عن سلمة بن الأكوع له قال سمعت رسول الله يقول من يقل على ما لم اقل فليتبؤا مقعده من النار11
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد الانبياء والمرسلينnو على آله الطيبين الطاهرين واصحابه الهادين المهديين
{{p |اما بعد اللہ تعالی نے نوع انسان کی تخلیق حضرت آدم اس کے واسطہ سے فرمائی لیکن جغرافیائی حدود کے اختلاف ، رنگ ونسل کے امتیازات اور خاندان کی تفریق نے اولاد آدم میں افتراق و انتشار پیدا کر دیا ۔ ان حالات کو اتحاد و یگانگت اور محبت و مودت میں تبدیل کرنے کیلئے انبیاء کرام سلمہ جسم کی سعی و کاوش بہت اہمیت کی حامل ہے بالخصوص حضور سرور کائنات السلام نے ملت اسلامیہ کو مقام و مکان کی حدود سے آزادی عطا فرمائی اور اسلام کو سطح ارض کے کسی حصہ سے وابستہ نہ رکھا بلکہ کلمہ توحید کو اس کی بنیاد قرار دے کر ایک ملت کی تعمیر کی اور ملت اسلامیہ کو اعلیٰ ترین مقصد حیات عطا فرما کر حیات جاوید اور بقائے دوام عطا فرمایا۔{{p |سید عالم ﷺ کی ذات گرامی رحمت کی گھٹا تھی جو خشک آسمانوں پر پھیل گئی اور انسانیت کے تپتے صحرا پر برس کر اسے گل و گلزار بنا دیا۔ آپ نور کے ماہتاب تھے جس کی روشن کرنوں نے دنیا کی سیاہی اور ظلمت کو ہدایت کی روشنی سے منور کر دیا۔ آپ کی تعلیم روشنی کا وہ مینار تھی جو طوفان خیز موجوں اور تاریک فضاؤں میں بلند ہو کر انسانیت کیلئے نشان راہ بن گئی۔ آپ کے ہی فیض کا اثر تھا کہ صحرائے عرب کے ریگزاروں کے گمنام باسیوں نے قلیل عرصہ میں مشرق سے مغرب تک سارے عالم میں اسلام کا پرچم بلند کیا۔{{p |بادشاہوں کی عظمت دلوں کی سلطنت پر کبھی حکومت نہ کر سکی ، سپہ سالاروں کی تلوار انسانی اوہام کی زنجیریں نہ کاٹ سکی، فلسفیوں کے پیچ و تاب حسن عمل کا کوئی نمونہ پیش نہ کر سکے، یونانی حکمت بھی اطمینان قلب کا کوئی علاج تجویز نہ کر سکی، مقننین کے افکار بھی نوع انسانی کیلئے کوئی مستقل نظام زندگیے وانت کر سکی اور کی ترقی بھی معاشرے کی آہوں اور سسکیوں میں کمی نہ لاسکی ، سائنس و ٹیکنالوجی کی تمام مشینیں انسانیت کا غم کافور کرنے میں ناکام رہیں۔ امن و آشتی ، راحت و سکون اور اطمینان قلب کیلئے ہمیشہ دنیا کو امام الانبیاء کی تعلیمات ہی کام آئیں۔{{p |دنیا کے ہر دیانتدار مورخ نے آپ کے بلند مقام کا اعتراف کیا، ہر سلیم الفطرت نے آپ کی رفعت کو تسلیم کیا۔ فی الحقیقت آپ کا مقام ہر مقام سے آگے ہے، دنیا کی تمام برگزیدہ ہستیوں میں اعلیٰ ترین مقام حضور خاتم النبین ملی ایم کو حاصل ہے۔ آپ کا نقش قدم کاروان حیات کیلئے چراغ راہ ہے ۔ تمام اقوام اور عالمین کیلئے آپ رحمت بنا کر بھیجے گئے آپ کا نور رنگ و نسل، زبان، جغرافیہ، قوم، قبیلہ اور خاندان کی ہر حد کو توڑ کر دنیا کے ہر گوشے میں یکساں طور پر چمک رہا ہے۔ آپ کے نور علم اور نور نبوت کے بعد دنیا کو کسی نئے علم اور کسی نئے نبی کی قطعی ضرورت نہیں، قیامت تک آنے والے انسانوں کیلئے آپ کا متعین کردہ صراط مستقیم ہی کافی ہے۔{{subhead |علم رسالت{{p |نبی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا عارف ہوتا ہے، کائنات کے اسرار ورموز سے واقفیت رکھتا ہے۔ افراد امت کے افعال پر اس کی نظر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام اسلام کو علوم و کمالات سے نوازا۔ اللہ تعالی نے حضور سید عالم ملی ایام پر نبوت کی تکمیل فرمائی اور دیگر کمالات عدیدہ سے نوازا، اسی طرح خالق کا ئنات نے اپنے فضل و کرم سے اپنے حبیب کریم کو علم ما كان وما يكون عطا فر مایا اور ایسی کوئی شے نہیں جس پر حضور سید عالم ملی امیم کی نگاہ نہ پہنچتی ہو۔ حضور سید عالم ملی ایلام کی یہ وسعت علمی عطیہ خداوندی ہے۔ حضور سرور کائنات ملی اور انبیاء کرام اس کے علوم پر آیات قرآنیہ شاہد عادل ہیں ارشاد باری تعالی ہے:
