logoختم نبوت

شمس الھدایۃ فی اثبات حیاۃ المسیح۔۔۔از۔۔۔سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ

بسم الله الرحمن الرحيم
نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى حَبيبهِ الكريم وَعَلى آله وعترته وَصَحْبه

امَّا بَعْدُحضرات ناظر من پر پوشیدہ نہ رہے کہ آج کل مواد فطرت انسانی تعصب کی ہواؤں اور جہالت کے بخارات سے متعفن اور گندے ہور ہے ہیں اور ایسا ہی ہونا تھا کیونکہ ہدایت اور استقامت کا سورج قریب ڈوبنے کے آگیا۔ استواء کا زمانہ جس سےخَيْرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ حکایت ہے۔ دور رہ گیا۔ بسبب فقدان تقوی کے نہ تو اشراق نوری اور انشراح صدری ہے تاکہ وعدہإِن تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَلُ لَكُمْ فُرْقَانًا کا حق ہو کر فارق بین الحق والباطل نصیب ہو اور نہ لیاقت علمی جس کے ذریعہ سے مراد شارع کو سمجھ کر عمل نہ کہی اعتقاد کو تو مطابقمَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِی کے درست رکھیں ۔ بغیر ظاہر پرستی اور حسن سازی، ہوس بازی اور فتنہ پردازی کے اور کچھ نہیں۔ سادہ پنی اور راستی سے جو جملہ شعائر اسلام و اوضاع صحابہ کرام ہیں نفرت تصنع اور ناراستی و ہوس بازی سے جو از کمالات عظیم لندن میں محبت معہذا ابنائے زمان ہر دوفن مذكورة الصدر۔ یعنی اشراق نوری اور لیاقت علمی میں اپنے زعم میں خودہی یکتا۔ زمانہ او متفرد ہیں۔ گو کہ مکاشفات انبیاء عظامصلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین میں بزعم ان کے غلطی فی الکشف یانی التعبیر میں واقع ہو۔ مگر ان حضرات کے معاشیات میں تاویل تک بھی نا ممکن ہے۔

ایسا ہی علماء سلفشكر الله سعيهُمْکے اجتہادات اور امت مرحومہ کا اجماع گو کہلَنْ تَجْتَمِعَ أُمَّتِي عَلَى الضَّلَالَةِبھی اس کی شان میں وارد ہو۔ تاہم یہ سب ان کے نزدیک نادانوں کے خیالات اور کورانہ اجماع جن کو سوائے عرب اُونٹ چرانے والوں کےالعیاذ باللہکوئی فرقہ مہذبین یعنی تعلیم یافتگان لندن سے تسلیم نہ کرے۔ (صفحہ ۲۶۸۔ ازالہ اوہام) کوئی وجہ ان کی صحت کے لیے نہیں الادر صورتے کہ ان حضرات کی رائے اور استنباط پر منطبق کیے جائیں دیکھوازالہ اوہام وایام الصلح اللهم اصلح أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَارْحَمُ أُمَّةً مُحَمَّدٍ

علماء زمان عرصہ سے اس ہیچمدان ان خوشہ چین علماء کرام کو بھی ایسے حقائق و معارف سے جو تالیفات مرزا صاحب از الہ او بام و دافع الوساوس وایام صلح میں مندرج ہیں مطلع فرماتے تھے راقم الحروف ان کو امن طعن سے بخیال اس کے کہ خلاف شعائر اسلام ہے اور عکس ارشاد مشائخرضی اللہ عنہم اجمعینبھی روکتا رہا۔

آخر الامر جب نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہر محفل میں اظہار حقیقت عقیدہ مرزائیہ اور تکذیب و تجهیل بلکہ تکفیر علماء کرام کی جن کا اعتقاد مطابق سلف کے تھا، ہونے لگی تو اس اثناء میں چند احباب نے مجھے کچھ مضامین مرزا صاحب کی تالیفات کے سنائے۔ گو کہ میں بھی ابناء زمان کی طرح بسبب کم علمی اور محروم ہو نے اشراق نوری سے قابل اس امر کے نہ تھا کہ ناظرین کو آج کل کے دھوکوں سے بچاؤں ۔ مگر تحقیر اور تجهیل سلف و مشائخ زمان رضوان اللہ علیہم اجمعینکے سننے کی برداشت مجھ سے نہ ہو سکی۔ اور عقیدہ حقہ کا یوما فيوما اضمحلالگوارا نہ کر سکا ۔}}

لہذا یہ چند مضامین متعلق آیات رفع و احادیث نزول محضحسبةً للهبغیر اس کے کہ محرک اس کا عناد یا حسد یا بغض کسی مسلمان بھائی سے ہو حسب رائے ناقص کے لکھے گئے تا کہ ابناء زمان اتنی جرات سے باز آئیں اور معانی جو مراد ہیں آیات اور احادیث سے ان کو واضح ہو جائیں اور چند اعتراضات ابلہ فریب سے جو استشهاد آیات و احادیث ازالہ اوہام وغیرہ وغیرہ میں مذکور میں خوف کھ کر عقیدہ اجماعیہ اہل اسلام سے انحراف کیا بلکہ آیت اور احادیث کو کچھ اور ہی نہ سمجھ لیو ہیں۔ کیونکہ اصول ان کے ایسے ہیں جو عنقریب بلحاظ تعلیم یافتگان لندن باقی آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلامکو بھی ہاتھ ڈالیں گے۔

آج کل کے اردو خوانوں اور زخمی مولویوں فاضلوں کا قصور نہیں ۔ ان بے چاروں کو جب مثال کہا جائے کہ بتاؤ میاں آیہ یعیسی إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىاور ایسے ہی فَلَمَّا تَوَفَّيَتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْجس قرآن کے ساتھ تمہارا ایمان ہے اس میں موجود ہے یا نہیں۔ اور لفظ توفی کا تئیس (۲۳) جگہ قرآن کریم میں معنی موت ہی میں مستعمل ہے۔ اور افقہ الناس عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہا نے بھی یہی معنی لیا ۔

بخاری اور عباسی تفسیر ابن کثیر وغیرہ وغیرہ توحسب قوله تعالى يعيسى اني مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَیکے وعدہ وفات اوربمقتضائے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي ،تحقیق موت عیسی ابن مریم اور رفع روحانی کا ہو چکا۔ اور آیتقِیلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ، اور ایسے فَادْ خُلي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنتی۔}}

اور ایسے ہی احادیث صحیحہ سب شہادت دے رہی ہیں کہ ارواح مقربین بعد الوفات جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ اور بعد دخول جنت کے پھر نکلنا اس سے بحکم آيَةٍوَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ کے ناممکن ۔ اور مستلزم ہے وقوع کذب کو آیہ مذکورہ میں ۔

ایکفَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيکیا بلکہ آیتقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُاور إِنَّكَ مَيْتٌ وَإِنَّهُمْ مَيْتُونَ اورأَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاء بتمامہااور وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ اورمَنْ نُعَمِّرُهُ نُنَكِّسُهُ فِي الْخَلْقِاور الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُاور فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَاوروَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ اوركَانَا يَا كُلْنِ الطَّعَامَ اوروَأَوْصَنِي بِالصَّلوةِ وَالزَّكَوةِ مَا دُمْتُ حَيًّا اورقُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاًاورهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلِئِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُاورهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَاتِيَهُمُ الْمَلَئِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْيَاتِيَ بَعْضُ ايْتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ ايْتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيْمَا نُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنتُ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيْمَا نِهَا خَيْرًا، وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ وَلَوْ أَنْزَلْنَا مَلَكاً لَّقُضِيَ الأمْرُ ثُمَّ لاَ يُنظَرُونَ وَلَوْ جَعَلْنَهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنَهُ رَجُلاً وَلَلَبَسُنَا عَلَيْهِمُ مَّا يَلْبِسُونَ اور حدیث صحيحكما قال العبد الصالحاور حديث صحیح لَا يَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَّنْفُوسَةُ الْيَوم }}

یہ سب آیات اور احادیث صحیحہ با واز بلند موت ابن مریم علی نبینا وعلیہ الصلاۃ و السلامکی خبر دے رہی ہیں۔ علاوہ اس کے عقل انسانی اور قصہ عود ایلیا بھی جو انجیل میں مذکور ہے صعود اور نزول مسیح سے بعینہ بجسد ہ العنصریمنکر ہیں۔ احادیث نزول ابن مریم اور خروج دجال و غیره من جمله مکاشفات نبویہ علی صاحبہا الصلوة و السلامکے ہیں۔

اور کشف اجمالی مثل دیکھنے آنحضرت ﷺ کے عورت پرا گندہ بالوں والی کو کہ گردا گرد مدینہ طیبہ کے گھوم رہی تھی وغیرہ وغیرہ تعبیر طلب ہوتا ہے بحالت خواب دیکھنے میں کچھ اور آتا ہے اور ظہور میں کچھ اور ہوتا ہے جیسا کہ خواب میں آنحضرت ﷺ نے اس عورت کو دیکھا اور تعبیر اس کی وباء مدینہ سے (زادھا اللہ شرفًا )فرمائی ۔ معہذ ا تعبیر میں وقوع خطا بھی ممکن ہے۔ جیسا کہ خواب میں آپ نے یہی سمجھا کہ امسال مکہ معظمہ زادھا اللہ تکریماجانا ہوگا ۔ اور بعد مراجعت فرمانے کے حدیبیہ سے معلوم ہوا کہ تعبیر تخصیص امسال کی غلطی ہوئی الغرض آیات اور احادیث صحیحہ متذکرہ بالا باعث شدید ہیں ماڈل ٹھہرانے پر احادیث نزول مسیح و خروج دجال وغیرہ کے کیا معنی ۔ احادیث نزول سے مراد ظہور اس شخص کا ہے جو مماثل ہوا ابن مریم کا جیسا کہ ایلیا کے دوبارہ آنے سے مثیل ایلیا یعنی ظہور یحییٰsym-9 کا شبہات مسیح ابن مریم کے تھا۔ وہ شخص مثیل ابن مریم کا کون ہے؟ میں ہوں ۔ یعنی مرزا صاحب۔ کیونکہ الہام منجملہ براہین قاطعہ اور حجج ساطعہ کے ہے اور فتوحات مکیہ اور میزان عبدالوہاب شعرانی وغیرہ۔

بعد استماع اس کے بالضرور اردو خوان اور نام کا مولوی تقریر مذکور کو جس کی بناء کی تشیید اور ترصیص کتاب اللہ اور سنت اور انجیل اور عقل رسنت اور انجیل اور عقل سے ہو چکی ہے لا محالہ طوعاً و کرہا مسلم اور قبول کرے گا۔ نہ کرے تو کیا کرے۔ قرآن اور حدیث سے کیسے منکر ہو۔ لہذا یہ خزف ریزہ چند ہدیہ ناظرین کرتا ہوں تا کہ اس تقریر کے دھوکے میں نہ آجائیں ۔ اور اسی پیٹے پائے راستہ پر چلیں جو مراد اس حدیث سے لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي مَا تَمَسَّكُتُمْ بِأَمْرَيْنِ كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ (موطا امام مالک ) اور قسمیہ کہتا ہوں کہ جناب مرزا صاحب سے کسی قسم کا حسد یا عناد باعث تحریر اس رسالہ کا نہیں ہوا۔ با تخصیص اگر چہ مرزا صاحب عرصہ سے ان مشائخ عظام کو جن کے ساتھ یہ بے ہیچ بھیالْحُبُّ فِی اللہ کا تعلق رکھتا ہے با واز بلند اپنی تالیفات میں القاب مکروہہ سے پکار رہے تھے۔ اس وجہ سے جناب موصوف کو کچھ اگر لکھا بھی جاتا تو بمقابلہ آپ کی اس جرات کے محل شکایت اور موجب گستاخی میں شمار نہ ہوتا مگر تا ہم بخیال اس کےالحمد للہکوئی شخص اہل اسلام سے بمقابلہ اعداء دین ہنود اور نصاری کے کھڑا ہوا ہے۔ گو کہ ہم کو براہی کہے۔ ہم نے کچھ نہیں کہا۔ بلکہ لعن و طعن والوں کو بھی کسی نہ کسی وجہ سے روکنا ہی چاہا۔ ہم تو خود قائل ہیں ۔ بیت :

طواف کعبه رفتم بحرم رهم ندادند
تو بیرون در چه کردی که درون خانه آئی

اور خاموشی بمقابلہ ہتک مشائخ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس وجہ سے نہ تھی کہ اس کے سننے کو ہم مکروہ اور موذی نہ سمجھتے تھے بلکہ موجب اس کا اتباع مشائخ عظام ہی تھا۔ جوفی الحقیقت اتباع ہے سید الاولین والآخرین کا۔سلطان المشائخ ، وعن سائر المشائخ کا مقولہ ہے۔ بین:

آنها کہ بجائے من بدی با کردند
گر دست رسد

مرزا صاحب ایام الصلح کے صفحہ ۱۳۲ میں لکھتے ہیں: اس وقت زیر متقف نیلگوں پیچ متنفس قدرت ندار دلاف برابری من زند من آشکار می گویم و هرگز باک ندارم اے اہالی اسلام در میان شما جماعتی می باشند که گردن بدعوی محدثیت و مفسریت بر فرازند و طا لفه اند که از نازش ادب پابر زمین نگذارند و گرو ہے اند که دم بلند از خداشناسی زنند و خود را چشتی و قادری و نقشبندی و سهروردی و چها چها گویند این جمله طوائف را نزد من بیاریدان آپ نے بجا فرمایا۔ وہ لوگ چونکہ مفسر اور محدث اور خدا شناس ہیں تو پھر کیسی لاف زئی اور گردن فرازی ان سے ظاہر ہو۔ بلکہ وہ لوگ تو چاہتے ہیں کہ آپ کو بھی اللہ تعالی ایسی لافوں سے بچائے سے بچائے اورفَوْقَ كُلَّ ذِي عِلْمٍ عَلِیماور علی عبد نا خضر کی ط عبد نا خضر کی طرف توجہ ولائے ۔ بیت :

کاران جہاں رابحقارت منگر
تو چه دانی که دریس کرد سواری باشد

بخدائےلا یزال ولم میز ال اپنی چشم دید عرض کرتا ہوں کہ مشاہیر اور مستورین کو بھی گروہ اہل اللہ سے دیکھا کہ کمالات باطنیہ از قسم مکاشفات وغیرہ ان کے نفوس مطہرہ سےصِبْغَةَ اللهکی رنگت اوركُنْتُ سَمْعَهُ بِي يَسْمَعُ وَبَصَرَهُ بِي يَبْصُرُ کا تماشا دکھلا رہے تھے۔ مگر کیا ممکن کہ نظر بر قدم اور ہوش در دم سے گردن اٹھا کر کسی طرح کا دعوئی یا لاف زنی کریں۔

اس گستاخی کے بعد معروض خدمت ہے کہ طالب عرفان کو خصوصیت چہاو چہا سے کیا غرض حصول مطلب چاہیے، جس سے ہو ۔ آپ ہی معنی کلمہ طیبہ کا جو اصل ایمان اور عرفان کا ہے۔ فقط ظاہری طور پر فرمادیو یں ۔ محاورہ قرآن کریم میں لفظ اللہ کا در حالت اتصاف بالوحدة مثل اله واحد کے۔ اور ایسا ہی وقت اضافت موحدین کی طرف مثلالهُكُمْ وَالهُ ابائِكُم مراد اس سے معبود حقیقی : تیقی ہوتا ہے اور وقت استغراق کے مثلوَ مَالَكُمْ مِنْ الهِ غَيْرُهُاور جمعیت کی مثللَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا اور السياسي وقت اضافت کے مشرکین کی طرف مراد اس سے معبودات ممکنه مثل اصنام وغیرہ کے ہوتے ہیں ۔

بناء عليه لفظ اله جولا إله إلا اللہ میں واقع ہے مراد اس سے الله ممکنہ ہوں گے۔ اور نیز تقریب بھی اسی صورت میں نام ہوتی ہے کیونکہ براتین خمسہ میں مراد اللہ سے اصنام ہی میں؎لَوْ كَانَ فِيهِمَا الهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتابعد تعیین ارادہ امام کے اللہ سے کلمہ طیبہ میں تقدیر امکان یا وجود کی مستلزم ہے وقوع کذب کو( العیاذ باللہ ) اصل اسلام میں جو کلمہ طیبہ ہے کیونکہ اس وقت معنی یہ ہوگا کہ کوئی فرد افراد معبودات ممکنہ سے یعنی اصنام و کواکب وغیرہ ممکن نہیں یا موجود نہیں ۔ اور استیلاء صفاتی بعضها على بعض۔ }}

جیسا کہ منافي للوجوب بر تقدیر وحدت وجوب نہیں ۔ ایسا ہی بر تقدیر تعدد بھی نہ ہوگا۔ بناء علیہ اگر ارادہاستحقاق للعبادة كا حقیقی طور پر جو مساوق للوجوبہے عنوان موضوعی یا محمولی سے بھی کیا جائے تو مستلزملَمَا كَانَتا یا لَفَسَدَنَاکو نہیں ہو سکتا اور از لیست امکان چونکہ مستلزم ہے امکان از لیت کو مادہ وجوب میں۔ لہذا ممکنہ عامہ موجہ جزئیہ جو نقیض ہے ضرور یہ سالبہ کلیہ کی ۔ یعنی لا اللہ موجود بالضرورۃ کی( العیاذ باللہ ) صادق ہوگا ۔ الغرض تقدیر ممکن یا موجود یا مستحق زیمی کی مستلزم ہے وقوع کذب کو مد علی میں ۔ اور ارادہ استحقاق واقعی کا مقتضی ہے بطلان براہین کو۔

اس تقریر سے ناظرین پر ظاہر ہو گیا ہو گا کہ جواب تفتازانی اور شیخ اکبر و غیر ہ علماء کا دفع اشکال مذکور میں مفید نہیں ۔ ۔ جواب جوار اس کا حسب محاورہ قرآنیہ چاہیے۔ اور یہ بھی م معلوم ہو کہ فرق کرنا تعاوق فیما بین الذوات اورتعاوق فيما بين الصفات میں بعد اشتراک فی الوجوب کے مفید نہ ہوگا جیسا کہوجوب بالذات اوربالغیر میں ۔ کیونکہ یہ مجوز ہے سلب صفات کو ذات واجبیہ سے فی مرتبہ من المراتب ایسی گفتگو کہ جس سے خود نمائی کی یو آئے۔ شان عیسویت اور وضع مہدویت کو ہرگز شایان نہیں۔

حضرات ناظرین پر خفی نہ رہے کہ دوبارہ متوجہ ہونا اس بے بیچ کا اس امر غیر معتاد کی طرف جس کو آج کل بڑا کمال سمجھا جاتا ہے مشروط ہے بایں شرط کہ اگر کوئی صاحب بر خلاف مضامین مسطورہ رسالہ ہذا کے اپنے مسلک کو یا تو تفاسیر معتبرہ سے مثل ابن جریر و ابن کثیر کے جن میں روایات صحابہ کرام بالاسناد مذکور ہوں اور احادیث صحیحہ سے ثابت کرے اور یا فقط قرآن کریم سے حسب استنباط اپنے کے مدعملی کو مدلل کرے جس کو علماء ثقات فصحاء و بلغاء قبول فرمائیں نہ کہ مثل ازالہ اور ایام صلح وغیرہ کے جن کی نقل اور استنباط دونوں میں غلطی غلطی اور اور سقم سقم ہے ۔وَمَا وَمَا أُبَرِىءُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَا لَا مَّارَةٌ مَّارَةٌ . بِالسُّوءِ اللَّهُمَّ أَصْلِحُ أُمَّةً مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَفْرِجُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاغْفِرْ أَمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَلَمِينَ وَصَلٍ وَسَلَّمْ عَلَى الْمَظْهَرِ الْاتَمَ لِاسْمِكَ الْأَعْظَمِ سَيِّدِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ سَيِّدِنَا أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَعِتْرَتِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ۔

سوال: کیا ہے عقیدہ اجماعیہ اہل اسلام کا دربارہ مرفوع ہونے یعنی اُٹھائے جانے مسیحابن مریم کے آسمان پر۔

جواب:کافه اہلِ اسلام مسیح ابن مریم کومرفوع الى السماء بجسد ہ العنصری مانتے ہیں الا بعض اہل تحقیق کہ جسم برزخی کے قائل ہیں ۔ مگر نزول مسیح پر سب ہی اتفاق رکھتے ہیں۔

سوال: یہ عقیدہ محض اجماع کورانہ اورلا أصل لهہے جیسا کہ مرزا صاحب نے ازالہ اوہام میں لکھا ہے یا کوئی دستاویز قرآن اور حدیث سے بھی رکھتا ہے۔

جواب: آیت کریمہمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ، نص صریح ہے رفع بھی میں ۔

سوال :بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ سے رفع روحانی مراد ہے بشهادة محاروه قرآنیہ [font

جواب :کلمہ بل آیہ مذکورہ میں جس کا ترجمہ بلکہ ہوتا ہے ابطال ما قبل کے لیے ہے یعنی اللہ تعالی زغم یہود کو جو عیسی ابن مریم کی مقتولیت اور مصلوبیت کے قائل تھے باطل کرتا ہے اور ما قبل اور ما بعد بل اضرابیہ ابطالیہ کے متضاد ہوتے ہیں یعنی دونوں معا متحقق نہیں ہوتے۔

فائدہ جلیلہ

قوله تعالى وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ من جملہ واقسام قصر الموصوف على الصفۃکی ایک قسم ہے یعنی قصر قلب کلمہ بل کا مفرد میں اضراب یعنی اعراض کے لیے ہوتا ہے۔ اگر بعد امر کیا اثبات کے واقع ہو تو اثبات حکم کا مابعد کے لیے کرے گا۔ اور معطوف علیہ کو کا مسکوت عنہ کردے گا اور بعد نفی یا نبی کے حکم اول یعنی منفی یامنہی کو بر حال خودر رکھے گا اور ضد اس حکم کی ما بعد کئے۔ حکم کی مابعد کے لیے ثابت کرے گا ۔ جیسےقَامَ زَيْدٌ بَلْ عَمْرُو اور لِيَقُمْ بَكْرٌ بَلْ خَالِدٌ پہلی مثال میں قیام کا اثبات عمرو کے لیے ہو گا نہ زید کے لیے کیونکہ عمر بل کے مابعد واقع ہوا ہے اور ماقبل اس کے قام زید مقولہ غلطی پر مبنی ہے اور دوسری مثاللِيَقُم بکر میں طلب قیام خالد سے ہے نہ بکر سے وغیرہ۔ اور نفی نہی کی صورت میں ماقبل کے لیے حکم نفی کا بحال رہے گا اور مابعد کے لیے اثبات کا جیسا کہ

لم اكن في مربع بل يتهما لا تضرب زيداً بل عمروا

اور جس صورت میں مابعد بل کے جملہ ہو تو ابطال جملہ اولی اور اثبات جملہ ثانیہ کے لیے ہوگا ۔قوله تعالى بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَيا انتقال من غرض إلى غرض آخر پر دال ہوگا -۔قوله تعالى بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَوةَ الدُّنْيايہ بھی معلوم ہو کہ بل دونوں صورتوں یعنی مفردو جملہ میں عطف کے لیے ہوتا ہے۔ بنابر تحقیق اور مشہور عند النحاةعاطفہ ہونا اس کا مختص بالمفرد ہی ہے یعنی جس صورت میں کہ بعد اس کے مفرد واقع ہو۔ اور جملہ میں حرف ابتدا کا ہوگا ۔ بنا بر مشہور بل مشترک ٹھہرا عطف اور ابتداء میں ۔ اور ظاہر ہے ذکی ماہر پر کہ عدم اشتراک صحیح ہے۔ بہ نسبت اشتراک کے ۔ فقط بودے لوگ سرسری جو امتیاز در میان معنی وضعی اور اس کے افراد میں نہیں کر سکتے جب استعمال لفظ کا افراد میں بھی معنی وضعی مطلق کی طرح پاتے ہیں تو ان کو دھو کااشتراک اللفظ بین المطلق والافراد کا لگ جاتا ہے بلکہ فرد معین ہی کو بلحاظ کثرت استعمال کے موضوع سمجھ لیتے ہیں جیسا کہ آج کل اردو خوانوں کو لفظتوفیٰمیں دھوکا لگا ہوا ہے۔ بیان اس کا عنقریب آئے گا ۔

کلمہ بل کاموضوع لہ فقط اعراضہے پہلے کامسکوت عنہ کرنا یا تقریر اس کیعلیٰ ہذا القیاس انتقال ذات پہلے کی یا انتقال غرض ہے ۔ یہ سب انواع میں اعراض کے لیے جو معنی وضعی ہے( بحر العلوم مسلم الثبوت )۔}}الغرض کلمہبَلْکا بنا بر تحقیق ہذا آیہ مذکورہ میں حرف عطف ٹھہرا ابطال جملہ اولی یعنیقَتَلُوہکے لیے۔ اور منجملہ طرق قصر کےقصر بالعطفبھی ہے جس میں متکلم پر واجب ہے کہ نص على المثبت و منفی کرے ۔ کیونکہ مطلق کلام قصری کو متکلم تمیز بین الخطاء والصواب کے لیے بولتا ہے تا کہ مخاطب کے اعتقاد میں جو خلط بین الصواب والخطاءہے نکل جاوے اور بالخصوص قصر بالعطف میں کسی طرح ترک کرنا تصریح کا جائز نہیں۔}}

مَا نَحْنُ فِيه میں یہود کا افتراء دو وجہ سے تھا۔ ایک مسیح کا بذریعہ صلیب کے مقتول کہنا ۔ دوسرا اس کی مقتولیت کو محقق بولنا۔ یعنیانا قتلناسے تعبیر تاکیدی کرنی ۔ وجہ اول کو متکلم بليغ نے وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُسے رو کیا۔ دوسرے کو وَ مَا قَتَلُوهُ يقينًا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ہے۔ اب اگر بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کو کنا یہ اعزاز واکرام سے کہا جاوے جیسا کہ مرزا صاحبوَرَافِعُكَ إِلَی میں فرماتے ہیں توبمقتضائے قصر قلب کے چاہیے کہمابعد بل یعنی اعزاز اور ماقبل اس کا یعنی مقتولیت مجتمع نہ ہوں مع آنکہ مقتول مؤمنین میں سے اعلیٰ درجہ کا معزز و مکرم عند اللہ ہوتا ہے۔ قصر قلب میں اگر چہتنافی بین الوصفین بنا بر تحقیق ضروری نہیں مگراحد الوصفینکا ملزوم نہ ہونا دوسری وصف کے لیے نہایت ضروری ہے تا کہ مخاطب کا اعتقاد بر عكسما يذكره المتكلمکے متصور ہو۔

اور اگررفع سے مراد موت طبعی بعد واقعه صلیب بعرصۂ دراز مثل مزعوم مرزا صاحب کے لی جاوے تو بحسب مضمون بالا کے تصریح به بل بقى حيا ثم توفه الله ورفعه الیہکی ضروری ہے ورنہ فصاحت اور بلاغت قرآن کریم میں جو اعلیٰ وجوہ اعجاز اس کے سے ہیں خلل واقع ہو گا متکلم بلیغ کی شان سے بالکل بعید ہے کہ مقتضائے مقام یعنی تمیز ضروری کو چھوڑ کر مزید براں ایسی کلام بولے جس کا معنى بحسب التبادر من الف جو معنی مراد ہے ۔ کیونکہبَلْ رُفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ سے تحقیق رفع در وقت واقعه صلیب یا قبل اس کے بحسب محاورہ قرآنیہ وغیرہ مفہوم ہوتا ہے۔

دیکھوبَلْ جَاءَ هُمُ بالْحَقِّ جو بعد اَمْ يَقُولُونَ افتراہ کے واقع ہے اور ارادہ موت طبعی کا رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ سے مع زعم تحقق اس کے قبل از واقعہ صلیب مستلزم ہے وقوع کذب کو کلام الہی میں [font بعد از قطع احتمالات مذکورہ آیتبَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِکی محکم شہری رفع جسمی مسیح میں ۔ لہذا اہل لسان اور محاورہ وان صحابہ اور سلف سے( رضوان اللہ علیہم اجمعین ) رفع جسمی کو آیتہ ہذا سے ایسے سمجھے ہوئے تھے کہ کسی سے اس آیت کے معنی میں اختلاف مروی نہیں ۔ اور اسی وجہ سے چونکہ محکم ہے رفع جسمی میں تو مخصص ہوگی واسطے ان آیات اور احادیث کے جو باعتبار عموم اپنے کے دال میں وفات مسیح پر مثلقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اورمَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفَوسَةٍ ان وغیرہ وغیرہ اور یہی قرینہ صارفہ ہے ارادہ کرنے معنی موت کےتَوَفَّيْتَنِی سے اورمُتَوَفِّيكَ سے بر تقدیر عدم تقدیم و تاخیر کے ۔

اور یہی آیت با واز بلند کہہ رہی ہے کہشَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمُمیں حیا ملحوظ نہیں ہے۔ اور یہی آیتہ قرینہ ہے حدیثفَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ان میں فَلَمَّا تَوَفَّيَتَنِيمعنی غیر موت کا لینے کے اور یہی آیت قرینہ ہے حدیثلَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ میں بر تقدیر صحت کے حیات سےحیات فی الارضمراد لینے کی۔ اور یہی آیت بعد از قطع احتمالات مذکورہ کے استبعاد عقل انسانی کو جو دربارہ مرفوع ہونے جسم مسیح کےبجسدہ العنصر یآسمان پر تھا زائل کر رہی ہے۔

هذه الآية تكفى جوا با لجميع السوالات وان اجبنا لكل سوال تبرعامحاورہ قرآن کریم اور عرف بغیر تخصیص بلغة دون لغتہ اس پر شاہد ہیں ۔ وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا بَلْ حمَن وَلَدًا بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ، ولدیت اور عبودیت بتانی ہیں تحقیق میں ۔ام يَقُولُونَ بِهِ جَنَّةٌ بَلْ جَاءَهُمُ بِالْحَقِّمجنونیت اوراتیان بالحق یعنی منجانب اللہ حق کو عباد کی طرف لانا متضاد نہیں ۔ مثال زید کو میں نے مارا نہیں بلکہ اس کو عزت دی۔ عمرو کو میں نے بھوکا نہیں چھوڑا بلکہ پیٹ بھر کر کھلایا۔ مارنا اور عزت دینی۔ ایسا ہی بھوک اور سیری باہم متضاد ہیں۔

بعد تمہيد ہذا آیتوَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں بھی حسب مقتضی کلمه بل مقتولیت اور مرفوعیت یعنی مسیح کے مارے جانے اور اٹھائے جانے میں منافات اور عدم اجتماعفی التحقیق چاہیے۔ مابین (حاشیہ )کے مارے جانے اور اُٹھائے جانے روح کے آسمان کی طرف کچھ منافات نہیں ۔ دونوں امر معا پائے جاتے ہیں۔ مقربین میںاور ظاہر ہے کہ جو قتل کیا جاتا ہے ان کی ارواح بھی عالم علوی کو اُٹھائی جاتی ہیں۔

حاشیہ

قولهما بین الخ توضیح مقام آنکہ رفعهُ الله إِلَيْهِیا تو کہنا یہ ہو گا اعزاز اور رفع منزلت سے جیسا کہ مرزا صاحب بشہادت محاورہ اور حوالہ کتب لغت لیتے ہیں ۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ قتل اور قرب الہی میں تضاد نہیں بلکہ قتل اور شہادت موجب مستقل ہے رفع منزلتعند اللہکے لیے سوائے نبوت کے ۔ اور یا مراد اس سے رفع روحی بطریق موت طبیعی کے ہو گا بقرینہ وعدہ توفي يا عيسى إني مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلى فقط لفظ مُتَوَ فِیک اگر چه مطلق موت پر دال ہے عام اس سے کہ اپنے آپ ہو یا بمباشرت قتل کے۔ لیکن حصر جو مستفاد سے ضمیر متکلم کے مسند الیہ اور صیغہ مشتق کے مسند بنانے سے مفید ہے موت طبعی کا۔ اس تقریر پر اگر چہ تضاد متحقق ہے مگر بلحاظ امن کے کہ ماضونت توفی اور رفع کی۔بَلْ تَوَفَّهُ اللهُ وَ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں نسبت ما قبل کلمہ قبل کے ہوتی ہے چاہیے کہ موت طبعی مسیح کی قبل از واقعه قتل و صلیب زمی متحقق ہو ۔ حالانکہ کوئی مؤرخ نہ اسلامی اور نہ غیر اسلامی اس کی شہادت نہیں دیتا ۔ بلکہ ابن عباس اور سائر اہل اسلام قاطبة الى يومنا هذا رفع جسمی مسیح کے قبل از واقعہ صلیب کے قائل ہیں تفسیر نقلی صحابی کی چونکہ حکم مرفوع میں ہوتی ہے۔ بناء ہر مسلمان کے لیے واجب التسلیم اور ضروری القبول ہوگی کیسے نہ ہو۔ رفع جسمی قبل از واقعہ سلیب کا مضمون جو اثر ابن عباس میں عنقریب آئے گا نہ تو معتقد بہ یہود اور نصاری کا تھا تا کہ احتمال روایت ابن عباس کا اہل کتاب سے ہو اور نہ خود ابن عباس اس مضمون کو اپنے اختراع سے پیدا کر سکتے ہیں۔ لہذا یہی ماننا پڑے گا کہ بالضرور ابن عباس نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے۔ اور مؤرخ غیر اسلامی یعنی یہود و نصاری ۔ موت بالقتل و الصلیب صبح کے قائل ہیں۔ اور مرزا صاحب موت طبعی بعد از واقعہ صلیب کے معتقد ہیں ۔ حسب زعم ان کےبَلْ بَقِی حَيًّا ثُمَّ تَوَفَّهُ اللَّهُ وَرَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِچاہیئے تھا۔الحاصل تقدیر مذکور مستلزمہےفقدان محکی عنہکی وجہ سے وقوع کذب کو ۔العیاذ باللہ ۔ آیت مذکور میں بعد بطلان احتمالات مذکورۃ القدر کے یہی متعین ہوا کہ مراد[fontسے رفع جسمی ہے اورتوفہ الله سے جو قبل ازرفعه الله کے بقرینہ وعد ہ مند رہےمنی قبضہ اللہکا ۔ آیت مذکور جیسا کہ نص ہے ابطال افترا، بہبود اور رفع جسمی مسیح میں ایسے ہی قرینہ صارفہ ہے ارادہ معنی موت کے لیے متوفیک اورفَلَمَّا تو فیتَنِیہے اور یہی وجہ ہےقول بالتقديم والتاخیر کی ۔ آیةبعیسى إِنِّي مُتَوَفَّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَی میں بر تقدیر ارادہ معنی موت کےمتوفیک ہے۔ باقی رہا یہ زعم کہ لفظ توفیٰکا قرآن کریم میں فقط معنی موت ہی میں مستعمل ہے یہ صرف سادہ لوگوں اور بودوں کا خیال ہے۔ اس کی تحقیق مقریب آئے گی ۔ ان شاء الله ۱۲۰

حاشیہ ختم شد

اب بالضرور رفع جسمانی لینا پڑے گا کیونکہ مسیح کے قتل جسمی اور رفع جسمی دونوں میں تضاد اور تنافی ہے۔ اگر جسم مسیح یہود کے ہاتھ مقتول ہو تو وہی جسم عالم بالا کی طرف مرفوع نہ ہو۔ اور اگر مسیحبجسدہ العنصري بحفظ و امان اُٹھائے گئے تو یہود کے ہاتھ میں مقتول نہیں ہو سکتے ۔ اور یہ بھی خیال رکھنا چاہیئے کہ رفعہ اللہ میں رفع جو صیغہ ماضی ہے اس کی ماضویت کس کی نسبت ہے۔ اس کا ماضی ہونا بہ نسبت ما قبل بل کے ہے جس کو باطل کرنا منظور ہے۔ وہ کیا۔قَتَلُوهُ. اس امر کو ہم قرآنی شہادت سے ثابت کرتے ہیں۔ دیکھو[font لانا آیات قرآنی کا منجانب اللہ پہلے ہوا۔ بعد ازاں نسبت جنون کی کفار نے آپ کی طرف کی ۔ اب

بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِسے ثابت ہوا کہ تحقق رفع قبل از محقق قتل زعمی یہود کے ہوا ہے یعنی پہلے جسم مسیح حفظ وامان آسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔ بعد ازاں یہود نے ان کی شبیہ کو قتل کیا۔ اوربَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ كو قياسيا يَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُرا پر کرنا بے جا ہے۔ کیونکہ اس میں خطاب اب ب نفس کی طرف ہے نہ جسم مع الروح کو ۔ بخلاف رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِکے ۔ کہ مرجع ضمیر منصوب متصل کا یعنی رفع میں جو ضمیر ہے وہ ہی مرجع ہے جو ماقبل اس کےمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوہکے لیے ہےیعنی جسم مع الروح۔

یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اصل واقعہ میں یا اس کے علم میں تغیر کا ہونا اس امر کو نہایت مدخل ہے کلام کے حقیقت یا مجاز ہونے میں ۔ ایک ہی کلام کبھی حقیقت ہوتی ہے معنی مراد میں جب اصل واقعہاعتقاداً یا بحسب نفس الامرایک طرح ٹھہرایا جائے اور اسی کلام کو بعینہ افراد مجاز میں سے شمار کیا جاتا ہے جس حالت میں کہ اصل واقعہ دگر گوں قرار دیا جائے ۔ مثلا انبَتَتِ الربيع البَقْلیعنی موسم ربیع نے ترکاری اُگائی جس حالت میں کہ قائل اس کا مومن ہو، مجاز ہوگا کیونکہ وہ استاد ہےالى غير ما هوله عندا لمتكلم۔ اور یہی قول حقیقت کی امثلہ میں شمار کیا جائے گا جبکہ قائل اس کا جاہل ہو یعنی وہ شخص جس کے اعتقاد میں فی الواقع اگانے والی موسم ربیع ہے کیونکہ حسب اعتقاد اس کے اسناد فعل کیالی مَا هُوَ لَهُ اس کلام میں واقع ہے۔ اقسام اس بحث کے بہت ہیں۔ ناظرین کی ملالت اور تشویش کے باعث اس پر اکتفا کی جاتی ہے۔

کشففلان عن ساقه فلانے نے اپنی پنڈلی سے پردہ اٹھایا۔ جس حالت میں کہ فلانے نے فی الواقع اپنی ساق کو بر وقت گزرنے کے پانی سے یا کسی اور تقریب سے برہنہ کیا ، یہ کلام حقیقت ہوگی یعنی لفظ کشف ا ، اور ساق اپنے اپنے معنی حقیقی میں مستعمل ہوں گے۔ اور در حالتے کہ فلانے نے پنڈلی کو برہنہ نہیں کیا بلکہ کسی کام کی تیاری میں مصروف ہو رہا ہے۔ اس وقت یہی کلام کشف فلان عن ساقہ کنایہ ہو گی مستعد ہونے سے اس کام پر۔

اب اگر کوئی ظاہر بین اردو خوان نام کا مولوی کسی کتاب میں دوسرے معنی کو جو حسب محاورہ ہے معنی کنائی اور کلام مذکور کو کنا یہ لکھا ہواد دیکھ کر منحصر ہونا اس کلام کا معنی استعداد ہی میں بشہادت محاورہ سمجھ لے تو منشاء اس کا بجز جہالت کے اور کیا ہے۔

لفظ رفع کا صلہ جب الی واقع ہو تو بہر حال اس کو اس معنی میں یعنی کسی کو کسی کے ساتھ نزدیک کرنا اور مرتبہ دینا۔ منحصر سمجھنا بشہادت محاورہ جس کو اہل لغت نے بھی بیان کیا ہے اس قبیل سے ہے جو بیان کر چکا ہوں یعنی جہالت ہے ۔ حدیث شریف میں یہی محاورہ ہے فرفعہ الی یدہ. ای رفعه الى غاية طول يده ليراه الناس فيفطرون (مجمع ا لبحار )رفع جسمی میں وارد ہے بغیر رفع منزلت کے ۔ ایسا نى يرفع الحديث الى عثمان اور يرفعه الى النبياور ایسا ہی يرفع اليه عمل الليل قبل عمل النهار. اى الى خزائنه ليضبط الى يوم الجزاء ( مجمع البحار )ان سب میں یہی محاورہ اُٹھانے چیز میں بعینہ جو ہر ہو یا عرض مدخول الی کی طرف مستعمل ہے بغیر ارادہ رفع مرتبہ کے۔

مانحن فیہمیں جب اثر صحیح ابن عباس وغیرہ کا دربارہ مرفوع ہونے جسم مسیح کے اور نصبَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ کی جو کئی وجوہ سے شهادت رفع جسمی مسیح پر دیتی عنقریب بیان ہوں گے ۔ پھر اصل واقعہ کو خیال نہ کرنا اور رفع کو فقط رفع بحسب المرتبہ میں منحصر سمجھ لینا خطا در خطا ہے۔ ایک تو صاحب صراح وغیرہ کی غرض نہ سمجھی کہ انہوں نے تو استعمال رفع کا در حالت صلہ واقع ہونے السی کے معنی رفع منزلت اور علو قدر میں ذکر کیا یعنی لفظ رفع کا اس حالت میں معنی مذکور میں استعمال ہوتا ہے یعنی بشرط مطابقت اصل واقعہ اور ارادہ اس معنی کے نہ یہ کہ جہاں رفع کا صلہ ہو الی ہو با اضر ور رفع منزلت بغیر رفع جسمی کے مدلول لفظ رفع کا ہوگا۔ اگر چہ ارادہ تکلم کا اداکرنے معنی رفع جسمی کا بعبارت مذکورہ بھی ہو كشف عن الساق کو جو کنا یۃ (حاشیہ )بحسب محاورہ تیار ہونے سے ٹھہراتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی وقت معنی حقیقی پر دال نہ ہوگا ۔

حاشیہ

معنی کنائی حقیقی کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے نہ مجازی ۱۲ مطول

حاشیہ ختم شد

الغرض صله الی قرینہ صارفه اراده معنی رفع جسمی سے نہیں بلکہ مجوزہ ہے ارادہ معنی رفع منزلت کے لیے بروقت موجود ہوئے قرینہ صارفہ کے یعنی لفظ رفع سے مراد رفع بحسب المرتبہ نہ ہوگا ۔ مگر اس صورت میں کہ صلہ اس کا کلمہ الی واقع ہو نہ بالعکس یعنی یہ نہیں کہ جس جگہ صلہ اس کا المی ہو اس جگہ بغیر اس رفع منزلت کے رفع جسمی پر دال نہ ہوگا ۔ مطلقہ عامہ کو محصورہ کلیہ سمجھ لیا۔ دوسری خطا یہ ہے کہ رفع جسمی اور رفع بحسب اللہ رجہ میں بائن کلی اورمنافاة فی التحقق سمجھ لی ۔ حالانکہ ما نحن فيه میں تو رفع جسمی کی صورت میں رفع بحسب القدر بالا ولی اور بالا حسن معلوم ہوتا ہے۔

