logoختم نبوت

ختم النبوۃ۔۔۔از۔۔۔مفتی غلام مرتضی رحمۃ اللہ علیہ

بسم الله الرحمن الرحيم

اعلم ان ختم النبوة على سيدنا محمد ﷺ تدل عليه دلائل :

منها الأول :

قوله تعالى: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ه الآية لان قوله : قوله تعالى : خَاتَمَ النَّبِيِّينَ" حجة قاطعة على ختم النبوة على محمد - ولهذا كان اشفق و ارحم على امة لان النبي الذي بعده نبى يجوز ان يترك شيئاً من النصيحة والبيان لانها يستدركها من بعده واما من لا نبى بعده فيكون اشفق وارحم على امته واهدى بهم من كل الوجوه

منها ...... الثاني :

قوله تعالى: ﴿وَكَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَانْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاس ... الآية ، لأنَّ هذه الآية تفيد ان كل نبي لا يكون نبياً في اصطلاح الشرع الا من يجمع الصفات الاربعة :

الأولى: ان يكون مبشراً.

والثانية : ان يكون منذراً .

والثالثة: ان ينزل معه الكتاب بالحق.

والرابعة: ان يكون سفيرا بين الخالق والمخلوق في الهداية والافاضة كما يدل عليه قوله تعالى: يَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسَ

فلو لاختمت النبوة على سيدنا محمد وجاز ان يكون بعده نبي يلزم ان ينزل معه الكتاب كما توجبه الصفة الثالثة فيقدح في كمال القرآن في التعليم فلا يصدق قوله تعالى : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ثم اعلم ان الآية المصدرة كما تدل على ختم النبوة على سيدنا محمد ﷺ

کذلک تدل علی امرین آخرین :

الاول: ان النبوة في اصطلاح الشرع لا تكون الا نبوة تشريعية لا ظلياً و بروزياً كما اخترعه اهل زماننا فان يسئل ان هارون العلمية كان نبيا ولم يكن صاحب أمة ولا كتاب يجاب بأن هارون اللي كان صاحب أمة وصاحب كتاب.

أما الاول فلانه تعالى قال في البقرة وال مُوسَى وَالُ هَارُونَ فذكر ال موسى اوّلاً وال هارون عليهما السلام ثانيا استقلالاً فكان كل واحد منهما صاحب أمة قال موسى الي هم الذين استفادوا في بركاته وال هارون هم الذين استفاضوا في فيوضاته.

وأما الثاني: فلانه تعالى قال في الصفتِ وَآتَيْنَهُمَا الْكِتَبَ الْمُسْتَبِينَ اى اتينا كل واحد منهما الكتاب المستبين ونظيره قوله تعالى: ﴿وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الكتب فان المراد أنزل مع كل واحد منهم الكتاب اذ إرادة إنزال الكتاب الواحد مع جميعهم ظاهر البطلان.

والثالث: أن النبي في اصطلاح الشرع لا يكون نبيا الا من بعث في الله بالهدايات والوحى وجعل سفيرا بين الخالق والمخلوق في تبليغها واشاعتها بين الناس كما تقتضيه الصفة الرابعة ولا يكون نبيا بمجرد الوحى والمكالمة وإلا يلزم ان يكون الحواريون أنبياء حيث قال تعالى في المائدة أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ ويدل على نفيه وبطلانه قوله لم یکن بینی و بینه ای عيسى الله نبي فمن توهم ان النبوة مجرد الوحى ومكالمة الملك فقد حاد عن الصواب الا ترى الى قوله تعالى في القصص وَ أَوْحَيْنَا إِلَى أمْ مُوسى مع انها لم تكن نبية

ثم اعلم ان النبي بالمعنى اللغوى اى المخبر فى الله سواء كان لافاضة الناس ديناً او امراً ذاتياً لا يجوز ان يستعمل بعد سيدنا محمد فيمن بعده للتجانس اللفظي ولذا لم يجترأ ابوبكر و لا عمر ولا عثمان ولا على يه على ان يستعمل فيهم لفظ النبي بالمعنى اللغوى مع انهم فنوا في نبينا وكانوا اخيار قرن النبي ﷺ قال خير القرون قرني، ولذا لم يُجوز شبابا اهل الجنة الحسن والحسين رضى الله عنهما استعماله فيهما مع انهما كانا معاً جمال النبي ظاهرا وباطناً ولذا لم يُخبر قطب الاقطاب الشيخ عبد القادر الجيلي قدس سره استعماله فيه مع انه قال خضنا بحرًا لم يقف على ساحلة الانبياء اى فنينا فى النبى الأمى الذى هو كالبحر في السخاء

فمن ادعى النبوة بعد نبينا لم يكن مجددًا ولا مهدياً ايضاً لان الافتراء ليس من شان المجددية والمهدوية.

