مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی زندگی میں تدریجا تدریجا کئی دعوے کئے کبھی کہا کہ میں مصلح ہو کبھی کہا کہ میں مامور ہو ،کبھی کہا کہ میں مجدد ہو ،کبھی کہا کہ میں مہدی ہو اور آخر میں نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ بھی کردیا لیکن اگر انصاف کی نظر سے مرزا قادیانی کی شخصیت اور زندگی کو دیکھا جائے تو یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ یہ شخص ایک شریف انسان تھا بلکہ زندگی میں کئی تضادات نظر آتے ہیں ،المختصر اس مضمون میں مرزا قادیانی کے وہ دعوے جمع کئے گئے ہیں جن میں مرزا قادیانی نے واضح الفاظ میں یا بند الفاظ میں اپنے لئے نبوت اور رسالت کے ادعاجات کئے ہیں یہ تحریر ان لوگوں کے لئے بھی مفید اور معاون ہیں جو یہ رٹ لگائے ہوتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے نبوت اور رسالت کا دعویٰ کیا ہی نہیں ہے اگر کیا ہے تو حوالہ دیکھاؤ اس میں ان حوالوں کو جمع کردیا گیا ہیں ،اب حوالے ملاحظہ فرمائیں:
مرزا قادیانی اپنی کتاب دافع البلاء میں لکھتا ہے کہ :
”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“1
دافع البلاء، ص :11 ، روحانی خزائن ،ج :18، ص :231
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ :
میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔2
(ایک غلطی کا ازالہ، ص :4 ،روحانی خزائن ،ج: 18 ،ص: 211)
مرزا قادیانی اپنی کتاب اربعین میں لکھتا ہے کہ :
خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔3
(اربعین نمبر 3، ص: 36 ،روحانی خزائن ،ج:17 ،ص :426)
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ :
وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا تاتم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔4
(دافع البلاء، ص: 5 ، روحانی خزائن، ج:18 ،ص:225،226)
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ :
اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور،خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔جو کچھ کہتا ہےاس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔5
(رسالہ دعوت قوم ،ص :62 ، روحانی خزائن ،ج :11 ،ص: 62)
مرزا صاحب نے لکھا ہے:
جس نے اپنی وحی کے ذریعےسے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگیا۔پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔6
مثلاً یہ الہام:
قل للمؤمنين یغضوا من ابصارھم و یحفظوا فروجھم ذلك ازكى لھم
مرزا قادیانی اس کے آگے لکھتا ہے کہ:
یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔7
(اربعین نمبر 4، ص: 6 ، روحانی خزائن ،ج: 17 ،ص :435،436)
مرزا صاحب لکھا ہے:
انا أرسلنا الیکم رسولا شاھدا علیکم کما أرسلنا الی فرعون رسولا8
ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔
(حقیقۃ الوحی ،ص :101 ،روحانی خزائن ،ج:22 ،ص: 105)
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ :
مسیح موعود کے کئی نام ہیں منجملہ ان میں سے ایک نام خاتم الخلفاء ہے یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر میں آنے والا ہے۔9
(چشمہ معرفت، ص :318 ، روحانی خزائن ،ج: 23 ،ص :333)
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ :
اازس56تپس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بناء کو کمال تک پہنچا دے۔پس میں وہی اینٹ ہوں۔10
(خطبہ الہامیہ، ص :112 ، روحانی خزائن ،ج :16 ،ص :178)
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ :
ہلاک ہوگئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہیں کیا۔مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔میں خدا کی راہوں میں سب سے آخری راہ ہوں۔اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہےکیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔11
(کشتی نوح ،ص :56 ، روحانی خزائن ،ج:19 ،ص :61)
مرزا قادیانی اپنی کتاب چشمہ معرفت میں تحریر کرتا ہے کہ:
خدا نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ 1 ہزار نبیوں پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔12
(چشمہ معرفت ،ص: 317 ، روحانی خزائن ،ج: 23 ،ص: 332)
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ :
میرے معجزات کی تعداد 10 لاکھ ہے۔13
(تذکرة الشہادتین ،ص:41 ،روحانی خزائن ،ج: 20 ،ص:43)
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ:
اَلرَّحمٰنُ عَلَّمَ القُرۡاٰنَ لِتُنذِرَ قَوۡمًا مَّا اُنذِرَ اٰبَآؤُهم14
خدا نے تجھے قرآن سکھلایا تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائےجن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے۔(ترجمہ راقم)
(ضرورة الامام ،ص :31 ،روحانی خزائن ،ج: 13 ،ص: 502){{subhead
