logoختم نبوت

مرزا علی محمد باب شیرازی

مرزا علی محمد باب شیرازی

مرزا علی محمد باب 1819ء میں ایران کے شہر شیراز میں پیدا ہوا۔ اس نے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا ۔ یہ خود کو ”باب“ یعنی دروازہ کے لقب سے متعارف کرواتا تھا، یعنی امام مہدی تک کا واسطہ۔ اس کے پیروکار بابی کہلاتے اور اس کا فتنہ ”بابیت“ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کی بڑھتی جمعیت اور عقائد دیکھ کر حاکم فارس نے اسے شیراز سے نکال دیا اور یہ اصفہان آ گیا۔ حاکم اصفہان اس کا گرویدہ ہوا اور در پردہ اس کا مذہب بھی قبول کر لیا۔ مرزا علی کے خلاف عوام کا غصہ دیکھ کر حاکم اصفہان کے بھتیجے مرزا گرگین خاں نے اسے تہران بھجوا دیا مگر راستے میں ہی باب کو تبریز اور پھر ماہلو لے جانے کا حکم آ گیا۔ باب کو ماہلو میں ایک پہاڑی قلعے میں قید کر دیا گیا۔

مرزا علی باب کی قید کے دوران ہی اس کے بابیوں نے مسلح بغاوتیں اور حربی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ بابیوں کی بڑھتی حربی سرگرمیوں کو دیکھ کر ان کے اور شاہی فوج کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ انہوں نے ایک قلعہ بھی بنا رکھا تھا۔

مرزا علی نے پیشگوئی کی تھی کہ میرے بعد ایک شخصیت ملقب بہ ”من يظهره الله“ ظاہر ہوگی، جب یہ فوت ہو گیا تو اس کی مسند پر ”صبح ازل“ نامی ایک شخص بیٹھا۔ صبح ازل کا ایک بھائی مرزا حسین علی المعروف بہ بہاء اللہ نہایت تیز اور سرگرم آدمی تھا۔ اس نے یہ دعوی کیا کہ میں ہی وہ شخصیت ہوں جس کے متعلق علی محمد باب نے پیشگوئی کی تھی۔ صبح ازل اور بہاء اللہ میں اس بات پر کشیدگی ہو گئی۔ چنانچہ ارباب اختیار نے ان کو ان کے پیروکاروں سمیت بے دخل کر دیا۔ صبح ازل کو پیروکاروں سمیت جزیره قبرص (Cyprus) جبکہ بہاء اللہ ایرانی کو اس کے پیروکاروں سمیت شام کے شہر عکہ میں بھیج دیا۔ عکہ ہی میں بہائیوں کا ہیڈ کوارٹر بنا۔

بہائیوں کے نزدیک قرآن مجید اور اس کے احکامات منسوخ ہیں۔ انہوں نے اپنا قبلہ بدل کر مکہ مکرمہ کی بجائے عکہ کو بنالیا۔ یہ لوگ وحدت ادیان کے قائل ہیں اور 19 کے عدد کو مقدس مانتے ہیں۔ ان کے سال کے 19 مہینے اور ہر مہینے کے 19 دن ہیں۔

بہائی آج بھی سرگرم عمل ہیں اور بعض ممالک میں ان کے بڑے بڑے مراکز بن رہے ہیں۔

Netsol OnlinePowered by