منها ....... الثالث :

قوله تعالى تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا اعلم أن هذه الآية تفيد أن نبينا افضل العالمين بل افضل النبيين

اما الاول: فلا نه يفهم منها أن نبينا كان بالكتاب الالهى للعالمين نذيرا ومن كان بالكتاب الالهى للعالمين نذيرا فهو نبي العالمين والعالمون أمته والنبي افضل من أمته.

واما الثاني: فلانه يتجلى منها ومن قوله تعالى الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دينَكُم ان نبينا بعث بالكتاب الالهى الجامع الكامل لتبليغ العالمين كلهم اجمعين والتبليغ الذي قسم من قبل بين الف نبي او الفين فوض والزم أدائه الى نبينا الواحد . فنبينا اجمع واكمل القوى في الحقيقة وفى علم الله سبحانه فهو الانسان الاجمع الأكمل في سائر النبيين فهو افضل النبيين فلوجاز ان يكون بعد نبينا د نبينا نبي يلزم ان يكون النبي المتأخر افضل في نبينا وهو ظاهر البطلان لما مر. اما اللزوم فلانه كما يتحرك كل متحرك لتحصيل المطلوب واذا وجد مطلوبه سکن و وقف كذلك تحركت النبوة في نبي الى نبي ثم الى نبي لانه كان مطلوبها الانسان الاجمع الاكمل فلم تقف على آدم العلمي ولا على نوحالعليا ولا على ابراهيم العليا وغيرهم في الانبياء فاذا وصلت الى الذات المحمدية و وجدتها سكنت ووقفت لانه الانسان الاجمع الاكمل وهو مطلوبها وقد حصل فلوجاز ان يكون بعد نبينا نبي ولم تختم النبوة عليه يلزم ان لايكون الانسان الاجمع الاكمل بل يكون النبي المتأخر الانسان الاجمع الأكمل فهو افضل منه ويبطله قوله تعالى تَبَارَكَ الذي الخ) كما مر في التفصيل ولما كان في ارادة الله الازلية ان تختم النبوة على الوحدة كما ابتدأت فى آدم على الوحدة وتذهب الاجنبية وتصير بنوادم قوماً واحداً كما انهم تحت نوع واحد بعث تعالى بالكتاب الجامع الكامل الانسان الجامع الكامل الى العالمين كلهم نبيا مشتركاً واحداً فصارت بنوادم قوماً واحداً اختتاماً كما كانوا ابتداء .

دلیل اول:

قوله تعالى: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (الاحزاب ) یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

آنحضرت ﷺ کی ابوت روحانی کا سلسلہ تا قیامت غیر منقطع ہے:

اس آیت کا یہاں کیا تعلق ہے۔ اصل مضمون تو آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ ہونا تھا اور یہ کہ مومنوں کا تعلق آپ سے روحانی تعلق ہے اور آپ مومنوں کے لئے روحانی طور پر باپ ہیں ، اسی مضمون کو یہاں ادا کیا ہے اور بتایا ہے کہ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن چونکہ اس سے جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی ابوت کی نفی کا اشتباہ پیدا ہوتا تھا اس لئے حرف استدراکولکنسے فی الفور اس کا ازالہ کیا اور فرمایا رَسُولُ اللهِ وہ اللہ کے رسول ہیں، یعنی روحانی طور پر تمہارے باپ ہیں ، کیونکہ ہر ایک رسول اپنی امت کے حق میں روحانی طور پر باپ کا حکم رکھتا ہے، جس طرح جسم کی ابتدا باپ سے ہوتی ہے، روحانیت کی ابتدا رسول سے ہوتی ہے، پس رَسُولُ اللهِ ﷺ کا لفظ لا کر آپ کی ابوت ، روحانی کو قائم کیا لیکن یہاں پھر ایک وہم پیدا ہوتا تھا کہ جس طرح پہلے رسولوں کے بعد دوسرے رسول آ جاتے رہے تو پہلے رسولوں کی ابوت روحانی منقطع ہو جاتی رہی ۔ کیا اسی طرح رسول اللہ کے ساتھ ہو گا ؟

