے رات سید عبد القادر جیلانیکو خواب میں دیکھا ہے اور ساتھ ان کے ایک اور بزرگ تھے اور دونوں سبز پوش تھے اور رات کے پچھلے حصہ کا وقت تھا۔ دوسرا بزرگ عمر میں ان سے کچھ چھوٹا تھا۔ پہلے انہوں نے ہماری جامع مسجد میں نماز پڑھی۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف ورؤیا ،ص: 15، 16)
صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”سیرت مہدی“ میں رقم طراز ہے کہ:
”ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک دفعہ دیکھا کہ سید عبد القادر صاحب جیلانی آئے ہیں اور آپ نے پانی گرم کرا کر مجھے غسل دیا ہے اور نئی پوشاک پہنائی ہے۔“

(سیرت مہدی، ج: 1، حصہ سوم، ص: 509، 510، روایت: 481)
نے مجھے سلام کیا:مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ الہامات“ میں لکھتا ہے کہ:
”مشرق کی طرف سے ایک چمکتا ہوا ستارہ نکلا تب اس ستارہ کو دیکھ کر سید عبد القادر بہت خوش ہوئے اور ستارہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا” السلام علیکم“ اور ایسا ہی ان کے رفیق نے ” السلام علیکم“ کہا اور وہ ستارہ میں تھا۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات ،ص: 15، 16)
صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”سیرت مہدی“ میں رقم طراز ہے کہ:
”پھر انہوں (سید عبد القادر جیلانی) نے میرے بائیں طرف کھڑے ہو کر کندھے سے کندھا ملایا۔ تو اس وقت دونوں برابر برابر رہے۔“

(سیرت مہدی، ج: 1، حصہ سوم، ص: 509، 510، روایت: 481)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ الہامات“ میں لکھتا ہے کہ:
”مشرق کی طرف سے ایک چمکتا ہوا ستارہ نکلا تب اس ستارہ کو دیکھ کر سید عبد القادر بہت خوش ہوئے اور وہ ستارہ میں تھا۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات کشوف ورؤیا ،ص: 15، 16)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ الہامات“ میں لکھتا ہے کہ:
”مشرق کی طرف سے ایک چمکتا ہوا ستارہ نکلا تب اس ستارہ کو دیکھ کر سید عبد القادر بہت خوش ہوئے۔ اور وہ ستارہ میں تھا۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات و رؤیا ،ص: 15، 16)
یعقوب علی عرفانی قادیانی اپنی کتاب ”حیات احمد“ میں لکھتا ہے کہ:
”بعض مکاشفات سید عبد القادر جیلانی قدس سرہ بھی ایسے ہیں جو احادیث صحیحہ سے منافی ومغائر ہیں۔“

(حیات احمد، ج 3، ص 198، 199)

(حیات احمد، ج: 3، ص: 206)
یعقوب علی عرفانی اپنی کتاب ”حیات احمد“ میں لکھتا ہے کہ:
”اگر قرآنی الہامات سے کوئی کافر ہو جاتا ہے تو پہلے یہ فتویٰ کفر سید عبد القادرپر لگانا چاہیے کہ انہوں نے بھی قرآنی الہامات کا دعویٰ کیا ہے۔“

(حیات احمد، ج :4، ص: 472)
قارئین کرام ! آپ نے مطالعہ کیا کہ کس طرح مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت نے شیخ عبد القادر جیلانی
کے مقام و مرتبہ کو گرانا چاہا لیکن یہ مثال ایسی ہی ہے جیسے سورج پر تھوکنا اس کو پڑھ کر مرزا قادیانی کی شخصیت کو جانا جاسکتا ہے کہ یہ ا پنی ذات کے لئے اولیائے کرام کی پاک نفوس کو نہیں جانے دیتا اور ان کے متعلق ناگفتہ بہ کلام سے بھی دریغ نہیں کرتا ،لہذا اس مقام پر غور کرنا چاہیئے کہ قادیانیوں کا کوئی کام اسلام کی حمایت کے لئے نہیں بلکہ اپنے نظریات کو پھیلانے کے لئے اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت نصیب فرمائیں اور ہم کو ان کے فتنے سے محفوظ فرمائیں۔