اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بہت سے لوگوں کو مختلف قسم کی شرافتوں اور فضیلتوں سے سرفراز فرمایا ہے۔ ان میں بعض شرف و امتیاز ایسے ہیں جو اہلِ ایمان کے لیے باعثِ عقیدت و رشک ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیتِ اطہار سے نسبت بھی انہی عظیم فضائل میں سے ہے، جو انسان کے لیے شرف و سعادت کا اعلیٰ ترین مقام رکھتی ہے۔ لیکن افسوس کہ بعض لوگ اپنی زبان و قلم کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں اور ان مقدس ہستیوں کے بارے میں بھی نامناسب الفاظ استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے اور اپنی عاقبت تباہ کرتے ہیں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کی تحریروں میں ایسی عبارات موجود ہیں جو اہلِ بیتِ اطہار اور دیگر عظیم المرتبت شخصیات کی شان میں گستاخی اور سراسر بے ادبی ہیں ،ان ہی میں سے کچھ حوالے ملاحظہ فرمائیں:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب” اعجاز احمدی “میں کہتا ہے کہ:
”اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے مگر حسین۔ پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو۔“

(اعجاز احمدی، ص: 70، روحانی خزائن، ج: 19، ص: 181)
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”تم نے اس کشتہ سے نجات چاہی کہ جو نومیدی سے مر گیا پس تم کو خدا نے جو غیور ہے ہر ایک مراد سے نومید کیا۔“

(اعجاز احمدی، ص: 81، روحانی خزائن، ج: 19، ص: 193)
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں تحریر کرتا ہے کہ:
”اور بخدا اسے مجھ سے کچھ زیادت نہیں۔“

(اعجاز احمدی، ص: 81، روحانی خزائن، ج: 19، ص: 193)
مرزا قادیانی اپنی تحریر میں تحریر کرتا ہے کہ:
”میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔“

(اعجاز احمدی، ص: 81، روحانی خزائن، ج: 19، ص: 193)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب” اعجاز احمدی “میں لکھتا ہے کہ:
”پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔“

(اعجاز احمدی، ص: 82، روحانی خزائن، ج: 19، ص: 194)
مرزا قادیانی اپنی کتاب” اعجاز احمدی“ میں لکھتا ہے جو روحانی خزائن کی جلد 19 میں موجود ہے کہ :
”کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“

(اعجاز احمدی، ص: 82، روحانی خزائن، ج: 19، ص: 194)
مرزا قادیانی اپنی کتاب” نزول المسیح“ میں لکھتا ہے کہ:
کربلائے است سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم
”میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو (100) حسین ہر وقت میری جیب میں ہیں۔“

(نزول المسیح، ص: 99، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 477)
مرزا قادیانی اپنی کتاب” دافع البلاء“ میں کہتا ہے کہ:
”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اُس حسین سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء، ص: 17، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 233)
مرزا قادیانی کہتا ہے کہ:
”انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔“

(اعجاز احمدی، ص: 52، روحانی خزائن، ج: 19، ص: 164)
مرزا قادیانی اپنی کتاب” اعجاز احمدی“ میں طنزا لکھتا ہے کہ:
”کیا تو اس کو تمام دنیا سے زیادہ پرہیزگار سمجھتا ہےاور یہ تو بتلاؤ کہ اس سے تمہیں دینی فائدہ کیا پہنچا؟ اے مبالغہ کرنے والے!“

(اعجاز احمدی، ص: 68، روحانی خزائن، ج: 19، ص: 180)
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں طنزا لکھتا ہے کہ:
”قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ ابنیت کا بھی نہیں دیا بلکہ نام تک مذکور نہیں۔“

(نزول المسیح، ص: 45، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 423)
مرزا قادیانی استہزاءََ لکھتا ہے کہ:
”حسین کو یہ شرف بھی نصیب نہیں ہوا کہ وہ موت کے بعد آنحضرت ﷺ کی قبر کے قریب دفن کیا جاتا۔“

(نزول المسیح، ص: 47، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 425)
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
”میں اگر چہ علوی تو نہیں ہوں مگر بنی فاطمہ میں سے ہوں۔“

(نزول المسیح، ص: 48، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 426)
مرزا قادیانی اسی کتاب میں کہتا ہے کہ:
”اُس خدا کو تعریف ہے جس نے تمہیں سادات کا داماد بنایا اور نیز نسب عالی بھی عطا کی جس میں خون فاطمی ملا ہوا ہے۔“