تو فرمایا ایسا ہی ہوگا بلکہ آپ خاتم النبیین کی بھی ہیں، یعنی آخری نبی اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اس لئے آپ کی ابوت روحانی کا سلسلہ بھی تا قیامت منقطع نہ ہوگا ، بلکہ جو فیض ملے گا ملے گا وہ صرف محمد رسول اللہ ﷺ سے ہی ملے گا اور اس فیض کے پانے سے ہی آپ کی امت کے لوگ مثیل انبیاء ہوں گے علماء امتی كانبیاء بنی اسرائیل وہ نبی نہ ہوں گے پر نبیوں کی طرح ہوں گے ، وہ نبی نہ ہوں گے پر اللہ تعالی ان سے ہم کلام ہوگا ۔رجال يكلمون من غير ان يكونوا انبياء اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت کلام معطل نہیں ہو سکتی لیکن یہ اللہ تعالی کے کمال علم کی دلیل ہے کہ تمام دنیا کی ضروریات مذہبی کے متعلق مکمل ہدایات رسول الله ﷺ پر نازل فرمادیں اس لیے آیت کا ختمبِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًاپر کیا ہے۔

تفسير خاتم النبيين باللغة:

خاتم کے معنی مہر بھی ہیں اور آخر بھی لیکن کسی قوم کےخاتم اورخاتم سے مراد ان میں سے آخری ہونا ہے، ختام القوم وخاتمهم وخاتمهم اخرهم، (لسان العرب) اورخاتم اور خاتمہمارے نبی ﷺ کے اسماء میں سے ہیں۔

اورخاتم النبیین کے معنی ہیں آخری نبی ، (لسان العرب ) اور آپ و خاتم النبیین کہا ، اس لئے کہ نبوت کو آپ کے ساتھ ختم کر دیار مفردات امام راغبخاتم النبیین کے معنی لغت سے اوپر بیان ہو چکے ہیں ۔ انبیاء [symbol ایک قوم ہیں اور کسی قوم کاخاتم‘یا خاتم ہو نا صرف ایک ہی معنی رکھتا ہے، یعنی ان میں آخری ہونا، پس نبیوں کےخاتم کے معنی نبیوں کی مہر نہیں بلکہ آخری نبی ہیں ۔

تفسير خاتم النبيين بالاحاديث النبوية :

یہاں ان سب احادیث کے نقل کرنے کی گنجائش نہیں جن میں خاتم النبیین کی تشریح کی گئی ہے یا جن میں آنحضرت ﷺ کے بعد نبی کا نہ آنا بیان کیا گیا ہے اور یہ احادیث متواترہ ہیں جو صحابہ کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہیں اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں ۔

حدیث اول:

جس میں لفظ خاتم النبیین کی تفسیر زبان نبوی ﷺ سے مروی ہے متفق علیہ ہےمثلی و مثل الانبياء كمثل رجل بنى بيتا فاحسنه واجمله الاموضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويتعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبيين ، یعنی میری مثال اور نبیوں کی مثال ایک شخص کی مثال ہے ، جس نے ایک گھر بنایا اور اسے اچھا خوبصورت بنایا سوائے کونے کی اینٹ کے تو لوگ اس کے گرد گھومتے اور تعجب کرتے اور کہتے یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی سو میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں ۔

دوسری حدیث: ابو داؤد اور ترمذی میں لفظخاتم النبیین کی تفسیر یوں کی ہے انہ سيكون في امتي ثلثون كذابا كلهم يزعم انه نبي وانا خاتم النبيين لانبي بعدی یعنی میری امت میں تمیں کذاب ہوں گے، ہر ایک ان میں سے جھوٹا دعوی کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں خاتم النبیین ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

اور تیسری حدیث میں جو مسلم ترمذی نسائی کی ہے یہ ذکر ہے کہ مجھے چھ چیزوں میں دوسرے انبیاء sym-3 پر فضیلت دی گئی ہے، جن میں چھٹی یہ ہے کہخُتِمَ بِی النبيون ، یعنی میرے ساتھ نبی ختم کئے گئے ہیں ، وہاں بجائے خاتم النبیین کے یہ لفظ رکھ کر بتا دیا کہ خاتم النبیینسے یہی مراد ہے نہ کچھ اور ۔

وہ احادیث جن میں آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے کا ذکر ہے اور وہ بھی در حقیقتخاتم النبیین کی تفسیر ہی ہیں، بہت سی ہیں مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل میں نبی کے بعد نبی آتا تھا لیکن میرے بعد نبی نہ آئے گا ، بلکہ خلفاء ہوں گے۔

اور ایک حدیث میں ہے کہ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ے ہوتا ۔

اور ایک میں ہے کہ علی نے کی نسبت میرے ساتھ وہی ہے جو ہارون کی موسیٰ sym-7 کے ساتھ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں .

