logoختم نبوت

مرزا قادیانی کی قلم سے اولیائے کرام کی توہین و تنقیص

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اولیائے کرام کی عظمت و شان، ان کے بلند روحانی مقام اور اپنی بارگاہ میں ان کی مقبولیت کو واضح فرمایا ہے۔ یہ وہ برگزیدہ بندے ہیں جنہیں ایمان و تقویٰ کی دولت سے سرفراز فرمایا گیا، جن کی زندگیاں اطاعتِ الٰہی، اتباعِ رسول ﷺ، اخلاص و للہیت اور دینِ حق کی خدمت سے عبارت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مقرب بندوں کو اپنی رضا و خوشنودی کی بشارت عطا فرمائی اور ان کے مقام و مرتبے کو اہلِ ایمان کے لیے نمونہ بنایا۔ اسی طرح علمائے حق دینِ اسلام کے محافظ، انبیائے کرام علیہم السلام کے علوم کے وارث اور امت کی دینی و روحانی رہنمائی کا اہم ذریعہ ہیں۔اب ملاحظہ فرمائیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ہمنوا ؤں نے ان عظیم المرتبت اولیائے کرام اور علمائے دین کے متعلق اپنی تحریروں میں کیا الفاظ استعمال کیے اور ان کے بارے میں کیا نظریات پیش کیے لہٰذا ذیل میں مرزا غلام احمد قادیانی کی وہ عبارات پیش کی جا رہی ہیں جن سے اولیائے کرام اور علمائے حق کے بارے میں اس کے طرزِ فکر کو سمجھنے میں مدد ملے گی، تاکہ قارئین اصل حوالہ جات کی روشنی میں خود ان کا جائزہ لیں:


1۔ خاتم الاولیا ءہونے کا دعویٰ:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”خطبہ الہامیہ“ میں رقم طراز ہے کہ

”اور وہ خاتم الانبیاء ہیں اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔ “


undefined


(خطبہ الہامیہ،ص: 35، روحانی خزائن،ج: 16،ص: 69، 70)


2۔ مجھ پر ولایت کا سلسلہ ختم ہوگیا:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”خطبہ الہامیہ“ میں رقم طراز ہے کہ

”میں ولایت کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں جیسا کہ ہمارے سید آنحضرت ﷺ نبوت کے سلسلہ کو ختم کرنے والے تھے۔“


undefined


(خطبہ الہامیہ،ص: 35، روحانی خزائن،ج: 16،ص: 69، 70)


3۔جونعمت مجھے ملی کسی کو عطا نہیں ہوئی:

{p | مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”حقیقۃ الوحی“ میں تحریر کرتا ہے کہ}}

”اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ اور مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں، تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی اور اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔“


undefined


(حقیقۃ الوحی، ص: 391، روحانی خزائن، ج:22،ص: 406)


4۔ تمام اولیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”تذکرۃ الشہادتین“ میں لکھتا ہے کہ

”اسلام میں اگرچہ ہزارہا ولی اور اہل اللہ گزرے ہیں مگر ان میں کوئی موعود نہ تھا لیکن وہ جو مسیح کے نام پر آنے والا تھا، وہ موعود تھا (یعنی خود مرزا قادیانی)۔“


undefined


(تذکرۃ الشہادتین،ص: 29، روحانی خزائن، ج:20،ص: 31)


5۔ مجھ سے زیادہ کسی کو امور غیبیہ نہ ملیں :

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”حقیقۃ الوحی“ میں لکھتا ہے کہ:

”غرض اس حصہ کثیر وحی الہٰی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“


undefined


(حقیقۃ الوحی، ص: 391، روحانی خزائن، ج:22،ص: 406)


6۔ تمام روحانیوں پر مجھے افسری دی گئی:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی اوہام یعنی الہامات میں لکھتا ہے کہ :

”سلطان عبدالقادر، اس الہام میں میرا نام سلطان عبدالقادر رکھا گیا کیونکہ جس طرح سلطان دوسروں پر حکمران اور افسر ہوتا ہے اسی طرح مجھ کو تمام روحانی درباریوں پر افسری عطا کی گئی ہے۔“


undefined


(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف ورؤیا ،ص:599)


7۔ میری اطاعت کے بغیر خدا سے تعلق نہیں ہوسکتا :

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ الہامات“ میں لکھتا ہے کہ

”یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے ہیں ان کا تعلق نہیں رہے گا جب تک وہ میری اطاعت نہ کریں اور میری اطاعت کا جوا اپنی گردن پر نہ اٹھائیں۔“


undefined


(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف ورؤیا ،ص:599)


8۔ اب ولی مجھ سے ہوگا :

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”خطبہ الہامیہ“ میں رقم طراز ہے کہ:

”میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا۔“


undefined


(خطبہ الہامیہ،ص: 35، روحانی خزائن،ج: 16،ص: 69، 70)


9۔ ابن عربی سے نے واشگاف باتیں کیں:

یعقوب علی عرفانی اپنی کتاب ”حیات احمد“ میں لکھتا ہے کہ:

”پہلے ان (ابن عربی) سے کسی نے ایسی واشگاف کلام نہیں کی۔ “


undefined


(حیات احمد، ج :3، ص: 206)


10۔ عبد القادر جیلانیsym-4 پر ایک جھوٹ:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ الہامات“ میں رقم طراز ہے کہ:

”حضرت سید عبد القادر جیلانی sym-4 کا قول ہے کہ ”رایت ربی علی صورۃ ابی“ یعنی میں نے اپنے رب کو اپنے باپ کی شکل پر دیکھا۔ میں نے بھی اپنے والد صاحب کی شکل پر اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔“


undefined


(تذکرہ مجموعہ الہامات ،کشوف ورؤیا ،ص:342)


11۔ عبد القادر جیلانی sym-4اور میری روح میں مناسبت ہے:

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ:

”فطرتًا بعض طبائع کو بعض طبائع سے مناسبت ہوتی ہے۔ اسی طرح میری روح اور سید عبد القادر کی روح کو خمیر فطرت سے باہم ایک مناسبت ہے جس پر کشوف صحیحہ صریحہ سے مجھ کو اطلاع ملی ہے۔“


undefined


(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف ورؤیا ،ص: 15، 16)


12۔ خدا نے اطلاع دی کہ عبد القادر نے مجھے اختیار کر لیا:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ الہامات“ میں لکھتا ہے کہ:

”اس بات پر تیس برس کے قریب زمانہ گذر گیا ہے کہ جب ایک رات مجھے خدا نے اطلاع دی کہ اُس نے مجھے اپنے لیے اختیار کر لیا ہے۔“


undefined


(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف و رؤیا ،ص: 15، 16)


13۔ سید عبد القادر نے مجھے (مرزا قادیانی)غسل دیا:

صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”سیرت مہدی“ میں لکھتا ہے کہ:

”ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک دفعہ دیکھا کہ سید عبد القادر صاحب جیلانی آئے ہیں اور آپ نے پانی گرم کرا کر مجھے غسل دیا ہے۔“


undefined


(سیرت مہدی، ج: 1، حصہ سوم، ص: 509، 510، روایت نمبر: 481)


14۔ عبد القادر نے ہماری مسجد میں نماز پڑھی:

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ:

”یہ عجیب اتفاق ہوا کہ اُسی رات ایک بڑھیا کو خواب آئی جس کی قریبًا اسی برس کی تھی اور اس نے صبح مجھ کو آ کر کہا کہ میں نے رات سید عبد القادر جیلانی sym-4 کو خواب میں دیکھا ہے اور ساتھ ان کے ایک اور بزرگ تھے اور دونوں سبز پوش تھے اور رات کے پچھلے حصہ کا وقت تھا۔ دوسرا بزرگ عمر میں ان سے کچھ چھوٹا تھا۔ پہلے انہوں نے ہماری جامع مسجد میں نماز پڑھی۔“


undefined


(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف ورؤیا ،ص: 15، 16)


15۔ سید عبد القادر نے مجھے پوشاک پہنائی:

صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”سیرت مہدی“ میں رقم طراز ہے کہ:

”ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک دفعہ دیکھا کہ سید عبد القادر صاحب جیلانی آئے ہیں اور آپ نے پانی گرم کرا کر مجھے غسل دیا ہے اور نئی پوشاک پہنائی ہے۔“


undefined


(سیرت مہدی، ج: 1، حصہ سوم، ص: 509، 510، روایت: 481)


16۔ عبد القادر جیلانیsym-4 نے مجھے سلام کیا:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ الہامات“ میں لکھتا ہے کہ:

”مشرق کی طرف سے ایک چمکتا ہوا ستارہ نکلا تب اس ستارہ کو دیکھ کر سید عبد القادر بہت خوش ہوئے اور ستارہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا” السلام علیکم“ اور ایسا ہی ان کے رفیق نے ” السلام علیکم“ کہا اور وہ ستارہ میں تھا۔“


undefined


(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف ورؤیا ،ص: 15، 16)


17۔ سید عبد القادر اور میں نے قد ناپا تو برابر تھے:

صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”سیرت مہدی“ میں رقم طراز ہے کہ:

”پھر انہوں (سید عبد القادر جیلانی) نے میرے بائیں طرف کھڑے ہو کر کندھے سے کندھا ملایا۔ تو اس وقت دونوں برابر برابر رہے۔“


undefined


(سیرت مہدی، ج: 1، حصہ سوم، ص: 509، 510، روایت: 481)