اس تحقیق سے ناظرین کو اچھی طر رین کو اچھی طرح مرز ا صاحب اور ان سے مخلصین کا دھوکا کھانا معلوم ہو سکتا ہے۔ القول الجمیل تصدیق المثیل کے صفحہ ۵۹ و ۶۰ کو ملاحظہ کریں۔ مرزا صاحب اور ان کے اتباع فرماتے ہیں کہ قرآن یا حدیث میں لفظ سماء جس کا معنی آسمان سے متعلق رفع اور نزول مسیح کے نہیں آیا ، یعنی رفعه الله الى السماء اور ينزل من السماء بھلا صاحب یہ تو فرمائیے کہبَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ جس کا مدلول خدا کی طرف مرفوع ہوتا ہے۔ رفع روحانی ہی سہی کس طرح متحقق ہو گا۔ اور ایسا ہی ارجعی الی ربک اپنے رب کی طرف رجوع نفس کی صورت کیا ہوگی ۔ اورإِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُمیں چڑھ جانا کلمات طیبہ اور عمل صالح کا مرفوع ہونا خدا کی طرف کیسے ہوگا۔ یہی تو فرمائیں گے جیسا احادیث میں وارد ہے کہ خدا کی طرف مرفوع ہونا یا رجوع ہونا یا چڑھ جانا ۔ اس کی یہی صورت ہے کہ آسمان کو جو کل سے عباد مگر مین کا قرارگاہ ان کی بنائی جائے ۔ نہ کہ سوائے آسمان کے زمین میں یا آسمان اور زمین دونوں سے باہر رکھ دیا جائے ۔ ایسا ہی رفع جسمی کی صورت میں بھی لفظإِلَيْهِ کاملاحظہ فرما کر سماء کو مذکور سمجھیں۔ پس رفع الى الله اور رفع الى السماء ایسا ہی رجوع الى الرب اور صعود الی السماء متساوق فی معنی ہیں ۔ احادیث میں تو صراحت بھی آ گیا ہے۔ اور رسالہ ہذا میں عنقریب ناظرین ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

آیہ مذکورہ یعنیبَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ جیسا کہ اثبات رفع جسمی مسیح اور ابطال افتراء یہود کہإِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَکہتے تھے۔ اور تردید عقیدہ نصاری با تباع یہود فرمارہی ہے۔ ایسا ہی تکذیب عقیدہ فرقہ نیچر یہ اور مرزائیہ کی بشهادت سیاق و آثار صحابہ و احادیث صحیحہ کر رہی ہے۔ احادیث صحیحہ کے نام لینے میں میں بھول گیا ہوں ۔ حضرت سائل تحقیق اور استفسار سے ہی نہ رہ جائیں ۔ کیونکہ ان کے اصول موضوعہ میں سے تقابل قرآن اور حدیث صحیح بھی ہے۔ اس مغالطہ سے بڑے کام نکلتے ہیں جب عوام کا انعام سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں کہ بتاؤ میاں خداوند کریم کی کلام پاک مقدم ہے یا بندہ کی ۔

ناچار مخاطبین حسب لیاقت اپنی کے یہی بول اٹھتے ہیں کہ خدا کی کلام اور بندہ کی کلام میں اتنا فرق ہے جس قدر کہ دونوں متکلموں کا آپس میں یعنی خدائے عزوجل اور بندہ میں ۔ یعنی خدا خدا اور بندہ بندہ۔ یہ کوئی نہیں کہتا ۔ اجی حضرت ! آپ سوال تقدیم و تاخیرمن حيث العظمه والمنزلقہ سے فرمارہے ہیں یا من حيث التفصيل والبیان ہے ۔ اگر من حیث العظمۃ ہے تو سب اہل اسلام کلام الہی کو زائد العظمہ مانتے ہیں ۔ لہذا نماز کارکن کلام الہی ہوسکتی ہے نہ حدیث اور اگر بہت التفصیل و تشریح فرماتے ہیں تو حدیث شریف مقدم ہے۔ کیا معنی کہ پہلے مضمون تفصیلی حدیث الحدیث شریف ہمارے اذہان میں آئے گا تب اجمال آیت کو ہم ؟ یت کو ہم سمجھیں گے۔

ہاں صحت میں غور کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس رحمہ للعالمین خاتم النبیین ﷺ کو حکیم مطلق لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُنے اس لیے برزخ ما بین اپنے اور ہمارے قرار دیا ہے کہ برزخ کی پر لی طرف کی بات برزخ ہی کے منہ مبارک سے بمعہ تشریح سن لیویں۔ کیونکہ جیسا کہقوله تعالى أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهُ عِوَجًا اور إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا اَرْكَ اللهُ وَلَا تَكُنُ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًاء اور وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ وَهُدًى وَ رَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ . اور وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِم وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ اور حدیث شریف الا إِلَى أُوتِيتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ مِنَ السُّنَّةَ اسی برزخ سے مخصوص ہے۔ ایسا ہی ذمہ داریإِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بیانہ اس کو شایان ہے۔

فَسُبْحَانَ مَنْ خَلَقَهُ وَأَجْمَلَهُ وَأَكْمَلَهُ وَعَلَّمَهُ وَأَدَّبَهُ فَاحْسَنَ تَا دِينَهُ

فرقہ مرزائیہ عیسی بن مریمsym-9 کے مصلوب ہونے یعنی صلیب پر چڑھانے کے یہود اور نصاری کی طرح معتقد ہیں ۔ فقط صلیب پر مر جانے میں باہم مختلف ہیں ۔ یہود اور نصاری کہتے ہیں کہ سیح صلیب پر مر گئے ۔ اور مرزائیہ صلیب سے زندہ اتار کر بعد ۷ ۸ سال کے کشمیر خاص سری نگر میں دفن کرتے ہیں۔ ایام الصلح صفحہ ۱۱۲، اس کا بطلان رفعه الله کی ماضویت سے جو بہ نسبت ما قبلبَلْ یعنی مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کے ثابت کی گئی ہے۔ اصل کتاب سے اور فائدہ جلیلہ سے جو منہیہ میں لکھ چکا ہوں ۔ بخوبی ناظرین معلوم کر چکے ہیں کے اور یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ مراد ما قبل بل سے نفس قتل اور صاب ہے قطع نظر منفی ہونے اس کے سے کیونکہ نفی حکایت میں ہے نہ محکی عنہ میں ۔

اس تقریر سے جو صراحتہ نظم قرآنی سے سمجھی جاتی ہے۔ ظاہر ہو گیا کہ سید احمد صاحب اور مرزا صاحب اور مصنف تفسیر حضرت شاہی کومَا صَلَبُواکے معنی میں جو ان صاحبوں نے روایات انا جیل کے ملاحظہ سے لیا ہے سخت دھوکا ہوا کہتے ہیںمَا صَلَبُوهُیعنی یہود نے مسیح کی ہڈیوں کو نہ تو ڑا۔ ازالہ اوہام صفحہ ۳۷۸ سے صفحہ ۱۳۸۲ تک تفسیر حضرت شاہی صفحہ ۱۹ افتامل ۔ ایسا ہی استشہاد میں معنی مذکور پر ساتھ عبارت قاموس کےوَالْعِظَامَ اسْتَخْرَجَ وَدَكَّهَا۔ اور اس حدیث کے لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَتَاهُ أَصْحَابُ الصُّلُب بسكون اللام و ضمها و فتحها اى الذين يجمعون العظام ويستخرجون و دكها ويأتدمون بهکیونکہ قاموس کی عبارت کا مفہوم چکنائی کا نکالنا اور شور با بنانا ہے۔ اور اگر ہڈیوں کا توڑنا بخیال اس کے کہ شور با بغیر اس کے نہیں بن سکتا ۔ صاب کا معنی قرار دیا جائے تو چاہیے کہ موت طبعی اس جانور کی یا ذبح اس کا بھی مدلول اس کا ٹھہرایا جائے ۔ اور حدیث میں لفظ اصحاب الصلب سے معنی مذکور سمجھا گیا۔ کیونکہ صلب کا معنی چکنائی اور اصحاب الصلب کا معنی چکنائی والے لوگ۔ ہڈیوں کا توڑنا نہ تو لفظ اصحاب کا مدلول ہے اور نہ صلب کا ۔ دیکھو قاموس اور مجمع البحار صلیب پر چڑھانے میں تو نظم قرآنی اور احادیث نزول کو جو استلزاما رفع جسمی سے خبر دے رہی ہیں ان سب کو سلام کہہ کر روایات انا جیل سے کام لیا۔ بعد از واقعہ صلیب مسیح کا زندہ رہنا اور عرصہ دراز کے بعد کشمیر میں مدفون ہونا۔ اس میں اناجیل کو بھی چھوڑا۔

وجوہات بطلان مذهب مرزائیه در باره کرفع عیسی

بطلان اس مذہب خانہ زاد کا آیةوَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا بَلْ رَّفَعَ يَقِينَا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ بشہادت کلمه بل ایک وجہ سے تو ظاہر ہو چکا ہے۔

دوسری وجہ بطلان کی اتحاد مرجع ہے دونوں ضمیروں منصوب متصل کا جو واقع ہیںمَا قَتَلُوهُاوربَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں۔مَا قَتَلُو میں مرجع ضمیر کا چونکہ جسم مع الروحہےبَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں بھی نظر یہ اتحاد و ہی مجموع مرجع ہوگا نہ فقط روح ۔

تیسری وجہ بطلان کی یہ ہے کہ حق سبحانہ و تعالی سلک جرائم یہود میں فقط افتراء اور بہتان ان کا ذکر فرماتا ہےیعنی وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللہ فرمایا۔ اور فقط ذکر قتل یا صلیب پر چڑھانے کا بغیر انضمام قول کے نہیں کیا لینیوَقَتَلَهُمُ الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ الله وصلبهمنہیں فرمایا ۔ صلیب پر چڑھانا اور کوچہ بکوچہ رسوا کرنا اور مار پیٹ سے ہے سے تکلیف دینا یہ تو بڑا سنگین ج مین جرم اور موجب غضب الہی ہے یہ نسبت اس کے کہ فقط افتراء یا جھوٹ بول دیا ہو۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فی الواقع مسیح مقتول اور مصلوب نہ تھے بلکہ ایک اور شخص مسیح کے حواریوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےوَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ یعنی یہود نے مشورہ مسیح کے قتل کرنے کا کیا تھا۔ مگر ہم بڑے اسباب بچاؤ کے جانتے ہیں۔ مسیح کو تو ہم نے اٹھا لیا اور اس کی شبیہ کو مقتول اور مصلوب کرایا ۔ یہود نے حسب زعم اپنے کے یہ کہنا شروع کیا کہ ہم نے مسیح ابن مریم کو جو رسول منجانب اللہ کہلاتا تھا مصلوب کر کے مارڈالا ۔

مگر یہود اس قتل مسیح کے بارہ میں مشکلگ تھے اور نصاری بھی باتباع یہودیح کی مقبولیت اور مصلوبیت کے قائل ہوئے بغیر ان چند حواریوں کے جو اس گھر میں جس میں سے صحیح مرفوع الی السماء ہوئے موجود تھے ۔ القصہ اللہ جل شانہ نے اپنے حبیب پاک صاحب لولاک کو اس واقعہ سے خبر دی کہ یہود اس قول میں کہإِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحِ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللہ مفتری ہیں اور یقینی طور پر انا قتلنا نہیں کہتے بلکہ اس میں بھی مشلگ ہیں ۔ اور واقعی امر تو یہ ہے کہ مسیح کو انہوں نے مقتول اور مصلوب نہیں کیا بلکہ اس کے شبیہ کو۔ اور مسیح کو تو ہم نے ان کی ایذا سے بچانے کے لیے آسمان پر اٹھا لیا۔ اس کے بعد فرمایا وَ كَانَ اللهُ عَزِيزاً یعنی یہ خیال مت کرو کہ جسم عنصری آسمان پر کس طرح جا سکتا ہے۔ کیونکہ ہمارا نام عزیز ہے با عزت اور با غلبہ اور ہم اس رفع جسمی پر غالب ہیں ۔ ہمارے سامنے کوئی بڑی بات نہیں ۔

حَكِيمًا یعنی ہم با حکمت ہیں۔ کوئی کام ہمارا حکمت سے خالی نہیں ہوا کرتا۔

اس مسیح کے اٹھانے اور بقیہ ایام حیوۃ پورے کرنے میں بھی ایک حکمت ہے۔ وہ کیا ؟ ان کو ہم اپنے حبیب از لی اور شاہد لم یزلی ﷺ کے خدام اور خلفاء سے بنائیں۔ کیونکہ اس نے یہ منصب ہماری بارگاہ سے یہ نالہائے نیم شمی اور دعا ہائے سحری مانگا ہوا ہے۔ گو کہ ہم زمین میں بھی اس کے محفوظ رکھنے اور بچانے پر ایذا یہود سے قادر نہیں۔ مگر ہماری حکمت کا مقتضی یہی ہے کہ ہر چیز کے ساتھ معاملہ حسب استعداد مادہ فطرتی اس کے کیا جائے ۔ نفخ روح القدس مریم کے گریبان میں چونکہ منجملہ اس کے اسباب فطرتی کے تھا۔ اور تشبہ بالملائکہ ممتاز طریق پر اس کو حاصل تھا۔ الہذا آسمان پر رہنا اس کا موجب تعجب اور خلاف حکمت نہیں ۔ یہاں تک تو حاصل ہے اس آیت کریمہ کا ۔وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ، وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ، وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيمًا

احادیث مبارکہ:

قال ابن ابی حاتم حدثنا احمد بن سنان حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن المنهال ابن عمرو عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء خرج على اصحابه في البيت اثنا عشر رجلا من الحواريين يعنى فخرج عليهم من عين في البيت ورأسه يقطر ماء فقال ان منكم من يكفر بي اثنا عشر مرة بعد ان امن بي قال ثم قال ايكم يلقى عليه شبهى فيقتل مكاني ويكون معى في درجتي فقام شاب من احدثهم سنا فقال له اجلس ثم اعاد عليهم فقام ذالك الشاب فقال اجلس ثم اعاد عليهم فقام ذالك الشاب فقال انا فقال هو انت ذاك فالقى عليه شبه عيسى ورفع عيسى من روزنة في البيت الى السماء قال وجاء الطلب من اليهود فاخذوا الشبه فقتلوه ثم صلبوه فكفر به بعضهم اثنى عشر مرة بعد ان أمن به و افترقوا ثلاث فرق فقالت فرقة كَانَ الله فينا ماشاء ثم صعد الى السماء وهؤلاء اليعقوبية. وقالت فرقة كان فينا ابن الله ما شاء ثم رفعه الله اليه و هؤلاء النسطورية وقالت فرقة كان فينا عبد اللهِ وَرَسُولُهُ م الله ثم رفعه الله اليه و هؤلاء المسلمون فتظاهرت الكافرتان على ما شاء المسلمة فقتلوها فلم يزل الاسلام طا مساحتى بعث الله محمدا . وهذا اسناد صحيح الى ابن عباس ورواه النسائي عن ابي كريب عن ابي معاوية بنحوه وكذا ذكر غير واحد من السلف انه قال لهم ايكم يلقى عليه شبهی فيقتل مكاني وهو رفيقي في الجنة. (أمل تفسير ابن كثير )

ترجمہ: فرمایا ابن عباس دل نے جب خداوند کریم نے عیسیsym-9 کے آسمان پر اٹھانے کا ارادہ کیا تو حضرت عیسیsym-9 ، مکان میں جو چشمہ تھا اس سے باہر نکل کر اس حال میں کہ آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اپنے بارہ حواریوں کے پاس تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ بے شک تم میں سے ایک شخص مجھ پر ایمان لانے کے بعد بارہ مرتبہ کافر ہوگا ۔ بعد ازاں فرمایا کہ کون شخص ہے تم میں سے جس پر م ہے تم میں سے جس پر میری شباہت ڈالی جائے اور میری جگہ وہ مقتول ہو اور میرے درجہ میں میرے ساتھ رہے۔ پس ایک نو جوان شخص ہو س نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ میں ہوں یا رسول اللہ تو حضرت عیسیsym-9 نے اس کو فر مایا کہ تو بیٹھ جا۔ اور آپ نے دوبارہ پھر اس لفظ کا اعادہ فرمایا پھر وہی شخص کھڑا ہوا۔ غرض چوتھی مرتبه عیسیsym-9 نے فرمایا کہ تو یہی وہ شخص ہے پھر عیسیsym-9 کی شباہت اس شخص پر ڈالی گئی۔ وہ اور عیسی sym-9 مکان کے روشندان سے آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ۔ بعد ازاں یہود کے جاسوس آئے اور اس شبیہ کو پکڑا اور اسی شبیہ کو مقتول اور مصلوب کیا۔ پھر بعض اشخاص بارہ مرتبہ عیسیsym-9 سے پھر گئے بعد ایمان کے ۔ اور اس کے بعد تین فرقے ہو گئے ۔ ایک فرقہ اس امر کا قائل ہوا کہ ہم میں خدار ہا جب تک چاہا۔ پھر آسمان کی طرف چڑھ گیا۔ اس فرقہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں۔

دوسرے فرقے نے کہا کہ خدا کا بیٹا جب تک چاہا ہم میں رہا۔ بعدہ خداوند کریم نے اس کو اٹھا لیا۔ اس گروہ کا نام نسطور یہ ہے۔ تیسرے فرقے کا یہ مذہب تھا کہ خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہمارے گروہ میں رہا جب تک خدا وند کریم نے چاہا۔ پھر اللہ تعالی نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اس گروہ کو مسلمان کہتے ہیں۔ پھر دونوں فرقے کافروں کے فرقہ مسلمہ پر غالب آئے اور اس کو قتل کر ڈالا ۔ پھر ہمیشہ اسلام معدوم رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ اور یہ اسناد یح ہے ابن عباس کی طرف اور روایت کیا اس اثر کو نسائی نے ابی کریب سے اس نے ابی معاویہ سے مثل طریق مذکور کے۔ اور اس طرح ذکر کیا بہتیروں علماء سلف نے اس امر کو کہ فرمایا عیسیsym-9 نے تم میں سے جس پر ڈالی جائے شباہت میری اور قتل کیا جائے میری جگہ وہ رفیق میرا ہو گا جنت میں ۔انتہی۔

ایضاًاخراج کیا اس ان کیا اس اثر کو عبد بن حمید اور ابن مردویہ نے ۔واخرج عبد بن حمید وابن جرير و ابن المنذر عن مجاهد في قوله تعالى شُبِّهَ لَهُمُ. قال صلبوا رجلاً غیر عیسی شبهوه بعیسی يحسبونه اياه ورفع الله اليه عيسى حيا.

ترجمه : فرمایا مجاہد نے صلیب یعنی دار پر چڑھایا یہود نے شبیہ عیسی کو اس حال میں کہ گمان کرتے تھے اس شبیہ کو سچ اور اُٹھا لیا اللہ نے مسیح کو زندہ آسمان پر ۔

واخرج عبد ابن حميد وابن جرير وابن المنذر عن قتاده وَقَوْلِهِمْ إِنَّا و قَتَلْنَا قَالَ اولنگ اعداء الله اليهود افتخروا لقتل عيسى العلي وزعموا انهم قتلوه و صلبوه وذكر لنا انه قال لاصحابه ايكم يقذف عليه شبهی فانه مقتول قال رجل من اصحابه انا يا نبي الله فقتل ذلك الرجل ومنع الله نبيه ورفعه اليه. (درمنثور )

ترجمه: فرمایا قتادہ تابعی جلیل نے یہود نے جو دشمن اللہ کے ہیں فخر کیا اور گمان کیا ساتھ قتل اور صاب عیسیsym-9 کے فرماتے ہیں قتادہ یہ گمان غلط ہے اس لیے کہ پہنچی ہے ہم کو یہ بات که فرمایا عیسی sym-9 نے اپنے حواریوں کو ۔ کون ہے تم میں سے جس پر شباہت میری ڈالی جائے اور قتل کیا جائے۔ عرض کی ایک نے میں ہوں اے رسول اللہ ﷺکے۔ پس قتل کیا گیا وہ شخص اور باز رکھا اللہ نے عیسیsym-9 کو قتل ہونے سے بایں طور کہ اٹھالیا اللہ نے ان کو زندہ آسمان پر۔

واخرج ابن جرير عن السدى قال ان بنی اسرائیل حصروا عيسى وتسعة عشر رجلا من الحواريين في بيت فقال عيسى لا صحابه من يا خذ صورتى فيقتل وله الجنة فاخذها رجل منهم و صعد بعيسى الى السماء فذالك قوله ومَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ

ترجمہ: اور اخراج کیا ابن جریر نے سدی سے۔ فرمایا سدی نے محاصرہ کیا یہود نے عیسیsym-9 کا بمعہ حواریوں کے بیچ ایک مکان کے پس فرمایا عیسی ا نے اپنے اصحاب کو تم میں سے کون قبول کرتا ہے صورت میری تا کر قتل کیا جائے بجائے میرے۔ اور واسطے اس کے جنت ہو پس قبول کیا ان میں سے ایک نے اور اُٹھائے گئے عیسی طرف آسمان اسمان کی کی ۔ ۔ میجی یہی ہے ہے معا مضمون خداوند کریم کے قولوَمَكَرُوا مَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ کا۔

واخرج ابن جرير عن ابی مالک وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لِيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ قَالَ ذَلِكَ عند نزول عيسى ابن مريم لا يبقى أحد من اهل الكتب الا امن به اور اخراج کیا ابن جریر نے ابی مالک سے بیچ تفسیر قول خداوند کریم وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ کے فرمایا انہوں نے یہ نزد یک نزول عیسی ابن مریم sym-9 کے یعنی اس زمانہ میں جو اہل کتاب ہو گا ایمان لائے گا ساتھ میسلی اسلام کے۔

واخرج عبد ابن حميد وابن المنذر عن شهر ابن حوشب في قوله وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِه عن محمد بن على بن ابي طالب هو ابن الحنفية قال ليس من اهل الكتب احد الا انته الملكة يضربون وجهه ودبره ثم يقال يا عدو الله ان عيسى روح الله وكذبت على الله وزعمت انه الله. ان عيسى لم يمت وانه رفع الى السماء وهو نازل قبل ان تقوم الساعة فلا يبقى يهودى ولا نصراني الا امن به.

ترجمہ: روایت ہے محمد بن علی بن ابی طالب سے بیچ تفسیر آیہ مذکور کے ہر ایک اہل کتاب کو ملائکہ ماریں گے اور کہیں گے کہ جھوٹ بولا تم نے کہ عیسی خدا ہے بلکہ میسی الظلام روح اور کلمہ خدا کا ہے اور عیسی sym-9 فوت نہیں ہوئے اور وہ اُٹھائے گئے آسمان پر پھر نازل ہوں گے پہلے قیامت کے پس گل اہل کتاب ایمان لائیں گے ساتھ عیسی sym-9 کے ۔

وكان من خبر اليهود عليهم لعائن الله وسخطه وغضبه وعقابه انه لما بعث الله عيسى ابن مريم بالبينت والهدى حسدوه على ما آتاه الله تعالى من النبوة والمعجزات الباهرات التي كان يبرء بها الاكمه والأبرص ويحي الموتى باذن الله ويصور من الطين طائرا ثم ينفخ فيه فيكون طائرا يشاهد طيرانه باذن الله عز وجل الى غير ذلك من المعجزات التي اكرمه الله بها واجراها على يديه ومع هذا كذبوه و خالفوه و سعوا في اذائه بكل ما امكنهم حتى جعل نبي الله عيسى الله لا يساكنهم في بلدة بل يكثر السياحة هو و أمه عليهما السلام ثم لم يقنعهم ذلك حتى سعو الى ملك دمشق في ذلك الزمان وكان رجلا مشركا من عبدة الكواكب وكان يقال لا هل ملته اليونان وانهو اليه ان في بيت المقدس رجلا يفتن الناس ويضلهم ويفسد على الملک رعاياه فغضب الملك من هذا وكتب الى نائبه بالقدس ان يحتاط على هذا المذكور وان يصلبه ويضع الشوك على رأسه ويكف اذاه عن الناس فلما وصل الكتاب امتثل والى بيت المقدس ذلك وذهب هو وطائفة من اليهود الى المنزل الذي فيه عيسى العلي وهو في جماعة من اصحابه اثنى عشر اوثلاثة عشرو قيل سبعة عشر نفرا وكان ذلك يوم الجمعة بعد العصر ليلة السبت فحصروه هنالك فلما احس بهم وانه لا محالة من دخولهم عليه او خروجه اليهم قال لا صحابه ايكم يُلقى عليه شبهى وهو رفيقي في الجنة فانتدب لذالك شاب منهم فكانه استصغره عن ذلك فاعاده ثانية وثالثة وكل ذلك لا ينتدب الا ذلك الشاب فقال انت هو والقى الله عليه شبه عيسى حتى كانه هو وفتحت روزنة من سقف البيت واخذت السنة من النوم فرفع الى السماء و هو كذالك كما قال الله تعالى إِذْ قَالَ اللَّهُ يَعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى الآية. فلما رفع خرج اولئك النفر فلما رأى اولنك ذلك الشاب ظنوا انه عيسى فاخذوه فى الليل وصلبوه ووضعو الشوك على رأسه واظهر اليهود انهم سعوا في صلبه وابتهجوا بذلك وسلم لهم طوائف من النصارى ذلك لجهلهم وقلة عقلهم ما عدا من كان في البيت مع المسيح فانهم شاهدوا رفعه واما الباقون فانهم ظنوا كما ظن اليهود ان المصلوب هو المسيح ابن مريم حتى ذكر وا ان مريم جلست تحت ذلك المصلوب وبكت ويقال انه خاطبها والله اعلم. وهذا كله من امتحان الله عباده لما له في ذلك من الحكمة البالغة وقد اوضح الله الامر و جلاه وبينه واظهره في القرآن العظيم الذي انزله على رسوله الكريم المؤيد بالمعجزات والبينات والدلائل الواضحات فقال تعالى وهو اصدق القائلين ورب العلمين المطلع على السرائر والضمائر الذي يعلم السر في السموات والارض العالم بما كان وما يكون ومالم يكن لو كان كيف يكون وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنَّ شُبِّهَ لَهُمُ اى را وا شبهه فظنوا انه اياه. ولهذا قال وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِّ. يعنى بذالك من ادعى انه قتله من اليهود ومن سلمه اليهم من جهال النصارى كلهم في شك من ذالك وحيرة وضلال وسعر ولهذا قال وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا ای و ما قتلوه متيقنين انه هو بل شاكين متوهمين بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا اى منيع الجناب لا يرام جنابه ولا يضام من لا ذببابه حَكِيمًا. اي في جميع ما يقدره و يقضيه من الامور التي يخلقها وله الحكمة البالغة والحجة الدامغة والسلطان العظيم والأمر القديم.

وقوله تعالى وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً. قال ابن جرير اختلف أهل التأويل في معنى ذلك فقال بعضهم معنى ذلك وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ موته يعنى قبل موت عيسى يوجه ذلك الى ان جميعهم يصدقون به اذا نزل لقتل الدجال فتصير الملل كلها واحدة وهى ملة الاسلام الحنيفية دین ابراهيم ال ذكر من قال ذلك حدثنا ابن حدثنا ابن بشار حد ثنا عبد الرحمن عن سفيان عن أبي حصين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتب إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِه قال قبل موت عيسى ابن مريم العلي . وقال العوفي عن ابن عباس مثل ذلك.

قال ابو مالك في قوله إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ قَالَ ذلك عند نزول عيسى بن مريم الله لا يبقى احد مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ.

وقال ابن جرير حد ثنى يعقوب حدثنا ابن علية حدثنا ابو رجاء عن الحسن وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِه قال قبل موت عيسى والله انه لحتى الآن عند الله ولكن اذانزل أمنوا به اجمعون.

وقال ابن ابى حاتم حدثنا ابي حدثنا على ابن عثمان اللاحقي حدثنا جويرية ابن بشير قال سمعت رجلا قال للحسن يا ابا سعيد قول الله عزوجل وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ قال قبل موت عيسى ان الله رفع اليه عيسى وهو باعثه قبل يوم القيمة مقامًا يؤمن به البر والفاجر وكذا .

قال قتاده و عبدالرحمن ابن زيد بن اسلم و غير واحد وهذا القول هو الحق كما سنبينه بالدليل القاطع ان شاء الله.

قال ابن جرير القول الصحيح في تفسير الآية انه لا يبقى احد من اهل الكتب بعد نزول عيسى العلم الا امن به قبل موته اى قبل موت عیسی العلم ولا شك ان هذا الذي قاله ابن جرير هو الصحيح لا نه المقصود من سياق الآية في تقرير بطلان ما ادعته اليهود من قتل عيسى وصلبه وتسليم من سلم لهم من النصارى لجهله ذلك فاخبر الله انه لم يكن الأمر كذلك وانما شبه لهم فقتلوا الشبه وهم يتبنون ذلك ثم انه رفعه الله اليه وانه باق حتى وانه سينزل قبل يوم القيامة كما دلت عليه الاحاديث المتواترة التي ستوردها ان شاء الله قريبا فيقتل مسيح الضلالة ويكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية يعنى لا يقبلها من احد من اهل الاديان بل لا يقبل الا الاسلام او السيف فاخبرت هذه الآية الكريمة انه يؤمن به جميع اهل الكتب حينئذ ولا يتخلف عن التصديق به واحد منهم و لهذا قال وإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ای قبل موت عيسى العلم الذي زعم اليهود ومن وافقهم من النصارى انه قتل وصلب وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً أى باعمالهم التي شاهدها منهم قبل رفعه الى السماء وبعد نزوله الى الارض فاما من فسر هذه الآية بان المعنى ان کل کتابى لا يموت حتى يؤمن بعيسى او بمحمد عليهما السلام فهذا هو الواقع وذلك ان كل احد عند احتضاره ينجلى له ما كان جاهلا به فيؤمن به ولكن لا يكون ذلك ايما نا نافعاله اذا كان قد شاهد الملك كما قال تعالى في اول هذه السورة وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الآن. الآية. وقال تعالى فَلَمَّا رَأَوُ بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَة (الآيتين) افقه الناس عبد الله ابن عباس وان روى عنه في تفسير هذه الآية ما يفهم منه ان ضمير قَبْلَ مَوْتِه راجع الى اهل الكتب لكنه ليس مذهبه ومراده بهذه الآية بل هو من جملة المباحث اليوميه و بیان امر واقعی لا نه روى عنه ايضًا في تفسير هذه الآية ما يدل على ان الضمير المذكور راجع الى عيسى الله كما عرفت و ستعرفه ايضاً و مذهبه ومراده بهذا الآية هذا لانه يؤيده السياق ويؤيده ماروى عنه في تفسير وَإِنَّهُ لَعِلْمُ للسَّاعَةِ اى نزول عيسى العليم قبل يوم القيمة في جميع الطرق وماروى عنه في تفسير هذه الآية غير هذا فعلم من هذا ان الاحتمال الاول ليس مرادا ههنا كما قال الحافظ ابن كثير لكن لا يلزم منه ان يكون المراد بهذه الآية هذا بل المراد بها ما ذكرنا ه من تقرير وجود عيسى العلي و بقاء حياته فى السماء وانه سينزل الى الارض قبل يوم القيمه ليكذب هؤلاء وهؤلاء من اليهود والنصارى الذين تباينت اقوالهم فيه وتصادمت و تعاكست و تناقضت وخلت عن الحق ففرط هؤلاء اليهود وافرط هؤلاء النصارى تنقصه اليهود بما رموه به وامه من العظائم واطراه النصارى بحيث ادعوا فيه ما ليس فيه فرفعوه في مقابلة اولئك عن مقام النبوة الى مقام الربوبية تعالى الله عما يقول هؤلاء وهؤلاء علوا كبيرا و تنزه و تقدس لا إله إلا هوا(حاشیہ)

حاشیہ

یہاں تک آیت مذکورہ اور ان کی مستند تفسیروں سے یہ ثابت کیا گیا کہ حضرت عیسیsym-9 کو رت مینی السلام کو یہود نے نہ تو سولی پر انکایات قتل کیا بلکہ وہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور ان کے ایک صحابی کو سولی پر لٹکایا گیا جس کی شکل حضرت عیسی sym-9 کی طرح ہوگئی تھی اور اس بات کا علم فقط آپ کے ساتھیوں کو تھا جو اسی کمرہ میں تھے ۔ باقی یہود اور بعض نصاری ان کے متعلق جو کچھ کہتے ہیں محض گمان وو ہم ہے۔ اس کے بعد احادیث صحیحہ سے اس مقصد کی تائید پیش کی گئی ہے جس کا خلاصہ ترجمہ آخر میں درج ہے۔ فیض عفی عنہ

حاشیہ ختم شد

ذکر الاحادیث:

الواردة في نزول عيسى بن مريم الى الأرض من السماء في آخر الزمان قبل يوم القيمة وانه يدعو الى عبادة الله وحده لا شريك له.

قال البخارى رحمة الله عليه فى كتاب ذكر الانبياء من صحيحه الملتقى بالقبول نزول عيسى بن مريم الله حدثنا اسحق ابن ابراهيم حدثنا يعقوب بن ابراهيم عن ابي صالح عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى يكون السجد ة خيراله من الدنيا وما فيها ثم يقول أبو هريرة اقرء وا ان شئتم وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا.

او كذا رواه مسلم عن الحسن الحلواني وعبد بن حميد كلا هما عن يعقوب به واخرجه البخاری و مسلم ايضا من حديث سفيان ابن عيينة عن الزهرى به واخرجاه من طريق الليث عن الزهري به.

ورواه ابن مردويه من طريق محمد ابن ابی حفصة عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ یوشک ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا يقتل الدجال ويقتل الخنزير و يكسر الصليب ويضع الجزية ويفيض المال وتكون السجدة واحدة الله رب العلمين قال ابو هريرة اقرأو ان شئتم وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ موته موت عیسی ابن مریم ثم يعيدها ابوهريرة ثلاث مرات طريق اخرى عن ابي هريرة قال الامام احمد حدثنا روح حدثنا محمد بن ابي حفصة عن الزهري عن حنظلة بن على الاسلمى عن ابي هريرة أن رسول الله قال ليهلن عیسی ابن مريم بفج الروحاء بالحج والعمرة او بنيتهما جميعا وكذا رواه مسلم منفردا به من حديث سفيان بن عيينة والليث بن سعيد ويونس بن يزيد ثلاثتهم عن الزهري به.

وقال احمد حدثنا يزيد حدثنا سفيان هو ابن حسين عن الزهري عن حنظلة عن ابي هريرة قال قال رسول الله ينزل عيسى بن مريم فيقتل الخنزير و يمحى الصليب وتجمع له الصلوة ويعطى المال حتى لا يقبل ويضع الخراج وينزل الروحاء فيحج منها او يعتمر أو يجمعهما قال وتلا ابو هريرة وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتب إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ الآية.

فزعم حنظلة ان ابا هريرة قال يؤمن به قبل موت عيسى العلم فلا ادرى هذا كله حديث النبي اوشنى قاله ابو هريرة وكذا رواه ابن ابی حاتم عن ابيه عن أبي موسى محـ محمد بن المثنى عن . سفيان بن حسين عن الزهري به طريق اخرى عن يزيد ابن هرون عن

قال البخاري حدثنا ابوبكر حدثنا الليث عن يونس عن ابن شهاب عن نافع مولى ابي قتادة الا نصارى ان ابا هريرة قال قال رسول الله كيف بكم اذا نزل فيكم المسيح بن مریم و امامكم منكم تابعه عقيل والاوزاعي وهكذا.

رواه الامام احمد عن عبد الرزاق عن معمر عن عثمان ابن عمر عن ابن أبي ذئب كلا هما عن الزهرى به واخرجه مسلم من رواية يونس والاوزاعی و ابن ابی ذئب به طريق اخرى قال الامام احمد حدثنا عفان حدثنا همام انبأنا قتادة عن عبد الرحمن عن ابي هريرة قال النبي ﷺ قال الانبياء اخوت العلات امها تهم شتى ودينهم واحد واني اولى الناس بعيسى ابن مريم لانه لم يكن نبي بيني وبينه وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض عليه ثوبان ممصران كان رأسه يقطروان لم يصبه بلل فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويدعو الناس الى الاسلام ويهلك الله في زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك الله في زمانه المسيح الدجال ثم تقع الأمانة على الأرض حتى ترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم ويلعب الصبيان بالحيات لا تضرهم فيمكث اربعين ثم يتو في ويصلى عليه المسلمون وكذا.

[font

وقال ابراهيم ابن طهمان عن موسى ابن عقبة عن صفوان بن الله . سليم قال قال رسول !

حديث آخر قال مسلم في صحيحه حدثني ظهير بن حرب حدثنا يعلى بن منصور حدثنا سليمان بن بلال حدثنا سهيل عن ابيه عن ابي رقان رسول الله قال قال رسول الله لا تقوم الساعة حتى تنزل رسول ) هريرةان الروم بالاعماق او بدابق فيخرج اليهم جيش من المدينة من خيار اهل الارض يومئذ فاذا تصافوا قالت الروم خلوا بيننا وبين الذين سبوا منا نقاتلهم فيقول المسلمون لا والله لا نخلى بينكم و بين اخواننا فيقاتلو نهم فيهزم ثلث لا يتوب الله عليهم ابدا ويقتل ثلث هم افضل الشهداء عند الله ويفتح الثلث لا يفتنون ابدا فيفتحون قسطنطنية فبينما هم يقسمون الغنا ثم قد علقوا سيوفهم بالزيتون الصاح فيهم الشيطان ان المسيح قد خلفكم في اهليكم فيخرجون وذلك باطل فاذا جاؤ الشام خرج فبينما هم يعدون للقتال يسوون الصفوف اقيمت الصلوة فينزل عيسى ابن مريم فيؤمهم فاذا راه عدو الله ذاب كما يذوب الملح في الماء فلو تركه لذاب حتى يهلك ولكن يقتله الله بيده فيريهم دمه في حربته

حديث آخر قال احمد حدثنا هشيم عن العوام بن حوشب عن جبلة بن سحيم عن موثر بن غفارة عن ابن مسعود عن رسول الله ﷺ قال لقيت ليلة اسرئ بی ابراهیم و موسى وعيسى عليهم السلام فتذاكروا الساعة فردوا امرهم الى ابراهيم فقال لا علم لى بها فردوا امرهم الى موسى فقال لا علم لى بها فردوا امرهم الى عيسى فقال اما وجبتها فلا يعلم بها احد الا الله وفيما عهد الى ربي عز وجل ان الدجال خارج ومعى قضيبان فاذا راني ذاب كما يذوب الرصاص قال فيهلكه الله اذار آني حتى ان الحجر والشجر يقول يا مسلم ان تحتى كافر افتعال فاقتله قال فيهلكهم الله ثم يرجع الناس إلى بلاد هم واوطانهم فعند ذلك يخرج يأجوج ومأجوج وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ. فيطتون بلادهم فلا يأتون على شيئى الا اهلكوه ولا يمرون على ماء الا شربوه قال ثم يرجع الناس يشكونهم فادعو الله عليهم فيهلكم ويميتهم حتى تجرى الأرض من نتن ريحهم وينزل الله المطر فيجترف اجساد هم حتى يفذفهم في البحر ففيما عهد الى ربي عز وجل ان ذلك اذا كان كذالك ان الساعة كالحامل المتم لا يدرى اهلها متى تفاجئهم بولا دها ليلا او نهاراً رواه ابن ماجة عن محمد بن بشار عن يزيد بن هرون عن العوام ابن حوشب به نحوه.

حديث اخر قال الامام احمد حدثنا يزيد بن هرون حدثنا حماد بن سلمة عن على ابن زيد عن ابي نضرة قال اتينا عثمان بن ابی العاص في يوم الجمعة لنعرض عليه مصحفالنا على مصحفه فلما حضرت الجمعة امرنا فاغتسلنا ثم اتانا بطيب فيطيبنا ثم جتنا المسجد فجلسنا الى رجل فحدثنا عن الدجال ثم جاء عثمان بن ابی العاص فقمنا إليه فجلسنا فقال سمعت رسول الله ﷺ يقول يكون للمسلمين ثلاثه امصار مصر بملتقى البحرين و مصر بالحيرة و مصر بالشام ففزع الناس ثلاث فزعات فيخرج الدجال فى اعراض الناس فيهزم من قبل المشرق فاول مصر يرده المصر الذي بملتقى البحرين فيصير اهلها ثلاث فرق فرقة تقول نقيم نشامه فننظر ما هو وفرقة تلحق بالاعراب وفرقة تلحق بالمصر الذي يليهم و مع الدجال سبعون الفا عليهم التيجان واكثر من معه اليهود والنساء و ينحاز المسلمون الى عقبة انيق فيبعثون سرحالهم فيصاب سرحهم فيشتد ذلك عليهم ويصيبهم مجاعة شديدة وجهد شديد حتى ان احد هم ليحرق وترقوسه فيا كله فبينا هم كذالك اذنادى مناد من البحر يا ايها الناس انا كم الغوث ثلاثا فيقول بعضهم لبعض ان هذا الصوت رجل شبعان و ينزل عيسى بن مريم عليهم السلام عند صلوة الفجر فيقول له اميرهم يا روح الله تقدم صل فيقول هذه الامة امراء بعضهم على بعض فيتقدم اميرهم فيصلي حتى اذا اذا قضى صلوته اخذ عيسى الحربته فيذهب نحوالد جال فاذا راه الدجال ذاب كما يذوب الرصاص فيضع حربته بين ثندوتيه(حاشیہ) ! فيقتله ويهزم أصحابه فليس يومئذ شئ يوارى منهم حما احدا حتى ان الشجرة تقول يا مؤمن هذا كافرو يقول الحجر يا مؤمن هذا کا فر تفرد به احمد من هذا لوجه

حاشیہ

ثند و تیہ۔ پستان مرد صراح یعنی جب میں اللہ نازل ہوں گے تو اپنا خنجر دجال کے دو پستانوں کے درمیان ماریں گے۔ اور اسے بلاک کر دیں گے۔ پھر تو اس کے لشکری جو ستر ہزار یہودی ہوں گے ہزیمت اٹھا کر بھاگنے کی کوشش کریں گے اور مسلمان ان کا تعاقب کریں گے۔ یہاں تک کہ اگر یہودی کسی درخت کی آڑ میں چھپا ہو گا تو درخت سے آواز آئے گی اے مسلم یہ کافر ہے اسے قتل کر ۔ فیض عفی عنہ

حاشیہ ختم شد

حديث اخر قال ابو عبد الله محمد . سننه حمد بن يزيد بن ماجة في حدثنا على بن محمد حدثنا عبد الرحمن المحاربي عن اسمعيل بن رافع عن ابي زرعة اليماني يحيى بن ابى عمرو عن ابي امامة الباهلي قال خطبنا رسول الله فكان اكثر خطبته حديثا حدثناه عن الدجال وحذرنا .

