اسلام میں علم اور اہل علم کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے قرآن اور حدیث کی رُو سے علم اور اہلِ علم کا مقام بہت اعلیٰ ہے، علم ایک نور ہے اور جہالت تاریکی جس طرح نور اور ظلمت یا روشنی اور تاریکی دونوں برابر نہیں ہو سکتے، اسی طرح ایک عالم اور جاہل دونوں ہمسر نہیں ہو سکتے، قرآن مجید کی رُو سے ایک اندھا اور ایک آنکھوں والا شخص دونوں مساوی نہیں ہو سکتے، قادیان کے جھوٹے مدعی نبوت و رسالت مرزا غلام احمد قادیانی کو زعم تھا کہ وہ بہت بڑا عالم ہے اور اسے تمام علوم خود خدا نے سکھائے ہیں، وہ اپنی کتب میں بار بار یہ ادعا کرتا رہا کہ میری معلومات خدائی ہیں اور میں نے علم براہِ راست اللہ سے حاصل کیا ہے جیسا کہ وہ کہتا ہے :
مرزا قادیانی اپنی خود ساختہ وحی والہام میں کہتا ہے:
”انك باعیننا سمّیتك المتوكل و علمنٰه من لدنا علمًا“
”تُو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، ہم نے تیرا نام متوکل رکھا، اپنی طرف سے علم سکھلایا۔“ (ترجمہ مرزا قادیانی)
(ازالہ اوہام، ص :698 ،روحانی خزائن، ج: 3، ص: 476 )
مزید کہتا ہے کہ:
”وهب لي علومًا مقدسة نقیة ومعارف صافیة جلیة و علّمني ما لم یعلم غیري من المعاصرین“
”اللہ نے مجھے پاک مقدس علوم نیز صاف و روشن معارف عطا کیے۔ اور وہ کچھ سکھایا جو میرے سوا کسی اور انسان کو اس زمانے میں معلوم نہ تھا۔“ (ترجمہ راقم)
(انجام آتھم، ص: 75 ،روحانی خزائن ،ج :11، ص :75 )
اب ان دعویٰ جات کے بعد ہم دیکھتے ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ان اقوال میں کتنی صداقت ہے :
1۔ نبی کریم ﷺ کے والد محترم کا انتقال:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”پیغام صلح
”تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرت ﷺ وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مر گئی تھی۔“
(پیغام صلح ،ص: 28 ،روحانی خزائن، ج: 23 ،ص: 465 )
سیرتِ نبوی ﷺ کا ہر طالبِ علم جانتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے والدِ محترم حضرت عبداللہ
آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت سے چند ماہ قبل انتقال فرما گئے تھے، یہ نہایت معروف اور ابتدائی سیرتی واقعات ہیں، جن سے عام مسلمان بھی واقف ہیں۔ تعجب ہے کہ مرزا قادیانی اپنی زندگی کے آخری دور کی تحریر میں بھی اس معروف تاریخی حقیقت سے ناواقف نظر آتا ہے، حالاں کہ یہ مرزا قادیا نی کے بڑے بڑے دعوے تھے،جب ایسے مشہور واقعات سے بھی ناواقفیت ہو تو دین کے دقیق اور اہم مسائل سے متعلق اس کی تحریروں کی علمی حیثیت پر سوال پیدا ہونا فطری امر ہے۔
2۔ نبی کریم ﷺ کے گیارہ لڑکے تھے:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب”چشمہ معرفت“ میں رقم طراز ہے کہ:
”تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے۔“
(چشمہ معرفت ،ص: 286 ، روحانی خزائن ،ج :23، ص: 299 )
یہ عبارت بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی سیرتِ نبوی ﷺ سے متعلق تاریخی ناواقفیت کی واضح مثال ہے۔ اہلِ سیرت کے نزدیک حضور نبی کریم ﷺ کی اولاد میں بیٹے حضرت قاسم، حضرت عبداللہ اور حضرت ابراہیم
تھے، اس لیے آپ ﷺ کے گیارہ لڑکے ہونے کا دعویٰ تاریخی روایات کے خلاف ہے۔
3۔ نبی کریم ﷺ کی بارہ لڑکیاں ہوئیں:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے ملفوظات میں لکھتا ہے کہ:
”دیکھو ہمارے پیغمبر خدا کے ہاں 12 لڑکیاں ہوئیں، آپﷺ نے کبھی نہیں کہا کہ لڑکا کیوں نہ ہوا۔“
(ملفوظات ،ج: 3،ص :372 )
یہ دعویٰ بھی سیرتِ نبوی ﷺ کے معروف اور مسلمہ تاریخی حقائق کے خلاف ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیوں کی تعداد چار تھی: حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھن ، نہ کہ بارہ۔ اس کے باوجود مرزا قادیانی نے اپنے ملفوظات میں ”12 لڑکیاں“ ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ غلطی اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ اسے سیرتِ طیبہ کے بنیادی اور معروف واقعات کی بھی درست معرفت حاصل نہ تھی۔
4۔ امام بخاری کا کیا نام تھا:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں تحریر کرتا ہے کہ:
”یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔“
(ازالہ اوہام، ص: 110 ،روحانی خزائن ،ج :3، ص: 210 )
تاریخ و سیرت سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ مشہور محدث اور صاحبِ جامع الصحیح، امام بخاری
کا اصل نام محمد بن اسماعیل ہے، جبکہ ان کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔ ان کے والدِ گرامی کا نام اسماعیل بن ابراہیم تھا۔ لیکن مرزا قادیانی نے امام بخاری کا نام ہی ”محمد اسماعیل بخاری“ بیان کیا، جو ان کی تاریخی اور علمی ناواقفیت کی ایک اور واضح مثال ہے۔
