logoختم نبوت

حاجی محمد فرہی

حاجی محمد فرہی

حاجی محمد فرہی سید محمد جونپوری کا مرید اور مسیح موعود ہونے کا مدعی تھا۔ مہدویہ کی کتاب شواہد الولایت میں لکھا ہے حضرت مہدی موعود (سید جونپوری) نے فرمایا کہ اکثر انبیاء اور اولوالعزم رسول دعا مانگا کرتے تھے کہ بار خدایا ہمیں امت محمدی میں پیدا کر کے مہدی کے گروہ میں داخل فرما۔ انبیاء میں سے حضرت عیسیٰ بن مریم sym-9 کے سوا کسی کی دعا قبول نہ ہوئی۔ چنانچہ وہ عنقریب آ کر بہرہ یاب ملاقات ہوں گے۔ چنانچہ ”دیوان مہدی“ میں جو ایک مہدوی کا کلام ہے لکھا ہے۔ 1

بل چہ عالم کہ زآدم وموسے
زیحیٰی وخلیل از موسے

بوده غایت بصحبتش ہوسے
ہر چہ ہست از ولایت است ظہور
نقطہ آں دائرہ مفضلاں
شد متمنائے ہمہ مرسلاں
خواست زحق ہر یکے از اولین
رب اجعلنی لمن الآخرین

اور مہدویہ کی کتاب پنج فضائل میں مذکور ہے کہ ایک مرتبہ میراں (سید جونپوری) قضائے حاجت کے لیے جا رہے تھے راستہ میں حاجی محمد فرہی نے پوچھا کہ میراں جیو! خدّام تو آئے عیسیٰ کب آئیں گے؟ میراں نے ہاتھ پیچھے کر کے کہا کہ بندہ کے پیچھے ظاہر ہوں گے۔ اس لفظ کا زبان سے نکلنا تھا کہ حاجی محمد کو حضرت عیسیٰ روح الله (sym-9) کا مقام حاصل ہو گیا۔ حاجی محمد میراں کی زندگی میں تو خاموش رہا اور کوئی دعویٰ نہ کیا۔ مرنے کے بعد سندھ میں نگر ٹھٹھہ کی طرف جا کر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور لوگوں کو اپنی مسیحیت کی دعوت دینی شروع کی۔ جب جمعیت بڑھنے لگی تو وہاں کے حاکم نے گرفتار کر کے اس کی گردن مار دی۔ جب حاجی نے مسیحیت کا دعویٰ کیا تو سید محمود کو فکر دامنگیر ہوئی کہ کہیں میری دکانداری پھیکی نہ پڑ جائے اسلئے دو آدمیوں کو اس کے قتل کرنے کے لیے بھیجا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ حاجی محمد مارا گیا تو لوٹ آئے۔ شاہ دلاور نے بشارت دی کہ حاجی محمد ایمان سلامت لے گیا۔ غرغرہ کے وقت اس کی توبہ قبول ہو گئی۔ سید محمود کہنے لگا کہ چونکہ مہدی sym-9 کی تصدیق کی تھی ضائع نہ ہوا۔ 2


  • 1 ہدیہ مہدویہ، ص 244، 245
  • 2 ہدیہ مہدویہ، ص 244، 245

Netsol OnlinePowered by