جھوٹے مدعیِ نبوت مرزا غلام احمد قادیانی نے محض نبوت و رسالت ہی کا دعویٰ نہیں کیا، بلکہ اس کے علاوہ بھی متعدد دعوے کیے۔ ان میں سے چند باطل اور کفریہ دعوے ملاحظہ کریں اور خود فیصلہ کریں کہ ایسے دعوے کرنے والا شخص مسلمان تو درکنار، کیا ایک صاحبِ عقل انسان کہلانے کے بھی لائق ہے؟
ان عقائد کو صرف ایک مرتبہ نہیں، بلکہ بار بار غور سے پڑھیں اور پھر خود فیصلہ کریں کہ مرزا صاحب کے یہ عقائد و نظریات انہیں ایک عقلمند انسان کہلانے کے قابل بھی بناتے ہیں یا نہیں؟
مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ:
’’انت منی بمنزلة اولادي‘‘ 1
’’تو میری اولاد کی طرح ہے۔‘‘ (ترجمہ از مرتب)
(تذکرہ، مجموعہ الہامات، کشوف ورؤیا، ص: 325)
یہ عبارت کس قدر گستاخانہ ہے جسے مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہر قسم کی اولاد اور نسبی تعلق سے پاک ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:”لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ“ یعنی ’’نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔‘‘
سے بہتر ہونے کا دعوی:مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ:
’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑ دو‘‘ 2
’’اس سے بہتر غلام احمد ہے‘‘ 3
(دافع البلاء، ص: 20، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 240)
مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ
کے ذکر کو چھوڑ کر اپنے آپ کو ان سے بہتر قرار دینے کے الفاظ لکھے ہیں۔ حضرت عیسیٰ
اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر رسول، صاحبِ معجزات اور ان برگزیدہ انبیائے کرام میں سے ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں عزت و تکریم کے ساتھ کیا گیا ہے۔ انبیائے کرام
کا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہے، اور کسی شخص کا اپنے لیے ان سے برتر ہونے کا دعویٰ کرنا ایک نہایت قابلِ مذمت امر ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ:
’’اے عزیزو! اس شخص (یعنی مرزا صاحب) مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا ہے جس کے دیکھنے کی پیغمبروں نے خواہش کی ہے۔‘‘ 4
(اربعین نمبر 4، ص: 13، روحانی خزائن، ج: 17، ص: 442)
اس عبارت میں مرزا قادیانی اپنی ذات کو فضیلت کا حامل قرار دے رہا ہے کہ انبیائے کرام
بھی اس کے دیدار کے خواہش مند تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس دعوے کی بنیاد کیا ہے؟ کیا قرآن مجید یا احادیثِ مبارکہ میں کسی مقام پر یہ بیان موجود ہے کہ انبیائے کرام
نے مرزا غلام احمد قادیانی کو دیکھنے کی خواہش کی تھی؟ انبیائے کرام
کی طرف ایسی خواہش منسوب کرنا ایک سنگین دعویٰ ہے، اور انبیائے کرام
کی گستاخی ہے۔
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ:
’’ہلاک ہوگئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہیں کیا۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی راہوں میں سب سے آخری راہ ہوں۔ اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔ کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘‘ 5
(کشتی نوح، ص: 56، روحانی خزائن، ج: 19، ص: 61)
مرزا غلام احمد قادیانی کی اس عبارت میں اپنی ذات کو خدا کی راہوں میں آخری راہ اور اس کے تمام نوروں میں آخری نور قرار دینا، نیز اپنے آپ کو چھوڑنے والوں کے لیے تاریکی کا بیان کرنا، گویا ہدایت اور نجات کے حصول کے لیے مرزا قادیانی کی ذات کو ایک لازمی واسطہ قرار دیتا ہے۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہدایت کا اصل سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے، اور رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ قرآن مجید میں آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا واضح اعلان موجود ہے: ’’وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ‘‘6
مرزا نے لکھا ہے کہ:
’’پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بناء کو کمال تک پہنچا دے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں۔‘‘ 7
(خطبہ الہامیہ، ص: 112، روحانی خزائن، ج: 16، ص: 178)
اس عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آپ کو ’’آخری اینٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے یہ تاثر دیا ہے کہ اس کے ذریعے ایک ایسی عمارت کی تکمیل ہوئی جس کی بنیاد پہلے انبیائے کرام