{{p |وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَئِكَةِ البقرة : 31){{p |اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام ( اشیاء) کے نام سکھائے پھر سب ( اشیاء) کو ملائکہ پر پیش کیا۔{{p |اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اس کے علم کو بیان فرمایا کہ اللہ تعالی نے کائنات کی تمام اشیاء کا علم، زبانیں، چیزوں کا نفع وضرر اور آلات کا استعمال، حضرت آدم اللہ ان کو سکھا دیئے۔{{p |امام فخر الدین رازی را معدہ اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ان المراد أسماء كل ما خلق الله من اجناس المحدثات من جميع اللغات المختلفة التي يتكلم بها ولد آدم اليوم من العربية والفارسية والرومية وغيرها وتفسير كبير جلد 1 صفحه (398) اور مراد اللہ کی مخلوق میں سے ہر حادث کی جنس کے سارے نام ہیں، جو مختلف زبانوں میں ہونگے ، جنہیں اولاد آدم عربی ، فارسی اور رومی وغیرہ میں آج تک بول رہی ہے۔{{p |علامہ اسماعیل حقی رحمہ اللہ علہ اپنے انداز میں تفسیر بیان کرتے ہیں۔{{p |و علمه احوالها وما يتعلق بها من المنافع الدينية والدنيوية وعلمه اسماء الملائكة و اسماء ذريته كلهم واسماء الحيوانات والجمادات وصنعة كل شي و اسماء المدن والقرى واسماء الطير والشجر وما يكون و كل نسمة يخلقها الى يوم القيامة واسماء المطعومات والمشروبات وكل نعيم في الجنة واسماء كل شي(روح البیان جلد 1 صفحه 100
{{p |حضرت آدم ال کو اشیاء کے احوال اور ان کا دینی و دنیاوی نفع سکھایا اور انہیں ملائکہ، اپنی اولاد، حیوانات اور جمادات کے نام بتائے، ہر چیز کا بنانا، تمام شہروں اور دیہاتوں کے نام، پرندوں اور درختوں کے نام بتائے ، جو کچھ ہوگا اور قیامت تک پیدا ہونے والی ہر چیز کا نام بتایا کھانے پینے کی چیزوں اور جنت کی بلکہ ہر چیز کے نام بتا دیے۔{{p |دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔{{p |وَكَذَلِكَ نُرِى إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ الانعام : 75{{p |اور اس طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم الکل کے علم کو بیان فرمایا کہ ہم نے ابراہیم کو زمین و آسمان کی اشیاء دکھا دیں ۔ یعنی تحت الشری سے لیکر عرش عظیم تک ہر حقیقت اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کو دکھا دی۔ اس لیے کہ صفت صانع کے وجود پر دلیل ہوتی ہے اور حضرت ابراہیم الکوزمین و آسمان کی سلطنت دکھا کر حق الیقین کے مرتبے پر فائز کر دیا گیا۔{{p |امام جلال الدین سیوطی سال بعد اس آیت کریمہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔{{p |اخرج سعيد بن منصور و ابن المنذر وابن أبي حاتم عن السدى عن قوله وكذلك نرى ابراهيم ملكوت السموات والارض قال قام على صخرة ففرجت له السموات السبع حتى نظر الى العرش والى منزله من الجنة ثم فرجت له الارضون السبع حتى نظر الى الصخرة التي عليها الارضون تفسیر در منثور جلد 3 صفحه 273 )
