logoختم نبوت

ابو علی منصور عبیدی ملقب بہ الحاکم بامر اللہ

یہ شخص شاہانِ عبید کا چھٹا حکمران تھا جس نے 386ھ تا 411ھ تک حکومت کی۔ عبیدی وہ لوگ تھے جو خود کو فاطمی خلفاء کہلواتے تھے۔ حالانکہ ان کا سیدہ کائنات sym-6 سے کوئی بھی نسبی تعلق نہ تھا۔ عبیدیوں نے مصر اور حجاز مقدس پر کئی سو سال تک حکومت کی یہ لوگ اپنے زمانے کے بدترین مکار اور دشمن صحابہ لوگ تھے۔

ابو علی منصور نے رب ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اس نے اپنا لقب حاکم بامر اللہ رکھا۔ یہ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ بسم الله الرحمن الرحیم کو اس طرح لکھا جائے: بسم الله الحاكم الرحمن الرحیم۔ یہ خود کو "يَا وَاحِدٌ" اور "يَا أَحَدٌ" کہلواتا۔ یہ لوگوں سے خود کو سجدے کرواتا تھا۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ فرعون کے بعد مصر کے تخت پر ابو علی منصور عبیدی سے بڑھ کر بدترین اور ظالم وجابر حکمران نہیں بیٹھا۔

اس نے نماز تراویح پر پابندی لگوا دی یہ اصحاب رسول sym-7 کا بدترین دشمن تھا۔ اس نے علی الاعلان صحابہ کرام sym-7 کو گالیاں دینے کا فرمان جاری کر رکھا تھا۔ یہ مسلک حقہ اہل سنت وجماعت کا سخت دشمن تھا اور ان پر عتاب نازل کرتا رہتا تھا۔ اس کے ایک وزیر نے ایک کتاب بھی مدون کی جو "الدروز" کے نام سے مشہور ہے۔ ابو علی منصور کو بعد میں قتل کر دیا گیا۔

Netsol OnlinePowered by