رکھ چکے تھے۔ یہ انتہائی سنگین دعویٰ ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی نبوت کی تکمیل کو ایک خوب صورت مثال کے ذریعے بیان فرمایا کہ آپ ﷺ اور سابقہ انبیاء کی مثال ایک ایسی عمارت کی ہے جس میں ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ’’فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ‘‘8 یعنی ’’پس میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔‘‘ اس حدیث میں آخری اینٹ سے مراد خود رسول اللہ ﷺ ہیں، جن پر سلسلۂ نبوت مکمل ہوا، لیکن مرزا قادیانی آخری اینٹ اپنے آپ کو قرار دے رہا ہے۔
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ:
’’اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے، اس پر ایمان لاؤ۔ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘ 9
(رسالہ دعوت قوم، ص: 62، روحانی خزائن، ج: 11، ص: 62)
اس عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنی ذات کے لیے خدا کا فرستادہ، مامور اور امین ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے، اور مزید یہ کہتا ہے کہ اس کی باتوں پر ایمان لایا جائے اور اس کے دشمن کو جہنمی قرار دیا گیا ہے۔ اسلام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی اور نبوت کا سلسلہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوچکا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:’’وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ‘‘10، یعنی آپ ﷺ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔
مرزا نے لکھا ہے کہ:
’’میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔ یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔‘‘ 11
(ایک غلطی کا ازالہ، ص: 4، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 211)
مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ بیان کہ ’’میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں‘‘، اس کے دعوائے نبوت و رسالت کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ اس عبارت میں وہ اپنے لیے نہ صرف رسول ہونے بلکہ خدا سے غیب کی خبریں پانے والے نبی ہونے کا اقرار بھی کرتا ہے۔ حالانکہ اسلام کا بنیادی اور قطعی عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کے لیے نبوت کا دعویٰ قابلِ قبول نہیں۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ‘‘12، یعنی ’’لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔‘‘ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا: ’’لَا نَبِيَّ بَعْدِي‘‘ یعنی ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنے لیے نبی اور رسول ہونے کا یہ بیان عقیدۂ ختمِ نبوت کے قطعی عقیدے سے انکار ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس کے نبوت سے متعلق دعوے محض مخالفین کی طرف سے منسوب کردہ نہیں، بلکہ اس کی اپنی تحریر میں صراحت کے ساتھ موجود ہیں۔
مرزا نے لکھا ہے کہ:
’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘ 13
(دافع البلاء، ص: 11، روحانی خزائن، ج: 18، ص: 231)
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ:
’’غلبہ کاملہ (دین اسلام) کا آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا، یہ غلبہ مسیح موعود (مرزا صاحب) کے دور میں ظہور میں آئے گا۔‘‘ 14
(چشمہ معرفت، ص: 83، روحانی خزائن، ج: 23، ص: 91)
مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ بیان کہ دینِ اسلام کا کامل غلبہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ظاہر نہیں ہوا بلکہ مسیح موعود کے دور میں ظاہر ہوگا، قابلِ اعتراض ہے۔ اس بیان میں وہ اپنے دور کو اسلام کے غلبۂ کاملہ کے ظہور کا خصوصی زمانہ قرار دیتا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں دینِ اسلام کا غلبہ نامکمل تھا اور اس کی تکمیل کے لیے مرزا قادیانی کی آمد ضروری تھی۔ حالانکہ قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کے عہد ہی میں دین کی تکمیل کا اعلان کرتا ہے:’’الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي‘‘15، یعنی ’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔‘‘
مرزا نے لکھا ہے کہ:
’’اس نبی (یعنی محمد ﷺ) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا۔ اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔‘‘ 16
(اعجاز احمدی، ضمیمہ نزول المسیح، ص: 71، روحانی خزائن، ج: 19، ص: 183)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنے دعوے کا تقابل کرتے ہوئے اپنے لیے دو نشانوں کے ظاہر ہونے کا ذکر کیا ہے۔ اس اقتباس میں صراحتاً افضل ہونے کے الفاظ موجود نہیں، اس لیے اسے دعوائے افضلیت کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے سے پہلے اصل عبارت اور اس کے سیاق و سباق کی تصدیق ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ تمام انبیائے کرام
