logoختم نبوت

احمد بن ہلال حسّانی

احمد بن ہلال حسانی

احمد بن ہلال حسّانی وقت کا ایک مشہور زندیق تھا جو ابن سبعین کے بعد ظاہر ہوا۔ اس نے دمشق میں نشو ونمو پایا۔ آٹھویں صدی کے اختتام پر حلب پہنچا اور قاضی شرف الدین انصاری سے کتابیں پڑھیں۔ یہاں سے قاہرہ جا کر کچھ مدت اقامت گزیں رہا۔ قاہرہ سے حلب واپس آیا اور مجتہد مطلق ہونے کا دعوی کیا اور ساتھ ہی آئمہ کبار کی شان میں دریدہ دہنی کرنے لگا۔ یہ شخص کہتا تھا کہ میں براہ راست خدائے برتر سے علوم حاصل کرتا ہوں اور میں ہی دائرہ کائنات کا نقطہ ہوں۔ اس سے بہت سے کفریات صریحہ نقل کیے گئے ہیں۔ کہتا ہے کہ مجھے حالت بیداری میں آسمانوں کی سیر کرائی جاتی ہے۔ اس کا یہ بھی دعوی تھا کہ تمام انبیاء سے حالت بیداری میں میرا اجتماع ہوتا ہے اور بیداری ہی میں ملائکہ سے ہم کلام ہوتا ہوں اور کہا کرتا تھا کہ موسیٰ sym-9 کو مقام تکلیم اور محمد ﷺ کو مقام تکمیل عطا کیے گئے لیکن مجھے یہ دونوں مقام بخشے گئے ہیں بایں ہمہ نہ تو نماز کا پابند تھا اور نہ اسے جماعت ہی کی پروا تھی۔ بہت لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی۔ اس کے فتنہ نے نہایت خوفناک صورت اختیار کر لی۔ آخر 9 شوال 823ھ کو دست اجل نے اس کا ٹینٹوا آ دبایا اور خدا کی مخلوق اس کے فتنہ سے مامون ہوئی۔ 1


  • 1 لسان المیزان مؤلف شیخ ابن حجر عسقلانی، جلد اوّل، ص ۳۲۰ ۔

Netsol OnlinePowered by