logoختم نبوت

ابو عیسی اسحاق اصفہانی

ابو عیسی اسحاق بن یعقوب اصفہان کا ایک یہودی تھا۔ جو الوہیم (عابد اللہ) کے لقب سے مشہور تھا۔ یہود کا ایک مذہبی گروہ جسے عیسویہ کہتے ہیں اسی کی طرف منسوب ہے۔ یہ شخص نبوت کا مدعی تھا۔ یہود حضرت عیسی ابن مریم sym-9 کو نبی اللہ نہیں مانتے بلکہ وہ آج تک اس مسیح کی آمد کے منتظر چلے آتے ہیں جس کے ظہور کی بشارت جناب موسی کلیم sym-9 نے دی تھی۔ ابو عیسی نے دعوی کیا کہ میں مسیح منتظر کا رسول ہوں۔ اس کا بیان تھا کہ مسیح منتظر سے پہلے یکے بعد دیگرے پانچ رسول مبعوث ہوں گے جن کی حیثیت جناب مسیح موعود کی سی ہوگی۔ یہ اس بات کا مدعی تھا کہ خالقِ کردگار مجھ سے ہم کلام ہوا ہے اور مجھے اس بات کا مکلف بنایا ہے کہ میں بنی اسرائیل کو غاصب قوموں اور ظالم حکمرانوں کے پنجۂ بیداد سے مخلصی بخشوں۔ اس کا دعویٰ تھا کہ مسیح بنی آدم میں سب سے افضل ہے۔ اسے تمام انبیائے ماضیّن پر شرف وبرتری حاصل ہے اور اس کی تصدیق ہر شخص پر واجب ہے۔ کہا کرتا تھا کہ میں مسیح موعود کا داعی ہوں اور داعی بھی مسیح ہوتا ہے۔ اس نے بھی اپنے پیروؤں کے لیے ایک کتاب مدون کر کے اس کو منزل من اللہ بتایا۔ اس میں اس نے تمام ذبائح کو حرام قرار دیا ہے اور طیور ہوں یا بہائم علی الاطلاق ہر ذی روح کے کھانے سے منع کیا ہے۔ اپنے پیروؤں پر دس نمازیں فرض کیں۔ ان کے اوقات معیّن کر دیے اور ہر ایک کو قیام نماز کی سخت تاکید کی۔ اس نے یہود کے بہت سے احکام شریعت کی جو توراۃ میں مذکور ہیں، مخالفت کی۔ بے شمار یہود نے اس کی متابعت اختیار کی اور حسب مصداق "پیران نمی پرند مریداں می پرانند" بے شمار آیات ومعجزات کو اس کی طرف منسوب کر دیا۔ جب جمعیت بہت بڑھ چلی تو اس نے سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کیے۔ "رے" میں خلیفہ ابو جعفر منصور کے لشکر سے اس کی مڈ بھیڑ ہوئی۔ لڑائی سے پہلے اس نے اپنے ہاتھ کی لکڑی سے زمین پر ایک خط کھینچ کر اپنے پیروؤں سے کہا کہ تم لوگ اس خط پر قائم رہو اور اس سے آگے نہ بڑھو۔ دشمن کی مجال نہیں کہ اس خط سے آگے بڑھ کر تم پر حملہ آور ہو سکے۔ آخر جب رزم وپیکار کے وقت لشکر منصوری پیش قدمی کرتا ہوا خط کے پاس پہنچا۔ اور اس نے دیکھا کہ اس کے جھوٹ کا پول کھلنے والا ہے تو جھٹ اپنے پیروؤں سے علیحدہ ہوا اور خط پر پہنچ کر لڑائی شروع کر دی اس کو دیکھ کر اس کے پیرو بھی خط پر آ گئے اور آتشِ حرب شعلہ زن ہوئی۔ گو مسلمان بھی بکثرت شہید ہوئے لیکن انہوں نے مارتے مارتے دشمن کا بالکل ستھراؤ کر دیا۔ ابو عیسی مارا گیا اور اس کے اکثر پیرو بھی علف تیغ ہو کر دنیا سے نابود ہو گئے۔

Netsol OnlinePowered by