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ :
اس قسم کے الہام بھی یعنی جو سخت اور گراں صورت کے الفاظ خدا کی طرف سے زبان پر جاری ہوتے ہیں۔15
(براہین احمدیہ ،حصہ سوم ،ص :225، روحانی خزائن ،ج :1 ص :249)
مرزا صاحب نے لکھا ہے:
اسلام کے ضعف،غربت اور تنہائی کے وقت میں خدائے تعالیٰ نے مجھے مامور کرکے بھیجا ہے۔16
(ازالہ اوہام، حصہ دوم ،ص :767، روحانی خزائن ،ج: 3 ،ص: 514)
مرزا صاحب نے اپنے ماموریت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ :
خداوند کریم نے جو اسباب اور وسائل اشاعت دین کے اور دلائل اور براہین اتمام حجت کے محض اپنے فضل اور کرم سے اس عاجز کو عطا فرمائے ہیں۔ وہ امم سابقہ میں سے آج تک کسی کو عطا نہیں فرمائے ۔ اور جو کچھ اس بارے میں توفیقات غیبیہ اس عاجز کو دی گئی ہیں۔ وہ ان میں سے کسی کو نہیں دی گئیں وذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ سو چونکہ خداوند کریم نے اسباب خاصہ سے اس عاجز کو مخصوص کیا ہے۔17
(براہین احمدیہ ،حصہ چہارم ،ص:502 ،روحانی خزائن، ج: 1، ص: 597)
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ:
پس اس (خدا تعالیٰ ) نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گذشتہ نبی سے مجھے تشبیہ دی کہ میرا نام وہی رکھ دیا چنانچہ آدم،ابراہیم،نوح،موسی،داود،سلیمان،یوسف، یحیی،عیسی وغیرہ یہ تمام میرے نام رکھے گئےاس صورت میں گویا تمام انبیاء اس امت میں دوبارہ پیدا ہوگئے۔18
(نزول المسیح، ص: 4 ، روحانی خزائن ،ج :18 ،ص: 382)
مرزا قادیانی اپنے بارے میں لکھتا ہے کہ :
منم مسیح زماں و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبٰی باشد19
میں مسیح زماں ہوں اور میں کلیم خدا ہوں میں محمد،احمد اور مجتبی ہوں۔
(تریاق القلوب، ص: 3 ، روحانی خزائن ،ج :15 ،ص :134)
مرزا صاحب نے اپنے الہام میں لکھا ہے کہ :
جعلناک المسیح بن مریم
(ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا)
ان کو کہہ دے کہ میں عیسی کے قدم پر آیا ہوں۔20
(ازالہ اوہام ،حصہ دوم ،ص: 634 ،روحانی خزائن، ج :3 ،ص:442)
مرزا صاحب نے لکھا ہے:
اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعوی کیا ہےاور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارے میں پہلے سے قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیا گیا ہے۔21
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:
(میں)بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔22
(ایک غلطی کا ازالہ ،ص: 5 ،مندرجہ روحانی خزائن ،ج :18 ،ص:212)
مرزا صاحب نے لکھا ہے:
غلبہ کاملہ (دین اسلام) کا آنحضرتﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا یہ غلبہ مسیح موعود (مرزا صاحب) کے دور میں ظہور میں آئے گا۔23
(چشمہ معرفت ،ص: 83 ، روحانی خزائن ،ج: 23 ،ص: 91)
مرزا قادیانی اپنی کتاب ایک غلطی کے ازالہ میں لکھا ہے کہ :
جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرتﷺ ہوں۔ اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آیئنہ ظلیت میں منعکس ہیں۔تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعوٰی کیا۔24
(ایک غلطی کا ازالہ، ص: 5، روحانی خزائن، ج :18 ،ص: 212)
مرزا کا عجیب دعویٰ پڑھیں:
اے عزیزو!اس شخص (یعنی مرزا صاحب) مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا ہے جس کے دیکھنے کی پیغمبروں نے خواہش کی ہے۔25
(اربعین نمبر 4 ،ص :13 ، روحانی خزائن ،ج :17 ،ص :442)
مرزا صاحب نے لکھا ہے:
میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا ۔26
(فتاوی احمدیہ، ج: 1 ،ص: 51 )
(1)”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“(دافع البلاء، ص :11 ، روحانی خزائن ،ج :18، ص :231)
(2)”میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔“(ایک غلطی کا ازالہ، ص :4، روحانی خزائن، ج :18، ص :211)
(3)”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“(اربعین نمبر 3، ص :36، روحانی خزائن، ج :17، ص :426)
(4)”وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا تاتم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔“(دافع البلاء، ص :5، روحانی خزائن، ج :18، ص :225،226)
(5)”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“(رسالہ دعوت قوم، ص :62، روحانی خزائن، ج :11، ص :62)
(6)”جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“(اربعین نمبر 4، ص :6، روحانی خزائن، ج :17، ص :435،436)
(7)” اِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًا ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے، اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔“(حقیقۃ الوحی، ص :101، روحانی خزائن، ج :22، ص :105)