کے سردار اور اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ:
’’جو شخص مجھ میں اور نبی مصطفیٰ ﷺ میں فرق کرتا ہے اس نے مجھے جانا نہیں اور پہچانا نہیں۔‘‘ 17
(خطبہ الہامیہ، ص: 171، روحانی خزائن، ج: 16، ص: 259)
معاذ اللہ، نقلِ کفر کفر نباشد۔
مرزا نے لکھا ہے کہ:
’’خدا کے نزدیک اس کا ظہور (یعنی مرزا صاحب کا) مصطفیٰ ﷺ کا ظہور مانا گیا ہے۔‘‘ 18
(خطبہ الہامیہ، ص: 200، روحانی خزائن، ج: 16، ص: 297)
معاذ اللہ، نقلِ کفر کفر نباشد۔
مرزا نے لکھا ہے کہ:
’’مجھے فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔‘‘ 19
(خطبہ الہامیہ، ص: 23، روحانی خزائن، ج: 16، ص: 55-56)
مرزا غلام احمد قادیانی کی اس عبارت میں اپنے لیے ’’فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت‘‘ عطا کیے جانے کا بیان قابلِ غور ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں، اور وہی حقیقی طور پر موت و حیات کا مالک ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا‘‘20، یعنی ’’اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔‘‘ اسی طرح قرآن مجید میں فرمایا گیا:’’وَهُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ‘‘21، یعنی ’’اور وہی زندہ کرتا اور موت دیتا ہے۔‘‘
مرزا نے لکھا ہے کہ:
’’جان لو کہ اللہ کا فضل میرے ساتھ ہے اور اللہ کی روح میرے نفس میں بولتی ہے۔‘‘ 22
(مکتوب احمد، ص: 176، روحانی خزائن، ج: 11، ص: 176)
معاذ اللہ، نقلِ کفر کفر نباشد۔
(1)”انت منی بمنزلة اولادی“(تذکرہ ،مجموعہ الہامات،کشوف ورؤیا،ص: 325)
(2)”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑ دو“”اس سے بہتر غلام احمد ہے“(دافع البلاء ،ص: 20 ، روحانی خزائن ،ج:18 ،ص: 240)
(3)”اے عزیزو!اس شخص (یعنی مرزا صاحب) مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا ہے جس کے دیکھنے کی پیغمبروں نے خواہش کی ہے۔“(اربعین نمبر 4 ،ص: 13 ، روحانی خزائن ،ج: 17 ،ص:442)
(4)”ہلاک ہوگئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہیں کیا۔مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔میں خدا کی راہوں میں سب سے آخری راہ ہوں۔اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“(کشتی نوح ،ص:56 ، روحانی خزائن ،ج: 19 ،ص:61)
(5)”پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بناء کو کمال تک پہنچا دے۔پس میں وہی اینٹ ہوں۔“(خطبہ الہامیہ ،ص:112 ، روحانی خزائن ،ج: 16 ،ص:178)
(6)”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور،خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔جو کچھ کہتا ہے۔اس پر ایمان لاؤ۔ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“(رسالہ دعوت قوم ،ص:62 ، روحانی خزائن ،ج: 11 ،ص:62)
(7)”میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔“(ایک غلطی کا ازالہ ،ص: 4 ،روحانی خزائن ،ج:18 ،ص:211)
(8)”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“(دافع البلاء ،ص:11 ، روحانی خزائن ،ج: 18 ،ص:231)
(9)”غلبہ کاملہ (دین اسلام) کا آنحضرتﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا یہ غلبہ مسیح موعود (مرزا صاحب) کے دور میں ظہور میں آئے گا۔“(چشمہ معرفت ،ص:83 ، روحانی خزائن ،ج: 23 ،ص:91)
(10)”اس نبی (یعنی محمد ﷺ) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا۔اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔اب کیا تو انکار کرے گا۔“(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح، ص: 71 ، روحانی خزائن ،ج:19 ،ص:183)
(11)”جو شخص مجھ میں اور نبی مصطفیﷺ میں فرق کرتا ہے اس نے مجھے جانا نہیں اور پہچانا نہیں۔“(خطبہ الہامیہ ،ص:171 ،روحانی خزائن ،ج:16 ،ص:259)
(12)”خدا کے نزدیک اس کا ظہور (یعنی مرزا صاحب کا) مصطفیﷺ کا ظہور مانا گیا ہے۔“(خطبہ الہامیہ ،ص: 200 ،روحانی خزائن ،ج: 16 ،ص: 297)
(13)”مجھے فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔“(خطبہ الہامیہ ،ص: 23 ،روحانی خزائن ،ج: 16 ،ص:55،56)
(14)”جان لو کہ اللہ کا فضل میرے ساتھ ہے اور اللہ کی روح میرے نفس میں بولتی ہے۔“(مکتوب احمد، ص: 176 ، روحانی خزائن ،ج: 11 ،ص:176)
قارئین کرام! آپ نے ملا حظہ کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتابوں میں کتنے ہی کفریہ دعاوی کئے ہیں کچھ تو ایسے ہیں کہ جن کو پڑھ کر ہنستی آتی ہے کہ کیا کوئی اتنا بھی بے وقوفی کا مظاہرہ کرسکتا ہے ،ان سب باتوں کے باوجود مرزا قادیانی کے پیچھے چلنے والوں کو غور کرنا چاہئے کہ وہ کس دلدل کے پیچھے جارہے ہیں ،اللہ تعالیٰ ہم کو اس فتنہ سے امان عطا فرمائیں۔