اور ایک میں ہے کہ میرا نام عاقب ہے اور ہے اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو انا العاقب والعاقب الذي ليس بعده نبي

اور ایک میں ہے کہ نبوت میں کچھ باقی نہیں رہا مگر مبشرات۔ اور ایک میں ہے کہ نبوت اور رسالت منقطع ہو گئی ۔

اور دس حدیثوں میں ہے کہلانبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

اور ایسی حدیثیں جن میں آپ ﷺ کو آخری نبی کہا گیا ہے چھ ہیں۔

اس قد رز بردست شہادت کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان کا آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے کا انکار کرنا بینات اور اصول دینی سے انکار ہے۔

لو عاش ابراهيم لكان نبيا پر بحث :

اور ختم نبوت کے خلاف جو کچھ احادیث میں سمجھا گیا ہے وہ ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے لو عاش ابراهيم لكان نبيامگر اوّل اس سے امکان نبوت نہیں نکلتا ، بلکہ اس کی مثال ایک ہی ہے جیسےلَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَاجس طرح یہاں دو خداؤں کا ہونا اور فساد دونوں ممتنع امر ہیں ، اسی طرح وہاں ابراہیم کا زندہ رہنا اور اس ں کا نبی نبی ہونا دونوں ممتنع ہیں۔ دوسرے اس حدیث کی سند میں ضعف ہے، کیونکہ اس میں میں ابوشی بہ ابراہیم ہے جسے ضعیف کہا گیا ہے۔ تیسرے اس کی تشریح دوسرے اقوال سے ہوتی ہے، مثلا بخاری میں عبد اللہ بن ابی اوفی کا قول لو قُضِيَ بعد محمد ﷺ نبی عاش ابراهيم ولكن لانبی بعده بیناگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی مقدر ہوتا تو آپ کا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ یا انس ان کا قول ولو بقی لكان نبيا لكن لم يبق لان نبيكم أخر الانبیاء این ار ابرا ہیم زند در بتا تو نبی ہوتا، ، ابراہیم رہتا ، لیکن وہ باقی نہیں رہا کیونکہ تمہارے نبی آخری نبی ہیں ۔

حضرت عا ئشہ sym-6کا قول :

قولوا خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبي بعده

اور ختم نبوت کے خلاف ایک قول حضرت عائشہ sym-6کا پیش کیا جاتا ہے قولوا خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبي بعده، یعنی خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور اس کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہsym-6ا کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی کچھ اور تھے ۔ کاش وہ معنی بھی کہیں مذکور ہوتے ، حضرت عائشہ sym-6کے اپنے قول میں ہوتے، کسی صحابی کے قول میں ہوتے ، نبی کریم ﷺ کی حدیث میں ہوتے۔ مگر وہ در بطن قائل ہیں اور اس قدر حدیثوں کی شہادت جن میںخاتم النبیین کے معنی لانبی بعدیکئے گئے ہیں، ایک بے سند قول پر پس پشت پھینکی جاتی ہیں ۔ یہ غرض پرستی ہے، خدا پرستی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تھیں حدیثوں کی شہادت ایک بے سند قول کے سامنے رو کی جاتی ہے۔

اگر اس قول کو صحیح مانا جائے تو کیوں اسکے معنی یہ نہ کئے جائیں کہ حضرت عائشہ sym-6کا مطلب یہ تھا کہ دونوں باتیں اکٹھی کہنے کی ضرورت نہیں ، خاتم النبیین کافی ہے۔ جیسا کہ مغیرہ بن شعبہ کا قول ہے کہ ایک شخص نے آپ sym-6 کے سامنے کہا خاتم الانبياء ولانبی بعدہتو آپ نے کہا خاتم الانبیاء کہنا تجھے بس ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا مطلب ہو کہ جب اصل الفاظ خاتم النبیین واضح ہیں اور احادیث نبویہ سے واضح ہو چکے ہیں، تو وہی استعمال کر و معنی الفاظ قرآنی کو الفاظ حدیث پر ترجیح دو۔ اس سے یہ کہاں نکلا کہ آپ الفاظ حدیث کو سی نہ بجھتی تھیں ۔ اور اتنی حدیثوں کے مقابل اگر ایک حدیث ہوتی تو وہ بھی قابل قبول نہ ہوتی چہ جائیکہ صحابی کا قول ہو جو حدیث کے مقابل شرعا حجت نہیں ۔

صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحہ):

أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے کون مراد ہیں؟ قرآن کریم خود تشریح فرماتا ہے کہالَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ (النساء) یعنی وہ انبیاء اور صدیق اور شہید اور صالح ہیں۔ یہاں نبی کا لفظ آجانے سے البعض لوگوں کو یہ ٹھوکر لگی ہے کہ خود مقام نبوت بھی اس دعا کے ذریعہ سے مل سکتا ہے اور گویا ہر مسلمان هر روز بار بار مقام نبوت کو ہی اس دعا کے ذریعہ سے طلب کرتا ہے۔ یہ ایک اصولی غلطی ہے، اس لئے کہ نبوت محض موہبہ ہے اور نبوت میں انسان کی جدو جہد اور اس کی سعی کو کوئی دخل نہیں ، ایک وہ چیزیں ہیں جو موہبہ سے ملتی ہیں اور ایک وہ جو انسان کی جدو جہد سے ملتی ہیں ۔ نبوت اول یعنی پہلی قسم میں سے ہے جیسا کہالرَّحْمَنُ عَلَّمَ القُرْآنکل سے بھی ظاہر ہے۔ کیونکہ الرحمن کے معنی بلا بدل اور بلا جدو جہد رحمت کرنے والا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص کوشش کر کے اور دعائیں مانگ مانگ کر ، اور خدا سے التجائیں کر کے نہ پہلے نبی بنا، نہ آئند ہ بنے گا بلکہ خود اللہ تعالىاللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ( الانعام )کے ماتحت جب چاہتا کسی کو نبوت ورسالت کے منصب پر کھڑا کر دیتا تھا، یہاں تک کہ اپنی کامل ہدایت کی راہیں آنحضرت ﷺ پر کھول کر تمام آنے والی نسلوں کے لئے مقام نبوت و رسالت کو ایک برگزیدہ انسان کے نام کے ساتھ مخصوص کر دیا اور اس کو النبی اور الرسول کے نام سے پکار کر بتا دیا کہ اب دوسرا نبی اور رسول نہیں ہوگا ۔ پس مقام نبوت کے لئے دعا کرنا ایک بے معنی فقرہ ہے اور اسی شخص کے منہ سے نکل سکتا ہے جو اصول دین سے ناواقف ہے۔

اگر یہ دعا نبوت کے حاصل کرنے کیلئے ہوتی تو کم از کم آنحضرت ﷺ کو ہی مقام نبوت پر کھڑا ہونے سے پہلے سکھائی جاتی مگر قرآن کریم میں اس کا موجود ہونا بتا تا ہے که مقام نبوت ملنے کے بعد سکھائی گئی۔ نبوت عطا فرما کر اس دعا کا سکھا ناصاف بتاتا ہے کہ حصول نبوت کیلئے یہ دعا نہیں اور اگر حصولِ نبوت کی دعا مانا جائے تو ماننا پڑے گا کہ تیرہ سو سال میں کسی مسلمان کی دعا قبول نہ ہوئی حالانکہ مقربین اور محبو بین الہی تو ہزاروں کی تعداد میں ہو کر گزرے، خدا خود دعا سکھائے اس کی حکمت یہ ہو کہ دعا مانگنے والے کو نبوت ملے دعا کرنے والی امت کوخَيْرَ أُمَّةٍ کہا جائے اور پھر تیرہ سو سال سب کے سب محروم رہیں، حتی کہ وہ بھی جن کے متعلق صریح سند ہے ،رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ الله ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ، یہ نہیں ہو سکتا۔

بنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمُ ايَتَى فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا أُولَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (الاعراف ) ترجمہ: یعنی اے بنی آدم ! اگر بھی تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں، میری آیات تم پر پڑھتے ہوں، تو جو کوئی تقوی کرے اور اصلاح کرے ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ پچھتائیں گے اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کرتیں، وہ آگ والے ہیں ، اس میں رہیں گے۔ پہلی آیت سے پیشتر چند باتیں عام طور پر ساری نسل انسانی کو مخاطب کر کے کہی ہیں ۔ ویبنی آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُبَنِي آدَمَ لَا يَفْتِتَنَّكُمُ الشَّيْطَنُ يَبْنِي آدَمَ خُذُوا زينتكم اور یہاں نیز سیاق کے مطابق ساری نسل انسانی کو مخاطب کر کے کہاویبنی آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌجس کا مطلب یہ ہے کہ لباس سارے بنی آدم کے لئے ہے، شیطان کے فتنہ سے سب بنی آدم کو متنبہ کیا ہے۔ سب بنی آدم خدا کی عبادت کرتے وقت زینت اختیار کرنے کو کہا اور بالآخر سب بنی آدم کو بتایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی اپنا رسول بھیجے تو اس کو قبول کرنا چاہیے، کیونکہ رسولوں کو قبول کرنے سے انسان کی اصلاح ہوتی ہے اور ان کا رد کرنا موجب خسران ہے۔ بعض ختم نبوت کے منکر اس سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ اس کے ما تحت آنحضرت ﷺ کے بعد بھی رسول آتے رہنے چاہئیں ۔ اس آیت سے رسولوں کے انحضرت ﷺ کے بعد آنے کا نتیجہ اول بہاء اللہ نے اور بعد میں ان کی نقل کر کے میاں محمود احمد قادیانی کے مریدوں نے نکالا ہے، حالانکہ اس آیت کو نہ مرزاغلام احمد قادیانی نے خود اور ان کی زندگی میں ان کے مریدوں نے کبھی پیش کیا۔ ایک شرطیہ جملہ سے یہ نتیجہ نکالنا کمال نادانی ہے۔

مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ اگر بنی آدم کے پاس خدا کا رسول آئے، تو اس کو قبول کرنے میں ان کی بہتری ہے۔ سو وہ رسول اللہ یعنی محمد ﷺ ہیں ۔ آپ کی ذات بابرکات کے متعلق یہ اعلان ہے کہ اگر اس کو قبول کر لو گے ، تو تمہاری بہتری کا موجب ہے اگر رد کرو گے تو تمہارے نقصان کا موجب ہے۔ اور اگر کہا جائے کہ رسل“ کا لفظ جمع کیوں استعمال کیا ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس لئے کہ خطاب کل نبی آدم کو ہے اور بنی آدم کی طرف رسول بھیجنے کا عام ذکر ہے۔ تو بلا شبہ آنحضرت ﷺ سے پہلے بنی آدم کے پاس رسول آتے رہے اور سب ۔ سے آخر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیجا گیا کہ دنیا کی کل قوموں کو ایک سلسلہ اخوت میں منسلک کریں اور اس بات کی شہادت کہ آپ کے بعد رسول نہ آئیں گے، دوسری جگہ سے ملتی ہے جہاں فرمایاالْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ترجمہ : آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا۔ رسول تو دین سکھانے کیلئے آتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے دین کو کامل کر کے پہنچا دیا تو پھر رسولوں کے آنے کی ضرورت بھی باقی نہ رہی ۔ جب کمال شریعت اور شریعت کے آنے کیلئے مانع ہو گیا تو کمال نبوت بھی اور نبی کے آنے کیلئے مانع ہو گیا جو ضرورت تھی وہ پوری ہوگئی ۔ آفتاب رسالت شمس نصف النہار کی طرح چمک رہا ہے اس لئے اب کسی ”رسول“ کی ضرورت دنیا کو نہیں اور وہ لوگ جو ”رسول“ کے آنے کا جواز نکالتے ہیں، مگر شریعت کا آنا نہیں مانتے ان کیلئے خود یہاں لفظ موجود ہیںيَقُصُّونَ عَلَيْكُمُ ايتي من رسول اللہ تعالی کی طرف سے کوئی پیغام بھی لائیں گے۔ وہی پیغام شریعت ہے اور اگر کہا جائے کہ یہ کسی پہلے رسول کی آیات ہیں تو پھر تکذیب تو ان آیات کی ہے۔ دیکھو اگلی دوسری آیت ایسے رسول کی تکذیب کوئی شے نہ ہوئی ۔