فكان من قوله ان قال لم تكن فتنة في الأرض منذ ذرا الله ذرية آدم العلم اعظم من فتنة الدجال وان الله لم يبعث نبيا الأحذر أمته الدجال وانا آخر الانبياء وانتم آخر الامم وهو خارج فيكم لا محالة فان يخرج وانا بين ظهرا نيكم فانا حجيج كل مسلم وان يخرج من بعدى فكل حجيج نفسه وان الله خليفتي على كل مسلم وانه يخرج من خلة بين الشام والعراق فيعيث يمينا ويعيث شما لا الا يا عباد الله ايها الناس فاثبتوا وانه ساصفه لكم صفة لم يصفها اياه نبى قبلى انه يبدأ فيقول انا نبي فلا نبى بعدى ثم يثنى فيقول انا ربكم ولا ترون ربكم حتى تموتوا وانه اعوروان ربكم عز وجل ليس باعوروانه مكتوب بين عينيه كافر يقرأه كل مؤمن كاتب وغير كاتب وان من فتنته ان معه جنة ونار افناره جنة وجنته نار فمن ابتلي بناره فليستغث بالله وليقرأ فواتح الكهف فتكون عليه برداً وسلاما كما كانت النار برداً وسلاما على ابراهيم وان من فتنته ان يقول لاعرابي رأيت ان بعثت لک امک و اباک اتشهد انی ربک فيقول نعم فيتمثل له شيطان في صوره ابيه وامه فيقولان يا بنى اتبعه فانه ربك. وان من فتنته ان يسلط على نفس واحدة فينشرها بالمنشار حتى يلقى شقين ثم يقول انظروا الى عبدى هذا فانى ابعثه الآن ثم يزعم ان له ربا غيرى فيبعثه الله فيقول له الخبيث من ربك فيقول ربي الله وانت عدو الله الدجال والله ما كنت بعد اشد بصيرة بك منى اليوم.

قال ابو الحسن الطنافسى حدثنا المحاربي حدثنا عبيد الله بن الوليد الوصافي عن عطية عن ابي سعيد قال قال رسول الله ذلك الرجل ارفع امتي درجة في الجنة قال قال ابو سعيد والله ما كنا ترى ذلك الرجل الا عمر بن الخطاب حتى مضى لسبيله ثم قال المحاربي رجعنا الى حديث أبي رافع قال وان من فتنته ان يأمر السماء ان تمطر فتمطر و يا مر الارض ان تنبت فتنبت وان من فتنته ان يمر بالحي فيكذ بونه فلا يبقى لهم ساعة الاهلكت وان من فتنته ان يمر بالحى فيصد قونه فيا مر السماء ان تمطر فتمطر ويأمر الأرض ان تنبت فتنبت حتى تروح مواشيهم من يومهم ذلك اسمن ما كانت واعظمه وامده خواصروادره ضروعا وانه لا يبقى شنى من الارض الا وطنه وظهر عليه الامكة والمدينة فانه لا يأتهما من نقب من نقابها الا لقيته الملئكة بالسيوف صلتة حتى ينزل عن الضريب الاحمر عند منقطع السبخة فترجف المدينة باهلها ثلاث رجفات فلا يبقى منافق ولا منافقة الاخرج اليه فينفى الخبث منها كما ينفى الكير خبث الحديد ويدعى ذلك اليوم يوم الخلاص فقالت ام شریک بنت ابی الفكر يا رسول الله فاين العرب يومئذ قال هم قليل وجلهم يومئذ ببيت المقدس وامامهم رجل صالح قد تقدم يصلى بهم الصبح اذ نزل عيسى بن مريم عليهما السلام فرجع ذلك الامام يمشى القهقرى ليتقدم عيسى اللي فيضع يده عيسى بين كتفيه ثم يقول تقدم فصل فانها لك اقيمت فيصلي بهم اما مهم فاذا انصرف قال عيسى افتحوا الباب فيفتح ووراه الدجال معه سبعون الف يهودى كلهم ذوسيف محلی و تاج فاذا انظر اليه الدجال ذاب كما يذوب الملح فى الماء وينطلق هاربا فيقول عيسى ان لي فيك ضربة لن تسبقني بها فسيدركه عند لد الشرقى فيقتله ويهزم الله اليهود فلا تبقى شئى مما خلق الله يتوارى به يهودى الا انطق الله ذلك الشئى لا حجرو لا شجر و لا حائط ولادابة الا الغرقدة فانها من شجرهم لا تنطق الا قال يا عبدالله المسلم هذا يهودى فتعال فاقتله قال رسول الله ﷺوان ايامه اربعون السنة كنصف السنة والسنة كالشهر والشهر كالجمعة وآخر ايامه كالشزرة يصبح يصبح ا احد كم على باب المدينة فلا يبلغ بابها الآخر حتى يمشى فقيل له كيف نصلی یا نبی الله في تلك الايام القصار قال تقدرون الصلوة كما تقدرون في هذه الايام الطوال ثم صلوا قال رسول الله ﷺ فيكون عيسى بن مريم فى امتى حكما عدلا واما ما مقسطا يدق الصليب ويذبح الخنزير ويضع الجزية ويترك الصدقة فلا يسعى على شاة ولا بعيرو ترتفع الشحناء والتباغض وتنزع حمة كل ذات حمة حتى يدخل الوليد يده في الحية فلا تضره ويقرب الوليد من الاسد فلا يضره ويكون الذئب في الغنم كانه كلبها وتملاء الارض من السلم كما يملاء الاناء من الماء وتكون الكلمة واحدة فلا يعبد الا الله و تضع الحرب اوزارها و تسلب قريش ملكها وتكون الارض لها نور الفضة وتنبت نباتها كعهد ادم حتى يجتمع النفر على القطف من العنب فيشبعهم ويجتمع النفر على الرمانة فتشبعهم ويكون الثور بكذا وكذا من المال ويكون الفرس بالدريهمات قيل يا رسول الله وما يرخص الفرس قال لا يركب لحرب ابدا قيل له فما يغلى الثور قال لحرث الأرض كلها وان قبل خروج الدجال ثلاث سنوات شدادا يصيب الناس فيها جوع شديد ويأمر الله السماء في السنة الأولى ان تحبس ثلث مطرها ويأمر الأرض فتحبس ثلث نياتها ثم يأمر الله السماء في السنة الثانية فتحبس ثلثى مطرها و يأمر الله الارض فتحبس ثلثى نباتها ثم يأمر الله عز وجل السماء في السنة الثالثة فتحبس مطرها كله فلا تقطر قطرة ويأ مر الأرض ان تحبس نباتها كله فلا تنبت خضراء فلا تبقى ذات ظلف الاهلكت الا ما شاء الله قيل فما يعيش الناس في ذلك الزمان قال التهليل والتكبير والتسبيح والتحميد يجرى ذلك عليهم مجرى الطعام.

قال ابن ماجة سمعت ابا الحسن الطنا فسى يقول سمعت عبد الرحمن المحار بي يقول ينبغي ان يرفع هذا الحديث الى المؤدب حتى يعلمه الصبيان في الكتب هذا حديث غريب جدا من هذا الوجه ولبعضه شواهد من احاديث أخر ولنذكر حديث النواس بن سمعان ههنا لشبهه بهذا الحديث .

قال مسلم في صحيحه حدثنا ابو حيثمة زهير بن حرب حدثنا بن الوليد بن مسلم حدثني عبد الرحمن بن يزيد بن جابر حدثني يحيى بن جابر الطائى قاضى حمص حدثني عبد الرحمن بن جبير عن ابيه جبير بن نفير الحضرمي انه سمع النواس بن سمعان الكلابي وحدثنا محمد مهران الرازي حدثنا الوليد بن مسلم حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن يحيى بن جابر الطائى عن عبد الرحمن بن جبير عن ابيه جبير بن نفير عن النواس بن سمعان قال ذكر رسول الله ﷺ الدجال ذات غداة خفض ورفع حتى ظنناه في طائفة النخل فلما رجعنا اليه عرف ذلك في وجوهنا فانا فقال ماشأ نكم قلنا يارسول الله ذكرت الدجال فخفضت فيه ورفعت حتى ظنناه في طائفة النخل قال غير الدجال اخوفني عليكم ان يخرج وانا فيكم حجيجه دونكم وان يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم انه شاب قطط عينه طافية كاني اشبهه بعبد العزى بن قطن من ادركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف انه خارج من خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شما لا يا عباد الله فاثبتوا قلنا يا رسول الله فما لبثه في الارض قال اربعون يوما يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر ايامه كايامكم قلنا يا رسول الله وذلك اليوم الذي كسنة ايكفينا فيه صلوة يوم قال لا اقدرواله قدره قلنا يارسول الله وما اسراعه في الارض قال كالغيث استد برته الريح فيأتي على قوم فيدعوهم فيؤمنون ويستجيبون له فيأمر السماء فتمطر والارض فتنبت فتروحعليهم سارحتهم اطول ما كانت ذرى واسبغه ضروعا وامده خواصر ثم يأتي القوم فيد عوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بايد يهم شنى من اموالهم ويأمر بالخربة فيقول لها أخرجي کنوزک فتتبعه كنوزها كيعا سيب النحل ثم يدعو رجلاً ممتكا شابًا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقتل ويتهلل وجهه ويضحك فبينما هو كذلك اذ بعث الله المسيح بن مريم العليم فينزل عند منارة البيضاء شرقی دمشق بین مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذا طاطأ رأسه قطر واذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلؤ ولا يحل لكافر يجد ريح نفسه الامات وينتهى طرفه فيطلبه حتی پدر که بباب لد فيقتله ثم يأتي عيسى الله قوما قد عصمهم الله منه فيمسح عن وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة فبينما هو كذالك اذا وحى الله عز وجل الى عيسى اني قد اخرجت عبادا لى لا يدان لاحد بقتالهم فحرز عبادي الى الطور ويبعث الله يأجوج ومأجوج وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فيمر أولهم على بحيرة طبرية فيشربون ما فيها ويمر آخرهم فيقولون لقد كان بهذه مرة فيحصر نبي الله عيسى واصحابه حتى يكون رأس الثور لاحد هم خير من مائة دينار لاحدكم اليوم فيرغب نبي الله عيسى واصحابه فيرسل الله عليهم النغف في رقابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة ثم يهبط نبي الله عیسی و اصحابه الى الأرض فلا يجدون في الارض موضع شبر الا ملأه زهمم وتتنهم فيرغب نبي الله عيسى واصحابه الى الله فيرسل الله طيرا كاعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله ثم يرسل الله مطرا لا يكن منه مدرولاً وبر فيغسل الارض حتى يتركها كالزلفة ثم يقال للارض اخرجی ثمرک وردی برکتک فیومئذ تاکل العصابة من الرمانة ويستظلون بقحفها ويبارك الله في الرسل حتى ان اللقحة من الابل لتكفى الفئام من الناس فبينما هم كذالك اذ بعث الله ريحا طيبة فتأخذهم تحت اباطهم فيقبض الله روح كل مؤمن وكل مسلم ويبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة.

ورواه الامام احمد واهل السنن من حديث عبد الرحمن بن يزيد بن جابر به وسنذكره ايضاً من طريق احمد عند قوله تعالى في سورة الانبياء حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ الآية.

حديث آخر قال مسلم في صحيحة ايضاً حدثنا عبد الله بن معاد العنبري حدثنا أبي حدثنا شعبة عن النعمان بن سالم قال سمعت يعقوب بن عاصم بن عدوة بن مسعود الثقفى يقول سمعت ت عبدالله بن عمرو وجاء ه رجل ما هذا الحديث الذى تحدث به تقول ان الساعة تقوم الى كذا و كذا فقال سبحان الله اولا اله الا الله او كلمة نحوهما لقد هممت ان لا أحدث احد ا شيئا أبدا أنما قلت انكم سترون بعد قليل امرا عظيما يحرق البيت ويكون ويكون ثم قال قال رسول الله يخرج الدجال في امتي فيمكث اربعين لا ادرى اربعين يوما او اربعين شهرا او اربعين عاما فيبعث الله تعالى عيسى بن مريم كانه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه ثم يمكث الناس سبع سنين ليس بين اثنين عداوة ثم يرسل الله ريحا باردة من قبل الشام فلا يبقى على وجه الارض احد في قلبه مثقال ذرة من خير ايمان الا قبضته حتى لو ان احدكم دخل كبد جبل لدخلته عليه . حتى تقبضه قال سمعتها من رسول الله قال فيبقى شرار الناس في خفة الطير واحلام السباع لا يعرفون معروفًا ولا ينكرون منكراً فيتمثل لهم الشيطان فيقول الا تستجيبون فيقولون فما تأمرنا فيأمرهم بعبادة الأوثان وهم في ذلك دار رزقهم حسن عيشهم ثم ينفخ فى الصور فلا يسمعه احد الا اصغى ليتا ورفع ليتا قال واول من يسمعه رجل يلوط حوض ابله قال فيصعق ويصعق الناس ثم يرسل الله او قال ينزل الله مطر كانه الطل او قال الظل نعمان الشاك فتنبت منه اجساد الناس ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَاهُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ ثم يقال يا ايها الناس هلموا الى ربكم وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَّسْئُولُونَ ثم يقال نجم اخرجوا بعث النار فيقال منكم فيقال من كل الف تسع مائة وتسعة وتسعين قال فذالك يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيْبًا وَ ذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساق ثم رواه مسلم والنسائي في تفسيره جميعا عن محمد بن بشار عن غنذر عن شعبة عن نعمان بن سالم به.

حديث آخر قال الامام احمد اخبرنا عبدالرزاق اخبرنا معمر عن الزهري بن عبد الله بن ثعلبة الانصاري عن عبدالله بن زيد الانصاري عن مجمع بن جارية قال سمعت رسول الله ﷺ يقول يقتل ابن مريم المسيح الدجال بباب لداو الى جانب لد ورواه احمد ايضا عن سفيان بن عيينة من حديث الليث والأوزاعي ثلاثتهم عن الزهري عن عبدالله بن عبيد الله بن ثعلبة عن عبد الرحمن بن يزيد عن عمه مجمع بن جارية عن رسول الله ﷺ قال يقتل ابن مريم الدجال بباب لد وكذا رواه الترمذى عن قتيبة عن ليث به وقال هذا حديث صحيح.

قال وفي الباب عن عمران بن حصين ونافع بن عيينة وابي برزة و حذيفة بن اسید و ابي هريرة و كيسان و عثمان بن ابی العاص و جابر وابي امامة وابن مسعود وعبد الله بن عمرو وسمرة بن جندب والنواس بن سمعان و عمرو بن عوف وحذيفة بن اليمان الله ومراده برواية هؤلاء ما فيه ذكر الدجال وقتل عيسى بن مريم عليهما السلام له فاما أحاديث ذكر يهم الدجال فقط فكثيرة جدا وهى اكثر من ان تحضى لانتشارها وكثرة روايتها في الصحاح والحسان والمسانيد وغير ذلك.

حديث آخر قال الامام احمد حدثنا سفيان عن فرات عن ابي الطفيل عن حذيفة بن اسيد الغفارى قال اشرف علينا رسول الله من عرفة ونحن نتذاكر الساعة فقال لا تقوم الساعة حتى ترد عشرايات (1) طلوع الشمس من مغربها (۲) والدخان (۳) والدابة (۴) وخروج يأجوج ومأجوج (۵) ونزول عيسى بن مريم (1) والدجال، وثلثة خسوف (۷) خسف بالمشرق و (۸) خسف بالمغرب و (۹) خسف بجزيرة العرب و (۱۰) نار تخرج من قعر عدن تسوق او تحشر الناس تبيت معهم حيث باتوا و تقيل معهم حيث قالوا و هكذا رواه مسلم واهل السنن من حديث القرار به ورواه مسلم ايضاً من رواية عبدالعزيز بن رفيع عن ابي الطفيل عن أبي شريحة عن حذيفة بن اسيد الغفاري موقوفا. والله اعلم. فهذه احاديث متواتره عن رسول الله من رواية ابي هريرة وابن مسعود و عثمان بن ابی العاص وابي امامة والنواس بن سمعان و عبدالله بن عمرو بن العاص ومجمع بن جارية وأبي شريحة و حذيفة بن أسيد ه و فيها دلالة على صفة نزوله ومكانه من انه بالشام بل بدمشق عند المنارة الشرقية وان ذلك يكون عند اقامة صلوة الصبح وقد بنيت في هذه الاعصار في سنة احدى واربعين و سبع مائة منارة للجامع الأموي بيضاء من حجارة منحوتة عوضا عن المنارة التي هدمت بسبب الحريق المنسوب الى صنيع النصارى عليهم لعائن الله المتتابعة الى يوم القيامة وكان اكثر عماراتها من اموالهم و قويت الظنون انها هي التي ينزل عليها المسيح بن مريم عليهما السلام فيقتل الخنزير ويكسر الصليب ويضع الجزية فلا يقبل الا الاسلام كما تقدم في الصحيحين وهذا من اخبار النبي بذالك و تقرير و تشريع و تسويغ له على ذلك في ذلك الزمان حيث تنزاح عللهم وترفع شبههم من انفسهم ولهذا كلهم يدخلون في دين الاسلام متابعين لعيسى العلي وعلى يديه ولهذا قال تعالى وَإِنْ مِنْ الإسلام أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ الآية وهذه الآية كقوله وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ للساعة وقرىء العلم بالتحريك اى امارة ودليل على اقتراب الساعة و ذلك لانه ينزل بعد خروج المسيح الدجال فيقتله الله على يديه كما ثبت في الصحيح أن الله لم يخلق داء الا انزل له شفاء ويبعث الله في ايامه يأجوج ومأجوج فيهلكهم الله تعالى ببركة دعائه وقد قال تعالى حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَا جُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدَ الْحَقُّ . الآية. ]

حاصل اس عربی عبارت کا بطریق اختصار یہ ہے کہ

حواری قتل اور صاب عیسیsym-9 کا نہیں ہوا جیسا کہ زعم یہود اور اکثر نصاری کا تھا بلکہ اس کو نوجوان کا جس پر شباہت مسیحsym-9 کی ڈالی گئی تھی اورمسیح sym-9 زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ اور دونوں ضمیریں بہ اور موتہ عیسیsym-9 کی طرف ہیں۔ آیت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الكتب الآية میں کیونکہ ماقبل میں ذکر انہی کا ہے۔ یا ضمیر بہ مضمون بالا کی طرف یعنی مرفوع ہونا عیسیsym-9 کا اور آثار صحابہ اور تابعین مثل ابن عباس والی بریرہ و عبد اللہ بن مسعود و مجاہد و قتادہ و غیر ہم کے اس پر دال ہیں۔ اور ضمیر بہ کی محمد یا مسیح sym-9 کی طرف پھیرنی اور موتہ کی اہل کتاب کی طرف یہ احتمال واقعہ میں درست ہیں لیکن آیت مذکورہ سے اس مقام میں مراد نہیں اور عیسیsym-9 اتریں گے آسمان سے قبل قیامت کے حاکم عادل توڑیں گے صلیب کو یعنی دین اسلام کے سوا اور دینوں کو باطل کریں گے دفع کرائیں گے خنازیر کو یعنی حکم قتل کا دیں گے۔ اہل کتاب سے سوا دین اسلام کے اور کچھ قبول نہ کریں گے ۔ مال اس قدر ہو گا کہ کوئی قبول نہ کرے گا ۔ لذت عبادت کی ایسی ہوگی کہ ایک سجدہ کل دنیا سے زیادہ لذیذ ہوگا حسد، بغض، عداوت اور باقی صفات ذمیمہ نہ رہیں گی۔ شیر، اونٹ ، ، چیتا چیتا ، ، گائے گائے، ، بھیڑیا ، بکری، سانپ ، لڑکے ایک دوسرے کے کے ۔ ساتھ چریں گے اور کھیلیں گے ۔ ضرر نہ دیں گے۔ عیسیsym-9 حج وعمرہ ادا کریں گے۔ مسیح سے قبل دجال کے زمانہ میں سخت قحط سالی ہوگی ۔ اس زمانہ میں طعام کی جگہ تبلیل، تکبیر اور تسبیح سے حیات بسر کریں گے۔ جب آسمان کے نازل ہوں گے تو امام مہدیsym-5 کو نماز میں آگے کھڑا کریں گے اور خود بھی بعد کو امام ہوں گے۔ قتل کریں گے دجال کو جو ایک شخص معین ہے۔ اور ہلاک ہو گی قوم یا جوج ماجوج ان کی برکت سے ۔

واخرج البخاري في تاريخه والطبراني عن عبد الله بن سلام قال يدفن عيسى بن مريم مع رسول الله و وصاحبيه فيكون قبره رابعااخراج کیا بخاری نے بیچ تاریخ اپنی کے اور طبرانی نے عبداللہ بن سلام سے ۔ فرمایا عبداللہ بن سلام نے دفن کیے جائیں گے عیسی بیٹے مریم کے ساتھ محمد اور شیخین ۔ مکے ساتھ محمد ﷺ اور شیخین کے پس ہو گی قبر مبارک ان کی چوتھی۔

واخرج الترمذي وحسنه عن محمد بن يو بن يوسف بن عبدالله بن بن يوسف سلام عن ابيه عن جده قال مكتوب في التوراة صفة محمد و عيسى بن مریم یدفن معۀاور اخراج کیا ترندی نے ساتھ تحسین کے فرمایا عبداللہ بن سلام نے کہ صفت محمد ﷺ کی تو رات میں موجود ہے اور یہ بھی تو رات میں ہے کہ عیسی ابن مریم خاتم النبین ﷺ کے ساتھ مدفون ہوں گے ۔

عن عبدالله بن عمرو قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى بن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له يمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت ويدفن معى في قبرى فاقوم انا و عيسى بن مريم في قبر واحد بين ابي بكر و عمر . رواه ابن الجوزي في كتاب الوفاء

روایت کیا ابن جوزی نے بیچ کتاب وفا کے عبد اللہ بن عمرو سے کہا انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اتریں گے عیسی بن مریم آسمان ہے۔ پس نکاح کریں گے اور صاحب ولد ہوں گے۔ جب فوت ہوں گے مدفون ہوں گے ساتھ میرے پس کھڑے ہوں گے ہم دونوں ایک قبر (یعنی مقبرہ ) درمیان ابو بکر اور عمر کے۔

اور روایت کیا ترمذی نے بعض اس حدیث کا جس میں روایت کیا بعض راویوں سے وقد بقى في البيت موضع قبر . یعنی قبر مبارک کے پاس جگہ خالی ہے واسطے عیسیsym-9 کے۔ محقق ابن جرزی فرماتے ہیں پاس عمر کے مدفون ہوں گے ۔ کیونکہ ہم کو خبر دی

ہے بہتیروں نے حجرہ شریف کے اندر جانے والوں میں سے کہ خالی جگہ عمر کی جب میں ہے۔

آثار دربارہ مرفوع ہونے جسم مسیح اور احادیث نزول عیسیsym-9 کی سوا ان کے جو بیان کر چکا ہوں اور بھی بکثرت موجود ہیں جس کا جی چاہے تفسیر ابن کثیر اور تفسیر اور منشور اور تفسیر ابن جریر کو ملاحظہ فرمائے ۔ اگر ان سے بھی اطمینان حاصل نہ ہو تو کنز العمال و مند امام احمد وغیرہ کتب احادیث کو مطالعہ فرمائے ۔ مگر مومن فہیم کے واسطے اس قدر آثار اور احادیث سے جو بیان کر چکا ہوں ۔ یہ احادیث متواترہ ہیں۔ نزول مسیح کا جو ستلزم ہے رفع کو سب میں اتفاقی ہے زیادہ بیان ہونا افعال اور صفات کا بعض حدیثوں میں اور بعضوں میں کمی وجہ اس کی یہ ہے کہ جس قد ر ا و صافہ ل یہ ہے کہ جس قدر اوصاف بذریعہ وحی آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوئے ان کو بیان فرمایا۔ سامع نے ان کو یا درکھا پھر جب اور معلوم ہوئے ان کو پھر بیان فرمایا ۔ علی ہذا القياس وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى

إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحی ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض راویوں میں سے بعض صفات اور احوال مروی ہیں دوسرے سے کچھ اور کبھی ایک راوی کی روایت میں کمی بیشی ہوا کرتی ہے۔ اس کی بھی یہی وجہ ہے۔

احادیث نزول مروی ہیں ان اصحاب کبار و غیر ہم سے ابو ہریرہ، عبداللہ بن مسعود، عثمان بن ابی العاص ، ابی امامہ نواس ابن سمعان ، عبداللہ بن العاص ، مجمع بن جاریہ، ابی شریحہ، حذيفة بن اسید، جابر، سمرة بن جناب عمر و بن عوف، عمران بن حصین ، کیسان، حذیفہ بن یمان ، عائشہ عبداللہ بن عباس ، السن رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ۔

تو ضیح :

معنی آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الكتب ان کا یہ ہے کہ اہل کتاب موجودہ میں سے وقت نزول مسیح کے قبل از موت ان کے ہر ایک ایمان لائے گا ساتھ واقعیت مضمون بالا کے۔ یعنی اُٹھایا جانے ان کے آسمان کی طرف۔ اور ساتھ اس کے کہ وہ نبی صادق گذرے میں اپنے وقت میں ۔ یہود گذشتہ ہمارے مفتری اور کافر بہ نبی صادق تھے۔ یہی مراد ہے آوَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِہہے ۔ اس لیے آنحضرت ﷺ یا ابو ہریرہ وقت بیان حدیث بخاری والذی نفسی بیده لیو شکن نا کے آیت مذکورہ کو نزول مسیح ابن مریم پر شاہد لاتے ہیں۔ اور اس استشہاد سے ہر ایک عاقل ادنی تقدیر سے معلوم کر سکتا ہے کہ اس حدیث مذکور میں جس کا مضمون یہ ہے۔ قسم ہے مجھ کو اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ضرور ہی اُتریں گے تم میں مریم کے بیٹے حاکم بشرع محمدی منصف ہو کر اور خنزیر کو حلال جاننا اور صلیب پرستی یہ سب امور جوان کے پیچھے ان کی شرع میں داخل سمجھے گئے ہیں ان سب کو موقوف کریں گے۔ یہاں تک کہ ان کے عہد میں ملت اسلام ہی باقی رہے گی اور محبت عبادت اور اعراض دنیا سے ایسا ہوگا کہ ایک سجدہ بہتر سمجھا جائے گا سب دنیا اور دنیوی اشیاء سے مراد وہی ابن مریم ہے جو نبی وقت اور صاحب انجیل ہے۔ ورنہ بیان حد حدیث مذکور کے وقت استشہاد آنحضرت ﷺ یا ابو ہریرہ کا بایت مذکورہ کیا معنی رکھتا ہے ۔

ظاہر ہے کہ جب آیت مذکورہ میں اس نبی وقت کا ذکر ہے تو حدیث میں بھی ضرور اس کے نزول سے حلفی طور پر خبر دی گئی ہے۔ جیسا کہ استشہاد بایت مذکورہ وقت بیان حدیث کے ارادہ مثیل مسیح کو باطل کرتا ہے ایسا ہی عدم وقوع ان امور کا زمانہ حال میں جو حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔ جناب مرزا صاحب اس حدیث شریف کا مصداق بتادیل مثیل اپنے زعم میں تو بنے مگر موقوف کرنا صلیب پرستی اور خنز پرخوری کا اور سب ملتوں کا ایک ملت اسلام ہی ہو جانا اور کثرت مال کی یہاں تک کہ اس کو کوئی قبول نہ کرے۔ اور ایک سجدہ کا عزیز تر ہونا سب دنیا سے یہ علامات نزوال صحیح کہاں؟ اور نیز اگر آپ مراد ہیں حدیث مذکور سے تو آپ کے پیدا ہونے میں کسی کو حضار مجلس نبوی ﷺ سے تعجب اور استعظام ہی کیا تھا تا کہ آپ اُٹھا کر بعد ازاں نزول اور قرب کو لام تاکید اور نون ثقیلہ سے مؤکد کر کے یعنی لیو شکن فرما کر حاضرین کا تر و ودفع فرماتے رہے۔

جاننا چاہیے کہ یہ معنی آیۃوَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتب ان کا جو لکھ چکا ہوں یہی معنی کیا ہے ابو ہریرہ رے نے۔ اور ایک روایت میں عبداللہ بن عباس نے بھی ۔ اور اس معنی کو ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بشہادت سیاق کلام یعنے چسپاں ہو نے اس معنی کے ماقبل سے ترجیحدی ہے۔ اور دوسرا معنی جو ایک روایت میں ابن عباس رضی اللہ تعالی منہا سے مروی ہے وہ بیان ایک وجہ کا ہے وجوہ آیت میں سے۔ اور واقعی ہونا اس معنی کا مقتضی اس کا نہیں کہ مراد آیتہ سے وہی ہو۔ واقعیت مضمون اور ہے اور مراد ہونا کلام سے اور ۔ وہ معنی یہ ہے کہ ہر ایک اہل کتاب اپنی موت سے پہلے عیسی بن مریم sym-9 کے ساتھ جب عند الموت متجلی ہوں گے ایمان لائے گا۔

چوتھی وجہ بطلان اس مذہب کی یہ آیت یعنیوَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ بھی ہے کیونکہ بمنطوقہ دال ہے نزول مسیح بن مریم پر جو ستلزم ہے رفع جسمی کو ۔

پانچویں وجہ بطلان کی وعدہ فرمانا للہ تعالیٰ کا ہے مسیح بن مریم سے کہ میں تجھ کو یہود کے ہاتھ سے بچاؤں گا۔ تو پھر تعجب ہے کہ بعد تسکین بخشی کے اس قول سےیعیسی إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَییہود کے ہاتھ میں گرفتار کرا کر کو بگو رسوا کرنا اور مار پیٹ کے بعد صلیب پر انہی کے ہاتھ سے دلانا اتنی تکلیف کے بعد صلیب سے زندہ اتارنا ۔ آیا یہی ثمره ایفاء عہد خداوندی اور اثر اجابت دعاؤں مسیحیہ کا نکلا جو رات بھر روتے چلاتے مانگی جاتی تھیں ۔

چھٹی وجہ بطلان کی اتصال رفع کا ساتھ کام بَلْ کے یعنیبَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِکہنا اور حسب مزعوم جناب مرزا صاحب یوں چاہیے تھا بَلْبَقى حيا ثم توفه الله ورفعه اليه.

ساتویں وجہ آيَةٍوَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِہے یعنی با تحقیق نزول مسیح ابن مریم اسباب علم قیامت میں سے ہے۔اخرج الفریابی و سعید بن منصور و مسدد و عبد بن حمید و ابن ابی حاتم والطبراني من طرق عن ابن عباس رضی الله تعالى عنهما في قوله وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ قال خروج عيسى قبل يوم القيمة واخرج عبد بن حميد عن ابي هريرة الله وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ قال خروج عيسى يمكث في الارض اربعين سنة تكون تلك الاربعون اربع سنين يحج ويعتمر. واخرج عبد بن حميد وابن جرير عن مجاهد الله وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ للساعة قال آية الساعة خروج عيسى بن مريم قبل يوم القيامة واخرج عبد بن حميد وابن جرير عن الحسن رضى الله عنهما وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ قال نزول عيسى واخرج ابن جرير من طرق عن ابن عباس رضى الله عنهما وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ للسَّاعَةِ قال نزول عیسی (تفسیر در منثور )

حاصل کیا ہے کہ عبداللہ ابن عباس اور ابو ہریرہ اور مجاہد اور حسنsym-7 سے بطرق متعدده مروی ہے کہ ضمیرإِنَّهُجو آیتوَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِمیں ہے میسی ال کے نزول کی طرف پھرتی ہے وقال الاحمد حدثنا ها شم بن القاسم حدثنا شيبان عن عاصم بن النجود عن ابى رزين عن ابي يحيى مولى بن عقيل الانصاري قال قال ابن عباس رضي الله عنهما لقد علمت آية من القرآن الع وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ للسَّاعَةِ قال هو خروج عيسى بن مريم العلي قبل يوم القيمة و قوله سبحانه وتعالى وَإِنَّهُ لَعِلُمٌ للسَّاعَةِ تقدم تفسير ابن اسحاق ان المراد من ذلك ما يبعث به عيسى الله من احياء الموتى وإبراء الاكمه والابرص و غير ذلك من الاسقام و في هذا نظروا بعد منه ما حكاه قتادة عن الحسن البصري و سعيد بن جبير ان الضمير في انه عائد على القرآن بل الصحيحانه عائد على عيسى العلم فان السياق في ذكره ثم المراد بذلك نزوله قبل يوم القيمة كما قال تبارك و تعالى وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِه اى قبل موت عيسى ال ثم يوم القيمة يكون عليهم شهيدا ويؤيد هذا لمعنى القرأة الأخرى وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ اى امارة و دليل على وقوع الساعة. قال مجاهد وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ خروج عيسى ابن مريم عليهما السلام قبل يوم القيمة. وهكذا روى عن ابي هريرة وابن عباس وابي العالية وابي مالك وعكرمة والحسن وقتادة والضحاك و غير هم وقد تواترت الاحاديث عن رسول الله انه اخبر بنزول عيسى الله قبل يوم القيامة أماما عادلا اله ( تفسير ابن كثير )

حاصل روایت کی امام احمد نے عبداللہ ابن عباس سے اسناد صحیح کے ساتھ کہ فرمایا انہوں نے وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ اے خروج عیسی sym-9 یعنی نزول ان کا قبل و قیامت کے۔ یہی مروی ہے مجاہد - ابو ہریرہ۔ ابو عالیہ ابو مالک مکرمہ حسن ۔ قتادہ ۔ ضحاک و غیر ہم ہے۔ اور یہی صحیح ہے بنظر ماقبل کے اور اس کو تا ئی دیتی ہے دوسری قرأۃ ۔ اور آیۃ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ان احادیث نزول کی بطریق تو اتر بھی اس کی تائید کرتی ہیں۔ پس ضمیر الہ کی قرآن کی طرف پھیرنی غیر صحیح ہے۔ سیاق اور اقوال صحابہ اور تابعین کی رو سے۔ اور عیسی sym-9 کی طرف پھیرنی باعتبار زندہ کرنے ان کے مردوں کو وغیرہ وغیرہ یہ بھی غیر صحیح ہے بلحاظ تفسیر صحابہ اور تابعین کے اور بلحاظ سیاق ایضا بنظر دقیق - اعلم بالقرآن ابن عباس بروایت ابی صالحبھی اس آیت میں یونہی فرماتے ہیں ۔

آٹھویں وجہمَا اتَكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُواہے۔

آنحضرت ﷺ نے من جملہ علامات قیامت کے خروج شخص معین سمی به دجال یہود میں سے اور مسیح ابن مریم کا بعد نزول اس کو قتل کرنا بیان فرمایابمقتضائےآیت مذکورہ ہم کوايمان بما جاء به الرسول العلم واجب اور انکار اس کا موجب کفر ہے۔ خیال رکھنا چاہیے کہ رفع جسمی مسیح اور نزول کا ثبوت چونکہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ متواترہ سے نہایت واضح طریق پر ہو گیا تو بعد اس کے مومن بما جاء به الرسول الله کو ہرگز ہرگز متوجہ ہونا انا جیل کی طرف بباعث دھوکا کھانے یہود اور نصاریٰ کے اس مقام میں بوجہ القاء شبہ جائز نہیں ۔ اس دھوکا کھانے اور تشکیک کی وجہ سے تو اتر ان کا بھی قابل اعتبار نہیں کیونکہ اجتماع شکوک سے یقین حاصل نہیں ہوتا۔ واقعہ قتل اور صلب مسیح جوانا جیل میں مذکور ہے اور ایسا ہی افتراء یہود کہإِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ کہتے تھے ان کی تکذیب نصوَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهِ لَهُمُ اور مَا قَتَلُوهُ يَقِينَا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهِ إِلَيْهِ سے ہو چکی جیسا کہ مسیح ابن مریم نے خود برنباس کو فرما دیا تھا کہ اسے برنباس چونکہ حواری اور والدہ ہماری دنیاوی محبت سے مجھے ابن اللہ کہتے تھے یعنی اس معنی سے جو کسی کے لائق نہیں ۔ خدا مجھے وند نے چاہا کہ قیامت کے دن مجھ پر ہنسی نہ ہو۔ تو دنیا میں یہود کی مصلوبیت اور موت سے بدنام نہ کرنا۔ لیکن یہ غلطی تا وقت شریف آوری محمد رسول اللہ ﷺ کے ہوگی ۔ جب وہ تشریف لائیں گے تو اس غلطی کو دفع فرمائیں گے۔ انجیل بر عباس اور یس کا قول نامہ یہود امیں اس مضمون پر دال ہے کہ لوگ صاحب یعنی مسیح پر بنیں گے اور حجب محمد رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہوں گے تب لوگوں کو سزا دیں گے۔ مطابق اس پیشین گوئی مسیح کے قرآن کریم نے برات مسیح کی تہمت قتل اور مصلوبیت سے بیان فرمائی جیسا کہ اصل واقعہ یعنیرفع مسیح علی السماءکو ذکر کیا ۔ کیونکہرفع الی اللہ اوررفع علی السماء مساوق ہیں ۔

الغرض کتب سابقہ میں سے جس مضمون کی تکذیب قرآن کریم یا احادیث صحیحہ متواترہ سے ہوگئی ہو ہرگز قابل اعتبار نہیں ۔ اور جس مضمون کا مصدق قرآن کریم ہو اس کی نقل بطریق استشہاد لا من حيث الاقتصادجائز ہوگی جیسا کہ حدیث بخاری بلغوا عنى ولو اية وحدثوا عن بنى اسرائيل ولا حرجان کے محمل کی یہی صورت ہے اور جس کی تصدیق اور تکذیب دونوں سے قرآن کریم ساکت ہو۔ اس کے بارہ میں مومن کو چاہیے کے مطابق حدیث شريفلا تصدقوهم ولا تكذبوھم کے نہ تصدیق اس کی کرے اور نہ تکذیب۔ (تفسیر ابن کثیر )

بناء علیہ جس مقام میں روایت اناجیل کے مطابق نص قرآن کریم یا احادیث متواترہ کے ہو نقل اس کی جائز ہے جیسا کہ رسولوں کے اعمال ۔ پہلا باب - ۹ درس۔ اور وہ یہ کہہ کے ان کے دیکھتے ہوئے اوپر اٹھا لیا گیا اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپا لیا۔ اور اس کے جاتے ہوئے جب وے آسمان کی طرف تک رہے تھے دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس کھڑے تھے۔ اور کہنے لگے۔ اسے جلیلی مردو تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو۔ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھالیا گیا ہے اسی طرح جس طرح تم نے آسمان کو جاتے دیکھا پھر آوے گا اس میں فقرہ ( پھر آوے گا ) مطابق آيَةٍ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِمن اورآيَةٍ وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِاور احادیث نزول کے ہے۔

سوال:افقہ الناس ابن عباس نےمُتَوَفِّیک کا معنی مُمِیتک کا لیا ہےبناء علیہ یعیسی انی متوفیک کا متن یہ ہوا کہ اے عیسی میں تجھے مارنے والا ہوں ۔

اس طرحفَلَمَّا تَوَ فَيُتَنِي كُنتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ میں بھی ۔ اس سے جب وفات مسیح بن مریمsym-9 ثابت ہو چکی تو بالضرور بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں رفع سے رفع روحانی لینا پڑے گا۔ اور احادیث نزول مسیح واجب التاویل ہوں گی ۔ کیونکہ مرنے کے بعد ارواح مقر بین بشہادتقِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ اور فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِی جَنَّتِی اور احادیث صحیحہ کے جنت میں داخل ہوتی ہیں ۔ بعد ازاں بموجب آیة وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَ حِينَ جنت سے نکالی نہیں جاتیں۔ بناء علیہ مسیح ابن مریمsym-9 بعد مر جانے کے دوبارہ دنیا میں ہرگز نہیں آسکتے۔

جواب:افقہ الناس ابن عباس کا فیصلہ ہم کو بسر و چشم منظور ہے ۔ مگر پہلے آپ علی رؤس الا شہاد اقرار کر لیویں کہ ہم بھیافقہ الناس کے قول سے منحرف نہ ہوں گے۔ انسان معاملہ سے پہچانا جاتا ہے۔ ناظرین ازالہ اور ایام اس سے معلوم کر سکتے ہیں۔ کیا آپ نے قصہ عو وایلیا سے جو کتاب سلاطین میں مذکور ہے اپنے دعوٹی پر تمسک نہیں پکڑا اور اس کتاب میں صعود ایلیابجسده العنصر کی جو مذکور ہے پھر اس سے منحرف نہیں ہوئے ۔ یا مسیح کے مصلوب ہونے میں پہلے اناجیل اربعہ سے کام لے کر بعد ازاں رفع جسمی سے جو کتاب اعمال میں صراحتہ مذکور ہے منحرف نہیں ہوئے۔ یا تو فٹی کے معنی لینے میں ابن عباس کو اعلام بالقرآن سمجھ کر مقتدی بنا کے اور ان کی اتباع کا دم بھر کے بعد ازاں آیتبَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ اور ایساوَلَكِن شُبِّهَ لَهُمُ اور فَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِي اورقَبْلَ مَوْتِهِ کے معنی میں جووَانُ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِہ میں مذکور ہے ۔ اور ایسا ہیوَإِنَّهُ لَعِلْمٌ للسَّاعَةِ ان سب میں قول افقہ الناس ابن عباس کو سلام نہیں کہا۔ یا اجماع امت مرحومہ کو عقیدہ رفع جسمی مسیح پر پہلے اجماع کو راند ازالہ اوہام میں اور اہل اجتماع کو حزب نادان اور بے حیا ایام الصلح میں قرار دے کر پھر سب کے عقیدہ کو مطابق اپنے عقیدہ کے بدائل والبیہ ازالہ اور ایام الصلح میں ثابت نہیں کیا۔ اور احادیث نزول اور ظہور دجال کو پہلے بعض کو ضعیف اور بعض کو مضطرب اور بعض کو مخالف توحید ٹھہرا کر بعد ازاں انہیں کا مصداق خود ہی نہیں بن گئے۔

بعد اس کے اولاً تو یہ معروض ہے کہ اثر مذکور ابن عباس کا علی بن ابی طلحہ کے مروی ہے۔ اور اہل الجرح والتعدیل کو اس میں کلام ہے۔ چنانچہ قسطلانی نے تضعیف اور عدم ثبوت ملاقات اس کی کو ساتھ ابن عباس کے ذکر کیا ہے۔ اور تقریب میں ہے۔ علی بن ابي طلحة سالم مولى بنى العباس سكن حمص ارسل عن ابن عباس ولم يره من السادسة صدوق قد يخطى انتهى. وفى الخلاصة قال احمد له اشياء منكرات. وفى الميزان قال احمد بن حنبل له اشياء منكرات. قال دحيم لم يسمع على ابن ابي طلحة التفسير عن ابن عباس .

