ابو طاہر قرمطی خدا کا اوتار ہونے کا مدعی تھا۔ یہ دعوی کرتا تھا کہ رب العالمین کی روح اس کے اندر حلول کر گئی ہے۔ اس نے بزور شمشیر بحر، احساء، قطیف اور بحرین کی عنانِ حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔ یہ شخص اسلام اور اہلِ اسلام کیلئے تاتاریوں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوا۔ اس نے بصرہ اور کوفہ پر قبضہ کر لیا اور قتل وغارت کے بازار گرم کیے رکھے۔ اس وقت خلافت بغداد انحطاط پذیر تھی، چنانچہ ابو طاہر قرمطی نے اس کا فائدہ اُٹھایا اور قتل وغارت، لوٹ مار اور وحشت وبربریت کی ناقابل بیان داستان رقم کی۔ یہ لوگ اسلام کی مقدس ترین جماعت یعنی قافلہ حجاج کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ ابو طاہر نے مملکت اسلامیہ کے بہت سے علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا۔
ابو طاہر نے شہر ہجر کو اپنا دارالحکومت بنایا اور وہاں ایک عالی شان مسجد بھی تعمیر کروائی۔ اس مسجد کو اس نے دار الہجرہ کا نام دیا۔ یہ چاہتا تھا کہ لوگ حج اور طواف مکہ معظمہ کی بجائے ہجر میں آکر دار الہجرہ میں ادا کریں۔ اس مقصد کے حصول کیلئے اس کے ذہن میں یہ ترکیب شیطانی آئی کہ حجر اسود کو حرم بیت اللہ سے منتقل کر کے دارالہجرہ میں نصب کر دیا جائے ۔ چنانچہ اس نے 319ھ میں مکہ مکرمہ کی طرف لشکر کشی کا ارادہ کیا۔ اس نے بہت بڑی جمعیت کے ساتھ مسجد الحرام پر قبضہ کر لیا۔ حاجیوں کو لوٹنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔ خانہ خدا کی بے حرمتی کی۔ گورنر مکہ ابو محلب کو بھی شہید کر دیا۔ ابو طاہر نے حجر اسود کو اس کے مقام سے اُکھاڑ دیا اور اپنے ساتھ دار الہجرہ لے آیا۔ وہ میزاب رحمت اور اس پتھر کو کہ جس پر حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ
کا نقش تھا، حاصل کرنا چاہتا تھا مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ یہ اندوہناک واقعہ 317ھ میں رونما ہوا۔ ابو طاہر اور اس کے پیروکاروں نے بیت اللہ شریف کے بجائے بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنالیا تھا۔ اس نے قبہ زمزم کو بھی مسمار کر دیا۔ گیارہ روز تک مکہ مکرمہ میں قتل وغارت گری اور بے حرمتیوں کا بازار گرم کر کے اپنے دار الحکومت واپس لوٹ گیا اور حجر اسود کو اپنی مسجد میں نصب کر دیا۔ قرامطہ کے خوف سے دس سال تک یعنی 317ھ سے 327ھ تک حج موقوف رہا۔ کیونکہ یہ نہ صرف حاجیوں کو لوٹ لیتے تھے بلکہ قتل کر دیتے تھے۔
حجر اسود قرامطہ کے قبضہ میں بائیس سال رہا۔ بالآخر خلیفہ مطیع اللہ کے عہد میں کوششوں سے تیس ہزار دینار کے عوض حجر اسود لے لیا گیا اور واپس اپنے مقام پر نصب کر دیا گیا۔ اب اس کے گرد چاندی کا حلقہ چڑھا دیا گیا۔ (کیونکہ اس سارے عمل میں حجر اسود کو نقصان پہنچا تھا)۔
کہتے ہیں کہ جب قرامطہ حجر اسود کو لے کر گیا تو مکہ مکرمہ سے ہجر تک پہنچنے میں چالیس اونٹ اس کے نیچے دب کر مر گئے اور جب ہجر سے واپس مکہ مکرمہ لایا گیا تو ایک ہی اونٹ نے اسے مکہ مکرمہ تک پہنچا دیا۔
اس واقعہ کے بعد ابو طاہر قرمطی چیچک جیسے موذی مرض میں گرفتار ہو گیا اور اس مرض نے اس کے جسم کو ریزہ ریزہ کر دیا اور بالآخر انجام کار ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گیا۔