logoختم نبوت

مینارہ قادیانی کی حقیقت۔۔۔از۔۔۔حکیم مولوی عبد الغنی ناظم نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ

محمد بن عبد الله فاطمة النسب

مینارہ قادیانی کی حقیقت:

الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده

اما بعد رسالہ ریویو آف رییس قادیان بابت ماہ دسمبر ۱۹۳۲ ء میں ص ،1 تا6 ۔ ایک مضمون بعنوان منارہ مسیح کی حقیقت‘ شائع ہوا ہے۔ عنوان سے تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعی منارة اسح کا حال بیان کیا جائے گا۔ لیکن مضمون کے پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ منارة قادیانی کا ذکر خیر ہورہا ہے ۔ سچ ہے کہ برعکس نہند نام زنگی کافور ۔

اس مضمون میں مضمون نگار نے جہاں اپنے حسن عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ وہاں ساتھ ہی افتراء پردازی ، اور غلط بیانی سے بھی کام لیا ہے۔ جیسا کہ ان لوگوں کی عادت ہے کہ چنا نچہ لکھتا ہے۔ کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسیح موعود ایک منارہ کا مالک ہوگا۔

کیوں صاحب! حضرت رسول کریمﷺ نے کہاں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ مسیح موعود ایک ہوگا منارہ کا مالک ہو گا یا مسیح آکر کوئی منارہ بنوائے گا۔ اگر نہیں فرمایا ، اور یقینا نہیں فرمایا تو صاحب مضمون کی افتراء پردازی میں کیا شبہ ہے؟ اور جو کچھ حضور sym-9نے ارشاد فرمایا ہے اس ۔ کے خلاف کہنا غلط بیانی نہیں تو اور کیا ہے؟ حالانکہ افتراء پردازی اور غلط بیانی کی حضور نے سخت ممانعت فرمائی ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہے:

عن على ، قال سمعت رسول الله يقول لا تكذبوا على فانه من كذب على فليتبوا مقعده من النارترجمہ: حضرت علی sym-5 سے روایت ہے۔ کہا ! سنا میں نے رسول اللہ ﷺ ہے ۔ فرماتے تھے کہ مجھ پر جھوٹ نہ بولنا۔ ( یعنی میری طرف سے وضعی باتیں بنا کر لوگوں کو نہ سنانا ) پس تحقیق وہ جو جھوٹ بولے مجھ پر ضروری ہے کہ آگ میں داخل ہو جائے ۔

دوسری جگہ ارشاد فرمایا: عن سلمة بن الأكوع له قال سمعت رسول الله يقول من يقل على ما لم اقل فليتبؤا مقعده من النارترجمہ: سلمہ بن اکوع حوالہ سے روایت ہے۔ کو روایت ہے ۔ کہا! سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے جو ے جو شخص کہے مجھ پر وہ جو میں نے نہیں کیا ( یعنی غلط بات آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کرے ) ضروری ہے کہ وہ آگ میں داخل ہو جائے ۔ ( بخاری شریف ، باب العلم ) مگر یہ لوگ فرط محبت اور حسن عقیدت کی وجہ سے مجبور و معذور ہیں جو جی میں آئے کہے جاتے ہیں۔اتباع بغیر البصیرۃ اسی کا نام ہے۔

اس مختصر تمہید کے بعد اب اصل مبحث کی طرف رجوع کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک قدرتی بات ہے کہ ہر آدمی جب کسی مکان یا جگہ کو دیکھتا ہے۔ یا کسی سے اس کا ذکر سنتا ہے تو اس کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے طبعا اس کے دل میں یہ چند سوال پیدا ہوتے ہیں ۔

1۔یہ مکان کس نے بنایا ؟

2۔کب بنایا ؟

3۔کیوں بنایا ؟

4۔کب مکمل ہوا؟

اگر کوئی شخص مکان کو بچشم خود دیکھے تو ان ہی سوالوں بیدار کتفا کرتا ہے۔ لیکن اگر خود نہ دیکھے بلکہ کسی کی زبانی سنے تو محل وقوع ، شکل و شباہت ، اور زیب و زینت کے متعلق بھی سوال کرتا ہے ۔ لہذا احقر بھی انہی سوالوں کے جواب سے ریویو کے نامہ نگار کی زبانی منارہ کا تعارف کراتا ہے۔ اور اپنی طرف سے ساتھ ساتھ تنقیدی نوٹ بھی لکھتا جائے گا۔ امید ہے که ناظرین دلچسپی سے مطالعہ فرمائیں گے۔