اور ثانیا بر تقدیر صحت کے مثبت اس امر کا نہیں ہو سکتا کہ معنی مذکور کو یعنی برتق مميتک مذہب ابن عباس کا قرار دیا جائے ۔ بلکہ جائز ہے کہ من جملہ دیگر مباحثات یومیہ صحابہ کرام کے بطریق بیان احتمال ہو۔ پہلے مفسرین کے زمانہ میں چونکہ اسالیب تقریر شیحہونے میں نہیں آئے تھے۔ لہذا تحریر احتمالی ان کی تقریر بالجزم سے مشتبہ ہو جاتی ہے۔ مثال ابن عباس آیتفَامْسَحُوا بِرُءُ وَسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ کے متعلق فرماتے ہیںلا اجد فی كتاب الله الا المسح لكنهم ابوا الا الغسل يعنی قرآن کریم میں بغیر سح پاؤں کے میں نہیں پاتا ہوں لیکن یہ لوگ یعنی صحابہ کرام نہیں مانتے مگر غسل کو ۔ اب جو شخص حقیقت روز مرہ مباحثہ صحابہ سے واقف ہوگا وہ سح قدموں کو مد جب ابن عباسsym-8 کا سمجھ لے گا ۔ حالانکہ ابن عباس sym-8 کو ایک اشکال کی تقریر کرنی منظور ہے تا کہ امتحان کریں کہ علماء عصر اس اشکال کے دفع میں کیا آپ کا وہی غسل قدمین ہے۔مانحن فیہ میں بھی محتمل ہے کہ تفسیرمُتَوَفِّيكَ مُمِیتک کے ساتھ اسی قبیل سے ہو اور یہ کوئی خیال نہ فرمائے کہ اس تقریر پر نقل سے امان اُٹھ جائے گا کیونکہ محتمل مذکور پر آثار صحیحہ ابن عباس کے جو متعلقبَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ اوروَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ ا اوروَإِنَّهُ لَعِلْمٌ للسَّاعَةِ کے بالا سنا لکھ چکا ہوں شاہد ہیں ۔ ماسوا ان کے احادیث نزول مرویہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا کی بھی مؤید احتمال مذکور ہیں۔وذکر العيني. وروى ابو نعيم في كتاب الفتن من حديث ابن عباس ان عيسى اذ ذك يتزوج في الارض فيقيم بها تسع عشرة سنة الى ان قال وعن ابن عباس يتزوج الى قوم شعيب و ختن موسى العلي وهم جذام فيولد له فيهم ويقيم تسع عشرة سنة . انتهى

اور ثالثا اگر ابن عباس بنیاد تعالی عنہا کا مذہب بھی مانا جائے تا ہم عقیدہ اجماعیہ اسلامیہ کو مفر نہیں کیونکہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا بلحاظ نصبَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِجس میں موت طبعی کا معنی لینا ممکن نہیں۔ جیسا پہلے گزر چکا ہے۔ آیتیعیسیٰ اِنِي مُتَوَفِّیک وَرَافِعُكَ إِلَی میں بعد ارادہ معنی[font کے قائل به تقدیم و تاخیر ہے۔ اخرج اسحق بن بشرو ابن عساكر من طريق جو هر عن الضحاك عن ابن عباس في قوله إني مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ من رافعك ثم متوفيك في آخر الزمان (در منثور ) حاصل ۔ ابن عباس سےقول الله تعالیٰ انِي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَی میں تقدیم و تاخیر مروی ہے یعنی یوں عبارت آئی ہے کہ رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان اور ایسا ہی تفسیر عباسی میں بھی ۔

اور ظاہر ہے کہ کوئی باعث قول تقدیم و تاخیر کا آیہ مذکورہ میں سوائے تطبیق کے مابین نصوص کے نہیں ۔ شواہد تقدیم و تاخیر کے آیات قرآنیہ میں یہ ہیں ۔ قول باری تعالیٰ فَقَالُو ارِنَا اللَّهَ جَهْرَةًمیں بھی ابن عباس سے تقدیم و تاخیر مروی ہے یعنی انہوں نے یوں تفسیر کیفقالوا جهرة ارنا الله اور ابن حاتم نے قتادہ سےقوله تعالى فَلَا تُعْجِبُكَ أَمْوالُهُمْ وَأَوْلَا دُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمُ بِهَا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا میں تقدیم و تاخیر روایت کی ہے۔ یعنی فرمایا کہ اصل عبارت اس طرح ہےفلا تعجبك اموالهم ولا اولادهم في الحيوة الدنيا انما يريد الله ليعد بهم بها في الآخرة. اور مجاہد سے قوله تعالى انزِلَ عَلَى عَبْدِهِ الكتب و لَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا قَيْمًا عن انزل على عبده الكتب قيما ولم يجعل له عوجاط مروی ہے۔ اور قتادہ سےقوله سبحانه إِنِّي مُتَوَ فِيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى مَیں اِنِي رَافِعُكَ إِلَيَّ وَ مُتَوَ فِيكَ مروی ہے۔ اور عکرمہ سے[font میںلهم عذاب شديد يوم الحساب بما نسوا مروی ہے۔ اگر زیادہ مرویات صحابه کرام و تابعین وغیره درباره تقدیم و تاخیر دیکھنے منظور ہوں تو بالتفصیل تفسیر اتقان سے ملاحظہ فرمائیں۔ و نیزفَاطِرِ السَّمَوَاتَ وَالْأَرْضِ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمُ كَذَالِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ ان میں معطوف باعتبار تحقق خارجی کے معطوف علیہ سے مقدم ہے۔ اور قرآن شریف میں ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ جن میں معطوف معطوف علیہ سے تحقق میں مقدم ہے۔

الغرض آپ کو قول ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا کامُتَوَفِّيكَ مُمِيتُک مفید نہیں ہو سکتا جب تک قول ان کا متعلقفَلَمَّا تَوَفَّینی کے ہیں ساقط عن الاعتبار ٹھہرائیں ۔ یا ہم قول ابن عباس کا متعلقفَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِی کے جو ہال ہو ارادہ معنی غیر موت پر بیان کرتے ہیں۔ اخرج ابو الشيخ عن ابن عباس إن تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ يقول عبيدك قد استوجبوا العذاب بمقالتهم وان تغفر لهم اى من تركت منهم ومد في عمره (یعنی ميلى ) حتى اهبط من السماء إلى الارض يقتل الدجال فنزلوا عن مقالتهم ووحدوك واقروا انا عبيد وأن تغفر لهم حيث رجعوا عن مقالتهم فانك انت العزيز الحكيم. ( جلال الدین سیوطی در منثور )

ایسا ہی تفسیر عباسی میں توفیتَنِی کا معنی رفعتنی مذکور ہے۔ اگر آپ کو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا کا مسلک لینا ضروری ہے تو قبول فرماویں یہ تو نہ یہ تو نہ ہو کہ تارک صلوٰۃ نے تمسک آيةوَلَا تَقْرَبُوا الصَّلوة سے پکڑا۔ دوسرے نے کہا میاں ابھی مضمون پورا نہیں ہوا۔

[font کو بھی ساتھ ملاحظہ کرو ۔ جس کا مضمون یہ ٹھہرا کہ حالت نشہ میں نماز مت پڑھو تو متمسک (اول) نے کہا کہ سارے قرآن پر تمہارا باپ عمل کرتا ہوگا ۔ ہم سے اگر ایک آیت پر بھی ہو تو بڑی بات ہے۔ قول ابن عباس اگر قابل احتجاج ہے تو اس کو اوّل سے آخر تک ملاحظہ فرماویں۔ پھر دیکھئے رفع جسمی کس طرح کھلے کھلے طور پر بشہادت تفسیر ابن عباس ثابت ہوتا ہے۔

اب ناظرین بانصاف سمجھ چکے ہوں گے کہ تفسیر ابن عباس کا پیرو اور متبع کون ہے۔ اور یہ بھی ظاہر ہو گیا ہو گا کہ مرزا صاحب نے اتباع ابن عباس کو تو بجائے خود چھوڑا الٹا بہتان صحابی پر باندھا۔ جیسا کہ امام بخاری کے اوپر کہ وہ بھی حدیث نزول ابن مریم میں مثیل ابن مریم مراد لیتے ہیں بلکہ سب ائمہ سلف کا یہی اعتقاد تھا یعنی وفات مسیح ابن مریم ۔

میں کہتا ہوں(حاشیہ) ! امام بخاری تو احادیث نزول کے تراجم میں آیات سورہ مریم اور آل عمران کو لا کر بعد ازاں بیان احادیث فرماتے ہیں۔

حاشیہ

دوسری وجہ بہتان کی امام بخاری پر وہ حدیث ہے جس کو امام بخاری نے تاریخ میں بیان کیا ہے جس کو میں میں لکھے آیا ہوں۔ تیسری وجہ بہتان کی کہنا بخاری کا باب نزول عیسی بن مریم ۔ اگر مذہب امام بخاری کا مثیل میلی ہوتا تو استعارہ کے طور پر بیان کرتا ۔ بلکہ تصریح بہ مذہب خود ضروری تھی ۔ ۱۲ منہ ۔

حاشیہ ختم شد

اب ہر ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ اگر آیات قرآنی میں ذکر مسیح بن مریم کا ہے جو نبی وقت تھے تو ان احادیث میں بھی ان کا ذکر ہوگا ۔ اور اگر آیات میں ذکر خیر جناب مرزا صاحب کا ہے تو احادیث میں بھی مثیل بن مریم مراد ہوگا۔ میں نہایت متعجب ہوں کہ مرزا صاحب ازالہ اوہام میں بڑے زور سے علماء اسلام پر اعتراض کرتے ہیں ( کہ حدیث بخاری والذی نفسی بیدہ ان میں مولوی صاحبان فقرو يكسر الصليب اور الياس يقتل الخنزیر میں تو تاویل سے کام لیتے ہیں اور ابن مریم سے مثیل ان کا مراد لینے میں ماڈل کو ملحد قرار دیتے ہیں ) ۔ معروض خدمت ہے کہ علماء اسلام کس طرح پر تاویل کر سکیں۔

بعد ازاں کہ نصوص قرآنیہ سے بہ تفسیر ابن عباس رفع جسمی اور نزول مسیح صاحب انجیل کے ساتھ ایمان لا چکے ہوں ۔ اور پیشن گوئیاں حلفی اور تاکیدی طور پر اسے مسیح کے بارہ میں آنحضرت ﷺ سے بطریق تو اتر معنوی سن چکے ہوں جس میں امکان تاویل بے مثیل بھی گنجائش نہیں رکھتا ۔ مثالا شب معراج مسیح ابن مریم کا بوقت گفتگو ہونے کے قیام قیامت کے بارہ میں فرمانا کہ تعیین وقت تو میں نہیں کر سکتا مگر میرے ساتھ میرے رب نے عہد کیا ہے کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک تو زمین پر اتر کر دجال اور قوم یا جوج ماجوج کو ہلاک نہ کرے گا ۔ ( تفسیر در منثور اور ابن کثیر اور خازن )اخرجه احمد جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا اسناد اور متن اس حدیث کا احادیث نزول میں ۔ جس کا اول یہ ہےقال احمد حدثنا هشيم عن العوام بن حوشب عن جبلة بن سحيم عن مؤثر بن غفارة عن ابن مسعود عن رسول الله ﷺ قال لقيت ليلة اسرى بی ابراهیم و موسى وعيسى عليهم السلام اور بھی روایت کیا اس حدیث کو ابن ماجہ نے ساتھ اسناد دوسرے کے ۔ شاید مرزا صاحب ہی نے شب معراج میں بیان معاہدہ رب کا جواب مذکور ہوا ہے کیا ہو۔ اس مضمون کا اقرار کرنا بہ نسبت باقی افترا آت کے ان کے سامنے کچھ بڑی بات نہیں ۔

الغرض علماء اسلام بعد ايمان بما جاء به الرسول اللہ کس طرح حدیث مذکور میں ابن مریم سے مثیل ان کا مراد لیں اور ایمان اپنا ضائع کریں اور دنیا میں بھی مولوی کے مولوی رہیں۔ جناب مرزا صاحب کو اتنا فائدہ تو ہے کہ لقب میسونیت اور شان مہدویت چند سادہ لوحوں کے سامنے حاصل کیا ۔ علماء بے چاروں کو کیا فائدہ؟ جناب عالی ! یہی وجہ ہے کہ علماء کی ابن مریم سے مثیل ان کا نہ لینے کی ۔ باقی رہا فقر ويكسر الصليب اور ایسا ہی ويقتل الخنزیر میں تعد رحقیقت دلیل ہے ارادہ مجاز کی ۔ شاید آپ کے نزد یک وقوع مجاز ایک فقرہ کلام میں دلیل ہے سب کے سب فقرات کلام کے مجاز ہونے پر ۔ ایسے خانہ زاد اصول کے ایسے ہی نتائج ہوا کرتے ہیں۔

اور رابعاتطبیق بین الآیات میں بعد اس کے کہ استشہاد بہ محاورہ قرآنی و عرف قرن اول ولغت کے ہو کچھ ضرور نہیں کہ وجہ تطبیق ایک ہی معنی اور احتمال میں منحصر رکھی جاوے۔ ابن عباس اور سائر مفسرین صحابہ میں سے بعد مراعاة مذکور کے وجوہ تطبیق میں اقوال متعددہ بیان فرماتے ہیں ۔ بلکہ بحسب لا يكون الرجل فقيها كل الفقه حتى يرى للقرآن وجوها كثيرة کے کمال تفسير دانی کا معیار عدم حصر کو ٹھہرایا گیا ہے۔

اب ہم لفظ توفی کا معنی سوائے معنی موت کے قرآن کریم اور لغت سے ثابت کر کے وجہ تطبیق بین الآیات بیان کرتے ہیں ۔ توفی ماخوذ ہے وفا تے ۔ وفا کا معنی پورا ہونا کہتے ہیں ۔ فلائی شے کافی وافی ہے یعنی پوری ۔ ایفاء کا معنی پورا کرنا۔ اور تَوَفَّى تَفَعل ہے بمعنی استفعال کے یعنی استیفا ، جس کا ترجمہ پورا لینا ۔ لغت کی کتابیں مثل صحاح اور صراحاور قاموس وغیرہ۔ اور ایسا ہی تفاسیر سب متفق ہیں معنی مذکور پر ۔ اور یہ امر بھی نہایت ہی قابل غور ہے کہ لغت اور تفاسیر میں مستعمل فیہ کو بیان کرتے ہیں ۔ گو کہ موضوع نہ نہ بھی ہو ۔ بلکہ فرد ہی اس کا ہو۔ یا کسی نوع کا علاقہ معنی موضوع نہ سے رکھتا ہو ۔ جیسا کہ لفظ اللہ جس کا معنی معبود مطلق ہے واجب ہو یا ممکن اور و یا ممکن اور اللہ بمعنی معبودات مطلقہ کے ۔ کواکب ہوں یا بت یا آدمی ۔

حالانکہ بہت اہل لغت اور مفسرین بھی تفسیر اللہ کی امام کے ساتھ کر دیتے ہیں۔ صراح وغیرہ کتب لغت کو الہ کے متعلق دیکھیں ۔ اور تفسیر ابن عباس کو متعلق اموات غيرُ أَحْيَاءٍ کے ملاحظہ فرمائیں کہاَمْوَاتٌ. اَصْنَام لکھتے ہیں ۔ ہر سلیم الطبع پر ظاہر ہے کہ اضنام یعنی بہت معنیموضوع لیہ لفظ اللہ کا نہیں بلکہ ایک فرد ہےمعنی موضوع لہ کا جو معبودات مطلقہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔ بودے لوگ اردو خوان زخمی مولوی ایسے مقامات کو دیکھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ یعنی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ بھی بیان معنی وضعی کا ہے بلکہ اس کو حصر کے طور پر بہ نسبت اس مطلق کے موضوع لہ قرار دیتے ہیں ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ مطلق کو فرد سے ممتاز ہیں کر سکتے ۔ الغرض ۔ الفاظ مشتقہ میں معنی حقیقی کبھی اور ہوتا ہے اورمستعمل فیہ اور ۔مانحن فیہ میں بھی مرزا صاحب اور ان کے اتباع کو یہی دھوکا لگا ہوا ہے۔ لغت کی کتابوں میں جو دیکھا کہ توفی کا معنی موت بھی ہے۔ اور صحیح بخاری میں مُتَوَفِّیک کی تفسیر ابن عباس رضی للہ تعالی تمہائے مُمِیٹک سے کی تو اس اشتبا ہندکور میں پڑ گئے ۔

میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ اللہ اور اموات کا معنی اصنام ہی خیال کرتے ہوں گے ۔ ورنہتوفی سے معنی موت ہی کا لینے میں ایسے مستحکم نہ ہوتے۔ فی الواقع یوں ہے کہ توفی اوراستیفاء میں بجز پورا لینے کے اور کچھ ماخوذ نہیں ۔توفی نے جس کے ساتھ تعلق پکڑا ہے دیکھا جائے گا وہ کیا چیز ہے۔ روح ہو گی یا غیر روح ۔ اگر روح ہے تو پکڑ نا روح کا پھر منقسم ہے دو قسموں پر ۔ ایک تو اس کا پکڑنا مع الامساک یعنی پکڑنے کے بعد نہ چھوڑ نا اس کا نام تو موت ہے۔ موت کے مفہوم میں دو امر توفی کے مفہوم سے علاوہ اعتبار کیے گئے ۔ ایک روح دوسرا امساک ۔ دوسرا قسم توفی کا نیند ہے جس کے مفہوم میں قید روح اور ارسال یعنے چھوڑ دینا ماخوذ ہے۔

الحاصل ۔ موت اور نیند دونوں فرد ہوئے توفی کے ( تفسیر کبیر ، ابن کثیر بشرح کرمانی صحیح بخاری ) اور متعلق توفی کا اگر غیر روح ہو تو وہ بھی یا جسم مع الروح ہوگا جیسا کہ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ یا اور چیز جیسا کہ توفیت مالی (قاموس ) بیان اس امر کا جو مذکور ہو چکا ہےیعنی توفی کا معنی فقط کسی شے کا پورا لے لینا ہے۔ عام اس سے کہ وہ شے روح ہو یا غیر روح اور بر تقدیر روح ہونے کا مقید بار سال ہو یا با مساک نص سے بھی ثابت ہے یعنی قرآن کریم کی اس آیت سے جس سے خداوند کریم کو اظہار تصرف اور قدرت اپنی کا اس پیرایہ میں منظور ہے کہ اللہ تعالی ارواح کو بعد القبض کہیں تو بند کر رکھتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا اللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتُ فِي مَنَامِهَا : الله تعالى قبض فرماتا ہے ارواح کو حالت موت اور نیند میں فقط اتنا ہی فرق ہے کہ موت میں امساک اور نیند میں ارسال ماخوذ ہے۔

اس آیت میں تو استعمال لفظ توفی کا مشترک میں ظاہر ہے یعنی فقط قبض اور ارواح مداول ہے لفظ نفس کا اور آیتوَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّكُمْ بِاللَّيْلِ ہمیں مستعمل سے نیند میں جو فرد سے مفہوم توفی کا امین قبض کا۔ اور آیت وَالَّذِينَ يَتَوَفَّوْنَ منكم ، وغیرہ آیات میں مدلول اس کا موت ہے جو جملہ افراد ایتوفی کے بے یعیسی انی متوفیک ورافعك إلى میں اور ایسا بنفَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِی میں بھی معنی موت کا مطابق ابعض نظائر قرآنیہ اور غیر قرآنیہ کے جیسا کہ توفى الله زيدا توفى الله عمرو اتوفى الله بكراء فيه وو غیر والیا جاتا۔ اگر اسبَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ من رفع بی سی بن مریم پر شہادت نہ دیتی ہیں کہ لکھ چکا ہوں ۔ یا آیاتو ان مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ اوروَإِنَّهُ لَعِلْمٌ للساعة ۔ اور احادیث صحیحہ جو دال میں اس رافع بھی پر است از الما وارد نہ ہوتیں ۔ کیونکہ جب ایک شخص کا مخصوصہ اس سے حکم معلوم ہو جائے تو معلوم آیا۔ حکمہ معلوم ہو جائے تو عموم آیات میں جو بر خلاف اس حکم کے ہوں داخل داخل نہیں ہوگا۔ اور نہ وہ لفظ جو مستعمل اس کے بارہ میں ہے محمول ہوتا ہے اپنے نظائر پر ۔ دیکھو آدم اعضا کی پیدائش کا حال جبنی خَلَقَهُ مِنْ تَوَاب سے معلوم ہو چکا تو پھر أَلَمْ نَخْلُقُكُمْ مِنْ مَاءٍ مَّهِينٍ اور الیسا خُلِقَ مِنْ مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ والتَّرَائِبِ سے مستنے ہے اور قول قائل کا خلق الله آدم محمول نہ ہو گا اپنے نظائر پر چینیخلق الله زيداً خَلَقَ الله بكراً وغيره وغير و جو کروز باتے زائد ہیں۔

یعنی یہ نہ کیا جائے گا کہ کیفیت خاتمت آدم و غیرہ بنی نوع یکساں ہے۔ ایک معنی کا بکثرت مستعمل فیہ ہونا دلیل ارادہ اس کی درصورت قیام قرینہ صارفہ کے جو یہاں پراسبَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ لَی ایں ہو سکتی ۔ اب ہر ایک صاحب فہم اور منصف پر ظاہر ہو گیا ہوگا کہ[font ازالہوَرَافِعُكَ إِلَی اور ایسا ہیفَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی میںتَوَفَّى سے معنی موت کا لینا اور تقدیم تاخیر نہ کہنی اور معنی موت کے ارادہ پر شہادت نظائر مثلوَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وغیره وغیره پیش کرنی منشا اس کا بغیر از جہالت اور کیا قرار دیا جائے۔ تعجب ہے کہ جناب مرزا صاحب اوہام اور[font میں کہیں تو استعمال لفظ توفیٰ کو حسب محاورہ قرآن کریم کے معنی موت ہی ں میں منحصر کہتے ہیں اور کہیں وجہ اطلاق توفیٰ کی نیند پر النوم اخ الموت کو قرار دیتے ہیں۔ ایک تو دھوکا موضوع لہ کے فرد کو مین موضوع نہ سمجھنے کا کھایا۔ اور دوسرا اطلاق المطلق على بعض افرادہ کو از قبیلاطلاق الفرد على الفرد سمجھ لیا۔ (ازالہ ص ۳۳۲) اور پھر بعد دعوی حصر مذکور کے قائل باستعمال توفی نیند میں بھی حسب محاورہ قرآن کریم ہوئے ۔

انی مُتَوَفِّيكَ میں یا تو معنی موت کا لے کر مع قول بہ الغرض - آية يعيسى إني : تقدیم تاخیر فی الآیۃ اورفَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِی سے معنی رفع کا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا کی طرح لینا پڑے گا۔ یا ہر دوجاہ منی قبض کا لیں گے۔

پھر مکر رعرض کرتا ہوں کہ جب حسب نصبَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِکے رفع جسمی اور حیات الی الآن مسیح کی ثابت ہو چکی تو پھر آپ کو تاویل احادیث پر کون سا باعث رہا۔ کیونکہ باعث تاویل تو یہی تھا کہ آپمُتَوَ فِيْكَ اور فَلَمَّا تَوَفینی سے موت مسیح ثابت کر کے رفع کو قرب منزلت اور نزول کو ظہور پر محمول فرماتے تھے۔ اور مسیح بن مریم سے بطریق استعارہ مثیل مسیح لیتے تھے۔ تشریح سب آیات کی حسب محاوره قرآن کریم و شهادت سیاق سے اثبات حقیت عقیدہ اجماعیہ کا کامل طور پر طور پر ہو گیا لکھ چکا ہوں ۔ بعد عدم تعذر معنی حقیقی بلکہ واجب الا رادہ ٹھہر نے اس کے وقوع استعارات کی اگر لاکھوں نظیر یں آپ بیان فرما دیں تو بھیمانحن فیہمیں دلیل ارادہ مجاز نہیں ہو سکیں گی ۔

مرزا جی اور ان کے مریدوں سے ایک دلچسپ واجبی مطالبہ:

میں کہتا ہوں آپ علماء کرام سے بڑے اصرار سے ہر معنی پر شہادت محاورہ قرآنیہ طلب فرماتے ہیں آپ لفظ عیسی بن مریم سے مثیل ان کا مراد لینے پر محاورہ قرآنی یا سوائے ما محسن فیه یعنی احادیث نزول کی کوئی حدیث صحیح بتلاویں ہرگز نہیں بتلا سکتے ۔ نہایت حیرت انگیز تو یہ امر ہے کہ آج تک مسیح موعود یعنی آپ نے فقرہ يَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَكْسُرِ الصَّلِيبَ کے سارے کرہ زمین کے اوپر سے فقط اپنے معتقدوں کو مسلمان کیا۔ کیا بغیر ان کے یہود و نصاری و ہنود سب حق پر ہیں۔ اور یہی بے چارے خزر میر خور اور صلیب پرست علاوہ تمام دنیا کے تھے جن کو آپ ہی نے قتل اور کسر فرما کر موحد بنایا ؟ ہرگز نہیں۔ یہ لوگ تو اؤل ؟؟ گ تو اول ہی سے موجد تھے ۔ سوال : ابن عباس کی تفسیر جو تعلقبَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ اوروَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ اوروَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ اورفَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کے ہے۔ بخاری میں تو مذکور نہیں۔ اس میں فقطمُتَوَفِّیک کی تفسیر مُمِیتُک مذکور ہے۔

سوال: آيةيعيسى إِنِّي مُتَوَ فِيْكَ وَرَافِعُكَ اِلیمیں تقدیم تاخیر کہنا اور ترتیب قرآنی کو بگاڑنا اور ایسا ہیفَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیسے معنی رفع کا مردا لینا یہ الحاد اور تحریف ہے۔ قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک بلکہ صحاح ستہ میں بھی انہی معنی کا یعنی موت کا التزام ہے ۔ ازالہ اوہام کے ص ۲۰۱ اور ص ۹۲ کا خلاصہ یہ ہے ۔

جواب: میں نے پہلے ہی عرض کیا تھا کہ آپ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا کی اتباع سے آخر کار منحرف ہوں گے۔ اب ویسا ہی ظاہر ہوا ۔ مزید برآں( العیاذ باللہ ) ان کو ملحد اور محترف بھی ٹھہرایا۔ جیسا کہ باقی مفسرین اہل اسلام کو سلف سے خلف تک جنہوں نے معنی قبض یا رفع کا لیا ہے۔ جناب عالی ! اتنی جرات اور گستاخی ایک عالمی مسلمان کے بارہ میں نہ چاہیے چہ جائے کہ صحابہ کرام اور آئمہ سلف کے حق میں ۔

؟ ناظرین ! آیات قرآنیہ کو جن میں وقوع تقدیم و تاخیر سب کے نزدیک واجب التسلیم ہے جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں ملاحظہ فرمالیں(حاشیہ) اور معنی رفع اور قبض توفی سے مراد لینا بشهادت قرآن کریم پہلے اس رسالہ میں ثابت ہو چکا ہے ۔ آپ ازالہ اوہام کے صفحہ ۳۰۳ میں فرماتے ہیں۔ غرض یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اترے گا۔ نہایت افو اور بے اصل بات ہے۔ صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں۔ بھلا اگر ہے تو کم سے کم تین سو (۳۰۰) یا چارسو ( ۴۰۰ ) صحابہ کا نام لیجئے جو اس بارہ میں اپنی شہادت ادا کر گئے ہیں۔ ورنہ ایک یا دو آدمی کے بیان کا نام اجماع رکھنا سخت بگو دیانتی ہے۔

حاشیہ

فَقَالُوا أَرِنَا اللَّهُ جَهْرَةً کے تفسیر ابن عباس وغیر ہ وغیر ہ - ۱۲ منہ

حاشیہ ختم شد

میں عرض کرتا ہوں قرآن اور حدیث اور اجماع امت مرحومہ تو اس بیان کی شہادت دے رہے ہیں۔ پھر معلوم نہیں لغو اور بے اصل کیوں ٹھہرایا جاتا ہے ۔ ہاں ۔ آپ کے مسیح موعود ہونے میں بے شک خلل انداز ہیں۔ اسی خلل اندازی کی وجہ سے سب اہل اسلام سلف سے خلف تک ملحد قرار دیئے گئے ۔[font جناب! آپ پہلے کسی مسئلہ اجماعیہ میں روایات صحابہ باسانید اور بقید اسامی تین چار سوتک بیان فرماویں بعد ازاں ہم تین چار ہزار تک بیان کریں گے ۔ اجی حضرت ! آپ ایسے مغالطوں اور دھوکا دینے سے اردو خوانوں اور عوام کو کس لیے گمراہ کرتے ہیں۔ صحابہ کرام کے نام رسالہ ہذا میں آپ دیکھ چکے ہوں گے ۔ پھر جب تک آپ پانچ دس کا بھی انکار ثابت نہ کریں تو اجماع منقوض نہ ہو گا حضرت من ! صحابہ کو قرآن کریم کے واقعات منصوصہ کے ساتھ ایمان تھا۔ اور چونکہ اہل انسان اس مضمون کو آیت مذکورہ سے بلا تکلیف اور بلا احتمال غیر رفع جسمی کے سمجھ چکے تھے تو پھر کیا ضرورت واقع ہوئی جو موجب ذکر اس مضمون کا بین الصحابہ اختلافیات کی طرح ہو۔ بلکہ یہی بڑی دلیل ہے اس کے مجمع علیہ ہونے پر۔ آپ ہی کسی قصہ میں قصص قرآنیہ سے جو صریح طور پر سمجھے گئے ہیں مشال قصہ اصحاب کہف میں اقوال صحابہ کے دس تک بھی ذکر فرمائیں۔ پانچ سو کی آپ کو معافی ہے ۔ اسی لیے آج تک ذکر نزول مسیح نص محکم قرآنی سے علماء کرام تلاش کرتے آئے۔ بخلاف صعود جسمی کے کہ وہ تو صراحہ مذکور تھا۔

جواب: مسیح ابن مریم کے ذہن میں بعد مشورہ یہود کے یہی امر موجب قلق واضطراب ہوا کہ یہود ہی حسب تشاور میرے متوفی اور ذریعہ وفات ہوں گے ۔ لہذا پہلے ہی سے اللہ جل شانہ نے یہ تقدیم لفظمُتَوَ فِيْكَ سے دفع مرکوز خاطر ان کا بصیغہ حصر فرما کر پھر رافعک سے تسلی بخشی ۔ اگر چہ مُتَوَ فِیک تحقیق میں مؤخر ہے ۔

جاننا چاہیے کہ فرق ہے ما بین ساتو فک اوراِنِّی مُتَوَفِّیکمیں ضمیر متکلم کا مندالیہ اور مشتق یعنی متوفی کا مند بنانا مفید حصر ہے یعنی میں ہی تیرا متوفی ہوں ۔ ایسا نہیں جیسا تمہارے ذہن نشین ہوا ہے کہ میرے توفی کا ذریعہ یہود ہوں گے۔ بلاغت کا مقتضی یہی ہے کہ حسب حال مخاطب القاء کلام کیا جائے ۔ بخلاف سائو ٹک کے کہ وہ مطابق حال مخاطب نہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسا ہی فرق ہے ما بینانِي مُتَوَفِّيكَ بصیغہ مشتق اور انی ساتو تک میں کہ مضارع فقط حدوث فعل توفی سے خبر دیتا ہے بخلاف صیغہ مشتق کے کہ مزید براں صفت مختصہ پر حسب محاورہ دلالت کرتا ہے یعنی تمہارا مارنا میری ہی صفت مختصہ اور میرے ہی ذمہ پر ہے۔ مثال یہ کہ میں ہی تجھ کو دوں گا۔ اس میں اور اس قول میں کہ میں ہی تیرا دینے والا ہوں فرق ہے کہ پہلا فقط وعد ہ دینے پر مشتمل ہے

اور دوسرا مزید بر آن افادہ اس مضمون پر کہ دینا تمہارا میرا ہی کام اور میری ہی شان ہے۔}}

الغرضإنِّي مُتَوَفِّیک سے وہ اطمینان رہی مستفاد ہوتی ہے جو دوسرے صیغوں میں نہیں۔ علی ہذا القیاس ۔ معنی قبض کو بھی حسب تقریر مذکور ن کو بھی حسب تقریر مذکور خیال فرماویں۔ اسی طرح یہود کا کہنا إِنَّا قَتَلْنَا مفید اختصاص اور حصر ہے جو ان کے فخر کا موجب حسب زعم ان کے قرار دیا گیا۔ یعنی ہم نے ہی یہ بڑا کام کیا نہ کسی اور نے ۔ لہذا اقتلنا پر بغیر انا کے کفایت نہیں کی ۔ اور پھر متعلق فعل یعنی مسیح کو موصوف بنا کر ذکر کیا ہے۔یعنی إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِکہا اوراِنَّا قَتَلْنَاپر اکتفا نہ کی ۔ یہ دلیل ہے اس پر کہ مناط افتراء اور موجب خوشی ان کا فقط صدور فعل نہیں بلکہ وقوع قتل کا محل خاص پر یعنی مسیح بن مریم جو رسول خدا کہلاتے ہیں۔ بعد تمہید ہذا اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید اور تکذیب میں جو وَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُفرمایا۔ بعد ادنی تامل کے ناظرین کی سمجھ میں آ سکتا ہے کہ اس کی یعنی وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کی مناط بھی اسی نسبت وقوع پر ہے یعنی مسیح کو انہوں نے قتل نہیں کیا نہ نسبت صدوری پر یعنی صدور نفس قتل پر ۔ اس تقدیر سے بعد غور کے محاورہ دان عقلمند پر بطلان تقریر جناب مراز اصاحب کا جوازالہ اوہام میں متعلقوَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُکے انہوں نے لکھی ہے ظاہر ہو سکتا ہے کہ انہوں نے مناط تردید کی نسبت صدوری کو سمجھا ہے اور آیات مذکورہ کی تفسیر میں روایات ان لوگوں سے لی ہیں جن کی تکذیب اور تحلیل قرآن کریم انہیں آیات سے فرماتا ہے۔

افسوس ! جہالت ایسی مرض ہے کہ ہزاروں اردو خوانوں سادہ لوحوں کے لیے یوما فيوما مہلک ہو رہی ہے۔ نہ تو مثل صحابہ کی مہارت لسانی اور اشراق نوری ہے کہ راہ راست پر فہم رسیاق اور مقتضی حال کے ملاحظہ کرنے مراد میں چلیں اور نہ استعداد ی کی فصاحت اور بلاغت اور سیاق اور مقتضی علمی کے بعد معنی مراد کو سمجھیں فقط مشعل راہ ایک شخص خانہ زاد کو جو سمی بقانون قدرت ہے بنا رکھا ہے۔ اللہ کریم اپنے فضل و کرم سے ہدایت فرماوے۔

سوال: بیضاوی تفسیر کبیر تفسیر ابن کثیر معالم التنزیل گشاف وغیرہ نے توفی سے معنی موت کالیا ہے جیسا کہ مرزا صاحب نے ازالہ اوہام کے صفحہ ۳۴۱ میں استشہا داذ کر کیا ہے۔

جواب: یہ استشہاد ان کا ویسا ہی ہے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا کے قول سے پکڑ ا تھا۔ سب تفاسیر کے دیکھنے سے ناظرین اس دھوکا سے بھی مطلع ہو سکتے ہیں۔ سب کا خلاصہ یہ ہے کہ آیتبَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِکے حکم کو زیر نظر رکھ کراِنِّی مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَیکے معنی میں دو مسلک اختیار کرتے ہیں۔ ایک تو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا یعنی تقدیم تاخیر بر تقدیر ثبوت اور ارادہ معنیمُمِیتُک کا مُتَوَفِّیک سے۔ یعنی اے میسی میں تجھے با فعل اُٹھانے والا ہوں اور بعد نزول تجھے مارنے والا ہوں۔ اور دو سر امتوفیک سے معنی قبض اور رفع کا لینا یعنی اے عیسی میں تجھے پکڑنے والا اور اٹھانے والا ہوں۔ اور بعض مثل صاحب کشاف کےمُتوفیک کو کنا یہ ٹھہراتے ہیں عصمت اور بچا لینے سے یعنی اے عیسیٰ میں تجھے یہود کے ایڈا سے بچانے والا ہوں۔

جناب مرزا صاحب نےمُمِیتُک(حاشیہ ) کو ( جو تفسیر معنی کنائی کے ضمن میں صاحب کشاف کے قول میں واقع ہے معنی متوفیک کا سمجھ لیا ہے۔ یہ نہیں خیال فرمایا کہ اس احتمال کو یعنیمتوفیک سے معنیمُمِیتُک لینے کو تو خود صاحب کشاف بعد اس کے تضعیف کر رہا ہے۔ عبارت کشاف کی یہاں پر نقل کی جاتی ہے تا کہ ناظرین دھوکا سے بھی مطلع ہو جائیں۔

حاشیہ

مرید تخلص مرزا صاحب کی عبارت( مستوفی اجلک و مؤخرک الی اجل مسمی ) کو دلالت کننده غیر معنی موت پر ٹھہرا رہے ہیں۔ دیکھوسٹر تیسری ص ۲۱۰ کی اور مرزا صاحب ازالہ اوہام کے صفحہ ۳۴۱ کی سطر اخیر پر کشاف کو شاہد معنی موت کا قرار دے رہے ہیں۔ معلوم نہیں مرید خلص بڑھ گئے ہیں ۔ یا امام الامان یہ موروثی امر ہے۔ مرزا صاحب ازالہ اوہام میں متعلق تفسیر سورہ القدر نزول ملائکہ کے قائل ہیں۔ ایام الصلح میں قریب اختتام کے اس سے منکر ہو گئے ۔ القول الجمیل کے صفحہ ۲۱ سطر پانچویں میں مرید خلص علما سلف رضوان الل علیہم اجمعین کے حق میں فرماتے ہیں ( سبحان اللہ مفسر ہوں تو ایسے ہوں ) دیا بھی نہیں آتی ۔ خود پھسلنا اور دوسروں پر ہنسی و تمسخر کر رہا بلکہ مشرک کہنا کیا مہدی اور اس کے مصداق کی یہی شان ہے ۔ ۱۲ منہ

حاشیہ ختم شد

متوفیک ای مستوفی اجلک و معناه انی عاصمک من ان يقتلك الكفار و مؤخرك الى اجل كتبته لک و مميتك حتف انفك لاقتلا بايديهم وَرَافِعُكَ الى الى سمائی و مقرملا نكتى و مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا من سوء جوارهم وخبث صحبتهم وقيل مُتوفِّيكَ قابضك من الارض من توفيت مالي على فلان اذ استوفيته. وقيل مميتك في وقتك بعد النزول من السماء ورافعك الآن. وقيل متوفى نفسك بالنوم من قوله وَالَّتِي لَمْ تَمْتُ فِي مَنَامِهَا وَرَافِعُكَ وانت نائم حتى لا يلحقك خوف وتستيقظ وانت في السماء. انتهى.