{{p |امام سعید بن منصور، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت سدی سے اس آیت کے بارے میں یہ قول نقل کیا کہ آپ ایک چٹان پر کھڑے ہوئے اور آپ کے لیے سات آسمان منکشف کر دیئے گئے یہاں تک کہ آپ نے عرش کی طرف اور جنت میں اپنا مقام مشاہدہ فرمایا، پھر آپ کیلئے سات زمینیں ظاہر کی گئیں{{p |یہاں تک کہ آپ نے اس چٹان کو دیکھ لیا جس پر زمینیں ہیں۔{{p |ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے۔{{p |وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً البقرة : 143){{p |اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ{{p |اس آیت کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ قیامت کے دن دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام کی امتیں بارگاہ الہی میں عرض کریں گی کہ ہمارے پاس تیرا کوئی نبی نہیں آیا۔ تو انبیاء کرام سلمہ اسلام کی طرف سے امت محمد یہ گواہی دے گی ۔ اس پر بھی پہلی امتیں اعتراض کریں گی تو رسول اللہ لی ایمانی امت کی گواہی کی تصدیق فرمائیں گے۔{{p |علامہ اسماعیل حقی دور لبلبہ اس آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں۔{{p |و معنى شهادة الرسول عليهم اطلاعه على رتبة كل متدين بدينه وحقيقته التي هو عليها من دينه و حجابه الذي هو به محجوب عن كمال دينه فهو يعرف ذنوبهم وحقيقة أيمانهم واعمالهم و حسنا تهم وسيأتهم واخلاصهم ونفاقهم وغير ذلك بنور الحق(روح البيان جلد 1 صفحه 248 ){{p |حضورﷺکی مسلمانوں پر گواہی دینے کا معنی یہ ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ ما ہردین دار کے دینی مقام اور حقیقت پر مطلع ہیں اور کمال دین کیلئے جو حجاب میں ان پر بھی آپ کو اطلاع ہے۔ پس حضور ملی ای ام مسلمانوں کے گناہوں، ان کے ایمان کی حقیقت، ان کے اچھے اور برے اعمال اور ان کے اخلاص و نفاق وغیرہ کو نور حق سے پہچانتے ہیں۔{{p |دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔{{p |وَانْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيماً النساء : 113){{p |اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری اور تمھیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔{{p |آیت کریمہ میں حضور سید عالم ملی ایم کے علم پاک کو بیان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور سید عالم مئی مریم کو کتاب و حکمت کے اسرار ورموز اور کائنات کے تمام علوم عطا فرمائے ۔ کیونکہ عربی زبان میں کلمہ ما مفید عموم بھی ہوتا ہے۔ کائنات کے علوم اور اسرار ورموز سے واقفیت دینا اللہ تعالی کا حضور نبی کریم ملی پر خاص فضل و کرم ہے۔{{p |علامہ عبد اللہ سنی اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔{{p |وعلمك مالم تكن تعلم من امور رالدين والشرائع او من خفياتالامور وضمائر القلوب تفسير مدارك جلد 1 صفحه 395 ){{p |وعلمك مالم تكن تعلم یعنی امور دین اور شریعت کے امور سکھائے یا ہے۔{{p |چھپی ہوئی باتیں اور دلوں کے راز بتائے۔{{p |امام فخر الدین رازی در طلبہ اس آیت کریمہ کے تحت لکھتے ہیں{{p |انزل الله عليك الكتاب والحكمة واطلعك على اسرارهما واوقفك على حقائقهاتفسير كبير جلد 3 صفحه 217
{{p |اللہ تعالی نے آپ پر کتاب اور حکمت اتاری اور آپ کو ان کے رازوں پر مطلع فرمایا اور انکے حقائق پر واقفیت دی۔{{p |علامہ علاؤ الدین خازن درہ لا الہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں{{p |وعلمك مالم تكن تعلم ( يعنى من احكام الشرع وامور الدين و قيل علمك من علم الغيب مالم تكن تعلم وقيل معناه و علمك من حفيات الأمور واطلعك على ضمائر القلوب وعلمك من احوال المنافقين وكيدهم تفسیر خازن جلد 1 صفحه 426 ) یعنی شریعت کے احکام اور دین کی باتیں سکھائیں اور کہا گیا کہ آپ کو علم غیب میں وہ باتیں سکھائی گئیں جو آپ نہ جانتے تھے اور کہا گیا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کو چھپی چیزیں سکھائیں اور دلوں کے راز پر مطلع فرمایا اور منافقین کے مکر و فریب آپ کو بتا دیئے۔