دوسری آیت سے صاف شہادت ملتی ہے کہ رسولوں کے آنے سے مراد ایسے رسولوں کا آنا ہے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کوئی پیغام بھی ہوتا ہے چنانچہ جس طرح پہلے فرمایا تھاإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى ( 5 ) اور اسکے متعلق دو گروہوں کا ذکر کیا: ایک: فَمَنْ تَبِعَ هُدَایاس ہدایت کی پیروی کرنے والے اور دوسرے:وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِايْتِنَا یعنی اس ہدایت ، اس پیغام کا انکار کرنے والے۔ اسی طرح یہاں دو گروہ ہیں ایک اصلاح کرنے والے دوسرے آیات یعنی پیغام الہی کی تکذیب کرنے والے پس دونوں آیتوں کا مطلب ایک ہے اور دونوں گروہوں کی جزا کا ذکر یکساں الفاظ میں ہے ۔ دونوں میں سزا تکذیب پیغام کی ہے۔ ظلی نبوت صوفی جسے ظلی نبوت کہتے ہیں وہ فی الواقع نبوت نہیں بلکہ نبوت کی بعض صفات کی جھلک ہے جو ایک سچے پیروی کرنے والے میں پیدا ہو جاتی ہے۔ جس طرح ظل الله نہیں اسی طرح ظل نبی نہیں اور نہ ظلی نبوت، نبوت ہے۔

ختم نبوت آنحضرت ﷺ پر جو ایک ہی دنیا میں کامل انسان ہوا رحمت ہے:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (ا) ترجمہ: ”سن لو اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ نمکین ہوں گے جو ایمان لائے اور تقوی اختیار کرتے تھے ان کیلئے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے، اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہ بڑی بھاری کامیابی ہے۔

یہاں آیت کے آخری پر یہ لفظ لا کرو ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُیعنی یہی بڑی بھاری کامیابی ہے ، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ بلند سے بلند مقام ہے جس پر انسان نبوت محمدیہ کے فیوضات کے ذریعہ سے پہنچ سکتا ہے، اس سے اوپر کوئی مقام نہیں اور یہ خیال نہ کرنا چاہیے کہ اب نبوت نہیں تو کچھ بھی نہیں یا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا دروازہ بند ہو گیا۔

حدیث میں ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان الرسالة والنبوة قد انقطعت و لا رسول بعدى ولانبى قال فشق ذلك على الناس فقال ولكن المبشرات یعنی رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی اور میرے بعد کوئی رسول نہیں اور نہ کوئی نبی ہے تو یہ بات لوگوں پر شاق گزری تو آپ ﷺ نے فرمایا لیکن مبشرات باقی ہیں۔ جس میں یہی ظاہر کرنا مقصود تھا کہ اللہ تعالیٰ کا مکالمہ و مخاطبہ جو اصل نعمت ہے وہ باقی ہے کیونکہ وہ معرفت الہی کا ذریعہ ہے اور اس طرف اشارہ ہےرجال يكلمون من غير ان يكونوا انبیاء میں ۔

ہاں ! نبوت کی اصل غرض چونکہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں کا ظاہر کرنا تھا اور تکمیل دین کے بعد اس کی ضرورت نہ رہی اس لئے اب نبوت نہیں، مگر مقامات عالیہ تک پہنچنے کی سب راہیں آنحضرت ﷺ کے ذریعہ موجود ہیں، چنانچہ احمد اور ابن ابی حاتم اور بیہقی نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان الله تعالى عبادا ليسوا بانبياء ولا شهداء يغبطهم النبيون والشهداء على مجالستهم وقربهم من الله . (روح المعانی )یعنی اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ہیں جو نبی اور شہید نہیں لیکن نبی اور شہیدان کے مرتبہ اور ان کے اللہ تعالیٰ کے قرب پر رشک کریں گے۔ اور ابو ہریرہ نہ سے اس کی مثل روایت ہے ان من عباد الله يغبطهم الانبياء والشهداء اور جب لوگوں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں تو آپ نے ان کے متعلق کچھ باتیں بیان کر کے یہی آیت پڑھی:آلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ) ( تفسیر ابن جریر ) اور ایسی ہی روایت ابو داؤد میں ہے (ابن کثیر ) اور ان روایات کا ماحصل یہی ہے که بسبب کمال اتباع نبوی قرب الہی کے مراتب اسی طرح لوگوں کو ملتے رہیں گے اور انقطاع نبوت سے مقامات عالیہ سے محروم نہ کئے جائیں گے، بلکہ اگر آنحضرت رحمت عالم پر جو تمام عالم میں ایک ہی انسان کامل ہیں اور اپنے کمالات میں نظیر نہیں رکھتے ، نبوت ختم نہ ہوتی اور دوسرے نبی آنے والے کی اتباع لازم کی جاتی تو وہ مقامات عالیہ جو بسبب کمال اتباع محمدی حاصل ہوتے ہیں ، ان سے مخلوق محروم رہ جاتی ، پس ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ پر ختم نبوت تمام مخلوق کے لئے رحمت ہے ۔