رفع جسمی مسیح کا چونکہبَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ اور وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ اور وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ اور احادیث متواترہ صحیحہ سے استلم الما ثابت اور مؤمن بہ اہل اسلام کا سلف سے خلف تک ہو چکا ۔ اور بظاہر آیتیعيسى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى منافی اس کی معلوم ہوتی تھی۔ کیونکہ مفاد اس کا یہ نکلتا ہے کہ اے عیسی میں تجھ کو مار کر بعد ازاں اٹھانے والا ہوں ۔ لہذا ابن عباسsym-8 نے رفع منافات یوں فرمائی کہ آیت میں تقدیم تاخیر کہی یعنی میں تجھ کو اوّل اُٹھانے والا ہوں آسمان کی طرف اور بعد نزول تجھ کو مارنے والا ہوں۔ اور باقی مفسرین میں سے کسی نے تو توفی سے معنی قبض کا لیا ہے اور کسی نے نیند کا ۔ سب کا مقصود یہی تھا کہ یہ آیت مخالف نہ ہو اس نصبَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِسے جس کا مدلول آنحضرت ﷺ سے بھی بوضاحت تامہ استلزاما بیان ہو چکا ہے۔

صاحب کشاف نے ان سب مسلک کو ضعیف سمجھ کر حتی کہمُمِیتُککو بھی جیسا کہقبل ممیتک فی وقتك انا سے تمریض اور تضعیف اس کی ظاہر ہے ۔ ایک اور راستہ پکڑا۔ وہ کیا انبی متوفیک کتا یہ ہےعَاصِمُکسے یعنی میں تمہارا بچانے والا ہوں شر یہود سے۔ استیفاء اجمل اور عصمت لازم : ت لازم ہیں تو فی کو بعد ملاحظہ حصر کے جو مستفاد ہے ضمیر متکلم کی مسند الیہ اور مشتق کے مسند بنانے سے یعنی جب اللہ ہی ان کا مارنے والا ہو بغیر مداخلت ایذاء یہود کے تو ضرور ہی معنی استیفاء اجل اور عصمت کا متحقق ہوگا۔ اس معنی کنائی کی تشریح میں صاحب کشاف نے و معناہ انی عاصمک را ذکر کیا ۔

اب قول(حاشیہ) اس کا و ممیتک حتف انفک۔ یہ معنی کنائی کے ضمن میں داخل ہوا نہ یہ کہ مراد مُتَوَفِّیک سے مُمِیتُک ہے۔ اس کو تو خود صاحب کشاف و قیل مميتك في وقتک ان سے تضعیف کر رہا ہے۔ اور وجہ تضعیف کی یہ ہے کہ استیفاء اجل بسبب مشتمل ہونے اس کے تاخیر اجل پر منافی حیات اور زندگی بسر کرنی مسیح کی آسمان پر نہیں بخلاف ممبینک کے کہ بغیر انضمام قیود خارجہ عن المدلول کے یعنی الآن اور بعد النزول دفع منافاة میں مفید نہ ہوگا۔

حاشیہ

اس تحقیق سے غرض ہماری بیان کرنا مقصود صاحب کشاف کا ہے اور غلطی مرزا صاحب کی ۔ نہ کہ یہ مسلک مختار ہمارا ہے۔ منہ

حاشیہ ختم شد

سوال:إِنِّي مُتَوَفِّيكَ سے معنی مُمِيتُكَ ]بشہادت محاورہ قرآنیہ کیوں نہ لیا جائے اور اليافَلمَّا تَوَفَّيَتَنِی اوربَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِسے رفع روحانی جیسا کہيَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةًاور آیتوَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ، کا معنی جو تفسیروں میں لکھا ہے وہ بالکل غلط اور مستلزم وقوع کذب ہے کلام الہی میں ۔ کیونکہ جب مفاد آیت یہ پھرا کہ ہر ایک یہود بعد نزول مسیح اس کے ساتھ ایمان لاوے گا تو جو یہود قبل از نزول اس کے فوت ہو چکے ہیں وہ تو اس آیت کے حکم میں داخل نہیں ہو سکتے ۔ پھر استغراق آیت کا جو وان مِنْ أَهْلِ الْكِتبسے مستفاد ہے صحیح نہ ہوا۔ معنی صحیح اس کا یہ ہے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر جو ہم نے اہل کتاب کے خیال کی نسبت ظاہر کیا ہے ایمان نہ رکھتا ہو۔ قَبْلَ مَوْتِہ یعنی قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لائے جو مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا ۔ یہ معنی مرزا صاحب نے ازالہ اوہام کے ص ۳۷۲ پر بیان کیا ہے اور اس کے بعد اس معنی کا اس وقت الہام ہونا حلفا بیان کیا ہے اور بڑے شکر اور محامد اس کے ہونے پر کیے ہیں۔ اور علماء زمان کو نادان مولویوں کا لقب دے کر ایسے راز سر بستہ سے ان کا محروم ہونا ذکر فرمایا ہے انہیں صفحات پر ناظرین ظرین ملاحظه کر لیویں۔

جواب: پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ نصبَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِکی قطعی طور پر دلیل صارف ہے اور ارادہ کرنے سے معنی موت کے مُتَوَفِّیک اورفَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیہے۔ ہاں صرف متوفیک سے ب بعد التزام قول به تقدیم و تاخیر فی الآیة کے لے سکتے ہیں اور یہ یہ مانع ہونا اس نص کا ارادہ معنی مذکور سے بوجہ ثالثہ ثابت ہے ۔

وجه اول: اثر ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے متعلق اس نص کے جس میں احتمال اسرائیلی ہونے کا ہر گز نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اہل کتاب قبل از واقعہ صلیب مرفوع ہونے مسیح کے قائل ہی نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا اپنی رائے سے بھی نہیں فرماتے کیونکہ یہ مضمون اثر مذکورہ بالا حض نقلی ہے۔ بعد دفع احتمالات یہی ثابت ہوا کہ ابن عباسsym-8 نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے۔

وجہ دوئم : مستفادوَلكِن شُبِّهَ لَهُمْہے۔ کیونکہ بعد تعیین معنی ) کیونکہ بعد تعیین معنی ( صلیب پر نہ چڑھانے کے ) مَا صَلَبُو سے شہادت لغت جیسا کہ اوپر لکھ چکا ہوں صورت تشبیہ یا القباس کی یہی ٹھہری کہ مصلوب پر سین کا حلیہ ڈالا گیا۔ نہ یہ کہ التباس فی القتل ہو۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میچ کو بکلیہ حق سبحانہ و تعالی نے ایذا یہود سے بچا کر اپنی طرف اٹھا لیا۔ یعنی آسمان پر ۔

تیسری وجہ: ہونا آیت وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ من از قبیل قصر قلب من جمله اقسام قصر الموصوف على الصفۃ کے اور تنافی الومنین اگر چہ بناء بر تحقیق شرط نہیں قصر قلب کے لیے ۔ مگر احد الوصفین کا ملزوم نہ ہونا دوسری وصف کے لیے بالا تفاق ضروری ہے تا کہ مخاطب کا اعتقاد بر عكس ما يذكره المتکلم کے متصور ہوا(حاشیہ)۔

حاشیہ

اور مخاطب بیکلام قصری چونکہ اعتقاد اس کا صواب اور خطا سے ملا ہوا ہوتا ہے اور غرض منتظم کی اثبات صواب اور نفی خطاء کی ہوتی ہے اور بالخصوص بطريق العطاف و جو با نص على المثبت واھی کا مقتضی ہوتا ہے۔ بنا ، عالیہ آیت میں بر تقدیر ارادہ موت طبعی کے تصریح بحیل مسیح بعد از واقعہ صلیب ضروری تھی ۔ بعد ازاں ذکر موت طبعی چاہیے تھا یعنی یوں کہا جاتابَلْ بَقِيَ حَيًّا ثُمَّ تَوَفَّهُ اللهُ وَرَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ - و فصاحت و بلاغت قرآن کریم جو اعلی مرتبه انجاز کا اس میں خلل واقع ہوگا۔ یہاں تک کلام ہر تقدیر عاطفہ ہونے کلمہ بال کے ہے جیسا کہ مذہب صحیح ہے اور اگر اس کو حروف ابتداء کا کہا جائے تو بھی ارادو معنی موت طبعی کا نخل ہوگا فصاحت بلاغت میں کیونکہ منتظم پر وقت تمییز خطاء و صواب اور دھوکا نکالنے کی تصریح به مثبت و منفی ضروری ہے ۔ ۱۲ منہ

حاشیہ ختم شد

اور ظاہر ہے کہمانحن فیہ میں رفع عزت لازم ہے موت بالقتل کو در صورت ہونے مقتول کے من جملہ عباد مقر بین کے۔ اور ارادہ رفع روح کا موت طبعی کے طور پر ستلزم ہے جمع کوبین الحقيقة والمجازحسب زعم آپ کے ۔ کیونکہ آپ در صورت ہونے کلمہ الٹی کے صلہ رفع کا اس ترکیب کو مجاز فی التقرب ٹھہراتے ہیں اور نیز مقتضی ہے وقوع کذب کو آسیہ مذکورہ میں( العیاذ باللہ ) کیونکہ محکی عنہ متقی ہے بعد ملا حظہ ماضویت اضافیہ کے۔ (حاشیہ )

حاشیہ

یعنی بہ نسبت ما قبل بل کے اور ماضويتبالاضافة إلى زمان النزول تل ہے فصاحت میں ۱۲ ۔ منہ

حاشیہ ختم شد

اس تقریر سے ظاہر ہوا بطلان قول بعض نحاۃ کا جو قائل ہیں بانحصار کلمہ بل کے معنی انتقال ہی میں جس وقت ما بعد اس کے جملہ ہو کیونکہ آیت مذکور منجملہ افراد قصر قلب سے ہے جس میں منتظم کو مزعوم من تظام کو مزعوم مخاطب کا ابطال ابطال مقصود ہوتا ہے۔ آپ جو بڑے زور شور سے شہادت نظائر لفظ توفی سے ارادہ معنی موت پر پیش فرماتے ہیں بعد مانع ہونے نص مذکور کے ارادہ مذکور سے مسموع نہیں ہوسکتی۔ بلکہ میں عرض کرتا ہوں کہ بالفرض اگر نص مذکور مانع نہ بھی ہو، تاہم شہادت مذکور علت موجبہ ارادہ معنی موت کے لیےمُتَوَفِّيكَ اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی سے نہیں ہو سکتی ۔ ہو سکتی ۔ ایک لفظ ہزار جگہ اگر ایک ہی معنی میں مستعمل ہو۔ تو بھی بعد قیام قرینہ صارفہ کے اس سے اور معنی مغائر معنی اول کے لے سکتے ہیں۔ وہ قرینہ اگر چہ حدیث ہی ہوا اخبار احاد میں سے یا کوئی اور ۔ ذرا غور سے ملاحظہ کیجئے کہ ہر جگہ قرآن کریم میں بعل کا معنی زوج ہے مگر اتَدْعُونَ بَعْلا میں بعل سے مراد یت ہے۔ اور ہر جگہ قرآن کریم میں اسف کا معنی حزن ہے۔ مگرفَلَمَّا اسَفُونَاکا معنیفَلَمَّا اغْضَبُونَا یعنی غصہ دلایا انہوں نے ہم کو۔ اور ہر جگہ قرآن کریم میں مصباح سے مراد کو کب ہے مگر مصباح جو سورہ نور میں ہے اس سے مراد چراغ ہے۔

ہر جگہ قرآن کریم میں صلوٰۃ سے مراد عبادت یا رحمت ہے مگربیع و صَلَوَاتٌ وَّ مَسَاجِد میں صَلَوات سے مراد اماکن یعنی مقامات ۔ ہر جگہ قرآن کریم میں کنز سے مراد مال ہے۔ مگر کنز جو سورہ کہف میں ہے اس سے مرد صحیفہ (حاشیہ )علم کا ہے۔ ہر جگہ قرآن کریم میں قنوت سے مراد اطاعت ہے مگركُلُّ لَّهُ قَانِتُون کا معنی اقرار کرنے والے ہے۔ ہر جگہ بروج سے مراد کواکب ہیں مگرفِی بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةِ میں بروج سے مراد محل پہنچتے ہے۔ نظائر اس کے اور بھی بکثرت موجود ہیں۔ تفسیر اتقان وغیرہ تفاسیر سے ملاحظہ فرمائیں ۔علی ہذا القیاس اکثر جگہ توفی کا معنی قرآن کریم میں موت یا نیند ہے۔ مگر فلما تَوَ فَيْتَنِی میں قبضتی یا رفعتنی یا اخذ تنی و افيا مراد ہے۔ بقرینہبَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ کے اور ایسا ہیمُتَوَفِّیک سے بر تقدیر عدم تقدیم و تاخیر کے۔

بڑا تعجب ہے کہ مانحن فیہ میں احادیث متواترہ بھی نہیں سنی جاتیں ۔ ہم تو بحسب مطالعہ آپ کے نص قرآنی محکم فی المراد اور احادیث صحیحہ عرفا کشفا جن کا کشف آپ کے نزدیک مسلم ہے یعنی محی الدین بن عربی اور جلال الدین جن کے اقوال سے الہام کے حجت ہونے کے بارہ میں آپ استشہاد پکڑتے ہیں یہ سب پیش کرتے ہیں ۔ مگر آپ بھی عیسی بن مریم کے لفظ سے معنی مثیل کا مراد لینا بمحاوره قرآن کریم کے نہ سہی کسی حدیث صحیح سے بغیر مانحن فیہ کے گو کہ غریب ہی ہو دکھلائیں۔ یہ بھی نہ ہی کسی ثقہ یا غیر ثقہ کی کلام میں بغیر تعذ را رادہ معنی حقیقی کے نشان دیویں۔ میں جانتا ہوں آپ جلدی سے لکل عیسی دجال پڑھ دیں گے مگر یہاں تو کل استغراقی وصف کا منتزع من الشخص کا خواہاں ہے یعنی لکل محق مبطل باقی اشعار وغیرہ میں جو اطلاق عیسی کا طبیب حاذق یا معشوق وغیرہ پر آیا ہے۔ بعد تعد را رادہ معنی حقیقی کے ہے۔ مانحن فیہ آپ کے نزدیک بڑی قوی دلیل تعد رارادہ معنی حقیقی کیمتوفیکاورفَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِی تھی وہ بھی نہ رہی ۔ لفظ رفع رفع اور نزول کی بھی یہی کیفیت ہے جو سن چکے ہیں۔ جلال الدین سیوطی نے جو احادیث نزول کی بیان کی ہیں تفسیر در منثور میں ملاحظہ فرمائیں۔ اور ماقبل میں بھی گزر چکے ہیں ۔

حاشیہ

تفسیر جامع البیان میں آیتوَكَانَ تَحْتَهُ كَنزٌ لَهُمَاکی تفسیر میں بعض سلف سے کہ کنز علم یعنی علم کا خزانہ منقول ہے۔ فیض عفی عنہ

حاشیہ ختم شد

اب حدیث شیخ اکبر کی جس میں تاویل بے مثیل عیسی ممکن نہیں ہے بیان کی جاتی ہیں ۔ بگوش دل بشنو ، اگر دل داری۔

قال الشيخ الأكبر قدس سره الاطهر فى الباب السادس والثلثين من الفتوحات بعد سوق الاسناد مرفوعا عن ابن عمر قال كتب عمر ابن الخطاب الى سعد بن ابي وقاص وهو بالقادسية ان وجه نضلة بن معاوية الانصاري الى حلوان العراق فليغر على نواحيها فوجهه مع جماعة فاصابوا غنيمة وسبيا وانقلبوا يسوقون الغنيمة والسبى حتى زهقت بهم العصر وكادت الشمس تغرب فالجاء نضلة السبى والغنيمة الى سفحالجبل ثم قام فاذن فقال الله اكبر الله اكبر فقال مجيب من الجبل كبرت كبيرا يا نضلة ثم قال اشهدان لا اله الا الله فقال هي كلمة الاخلاص يا نضلة ثم قال اشهد ان محمدا رسول الله فقال هذا هو الذي بشرنا به عيسى بن مريم وانه على راس امته تقوم الساعة ثم قال حي على الصلوة فقال طوبى لمن مشى اليها و واظب عليها ثم قال حتى على الفلاح قال قد افلح من اجاب محمدا وهو البقاء لامته ثم قال الله اكبر الله اكبر قال كبرت كبيراً ثم قال لا اله الا الله قال اخلصت الاخلاص يا نضلة حرم الله جسدك على النار قال فلما فرغ من اذانه قمنا فقلنا من انت يرحمك الله ملک ام ساکن من الجن ام من عباد الله اسمعتنا صوتک فارنا شخصك فانا وفد الله ووفد رسول الله وو فد عمر بن الخطاب قال فانفلق الجبل عن شخص هامته كالراحي ابيض الرأس واللحية عليه طمران من صوف فقال السلام عليكم ورحمة الله وبركاته،

فقلنا وعليك السلام ورحمة الله و بركاته من انت يرحمك الله قال انا زريب بن بر تملا وصى العبد الصالح عیسی بن مریم اسكنني بهذا الجبل ودعالي بطول البقاء الى نزوله من السماء فيقتل الخنزير ويكسر الصليب ويتبرأ مما تحلته النصارى ثم قال ما فعل بنبي الله قلنا قبض فبكى بكاء طويلاً حتى خضبت لحيته بالدموع ثم قال فمن قام فيكم بعده قلنا ابوبكر قال ما فعل به قلنا قبض قال فمن قام فيكم بعده قلنا عمر قال اذا فاتني لقاء محمد فاقرء وا عمر عمر منى السلام وقولوا له يا عمر سدد وقارب فقد دنا الامر واخبروه بهذا الخصال التى اخبر كم بها وقولوا يا عمر اذا ظهرت هذه الخصال في امة محمد العلم فالهرب الهرب اذ استغنى الرجال بالرجال والنساء بالنساء وانتصبوا في غير منا صبهم وانتموا الى غير مواليهم ولم يرحم كبير هم صغير هم ولم يو قر صغيرهم كبيرهم وترك الامر بالمعروف فلم يؤمر به وترك النهي عن المنكر فلم ينه عنه وتعلم عالمهم العلم ليجلب به الدنانير والدراهم وكان المطر قيظا و طولوا المنابر و فضضوا لمصاحف و زخر فوا المساجد واظهروا الرشى وشيدوا البناء واتبعوا الهوى وباعوا الدين بالدنيا واستسفحوا لدماء وانقطعت الارحام وبيع الحكم واكل الربا وصار التسلط فخرا والغنى عزا وخرج الرجل من بيته وقام اليه من هو خير منه وركبت النساء السروج قال ثم غاب عنا فكتب بذالك نضلة الى سعد وكتب سعد الى عمر فكتب عمر اليه اذهب انت ومن معك من المهاجرين والانصار حتى تنزل بهذا الجبل فاذا لقيته فاقره منى السلام فان رسول الله قال ان بعض اوصياء عيسى بن مريم نزل بهذا لجبل بناحية العراق فنزل سعد في اربعة الاف من المهاجرين والانصار حتى نزل بالجبل وبقى اربعين يوما ينادي بالاذان في وقت كل صلواة فلم يجده.

ترجمہ: فرمایا ابن عمر نے کہ میر ے والد عمر بن الخطاب نے سعد بن وقاص کی طرف لکھا کہ فضلہ انصاری کو حلوان عراق کی جانب روانہ کرو تا کہ وہاں جا کر مال غنیمت اکٹھا کریں ۔ پس روانہ کیا سعد نے فضلہ انصاری کو جماعت مجاہدین کے ساتھ ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر بہت مال نمیمت کا حاصل کیا اور ان سب کو لے کر واپس ہوئے تو آفتاب غروب ہونے کے قریب تھا۔ پس فضلہ انصاری نے گھبرا کر ان سب کو پہاڑ کے کنارے ٹھہرایا اور خود کھڑے ہو کر اذان دینی شروع کی ۔ جب اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تو پہاڑ کے اندر سے ایک مجیب نے جواب دیا کہ اے فضلہ تو نے بہت خدا کی بڑائی کی ۔ پھر نصلہ نے أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہا تو اس مجیب کے جواب میں کہا کہ اے فضلہ یہ اخلاص کا کلمہ ہے۔ اور جس وقت نضلہ نےاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ کہا تو اس شخص نے جواب دیا کہ یہ نام پاک اس ذات کا ہے جس کی بشارت عیسی بن مریم نے ہم کو دی تھی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ اسی نبی کی امت کے اخیر میں قیامت قائم ہوگی ۔ پھر فضلہ نے حی علی الصلوۃ کہا تو مجیب نے فرمایا کہ خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس نے ہمیشہ نماز ادا کی ۔ پھر جس وقت نصلہ نےحی علی الفلاحکہا تو مجیب نے جواب دیا کہ جس نے محمد ﷺ کی اطاعت کی اس شخص نے نجات پائی ۔ پھر جب نصلہ نےاللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ کہا تو وہی پہلا اے جواب مجیب نے دیا۔ جب نصلہ نے[font پر اذان ختم کی تو مجیب نے فرمایا نصلہ تم نے اخلاص کو پورا کیا۔ تمہارے بدن کو خداوند کریم نے آگ پر حرام کیا۔ جب نضلہ اذان سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرام نے کھڑے ہو کر دریافت کرنا شروع کیا کہ ارے صاحب آپ کون ہیں ۔ فرشتہ یا جن یا انسان ۔ جیسے اپنی آواز آپ نے ہم کو سنائی ہے اس طرح اپنے آپ کو دکھائیے ۔ اس واسطے کہ ہم خدا اور اس کے رسول اور نائب رسول عمر بن الخطاب کی جماعت ہیں۔ پس پہاڑ پھٹا۔ اور ایک شخص باہر نکل آئے (جن کا سر مبارک بہت بڑا چیکی کے برابر تھا۔ اور سر اور ڈاڑھی کے بال سفید تھے اور ان پر دو پرانے کپڑے صوف کے تھے) اورالسلام عليكم و رحمة الله و بركاته۔

ہم نے وعليكم السلام ورحمة الله و برکاته کہہ کر دریافت کیا کہ آپ کون ہیں۔ فرمایا کہ میں زریب بن بر تملا وحی عیسی بن مریم ہوں ۔ مجھ کو عیسیsym-9 نے اس پہاڑ میں ٹھہرایا ہے اور اپنے نزول من السماء تک میری درازی عمر کے لیے دعا فرمائی ۔ جب وہ اتریں گے تو خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور بیزار ہوں گے نصاری کے اختراع ہے۔ پھر دریافت کیا کہ وہ نبی صادق بالفعل کس حال میں ہیں۔ ہم نے عرض کی کہ آپ کا وصال ہو گیا ۔ اس وقت بہت روئے ۔ یہاں تک کہ آنسوؤں سے تمام داڑھی بھیگ گئی ۔ پھر پوچھا ان کے بعد کون تم میں خلیفہ ہوا ۔ ہم نے جواب دیا کہ ابو بکر ۔ پھر فرمایا کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ وہ وفات پاگئے ۔ فرمایا کہ ان کے بعد کون تم میں خلیفہ ہے ۔ ہم نے عرض کیا که عمر دی پھر فرمایا کہ محمد ﷺ کی زیارت تو مجھے میسر نہ ہوئی ۔ پس تم لوگ میرا سلام عمر نے کو پہنچائیں۔ اور کہیو کہ اے عمر عدل و انصاف کر اس واسطے کہ قیامت قریب آگئی ہے۔ اور یہ واقعات جو میں تم سے بیان کروں گا ان سے عمر د کو خبردار کیجیو اور کہیو کہ اے عمر ے جس وقت یہ خصلتیں محمد ﷺ کی امت میں ظاہر ہو جائیں تو کنارہ کشی کے سوا مفر نہیں ۔ جس وقت مرد مردوں سے بے پرواہ ہوں اور عورت عورتوں سے اور مقرر ہوں گے اپنے منصب(حاشیہ1)کے خلاف۔ اور ادنی نسب والے اعلیٰ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کریں اور بڑے چھوٹوں پر رحم نہ کریں۔ اور چھوٹے بڑوں کی توقیر و عزت چھوڑ دیں۔ اور امر بالمعروف اس طرح متروک ہو جائے کہ کوئی اس کے ساتھ مامور نہ کیا جائے۔ اور نہی عن المنکر کو ایسے چھوڑ دیں کہ کسی کو اس سے نہ روکیں۔ اور ان کے عالم علم کی تعلیم بغرض حصول دنیا کریں اور گرم بارش ہو۔ یعنی وہ بارش جو فائدہ نہ بخشے یا بالکل ہی بند ہو جائے ۔ اور بڑے بڑے منبر بنا ئیں اور قرآن مجید کو نقرئی وطلائی کریں۔ اور مسجدوں کی از حد زینت کریں۔ پھیلا میں رشوت اور پختہ پختہ مکانات بنائیں اور خواہشات کی اتباع کریں۔ اور دین کو دنیا کے بدلے بیچیں اور خونریزیاں کریں۔ اور صلہ رحمی منقطع ہو جائے اور حکم( حاشیہ 2)فروخت کیا جائے ۔ اور بیاج (سود) کھایا جائے ۔ اور حکومت فخر ہو جائے اور دولتمندی عزت بن جائے ۔ اور ادنی شخص کی تعظیم نی شخص کی تعظیم اعلیٰ کرے۔ اور عورتیں زمین پر سوار ہوں۔ پھر ہم سے غائب ہو گئے ۔

حاشیہ

1 یعنی لوگ جس منصب کے لائق نہ ہوں گے اس پر مسلط ہوں گے ۱۲۔

2یہ لفظ اگر ح کی زیر سے پڑھا جائے تو حکم بمعنی ثالث اور حاکم ہوگا۔ جس کا مطلب یہ کہ فیصلہ کرنے والے کسی لالچ اور دباؤ میں آکر انصاف چھوڑ دیں گے اور بک جائیں گے اور اگر " پر پیش ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ فیصلوں کو دنیا کے عوض خریدا جائے گا۔ بس جس نے پیسہ دیا اس نے اپنے حق میں فیصلہ کر لیا۔ فیض عفی عنہ

حاشیہ

پس اس کو نصلہ نے سعد کی طرف لکھا اور سعد نے حضرت عمر والے کی طرف، پھر حضرت عمر دے نے سعد کو لکھا کہ تم اپنے ہمراہیوں کو ساتھ لے کر اس پہار کے پاس اترو جس وقت ان سے ملو میر اسلام ان کو پہنچائیں۔ اس واسطے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ میسی الی کے بعض وصی پہاڑوں میں اترے ہوئے ہیں۔ میں سعد چار ہزار مہاجرین اور انصار کے ہمراہ اس پہاڑ کے قریب اترے اور چالیس (۴۰) روز تک ہر نماز کے وقت اذان کہتے رہے مگر ملاقات نہ ہوئی ۔ اس کے بعد حضرت اقدس کے نے فرمایا کہ اگر چہ ابن از بر کی وجہ سے اسناد حدیث میں محد ثین کے نزدیک کلام ہے۔ مگر ہم صاحب کشف والوں کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ اور پھر شیخ نے باب ۳۶۰ میں حدیث نواس بن سمعان کی ذکر فرمائی ہے جس میںینزل عیسی بن مریم بالمنارة البيضاء شرقی دمشق الخاور جا بجا شیخقدس سره فتوحات مکیہ میں نزول عیسی بن مریم کا ذکر فرماتے ہیں۔ اور اسی فتوحات میں شیخ فرماتے ہیں کہ میں ان مضامین کی تحریر اور بیان میں بالکل مغزی اور خالی ہوں۔ خود خداوند کریم ان کا بیان کرنے والا ہے۔ و نیز فرماتے ہیں کہ هذا ما حدلی رسول الله ﷺ.

اب ہم بعد پیش کر نے حدیث کشفی محی الدین بن عربی صاحب کی جو باسناد او پر لکھی گئی ہے معروض کر سکتے ہیں کہ آپ زریب بن بر تملا (حاشیہ )اپنے حواری کو جس کو بشہادت حدیث مذکور آپ نے کوہ عراق میں رہنے کا حکم فرمایا تھا۔ آپ کے نزول من السماء تک ہمیں دکھلا ئیں ۔ یا شب معراج میں قیامت کے بارہ میں جو ندا کرہ آپ کا باقی انبیاء کرام علی بینا و علیهم صلوات الله وسلامہسے ہوا ہے سنا ہیں۔ اس کے بعد ہم ایک اور حدیثزبدۃ العارفین رئیس المکاشفینحضرت حسن بصر می دید کی پیش کرتے ہیں۔وقال ابن ابی حاتم حدثنا احمد بن عبدالرحمن حدثنا عبد الله بن ابي جعفر عن ابيه حدثنا الربيع بن انس عن الحسن انه قال في قوله تعالى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ يعنى وفاة المنام رفعه الله في منامة قال الحسن قال رسول الله لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة. فرمایا ابن ابی حاتم نے حدیث بیان کی مجھ کو باپ میرے نے احمد سے انہوں نے عبداللہ بن جعفر سے جعفر نے اپنے باپ سے انہوں نے ربیع سے ربیع نے حسن سے فرمایا حسن نے بیچقول اللہ تعالیٰ کے اِنِّي مُتَوَفِّيكَ اُٹھا یا اللہ نے عیسیsym-9 کو نیند میں ۔ اور کہا حسن نے فرمایا رسول کریم ﷺ نے یہود کو بے شک عیسی فوت نہیں ہوئے وہ لو وہ لوٹیں گے تمہاری طرف قبل قیامت کے اور اخراج کیا اس حدیث کو ابن جریر نے بھی ۔ (تفسیر ابن کثیر اور در مغشور )

حاشیہ

یہ خطاب قادیانی کو ہے اگر آپ ہی مسیح موعود ہیں تو پھر یہ باتیں واضح کریں۔ فیض عفی عنہ

حاشیہ ختم شد

یونس بن عبید جو نجمله اصحاب حسن بصری ان میں سے ہے کہتا ہے میں نے حسن بصری سے پوچھا کہ آپ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں باوجود اس کے کہ آپ نے زمانہ رسول اللہ ﷺ کو نہیں پایا۔ حسن بصری لے نے جواب دیا کہانی احدث الحديث عن على و ما تركت اسم على فى الاسناد الا لملا حظة زمان الحجاج یعنی میں بواسط علی کرم اللہ وجہ کے نحضرت ﷺ سے روایت کرتا ہوں مگر نام علی کرم اللہ وجہہ کا بلحاظ زمانہ حجاج کے ترک کر دیتا ہوں ۔

مولانا علی القاری غفره اللہ الباری شرح نخبہ کی شرح میں فرماتے ہیں۔[font محد ثین اور صوفیہ کے شیخ شہاب الدین سہروردی رحمہ اللہ عوارف کے چھٹے باب میں فرماتے ہیں۔قال الحسن البصرى لقد ادركت سبعين بدريا كان لباسهم الصوف.

سوال: اگر کہا جائے کہ قتادہ کہتا ہےوالله ما حدثنا الحسن عن بدرى مشافهة وما حدثنا سعيد بن المسيب عن بدرى مشافهة الاعن سعد بن مالکاس سے معلوم ہوتا ہے کہ حسن بصری اور سعید بن المسیب دونوں کی علیکرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ علی کرم اللہ تعالی جبہ بدری ہیں ۔

جواب: اولاً یونس بن عبید اور ملاعلی قاری کا قول جو ابھی لکھ چکا ہوں مثبت ملاقات حسن بصری کی علی کرم اللہ تعالیٰ وجیہکے ساتھ ہے اور نہ روایت کرنا حسن بصری کا بدری سے قتادہ کے سامنے اس کو ثابت نہیں کرتا کہ حسن بصری نے کسی کے سامنے روایت بدری سے نہ کی ہو۔

اور حسن بصری کی ملاقات کسی بدری سے نہ ہو ۔ کیونکہ قتادہ کہتا ہے ما حدثنا الحسن یعنی ہمار کے سامنے حسن نے بدری سے روایت بطریق مشافہ نہیں کی ۔ ہاں اگر قتادہ یوں فرماتے قال الحسن ما حدثنا بدری یعنی حسن بصری نے کہا ہے کہ ہمارے سامنے کسی بدری نے حدیث بیان نہیں کی ۔ یا قتادہ یوں کہتے کہ حسن بصری نے سب احادیث جوان کو اصحاب کرام یا تابعین سے پہنچی تھیں تمامها جميع طریق سے میرے سامنے بیان کیں مگر کسی بدری سے روایت نہیں کی جب البتہ ثبوت عدم ملاقات ہو سکتا تھا۔

اور ثانیا قتادہ کے قول سے فقط نفی حدثنا کی لازم آتی ہے۔ جواخص ہے سمعت سے ( کرمانی شرح صحیح بخاری ) اور قاعدہ ہے کہ سلب اخص کی مفید سلب اعم کو نہیں ہوتی ۔ چہ جائے کہ مفید ہو سلب اعم الاعم یعنی ملاقات کو۔ ہر گز نہیں۔ حسن بصری نے کی روایت اور ملاقات زبیر بن العوام سے بھی ثابت ہے جن کے بدری ہونے میں کچھ شک نہیں ۔ قوام المحد ثین جمال الدین مزنی تہذیب الکمال میں کہتے ہیں ۔وهو اول من سل سيفا في سبيل الله - روى عن النبى روى عنه الاحنف بن قيس والحسن البصری، اور حافظ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ حافظ زین الدین عراقیسے نقل فرماتے ہیںقال الحسن رأيت الزبير بايع عليا اور امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ اپنی مسند میں فرماتے ہیں۔حدثنا عبد الله قال حدثني ابى قال حدثنا عفان قال حدثنا قال حدثنا الحسن قال جاء رجل الى زبير بن العوام جمال الدین مزنی تہذیب میں فرماتے ہیں ۔ علی ابن ابی طالب شهد بدرا و للشاهد كلها مع رسول الله ما خلا تبوك روى عنه ابراهيم ابن عبد الله بن حسين مرسلا و ابراهيم بن عبدالله بن عبدالقاری کذالک و ابراهيم ابن محمد ولد على ابن ابي طالب والاحنف بن قيس التميمي وابنه الحسن علی بن ابي طالب والحسن البصرى وابنه الحسين بن على بن ابي طالب وسعيد بن المسیب اس سے تعارض درمیان قول قتادہ کے کہ ما حدثنا سعيد بن المسيب ، اور عبارت قدوة المحد ثین ابن الاثیر جامع الاصول کی اسماء الرجال میں کہ سعید بن المسیب روی عن علی کی بھی مرتفع ہو گیا۔ اس بحث کو زیادہ طول باعث ملالت ناظرین کے نہیں دیتا ہوں کسی صاحب نے اگر کلام کی بعد ازاں لکھا جائے گا۔(حاشیہ )

حضرت خواجہ فخرالدین دہلوی sym-4 نے بھی اپنے رسالہ فخر الحسن میں ثابت کیا ہے کہ حضرت حسن بصری کی ملاقات حضرت سیدنا علیکرم اللہ وجہ سے ہوئی ۔ فیض عفی عنہ

الغرض حدیث مذکور جو حسن بصری سے مروی ہے۔ اور حافظ ابن کثیر نے باسناد صحیح ذکر کی ہے۔یعنی قال رسول الله ﷺ لليهودان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم بوضاحت نامه نص بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِکی اور ایسا ہی وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ اوروَإِنَّهُ لَعِلْمَ لِلسَّاعَةِکی تغییر فرمارہی ہے کہ ناظرین کو بخوبی معلوم ہو چکا ہے کہ عقیدہ اجتماعیه نصوص قرآنیہ سے علی حسب تفسیرقرآن بالقرآن اورمطابق تفسیر القرآن بالا حادیث الصحیحہ ثابت ہے[fontکا مفاد حسب تقریر جناب مرزا صاحب یہ نکلا کہ ہر ایک اہل کتاب کو ایمان به بیان مذکوره بالا حاصل ہے یعنی ہر ایک جانتا ہے کہ ہم عیسی اللہ کے مقتول ہونے میں مشلک ہیں۔ اس تقریر میں ( جانتا ہے اور ایمان رکھتا ہے ) ترجمہلیؤ مِنَنَّکا ہوالا

ناظرین انصاف فرمائیں کہ مضارع مؤکد به لام اور نون تاکید کے ( ثقیلہ ہو یا خفیفہ ) محاورہ قرآن کریم میں اَلْحَمْدُ سے والناس تک معنی استقبال میں ہی مستعمل ہے۔ ایک جگہ بھی بمعنی حال یا ماضی کے نہیں آیا۔ نظائر ليُؤْمِنَنَّکے قرآن کریم کے ملاحظہ فرماویںلَتُؤْمِنَنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ لاتَّخِذَنَّ وَلَا ضِلَّنَّهُمْ وَلَا مَيِّيَنَّهُمْ لَاقْعُدَنَّ. لَاتِيَنَّ لَا مُلَتَنَّ لَتَعُودُنَّ لَتُخْرِجَنَّكَ لَا قَطِعَنَّ لَا صَلَّبَنَّ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَمُرْسِلَنَّ مَعَكَ لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ. لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونَا لَيَسْجُنُنَّهُ. لَا زِيدَنَّكُمْ وَلَنَصْبِرَنَّ وَلَتُسْكِنَنَّكُمْ لَا زَيْنَنَّ لَا غُوِيَنَّ لَتُسْئَلُنَّ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ. فَلَنُحْيِيَنَّهُ. وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ. لَاحْتَنِكَنَّ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ لَاجِدَنَّ لَاَرْجُمَنَّكَ. لَنَحْشُرَ نَّهُمْ لَنُحْضِرَنَّهُمْ لَتَنْزِعَنَّ وَلَا صَلِّبَنَّكُمْ وَلَتَعْلَمُنَّ لَا كِيْدَنَّ لَيْدُ خِلَنَّهُمْ لَا جُعَلَنَّكَ لَتَكُونَنَّ لَا عَذَبَنَّهُ لَا ذُبَحَنَّهُ لَيَا تِيَنِّي لَنُنَجِّيَنَّهُ لَيَأْتِيَنَّهُمُ. لَيَقُولُنَّ لَيَقُولَنَّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ لَنَسْفَعًا. آپ ایک جگہ بھی قرآن کریم سے نہ سہی کسی اہل لسان کے کلام میں ہی دکھلائیں کہ مضارع مؤکد به لام ونون ثقیلہ یا خفیفہ معنی حال یا ماضی میں مستعمل ہوئے دوسراقَبْلَ مَوْتِہ کا جو آپ نے معنی کیا ہے کسی جگہ قرآن کریم میں قبل مضاف اور موتہ مضاف الیہ کے مابین لفظ أَنْ يُؤْمِنُوا یا لفظ ایمان کا مقدر مراد ہو۔ اس کی نظیر بھی دکھلائیں۔ کیونکہ آپ محاورۂ قرآنیہ پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اب اس مقام پر اتباع ابن عباس اور استشہاد حدیث صحیح بخاری کو آپ نے بالائے طاق رکھ دیا۔ یہ تقریر مرزا صاحب کی چونکہ الہامی ہے۔ لہذا مؤلف رسالہاعلام الناسفاضل امروہی صاحب کو بھی یہ مجبوری تسلیم کرنی ہوگی ۔ بحسب تقریر ہذا مرجع ضمیر قَبْلَ مَوْتِهِ کا عیسی بن مریم ہی ہے حصہ دوئم ، اعلام الناس صفحہ ۵ سطر ۱۰ فاضل امروہی صاحب کو تو جناب مرزا صاحب نے اور آپ کو محاورة قرآنیہ نے صاف جواب دے دیا۔ وَالَّذِي نَفْسِي بَيَدِهِ لَيُؤشَكَنَّ میں ثم قال ابوهريرة واقرء وا ان شئتم وان مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ

ناظرین پر بطلان تقریر مرزا صاحب بشهادت قرآن کریم ظاہر ہو گیا ہو گا ۔ معنی آیت کا حسب محاورہ قرآن مجید وہی ہے جو ابو ہریرہ اور ابن عباس اور سب مفسرین نے لکھا ہے۔ اور دوسرا معنی جو ابن عباس سے مروی ہے غالبا جملہ مباحثات یومیہ سے اور احتمال مرجوح نظم زوالوجوہ کا ہے۔لَيُؤْمِنَنَّ کے مستقبل ہونے میں تو سب متفق ہیں مگر ارجاع ضمائر میں اختلاف رکھتے ہیں۔ پہلے اس کے بشہادت سیاق ترجیح ابن کثیر کی اس معنی کو ذکر کر چکا ہوں ( کہ نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر ضرور ہی ایمان لائے گا مضمون بالا کے ساتھ یعنی مسیح کا مرفوع ہونا آسمان کی طرف اور یہود کے ہاتھ میں مقتول اور مصلوب ہونا ) قبل از موت اپنی کے ۔ یعنی جتنے یہود نزول مسیح بن مریم کے وقت موجود ہوں گے وہ سب خلاف پہلے عقیدہ اپنے کے ایمان بہ مضمون بالا لاویں گے مطابق پیشین گوئی اس آیت کے ہم کو ایما ن ہے کہ فرقہ مرزائی بھی بر وقت نزول مسیح کے اگر موجود رہا تو ضرور ہی اہلِ کتاب کی طرحایمان به مضمون بالا لائے گا۔

باقی رہا اعتراض مرزا صاحب کا اس معنی پر نجس معنی کو ابو ہریرہ اور ابن عباس و ا غیرہ مفسرین نے کیا ہے کہ بنا بریں معنی کذب آیت میں لازم آئے گا۔ سنئے حضرت ! آیت میں چونکہ الا بعد نفی کے واقع ہوا ہےیعنی إِنْ ، وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِمیں بمعنی نفی ہے اور الا اس کے بعد ۔ تو بناء بر قاعدہ مسلمہ کہ استثنا منفی سے مفید اثبات ہوتا ہے۔ آیت مذکورہ بھی کلام ایجابی بنی ۔ اور ثبوت ایک شے کا دوسری چیز کے لیے چاہتا ہے کہ مثبت لہ یعنی وہ دوسری چیز پہلے موجود ہو۔ اب مطابق قاعدہ مسلمہ آیت مذکور میں ایمان لانا انہیں اہل کتاب کے لیے ہوا جو اس وقت موجود ہوں گے۔ غیر موجودہ تو محکوم علیہ ہی نہیں۔ پھر کذب کہاں ۔ ازالہ اوہام کے صفحہ ۳۶۸ پر عالما ء کو مرزا صاحب باعث لاحل سمجھنے اس اعتراض کے شرمندہ اور بے زبان لکھتے ہیں۔ اور بعد ازاں اس معنی ابو ہریرہ اور ابن عباس اور مفسرین پر بعلا وہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ احادیث صحیحہ بتلا رہی ہیں کہ مسیح کے دم سے اس کے منکر خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا غیر اہل کتاب کفر کی حالت میں مریں گے۔ تو یہ معنی بھی جو پیش کیے گئے ہیں۔ یہ بداہت فاسد ہیں۔ میں کہتا ہوں ۔ احادیث کا مفاد یہی ہے کہ وتكون الملل ملة واحدة یعنی مسیح کے زمانہ میں کوئی ملت بغیر اسلام کے نہ رہے گی ۔ یہ جب ہی ہوتا اہے کہ کوئی منکر اور کافر نہ رہے۔ جو موجودر میں سب ایمان لائیں۔ اس میں کونسا فساد ہے۔ مثال اگر کہا جائے۔ عرب شریف میں مجتہ الوداع کے بعد کوئی نہ رہا کہ مشرف با سلام نہ ہوا ہو۔ تو صحیح اور درست ہو گا اور صورت اس کی یہی وقوع میں آئی کہ منکر اور کافر مارے گئے اور موجودہ مشرف با سلام ہوئے ۔ احادیث صحیحہ میں فقره وتكون الملل كلها ملة الاسلام اور ترتع الاسود مع الابل اور والنمار مع البقر اور والذئاب مع الغنم اور يلعب الصبيان بالحيات وغیرہ وغیرہ جو قطعا زمانہ حال میں متحقق نہیں ۔ آپ کو مسیحموعود ہر گز نہیں بننے دیتے۔

سوال: فقره و تكون الملل كلها ملة الاسلام کو معارض ہے آيَةٍوَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَالِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتُ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَامُلَتَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ه چنانچہ فاضل امر وہی صاحب اعلام الناس میں لکھتے ہیں۔ کیونکہ بحسب مقتضی اس آیت کے کسی زمانہ میں اتفاق ایک ملت پر ممکن نہیں ۔

جواب: اس فقرہ حدیث صحیح کو بوجہ عدم قبول تاویل کے حسب مطلب اپنے کے آپ کا شنا چاہتے ہیں۔ آیہ میں استثناء إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّک موجود ہے۔ اور استثناء زمانیات کا مستلزم ہے استثناء زمان کو ۔ لہذا مسیح کے وقت سب کا مرحوم ہونا اور سب کا متفق ہونا ملت واحدہ پر ممکن ہوگا ۔ ضروری امر بمقتضی آیت کے صرف اتناہی ہے کہ اختلاف فی الجملہ اور جہنم کا بھر دینا تحقق ہو۔ ہاں ۔ اگر بعد لا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ لَهُ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ نہ ہوتا تب بوجہ اختلاف دائگی کے زمان مسیح کا اتفاقی ہونا نا ممکن تھا۔ تعجب ہے کہ بایں ہمہ انہیں احادیث بخاری سے آپ اپنا حلیہ ثابت کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ اور اتباع آپ کے فرماتے ہیں کہ حلیہ مرزا صاحب کا گندمی رنگ ۔ سیدھے بال یعنی گھونگر والے نہیں ۔ کندھوں کے قریب کانوں کی لو کے نیچے تک لٹکے ہوئے ۔ صحیح بخاری میں لکھا ہے۔ اراني الليلة عند الكعبة في المنام فاذا رجل آدم کا حسن ما ترى من أدم الرجال تضرب لمته بين منكبيه رجل الشعر ، اور اس صحیح بخاری میں اس کے قریب ہی مسیح اول یعنی صاحب انجیل کا حلیہ یہ لکھا ہے۔ سرخ رنگ اور گھونگھریالے بال ۔ چوڑا سینہ ۔فاما عیسیٰ فاحمر جعد عريض الصدر.