{{subhead |قرآن حکیم اور علم مصطفی علی الایم{{p |قرآن حکیم کی متعدد آیات سے یہ بات ثابت ہے کہ قرآن پاک میں کائنات کے اسرار و رموز مخفی خزائن اور ہر شے کا بیان موجود ہے۔ حضور سید عالم ملی امیم کو اللہ تعالی نے قرآن پاک عطا فر مایا ، آپ کے قلب اطہر پر ہی قرآن نازل کیا گیا، لہذا ثابت ہوا کہ جملہ علوم رسول اللہ کی ٹیم کو حاصل ہیں یا ارشاد باری تعالی ہے۔{{p |وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُسْتَطَرْ{{p |اور ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہے۔{{p |وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانَا لِكُلِّ شَيْءٍ{{p |اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔القمر : 53)89 : نحل
{{p |وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ وَلَا مُّبِينِالانعام : 59{{p |اور کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں نہ لکھا ہو۔{{p |ان آیات سے یہ بات معلوم ہوئی کہ قرآن حکیم تمام علوم کا مجموعہ ہے اور حضور سرور عالم ملا صاحب قرآن ہیں لہذا آپ تمام علوم کا سرچشمہ ہیں۔ جس طرح قرآن حکیم میں متعدد آیات رسول اللہ صلی العلیم کے علم مبارک پر دلالت کرتی ہیں؟ اسی طرح احادیث پاک میں بھی رسول اللہ الی السلام کے علم پاک کا بیان موجود ہے۔ حضرت عمر فاروق بیان فرماتے ہیں: قام فينا النبي الله مقاما فأخبرنا عن بدء الخلق حتى دخل اهل نسيه الجنة منازلهم واهل النار منازلهم حفظ ذلك من حفظه و نسيه من بخاری کتاب بدء الخلق جلد 1 صفحه 453) نبی کریم ملی الی یا ہمارے درمیان ایک بار کھڑے ہوئے تو ابتدائے آفرینش سے لے کر جنتیوں کے اپنی جگہوں میں اور دوزخیوں کے اپنی جگہوں میں داخل ہونے کی خبر دی ، اسے جس نے یاد رکھا ، سو یا د رکھا، جو بھول گیا سو بھول گیا۔ حضرت ابوزید انصاری خط بیان کرتے ہیں۔{{p |الله صلى بنا رسول اللمبة الفجر و صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت الظهر فنزل فصلى ثم صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت العصر ثم نزل فصلى ثم صعد المنبر فخطبنا حتى غربت الشمس فأخبرنا بما كان وبما هو كائن فأعلمنا احفظنامسلم شريف كتاب الفتن جلد 2 صفحه 390 )
{{p |رسول اللہ لی الیم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتی کہ ظہر آگئی، آپ نے منبر سے اتر کر ظہر کی نماز پڑھائی، پھر منبر پر رونق افروز ہو کر ہمیں خطبہ دیا، حتی کہ عصر کا وقت ہو گیا، آپ نے منبر سے اتر کر عصر پڑھائی، پھر منبر پر جلوہ افروز ہو کر ہمیں خطبہ دیا یہاں تک سورج غروب ہو گیا۔ پس آپ نے ہمیں وہ تمام چیزیں بتادیں جو ہو چکی تھیں اور جو ہونے والی تھیں ( ما كان وما يكون کی خبریں دیں) تو جو ہم میں سے زیادہ حافظہ رکھتا تھا وہ زیادہ عالم تھا۔
{{p |علامہ بدرالدین عینی در دید اس حدیث پاک کی شرح میں لکھتے ہیں
{{p |فيه دلالة على انه أخبر في المجلس الواحد بجميع احوال المخلوقات من ابتدائها الى انتهائها و في ايراد ذالك كله في مجلس واحد امر عظيم من خوارق العادة عمدة القارى جلد 15{{p | صفحه 151) یہ حدیث دلیل ہے کہ رسول اللہ علی ایم نے ایک ہی مجلس میں اول سے آخر تک
{{p |تمام مخلوقات کے تمام احوال بیان فرمادیئے اور ان سب کا ایک ہی مجلس میں بیان فرما دینا نہایت عظیم معجزہ ہے۔
{{p |حضرت عبد الرحمن بن عائشہ بیان کرتے ہیں