(8)”مسیح موعود کے کئی نام ہیں، منجملہ ان میں سے ایک نام خاتم الخلفاء ہے، یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر میں آنے والا ہے۔“(چشمہ معرفت، ص :318، روحانی خزائن، ج :23، ص :333)
(9)”پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بناء کو کمال تک پہنچا دے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں۔“(خطبہ الہامیہ، ص :112، روحانی خزائن، ج :16، ص :178)
(10)”ہلاک ہوگئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہیں کیا۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی راہوں میں سب سے آخری راہ ہوں۔ اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“(کشتی نوح، ص :56، روحانی خزائن، ج :19، ص :61)
(11)”خدا نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ایک ہزار نبیوں پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔“(چشمہ معرفت، ص :317، روحانی خزائن، ج :23، ص :332)}}(12)”میرے معجزات کی تعداد دس لاکھ ہے۔“(تذکرۃ الشہادتین، ص :41، روحانی خزائن، ج :20، ص :43)
(13)”اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أُنْذِرَ آبَاؤُهُمْ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے۔“(ضرورۃ الامام، ص :31، روحانی خزائن، ج :13، ص :502)
(14)”اس قسم کے الہام بھی یعنی جو سخت اور گراں صورت کے الفاظ خدا کی طرف سے زبان پر جاری ہوتے ہیں۔“(براہین احمدیہ، حصہ سوم، ص :225، روحانی خزائن، ج :1، ص :249)
(15)”اسلام کے ضعف، غربت اور تنہائی کے وقت میں خدائے تعالیٰ نے مجھے مامور کرکے بھیجا ہے۔“(ازالہ اوہام، حصہ دوم، ص :767، روحانی خزائن، ج :3، ص :514)
(16)”خداوند کریم نے جو اسباب اور وسائل اشاعت دین کے اور دلائل اور براہین اتمام حجت کے محض اپنے فضل اور کرم سے اس عاجز کو عطا فرمائے ہیں، وہ امم سابقہ میں سے آج تک کسی کو عطا نہیں فرمائے۔ اور جو کچھ اس بارے میں توفیقات غیبیہ اس عاجز کو دی گئی ہیں، وہ ان میں سے کسی کو نہیں دی گئیں وذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ سو چونکہ خداوند کریم نے اسباب خاصہ سے اس عاجز کو مخصوص کیا ہے۔“(براہین احمدیہ، حصہ چہارم، ص :502، روحانی خزائن، ج :1، ص :597)
(17)”پس اس (خدا تعالیٰ) نے مجھے پیدا کرکے ہر ایک گزشتہ نبی سے مجھے تشبیہ دی کہ میرا نام وہی رکھ دیا، چنانچہ آدم، ابراہیم، نوح، موسیٰ، داؤد، سلیمان، یوسف، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ یہ تمام میرے نام رکھے گئے، اس صورت میں گویا تمام انبیاء اس امت میں دوبارہ پیدا ہوگئے۔“(نزول المسیح، ص :4، روحانی خزائن، ج :18، ص :382)
(18)”منم مسیح زماں و منم کلیم خدا، منم محمد و احمد کہ مجتبٰی باشد۔میں مسیح زماں ہوں اور میں کلیم خدا ہوں، میں محمد، احمد اور مجتبیٰ ہوں۔“(تریاق القلوب، ص :3، روحانی خزائن، ج :15، ص :134)
(19)”جَعَلْنَاكَ الْمَسِيحَ بْنَ مَرْيَمَ ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا ان کو کہہ دے کہ میں عیسیٰ کے قدم پر آیا ہوں۔“(ازالہ اوہام، حصہ دوم، ص :634، روحانی خزائن، ج :3، ص :442)
(20)”اللہ جل شانہٗ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارے میں پہلے سے قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیا گیا ہے۔“(تذکرہ، مجموعہ الہامات، کشوف و رؤیا، ص :138)
(21)”(میں) بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔“(ایک غلطی کا ازالہ، ص :5، روحانی خزائن، ج :18، ص :212)
(22)”غلبہ کاملہ (دین اسلام) کا آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا، یہ غلبہ مسیح موعود (مرزا صاحب) کے دور میں ظہور میں آئے گا۔“(چشمہ معرفت، ص :83، روحانی خزائن، ج :23، ص :91)
(23)”جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں، اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں، تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔“(ایک غلطی کا ازالہ، ص :5، روحانی خزائن، ج :18، ص :212)
(24)”اے عزیزو! اس شخص (یعنی مرزا صاحب) مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا ہے جس کے دیکھنے کی پیغمبروں نے خواہش کی ہے۔ میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا ۔“(اربعین نمبر 4، ص :13، روحانی خزائن، ج :17، ص :442؛ فتاویٰ احمدیہ، ج :1، ص :51)
قارئین کرام!آپ نے ملاحظہ کیا کہ اس تحریر میں مرزا قادیانی اپنی کتابوں میں جگہ جگہ نبوت اور رسالت کے دعوے کرتا نظر آرہا ہے ، اور واضح الفاظ میں اپنے لئے یہ کہہ رہا ہے کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہو ں یا مجھے خدا نے مامور کیا ہے میں نبی ہوں وغیرہ وغیرہ لہذا یہ تحریر قادیانیوں کے کفر کے لئے کافی ہیں جو نبی کریم ﷺ کے بعد بھی کسی کو نبی مانتے ہیں ،اللہ تعالیٰ ہمیں قادیانیوں کے فتنے سے محفوظ فرمائے اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے ۔آمین !