ناظرین! یہ مغالطہ بھی قابل غور ہے۔ سرخی اور گندمی رنگت دونوں کا راوی ابن عباس ہی ہے۔ ایسا ہی گھونگر والے اور غیر گھونگر والے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ مسیح ابن مریم کی رنگت سرخی مائل سفیدی تھی۔ ایسا ہی بالوں میں جعودة غير تامہ یعنی تھوڑے گھونگر والے ۔ ایسی صورت میں سرخ رنگ بھی کہنا درست ہے اور گندمی رنگ بھی ۔ ایسا ہی گھونگر والے اور غیر گھونگر والے۔ بخاری میں جوعن مجاهد عن ابن عمر قال قال رسول الله رأيت عيسی و موسى وابراهيم فاما عيسى فاحمر جعد عريض الصدر آیا ہے۔ خطا بخاری کی ہے۔ فی الواقع عن مجاهد عن ابن عباس ہے۔ دیکھواخراجات محمد بن کثیر اور اسحاق بن منصور سلولی اور ابن ابی زائدہ اور سینی بن آدم و غیرہ کے۔ عینی بخاری اور مشکوۃ میں - وعن ابن عباس عن النبي رأيت ليلة اسرى بی موسى رجلا آدم طوالا جعدا كانه میں ابن عباس ہی سرخی سفیدی سے ملے ہوئے اور غیر گھونگر والے بلحاظ نفی کمال کے بیان فرماتے ہیں۔

اب یہ احتمال ( کہ عیسی احمر اور عیسی آدم یعنی گندم گوں اور ) اس لیے نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت ﷺ بحسب دونوں روایت کے من جملہ واقعہ اسراء یعنی معراج کا ذکر فرماتے ہیں۔ جس کے پہلے بروایت مسلمعن جابر ان رسول الله ﷺ قال عرض على الانبياء مذکور ہے۔ جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ اس میسی کا ذکر ہے جو سلک انبیاء کرام کیمبینا علیہم الصلوة والسلام میں مثل موسی و ابراھیم کے داخل ہے نہ ذکر خیر مثیل عیسی یعنی مرزا صاحب کا۔ ورنہ آپ فرماتے ، دیکھا میں نے عیسی اور مثیل ان کا (یعنی مرزا صاحب کو اپنے اپنے حلیہ کے ساتھ ۔ اس صورت میں ضروری تھا کہ بعد ذکر عیسی علی مونا و مایہ الصلوة والسلام کے مثیل عیسی کو بلفظ عیسی استعارہ کے طور پر ذکر نہ کیا جاتا۔ کیونکہ موجب خلط اور اشتباہ کا ہے بیان مقصود میں جو منافی ہے فصاحت اور بلاغت کے ۔ باقی رہی روایت ابن عمر اراني الليلة جے اور انہیں کی دوسری روایت بلفظ بينا انا نائم بخاری ۔ تقریر مذکور سے وجہ بیان گندم گونی اور ایسے ہی حلف اٹھا نے ابن عمر کی نفی حمرة پر یعنی حمرة کاملہ ناظرین کو معلوم ہو سکتی ہے۔ ابن عمر کا قول اس حدیث میں لا و اللہ صاف دلالت کرتا ہے اوپر وحده ما نسب اليه الحمرة والأدمة ورند فی کی کوئی وجہ نہیں بلکہ واجب تھا کہ فرماتے وہ سرخ رنگت والا اور شخص ت والا اور شخص ہے اور گندم گوں اور ۔

اس تقریر سے ناظرین معلوم کر چکے ہوں گے کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام بھی ایک ہی مسیح بن مریم کا ذکر فرماتے اور سنتے رہے ہیں۔ اور انہی عیسی کو بہ نص محکمبَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِکے جیسا کہ بیان کر چکا ہوں مرفوع علیالسماء اور انہی کو دوبارہ نازل من السماء مانتے رہے ہیں۔ پس وہم امروہی صاحب کا اعلام الناس میں مرزا صاحب کے حلیہ کے بارہ میں جو بخاری کی حدیث سے ثابت کرتے ہیں اس تطبیق سے دفع ہو گیا۔

من رجال شنوة ورأيت عيسى رجلا مربوع الخلق الى الحمرة والبياض سبط الرأس ان متفق عليه

اس حدیث سوال: اور نسب مرزا صاحب کا صحیح مسلم وغیرہ میں لکھا ہوا فرماتے ہیں ص۵۴لوکان العلم معلقا بالثريا لنا له رجل من ابناء فارس الصدر شنی جواب: اولا : متفق علیہ سیحین کی حدیث میں اس طرح مذکور ہے۔ قال فوضع النبی يده على سلمان ثم قال لو كان العلم ان يت حدیث آپ نے سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ مبارک رکھ کر فرمائی ۔ جس سے سلمان فارسی کا مصداق ہونا اس حدیث کا ثابت ہوتا ہے۔ اور ثانیا اگر بلحاظ جمعیتہ لفظ رجال اور ھؤلاء کی جنس مراد ہو تو بھی اہل فارس ہی کو شامل ہوگی ۔ جناب مرزا صاحب نے تو ایام اصلح میں اپنا سمرقندی الاصل ہونا ثابت کیا ہے۔ اور سمرقند خراساں سے ہے نہ کہ فارس ہے۔ جن کو کچھ بھی مہارت جغرافیہ وغیرہ میں ہے ان پر ظاہر ہے۔ اور ثالثا اگر مر اور جل میں ھؤلاء سے نجم لیے جائیں بلحاظ امین کے پھر بھیلَوْ كَانَ الْعِلْمُ میں الْعِلْمُ معرف باللام سے مراد علم مطابق بکتاب وسنت ہے نہ مخالف ان کے ۔ اور رابغا بعد فرض تسلیم تطابق مسئلہ صیح میں حد مسئلہ صیح میں حدیث مذکور سے فقہ تحصیل علم ۔ بہر صورت اس شخص کے لیے ثابت ہوتی ہے نہ یہ کہ وہ شخص مسیح موعود ہو ۔

سوال: پھر امروہی صاحب صفحہ مذکور میں من جملہ علامات موعود کے جو مرزا صاحب میں موجود ہیں ابطال دین نصرانیت اور اس کے آثار کا مٹا دینا ذکر کرتے ہیں ۔

جواب: آج بتاریخ ۱۵ شعبان ۱۳۱۷ھ تک بالکلیہ دین نصرانیت کا مٹ جانا متحقق نہیں ہوا۔ اور مسیح موعود عرصہ سے آچکے ہیں۔

سوال: پھر امروہی صاحب موصوف ص ۵۵ پر اس حدیث کے ٹکڑے یعنی لیدعون الى المال فلا يقبله احد سے مراد مرزا صاحب کو ٹھہراتے ہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب نے بذریعہ اشتہارات کے رو پید دینے کا وعدہ مخالفین اسلام کو فر مایا اور کسی نے قبول نہ کیا ۔

ناظرین کو یہ بھی خیال نہ ر ہے کہ اسلام فی نفسہ ایسا امر حق مطابق للواقع ہے کہ قیامت تک کوئی مخالف اس کی غیر حقیت کو ثابت نہیں کر سکتا۔ اس میں محتاج زید عمرو کی طرف نہیں جیسا کہ فقرہ حدیث ہ مسلم کا ظاهرين الى يوم الق القيامة ) اس پر شاہد ہے۔ اب ہر ایک شخص بیان کننده حقیقت اسلام بالبراهين والحجج مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔ الا بعد از تحقق علامات جو احادیث میں مذکور ہیں ۔

سوال: آیتسُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً - آسمان پر چڑھنے اور اس سے اترنے کی تکذیب کر رہی ہے۔

جواب: ہاں بے شک ۔ مگر حسب استنباط آپ کے۔ جناب عالی! سیاق آیت کا بھی خیال فرمائیں۔وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفُجْرَلَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعًا أَوْتَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِنْ نَّخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الأَنْهَارَ خِلَا لَهَا تَفْجِيراً . أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْتَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلَئِكَةِ قَبِيلاً أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرْقِيَكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَءُ هُ ، قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً آيَ سُبْحَانَ رَبِّي جو جواب میں کفار کے واقع ہوئی ہے۔

اگر دلالت کرتی ہے امتناع صعود اور نزول جسمی پر جیسا کہ جناب نے سمجھا ہے۔ تو چاہیے کہ جتنے امور قول کفار میں مذکور ہیں سب کے ممتنع ہونے پر دال ہو ما قبل میں جیسا صعود اور نزول کا ذکر ہے ایسا ہی چشموں کے جاری کرانے کا زمین میں اور ایسا ہی باغ خرما اور انگور کا جو چشمہ دار ہو ۔ اور ایسا ہی گر جانے آسمان کا۔ اور ایسا ہی اللہ جل شانہ اور ملائکہ کا سامنے ہونا۔ اور ایسا ہی آپ ﷺ کے لیے گھر سونے کا ہونا۔ ہر ایک عاقل ہونے کے گھر کو اور باغ خرما اور انگور کو جس میں چشمے بہتے ہوں مطلق فرد بشری کے لیے منع نہیں تصور کرتا چہ جائے کہ آپ کے لیے جو باعث ایجاد عالم ہیں اور جاری کرنا چشموں کا انبیا ، اور اولیاء سے بعد اجابت دعا محال نہیں خیال کیا جاتا ۔ بلکہ اس کے وقوع پر آیتفَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنَادال ہے۔ اور آسمان کے گر جانے کے عدم امتناع پر آیتوَإِنْ يُرَوْا كِسْفَان اور ایسے ہی وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ لَقَالُوا إِنَّمَا سُكْرَتْ أَبْصَارُنَاء بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ. اور ایسے ہیاِنْ تَشَا تَخُسِفُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمُ كِسَفًا مِنَ السَّمَاء دلالت کر رہی ہیں فقط عدم ایقاع ان امور کا بلحاظ اس کے ہے کہ کفار بعد ایقاع بھی بوجہ عناد اور مکابرہ کے ایمان نہ لاویں گے ۔ جیسا کہ آیت[font اس مضمون کی شہادت دے شہادت دے رہی ہے اور بعد آنے حق سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے ان کی اتمام محبت ہو جائے گا۔ بعد ازاں ایمان لانا ان کا ان کو نفع نہ دے گائے۔

الحاصل آ یہ مذکورہ بشہادت باقی آیات جو اب مذکور ہو چکی ہیں ۔ امتناع صعود اور نزول پر دال نہیں ۔ مقصود آیت سے یہ ہے کہ حق سبحانہ و تعالی بزرگ اور برتر ہے اس سے کہ کوئی اس کے امور سلطنت اور انتظام ملکی میں دخل دیوے۔ یا حق سبحانہ و تعالیٰ حسب اقتضاء کفار کے جس وقت وہ جیسا کہ چاہیں نشان ظاہر کرے۔ خصوصا وہ نشان جو تعمیم محبت ہونے کے لیے موجب ہلاک ہو۔ وہفَعَالٌ لِمَا يُرِيدُ ہے۔ اگر چاہے اجابت مسئول تمہارے کی فرمانے ورنہ کچھ کل جبر اور شکایت کا نہیں ۔ میرا کام فقط تبلیغ اور رسالت ہے۔ مجھ کو اسی میں مشغول رہنا چاہیے۔ اور مسئولہ کی طرف متوجہ ہونا اپنے منصب سے گویا باہر جانا ہے۔

ناظرین پر ظاہر ہو چکا ہو گا کہ مضمون ہذا جو مدلول آیت ہے یہ کہاں اور امتناع امور مذکورہ کہاں۔ بلکہ اس آیت میں فقرہ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا ان دلالت صراحت کر رہا ہے اس پر کہ کفار بھی آپ کے آسمان پر جانے کو منع نہیں سمجھتے تھے۔ لهذا أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ پر اکتفا نہ کی بلکہ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَکو بھی ساتھ منظم کیا۔ ہادی ہدایت کرے۔ (تفسیر ابن کثیر )

زمین پر نزول ملائکہ کا ثبوت اور ملائکہ کو ارواح کو اکب ماننے کی تردید:

سوال: آية هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَئِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ اور ایسا ہی هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَئِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ ايَتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ ايْتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيْمَا نُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيْمَانِهَا خَيْراًصاف خیرا لے رہی ہیں موضوع ہو نے حدیث دمشقی کے اوپر ۔ کیونکہ بعد نزول ملائکہ کے اتمام محبت ہو جاتا ہے۔ پھر کسی کا ایمان لا نا مفید نہیں ہوتا۔ اور حدیث دمشقی با دمشقی میں نزول مسیح ملائکہ کے کندھے پر تھیلی رکھے ہوئے مذکور ہے۔ جس کو آیات مذکورہ بالا تکذیب کر رہی ہیں۔ اور ایسا ہی آیۃوَقَالُوا لَوْلا أُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ وَلَوْ أَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الْآمُرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ. وَلَوْ جَعَلْنَهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنَهُ رَجُلاً وَ لَلَبَسْنَا عَلَيْهِمُ مَّا يَلْبِسُونَ دال ہے۔ اوپر اس کے کہ نزول اور چلنا ملائکہ کا بنی آدم کی ہیئت پر عادت الہیہ سے نہیں۔ اور اگر فرشتہ زمین پر اترے بھی اور زمین پر چلے پھرے اور مشہور خواص و عوام ہو تو بالضرور خواص اور لوازم آدمیوں کے اس میں ہونے چاہئیں ۔ جب ایسا ہو تو پھر وہی لبس اور اشتباہ بحال خود باقی رہے گا۔ اور وہ الصالحسوال ان کا بے جواب ۔ یہ ترجمہ ہے ایام اسلح کی عبارت کا۔

جواب:هَلْ يَنظُرُونَ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيْمَا نِهَا خيرا تک ذکر ہے یوم حشر کا اور بعض اشراط ساعت کا۔ جس وقت ایمان لانا نافع نہ ہوگا یعنی نزول ملائکہ بعد پھٹ جانے آسمان کے اور حق سبحانہ وتعالی کا نزول بادلوں کے سایوں میں جو یوم الحشر میں متحقق ہوگا۔بدليل وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلِئِكَةُ تَنزِيلاً اور بعض اشراط ساعت مثل طلوع الشمس من المغرب جو قبل از قیامت ظہور میں آئیں گے۔ کیا یہ کفار ان امور کے منتظر ہورہے ہیں۔ یہ مضمون مفصل تفسیر ابن کثیر میں بشہادت احادیث صحیحہ مذکور ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں ۔ باقی رہی آیت وَلَوْ اَنْزَلْنَا ثُمَّ لَا يَنظُرُونَ تک یہ دلالت امتناع نزول ملائکہ پر دنیا میں کسی خدمت خداوندی کے لیے نہیں کرتی ۔ بلکہ مفاد اس کا یہ ہے کہ اگر حسب اقتضاء کفار کے رسول ملکی بھیجیں اور کفار کو بحالت کفر پائیں ۔ تو فیصلہ ہو جائے گا۔ یعنی کفار کو ہلاک کردیں گے۔ شاہد اس کی دوسری آیت ہے۔مَا نُنَزِّلُ الْمَلَئِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَانُوا إِذَا مُنظَرِينَ - ایسا ہی یہ آیتيَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلِئِكَةَ لَا يُشْرِى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ وَقُول تَعَالَى وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا ان مطلب اس سے یہ ہے کہ رسول ملکی اگر بھیجیں تو بالضرور برعایت انتقاع اور استفادہ کے بصورت بشری نازل ہوگا۔ اور اگر ایسا ہوا تو پھر بھی مقصود یعنی دفع اشتباہ حاصل نہ ہوگا ۔ آپ کی اس تیز طبعی کے مطابق تو کتنی ہی آیات اور احادیث صحیحہ میں تناقض غیر مندفع پیدا ہو گا ۔

آپ از الہ اور ایام اصلح میں انہیں آیات سے استدلال پکڑ کر نزول ملائکہ سے زمین پر منکر ہیں۔ اور ملائکہ کو ارواح کو اکب قرار دیا ہے۔ حضرت جی نےفَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا. اور الیسا ن هَلْ أَتَكَ حَدِيثُتُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَ اور انسانِي إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ الَنْ يَكْفِيكُمْ أَنْ يُمِدَّ كُمْ رَبُّكُمْ بِثَلَثَةِ الافِ مِنَ الْمَلَئِكَةِ مُنزَلِينَ. بَلَى إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هَذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمُ بِخَمْسَةِ الافِ مِنَ الْمَلِئِكَةِ مُسَوِّمِينَ اور ایسا ہی وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيْنيَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرُعًا وَقَالَ هَذا يَوْمٌ عَصِيبٌ وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِنْ قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُونَ السَّيِّاتِ قَالَ يَقوم هؤلاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُون فِي ضَيْفِي أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ. قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَيْتِكَ مِنْ حَق وَ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ. قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ اوِى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٌ.

اور سب حضار مجلس نبوی على صاحب الصلوة والسلام اس سے ناواقف تھے جیسا کہ بخاری اور مسلم اور ترمذی اور ابی داؤد اور نسائی اور ابن ماجہ میں مذکور ہے کہ اس کے بارہ میں آپ نے فرمایا خانہ جبرائیل اتاكم يعلمكم دینکم اور بخاری میں ابن عباس سے ہے کہقال قال رسول الله يوم بدر هذا جبرائيل اخذ برأس فرسه عليه اداة الحربیعنی آپ نے بدر کے روز فرمایا کہ یہ جبرائیل میں مسلح کھڑے ہوئے اور گھوڑے کو پکڑے ہوئے ۔ اور وہ معلم جس نے آنحضرت ﷺ کو امام بن کر تعلیم کیفیت نماز کی اور رمضان میں آپ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتا تھا۔ اور وہ گھوڑے کا سوار جس کو فرعون کے لشکر نے دیکھا اور سامری نے خاک اس کے گھوڑے کے قدموں کی اُٹھائی ۔ اور وہ شخص جو صورت دحیہ صحابی میں آتا تھا۔ اور ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ یا صدیق اکبر کو فر مایا کہ یہ جبرائیل ہے۔ اور تم کو سلام دیتا ہے۔ اور وہ فرستادہ جواہل طائف کے ایذا دینے کے وقت کہتا تھا کہ اے محمد ﷺ تیرا خدا فرماتا ہے کہ اگر تو چاہے تو میں اس پہاڑ کو ان کے سر پر پھینکوں وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ سب ارواح کواکب تھے؟ خدا را ترسے و مصطفے راحیائے قرآن کریم کو کسی سمجھ والے سے پڑھنا چاہیے۔ تا کہ ایک آیت کو حسب زعم اپنے کے معنی مفید مطلب پر دال ٹھہرا کر آیات اور احادیث میں تناقض پیدا نہ کریں۔

سوال: آيةوَمَنْ نُعَمِّرُهُ نُنَكِّسُهُ فِي الْخَلْقِ دال ہے وفات عیسی پر ۔ کیونکہ حسب مفاد اس آیت کے جو شخص اس ( ۸۰ ) یا نوے (۹۰) سال کو پہنچتا ہے اس کو نکوس اور واژگوئی به نسبت پہلی حیاتی کے پیدا ہوتی ہے۔ تو کیسا حال ہوگا اس شخص کا جو دو ہزار سال تک زندہ رہے۔ (ایام الصلح )

جواب: اس (۸۰) یا نو (۸۰) یا نوے ( ۹۰ ) سال کی قید جو آپ ہے یہ کون سے کلمہ قرآنی نے لگائی کا مداول ہے۔ برائے خدا تحریف کلام الہی سے باز آ ئیں۔ آپ نے آیےوَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًاقرآن کریم میں نہیں دیکھی ۔ اگروَمَنْ نُعَمِّرُهُ نُنَكِّسُهُ فِي الْخَلْقِ کا مفہوم اس (۸۰) یا نوے (۹۰) سال تک عمر کے محدود ہونے کا ہے تو پھر یہ آیت وَلَبِثُوا ان تین سونو برس (۳۰۹) تک اصحاب کہف کو کس طرح سلا رہی ہے۔ اور نوح العلی کی عمر ایک ہزار چار سو سال (۱۴۰۰) اور حضرت آدم اعلی کی عمر نو سوتمیں سال (۹۳۰) اور حضرت شیث اعلی کی نو سو بارہ سال (۹۱۲) اور حضرت ادریس ال کی تین سو چھپن سال (۳۵۶) اور حضرت موسیٰ ال کی ایک سو بیس سال (۱۲۰) اور حضرت ابراہیم السلام کی دو سوئیس سال (۲۲۳)۔ کیسے مدلول آیت قرآنی وقوع میں آئے ۔ یہ سب کمال تیزی فہم اور طلاقت لسانی کا ہے۔ ہادی ہدایت کرے۔

سوال: آیتوَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّى وَمِنْكُمُ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمَرِ وال ہے۔ وفات عیسی پر۔ کیونکہ کسی جگہ میں ومنكم من صعد الى السماء بجسده العنصري ثم يرجع في آخر الزمان وارد نہیں ہوا ۔ فقط دونوں ہی امر کا ذکر ہے۔ اب اگر صعود الى السماء بھی مانا جائے تو حصر آیہ باطل ہوتا ہے۔

جواب: مسیح بن مریم اس آیت کے دوشق میں سےوَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ العُمرمیں داخل ہے۔ اور ارذل العمر کے لیے حد حد معین معین نہیں نہیں نہ : منصوصی اور نہ عقلی ۔ تا کہ اس سے متجاوز ہونا موجب موت کا ہو۔ علما طبعین نے جو تحدید کی ہے اس کو شیخ اکبر اپنے کشفی طریق سے فتوحات میں روفر ماتے ہیں ۔ مضمون ان کے قول کا یہ ہے کہ اگر جو کچھ علم طبعی میں ہمارے اوپر مکشوف ہوا ہے علما طبعین کو معلوم ہوتا تو ہرگز عمر طبعی انسان کی محدود به حد معین نہ کہتے ۔ امید ہے کہ آپ کشفی دلیل کو تو مان ہی لیں گے۔ باقی رہا سی کا آسمان پر جانا۔ سو یہ حالات متوسط بین الولادت اور بین الوفات سے ہے۔ حالات متوسطہ کا اگر ضروری سمجھا جائے تو چاہیے کہ عدم ذکر واقعہ صلیب بھی جیسا کہ مزعوم جناب یعنی سچ کو صلیب پر دیا جانا مانتے ہیں۔ موجب بطلان حصر آیت ہو۔ اور اگر یہ عدم ذکر موجب بطلان حصر نہیں تو ایسا ہی عدم ذکر صعود علی السماء ( جو حالات متوسط سے ہے ) بھی محل حصر آیہ نہیں ہو سکتا۔ ہادی ہدایت کرے۔

تسبیح و تقدیس بھی اکل و شرب کی طرح باعث حیات ہو سکتی ہے:

سوال: آيتوَمَا جَعَلْنَا هُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَاور ایسے ہی كَانَا يَأْكُلَانِ الطعامنص صریح ہے موت عیسیٰ پر کیونکہ صریح معلوم ہوتا ہے کہ مایہ حیات انبیاء کا بھی مثل باقی افراد بشری کے طعام ہی ہے تو پھر آسمان پر زندہ رہنا سیح کا اتنی مدت بغیر خوردونوش کے لیے ہو سکتا ہے ؟

جواب: آیہ مذکورہ اسے مایہ حیات طعام کا ہوتا ہے۔ طعام کے معنی ما یطعم کے ہیں۔ جو طعم اور غذا ہو کر مایۂ حیات کہنے ۔ طعام کا معنی گیہوں جو وغیرہ حبوب نہیں ۔ بلکہ یہ بھی من جملہ افراد طعام میں سے ہیں ۔ آپ نے حدیثوَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيْتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِینی متفق علیہ سنی ہوگی ۔ وہ خدا کے ہاں بغیر گندم اور جو وغیرہ حبوب ارضی کے کسی اور چیز کی خوردونوش سے خبر دے رہی ہے ۔ آنحضرت ﷺ فرما رہے ہیں کہ میں تمہاری طرح مرغ آب و دانہ نہیں ہوں کہ ماکولات معتادہ ہی میری حیات کا ذرایعہ ہوں ۔ رات گزارتا ہوں ۔ اور میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ اور ایسے ہی وہ حدیث جس کو ابوداؤ داور احمد حنبل اور طیالسی نے روایت کیا ہے۔ فكيف بالمؤمنين يومئذ. فقال يجزيهم ما يجزى اهل السماء من التسبيح والتقديس . راوی حدیث آنحضرت ﷺ سے پوچھتا ہے کہ یا رسول اللہ کیسا حال ہو گا جس دن دجال کے ہاتھ میں طعام ہوگا ۔ آپ نے فرمایا جس طرح آسمان پر رہنے والوں کا مایہ حیات ذکر الہی تسبیح اور تقدیس ہے اسی طرحمؤمنین بھی سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسکا ذکر کریں گے اور یہی ذکر ان کا طعام اور مائی یات ہوگا ( انجیل متی اور لوقا ۔ باب ۴ درس ۴۔ حضرت مسیح sym-9 نے لکھا ہے ) اس لفظ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحف انبیاء گذشتہ میں بھی یہ مسئلہ اسی طرح پر مرقوم ہے کہ خاصان خدا کے بدن میں کلام ربانی وہی تاثیر پیدا کر دیتا ہے جو عوام کے جسموں میں طعام کی تاثیر مسلم ہے۔ انہی ۔ اصحاب کہف کا قصہ زیر لحاظ رکھیں ۔ ان کو کس طرح حکیم مطلق نے بغیر طعام اور شراب مالوف اور بغیر تنظیف شعاع آفتابی اور ہوا کے اتنی مدت دراز تک زندہ رکھا۔ آپ اور قانون قدرت کے مرید بھی انبیاء اور اولیاء کو اپنے پر قیاس فرماتے ہیں۔ اس امت مرحومہ میں اب بھی اور قیامت تک ایسے لوگ موجود ہیں اور ہوں گے جن کا مایہ حیات ذکر الہی ہے اور ہو گا۔

سوال: بجام آيتوأوصني بِالصَّلوةِ وَالزَّكُوةِ مَا دُمْتُ حَيًّا. چاہیے کہ مسیح بن مریم آسمان پر صلوٰۃ اور زکوۃ ادا کرتے ہوں حالانکہ آسمان پر جیسے خوردونوش سے فارغ ہیں ایسا ہی باقی لوازم جسمیت سے ۔ علاوہ اس کے اداء زکوۃ مال کو چاہتا ہے۔

جواب: حضرت عیسی اللہ تو دنیا بھی باعث زہد و فقر کے مالک نصاب نہیں ہوئے ۔ ادائے زکوۃ میں تو نصاب کا ہونا شرط ہے۔ آپ زمین پر ان کا ادائے زکوۃ ثابت کر دیں۔ بعد اس کے آسمان پر ہم ثابت کر دیں گے ۔ یہ اعتراض تمسخر ہے ساتھ سیح بن مریم کے۔ جیسا کہ ایام م الصلح الح : میں آپ نے لکھا ہےلا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ازالہ اوہام کے ص ۳۰۹ میں بار یک قلم سے آپ لکھتے ہیں کہ احیاء موتی ایک مسمریزم کے طور پر کھیل تھی۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا۔ انا۔ میں متعجب ہوں کہ اللہ جل شانہ نے اس کھیل اور لہو ولعب کو اس نبی اولو العزم کی نعمتوں موہوبہ سے قرآن کریم میں کیسے شمار کیا۔وَإِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمُ اذْكُرُ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وعَلَى وَالِدَتِكَ إِذا أَيَّدُ تُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَهْلاً وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَةَ وَالْإِنْجِيلَ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطَّيْنِ كَهَيْئةِ الطَّيْرِ بِاذْنِي فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي وَ تُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِاذْنِي وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَى بِإِذْنِيیہ مردوں کا قبر سے زندہ کر کے باذن خدا وند نکالنا یہ بھی مسمریزی طلسم آپ کے نزدیک ہوگا۔ تو پھر باذنی لگانے کی کیا حاجت تھی۔ یہ تو اسی لیے ہے کہ ایسے خارق کا ظہور بندہ کے ہاتھ پر موجم الوہیت اس کا نہ ہو بلکہ فی الواقع زندہ کرنے والا میں ہوں ۔ اور انبیاء کرام بظاہر محل ظہور ہوتے ہیں۔

معجزہ تو نام اس خارق کا ہے جو اسباب عادیہ میں سے نہ ہو۔ ورنہ دوسرے لوگ اس کی مثل لانے سے کیسے عاجز ہوں گے۔ علاقہ مماثلت تو پیار کو چاہتا ہے۔ مرزا صاحب کو باوجود علاقہ مماثلت کے مسیح بن مریم علیہا السلام سے معلوم نہیں کیا رنج ہے ان کے معجزات منصوصہ سے کیا بلکہ سب انبیاء کے معجزات سے منکر بلباس ماول ہو گئے ہیں۔ بالخصوص انکار معجزات عیسویہ کے تو البتہ وجہ ہے تاکہ لوگ ہم کو ایسے خوارق کے اظہار کی تکلیف نہ دیں۔ مگر اور انبیاء کے معجزات میں کیونکر انکار ہوا۔ شاید تعلیم یافتگان بار ہوا ۔ شاید تعلیم یافتگان لندن کا خیال ہے۔

سوال: آيَة إِنَّكَ مَيْتٌ وَإِنَّهُمُ مَيْتُونَ صریح ہے وفات عیسی بن مریم میں ۔

جواب یہ دونوں یعنی إِنَّكَ مَيْت اور ایساوَإِنَّهُمْ مَيْتُونَقضیہ مطلقہ عامہ میں نہ دائمہ مطلقہ یعنی تحقیق تو اے حبیب ﷺ فوت ہونے والا ہے اپنے وقت معین میں ۔ اور وہ انبیاء سابقہ بھی اپنے اپنے اوقات معینہ میں مرنے والے ہیں۔ اب فرمائیے کہ مسیح ابن مریم کو بعد نزول سب اہل اسلامإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ میں داخل سمجھتے ہیں یا نہ نزول آیت کے وقت اگر مر جانا ان کا ضروری ہو تو چاہیے کہ آپ بھی وقت نزول آیت داخل اموات ہو گئے ہوں۔

سوال: میت مشتق موت سے ہے اور حمل مشتق کا قیام مبداء کو چاہتا ہے جو یہاں پر موت ہے تو بناء بر آں چاہیے کہ وہ سب مر چکے ہوں حتی کہ صیح بھی۔

جواب: قیام مبداء کا وقت تحقق مضمون قضیہ ضروری ہوتا ہے نہ وقت صدق قضیہ کے

سوال: آیت [font دلیل ہے وفات مسیح پر۔

جواب: یہ آیت سورہ نحل کی ہے۔ جس کا نزول مکہ میں (زادھا اللہ شرفا و تکریما ) ہوا ہے۔ بناء عليه مراد من دُونِ الله سے معبودات مشرکین مکہ کے ہوں گے یعنی اصنام اور بہت۔ نہ سیح بن مریم جو معبود اہل کتاب کا ہے۔ ابن عباساَموات کی تفسیر میںاصنام امواتفرماتے ہیں۔

سوال: عموم لفظ کو اعتبار ہوا کرتا ہے نہ خصوص مورد کو ۔ بناء براں چاہیے کہ مراد مِنْ دُونِ الله سے مطلق معبودات باطلہ ہوں ! ہوں بغیر تخصیص بتوں کے۔ تو پھر مسیح بن مریم بھی داخل اموات بحکم اس آیت کے ہوگا۔

جواب: معبودات باطلہ میں فقط مسیح ہی اس تقریر پر داخل نہ ہوگا بلکہ ملائکہ جو من جملہ معبودات باطلہ سے ہیں وہ بھی داخل اموات ہوں گے تو بحکم آیتہ مذکورہ روح القدس بھی مر گیا ہوگا ۔ اب یہ مصیبت کس پر پڑی۔ آپ پر۔ کیوں کہ سلسلہ الہامی کا اول ہی سے انقطاع لازم ہوا اور اگر اموات سے وہی معنی مطلقہ عامہ کی رنگ سمجھا جائے یعنی اپنے اپنے اوقات میں جیسا کہ بیضاوی اور ابن کثیر اور تفسیر کبیر اور کشاف اور سب تفاسیر میں ہے تو مسیحبن مریم بھی قبل از وقت معین زندہ رہے گا۔

سوال : آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلِ صاف شہادت دے رہی ہے وفات عیسی بن مریم پر۔

جواب: آپ نے منی خَلَتْ کے وقت کے سمجھے ہیں تب ہی خوش ہور ہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو آیتسُنَّةَ اللَّهِ الَّتِی قَدْ خَلَتْ اور دوسری آیت وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلاً میں تناقض صریح ہو گا۔ کیونکہ پہلے کا مفاد یہ ہوا ۔ سنت خداوندی مر چکی اور معدوم ہوگئی ۔ اور دوسری کا مفاد یہ کہ سنت الہیہ متغیر نہیں ہوتی یعنی ہمیشہ بحال خود باقی رہتی ہے۔

حضرت من ! سنئے ۔ خَلَتْ مشتق ہے خلو سے جس کا معنی تنہا ہوتا ہے جیسا کہوَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطِينِهِمُاور دوسرا معنی گزرنا بھی ہے اور یہ معنی صفت زمانہ کی بالذات ہوتا ہے۔ کہتے ہیں سال گذشتہ اور قرون خالية اور زمانیات کی بالعرض یعنی جو اشیاء کہ زمانہ میں موجود ہیں ان کو بھی بعلاقہ ظرفیت اور مظر وفیت کے موصوف کیا جاتا ہے۔ اب معنی آیت کا یہ ہوا۔ گزر چکے ہیں قبل آنحضرت ﷺ کے رسول ۔ اور دو طرح پر صادق ہوتا ہے جو مر گئے ہوں ان کو بھی اور جو زندہ ہوں مگر رسالت سے فارغ ہیں جیسا کہ مسیح ابن مریم محاورہ ہے کہ فلاں حاکم شہر میں تحصیلدار ہو گذرا ہے یہ ہر دو صورت میں صادق ہے۔ اگر مر گیا ہو جب بھی اور اگر ملازمت صیغہ تحصیلداری سے علیحدہ ہو کر زندہ موجود ہوا جب بھی۔

حاشیہ

عیسی بن مریم کا مستثنی ہونا اثبات مدعا میں مخل نہیں ۔ کیونکہ واقعہ احد اور حادثہ وفات شریف دونوں میں مزعوم مخاطب کا برات ہے آنحضرت ﷺ کی وفات ہے۔ اور ظاہر ہے کہ دفع مزعوم مذکور میں جو سالیہ کلیہ ہے یعنی لا شني من الرسل بهالك - فقط ایجاب جڑائی جو نقیض سریح ہے سلب کلی کے لیے کفایت کرتی ہے جس سے اظہار اس ام مقصود ہے کہ رسالت منافی موت کی نہیں بصورت استدلال نزول آیت کے لحاظ سے یہ ہے۔الْمَوْتُ لَيْسَ بِمَنا في لِلرِّسَالَةِ لَأَنَّهُ لَوْ كَانَ مَنَافِيًا لما توفى أَحَلَمِنَ الرُّسُلِ لكنه الى العرضمقصود کلام سے ابطال مزعوم مخاطبین کا ہے با ثبات نقیض مزعوم کے جنہوں نے محمد ﷺ کو بلحاظ رسالت کے موت سے بری خیال کیا ہوا تھا لہذا اس کی تردید میں وما مُحَمَّدٍ إِلَّا رَسُولفرمایا۔ یعنی محمد موت سے برائی نہیں ۔ ہاں رسول ہیں اور رسالت منافی موت کے لیے نہیں۔ اگر منافی ہوتی تو کوئی رسول نہ مرتا۔ لیکن آپ سے پہلے کئی رسول مر چکے ہیں ۔ لفظ کئی رسول اس لیے کہتا ہوں کہ آیت بال دفعہ اللہ کی مخصوص ہے۔ عموم اس کے لیے۔ استدلال صدیق الامہ میں بھی اسی طرح سمجھیں۔ صرف اتناہی فرق ہے کہ یہاں مزعوم من اطمیان کا عدم و تحقق وفات شریف کا ہے۔ صدیق الامت کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی وفات شریف سے بخیال رسالت کے کیوں انکار کرتے ہو ۔ رسالت منافی موت کی نہیں ۔ تم کو قرآن کا مضمون بھول گیا ( کہ اگر رسالت منافی موت کی ہوتی تو پہلے آپ کے کوئی رسول نہ مرتا ) لیکنقد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ، اس تقریرت ناظرین سمجھ چکے ہوں گے کہقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُمقدم استثنائیہ ہے۔ قیاس استثنائی کا نہ کبری شکل اول کا جیسا کہ آج کل کے زمی مولویوں نے سمجھ رکھا ہے کیونکہ قطع نظر قوام ہی یہ شکل اول سے مضمون ہی صیح نہیں ہو سکتا۔ اس تقریر پر غرض صدیقی یہ ہوگی کہ محمد ﷺ بالفعل وفات پاچکے ہیں۔ کیونکہ آپ کا رسول ہیں اور جو رسول پہلے گزرے، سب مر چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ سب رسولوں کا مر جاتا اس کا مقتضی نہیں کہ آپ کا با فعل ہیں وفات پاویں کیونکہ یہ مقتضی تو ابتداء ولادت شریفہ سے موجود تھا۔ تو چاہیے تھا کہ پہلے سے وفات شریف محقق ہوتی ۔ دفع استجاب مخاطبین میںقد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُکا کالیہ ہونا بلحاظ قبلیت کے ضرور نہیں ۔ اور باعتبار تحقق وفات کے اپنے اپنے اوقات میں جیسا کہ بالخصوص علی مینا و ان کے لیے بعد النزول قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ بطریق علی صادق ہوگا۔ کوئی مسلمان میں بن مریم کوحتی قیوم و غیر ها لک نہیں سمجھتا۔ صاحب القول الجمیل نے امت مرحومہ کو بعد انتساب اعتقاد بلاد انا حق مشرک ٹھہرایا۔ دیکھوں ۶۸ قول جمیل ۔ بعد اظہار مقصود اس آیت کے ناظرین اس دھوکا سے جو مسلک العارف میں متعلق آیہ ہذا کے مذکور ہے بیچ سکتے ہیں ۔ ۱۲ منہ

حاشیہ ختم شد

سوال : ما بعد اس کےآفَانُ ما ت قرینہ ہے ارادہ معنی موت پرقَدْ خَلَتْ ہے ۔

جواب: آفَاِنْ مَّاتَ چونکہ بمقابلہ او قُتِل کے واقع ہوا ہے۔ لہذامات سے مراد موت حتف انفہ ہوگی۔ یعنی اپنے آپ مرنا بغیر قتل کسی کے۔(وفیه مافیه من و جهین ۱۲ منہ فائل ۔ ) جب یہ خیال شریف میں متمکن ہو چکا تو اب منصف ہو کر فرماویں کہ اگر آفان مات کو قرینہ ارادہ معنی موت پر قَدْ خَلَتْ سے ٹھہرائیں گے تو ضرور قَدْ خَلَتْ سے بھی موت حتف انفہ مراد ہو گی یعنی موت طبعی ۔ تو لازم آئے گاقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کا کا ذب ہونا ۔ کیونکہ سب انبیا sym-3 موت حتف انفہ سے تو نہیں مرے۔ بلکہ . کوئی اپنی موت سے اور کوئی مقتول ہو کر شہید ہوئے ۔ اور اگر خَلَتْ سے معنی مطلق موت کا لیا بھی جائے تو آیت رفع مخصص ہوگی ۔ عموم این آیت اور ان کے نظائر کی جیسا کہ پیدائش آدم کا بیان آیت خَلَقَهُ مِنْ تُرَاب اور نظائر جو اس کے میں ہو چکا ( جواب تحقیقی یہی ہے ۱۲ منہ ) تو پھر عموماَلَمْ نَخْلُقُكُمْ مِنْ مَّاءٍ مَّهِينٍ اور ایسا ہی خُلِقَ مِنْ مَاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ مخصوص البعض ہے یعنی ان آیات میں جو ذکر انسان کی پیدائش کا مادہ منی سے ہے آدم کو شامل نہیں۔ بلکہ آدم کے باقی افراد انسانی کا حکم ہے کیونکہ آدم کا ذکر علیحدہ ہو چکا ۔ ایسا ہی آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ سے اور اس کے نظائر سے چونکہ سیحکا اب تک زندہ رہنا ثابت ہو چکا تو پھرقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اور اس کی نظارت مراد غیر صحیح ہوگا۔ اس آیت کی مفصل تشریح کتب تفاسیر میں ملاحظہ فرماویں۔ مؤلف ایام اصلحاور ان کے اتباع کو جو دھوکا یہاں پر دعوئی اور دلیل میں ہوا ہے وہاں پر مفصل مذکور ہے ۔

سوال: آيةفِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوْتُوْنَ بڑی دلیل ہے اس بات کی کہ بغیر کرہ زمین کے نوع انسانی کا مستقر اور مستودع یعنی قرارگاہ اور نہیں تو پھر سیح بن مریم آسمان پر کس طرح بقیہ ایام حیات بسر کر رہا ہے؟

جواب کرۂ ارضی کا مستقر اور مستودع ہونا بطریق اصالت یہ منافی نہیں اس کی کہ بعض افراد بشری کو عارضی طور پرکسی اور کرہ میں رکھا جاوے جیسا کہ ملائکہ کے لیے موطن اصلی اور مقر طبعی افلاک میں معہد از مین پر عارضی آمد و رفت رکھتے ہیں ۔ بالجملہ حصر جو مستفاد ہے ہیں۔ تقدیم ظرف سے وہ اضافی ہے یہ نسبت استقرار اصلی کے۔ اور اختصاص جو مستفاد ہےوَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَ مَتَاعٌ سے اثر ہے جعل تکوینی کا جس کا مجعول الیہ عارض غیر لازم ہے اور اس صورت میں انفکاک ما بین مجعول اور مجعول الیہ کے متصور ہو سکتا ہے۔ جيسا كہ وَجَعَلَ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَ جَعَلَ النَّهَارَ مَعَاشًا جب کہ زید مثال ساری رات کسب وجہ معاش میں گزارے اور دن نیند میں دلیل عارضی ہوئی مجعول الیہ یعنی طبیعة فی الارض کے قصہ ہبوط ابلیس کا اور بعد ازاں صعود اس کا بدليلفَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَنُ فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيه ہے۔ جب ابلیس بعد ام هبوط - ابلیس بعد امر ہبوط کے پھر آسمان پر جا کر وسوسہ انداز آدم العلم کا ہوا تو بعض افراد نوع انسانی جن کا مادہ فطرتی نفخ روح القدس کا ہو اس کا صعود کس طرح ممتنع مانا جائے ۔