منارة قادیانی کا محل وقوع:

قادیانی نامہ نگار لکھتا ہے کہ منارة اصبح قادیان خدائے تعالی کے متبرک مقام مسجد اقصی کے عین وسط میں واقع ہے۔

احقر کہتا ہے کہ جس منارہ کا ذکر حدیث شریف میں ہے وہ دمشق کے مشرق کی طرف واقع ہے جیسا کہ آگے بیان کیا جائے گا۔

منارہ کی ساخت اور شکل و شباہت:

نامہ نگار لکھتا ہے کہ منارہ کی ساخت نہایت سادہ ہے۔ صرف قرآن مجید کی چند آیات اور تین پتھر جن پر ان اصحاب کے نام کندہ ہیں۔ جنہوں نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔ یا ایک تکونی لوح جس پر منارہ کا نام لکھا ہوا ہے اس منارہ کی زیب وزینت کہی جاسکتی ہے۔ منارہ کی ساخت میں رنگ آمیزی بہت کم ہے۔ اور یہ بات اس کو ترکوں کے منارہ سے بہت مشابہت دے دیتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ترکی منار او پر سے مخروط ہوتے چلے جاتے ہیں اور یہ شروع سے آخر تک ایک ہی موٹائی کا ہے ۔

احقر کہتا ہے کہ اصلی منارة مسیح ان تمام باتوں سے مبرا ہے۔ نہ اس پر قرآن مجید کی آیات لکھی ہوئی ہیں اور نہ مرزا صاحبان کے نام ۔ اس کا رنگ بھی سفید ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔

منارہ کس نے بنایا اور کب بنایا:

نامہ نگار لکھتا ہے کہ منارہ مسیح کا سنگ بنیاد حضرت مرزا مسیح موعود و مهدی موعود به نفس نفیس بروز جمعہ ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ کو رکھا۔

احقر کہتا ہے کہ وہ منارہ جس کا ذکر حدیث شریف میں ہے وہ اس سے بہت عرصہ پہلے کا بنا ہوا ہے۔ اس کی نسبت حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ ہمارے زمانہ میں ایک سفید مشارہ وہاں ( اردن پہاڑ پر) ۴۱ میں پایا گیا ۔( ملاحظہ ہو حاشيه بالرحمة المهداة ترجمه مشکوة جلد چہارم جس ۱۱۸، مطبوعہ انوار الاسلام امرتسر )

منارہ کیوں بنایا گیا:

نامہ نگار وم طراز ہے کہ (اس منارہ کی تعمیر کا مقصد حضرت رسول کریم ﷺ کی اس پیشگوئی کو پورا کرنا تھا کہ مسیح موعود ایک منارہ کا مالک ہو گا۔

احقر کہتا ہے کہ نامہ نگار کی یہ تمام تحریر مرزا صاحب کی تکذیب کے لئے کافی ہے۔الفضل ما شهدت به الاعداء

بقول شخصے

کیا لطف جو غیر پر وہ کھولے
جادو وہ جو سر پر چڑھ کے بولے

یہ گھر کی شہادت دوسری تمام شہادتوں سے بدرجہ بہتر ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مرزا صاحب نے جب مسیح موعود اور مہدی معہود بنے کا دعویٰ کیا تو مسیح اور مہدی کے متعلق جس قدر احادیث اور پیشگوئیاں تھیں سب کو مسیح مان کر اپنے پر چسپاں کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔ جیسا کہ نامہ نگار کو بھی اقرار ہے۔