سوال: عیسی بن مریم مستقل انبیاء اولو العزم سے ہیں تو بر تقدیر نزول اگر شرع محمدی ﷺ کے متبع ہوں گے تو نبوت سے معزول کئے جائیں گے جو سراسر خلاف عقل و نقل ہے اور اگر نزولمع النبوة ہوگا تو خاتم النبیین کی مہر نوٹ جائے گی ؟

جواب: نبوت اور رسالت کے لئے دورخ ہیں، یعنی ظہور اور بطون ۔ اللہ تعالی سے مکالمہ و مخاطبہ اور فیضان کے حاصل کرنے کو بطون کہا جاتا ہے اور صاحب بطون کو مقرب الہی ہونا لازم اور غیر منفک ہے اور مخلوق کی طرف توجہ اور تبلیغ شریعت ظہور ہے اور بسبب تبدل و تغیر شرائع کے ظہور میں انقلاب آسکتا ہے اور چونکہ نبی سابق کی شریعت کیلئے نبی لاحق کی شریعت ناسخ ہوتی ہے تو نبی لاحق کے زمانہ میں نبی سابق کو اپنی شریعت کو ترک کر کے نبی لاحق کی شریعت پر عمل درآمد کرنا ہوگا ۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر موسیٰ زندہ ہوتا تو اسکو بغیر میری شریعت کے عمل درآمد کرنا جائز نہ ہوتا ۔ اور اس ظہور کے انقلاب سے نبوت کے بطون میں جس کو قرب الہی اور عند اللہ معزز ہونا لازم ہے، ہرگز تغیر نہیں آتا بلکہ ترقی ہوتی ہے، بشرطیکہ نبی متبوع نبی تابع سے اکمل ہو ۔

کیا یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے آنحضرت ﷺ کو بیت المقدس کی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھنے کی اجازت دی اور بعد میں جب بیت اللہ کی طرف سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو آپ ﷺ کی نبوت ورسالت میں فرق آگیا یا آپ ﷺ اس قدر و منزلت سے جو آپ ﷺ کو پہلے بارگاہ خداوندی میں حاصل تھی معزول کئے گئے ، ہرگز نہیں لیکن حصول نبوت اور نبی ہونے کیلئے یہ لازم اور ضروری ہے (حاشیہ)کہ ایک بار مستقل طور پر صاحب بطون و صاحب ظہور ہوا۔ اگر کلکتہ کے علاقے میں کا لیفٹیننٹ گورنر لاہور کے لفٹنٹ کے علاقہ میں بغرض اصلاح آئے تو اسکو لیفٹیننٹ گورنر کہا جائے گا لیکن وہ اس عہدہ پر نہیں آیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر بالفرض آنحضرت کے بعد دنیا کے سارے پیغمبر آجائیں تو خاتم النبیین کی مہر نہیں توڑ سکتے ۔

حاشیہ

کما یدل علی قولیہ تعالی (کان الناس امۃ واحدۃ ۔۔۔الخ)

حاشیہ ختم شد

مرزاغلام احمد صاحب قادیانی کا نبوت تشریعیہ کا مدعی ہونا:

مرزاغلام احمد صاحب قادیانی نبوت تشریعیہ کا مدعی ہے اور اس کے ثابت کرنے کیلئے ہم انکا ایک مکالمہ ووحی بطور نمونہ پیش کرتے ہیں ۔ مکالمات الہیہ جو ابراہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں ، ان میں سے ایک یہ وحی ہے:هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره علی الدین کلہ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ 1

یہ آیت سورہ فتح کے اخیر رکوع میں ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور بچے دین کے ساتھ بھیجا تا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرئے۔ اس آیت میں نبی تشریحی کا بیان ہے جیسا کہبالهدى ودين الحق سے ظاہر ہے۔ اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا یہ فقرہ کہ ( اس میں صاف طور راس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے ) اس امر پر کھلی شہادت ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نبوت تشریعیہ کے مدعی ہیں۔

باقی مضامین متعلقہ ختم نبوت بیاض سیاہ ۱۲ میں ہیں۔


  • 1 (براہین احمدیہ ،ص:۴۹۸ )

Netsol OnlinePowered by