سوال: خاتم النبین : بین ہونا آپ کا دلیل سے وفات تے ہیں کیونکہ اگر مسیح بن مریم آسمان پر زندہ ہو۔ اور آخر زمانہ میں نزول فرما دے تو آپ ﷺ کے بعد بھی اور نبی آگیا ۔ آپ ﷺ خاتم النبیین نہ رہے۔ اور اگر در رنگ احاد امت آئے تو بہ آئے تو یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ علم از لی میں جب وہ نبی ہے تو پھر بغیر نبوت کے کیسا نزول کرے گا۔

جواب بعد نزول در رنگ احاد امت ہی اتریں گے ۔ ۔ علم علم از لی کا ا مسئلہ سنئے ۔ علم تابع معلوم کے ہوا کرتا ہے من حیث المطابقہ یعنی جس طرح معلومات یعنی اشیاء موجود فی الواقع اپنے اپنے وقت میں موجود ہیں۔ اسی طرح حق سبحانہ تعالی ازل میں قبل از وجود ان کے ان کو جانتا ہے اگر معلوم کا انصاف کسی صفت کے ساتھ علی سبیل الاستمرار ہے تو اسی طرح ۔ اور اگر علی سبیل الانقطاع ہے تو اسی طرح اس کو جانتا ہے۔ مسیح بن مریم کی بلکہ کل انبیاء کی نبوت اور رسالت چونکہ محدودہ بحد ظہور نبی پچھلے کے ہوتی ہے۔ لہذا علم از لی میں بھی بوصف محدودیت اور انقطاع معلوم ہو گا ورنہ جہل لازم ۔

سوال: قصه خود ایلیا میں بھی تاویل ہماری کا مثبت ہے یعنی ایلیاء کا دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر جو صحیفہ ملا کی باب ۴ اور آیت ۵ میں واقعہ ہے عیسیsym-9 فرماتے ہیں کہ مراد ایلیاء کے آنے سے یہ تھی کہ اس کا مثیل آئے گا سو وہ آگیا۔ یونا یعنی یکی اللہ ۔ بابا انجیل متی ۔ اسی طرح مراد نزول مسیح سے جو احادیث میں مذکور ہے میں ہوں ۔ یعنی مرزا صاحب ۔

جواب: قصہ عود ایلیا اگر صحیح بھی مانا جائے تو آخر کار نظیر ہی بنے گی علت مثبت تو نہ ٹھہرے گی ۔ دیکھئے لاکھوں نظیر میں پیدائش افراد انسانی ہمارے زیر نظر ہیں۔ اور ہر روز دیکھنے میں آتا ہے کہ سب مادہ منی سے جو باپ کی اور ماں کے سینہ سے نکلتی ہے پیدا ہوتے ہیں ۔

باوجود اس کے کہ یہ نظائر مع کثرت اپنی کے قانون کلی کو ثابت نہیں کرتیں ۔ دیکھو آدم اور حوا اور عیسی sym-9 اس حکم سے خارج ہیں۔ ایسا ہی ایلیا کا آنا در رنگ ظہور کی یہ ایک نظیر کس طرح پر نزول مسیح کی درصورت ظہور مثیل ثابت کر سکتی ہے۔ یہاں تو جب آیت اور احادیث نے بالخصوص نزول مسیح بن مریم کو ثابت کیا تو پھر ایک نظیر کیا اگر لاکھوں بھی ہوں اثبات نزول مسیح در رنگ صورت مرزا صاحب نہیں کر سکتے ۔ اثبات احکام شہادت نظائر اس صورت میں ہوتا ہے کہ بالخصوص نصوص وارد نہ ہوئی ہوں۔ وہ بھی حسب تخمین ظن نہ بر سبیل قطعیت جیسا کہ دلیل استقرائی کا شان ہے پھر میں کہتا ہوں ۔ اگر بالفرض نظیر کو مثبت حکم علی سبيل القطعیت مانا بھی جاوے تو یہ نظیر (یعنی ایلیا کا قصہ ) جناب کے دعوی کو باطل کرے گی۔ اس لیے کہ ایلیا کا آنا در رنگ ظہور مثیل یعنی یحییٰ چونکہ مماثل اور مماثل لہ ہر دو نبی ہیں ی نظیر اسی کو ثابت کرے گی کہ مثیل مسیح بھی نبی وقت ہو مثل یکی الل کے ۔ آپ کو یا تو مثل بیٹی اسی سلسلہ انبیاء میں : میں ثابت کریں یا دھوئی مسیح موعود کرنے سے باز آئیں۔

اگر آپ فرمائیں کہ مماثلت بین الامرین مشارکت في جميع الاوصاف کی مقتضی نہیں ہوتی تو ہم بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکم بھی چونکہ من جملہ اوصاف ہے تو مشارکت فی الحکم کی کیا ضرورت ہے۔ ایلیا به ظهور مثیل اپنے بیٹی کے نازل ہو۔ اور مسیح بن مریم بنفسہ نازل ہو کیا ضرورت ہے کہ کیفیت نزول ایلیا اور نزول مسیح بن مریم کی من جميع الوجوہ ایک ہی ہو۔ میں جانتا ہوں کہ آپ یہاں پرعُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيل کو ہاتھ ڈال کر اپنے میں نبوت ثابت کریں۔ ریں گے مگر پھر بھی چھوٹنا مشکل ہے۔ کیونکہ کیونا وہی اشکال خود کرے گا یعنی اگر مشارکت فی جميع الاوصاف من كل الوجوہ ضروری ہے تو اپنی ذات میں نبوت مثل بچی کی پیدا کریں۔ والا تو پھر اتحاد بھی ضروری نہیں ۔ پھر سہ بارہا میں عرض کرتا ہوں کہ انجیل متی کے گیارھویں باب میں موجود ہے کہ عیسیsym-9 کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ یہ وہی ایلیا موعود ہے۔ اور پہلے باب انجیل یوحنا میں انکار یحییٰ کا مذکور ہے۔ تو اب مناسب یہ ہے کہ یحییٰ کا قول معتبر سمجھا جائے۔ کیوں کہ ہر شخص اپنے حال سے اچھی طرف واقف اور خبر دار ہوتا ہے۔ بالخصوص جب نبی اور ملہم من اللہ بھی ہو۔ اور اگر زائد نہ سمجھا جائے تو کم از کم دونوں کو مساوی . ٹھہرا کر اذا تعارضا فتساقطا کا حکم لگانا ہو گا یعنی کوئی قابل احتجاج نہ رہے گا۔

اتنی تطویل اور تضیع اور تضیع اوقات محض آپ کے لحاظ سے کی جاتی ہے۔ ورنہ اہل اسلام ا کو بعد ازاں کہ ایک بات قرآن مجید سے بشہادت سیاق و تفاسیر صحابہ کے اور احادیث صحیحہ متواترة المعنی سے معلوم ہو چکی ہو ۔ اور خصوصاً وہ مقام جو خود منصف اور فیصلہ دہندہ اور دافع شکوک پہلوں کا ہو تو پھر ہم کتاب اللہ اور کتاب الرسول اور اجماع امت کو چھوڑ کر اسرائیلیات کی طرف کیوں متوجہ ہوں ۔ کیونکہ یہ توجہ مقید ہےان كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ کے ساتھ آپ اختلافات انا جیل سے بخوبی واقف ہیں کیونکہ ہر وقت میں عرصہ دراز سے استعمال ہوتا رہتا ہے۔ پھر تعجب ہے کہ آپ ازالہ اوہام اور ایام اسی میں آثار صحابہ کو جو الصلح . مروی باسانید صحیحہ ہیں چھوڑ کر روایات انا جیل کی طرف متوجہ ہو کر الٹا سائر اہلِ اسلام کو فرماتے ہیں کہ باعث اعراض ان علماء کا روایا تکل انا جیل سے کیا ہے۔ بھلا واقعۂ صلیب میں تحریف کرنے کا اہل کتاب کو باعث کون ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ واقعہ صلیب تو بجائے خودرہا۔ نبوت عیسیsym-9 کو جو واقعی اور بغیر عناد مسلّمہ جانبین ہے۔ اگر انجیلوں سے ثابت کرنا چاہیں تو مشکل پڑے گی ۔ بغیر از رجوع قرآن کریم کی طرف چارہ نہ ہوگا ۔ آپ جانتے ہیں کہ یوا قیم بن یوشیا نے جس وقت صحیفہ ، ارمیا اللہ کو جلایا تھا ارمیا العلم کے اوپر وحی نازل ہوئی کہ ( کہتا ہے رب یوا قیم ملک یہود کی ضد میں کہ اس میں سے ہرگز کوئی داؤد کی کرسی پر نہ بیٹھے گا ) اور عیسی اللی، چونکہ اولا د یورا قیم سے ہے مطابق نسب مذکور کے انجیل متی میں تو چاہیے کہ قابل جانشینی داؤد کے نہ ہو بحکم وحی ارمیا کے زندہ اٹھنا مصیح کا قبر سے۔

اور ایسا ہی واقعہ ، صلیب اس میں جو اختلافات واقع ہیں آپ بخوبی جانتے ہوں گے۔ ایوب ساتویں باب درس نانویں (۹) میں اپنی کتاب کے کہتا ہے ترجمہ فارسیہ ۱۸۴۵ء ( ابر پرا گنده شده نابود می شود ہمیں طور کسے کہ بقبر می رود بر نمی آید ) درس دسوال (۱۰) ( بخانه اش دیگر بر نخواهد گردید و مکانش دیگر وی را نخواهد شناخت ) اور چودھویں (۱۴) باب کتاب اپنی میں درس تیسرے (۳) اور چودھویں (۱۴) میں کہتا ہے۔ ترجمہ فارسیہ ۱۸۳۸ء انسان می خواهد و نخواهد برخاست مادامیکه آسمان مخونشود بیدار نخواهد شد و از خواب بر نخواهد خواست - آدمی هرگاه بمیرد آیا زنده می شود - اخ ) اب یہ مسیح کے زندہ ہو کر اٹھنے کا قبر سے انکار کر رہا ہے۔ دوسرے عیسائی اس کو بعد تین دن کے زندہ ہو کر آسمان کی طرف چڑھنے کے قائل ہیں۔ ایسا ہی واقعہ صلیب کے اختلافات دوسری جگہ ناظرین ملاحظہ کر لیویں ۔

اللہ جل شانہ نے اس امت مرحومہ کو بہ طفیل حبیب اکرم ﷺ ایسے اختلافات سے جو یہود اورنصاری میں چلے آتے تھے نجات بخشی جیسا کہ برأت مریم کی بیان فرمائی ۔ ایسا ہی افتراء یہود کا قتل مسیح کے بارہ میں لغوٹھہرا کر بیان امر واقعی کا فرمایا کہ مسیح کو تو ہم نے حسب وعدہ ان کے ایڈا سے بچالیا یعنی آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ انہوں نے مسیح کی شبیہ کو صلیب پر چڑھا کر قتل کیا۔ بڑا افسوس ہے کہ آج تک امت مرحومہ آیاتبَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ اور ایساہیوَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ اور ایسانِي وَلَكِنْ شُبَهَ لَهُمُ ان سب کو صحابہ سے لے کر علما و زمان تک مکذب عقیدہ یہود اور نصاری ٹھہراتے رہے اور پھر آج انہیں آیات کو جناب مرزا صاحب یہود اور نصاری کے اقوال پر الٹا کر لے جاتے ہیں۔ اب ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا کا معنی اور قول قابل اعتبار نہیں رہا۔ چوتھی دفعہ پھر میں عرض کرتا ہوں کہ قصہ عود ایلیا کے دوٹکڑے ہیں ۔ ایک صعود ایلیا بجسده العنصری آسمان پر اور دوسرا نزول اس کا بمعنی ظہور مثیل اس کے یعنی یکی ایل۔ پہلا ٹکڑا نظیر کامل صعود مسیح کے لیے بجسده العنصری آ. ی آسمان پر ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دونوں مماثل شریک فی النبوت ہیں۔ اور دوسر الکرہ نظیر کامل نزول مسیح بمعنی ظہور مثیل یعنی مرزا صاحب نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔ اب فرمائیے کہ قصہ عود ایلیا نے عقیدہ کا فہ اہل اسلام کو فائدہ بخشا یا آپ کو ۔ بلکہ الٹا مضر ہوا۔ کیونکہ آپ صعود بشر بجسده العنصری کو محالات عقلیہ لانظیر لہا سے جانتے ہیں ۔ ازالہ اوہام کے ص ۲۶۹ میں آپ نزول مسیح کو فرع صعود بجسد و العنصر ی کی بنا کر اس امر کا اقرار کر چکے ہیں کہ ہم کو بعد و ثبوت صعود بجد والعنصری کے نزول بجسدہ میں کوئی انکار نہ ہو گا ۔ اب قصہ عود ایلیا اگر قابل تمسک ہے تو حسب اقرار اپنے کے نزول مسیح کے بجسده العنصر کی قائل ہو جائیں۔

ورنہ تو استشہاد آپ کا اس قصہ سے کیا معنی رکھتا ہے۔ ہاں یہ ہے کہ اپنے لیے میٹھا اور دوسروں کے لیے کڑوا۔ اور قصہ عود ایلیا بجسد والعنصری میں ایلیا کی چادر کا گر جانا جو مذکور ہے آپ اس کو چھوڑ جانا بدن کا خیال فرماتے ہیں۔ اس تاویل کو باطل کرتا ہے اس چادر کا پانی پر مارنا اور گزر جانا ندی سے جو اسی قصہ میں مذکور ہے۔ کتاب سلاطین باب ۲ درس ۸ ۔ اور ایلیا نے اپنی چادر کو لیا اور پیٹ کے پانی پر مارا کہ پانی کے دو حصے ہو کے ادھر ادھر ہو گیا اور دونوں خشک زمین پر ہو کے پار ہو گئے ۔ ۹۔ اور ایسا ہوا کہ جب پار ہوئے ۔ تب ایلیا نے البیع کو کہا کہ اس سے آگے کہ میں تجھ سے جدا کیا جاؤں مانگ کہ میں تجھے کیا دوں ۔ تب البیع بولا مہربانی کر کے ایسا کیجئے کہ اس روح کا جو تجھ پر ہے مجھ پر دو ہرا حصہ ہو۔ ۱۰ ۔ تب وہ بولا تو و نے بھاری سوال کیا ۔ سو اگر تو مجھے آپ سے جدا ہوتے ہوئے دیکھے گا تو تیرے لیے ایسا ہی ہوگا اور اگر نہیں تو ایسا نہ ہوگا ۔ لا۔ اور ایسا ہوا کہ جونہی وے دونوں پڑھتے اور باتیں کرتے چلے جاتے تھے تو دیکھ کر ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے درمیان آکے ان دونوں کو جدا کر دیا۔ اور ایلیا بگولے ہو کے آسمان پر جاتا رہا ۔ ۱۲۔ اور السیع نے یہ دیکھا اور چلا یا۔ اے میرے باپ میرے باپ اسرائیلی کی رتھ اور اس کی سار تھی سو اس نے اسے پھر نہ دیکھا اور اس نے اپنے کپڑوں پر ہاتھ مارا اور انہیں دوھے کیا ۔ ۱۳۔ اور اس نے ایلیا کی چادر کو بھی جو اوپر سے گر پڑی تھی اٹھا لیا اور الٹا پھر ا اور میر دن کے کنارے پر کھڑا ہوا ۔۱۴۔ اور وہاں اس نے ایلیا کی چادر کو جو اس پر سے گر پڑی تھی لے کے پانی پر مارا اور کہا کہ خداوند ایلیا کا خدا کہاں ہے۔ اور اس نے بھی اس چادر کو جب پانی پر مارا تو پانی ادھر ادھر ہو گیا اور السیع پار ہوا۔

ناظرین سمجھ چکے ہوں گے کہ جناب مرزا صاحب نے قصہ ایلیا کو جو دلیل اپنے مدعا کی یعنی نزول مسیح بن مریم بمعنی ظہور مثیل یعنی مرزا صاحب بنایا ہے۔ پہلا ٹکڑا اس کا مصر ان کے پڑا۔ اور دوسرا نکٹر نظیر کامل نہ بن سکا۔ یہ عادت آپ کی فقط قصہ ایلیا میں ہی نہیں بلکہ ہر جگہ نقل اور استشہاد میں ایسا ہی کرتے ہیں ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا کی تفسیر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر لے لیا اور باقی کو چھوڑ کر یہ غل مچایا کہ ہمارے دعوی کی شہادت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا کی تفسیر رہی ہے۔}}

مرزا صاحب ازالہ اوہام کے صفحہ ۱۰۰ سے صفحہ ۱۳۶ تک سورۂ قدر اور سور دینے اور سورہ زلزال کی تفسیر لکھتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سنتہ اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ خدائے تعالی کا کلام لیلۃ القدر ہی میں نازل ہوتا ہے اور اس کا نبی لیلۃ القدر ہی میں دنیا میں نزول فرماتا ہے پھر بعد اس سورت کے خدا تعالیٰ نے سورۃ البینہ میں بطور نظیر کے بیان کیا کہلَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ یعنی جن سخت بلاؤں میں اہل کتاب اور مشرکین مبتلا تھے ان سے نجات پانے کی کوئی سبیل نہ تھی بجز اس کے کہ خدائے تعالیٰ نے آپ پیدا کر دی کہ وہ زبردست رسول بھیجا جس کے ساتھ زبردست تحریک دینے والے ملائک نازل کیے تھے۔ پھر بعد اس کے آنے والے زمانہ کے لیے خدائے تعالیٰ سورۃ الزلزال میں بشارت دیتا ہے اور إِذَا زُلْزِلَت کے لفظ سے اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب تم یہ نشانیاں دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ لیلۃ القدر اپنے تمام زور کے ساتھ پھر ظاہر ہوتی ہے اور کوئی ربانی مصلح خدائے تعالیٰ کی طرف سے معہ ہدایت پھیلانے والے فرشتوں کے نازل ہو گیا ہے جیسا کہ فرماتا ہےإِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا يَوْ مَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِيُرَوُا أَعْمَا لَهُمْ فَمَنْ يَعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَه وَمَنْ يَعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَه . یعنی ان دنوں کا جب آخری زمانہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے کوئی عظیم الشان صلح آئے گا اور فرشتے نازل ہوں گے۔ یہ نشان ہے کہ زمین جہاں تک اس کا ہلا نا ممکن ہے بلائی جائے گی ۔ یعنی طبیعتوں اور دلوں اور دماغوں کو نہایت درجہ تک جنبش دی جائے گی اور خیالات عقلی اور فکری اور سبھی اور بہیمی پورے پورے جوش کے ساتھ حرکت میں آ جائیں گے۔ اور زمین اپنے تمام بوجھوں کو باہر نکال دے گی یعنی انسانوں کے دل اپنی تمام استعدادات خفیہ کو بمنصہ ظہور لائیں گے اور جو کچھ ان کے اندر علوم وفنون کا ذخیرہ ہے یا جو کچھ عمدہ عمدہ دلی و دماغی طاقتیں ولیاقتیں ان میں مخفی ہیں سب کی سب ظاہر ہو جائیں گی۔ اور فرشتے جو اس لیلۃ القدر میں مرد صلح کے ساتھ آسمان سے اتریں گے ہر ایک شخص پر اس کی استعداد کے موافق خارق عادت اثر ڈالیں گے۔ یعنی نیک لوگ اپنے نیک خیال میں ترقی کریں گے اور برے ے برے خیالوں میں۔ ہیں۔

اور مرد عارف متحیر ہو کر اپنے دل میں کہے گا کہ یہ عقلی اور فکری طاقتیں ان لوگوں کو کہاں سے ملیں ۔ تب اس روز ہر ایک استعداد انسانی بلکہ خدائے تعالیٰ بان حال باتیں کرے گی کہ یہ اعلی درجہ کی و یہ اعلیٰ درجہ کی طاقتیں میری طرف سے نہیں بلکہ خد کی طرف رف سے یہ ایک وحی ہے جو ہر ایک استعداد پر بحسب اس کی حالت کے اتر رہی ہے اور یہ ظہور و بروز کا دائرہ پورا ہو جائے گا ۔ تب خدائے تعالی کے فرشتے ان تمام راست بازوں کو ایک گروہ کی طرح اکٹھا کر دیں گے اور دنیا پرستوں کا بھی کھلا کھلا ایک گروہ نظر آئے گا تا کہ ہر ایک گروہ اپنی کوششوں کے ثمرات کو دیکھ لے۔ جب آخر ہو جائے گی۔ یہ آخری ليلة القدر کا نشان ہے جس کی بناء ابھی ڈالی گئی ہے جس کی تکمیل کے لیے خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو بھیجا ہے اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا انت اشد مناسبة بعيسى بن مريم واشبه الناس به خَلَقًا وخُلْقًا وزمانا ہمارے علماء نے جو ظاہری طور پر اس سورۃ الزلزال کی یہ تفسیر کی ہے کہ در حقیقت زمین کو آخری دنوں میں سخت زلزلہ آئے گا کہ تمام زمین اس سے زیروز بر ہو جائے گی ۔ اور جو زمین کے اندر چیزیں ہیں وہ سب باہر آجائیں گی اور انسان یعنی کافر لوگ زمین کو پوچھیں گے کہ تجھے کیا ہوا تب اس روز میں باتیں کرے گی اور اپنا حال بتائے گی ۔ یہ سراسر غلط تفسیر ہے۔ انتھی ۔

ناظرین ! ذرا اس کی تفتیش فرماویں کہ آنحضرت ﷺ نے کہ جن پر کلام پاک اتری اس کو کس طرح پر بیان فرمایا اور حاضران مجلس نبوی علی صاحبہ الصلوۃ واسلام نے کیا سمجھا۔

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا فرماتے ہیں ۔ اِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا اى تحركت من أسفلها وَأَخْرَجَتِ الأَرْضُ أَثْقَالَهَا يعني القت ما فيها من الموتى يعنى يبي كره ارض بعد نفخه ثانیه قیامت برپا ہونے کے دن ہلایا جائے گا اور اپنے بوجھوں یعنی مردوں کو باہر نکالے گا ۔ قرآن کریم کی آیتيَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْ عَظِيمٌ اور ایسے ہی دوسری آیۃ وَإِذَا الأَرْضُ مُدَّتْ وَالْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ اس معنی پر جو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا نے بیان فرمایا ہے شہادت دے رہی ہے۔ رسول خدا فرماتے ہیں کہ زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو پھینک د دے گی جو مثل ستونوں کے سونے اور چاندی سے ہوں گے۔ پھر قاتل اس کو دیکھ کر کہے گا کہ اس کے لیے میں نے قتل کیا۔ اور قاطع الرحم کہے گا اس کے لیے میں نے قطع رحمی کی اور سارق آئے گا اور کہے گا اس کے لیے میں نے اپنا ہاتھ کٹوایا ہے۔ پھر اس کو چھوڑ دیں گے اور اس سے کچھ نہ لیں گے۔

حدثنا واصل بن عبد الاعلى حدثنا محمد بن فضيل عن ابيه عن ابی حازم عن ابي هريرة قال قال رسول الله تلقى الارض افلاذ كبدها امثال الاسطوان من الذهب والفضة فيجئ القاتل فيقول في هذا قتلت ويجيء القاطع فيقول في هذا قطعت رحمى ويجني السارق فيقول في هذا قطعت يدى ثم يدعونه فلا يأخذون. منه شيئا (صحيح مسلم) وَقَالَ الإِنْسَانُ مَا لَهَا اى استنكر امرها بعد ما كانت قارة ساكنة ثابتة وهو مستقر على ظهرها اى تقلبت الحال فصارت متحركة مضطربة قد جاءها من امر الله تعالى ما قد اعده لها من الزلزال الذى لا محيد لها عنه ثم القت ما مسلم)

في بطنها من الأموات من الأولين والآخرين وحينئذ استنكر الناس امرها وتبدل الارض والسموت وبرزوا الله واحد القهار. يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا اي تحدث بما عمل العاملون على ظهرها .

یعنی قیامت کے دن زمین شہادت دے گی کہ میرے اوپر زندگی کی حالت میں فلانے نے یہ کام کیا فلانے نے یہ ۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں ۔ بعد پڑھنے اس آیت کےيَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارها کیا جانتے ہو تم کیا ہے اخبار اس زمین کی ۔ صحابہ نے عرض کیا اللہ و رسول اعلم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اخبار زمین کی یہ ہے جو شہادت دے گی ہر غلام اور لونڈی پر (یعنی ہرمرد و عورت پر جو غلام اور ونڈی میں خدائے تعالی کی متعلق ان اعمال کے جو انہوں نے اس طبقہ زمین کی پشت پر کیسے تھے کہے گی فلاں عمل فلاں عمل فلاں دن ۔ یہ ہیں اخبار اس کے۔ قال الامام احمد حدثنا ابراهيم حدثنا ابن المبارك وقال الترمذي وابو عبد الرحمن النسائي واللفظ له حدثنا سويد بن نضر اخبرنا عبدالله هو ابن المبارك عن سعيد بن ابي ايوب عن يحيى بن ابي سليمان عن سعيد المقبري عن ابي هريرة قال قرء رسول الله هذه الآية يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا قال اتدرون ما اخبارها قالوا الله ورسوله اعلم قال فان اخبارها ان تشهد على كل عبد وامة بما عمل على ظهرها ان تقول عمل كذا وكذا يوم كذا وكذا فهذه اخبارها ثم قال الترمذى هذا حديث حسن صحيح غريب وفي معجم الطبراني

من حديث ابن لهيعة حدثني الحرث بن يزيد سمع ربيعة الحدسى ان رسول الله ﷺ قال تحفظوا من الأرض فانها امكم وانه ليس من احد عامل عليها خيرا او شرا الا وهي مخبرة.

حاصل یہ ہے کہ زمین کا خیال رکھو اس لیے وہ تمہاری ماں ہے اور بہا تحقیق کوئی نہیں اس پر عمل اچھا یا برا کرتا ۔ مگر وہ زمین خبر دینے والی ہوگی ۔بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا .

قال البخارى اولى لها وأوحى اليها ووحى لها ووحى اليها واحد وكذا قال ابن عباس رضى الله تعالى عنهما أوحى لها اى اوحى اليها. وقال شبيب بن بشر عن عكرمة عن ابن عباس رضى الله تعالى عنهما يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا قَال قال لها ربها قولى فقالت ابن عباس رضی الله تعالى عنهما آية يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی زمین کو حکم کرے گا پھر وہ باتیں کرے گی۔[font یعنی سب لوگ موقف حساب سے قیامت کے دن لوٹیں گے تا کہ جزا اپنے اپنے اعمال کی جو دنیا میں انہوں نے کیسے تھے دکھائے جائیں ۔ اس لیے فرمایا جو کوئی مقدار ایک ذرہ کا نیکی یا بدی کرے گا دنیا میں دیکھے لے گا اس کو قیامت کے دن ( تفسیر ابن کثیر و در منثور مع الاختصار ) بعد اس کے بخاری اور مسلم اور مسند امام احمد اور ابن جریر کی احادیث متعلق اس آیت کے یعنی فَمَنْ يَعْمَلُ کا اس تفسیر میں مذکور ہیں وہاں سے دیکھ لیں ۔

سب کا خلاصہ ترغیب سے عمل نیک پرتا کہ یوم الحساب کام آئے ۔

ناظرین پر ظاہر ہو چکا ہوگا کہ آنحضرت ﷺ نے ارض سے جو اس سورۃ میں مذکور ہے یہی کرو زمین مرا د رکھا ہے اور اسی زمین کا متکلم ہونا باذن رب احادیث میں صحیحہ میں بیا ن فرمایا ہے اور مراد زلزلہ سے بھی جنبش اس کرہ کی منتظم یعنی حق سبحانہ و تعالیٰ اور سامع یعنی آنحضرت ﷺ کے نزدیک ہے جیسا کہ آیہإِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ ان میں بھی اس کا ذکر ہے۔ یہ وہ تفسیر ہے جس کو مرزا صاحب سراسر غلط قرار دے چکے ہیں۔ اب رہا انصاف ناظرین پر خواہ مرزا صاحب کی تصدیق اور سرور عالم ﷺ کی تکذیب ( العیاذ باللہ ) اختیار کریں یا با عکس جیسا کہ شایان اور واجب ہے ہر مومن کو ۔ اب یہ معلوم کرنا چاہیے کہ مرزا صاحب نے اس تفسیر سے کیا فائدہ لینا چاہا ہے۔ وہ میں عرض کر دیتا ہوں۔ سورۂ قدر میں جولیلۃ القدر ہے اس کو حسب زعم اپنے کے قیامت تک امتداد دیا۔ تا آپ کا نزول بھی انبیاء کی طرحلیلۃ القدر میں محقق ہو ۔ مگر یہ دونوں فقرے یعنی لیلۃ القدر کا امتداد قیامت تک اور ہر نبی کا ظہور لیلۃ القدر ہی میں ہوتا ہے ان کے اپنے خانہ زاد اسرار میں سے ہے۔ پھر سورۃ البینہ سے یہ ثابت کرنا چاہا کے سخت بلاؤں سے نجات پانے کی سبیل اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دی ۔ وہ کیا ۔ المبینہ خدا کے ہاں سے آگیا ۔ رَسُولٌ مِّنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحْفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتب قيمة ، یعنی مرزا صاحب ۔

بعد ازاں سورہ زلزال سے یہ ثابت کر دکھایا کہ سب کمالات مودعه نوع انسانی کے ظہور میں آگئے ۔ کسی کی حالت منتظرہ باقی نہیں رہ گئی تو پھر نزول ملائکہ میں سر انجام دینے کے لیے اس امر مہتم بالشان کے بذریعہ بندہ مصلح جس کا نزول لیلۃ القدر ممتد ہ میں ہو گیا ہے کیوں تو قف ہو ۔ ہرگز نہیں ۔ بلکہلیلۃ القدر میں رسول آ گیا اور دورہ کمالات نوع انسانی بھی پورا ہو چکا۔ فقط اتنی ہی بات کہفَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ ، تمامہ ظہور میں نہیں آئے مگر شروع ہی یعنی اہل سعادت اور نیک فطرت اس رسول نازل شدہ کے ساتھ ایمان لا کر ایک جماعت اکٹھی ہو رہی ہے اور اہل شقاوت اور بدطینت انکار میں آکر دوسرا گروہ حسب مضمونيَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ اشْتَاتًا لِيُرَوْا أَعْمَالَهُم بن رہا ہے جس کی شان میں جناب مرزا صاحب از اللہ اوہام کے صفحہ ۱۰۴ کی پہلی سطر کے ابتداء میں یوں لکھتے ہیں ( اور جو شرارت اور شیطان کی ذریت تھے وہ اس تحریک سے خواب غفلت سے جاگ تو اٹھے ) آپ کو اللہ تعالی ہماری جانب سے

بمعاوضہ اس فقرہ کے (شیطان کی ذریت ) جزاء خیر عطا فرمائے۔

في فتح البيان يكون الضابط في صحته ان لا يرفع ظاهر المعاني المنفهمة عن الالفاظ بالقوانين العربية وان لا يخالف القواعد الشرعية ولا يباين اعجاز القرآن الى ان قال والأفهو بمعزل عن القبول. دوسری جگہ فتحالبیان میں و کذالک اذا ثبت تفسير ذلك الرسول فهوا قدم من كل شئى بل حجة متبعة لا يسوغ مخالفتها لشئى اخر ثم تفاسير علماً الصحابة المختصين برسول الله فانه يبعد كل البعدان يفسر احد هم كتاب الله ولم يسمع في ذلك شيئا عن رسول الله وعلى فرض عدم السماع فهوا حد العرب الذين عرفوا من اللغة دقها وجلها. انتهى.

یعنی قبولیت معنی بطون قرآن کی شرط یہ ہے کہ مخالف ظاہر کی نہ ہو اور سب سے مقدم اور واجب القبول تفسیر آنحضرت ﷺ کی ہے بعد آپ ﷺ کے صحابہ کرام کی ۔ بڑی تعجب کی بات ہے کہ سارے قرآن میں تفسیر ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا کی سراسر غلط ٹھہری۔ اور لفظمُتَوَفِّيكَ کے متعلق جومُمِیتُک ہے منظور ہوئی وہ بھی آدھی ۔ اورفلما تَوَفَّيْتَنِی کے متعلق جو ابن عباس رضا جو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا سے باسناد صحیح تفسیر بہا سے باسناد صیح تفسیر در منثور میں مذکور ہے اور ایسا ہیبَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ اور وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ ع اور وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ اور احادیث نزول جو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہیں اور تفسیر سورۂ قدر اور سورہ بینہ اور سوره از انزال بلکہ جن جن مقامات میں آپ متفرد ہیں یہ سب متروک ۔ اس وجہ سے کہ آپ کے مطلب کے برخلاف ہیں۔ اکثر اعتراضات جناب مرزا صاحب کے جو باستشہاد آیات عقیدہ اجماعیہ پر انہوں نے کیسے تھے ۔ جواب ان کا لکھ چکا ہوں ۔ بقیہ اعتراضات به نسبت ان کے بہت ہی افو ہیں۔ ناظرین ادنی توجہ سے دھوکا ان کا سمجھ لیں گے۔ لہذا اسی قدر پر اکتفا مناسب سمجھ کر اختتام ایک دو بات ضروری پر کیا جاتا ہے۔

ایک تو به نسبت احادیث نزول اور خروج دجال کے جو مرزا صاحب نے منجملہ دوسری مکاشفات اجمالیہ کے ٹھہرا کر واجب التاویل قرار دی ہیں ۔ کہتا ہوں کہ اس کی تحقیق و جگہ ملا حظہ فرمالیویں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ احادیث نزول اور خروج دجال مکاشفات تفصیلہ میں سے ہیں جیسا کہ پہلے ثابت ہو چکا ہے مکاشفات تفصیلہ میں آنحضرت ﷺ نے جس جس شخص کو بقید نام جس طرح فرمایا ہے اسی طرح ظہور میں آیا۔ سر مو بھی تفاوت نہیں ہوا۔ پیشین گوئیاں آنحضرت ﷺ کی اس امر کی وضاحت کے متعلق دوسرے مقام پر فرمادیں۔ اس دھوکا میں بھی ایک رکن ایمان کا بلکہ سارا ایمان زائل ہوتا ہے۔ اور احادیث نزول اور خروج کو مکاشفہ اجمالی پر در رنگ دیکھنے آنحضرت ﷺ کے وبا کو بصورت عورت جو گردا گرد مدینہ طیبہ (زادھا اللہ شرفًا) کے پھر رہی تھی خیال نہ کرنا مکاشفہ اجمالی تعبیر طلب ہوتا ہے بخلاف تفصیلی کے۔ اور تعب تفصیلی کے۔ اور تعبیر میں اگر چہ وقوع خطا ممکن ہے مگربقاء خطا ممکن ہے مگر بقاء علی الخطاء نبی کی عصمت کو باطل کرتا ہے ۔ بناء على هذا بالفرض اگر احادیث نزول اور خروج مکاشفہ اجمالی کے قبیل سے بھی ہوں تو ساری عمر آپ کا باقی رہنا خطافی التعبیر پر ( العیاذ باللہ) آپ کی عصمت میں بارج ہوگا۔

دوسرا یہاں پر آنحضرت ﷺ کی پیشین گوئیاں اور ان کے ظہور کو زیر نظر رکھنا کار آمد ہے یہ نسبت اس کے کہ ابن مریم سے مثیل ان کا مراد لینے پر قصہ ایلیا شاہد لایا جاوے۔ کیونکہ اول تو وہ باعث تناقض قول کی اعلی اور عیسیsym-9 کے قابل اعتبار نہیں ۔ دوسرا ہم کو آپ ﷺ کی پیشین گوئیوں سے نظائر کا ملاحظہ آپ ﷺ ہی کے کلام سمجھنے کے واسطے از بس ضروری ہے ۔ ام حرام sym-6 جو ایک صحابیات میں سے ہے روایت کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ قیلولہ سے بیدار ہوئے حالت تبسم میں ۔ میں نے عرض کی کہ باعث تبسم کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ میں متعجب ہوں اپنی امت کے ایک گروہ سے جو بادشاہوں کی طرح تختوں پر سوار ہوں گے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میرے لیے خدا سے دعا مانگیں کہ مجھ کو بھی ان میں سے کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو انہی میں سے ہے۔( بخاری عن انس بن مالک ) اس پیشین گوئی کا ظہور امیر المؤمنین عثمان ده کے عہد میں بوقت فتح ہونے جزیرہ قبرص کے واقع ہوا۔ ان ایام میں ام حرام بنی اللہ تعالی عنہا عبادہ بن صامت وند کے نکاح میں تھیں ۔

ام حرام رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ میں نے سنا رسول خدا ﷺ سے فرماتے تھے میری امت سے ایک لشکر غزوہ دریا کا کریں ۔ گے۔ اور ان سے عمل جنت کا واجب کرنے والا صادر ہوگا ۔ ام حرام رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی میں بھی ان میں سے ہوں یا رسول اللہ ﷺ آپ نے فرمایا تو ان میں سے ہے۔ بعدہ آپ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایک لشکر غزوہ قیصر کے شہر کا کریں گے اور ان کو مغفرت دی جائے گی ۔ میں نے عرض کی میں ان میں سے ہوں یا رسول اللہ فرمایا آپ ﷺ نے نہ( بخاری عن عمیر بن الاسود العنسی ) حضرت عثمان کے حق میں آپ ﷺ نے فرمایا افتح له یعنی اس کے لیے دروازہ کھول دے اور اس کو جنت کی بشارت دے ایک مصیبت پر جو اس کو پہنچے گی ( بخاری و مسلم ) ذکر کیا آنحضرت ﷺ نے ایک فتنہ کو پھر حضرت عثمان نے کے حق میں فرمایا کہ یہ اس فتنہ میں بحالت مظلومی قتل کیا جائے گا ، ( ترمذی ) آپ ﷺ نے حضرت عثمان دین کو فرمایا کہ تو سورۂ بقرہ کے پڑھتے ہوئے قتل کیا جائے گا۔ اور تیرے خون کا قطرہ اس آیت پر پڑے گا ۔فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (حاکم) آنحضرت ﷺ نے عثمان ہند کے ساتھ بحالت تنہائی ایام مرض شریف میں گفتگو فرمائی ۔ حضرت عثمان والدہ کا چہرہ متغیر ہوا ( ابن ماجہ ) علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ میرے ساتھ عہد کیا آنحضرت ﷺ نے کہ نہ وفات پائیگا تو جب تک امیر نہ کیا جائے گا۔ اور اور پھر پھر انہین زمین کی کی جائے جائے گی گی یہ یعنی ریش اس اس کے خون سے یعنی سر کے ( احمد ) آپ ﷺ نے امہات المؤمنین رضی اللہ تعالٰی معین میں سے ایک کے شان میں فرمایا۔ كيف احد الكن اذا نجت عليها كلاب الحوب یعنی کس طرح پر ہوگا حال ایک کا تمہارے میں سے جب آواز کریں گے اس پر کتے پانی بنی عامر کے جس کا نام خوب ہے( ابو بکر وابو یعلی واحمد و غیر ہم ) اور یہ لفظ ابو یعلیٰ کا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو جب خوب کے کتوں کی آواز آئی تو پوچھا کہ یہ گیا ہے۔

لوگوں نے کہا یہ پانی ہے بنی عامر کا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا ۔ لوٹا مجھ کو۔ سنا میں نے رسول خدا ﷺ سے را فرما یا آنحضرت ﷺ نے نہ قائم ہو گی قیامت جب تک نہ لڑیں گے دو گروہ بھاری جن کے مابین قتل عظیم واقع ہوگا اور دعوئی دونوں کا ایک ہی ہوگا ( بخاری و مسلم ۔ ابو ہریرہ) یہ اشارہ ہے واقعہ صفین کی طرف اور ( دعوی ان کا ایک ہی ہوگا ) اشارہ اس کی طرف کہ اہل شام نے قرآن کو اٹھا کر کہا تھا کہ تمہارے اور ہمارے درمیان میں یہ قرآن ہے۔ اور حضرت علی مرتضیکرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا۔ یہ قرآن صامت یعنی خاموش اور میں بولنے والا ہوں ۔ ایسا ہی آپ ﷺ نے واقعہ نہروان سے خبر دی اور وہ حدیث متواترہ ہے اور علی ند اس واقعہ میں بر وقت معائنہ پیشن گوئی آنحضرت ﷺ کے بعینہ بغیر تفاوت سر موئے کے فرماتے تھے ۔ صدق رسول الله ﷺ. صدق رسول الله ﷺ ( احمد عن عبید الله بن عیاض بن عمر والقاری ) یہ وہ واقعہ ہے جس میں آپ ﷺ نے وقت بیان پیشن گوئی کی علامت کامل کی ( ایک سیاہ کا ہونا ناقص ہاتھ والا جس کے ہاتھ میں کالے بال ہوں گے ) ذکر کی۔ علی ہذا القیاس آپ ﷺ نے امام حسن منہ سے ایسا ہی مقتول ہونے امام حسین رضی چند ہے ۔ اور واقعہ حرہ سے اور خروج عبدالله بن زبیر ہے۔ اور خروج بنی مروان سے۔ اور خلافت عباسیہ سے خبر دی ۔ حذیفہ کہتا ہے کہ قسم کھاتا ہوں ساتھ اللہ جل شانہ کے کہ نہیں چھوڑا رسول خداﷺ نے کسی کو مفاسد کے پیشواؤں سے دنیا کے تمام ہونے تک۔ اور پہنچتا ہے عددان کا جو ساتھ اس کے ہوں گے تین سو سے زائد کو ۔ مگر یہ کہ خبر دی ہم کو اس کے نام اور اس کے باپ کے نام اور اس کے قبیلہ کے نام سے ( ابوداؤد ) اور خبر دی آپ ﷺ نے ترکوں کی بادشاہی سے (طبرانی و ابو نعیم ابن مسعود ) اور ہلاکو خان کے واقعہ سے خبر فرمائی ( خصائص ) اور فرمایا آپ ﷺ نے سراقہ بن مالک کو جو ایک اعرابی تھا اس کے دونوں بازوؤں کو ملاحظہ فرما کر۔ گویا دیکھ رہا ہوں میں جو تو نے کنگن کسری کے اور کمر بند اس کا اور تاج اس کا پہنے ہیں۔

