ابو مسلم خراسانی کے عہد دولت میں جو خلافت آل عباس کا بانی تھا بہا فرید بن ماه فروذین نام ایک مجوسی جو زوزان کا رہنے والا تھا خواف ضلع نیشا پور کے قریب سیراوند نام ایک قصبہ میں ظاہر ہوا۔ یہ بھی نبوت ووحی کا مدعی تھا۔
بہا فرید اوائل عہد میں زوزان سے چین کی طرف گیا۔ وہاں سات سال تک قیام کیا مراجعت کے وقت دوسرے چینی تحائف کے علاوہ سبز رنگ کی ایک نہایت باریک قمیص بھی ساتھ لایا۔ اس کا کپڑا اس قدر باریک تھا کہ قمیص آدمی کی مٹھی میں آجاتی تھی۔ چونکہ اس زمانہ تک لوگ زیادہ باریک کپڑوں سے روشناس نہ ہوئے تھے، بہا فرید نے اس قمیص سے معجزہ کا کام لینا چاہا۔ چین سے واپس آکر رات کے وقت وطن پہنچا کسی سے ملاقات کیے بغیر رات کی تاریکی میں سیدھا بت خانہ کا رخ کیا۔ اور مندر پر چڑھ کر بیٹھ رہا۔ جب صبح کے وقت پجاریوں کی آمد ورفت شروع ہوئی تو آہستہ آہستہ لوگوں کے سامنے نیچے اترنا شروع کیا۔ لوگ یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہوئے کہ سات سال تک غائب رہنے کے بعد اب یہ بلندی کی طرف سے کس طرح آرہا ہے؟ لوگوں کو متعجب دیکھ کر کہنے لگا حیرت کی کوئی بات نہیں حقیقت یہ ہے کہ خداوند عالم نے مجھے آسمان پر بلایا تھا۔ میں برابر سات سال تک آسمانوں کی سیر وسیاحت میں مصروف رہا۔ وہاں مجھے جنت اور دوزخ کی سیر کرائی آخر رب کردگار نے مجھے شرف نبوت سے سرفراز فرمایا اور یہ قمیص پہنا کر زمین پر اترنے کا حکم دیا۔ چنانچہ میں ابھی ابھی آسمانوں سے نازل ہو رہا ہوں۔ اس وقت مندر کے پاس ہی ایک کسان ہل چلا رہا تھا۔ اس نے کہا کہ میں نے خود اسے آسمان سے نازل ہوتے دیکھا ہے پجاریوں نے بھی اس کے اترنے کی شہادت دی۔ بہا فرید کہنے لگا کہ خلعت جو مجھے آسمان سے عنایت ہوا، زیب تن ہے۔ غور سے دیکھو کہ کہیں دنیا میں بھی ایسا باریک اور نفیس کپڑا تیار ہو سکتا ہے؟ لوگ اس قمیص کو دیکھ دیکھ کر محو حیرت تھے۔ غرض آسمانی نزول اور عالم بالا کے معجزہ خلعت پر یقین کر کے ہزار ہا مجوس اس کے پیرو ہو گئے۔ اب اس نے ادعائے نبوت کے ساتھ لوگوں کے سامنے اپنے نئے دین کا خوان دعوت بچھایا اور لوگ دھڑا دھڑ دام تزویر میں پھنسنے لگے جس طرح ہمارے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے ازراه مآل اندیشی حضرت سید الانبیاء ﷺ کی نبوت کی بھی تصدیق کی اسی طرح بہا فرید نے مجوس کے مقتداء زرتشت کو سچا پیغمبر تسلیم کیا۔ اور جس طرح مرزا غلام احمد صاحب نے دین اسلام میں سینکڑوں قسم کی رخنہ اندازیاں کیں اسی طرح اس نے مجوس کے اکثر شرائع واحکام پر خط تنسیخ کھینچ ڈالا۔ اور لوگوں سے بیان کیا کہ زرتشت کے تمام پیروؤں پر میری اطاعت فرض ہے۔ کہا کرتا تھا کہ میرے پاس نہایت رازداری کے ساتھ احکام الٰہی پہنچا کرتے ہیں۔
