مرزا قادیانی کے طرزِ عمل اور تحریروں سے ہر شخص واقف ہے کہ اس نے اپنی پوری زندگی میں کیا کچھ لکھا اور کیا کہا۔ اس کی باتوں کی صداقت کے متعلق بھی لوگ جانتے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ مرزا قادیانی اپنی زندگی میں متعدد بے بنیاد دعوے بھی کرتا رہا۔ یہ بات مسلم ہے کہ کسی بھی شخص کے کردار کو اس کی ذات میں بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے، لیکن مرزا قادیانی کے کردار سے واقف لوگ اسے ایک شریف انسان کہلانے کا مستحق بھی نہیں سمجھتے۔ ذیل میں اس کے چند ایسے دعوے پیش کیے جا رہے ہیں جن میں اس نے خود کو انبیائے کرام
کے مصداق قرار دیا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ’’ایک غلطی کا ازالہ“ میں لکھتا ہے کہ:
’’میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔“1
(ایک غلطی کا ازالہ ،ص:4 ،روحانی خزائن ،ج:18 ،ص211)
نبی اور رسول کا یہ وصف ہوتا ہے کہ وہ غیب کی خبریں بیان فرماتے ہیں اور اس کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں علم دیا ہیں لیکن یہ انبیاء
کا وصف مرزا قادیانی اپنے آپ کے لئے بیان فرمارہا ہے جو سراسر جھوٹ ہے ۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب’’ نزول المسیح“ میں لکھتا ہے کہ:
’’خدا تعالیٰ نے اور اس کے پاک رسول نے مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے اور تمام نبیوں نے اس کی (یعنی مرزا صاحب کی) تعریف کی ہے۔“2
(نزول المسیح ،ص: 48 ،روحانی خزائن ،ج:18 ،ص: 426)
انبیائے کرم
کا ایک طریقہ اور وصف ایک یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بعد آنے والے نبی کی خبر لوگوں کو بیان فرماتے ہیں کہ میرے بعد فلان نبی آئیں گے اور ان کے اوصاف بھی بیان فرمادیتے ہے اب مرزا قادیانی کو چونکہ یہ معلوم تھا تو اس نے بھی یہ وصف اپنے لئے داغ دیا کہ میری بھی تعریف بیان ہوئی ہے ۔
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ :
’’میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا تھا۔“3
(فتاوی احمدیہ ،ج :1 ،ص :51 )
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ:
’’اے عزیزو!اس شخص (یعنی مرزا صاحب) مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا ہے جس کے دیکھنے کی پیغمبروں نے خواہش کی ہے۔“4
(اربعین نمبر 4 ،ص: 13 ،روحانی خزائن ،ج: 17 ،ص: 442)
مرزا قادیانی کس طرح کی جسارتیں کرتا ہے ملاحظہ فرمائے کس طرح انبیاء
پر جھوٹ باند ھ دیا کہ انبیاء نے مجھے دیکھنے کی خواہش کی۔
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ :
’’میرے معجزات کی تعداد 10 لاکھ ہے۔“5
(تذکرة الشہادتین ،ص:41 ، روحانی خزائن ،ص: 20 ،ص: 43)
سب لوگ جانتے ہیں کہ معجزات کا دعویٰ انبیائے کرام
کا وصف ہے لیکن مرزا قادیانی یہ وصف بھی اپنے لئے ثابت کرنا چھا رہا ہے۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
’’خدا نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ 1 ہزار نبیوں پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی ان سے نبوت ثابت ہوجائے۔“6
(چشمہ معرفت ،ص: 317 ،روحانی خزائن ،ج :23 ،ص :332)
یاد رہے کہ مرزا قادیانی اپنی کتب میں معجزہ اور نشان کو ایک معنی میں استعمال کرتا ہے ۔
7۔مامور ہونے کا دعویٰ:
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ:
’’میں مامور من اللہ ہوں۔“7
(کتاب البریہ، ص: 169 ،روحانی خزائن ،ج :13 ،ص :202)
انبیائے کرام
کا یہ وصف ہوتا ہے کہ وہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم کو اللہ نے بھیجا اور مامور کیا ہے اب مرزا قادیانی نے اس کو بھی نہ چھوڑا اور کہہ دیا کہ میں بھی مامور من اللہ ہوں۔
8۔نذیر ہونے کا دعویٰ:
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ :
’’الرَّحْمَٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ “8
’’خدا نے تجھے قرآن سکھلایا تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے۔“(ترجمہ راقم )
(ضرورة الامام ،ص :31 ،روحانی خزائن ،ج :13 ،ص: 502)
اللہ تعالیٰ انبیائے کرام
کو بشیر اور نذیر بناکر بھیجتا ہے یہاں مرزا قادیانی یہ وصف اپنے ثابت کرنا چھا رہا ہے ۔
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ:
’’اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعوی کیا ہے۔اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارے میں پہلے سے قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیا گیا ہے۔“9
(تذکرہ ،مجموعہ الہامات ،کشوف ورؤیا،ص:138)
اللہ کی جانب سے وحی کا دعوی انبیائے کرام
کا ہوتا ہے ،مرزا قادیانی اپنے لئے وحی کا اثبات بھی کردیا اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ قرآن وحدیث میں میری خبر دی گئی ہیں۔