حضرت رسول کریم ﷺ نے حضرت مسیح الکلی کے متعلق ایک پیشگوئی فرمائی تھی ۔ جو یہ ہے۔بعث الله المسيح بن مريم فينزل عنه المنارة البيضاء شرقي دمشق بین مهزودتین واضعا كفيه على اجنحة ملكين الخ ۔ ترجمہ : بھیجے گا اللہ تعالی مسیح بن مریم sym-10کو پس اتریں گے وہ نزد یک منارہ سفید کے مشرقی دمشق کے درانحالیکہ ہوں گے عیسی sym-9 در میان دو کپڑوں زرد رنگ کے ۔ رکھے ہوئے ہوں گے دونوں ہتھیلیاں اپنی او پر باز و دو فرشتوں کے الخ ۔ 1

اس پیشگوئی کے متعلق نامہ نگار نے لکھا ہے کہ تیج موجود ایک منارہ کا مالک ہوگا۔

حالانکہ اس پیشگوئی میں ملکیت کا ذکر بھی نہیں ہے۔

یہی وہ پیشگوئی ہے جس کے پورا کرنے کی مرزا جی نے ہر ممکن کوشش کی ۔ اور طرح طرح کی تاویلوں سے کام لیا۔

1۔قادیان کو دمشق سے تعبیر کیا۔ چنا نہ ازالہ اوہام میں لکھا ہے کہ :

دمشق کا لفظ محض استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے کہ 2

خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ یہ قصبہ قادیان بسبب اس کے کہ اکثریز یدی الطبع لوگ اس میں بسکونت رکھتے ہیں ۔ دمشق سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے۔ 3

قادیان کی نسبت مجھے الہام ہوا ہے کہ:

اخرج منه اليزيديون یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں ۔ 4

اور یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے۔انا انزلناه قريبا من القاديان وبالحق انزلناه وبالحق نزل وكان وعد الله مفعولا ، یعنی ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔ اور سچائی کے ساتھ اتارا ہے۔ اور سچائی کے ساتھ اترا۔ اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہوتا تھا ۔

اس الہام پر نظر کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیان میں خد ئے تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیشگوئی کے لیے پہلے سے لکھا گیا تھا ۔ 5

2۔پھر بقول نامہ نگار حضرت رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے نفس نفیس بروز جمعہ ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ کو منارہ کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا تا کہ یہ اعتراض نہ ہو کہ قادیان میں کوئی منارہ نہیں ہے۔

3۔اور آخر روز رد چادروں کی بھی تو جیہ ان الفاظ میں کر دی ہے کہ

دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی کی تھی جو اس طرحوقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ صحیح آسمان سے جب اترے گا تو دو زرد چادر میں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی ۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔ 6

صاحبان ! مرزا صاحب کے ان استدلالات، تاویلات ، اور توجیہات سے ان کے خوش اعتقاد مرید اور ڈھلمل یقین لوگ تو مطمئن ہو کر مرزا صاحب پر شمار ہو گئے۔ لیکن کامل الایمان اور وائق الاعتقاد لوگوں کو ایسی بودی اور کمزور باتوں سے کب اطمینان ہو سکتا ہے۔ کیونکہ پیشگوئی اور پھر رسول خدا کی پیشگوئی ایک ایسا معیار ہے جس سے صادق اور کاذب میں امتیاز ہو سکتا ہے۔ مدعی کا ذب تو اپنے اثبات دعوی کے لئے پیشگوئی کو عمدا پورا کرتا ہے مگر صادق کے وقت میں پیشگوئی خود بخود پوری ہو جاتی ہے۔

مرزاصاحب مسیح موعود بننے اور مہدی معہود ہونے کے شوق میں دعوی تو کر بیٹھے اور پیشگویوں اور حدیثوں کو بھی اپنے پر چسپاں کرنے کے لئے بہتر سے ہاتھ پاؤں مارے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ پنجابی مثل کے مطابق چور کی داڑھی میں تنکا ان کو خود بھی اطمینان نہ تھا کہ میں واقعی مسیح موعود ہوں ۔ کیونکہ پیشگویوں اور حدیثوں کے الفاظ ان کی تکذیب کر رہے تھے۔ اس لئے خود ہی ازالہ اوہام میں لکھ دیا کہ:

ممکن ہے اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجا نچس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ 7

پھر دوسری جگہ اسی کتاب میں لکھتے ہیں :