بہا فرید نے بیسیوں خرافات جاری کیے تھے۔ اس نے اپنی امت پر سات نمازیں فرض کیں۔ پہلی نماز خدائے برتر کی حمد وستائش کو متضمن تھی۔ دوسری آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے متعلق تھی۔ تیسری حیوانات اور ان کے رزق کی طرف منسوب تھی۔ چوتھی دنیا کی بے ثباتی اور موت کی یاد وتذکیر پر مشتمل تھی۔ پانچویں کا تعلق بعث اور یوم عدالت سے تھا۔ چھٹی میں ارباب جنت کی راحت اور اہل دوزخ کے مصائب کی یاد تازہ کی جاتی تھی۔ ساتویں نماز میں صرف اہل جنت کی بختاوری اور اقبال مندی کو شرح وبسط سے بیان کیا گیا تھا۔ بہا فرید نے اپنے پیروؤں کے لیے ایک فارسی کتاب بھی مدون کی اور حکم دیا کہ تمام لوگ آفتاب کو سجدہ کریں۔ لیکن سجدہ کے وقت دونوں گھٹنے زمین پر نہ لگیں بلکہ ایک زانو سے سجدہ کیا جائے۔ استقبال قبلہ کے بجائے حکم تھا کہ آفتاب کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کی جائیں۔ سورج جس رخ پر ہوتا تھا اس طرف منہ کیا جاتا تھا۔ بال کاٹنے یا مونڈنے کی ممانعت تھی بلکہ حکم تھا کہ سب لوگ اپنے گیسو اور کاکل چھوڑ دیں۔ اس کی شریعت کا ایک یہ بھی حکم تھا کہ جب تک مویشی بوڑھا اور لاغر نہ ہو جائے اس کی قربانی نہیں۔ شُرب خمر کی ممانعت کی اور حکم دیا کہ چار سو درہم سے زیادہ کسی عورت کا مہر نہ باندھا جائے۔
جب ابو مسلم خراسانی نیشا پور آیا تو مسلمانوں اور مجوسیوں کا ایک وفد اس کے پاس پہنچا اور شکایت کی کہ بہا فرید نے دین اسلام اور کیش مجوس میں فساد ورخنہ اندازیاں کر رکھی ہیں۔ ابو مسلم نے عبداللہ بن شعبہ کو اس کے حاضر کرنے کا حکم دیا۔ بہا فرید کو معلوم ہو گیا کہ اس کی گرفتاری کا حکم ہوا ہے۔ فوراً نیشا پور سے بھاگ نکلا۔ عبداللہ بن شعبہ نے تعاقب کر کے اسے جبل بادغیس پر جا لیا اور گرفتار کر کے ابو مسلم کے سامنے لا حاضر کیا۔ ابو مسلم نے دیکھتے ہی خنجر خارا شگاف کا وار کیا اور سر قلم کر کے اس کی نبوت کا خاتمہ کر دیا۔ اور حکم دیا کہ اسکے گم کردگان راہ پر بھی قحر ہلاک میں ڈالے جائیں۔ وہ بہا فرید کی گرفتاری سے پہلے ہی بھاگ چکے تھے اس لیے بہت تھوڑے آدمی ابو مسلم کی فوج کے ہاتھ آئے۔ اس کے پیرو بہا فریدیہ کہلاتے ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ ان کے نبی کے خاص خادم نے انہیں اطلاع دی تھی کہ بہا فرید ایک مشکیں گھوڑے پر سوار ہو کر آسمان پر چڑھ گیا تھا۔ اور وہ کسی مستقبل زمانہ میں آسمان سے نازل ہو کر اپنے اعداء سے انتقام لے گا۔