(نزول المسیح، ص: 48، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 426)
مرزا قادیانی خاتون جنت کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
”میرے پر ظاہر کیا گیا کہ میرا سر بیٹوں کی طرح حضرت فاطمہ کی ران پر ہے۔“

(نزول المسیح، ص: 48، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 426)
مرزا قادیانی امام حسین کے بارے میں کہتا ہے کہ:
”اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین کو اس سے کیا نسبت ہے یہ اور بات ہے کہ سنی یا شیعہ مجھ کو گالیاں دیں یا میرا نام کذاب دجال بے ایمان رکھیں لیکن جس شخص کو خدا تعالیٰ بصیرت عطا کرے گا وہ مجھے پہچان لے گا کہ میں مسیح موعود ہوں۔“

(نزول المسیح، ص: 48، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 427)
مرزا قادیانی اپنے ملفوظات میں امام حسین کی توہین میں لکھتا ہے کہ:
”امام حسین کی شہادت سے بڑھ کر حضرت مولوی عبداللطیف صاحب کی شہادت ہے، جنہوں نے صدق اور وفا کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا اور جن کا تعلق شدید بوجہ استقامت سبقت لے گیا تھا۔“

(ملفوظات ج: 4، ص: 364)
مرزا قادیانی مزید امام حسین کے بارے میں کہتا ہے کہ:
”اگر غور سے دیکھا جاوے تو ان کا واقعہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے واقعہ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے کیونکہ وہ تو مقید نہ تھے۔ نہ ان کو زنجیریں ڈالی گئی تھیں، صرف ایک قسم کا جنگ تھا۔“

(ملفوظات ،ج: 3، ص: 496)
مرزا قادیانی اپنی شاعری میں کہتا ہے کہ:
مری اولاد سب تیری عطا ہے
ہر اک تیری بشارت سے ہوا ہے
یہ پانچوں جو کہ نسلِ سیدہ ہے
یہی ہیں پنج تن جن پر بِنا ہے

(در ثمین اردو، ص: 57)
مزید کہتا ہے کہ:
مری اولاد سب تیری عطا ہے
ہر اک تیری بشارت سے ہوا ہے
یہ پانچوں جو کہ نسلِ سیدہ ہے
یہی ہیں پنج تن جن پر بِنا ہے

(در ثمین اردو، ص: 57)
مرزا بشیرالدین محمود اپنی کتاب” قول الحق “میں کہتا ہے کہ:
”اب وہی سید ہوگا جو حضرت مسیح موعود کی اِتباع میں داخل ہوگا۔ اب پرانا رشتہ کام نہ آئے گا کہ ان رشتہ داروں نے اس کی ہتک کی۔“

(قول الحق، ص: 32، انوار العلوم، ج: 8، ص: 80)
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر الدین محمود قادیانی لکھتا ہے کہ:
”جو سید کہلاتا ہے اس کی یہ سیادت باطل ہو جائے گی۔“

(قول الحق، ص: 32، انوار العلوم، ج: 8، ص: 80)
مرزا قادیانی اپنے ملفوظات میں حضرت علی کے متعلق لکھتا ہے کہ:
”پُرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو، اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اُس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات، ج: 1، ص: 400)
مرزا قادیانی کا عجیب دعویٰ ملاحظہ فرمائیں:
”انت مدینۃ العلم“
”تو علم کا شہر ہے۔“

(تذکرہ ،مجموعہ الہامات ،کشوف ورؤیا ، ص: 320)
قارئین کرام ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کس طرح مرزا قادیانی اور اس کے بیٹے نے اہل بیت عظام کے مقام و مرتبہ کو پارا پارا کرنا چاہا اور اہل بیت کے فضائل اپنے مریدوں اور اپنی اولاد کے لئے ہونے کا دعویٰ کیا اور جگہ جگہ اہل بیت کے لئے گستاخانہ الفاظ استعمال کئے ایک منصف مزاج بندہ غور کرسکتا ہے کہ قادیانیوں کی دینی روش کیا ہے اور وہ ایک ایک کرکے اسلامی شعائر اور اسلامی شخصیات اور شرعی باتوں کو کس طرح اپنے الفاظ کے نیچے روندتے چلے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت نصیب فرمائیں اور ہمیں ان کے شر سے محفوظ فرمائیں۔