18۔ عبد القادر جیلانی نے مجھے ستارہ کی شکل میں دیکھا:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ الہامات“ میں لکھتا ہے کہ:

”مشرق کی طرف سے ایک چمکتا ہوا ستارہ نکلا تب اس ستارہ کو دیکھ کر سید عبد القادر بہت خوش ہوئے اور وہ ستارہ میں تھا۔“


undefined


(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف ورؤیا ،ص: 15، 16)


19۔ مجھے وہ روحانی مرتبہ حاصل ہوا سب پر سبقت لے گیا:

صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”سیرت مہدی“ میں رقم طراز ہے کہ:

”خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ اوائل زمانہ کا رؤیا ہوگا کیونکہ بعد میں تو آپ کو وہ روحانی مرتبہ حاصل ہوا کہ امت محمدیہ میں آپ سب پر سبقت لے گئے۔“


undefined


(سیرت مہدی، ج: 1، حصہ سوم، ص: 509، 510، روایت: 481)


20۔ عبد القادر جیلانی مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے:

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”مجموعہ الہامات“ میں لکھتا ہے کہ:

”مشرق کی طرف سے ایک چمکتا ہوا ستارہ نکلا تب اس ستارہ کو دیکھ کر سید عبد القادر بہت خوش ہوئے۔ اور وہ ستارہ میں تھا۔“


undefined


(تذکرہ مجموعہ الہامات،کشوف ورؤیا ،ص: 15، 16)


21۔ مجھے(مرزا قادیانی) اس امت کے جملہ اولیاء پر فضیلت حاصل ہے:

صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”سیرت مہدی“ میں رقم طراز ہے کہ:

”آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے صراحت کے ساتھ لکھا بھی ہے کہ مجھے اس امت کے جملہ اولیاء پر فضیلت حاصل ہے۔“


undefined


(سیرت مہدی، ج: 1، حصہ سوم، ص: 509، 510، روایت: 481)


22۔ ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے تھے:

ماہنامہ ”الفضل“ میں ہے کہ:

”حضرت مسیح موعود ولی اللہ تھے۔ اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں حرج کیا ہوا۔“


undefined


(اخبار الفضل، ص: 6، کالم: 1،ج: 26، نمبر: 200 ، 31 اگست ،1938ء)


23۔ عبد القادر جیلانی کے مکاشفات احادیث صحیحہ سے منافی ومغائر ہیں:

یعقوب علی عرفانی قادیانی اپنی کتاب ”حیات احمد“ میں لکھتا ہے کہ:

”بعض مکاشفات سید عبد القادر جیلانی قدس سرہ بھی ایسے ہیں جو احادیث صحیحہ سے منافی ومغائر ہیں۔“


undefined


(حیات احمد، ج 3، ص 198، 199)


24۔ ابن عربی کے نزدیک نبوت کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا:

یعقوب علی عرفانی اپنی کتاب ”حیات احمد“ میں لکھتا ہے کہ:

”محی الدین ابن عربی رئیس المتصوفین کا یہ عقیدہ ہے کہ نبوت کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔“


undefined


(حیات احمد، ج: 3، ص: 206)


25۔سید عبد القادر جنے قرآنی الہامات کا دعویٰ کیا ہے:

یعقوب علی عرفانی اپنی کتاب ”حیات احمد“ میں لکھتا ہے کہ:

”اگر قرآنی الہامات سے کوئی کافر ہو جاتا ہے تو پہلے یہ فتویٰ کفر سید عبد القادر sym-4 پر لگانا چاہیے کہ انہوں نے بھی قرآنی الہامات کا دعویٰ کیا ہے۔“


undefined


(حیات احمد، ج :4، ص: 472)

اختتامیہ

اللہ تعالیٰ نے اولیائے کرام کو اپنی قربت و محبت اور خصوصی مقبولیت سے سرفراز فرمایا ہے، جبکہ علمائے حق کو دینِ اسلام کی خدمت، حفاظت اور اشاعت کا عظیم شرف عطا کیا ہے۔ یہ وہ مقدس ہستیاں ہیں جن کی زندگیاں ایمان، تقویٰ، اتباعِ رسول ﷺ اور خدمتِ دین سے عبارت ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کی ان تحریروں میں اولیائے کرام اور علمائے دین کے متعلق ایسے الفاظ ملتے ہیں جنہیں پڑھ کر اس کے نظریات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی ان عبارات کے ذریعے ان بزرگ ہستیوں کے مقام و مرتبے کو مجروح کرنے کی کوشش کی، تاہم حقیقت یہ ہے کہ کسی کی زبان یا قلم اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ عزت و شرف کو ختم نہیں کر سکتا۔ جسے اللہ تعالیٰ عزت عطا فرمائے، اسے کسی انسان کی مذمت سے حقیقی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔

Netsol OnlinePowered by