اور ممکن ہے کہ اول دمشق میں ہی نازل ہو۔8

چونکہ مرزا صاحب کو اپنا دعوی چھوڑنا بھی محال تھا۔ اور اپنے پر پورا یقین بھی نہ تھا۔ اس لئے ( رسول کریم ﷺ کے فرمان کے خلاف (حاشیہ)) اپنے سوا اور بھی بہت سے مسیح آنے کا اعلان کر دیا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

اس عاجز کی طرف سے میداد عوی نہیں کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی خاتمہ ہے۔ اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا۔ بلکہ میں مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے۔9

الغرض مرزا صاحب نے پیشگوئی مذکورہ کا مصداق بننے اور اس کو پورا کرنے کی پوری کوشش کی ۔

۱۔ ستعارہ کہہ کر قادیان کو دمشق - ئق سے مشابہت دی ۔

۲ دو زرد چادروں کو اپنی دو بیماریوں سے تعبیر کیا۔

اور ۱۳ اسراف و تبذیر کا خیال نہ کرتے ہوئے منارہ کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا لیکن سوال یہ ہے کہ ؟

حاشیہ

حضور ﷺ نے تو ایک ہی مسیح بن مریم کے آنے کی خبر دی ہے۔ مگر مرزا صاحب دس ہزار سے بھی زیادہ سے آنے کے قائل ہیں یع بین تفاوت رو از کجاست تا بکجا ۔ واضح رہے کہ حضرت مسیح sym-9 نے اپنے حواریوں کو مہتاب کیا تھا کہ خیبر خبردار دار کوئی تمہیں گمراہ نہ کردے۔ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں ہی وہ ہوں۔ اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے ۔10

۲اس وقت اگر کوئی تمہیں کہے دیکھو یہاں یا وہاں ہے یقین نہ لاؤ کیونکہ جھونے اور چھونے نبی انھیں گے اور نشانیاں اور کرامات دکھلا ئیں گے ۔ اگر ہو سکتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرنے پر تم خبر دار ہو۔ دیکھو میں نے تمہیں سب کچھ پہلے ہی کہہ دیا ہے ۔ 11

حاشیہ ختم شد

کیا مرزا صاحب کی زندگی میں منارہ مکمل ہو گیا تھا ؟

اس کے جواب میں نامہ نگار لکھتا ہے۔ کہ یہ منارہ حضرت مسیح موعود sym-9کی اپنی حیات مبارک میں تکمیل نہ پاسکا۔

احقر کہتا ہے کہ چونکہ مرزا صاحب اپنے دعوئی میں بچے نہ تھے اس لئے خدا تعالی کو منظور نہ تھا کہ ان کی زندگی میں منارہ مکمل ہو۔ پس مرزا صاحب دل کے ارمان دل ہی میں لے کر نہایت پاس اور حرمان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گئے ۔

کوئی بھی کام مرزا مرا مرزا پورا نہ ہوا
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا


  • 1 (مشکوۃ شریف مترجم جلد ۴، باب علامات قیامت ، وتر مذی شریف متر جم جلد دوم، باب فتنه و جال )
  • 2 ( طبع ، اول ،ص:71 سوم ،ص:29)
  • 3 (طبع اول ۔ص:71، سوم ،ص:30)
  • 4 ( اول ،ص:72 ، سوم ،ص:30)
  • 5 ( بلفظہ از اله او بام طبع اول ،ص:73 ،طبع سوم،ص:30 )
  • 6 (رسالہ تشحیذ ، بابت ماہ جون ۱۹۰۶، ص ۵. اور اخبار بدر مؤرخہ 7 جون ۱۹۰۶ ص:۵)
  • 7 ( ازالہ اوہام ،طبع اول،ص:200۰ ،طبع سوم ص :82)
  • 8 (ازالہ اوہام طبع اول ص 295طبع سوم ص 122)
  • 9 (از الہ طبع اول میں ۲۹۵ سوم ص ۱۲۲)
  • 10 ( مرقس ، باب ۲۳ ، آیت نمبر ۷۰۱ )
  • 11 ( مرقس باب ، ۲۱، آیت، ہیں ۲۱ تا ۲۳)

Netsol OnlinePowered by