{{p |على الله قال رسول الله رایت ربی عز و جل في احسن صورة قال فيم تختصم الملاء الاعلى قلت انت اعلم قال فوضع كفه بين كتفى
{{p |فوجدت بردها بین شدیی فعلمت ما في السموات والارض
مشكوة جلد 1 صفحه 69)
{{p |رسول اللہ علی العلیم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا رب نے پوچھا کہ مقرب فرشتے کسی چیز میں جھگڑتے ہیں میں نے عرض کی اے رب تو ہی جانے تو رب نے اپنا دست قدرت ( جیسا اس کی شان کے لائق ہے) میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں پائی تو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب میں نے جان لیا۔ حضرت ملاعلی قاری در دیر اس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ هو عبارة عن سعة علمه الذي فتح الله به مرقات جلد 2 صفحه (400) یہ حدیث حضور سید عالم میں ٹیم کے وسعت علم کی دلیل ہے، اللہ تعالی نے آپ کو تمام اشیاء کا علم عطا فرمایا۔
{{p |ان احادیث سے ثابت ہوا کہ حضور سید عالم ملی امیم کو ابتدائے آفرینش سے لے کر جنت اور دوزخ میں جانے تک کے تمام حالات کی خبر ہے خواہ وہ مبدا سے متعلق ہوں یا معاش و معاد ہے۔ زمین و آسمان کی اشیاء کا علم بھی رسول اللہ کی ایم کواللہ تعالی نے عطا فرمایا۔ اس کو علم ماكان و ما یکون کہتے ہیں، اور علماء متقدمین کا بھی یہی نظریہ اور فکر ہے۔
{{subhead |علوم خمسہ کی بحث
{{p |إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضِ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
لقمان : 34)
{{p |بے شک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور برساتا ہے بارش اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کسی زمین میں مرے گی۔ بے شک اللہ تعالیٰ جانے والا بتانے والا ہے۔
{{p |بخاری شریف اور دیگر کتب حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ من السلام سے حضرت جبریل امین نے وقوع قیامت کے بارے میں سوال کیا تو نبی کریم صلی السلام نے جواب میں یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔{{p |اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم ملی ایم کو یہ علوم خمسہ عطا فرمائے یا نہیں ۔ قرآن حکیم کی آیات اور احادیث نبویہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالی نے انبیاء کرام علیہ السلام میں سے جسے چاہا یہ علوم عطا فرمائے۔{{subhead |بارش آنے کی خبر{{p |قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَابَاً فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلَةٍ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ ) ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ ) ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ عَامٌفِيهِ يُغَاتُ النَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ49-47 : يوسف{{p |(حضرت یوسف ال نے) فرمایا تم کھیتی کرو گے سات برس لگا تار تو جو کاٹو اسے اس کی بالی میں رہنے دو مگر تھوڑا جتنا کھا لو پھر اس کے بعد سات کڑے برس آئیں گے کہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کیلئے پہلے جمع کر رکھا تھا مگر تھوڑا جو بچالو پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینہ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے۔{{p |حضرت یوسف ال نے پہلے سات برس قحط سالی کی خبر دی کہ سات سال قحط رہے گا پھر آپ نے بارش آنے کی خبر بھی دے دی کہ اس کے بعد ایک سال بارش ہوگی اور مصر میں خوشحالی آئے گی۔ تو یہ صرف اس لیے تھا کہ اللہ تعالی ملالہ نے حضرت یوسف اللہ کو یہ علم عطا فرمایا تھا۔