حسن بن صباح ایک ایسے خوفناک فرقے کا بانی تھا کہ جس کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ یہ شخص خود پر وحی کے نازل ہونے اور اللہ سے براہ راست احکامات پانے کا مدعی تھا۔ یہ خراسان کے علاقے طوس میں پیدا ہوا۔
حسن بن صباح، خواجہ حسن طوسی اور عظیم مسلم سائنسدان حکیم عمر خیام کا ہم درس تھا۔ خواجہ حسن طوسی سلجوقی سلطنت کے وزیر اعظم کے درجے تک پہنچا اور نظام الملک کے لقب سے ممتاز ہوا۔ حسن بن صباح ابتداء سے ہی شاطر ذہنی کا مالک تھا۔ اس نے درس کے بعد مختلف مقامات پر کوششیں کیں مگر کسی بھی جگہ کامیابی کا منہ نہ دیکھ سکا۔ بالآخر اپنے ہم درس اور سلجوقی سلطنت کے عظیم وزیر نظام الملک طوسی کے طفیل سلجوقی شہنشاہ سلطان ملک شاہ کا معتمد ہو گیا۔ مگر یہ شخص اپنے محسن نظام الملک طوسی اور دیگر مکر وفریب اور سازشوں کے الزامات پر دربار شاہی سے نکال دیا گیا۔ سلجوقی دربار سے نکالے جانے کے بعد یہ مصر چلا گیا، جہاں اُس وقت بد نام زمانہ عبیدیوں کی حکومت تھی۔ اس کی وہاں بڑی قدر ومنزلت ہوئی، مگر کچھ دنوں بعد سازشوں کے الزامات پر وہاں سے بھی نکال دیا گیا۔ مصر سے نکل کر یہ اصفہان آ گیا اور اپنے فرقہ کی تبلیغ واشاعت کرتا رہا۔ اسی دوران حسن بن صباح نے حصول اقتدار کیلئے کوششیں بھی شروع کر دیں۔ حسن بن صباح اور اس کے ہزاروں پیروکاروں نے فارس کے مشہور زمانہ اور مضبوط ترین قلعہ الموت پر قبضہ کر لیا۔ جب حسن بن صباح کو الموت جیسا مستحکم اور محفوظ قلعہ مل گیا تو اس نے ارد گرد کے علاقوں میں اپنے فرقہ کی تبلیغ شروع کر دی۔ ہزاروں لوگ اس کی شعبدہ بازیوں سے اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس نے ارد گرد کے بہت سے علاقوں پر اپنی حکومت قائم کر لی اور اپنا لقب "شیخ الجبل" رکھا۔
حسن بن صباح نے ایک ایسی پر اسرار جماعت تیار کی جو تاریخ میں فدائین یا حشیشین کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کے ان فدائیوں نے ملت اسلامیہ میں جو پُر اسرار خوفناک اور جاں ستانیوں کا وہ بازار گرم کیا کہ جس کو لکھتے وقت بھی قلم کانپ اُٹھے۔ حسن بن صباح نے قلعہ الموت کے ارد گرد زمین پر ایک مصنوعی جنت بنائی۔ جس میں عالی شان محلات، شجر، پانی، دودھ، شراب اور شہد کی نہریں تھیں۔ دل بہلانے کیلئے پری جمال حوریں بھی موجود تھیں۔ حسن بن صباح نے سب سے پہلے بھنگ سے جس کو عربی میں حشیش کہا جاتا ہے وہ کام لیا جو بہت خوفناک اور حیرت انگیز ہے۔ یہ اپنے فدائیوں کو حشیش پلا کر داخل جنت کر دیتا جہاں وہ ہر نعمت سے حالت نشہ میں لطف اندوز ہوتے جب نشہ اترتا تو یہ حسن بن صباح کے قدموں میں ہوتے۔ یہ پھر جنت میں جانے کی خواہش کرتے اور مچلتے تو حسن بن صباح کے ایک اشارے اور حکم پر خنجر سے خود کو ہلاک کر لیتے اور یہ گمان کرتے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے مگر یہ صرف ایک دھوکہ تھا۔
حسن بن صباح نے اپنے ان فدائین کے ذریعے مسلمانوں اور عالم اسلام میں خوف اور دہشت کا ماحول بنا دیا تھا۔ اُس کے ایک ادنی اشارے پر یہ فدائین کسی کو بھی قتل کر کے خنجر اپنے دل میں اُتار لیتے۔ حسن بن صباح نے اپنے فدائیوں کے ذریعے اپنے محسن اور سلجوقی وزیر اعظم نظام الملک طوسی کو شہید کروا دیا۔ انہوں نے اہل سنت وجماعت کے مشہور زمانہ امام شیخ الشافعیہ ابوالفرج رازی رویانی
اور دیگر بہت سے اکابر علماء کو بھی شہید کر دیا۔ عامۃ الناس بھی ان کی وحشت وبربریت سے محفوظ نہ تھے۔ یہ حاجیوں کے قافلوں کو لوٹتے اور قتل عام کر دیتے۔ فدائین نے بہت سے نیک اکابرین اور وزراء اور عمائدین سلطنت کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی
پر بھی متعدد فدائی حملے ہوئے مگر عالم اسلام کا یہ عظیم الشان فرمانروا اللہ کے فضل وکرم سے محفوظ رہا۔
ابن صباح پینتیس سال تک قلعہ الموت پر نہایت کامیابی سے حکومت کرتا رہا۔ بالآخر 518ھ میں یہ اس دار فانی سے چلا گیا۔ مرتے وقت اس کی عمر 90 سال تھی۔ ابن صباح تو مر گیا مگر اپنے پیچھے جو فدائین اور جانشین چھوڑ گیا، اُس نے بہت عرصہ عالم اسلام کو زک پہنچائی اور مسلمانوں کو ستاتا رہا۔