امیر المؤمنین عمر کی خلافت میں ایسا ہی وقوع میں آیا۔ (ازالہ الخفاء ) آپ ﷺ نے مدینہ معظمہ زاد با للہ شرفا و تعظیما کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے پر فرمایا - هل ترون ما ارى مواقع الفتن خلال بيوتكم كمواقع القطر. كيا تم دیکھتے ہو جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں ۔ محل وقوع فتنوں کے تمہارے گھروں کے درمیان مثل محل گر نے قطرات کے (بخاری۔ اسامہ بن زید ) اور فرمایا آپ ﷺ نے ایک یہودی کو بنی ابی الحقیق میں ہے۔ کیسا حال ہوگا تیرا جس وقت نکالا جائے گا تو خیبر سے اور اونٹنی تیری بھگا لے جائے گی تجھ کو راتوں پے درپے آنے والیوں میں ۔ امیر المؤمنین عمر نے اس پیشن گوئی کے صدق پر اعتماد فرما کر اس کو خیبر سے خارج کیا۔ اس نے عذر کیا کہ ابو القاسم نے ہم کو خیبر میں قائم رکھا اور آپ ہم کو نکالتے ہو۔ عمر وں نے اس آپ ﷺ کے فرمان کو بیان فرمایا کہ میں نہیں بھولا آنحضرت ﷺ کے فرمان کو جو او پر مذکور ہو چکا ہے۔ اس نے کہا یہ آپ نے ہنسی کے طور پر کہہ دیا تھا۔ عمر ا نے غصہ میں آ کر فرمایا کذبت یا عدو اللہ یعنی جھوٹ کہا ہے تو نے اسے دشمن اللہ کے ناظرین اس سے سمجھ سکتے ہیں کہ عمر ھی اور ایسے ہی اور اصحاب کرام آپ ﷺ کی پیشن گوئیوں کو ظاہری معنوں پر حمل فرماتے تھے اور بے وجہ تاویل اس یہودی کی طرح موجب غضب صحابہ کرام تھی ۔ اسی طرح پر اور بهتری پیشن گوئیاں آپ ﷺ کی ہیں جو بلا تخلف اور بلا تاویل ظہور میں آئیں۔ اور وہ دوسرے مقام پر ملاحظہ فرمانے سے معلوم ہو سکتی ہیں۔

ناظرین پر ظاہر ہے کہ ان پیشن گوئیوں میں ام حرام رضی اللہ تعالی عنہا اور عثمان اور حسنین رضی اللہ تعالی عنہا وغیرہ وغیرہ جو بقید اسامی مذکور ہیں کوئی تاویل طلب نہیں۔ گو کہ بعض فقرات ماسوائے اسماء کے جو در رنگ استعارہ ہیں۔ اور ارادہ معنی حقیقی وہاں پر مستعد رہے تعبیر طلب ہیں۔ وقوع تاویل بعض فقرات میں موجب تاویل کا سب کلمات میں نہیں ہوسکتا۔ بلکہ بناء اس کی تعذ رارادہ حقیقت پر ہے۔ الغرض پیشن گوئیاں مذکورہ اور سب پیشین گوئیں جن کو مرزا صاحب معنی تاویلی پر شاہد لائے ہیں کوئی ان میں سے شہادت اس کی نہیں دیتی کہ اسامی مذکورہ فی الاحادیث میں تاویل بے مثیل واقع ہے۔ بلکہ مراد آپ کی وہی اشخاص ہیں جن کے نام ذکر کیے گئے۔ اور بر وقت ظہور پیشن گوئی کے بھی انہیں کا حال ظاہر ہوا۔ خلافت عثمانیہ اگر چہ عالم مثال میں برنگ قمیص نظر آئی۔ مگر عثمان دے وہی عثمان میں نہ کوئی اور مثیل ان کا ۔ نہایت ہی ا ہی افسوس ہے کہ مجدد وقت ازالہ اوہام میں جس کو از ادہ اوہام کہنا مناسب ہے ) لکھتے ہیں کہ جب چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر ایسی ہوا ہے کہ اس میں انسان زندہ نہیں رہ سکتا تو حضرت عیسیsym-9 کیوں کر اُٹھائے گئے اور اتارے جائیں گے۔

متعجب ہوں کہ وہ قادر قوی جس نے نصوص میں اپنی قدرت شاملہ سےخبر دی ہے اور کتنے ہی امور کا وقوع جن تک ہمارے عقل ناقص کی رسائی ناممکن ہے بیانفرمائی آیا وہ بھی دفع ایذاء ہوائی پر قدرت نہیں رکھتا ۔ اصحاب کہف کو کس طرح پر تین سونو سال (۳۰۹) تک سلایا اور قیامت تک اسی طرح رہیں گے۔ بائیبل کو ملاحظہ فرمائیے ۔ نوح العلیم کی کشتی ستر ہزار فٹ کی بلندی سے بھی زیادہ اونچائی پر تھی جس میں انو پر تھی جس میں انواع حیوانات موجود تھے وہ سب کے سب کس طرح زندہ رہے۔ ازالہ اوہام کے صفحہ ۲۱ ۷ سے ۷۲۵ تک یہ بیان فرمایا ہے کہ اعداد آیتوَإِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِهِ لَقَادِرُونَ کے ۱۲۷۴ ہوتے ہیں۔ اور یہی زمانہ فی الحقیقت ضعیف اسلام اور خروج دجال کا بھی ہے۔ خدا نے تعالیٰ فرماتا ہے جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اُٹھا لیا جائے گا۔ چنانچہ اس زمانہ میں قرآن اٹھایا گیا اب میں ان حدیثوں کے مطابق جن میں لکھا ہے کہ ایک مرد فارسی الاصل دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ہوگا ۔ میں قرآن کو لے آیا ہوں ۔ آپ بجا فرماتے ہیں۔ مگر پہلے تو یہ فرمائیے کہ آیات کو آپ مبین مراد با تعداد جفری ٹھہراتے ہیں یا بوضع لغت عربیہ۔ ظاہر ہےإِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ دال ہے اس پر کہ دلالت وضعیہ معتبر ہے بیان معتبر شارع میں نہ اعداد جفری ۔ ہر ایک شخص ادنی تامل سے سمجھ سکتا ہے کہ مثال آيةظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ دلالت ظہور فساد پر جنگل اور دریا میں بحسب اعداد اس آیہ کے نہیں کرتی ۔ کیونکہ اعداد اس کے مطابق حساب جمل ۱۸۴۶ میں تو چاہیے کہ قبل از ۱۸۴۶ کے ظہور فساد نہ ہوا ہو ۔ ایسا ہی اَقِیمُو الصَّلوةَ من حيث الاعداد فرضیت نماز پر دلالت نہیں کرتی بایں معنی کہ فرضیت نماز کی ۷۰۹ سال میں جو عدد میں اس آیتہ کے وقوع میں آئے اور قبل اس کے نماز فرض نہ ہو۔ علاوہ اس کے اعداد کی تمیز میں بھی کوئی برسوں کا ہونا ضروری نہیں۔

یعنی اس پر کوئی دلیل نہیں کہ ۱۸۴۶ سال ہی ہوں نہ کوئی اور چیز ۔ ایسا ہی تقرر تاریخ ہجری کا منصوصی نہیں ۔ اور جس آیت کو مرزا صاحب نے ذکر فرمایا ہے [font معنی اس کا ماقبل اور مابعد کے ملاحظہ سے بخوبی ناظرین پر ظاہر ہو جائے گا۔ وَانْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَاسْكَنْهُ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِهِ لَقَادِرُوْنَ فَانْشَأْنَا لَكُمُ بِهِ جَنْتٍ مِّنْ نَّخِيلٍ وَّاعْنَابٍ وَلَكُمْ فِيهَا فَوَاكِهُ كَثِيرَةٌ وَ مِنْهَا تَأْكُلُونَ ترجمہ: ہم نے آسمان سے پانی موافق اندازہ کے اتارا اور ہم اس کے دور کر دینے پر قادر ہیں۔ پھر ہم نے پانی سے تمہارے لیے رہم کھجوروں اور انگوروں کے باغ بنائے ۔ ان باغوں میں بہت میوے ہیں جن کو تم کھاتے ہو۔

قرآن مجید کا تو آیت میں ذکر ہی نہیں پانی مذکور ہے جس کی طرف دونوں ضمیر میں راجع ہیں۔ بطونی طور پر اگر مراد ماء سے قرآن کریم بھی لیا جاوے تو پھر بھی اُٹھایا جانا اس کا آسمان کی طرف ۱۲۷۴ ہجری میں جب ثابت ہو گا کہ تمیز اعداد کی بالخصوص سال ہی لیویں گے اورلَقَادِرُونَ سے جس کا معنی فقط قدرت رکھنے کا ہے معنی یہ لیویں کہ سنہ مذکور میں بالفعل متحقق کرنے والے ہیں ۔ یہ دونوں امر بلا دلیل تسلیم نہیں کیے جاتے۔ بالفرض اگر اُٹھا یا جانا قرآن کریم کا آیتہ مذکورہ سے مانا جائے تو پھر دوبارہ لانا اس کا زمین پر کسی آیت سے ثابت نہیں ہو سکتا۔ مرزا صاحب کو الزامی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کا اُٹھایا جانا آسمان کی طرف مسیح علی کی طرح قرآن سے ثابت ہو گیا ۔ بعد اس کے اتر نا اس کا دنیا میں فقط حدیث سے بسبب نہ قطعی ہونے اس کے ثابت نہیں ہو سکتا۔ جب احادیث متواترہ نے بقول آپ کے کام نہ دیا تو ایک حدیث کس طرح آسمان پر چڑھے ہوئے قرآن کو اتار سکتی ہے۔

پھر ہم کہتے ہیں کہ حدیث بھی کسی طرح آپ کے مدعا پر شاہد نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ حديث لو كان الايمان معلقا عند الثريا لناله رجل من فارس آنحضرت ﷺ نے سلمان فارسی کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمائی تھی۔ تو مطلب یہ ہوا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو میرے اصحاب میں سے ایک شخص ایسا موجود ہے کہ اس کی طلب وہاں تک کرتا۔ تو وہ شخص سلمان فارسی ہیں۔ جن کی سوانح عمری دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بے شک وہ ایسے ہی شخص تھے جنہوں نے ابتداء جوانی سے پیری تک دین حق کی تلاش میں عمر عزیز کو صرف کیا آخرا الامر بعد مشرف باسلام ہونے ان کے آپ ﷺ نے فرمایا اسلام اور دین حق کو اللہ تعالی نے دنیا میں بھیج دیا۔ اگر آسمان پر ہوتا تو یہ مرد فارسی الاصل کی تلاش ایسی ہے کہ ضرور کامیاب ہوتا ۔ مرزا صاحب اپنی زندگی میں ہی قرآن کریم کا اُٹھایا جانا آسمان کی طرف فرماتے ہیں۔ حالانکہ بیج الکرامہ کے صفحہ ۴۴۲ پر یہ حدیث منقول ہے کہ حضرت عیسی بن مریم sym-10 نازل ہوں گے دجال کو قتل کریں گے اور چالیس ۴۰ سال تک قیام کریں گے۔ کتاب اللہ اور میری سنت پر عمل کریں گے۔ پھر موت پائیں گے۔ مسلمان حضرت عیسیsym-9 کی جگہ ایک شخص کو قبیلہ بنی تمیم سے جس کا نام مقعد ہوگا خلیفہ بنائیں گے ۔ جب وہ بھی مر جائے گا تو اس کی وفات کے بعد میں یہاں نہ پورے ہوئے ہوں گے کہ لوگوں کے سینوں سے قرآن اٹھایا جائے گا ۔رواه ابو الشيخ عن ابي هريرة مرفوعا - اس حدیث سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب مسیح موعود نہیں ۔

احادیث خروج دجال:

عن المغيرة بن شعبة قال ما سال احد رسول الله ﷺ عن الدجال مما سألته وانه قال لي ما يضرك قلت انهم يقولون ان معه جبل خبزونهر ماء قال هو اهون على الله من ذلك ( بخاری مسلم )

مؤمن اپنے ایمان پر ثابت رہے گا اور کافر لغزش کھائے گا۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کے پاس یہ چیزیں نہ ہوں گی۔ ( ملاعلی قاری ) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ذکر دجال کا چر چا صحابہ میں بہت تھا جیسا کہ انهم يقولون چرچا سے معلوم ہوتا ہے۔دوسرا۔ دجال کا ایک شخص معین ہونا ۔ نہ یہ کہ کسی جماعت کا نام ہو۔ ورنہ آپ ﷺ با وجود کثرت سوال مغیرہ کے جس سے مقصود اس کا غایت توضیح ہے اس امر کی تشریح سے اعراض نہ فرماتے عن عبد الله بن عمران عمر بن الخطاب انطلق مع رسول الله عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جماعت صحابہ کے ساتھ جس میں عمر بن الخطاب بھی تھے ابن صیاد کی طرف تشریف لے گئے۔ وہ اس وقت بنی مغالتہ کے محلوں کے پاس لڑکوں میں کھیل رہا تھا اور ان ایام میں بلوغت کے قریب تھا۔ اس کھیل کی حالت میں آپ ﷺ کے تشریف لے جانے سے غافل تھا۔

آنحضرت ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک اس کی پیٹھ پر مارا ۔ اور فرمایا۔ کیا تو اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اس نے دیکھ کر کہا۔ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ آپ امین کے رسول ہیں (یعنی عرب کے ) پھر ابن صیاد نے کہا۔ کیا تم شہادت میری رسالت پر دیتے ہو۔ پھر آپ ﷺ نے اس سے قطع کلام کیا۔ اور فرمایامَنْتُ بِاللهِ وَبِرَسُولِهِ . پھر ابن صیاد سے پوچھا کیا ک معلوم ہوتا ہے تجھ کو ۔ اس نے کہا کہ مجھ کو خبر دینے والا کبھی سچ بولتا ہے کبھی جھوٹ ۔ آپ نے فرمایا تجھ پر سچ اور جھوٹ مل گیا ہے۔ فرمایا آپ ﷺنے میں نے تم سے کوئی چیز پوشیدہ کر رکھی ہے۔ آپ ﷺ نے یہ آیت چھپا رکھی تھی ۔ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانِ مبین۔ اس نے کہا رخ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا احسا. دور ہو تو ( یہ کلمہ عرب زجر اور کسی کو ڈانٹنے کے وقت بولتے ہیں ) ہرگز نہ بڑھے گا تو اپنے قدر سے۔ تو حضرت عمر کے نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ مجھ کو اذن اس کی گردن مارنے کا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ لڑکا اگر وہ ہے تو تو اس پر مسلط نہیں ہو سکتا۔ اور اگر وہ نہیں تو اس کے قتل میں تجھ کو کچھ فائدہ نہیں ۔

راوی حدیث کا ابن عمر دے کہتا ہے بعد اس کے تشریف لے گئے آنحضرت وابی بن کعب انصاری باغ خرما میں جس میں ابن صیاد تھا۔ آپ ﷺ خرما کے درخت کے پیچھے چھتے تھے اور چاہتے تھے کہ ابن صیاد سے کچھ نہیں قبل اس کے کہ وہ آپ کو دیکھے۔ اور وہ اپنے بستر پر کپڑے میں لینا ہوا تھا اور خفی کی آواز کر رہا تھا۔ ابن صیاد کی والدہ نے آپ کو خرما کے درخت کے پیچھے چھپے ہوئے دیکھ لیا اور ابن صیاد کو کہا کہ اے صاف ( یہ اس کا نام تھا یہ محمد ﷺ ہیں ۔ پھر رک گیا۔ یعنی اپنی گنگناہٹ سے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ کاش کہ ! اگر چھوڑ دیتی تو اس کو تا کہ کچھ بیان کرتا ۔ عبد اللہ بن عمر یہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر باری تعالیٰ کی شاہ کبھی پھر ذکر کیا دجال کو اور فرمایا سب انبیاء نے اپنی اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے۔ نوح اللہ نے بھی اپنی قوم کو خوف دلایا۔ ولکن میں تم کو اس کے بارہ میں ایسی بات کہوں گا جو کسی نبی نے نہیں کی۔ جان لو کہ وہ دجال کانا ہوگا ۔ اور اللہ تعالی اس سے منزہ ہے۔ ( بخاری، مسلم)

جاننا چاہیے کہ پہلے آنحضرت ﷺ نے بعض علامات دجال کے جن کا آپ کو علم تھا اصحاب کرام کے سامنے بیان فرمائیں ۔ جو منطبق ہوتی تھیں ابن صیاد پر یعنی آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ دجال کے ماں باپ کے گھر میں برس تک اولاد نہ ہوگی ۔

بعد ازاں ایک لڑکا کا نا بڑی بڑی داڑھوں کچلیوں والا پیدا ہو گا ۔ کم منفعت ۔ اس کی آنکھیں سویا کریں گی اور دل جاگتا ہوگا۔ اس کا باپ قد کا لمبا خشک ہوگا۔ چونچ جیسی اس کی ناک ہوگی یہ اس کی والدہ موٹی چوڑی لمبی ہوگی( رواہ فی شرح السنة ) ابو بکرہ صحابی کہتے ہیں ۔ ہم نے سنا کہ مدینہ کے یہود میں ایسا ہی لڑکا پیدا ہوا ہے۔ میں اور زبیر بن العوام مل کر گئے۔ سب علامات اس میں اور اس کی والدہ میں ویسی ہی پائیں جیسی کہ آپ ﷺ نے فرمائی تھیں ۔ یہ حلیہ دجال جس سے آپ ﷺ نے پہلے خبر دی تھی جب صحابہ نے ابن صیاد پر بمعہ والدین اس کے منطبق پایا تو یقین کر لیا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے۔ اس لیے عمر نے نے اس کے قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ مگر آپ ﷺ نے اجازت نہ دی ۔ اور فرمایا ان یکن هو فلست صاحبه وانما صاحبه عيسى بن مريم والا يكن هو فليس لك ان تقتل رجلا من اهل العهد . یعنی اگر یہ دجال ہے تب تو تو اس کا قاتل نہیں بغیر میسی ابن مریم کے قاتل اس کا کوئی نہیں اور اگر یہ ابن صیاد و جال نہیں تو اہل ذمہ میں سے ایک شخص کا قتل کر دینا سزاوار نہیں ۔

اس حدیث سے ایک تو دجال کا شخص معین ہونا بخوبی ثابت ہوتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا تشریف لے جانا ابن صیاد کی طرف یہ دلیل ہے دجال کے شخص معین ہونے کی ۔ اگر دجال عبارت قوم دغا باز وغیرہ سے ہوتا جیسا کہ مرزا صاحب فرماتے ہیں تو آپ ابن صیاد کی طرف بخیال اس کے کہ شاید دجال ہو کیوں جاتے ۔ دوسرا یہ بھی ظاہر ہوا کہ دجال کا قاتل بغیر عیسی بن مریم کے اور کوئی نہیں۔ مرزا صاحب ابن صیاد کود جال معہود ٹھہرا کر مدینہ منورہ (زاد با اللہ ) میں مار کر مدفون سمجھ رہے ہیں ۔ جیسا کہ ازالہ میں اس امر کو حضرت عمر رضی اللہ کے خلفی بیان سے اور ابن عمر چند کے اس قول ہے کہما اشک ان المسيح الدجال ابن صیاد ثابت کیا ہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا صاحب مسیح موعود نہیں۔ کیونکہ مسیح کو دجال شخصی کا قاتل ہونا چاہیے اور دجال باعتقاد مرزا صاحب تیرہ سو سال (۱۳۰۰) پہلے آپ یعنی مرزا صاحب سے فوت ہو چکا ہے۔ تیسرا اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مراد قتل دجال سے یہی معنی ظاہری قتل کا ہے یعنی ظاہری سبب سے مار دینا نہ دلائل کے ذریعہ سے مغلوب کر لینا۔ شاہد اس کا اذن طلبی ہے عمر کی ابن صیاد کے قتل کے بارہ میں آپ ﷺ کا بیان کہ قاتل اس کا عیسی بن مریم ہوگا تو اس کو قتل نہیں کر سکتا۔ اگر قتل سے مراد مزعوم مرزا صاحب ہوتا تو آپ ﷺ یوں فرماتے کہ اے عمر ! دجال کو تو دلائل اور بینات سے ساکت کرنا چاہیے نہ یہ کہ اس کو جان سے مارا جائے ۔

ناظرین سمجھ چکے ہوں گے کہ بیان حلفی عمر کا ابن صیاد کے دجال ہونے میں اور ایسا ہی عبداللہ بن عمر والے کا مقوله که ما اشک یعنی میں شک نہیں کرتا ہوں ۔ ابن صیاد کے دجال ہونے میں ۔ یہ دونوں اسی بناء پر تھے جو اوپر بیان کی گئی یعنی منطبق ہونا علامات مبینہ کا ابن صیاد پر ۔ بعد ازاں جب ان کو اور علامات بھی بہ تعلیم ربانی بتلائے گئے مثلا اس کا زمین مشرق وارض خراساں سے نکلنا ۔ مکہ والد بینہ زاد ہما اللہ شرفا میں داخل نہ ہوسکتا۔ک۔ف۔ ر۔ پیشانی پر لکھا ہوا ہونا اور مقتول ہونا اس کا مسیح ابن مریم کے ہاتھ سے تو عمرہ اس پہلے عقیدہ سے باز آ گئے ۔ مرزا صاحب ازالہ میں بیان حلفی عمر انہ سے جس کی بناء ان کے زعم پر تھی استدلال ابن صیاد ہی کے دجال ہونے پر پکڑتے ہیں۔ تعجب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پاک فرمان کا یعینی و انما صاحبه عیسی بن مریم کا کچھ خیال نہیں فرماتے ۔ ابن صیاد ہی کے دجال ہونے پر زور لگا نا مرزا صاحب کا اسی لیے ہے کہ کوئی یہ سوال نہ کرے کہ قبل از ظهور مسیح بن مریم دجال کا وجود چاہیے بتائیں وہ کہاں ہے۔ مگر خیال یہ نہ فرمایا کہ آنحضرت ﷺکیا فرماتے ہیں۔ اور مزعومی قول عمر د کو جس سے عمر ہ بھی بعد استماع قول آنحضرت ﷺ کے باز آ گئے تھے حکم پکڑ لینا اور بحکم و انما صاحبه عیسی بن مریم کے مرے ہوئے دجال کو زندہ ماننا اور پھر اس کے لیے ان امور کا جائزہ رکھنا جو عیسی بن مریم اللہ کے لیے نا جائز قرار دیئے گئے تھے۔ یعنی اتنی مدت تک زندہ رہنا با وجود عدم تغیرات جسمانیہ کے یا اپنے مسیح موعود سے ہاتھ دھونا یہ اتنے بڑے مفاسد کس کو اٹھانے پڑے۔

عمرہ کا ابن صیاد ہی کے دجال ہونے سے بعد بیان آنحضرت ﷺ کے باز آنا اس حدیث سے بھی ثابت ہے جو ابن عباس sym-8 سے مروی ہے قال خطب عمر بن الخطاب وكان من خطبته وانه سيكون من بعد کم قوم يكذبون بالرجم وبالدجال وبالشفاعة وبعذاب القبر ان حضرت عمر کا خطبہ میں یہ فرمانا کہ تمہارے پیچھے پیدا ہوگا ایک گروہ جو رجم اور دجال اور شفاعت اور عذاب قبر کا منکر ہوگا۔ عہد خلافت اپنی میں اور احادیث دجال کی صحت میں تاکید فرمانی دلیل ہے ابن صیاد کے دجال نہ ہونے پر (اخرجہ احمد ) یہ بھی ایک پیشین گوئی ہے عمر ہے سے دربارہ پیدا ہونے معتزلہ اور نیچر یہ اور مرزائیہ کے۔ عبداللہ بن عمرsym-8 فرماتےمیں حضرت عمر نے جس شئے کی نسبت کہتے کہ میں اسے ایسا خیال کرتا ہوں وہ ویسی ہی نکلتی ۔

قیس بن خارق کہتا ہے کہ ہم آپس میں باتیں کیا کرتے کہ عمرے کی زبان پر فرشتہ بول رہا ہے۔ ابن صیاد نے خود بھی ابو سعید خدری sym-5 کو مکہ معظمہزاد یا اللہ شرفا کے راستہ میں انہیں دلائل اور علامات سے مغلوب کیا تھا۔ یعنی ابو سعید خدری اے کو کہا۔ میں بڑا منتخب ہوں لوگوں سے جو مجھے دجال سمجھ رہے ہیں۔ کیا تم نے نہیں سنا رسول خدا سے کہ دجال لا ولد ہو گا اور میری اولاد ہے۔ اور دجال کا فر ہو گا اور میں مسلم ہوں ۔ اور دجال مکہ مدینہ میں داخل نہ ہو سکے گا ۔ اور میں اب مدینہ سے آ رہا ہوں ۔ اور مکہ کو جاتا ہوں۔ بعد اس کے ابو سعید چند فرماتے ہیں کہ مجھ سے کہنے لگا۔ قسمیہ کہتا ہوں کچھ شک نہیں اس میں کہ میں جانتا ہوں مؤلد یعنی محل پیدائش اس کی کو اور مکان اس کے کو۔ اور کہاں ہے وہ یعنی فلانی جگہ۔ اور اس کے ماں باپ کو بھی جانتا ہوں۔ ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ اس نے مجھ کو اشتباہ میں ڈال دیا۔ ج ( مسلم )

اور ایسا ہی جابر بن عبد اللہ کو جب محمد بن منکدر نے کہا کہ تم حلفا ابن صیاد کو دجال کیوں کہتے ہوں۔ تو جابر بن عبد اللہ نے بجواب اس کے کہا۔ میں نے سنا ہے عمر رض کو حلف اُٹھا تا آنحضرت ﷺ کے پاس۔ اور آپ ﷺ نے حلف سے اسے روکا نہیں ۔ ( بخاری ۔ مسلم ) اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت جابری کا حلفی طور پر ابن صیاد کو دجال کہنے کی بناء حضرت عمر ن کے حلف پر تھی اور ان کی حلف اپنے زعم پر۔ کیونکہ قبل از سنے علامات کے ان کو باعث انطباق اکثر علامات کے ابن صیاد پر پختہ یقین تھا۔ اور آپ ﷺ کا عمر کو نہ روکنا حلف سے اس لیے ہوا کہ انہوں نے اپنے غالب ظن کے مطابق حلف اٹھائی تھی ۔

اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ باقی علامات میں سے اکثر کا وجود ابن صیاد میں بروقت دعوئی الوہیت کے محتمل تھا۔ یعنی آپ ﷺ اور صحابہ sym-5 کو یہ احتمال بھی ہوا کہ شاید مثالا ۔ ک۔ف۔ ر کا پیشانی پر ظاہر ہونا یا اس کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر وغیرہ وغیرہ کا ہونا اس وقت ہوں گے جب اس نے دعوی خدائی کا کیا ۔ یہ احتمال اس کے مرنے تک چونکہ باقی تھا لہذا آپ ﷺ اور صحابہ کرام بھی اس کے بارہ میں مترد در ہے۔ الحاصل ابن صیاد میں اور اس کے ماں باپ میں چونکہ وجود اکثر علامات کا مشاہدہ کیا گیا۔ اور جو موجود نہیں تھے ان کا وجود بھی اس کی حسین حیات تک محتمل رہا۔ لہذا اس کے بارہ میں مترد در ہے۔

قطع احتمال جب ہوا کہ وہ مر گیا۔ ناظرین یہی ہے وجہ تردد کی ابن صیاد کے بارہ میں ازالہ اوہام کو اس مقام پر دیکھنے سے ہرگز دھوکا نہ کھانا۔ اور احادیث صحیحہ کو اپنی نانی کے باعث سے غلط نہ کہنا۔ مرزا صاحب کو تو اپنا مطلب زیر نظر ہے۔ تم کو آیات اور احادیث کے الٹ پلٹ کرنے سے بجز از نقصان کون سے فائدے کی امید ہے۔ اور یہ بھی آپ معلوم کر چکے ہوں گے کہ دجال کے پاس روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی شہر کا ہونا اور مردہ کو زندہ کرنا وغیرہ وغیرہ علامات پر سب از قبیل تخیل اور امتحان خداوندی ہوں گے نہ یہ کہ فی الواقع اور بغیر ابتلاء دجال موصوف بصفات مذکورہ ہونا کہ شریک حق جل شانہ کا سمجھا جائے ۔ یہ امور محض امتحانا بد بختوں کے خیال میں ایسے نظر آئیں گے۔

مرزا صاحب نے ان کو واقعی سمجھ کر احادیث دجال کے معتقدین کو مشرک ٹھہرایا۔ اور اردو خوانوں کم علموں کو ایسا دھوکا دیا کہ آیات اور احادیث صحیحہ کے منکر ہو گئے ۔ کسی میں تحریف اور کسی کی تغلیط ۔ وہ خواب جس کی تعبیر مرزا صاحب نے مولوی عبداللہ غزنوی مرحوم سے نیند کی حالت میں استفسار فرمائی تھی (یعنی میں دیکھتا ہوں کہ میرے ہاتھ میں تلوار ہے جب دائیں طرف چلاتا ہوں ہزاروں مخالف اس سے قتل ہو جاتے ہیں اور جب بائیں طرف چلاتا ہوں ہزاروں دشمن اس سے مارے جاتے ہیں ) شائد اس کی تعبیر یہ نہ ہو کہ تلوار آپ کے ہاتھ میں مراد اس سے قوت درا کہ جو تیز ہے جیسی تلوار کی دھار تیز ہوتی ہے۔ دائیں جانب آیات قرآنیہ اور بائیں جانب احادیث صحیحہ ۔ قوت درا کہ کی تیغ جب آیات کی طرف چلتی ہے ہزاروں مضمون جو مراد شارع تھی قتل کیے جا۔ کیے جاتے ہیں اور جب بائیں طرف ر جب بائیں طرف چلتی ہے تو ہزاروں مضامین احادیث نبويهعلى صاحبها الصلاة والسلام مارے جاتے ہیں۔ تعجب ہے کہ مرزا صاحب بمقابلہ آیات اور احادیث صحیحہ کے جن سے آپ کا مسیح موعود نہ ہونا واضح ہو چکا ہےلا مهدی الا عیسی کو لاتے ہیں۔ جس کی نقادان حدیث نے تضعیف کی ہے۔ مثل محقق ابن جزری و غیر ہم ۔

ايام الصلح کے صفحہ ۱۱۸ پر کتاب اقتباس الانوار کا حوالہ دے کر و کر بروز فرماتے ہیں جو عبارت ہے تصرف کرنے سے روح کسی کامل کی صاحب ریاضت اور مجاہدہ پر۔ اور نزول مسیح عبارت اس بروز سے ہے مطابق حديث لا مهدى الاعيسى بن مريم کے یعنی روح عیسوی مہدی آخر الزمان میں جو میں ہوں متصرف ہوگی ۔ انتھی بغرضہ ۔

کتاب مذکور کو جو شیخ محمد اکرم صابری ہیں اس صفحہ میں اس میں کہتا ہوں آپ مصنف کتاب طور پر موصوف کرتے ہیں کہ ازا کا بر صوفیہ متاخرین بو ده می فرماید ۔ اگر فی الواقع آپ کے اعتقاد میں حضرت موصوف ایسے ہی ہیں تو اقتباس الانوار کے اسی صفحہ یعنی ۵۲ پر تیسری سطر میں ملاحظہ فرمائیے کہ حضرت شیخ محمد اکرم صاحب وہ بعد نقل اس قول کے بائیں لفظ فرماتے ہیں ۔ جو ایں مقدمہ بغایت ضعیف است اور صفحہ ۳۴ اسی کتاب کے اوپر سطر دسویں میں فرماتے ہیں وائیس رد است مرقول کے را که می گوید مہدی ہمیں عیسیsym-9 است و تمسک می کند بایں حدیث که لا مهدی الا عيسى بن مريم و جواب این حدیث حمل است بر حذفلا مهدى بعد المهدى المشهور الذي هو من اولاد محمد وعلى العلي الا عیسی السلام - تھی ۔

اور نیز قصیدہ نعمت اللہ ولی جس کا نام آپ نے نشان آسمانی رکھا ہے۔ مہدی مہدی و وقت اور میسی کے ایک ہی ہی شخص شخص ہونے ہونے کی کی دلیل بنایا ہے۔ مزید برآں موجب تعجب یہ ہے کہ مہدی وقت و عیسی دوراں ہر دورا شہوار سے بینم واؤ جو مہدی وقت اور عیسی کے درمیان ہے اس کو واؤ تفسیر ٹھہرایا۔ اور یہ خیال نہیں فرمایا کہ دوسرے مصرعہ میں لفظ ہر دورا جو واقع ہوا ہے وہ کیا کہہ رہا ہے۔لا مهدی الا عیسی کو اگر بیچ بھی مانا جائے تو بھی مرزا صاحب کو مفید نہیں ۔ کیونکہ جب ارادہ مثیل کا ابن مریم سے شہادت آیات قرآنیہ منع ہوا تو پھر وہی عیسی بن مریم جو نبی وقت تھا مہدی بنا۔ مرزا صاحب کو کیا فائدہ؟

احادیث نزول اور ظہور دجال اور مہدی متواتر ة المعنی ہیں ۔ مسلمانوں کو ایمان رکھنا ان کے ساتھ ضروری ہے ۔ ہرگز ہرگز کسی کے دھوکا میں نہ آنا چاہیے۔فاللهُ خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ اور دلیل ان کے مسیح موعود نہ ہونے پر الہامی کلام حضرت عیسی ملی زنان و النظام کی ہے (۲۲) تب اگر کوئی تمہیں کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں تو یقین مت لاؤ ۔ (۲۳) ” کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے ۔ اور بڑے نشان اور کرامتیں دکھائیں گے یہاں تک کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے ۔ (۲۴) ”دیکھو میں پہلے سے ہی کہہ چکا ہوں ۔ (۲۵) پس اگر دے وے تمہیں کہیں ۔ دیکھو وہ جنگل میں ہے تو باہر مت جاؤ۔ دیکھو وہ کوٹھری میں ہے تو باورمت کرو۔ (۲۶) کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندتی ہے اور چھم سے چمکتی ہے ویسا ہی انسان کے بیٹے کا آنا بھی ہوگا ۔ اس میں مرزا صاحب کا جواب کہ ”جھوٹے مسیح پادری لوگ ہیں، نہایت ہی ست اور نکلتا ہے۔ کیونکہ جھوٹا سچ وہ ہے جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرے اور علامات لازمہ موجود نہ ہوں خواہ پادری ہو یا مسلمان

ناظرین کو بخوبی واضح ہو چکا ہوگا کہ سب احادیث صحیحہ متواترہ اسی مسیح بن مریم کے آنے سے خبر دے رہی ہیں جو نبی وقت تھا اور اس کے زمانہ نزول کے علامات متذکرہ با!! ابھی موجود نہیں ۔ مرزا صاحب ازالہ میں لکھتے ہیں ۔ کہ مسلمان کم از کم میرے قول کو حسن ظن کے طریق پر ہی مان لیتے ۔ جناب ہم کو مان لینے میں کوئی عذر نہ تھا۔ اگر کتاب اللہ اور کتاب الرسول اور اجماع امت برخلاف آپ کے شہادت نہ دیتے ۔ آپ منانے کا انتظار نہ کیجئے۔ تقصیر تحریف آیات و احادیث بارگاہ الہی سے معاف کرانے کا فکر فرمایا طر فر مائیں ابھی وقت ہے۔رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا میں سچ کہتا ہوں آپ نے معتقدوں کے لیے ایسا راستہ بتایا ہے اور اصول قائم کیے ہیں کہ ضرور ہی وجود حشر وغیرہ مواعید ربانیہ کے منکر ہو جائیں گے۔ ازالہ میں آپ یہ قول اپنے معتقدین کے بارہ میں لکھ کر کہ قریب تر با من اور نزدیک تر بس عادت کون لوگ ہیں ۔ کیا وہ لوگ جنہوں نے اس عاجز کا مسیح موعود ہو نا مان لیا ہے یا وہ لوگ جو منکر ہو گئے ) ان کو خوش تو فرمایا ہے مگر آپ نے ان کے لیے یہ خیر و برکت تجویز کر دی ہے کہ قبل از وقوع فئی اس کے ساتھ ایمان نہ رکھنا گو کہ مخبر صادق نے جن کے ہزاروں نظائر پیشین گوئیوں کے بعینہ اسی طرح ظہور میں آئے بشہادت حلفی بیان فرمائیں۔ بناء علیہ عذاب قبر و سوال منکر نکیر و حشر وغیرہ امور واجبۃ الایمان میں ان کو مذبذب کر دینے کے انوار و برکات سے افادہ بخشا ہے۔

ہم بصدق دل پڑھتے ہیں آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِہ اور آنحضرت ﷺ کو چونکہ خاتم النبیین جانتے ہیں لہذا آپ کوعَبْدُهُ وَرَسُولُهُ موصوف به مجموع بر دو صفت نہیں مانتے۔

ازالہ کے صفحہ ۱۵۵ میں آپ فرماتے ہیں۔ اور میرے دعوی کا ٹوٹنا صرف اسی صورت میں متصور ہے کہ اب وہ آسمان سے اتر ہی آوے۔ تا میں ملزم ٹھہر سکوں ۔ آپ لوگ اگر بیچ پر ہیں تو سب مل کر دعا کریں کہ مسیح ابن مریم آسمان سے اتر تے دکھائی دیں ۔ اگر کوئی کہے کہ اہل حق کی دعا اہل باطل کے مقابل پر قبول ہونی ضروری نہیں ۔ ورنہ لازم آتا ہے کہ ہندوؤں کے مقابل مسلمانوں کی دعا قیامت کے بارہ میں قبول ہو کر ابھی قیامت آ جائے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مقرر ہو چکا ہے کہ قیامت سات ہزار برس گزرنے سے پہلے واقع نہیں ہو سکتی ۔ اور ضرور ۔ ہے کہ خدا اسے روکے رہے جب تک وہ ساری علامتیں کامل طور پر ظاہر نہ ہو جائیں جو حدیثوں میں لکھی گئی ہیں۔ لیکن مسیح کے ظہور کا وقت تو یہی ہے۔ اور وہ تمام علامتیں بھی پیدا ہوگئیں جن کا مسیح کے وقت پیدا ہونا ضروری تھا۔ ازالہ صفحه ۴۶۳ ناظرین پر واضح ہو کہ یہ قول مرزا صاحب کا کہ مسیح کو بذریعہ دعا جلد آسمان سے اتار لو اگر بچے ہو اسی قبیل سے ہے جو منکرین قیامت کہتے تھے کہ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب متحقق ہوگا -وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ ہ ہم کہتے ہیں کہ اس کا علم بجز خدا جل شانہ کے اور کسی کو نہیں ۔ منکرین جب معائنہ کریں گے ان کے منہ بُرے ہو جائیں گے۔ اور ان کو کہا جائے گا یہ ہے وہ جس کوتم مانگتے تھےقُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ فَلَمَّا رَأَوُهُ زُلْفَةٌ سِيِّئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَذَا الَّذِي كُنتُمْ بِهِ تَدْعُونَ ) اور مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ نزول مسیح کا وجود قیامت پر قیاس نہ کیا جائے ۔ کیونکہ مسیح موعود آ چکا اور علامات بھی موجود ہو چکے۔

میں کہتا ہوں ناظرین کو ماقبل سے واضح ہو گیا کہ علامات مہینہ فی الاحادیث ظہور میں نہیں آئے۔ اور مسیح بن مریم جو نبی وقت ہوا ہے اور جس کا وعدہ نزول کا احادیث میں مذکور ہے وہ کہاں آیا ؟ مثیل کا مراد لینا احادیث سے پہلے معلوم کر چکے ہیں کہ ہرگز نہیں ہو سکتا اور یہ جو لکھا ہے کہ قیامت سات ہزار سال سے پہلے نہیں آسکتی، میں کہتا ہوں کہ یہ سات ہزار سال کی تحدید جو آپ نے لگا دی یہ منافی ہے۔لَا يُجَلِّيْهَا لَوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ کے اور ان احادیث کے جن میں آنحضرت ﷺ نے لا علمی بیان فرمائی اور اس حدیث معراج کے جس میں میسی العلم نے ذکر معاہدہ رب کا کیا۔ بخاری میں عمر د سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہم میں کھڑے ہو کر ذکر ابتداء پیدائش سے لے انتہا تک فرمایا حتی کہ اہل جنت کو جنت میں اور اہل نارکونار میں داخل کر دیا۔ بایں مکاشفہ آپ ﷺ قیامت کے بارہ میں اسی طرح مامور ہیں ۔قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللهِ اور بجواب سوال جبرائیل یوں فرماتے ہیں ۔مَا الْمَسْولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مَنَ السَّائِلِ کسی جگہ آپ نے اس علم کا افادہ نہیں فرمایا کہ سات ہزار سال تک تو بے نمی ہے بعد ازاں وقوع اس کا ہوگا مگر وقت معین معلوم نہیں ۔ اردو خوانوں سادہ لوحوں کو کیا کیا دھو کے ، کیا کیا مضامین الٹ پلٹ کیسے ہوئے سناتے ہیں۔

اللہ حافظ ہوں اورحدیث الدُّنْيَا سَبْعَةُ الْآفِ سَنَةٍ وَأَنَا فِي آخِرِهَا أَلْفًا بر تقدیر صحت کے مراد آ نحضرت ﷺ کی اس حدیث سے یہ ہے کہ آدم ال سے آج تک چھ ہزار سال پورے ہو چکے ہیں اور ساتواں ہزار شروع ہے کہ میں ساتویں ہزار میں ہوں ۔ ( مولا نا رفیع الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ) اور استشہا د مرزا صاحب کا ساتھ حدیث اقولُ كَمَا قَالَ الْعَبُدُ الصَّالِحُ کے موقوف ہے اس امر کے اثبات پر کہ ما بعد لفظ کھا اور ماقبل اس کا مشارک فی جمیع الاوصاف والا حکام ہوتے ہیں ۔ ودونه خرط القتاد ۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا ۔ دیکھو آ یہكَمَا بَدَانَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُہ جو اسی حدیث میں مذکور ہے۔ اعادہ اور بداء الخلق مغائر فی الکیفیت ہیں یہ سبب اشتراک دونوں کے تیز قدرت میں کلمہ گما اطلاق کیا گیا ۔ ایسا ہی حدیث شریف میں بیان اشتراک فی وصف البرأۃ منظور ہے نہ فی جميع الخصوصیات۔ اور باقی استشہادات کے اجو بہ دوسری جگہ ملاحظہ کیے جائیں ۔رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا. وَصَلَّ وَسَلَّم عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَاخِرُ دَعْوَانَا إِنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ

تمت

يقول مصححه الحفاظ الغازى عفى عنه حمداً لمن انعم علينا باظهارا الحق في معنى بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ على وجه ماجاء به احد و نجانا من شبهات مرزا صاحب قادياني على لسان العلامة الفاضل والولى الكامل معدن العلوم الظاهرية ومنبع الفيوض الباطنية حاج الحرمين الشريفين السيد الجيلاني سیدنا و مرشدنا سید پیر مهر علی شاہ ساکن گولڑا شریف افاض الله علينا من بركاتهم وصلوة وسلامًا على من قال يَدُ اللهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ مَن شَدَّ شُدَّ فِي النَّارِ. أَمَّا بَعُد فَقَد تم بحمده تعالى طبع الكتاب المستطاب المسمى بشمس الهداية طبع اولى فى شهر رمضان المبارك ١٣١٧ سنه من الهجرة النبوية على صاحبها الوف من الصلوة والأف منا اف من التحية.

Netsol OnlinePowered by