شہنشاہ جلال الدین اکبر مغلیہ سلطنت ہندوستان کا طول عرصہ تقریبًا اکیاون سال تک بر سر اقتدار رہنے والا فرمانروا گزرا ہے۔ یہ بادشاہ بالکل پڑھا لکھا نہ تھا۔ اس کے دربار میں ابوالفضل، فیضی اور ملا مبارک جیسے بے دین اور ملحد لوگ بھی تھے۔ دراصل یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اکبر سے پہلے دعوی نبوت اور پھر دعوی الوہیت کروایا۔ اکبر نے یہود ازم اور اسلام کے ملاپ سے ایک نیا دین ”دینِ اکبری“ یا ”دینِ الہٰی“ کے نام سے متعارف کروایا۔ اس کے مطابق اکبر کو سجدہ کرنا لازمی قرار دے دیا گیا۔ شراب نوشی کی کھلے عام اجازت دے دی گئی، زنا جائز قرار دے دیا گیا، کتے اور سور کو حلال قرار دے دیا گیا۔ غسل جنابت کی فرضیت ختم کر دی گئی، نماز، روزہ اور حج کو ساقط کر دیا گیا۔ ختنے پر پابندی لگوا دی گئی اور اسلامی عقائد نبوت کلام اور حشر ونشر کا مذاق اُڑایا جاتا۔ دینِ الہٰی میں ہندو پن کا اظہار تھا اور مشرکانہ رسوم کی پیروی کی جاتی تھی۔ گائے اور بھینس کے گوشت کی ممانعت تھی۔ اکبر کے بعد جہانگیر تخت نشیں ہوا جو ابتداءً والد کا پیروکار تھا۔ اس کا مقابلہ حضرت شیخ احمد سرہندی المعروف حضرت مجدد الف ثانی
سے ہوا جن کو گوالیار کے قلعہ میں قید بھی کر دیا گیا بالآخر حضرت شیخ احمد سرہندی
کی قربانیوں اور کوششوں سے شہنشاہ نورالدین جہانگیر تائب ہوا اور دین الہٰی اور اس کے اصولوں کا خاتمہ ہو گیا۔