’’خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا۔یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہوگیا۔پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔“10
(خطبہ الہامیہ ،ص:171 ، روحانی خزائن ،ج: 16 ،ص: 258،259)
صحابہ وہ ہستی ہوتی ہے جو نبی کا دیدار کرتے ہیں معاذاللہ مرزا قادیانی اپنے پیروکاروں کو بھی صحابہ میں داخل کررہا ہے ۔
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:
’’اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور،خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔جو کچھ کہتا ہے۔اس پر ایمان لاؤ۔ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“11
(رسالہ دعوت قوم ،ص 62 ، روحانی خزائن ،ج: 11 ،ص:62)
نبی اور رسول جب آتے ہیں اور دین حق کی دعوت دیتے ہے اور اپنے ماننے والوں کو خوشخبریاں سناتے ہیں کہ تمہارے جنت ہیں اور جو منکر ہوتے ہیں ان کو جہنم کی وعید سناتے ہیں ،یہی دعویٰ مرزا قادیانی اپنے لئے کررہا ہے اور پس پردہ اپنے لئے نبوت و رسالت کا دعویٰ کررہا ہے ۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ:
’’پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بناء کو کمال تک پہنچا دے۔پس میں وہی اینٹ ہوں۔“12
(خطبہ الہامیہ ،ص: 112 ،روحانی خزائن ،ج: 16 ،ص:178)
آخری اینٹ کا وصف نبی ﷺ نے اپنے لئے بیان فرمایا معاذاللہ مرزا قادیانی نے اس وصف کو بھی اپنے لئے مان لیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ:
’’ہلاک ہوگئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہیں کیا مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔میں خدا کی راہوں میں سب سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“13
(کشتی نوح ،ص: 56 ، روحانی خزائن ،ج: 19 ،ص: 61)
(1)’’میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔“(ایک غلطی کا ازالہ ،ص:4 ،روحانی خزائن ،ج:18 ،ص211)
(2)’’خدا تعالیٰ نے اور اس کے پاک رسول نے مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے اور تمام نبیوں نے اس کی (یعنی مرزا صاحب کی) تعریف کی ہے۔“(نزول المسیح ،ص:48 ،روحانی خزائن ،ج:18 ،ص:426)
(3)’’میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا تھا۔“(فتاوی احمدیہ ،ج:1 ،ص:51)
(4)’’اے عزیزو!اس شخص (یعنی مرزا صاحب) مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا ہے جس کے دیکھنے کی پیغمبروں نے خواہش کی ہے۔“(اربعین نمبر 4 ،ص:13 ،روحانی خزائن ،ج:17 ،ص:442)
(5)’’میرے معجزات کی تعداد 10 لاکھ ہے۔“(تذکرة الشہادتین ،ص:41 ،روحانی خزائن ،ج:20 ،ص:43)
(6)’’خدا نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ 1 ہزار نبیوں پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی ان سے نبوت ثابت ہوجائے۔“(چشمہ معرفت ،ص:317 ،روحانی خزائن ،ج:23 ،ص:332)
(7)’’میں مامور من اللہ ہوں۔“(کتاب البریہ، ص:169 ،روحانی خزائن ،ج:13 ،ص:202)
(8)’’اَلرَّحمٰنُ عَلَّمَ القُرۡاٰنَ لِنۡذِرَ قَوۡمًا مَّا اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهم“(ضرورة الامام ،ص:31 ،روحانی خزائن ،ج:13 ،ص:502)
(9)’’اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعوی کیا ہے۔اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارے میں پہلے سے قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیا گیا ہے۔“(تذکرہ ،مجموعہ الہامات ،کشوف ورؤیا،ص:138)
(10)’’خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا۔یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہوگیا۔پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔“(خطبہ الہامیہ ،ص:171 ،روحانی خزائن ،ج:16 ،ص:258،259)
(11)’’اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور،خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔جو کچھ کہتا ہے۔اس پر ایمان لاؤ۔ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“(رسالہ دعوت قوم ،ص:62 ،روحانی خزائن ،ج:11 ،ص:62)
(12)’’پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بناء کو کمال تک پہنچا دے۔پس میں وہی اینٹ ہوں۔“(خطبہ الہامیہ ،ص:112 ،روحانی خزائن ،ج:16 ،ص:178)
(13)’’ہلاک ہوگئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہیں کیا مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔میں خدا کی راہوں میں سب سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“(کشتی نوح ،ص:56 ،روحانی خزائن ،ج:19 ،ص:61)
مرزا قادیانی کے ان لغو اور بے ہودہ دعاوی کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مرزا اپنی زندگی میں اپنے آپ کو ایک اعلی اوصاف کا حامل شخص سمجھتا رہا لیکن حقیقت بلکل اس کے برعکس ہے مرزا قادیانی کے قریبی لوگ مرزا کی شخصیت سے واقف ہے کہ اس کا کردار کس قدر شرمناک ہے۔