یہ شخص مرد کے نزدیک ایک غریب دھوبی کے گھر میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنا آبائی پیشہ ترک کر کے علم وفضل کی طرف توجہ دی اور علم بلاغت، حکمت، فلسفہ، شعبدہ، طلسمات اور علم سحر میں اس قدر مہلت پیدا کر لی کہ خراسان میں کوئی شخص بھی اس کا ہم پلہ نہ تھا۔ مگر یہ شخص نہایت کریہہ النظر تھا اور ایک آنکھ سے کانا تھا۔ ان عیوب کو چھپانے کیلئے ہر وقت سونے کا ایک خوبصورت اور چمکدار چہرہ پہنے رکھتا۔ اسی وجہ سے یہ مُقَنَّع (نقاب پوش) مشہور ہو گیا تھا۔
یہ شخص الوہیت کا دعویدار تھا اور کہا کرتا تھا کہ وہ خدا کا اوتار ہے اور خدا اس کے پیکر میں ظاہر ہوا ہے۔ اس کے مذہب میں مردار اور خنزیر حلال تھا۔ اس نے نماز روزے کو موقوف کر دیا تھا۔ جب مقنع کا حلقہ مریدین وسیع ہو گیا تو اس نے سیاسی اقتدار حاصل کرنے کیلئے تدبیریں شروع کر دیں۔ اس نے دو زبردست قلعے تعمیر کروائے اور ان کے علاوہ بھی کئی چھوٹے چھوٹے قلعے تعمیر کروائے۔ اس کے پیروکار اکثر مسلمانوں پر حملے کرتے اور قتل وغارت کا میدان گرم کیے رکھتے۔ یہ عباسی خلیفہ مہدی کا زمانہ تھا اس نے مقنع کی سرکوبی کیلئے کئی لشکر روانہ کیے۔ بہت ساری لڑائیاں ہوئیں، بالآخر مقنع اپنے ایک مضبوط اور زبردست قلعے سیام میں محصور ہو گیا ۔ کمانڈر سعید بن عمرو حریثی نے محاصرہ کر لیا۔ جب مقنع کو اپنی ہلاکت کا یقین ہو گیا تو اس نے اپنے اہل وعیال سمیت زہر پی لیا اور خود کو اور اہل وعیال کو آگ میں ڈلوا دیا۔ اسلامی فوج جب قلعہ میں داخل ہوئی تو مقتع کا سر کاٹ کر خلیفہ کو بھجوایا۔ اس طرح الوہیت کے اس جھوٹے دعویدار کی آتش فتنہ چودہ سال شعلہ زن رہ کر 163ھ میں انجام پذیر ہو گئی۔