ایک مغالطہ قادیانی یہ دیتے ہیں کہ آیت میں خاتم النبيين بمعنی افضل النبیین ہے جیسے مختلف علمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین علوم کو مثلاً خاتم المفسرين، خاتم المحققين ، خاتم المحدثین اور خاتم الفقهاء وغیرہ کہہ دیا جاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں لیا جاتا کہ ان کے بعد کوئی محدث، مفسر محقق اور فقیہ وغیرہ نہیں ہے کیونکہ یہ خلاف واقعہ ہے بلکہ یہاں خاتم ، افضل کے معنی میں ہے یعنی خاتم المحققين بمعنى افضل المحققين ہے۔ (وغیرہ وغیرہ )
بناء علیہ یہی تفصیل خاتم النبیین میں ہے، معنی ہے افضل النبيين۔
جواباً عرض ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضور ﷺ افضل النبيين ہیں۔
نیز یہ کہ آپ کا خاتم النبیین ہونا آپ کی بہت بڑی عظمت و فضیلت ہے جس میں شک کرنے والا پرلے درجے کا بے ایمان ہے لیکن آیت ھذا میں یہ لفظ محض آپ کے آخر النبیین ہونے کے بیان کرنے کے لئے آئے ہیں اس سے انکار کرنے والا بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے کیونکہ قرآن وحدیث کی مسئلہ ھذا کی نصوص صریح کثیرہ کی بنیاد پر اس پر پوری امت کا اجماع حقیقی ہے۔
پس خاتم النبيين بمعنى افضل النبيين لینا بالکل غلط ہی نہیں کفر لواح ہے۔ ابھی تفصیل سے گزرا ہے کہ خاتم میں دو قرائتیں ہیں اور وہ دونوں خاتم النبیین کے آخرالنبیین کے معنی میں ہونے کو بیان کرتی ہیں۔ نیز آیت کی شان نزول اور لکن کے استدراک سے بھی اس معنی کی تعیین ہوتی ہے۔ خاتم النبیین بمعنی آخر النبیینکے دیگر بیسیوں دلائل بھی اس کا صریکارڈ کرتے ہیں پس یہ مرزائی معنی قطعاً واجب الرد ہے۔ باقی خاتم المحققين وغیرہ کی مثالیں بالکل بے محل ، غیر متعلق اور غلط ہیں کیونکہ
بحث خاتم النبیین وغیرہ علماء میں نہیں جن کے سلسلوں کا تاقیامت جاری رہنا قطعیات سے ہے بلکہ خاتم النبیین میں ہے کہ جن کے بعد بعثت انبیاء
کا سلسلہ قطعی طور پر ہے ہی نہیں۔
پھر بحث کلام الہی میں وارد ” خاتم النبیین“ کے الفاظ میں ہے جب کہ خاتم المحققین وغیرہ کے لفظ کلام مخلوق سے ہیں۔ ایک فرد خلق کے کلام کی تشریح دوسرے افراد خلق کے کلام کی تشریح کرنا اور وہ بھی مراد الہی کو متعین کرنے کے لئے ، کوئی عقل کی بات نہیں ہے اور یہ ایسے ہو گا کہ جیسے کوئی کہے کہ چونکہ فلاں لفظ کو اس معنی میں لیتے ہیں اس لئے قرآن میں بھی وہ لفظ اسی معنی میں ہے جسے کوئی احمق صحیح نہیں کہہ سکتا چہ جائیکہ کوئی ذی عقل اسے درست مان لے۔
چنانچہ عام لوگ جب قرآن کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے عموماً مصحف شریف مراد لیا جاتا ہے جب کہ قرآن مجید یہ کلام الہی کے لئے آیا ہے جو اللہ کی صفت ہے۔
بناء علیہ جیسے عام بولی کی بنیاد پر ہر جگہ قرآن سے مصحف مراد نہیں لیا جا سکتا اسی طرح خاتم المحققين بمعنى افضل المحققین لینے کی بنیاد پر خاتم النبیین میں خاتم بمعنى افضل لینا بھی انتہاء درجے کی بے عقلی ہے۔
اس سے قطع نظر خاتم المحققین وغیرہ کا ایک اور معنی بھی ہو سکتا ہے یعنی اپنی نوعیت کا آخری محقق وغیرہ ( جو محض قائل کے علم و مطالعہ کی حد تک ہے ) ۔
بناء عليه خاتم المحققين وغیرہ بھی مرزائیوں کو کچھ مفید نہیں ہیں کیونکہ اب خاتم النبيين کا مطلب ہوگا وہ نبی جو سب نبیوں سے آخری ہونے کے ناطے سے سب سے بڑی شان والے ہیں ، پس اس واویلا کا ان کو کچھ فائدہ نہ ہوا۔
جلا کر راکھ نہ کر دوں تو داغ نام ہی نہیں
اس سب سے بھی قطع نظر اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ خاتم النبیین بمعنی افضل النبیین ہے تو بھی اس سے یہ تو ثابت نہیں ہو جائے گا کہ کذاب مرزا قادیانی ، نبی ہے کیونکہ نہ تو یہ آیت کے کسی لفظ کا ترجمہ ہے اور نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے اور نہ ہی یہ اس کا مقتضا ہے۔ خلاصہ یہ کہ خاتم النبيين بمعنی افضل النبيين لينا عقلاً، نقلاً ، اصولاً اور الزاما وتحقيقا ہر حوالہ سے باطل ہے۔