5۔ چوتھا مہینہ صفر، چوتھا دن چار شنبہ:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”تریاق القلوب“ میں لکھتا ہے کہ:
”اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا۔ اسی مناسبت کے لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا یعنی ماہ صفر۔ اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا یعنی چار شنبہ اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ لیا۔“
(تریاق القلوب ،ص :41 روحانی خزائن ،ج: 15 ص:218 )
اسلامی تقویم کے مطابق سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے اور اس کے بعد دوسرا مہینہ صفر ہے، لیکن مرزا قادیانی نے صفر کو چوتھا مہینہ قرار دیا۔ اسی طرح ہفتے کے دنوں کے اعتبار سے شنبہ، یک شنبہ، دوشنبہ، سہ شنبہ، چہار شنبہ، پنج شنبہ اور جمعہ بالترتیب پہلے سے ساتویں دن تک آتے ہیں، مگر مرزا قادیانی نے چہار شنبہ کو چوتھا دن قرار دیا، حالاں کہ وہ ہفتے کا پانچواں دن ہے۔ یہ مثالیں بنیادی معلومات سے ناواقفیت کی مزید نشان دہی کرتی ہیں۔
6۔ قادیان کا جغرافیہ :
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”ضمیمہ خطبہ الہامیہ“ میں رقم طراز ہے کہ:
”قادیان جو ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے جو لاہور سے گوشہ مغرب اور جنوب میں واقع ہے۔“
(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ،روحانی خزائن،ج: 16 ،ص: 22، 23 )
پنجاب کا ہر واقفِ حال شخص جانتا ہے کہ قادیان ضلع گورداسپور میں واقع ہے اور گورداسپور لاہور کے شمال مشرق میں واقع ہے، لیکن مرزا قادیانی نے اسے اپنی تحریر میں مغرب کی سمت قرار دیا۔ جغرافیہ کے اس قدر معروف اور بنیادی معاملے میں ایسی غلطی اس کی عمومی معلومات اور جغرافیائی واقفیت کے بارے میں ایک واضح مثال ہیں۔
7۔ امام حسن
نے چائے تناول کیں:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے ملفوظات میں کہتا ہے کہ:
امام حسنکے پاس ایک نوکر چائے کی پیالی لایا جب قریب آیا تو غفلت سے وہ پیالی آپ کے سر پر گرپڑی ،آپ نے تکلیف محسوس کرکے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا ،غلام نے آہستہ سے پڑھا ”وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ“ یہ سن کر امام حسن [symbol نے فرمایا ”کظمت“ غلام نے پھر کہا ”وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ“ کظم میں انسان غصہ دبا لیتا ہے اور اظہار نہیں کرتا ہے مگر اندر سے پوری رضا مندی نہیں ہوتی۔ اس لیے عفو کی شرط لگا دی ہے۔ آپ نے کہا کہ میں نے عفو کیا۔ پھر پڑھا۔ ”وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ“ محبوب الٰہی وہی ہوتے ہیں جو کظم اور عفو کے بعد نیکی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ جا آزاد بھی کیا۔ راستبازوں کے نمونے ایسے ہیں کہ چائے کی پیالی گرا کر آزاد ہوا۔ اب بتائو کہ یہ نمونہ اصول کی عمدگی ہی سے پیدا ہوا۔“
(ملفوظات ج :1، ص :115 )
یہ واقعہ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی جہالت کا عین ثبوت ہے۔ حضرت امام حسن
نے چائے کا استعمال کیا ہو، ایسا کوئی واقعہ تاریخ میں نہیں ملتا۔
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”پیغام صلح“ میں لکھتا ہے کہ:
”تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرت ﷺ وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔ اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مر گئی تھی۔“
(پیغام صلح ،ص: 28، روحانی خزائن، ج: 23 ،ص: 465 )
یہ عبارت بھی مرزا قادیانی کی سیرتِ نبوی ﷺ سے متعلق تاریخی ناواقفیت کی ایک واضح مثال ہے۔ مستند سیرت کے مطابق حضرت آمنہ
آپ ﷺ کی ولادت کے تقریباً چھ سال بعد وصال فرما گئیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے پہلے یہ لکھا کہ والد آپ ﷺ کی پیدائش کے چند دن بعد فوت ہوئے، پھر یہ بھی کہا کہ والدہ نے صرف چند ماہ کے بچے کو چھوڑ کر وفات پائی، جو دونوں باتیں تاریخی حقائق کے خلاف ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ”پیغام صلح“ میں کہتا ہے کہ:
”وہ بچہ جس کے ساتھ خدا کا ہاتھ تھا بغیر کسی کے سہارے کے خدا کی پناہ میں پرورش پاتا رہا۔“

(پیغام صلح ،ص: 28، روحانی خزائن، ج: 23، ص: 465 )
ایسے بنیادی تاریخی حقائق سے ناواقف شخص کو امام مہدی، مسیحِ موعود اور ظلی و بروزی نبی جیسے بلند دینی مقامات دینا قادیانی عقیدے کے لیے ایک نہایت سنجیدہ سوال ہے۔ قادیانی احباب کو چاہیے کہ وہ جذبات اور عقیدت سے بالاتر ہو کر اپنے پیشوا کی تحریروں اور دعوؤں کا دیانت داری سے مطالعہ کریں اور حقائق کی روشنی میں غور و فکر کرکے آخرت کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