logoختم نبوت

قہر یزدانی بر قلعہ قادیانی۔۔۔از۔۔۔علامہ محمد نظام الدین حنفی ملتانی رحمۃ اللہ علیہ

بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على رسوله محمد وعلى آله و اصحابه اجمعين .

اما بعد خادم شریعت ابو المنظور محمد نظام الدین برادران اہل سنت والجماعت کی خدمت میں عرض پرداز ہے کہ آج کل فرقہ مرزائیہ نے لوگوں کو طرح طرح کی باتیں سنا کر دام تزویر میں پھنسا رہے ہیں لہذا خادم شریعت نے یہ رسالہ بڑی جانفشانی سے تیار کیا ہے تا کہ عوام الناس ان کے ہتھکنڈوں سے بچ جائیں ۔وما توفيقى الا بالله العلى العظيم

سوال: مرزا صاحب قادیانی کو اگر مسیح موعود sym-9حضرت امام مهدیsym-9 مانا جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟ جواب دو اجر ملے گا۔ (السائل : غلام محی الدین )

جواب: مرزا قادیانی کو امام مہدی و عیسی ماننا بھی منع ہے۔ بلکہ شارع sym-9نے اسکے کفر میں شک کرنے والے کو بھی کافر ، دائرہ اسلام سے خارج گنا ہے۔ پھر اسکی بیعت کہاں اور امام مہدی و عیسی مسیح ماننا کس طرح پر جائز ہو سکتا ہے؟ اور علاوہ اسکے انکے علامات مرزا صاحب میں ہر گز نہیں پائے جاتے ۔ اور وہ یہ ہیں ناظرین ملاحظہ کریں:

نمبر1: حضرت عیسی sym-9ابن مریم تھے اور بے پدر تھے مرزا غلام احمد قادیانی کی والدہ چراغ بی بی اور باپ غلام مرتضی تھا۔

نمبر 2: اور انکا نام حضرت عیسی sym-9 وروح القدس اور انکا نام غلام احمد ۔

نمبر 3: حضرت عیسی sym-9 ومشق میں منارہ شرقی پر اتریں گے۔ اور مرزا صاحب نے تو دمشق کو دیکھا ہی نہیں۔

نمبر 4: حضرت عیسی sym-9 اپنی قوم کو کوہ طور پر لیجائیں گے۔ مرزا صاحب نے یہ مکان بھی نہیں دیکھا۔

نمبر 5: حضرت عیسی sym-9 کے سانس کے اثر سے کا فر مر جائیں گے۔ مرزا صاحب کا نام سن کر لڑائی کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے۔

نمبر6 : حضرت عیسی sym-9جامع دمشق میں اتر کر عصر کی نماز لوگوں کے ساتھ اور حضرت امام مہدیsym-9کے پیچھے پڑھیں گے اور دجال کو طلب کریں گے اور انکے لیے زمین سمٹ جائے گی مرزا صاحب کو یہ باتیں کہاں نصیب ہوئیں؟

نمبر:7 حضرت عیسیsym-9 دجال کے محاصرہ سے بیت المقدس کو آزاد کریں گے اور مرزا صاحب میں یہ صفت کہاں ؟

نمبر : 8حضرت عیسی sym-9 مدینہ منورہ میں آپکے روضہ میں مدفون ہونگے اور حضرت عیسی sym-9کی چوتھی قبر ہو گی اور حج بھی کریں گے ۔ مرزا قادیانی صاحب کو یہ مرتبہ کہاں ملا مرزا صاحب تو لاہور میں نا گہانی موت سے فوت ہوئے اور قادیان میں مدفون ہوئے۔

نمبر ۹: حضرت عیسی sym-9دجال کو مقام لر پر قتل کر کے نیزوں پر چڑھا کر لوگوں کو دکھا ئیں گے۔ لیکن مرزا صاحب قلم کا گھوڑا ہی چلاتے رہے۔

نمبر ۱۰: حضرت عیسی sym-9کے زمانہ میں یا جوج و ماجوج ہوں گے اور اسلام و عدل سے زمین پر ہو جائے گی اور مال بہت ہو گا یہاں تک کہ کوئی بشر صدقہ دیا ہوا کسی سے قبول نہ کرے گا۔

اور مرزا صاحب کے زمانہ میں زنا، چوری و خون ریزی اور فرقہ بندی و بے انصافی و قطع رحمی کا نہایت درجہ کا زور شور تھا۔ یہاں تک کہ مرزا صاحب نے اپنے منکرین مسلمین غیر احمدیہ کو کافر و دجال کہہ کر یہ فتوئی شائع کر دیا کہ انکے پیچھے نماز احمدی کی ہرگز جائز نہیں اور نہ ہی انکے ساتھ رشتہ داری کرنا درست ہے۔ (دیکھو فتوی احمد یہ )

نشانات امام مہدی sym-9:

نمبر:1اسم شریفمحمد بن عبد الله فاطمة النسب ذات ہاشمی علوی اہل عرب کی ، مرزا صاحب کا نام غلام احمد بن غلام مرتضی ذات مغل پنجابی قادیانی۔

نمبر 2: حضرت امام مہدی مکہ میں ظہور فرمائیں گے رکن میں بیعت لیں گے۔ اور انکے پاس کہاں ہیں ؟ نہ اسکو علم حضوری اور نہ ہی اپنے مکہ کو دیکھا اور نہ ہی اسنے رکن دیکھا جو حاجیان کو انکی زیارت نصیب ہوا کرتی ہے۔

نمبر 3: حضرت امام مہدی کا ظہور تین سو تیرہ ابدالوں کے ساتھ ہوگا جو رات کو عابد زاہدوں کو شیر اور لوگ ان کو بیعت لینے کے لئے مجبور کریں گے وہ انکار فرمائیں گے۔ مرزا صاحب کے افعال و اقوال اسکے برعکس لیتے اور مرزا صاحب کے ہمرائیوں کی عابدی اور شیری ہر ایک فرد بشر کو روشن ہے۔

نمبر 4: حضرت امام مہدی کی لڑائی سفیانی و روم والے کے ساتھ ہوگی اور انکے زمانہ میں پانی پر سیاہ جھنڈے اتریں گے اور ان کے زمانہ میں عدل و انصاف نہایت درجہ کا ہوگا اور مرزا صاحب کے زمانہ میں یہ امور ہرگز پائے نہیں جاتے۔ پس ناظرین جبکہ مرزا صاحب میں یہ نشانات مفقود ہیں تو پھر کس لیے امام مہدی و عیسی مسیح مانا جا سکتا ہے اور یہ علامات مشکوۃ شریف و ترندی و نسائی و مشارق الانوار و غیره کتب حدیث میں مسطور ہیں ملاحظہ کریں۔

سوال: مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میرے لیے چاند اور سورج نے شہادت دی ہے چنانچہ سورج و چاند کو مطابق فرمودہ نبی ﷺ کے گرہن ماہ رمضان میں لگا۔ پس یہ دلیل میرے امام ہونے کی ہے۔

جواب: مرزا صاحب کا یہ کہنا بھی بالکل غلط اور بے اصل ہے۔ وہ دلیل اصل میں یہ ہے :قَالَا لِمَهْدِينَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي نِصْفِ مِنْهُترجمہ: یعنی امام باقر و محمد بن حسین فرماتے ہیں کہ ہمارے امام مہدی کے دونشان ایسے ہیں کہ جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے ہیں۔ کبھی ایسے نشان نہیں ہوئے ۔ (یعنی خرق عادت کے طور پر ) اول رات رمضان میں چاند کا گرہن ہوگا اور نصف رمضان میں سورج کا۔

اب ناظرین و مرزائی صاحبان ایمان سے فرمادیں کہ واقعی ایسا ہوا ہے ۔ ہرگز نہیں ہوا اور یہاں پر مرزا صاحب نے غلط معنی کیے ہیں کہ اول کے معنی ۱۲ و ۱۳ اور نصف رمضان کے معنی ۲۸، ۲۹۔ قربان جائیے ایسی سمجھ پر اور ساتھ یہ بھی دھو کہ دیدیا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا ۔ حالانکہ نظام حساب قمری کے موافق جبکہ چاند و سورج کا دور ختم ہو کر اجتماع آنے کا ہو گا تو چاند و سورج کو ماہ رمضان میں ضرور گرہن لگے گا اور افسوس کہ اس حدیث کو مرزا صاحب نے کیوں ترک کر دیا: قبل خروج المهدى ينكسف القمر في شهررمضان مرتين.

اور علاوہ اس کے مرزا صاحب نے خود اپنی کتاب کشف الغطاء ، صفحہ ۱۲ میں صاف صاف بایں طور پر تحریر کر دیا ہے کہ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ مسلمانوں کے قدیم فرقوں کو ایک ایسے مہدی کی انتظاری ہے جو فاطمہ اور حسین کی اولاد میں سے ہو گا اور نیز ایسے مسیح کی بھی انتظاری ہے جو اس مہدی سے مل کر مخالفان اسلام سے لڑائیاں کرے گا مگر میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ سب خیالات لغو اور باطل اور جھوٹ ہیں اور ایسے خیالات کے ماننے والے سخت غلطی پر ہیں ایسے مہدی کا وجود ایک فرضی وجود ہے اور جو نادانی اور دھوکا سے مسلمانوں کے دلوں پر جما ہوا ہے اور سچ یہ ہے کہ بنی فاطمہ سے کوئی مہدی آنے والا نہیں اور ایسی تمام حدیثیں موضوع اور بے اصل اور بناوٹی ہیں جو غالبا عباسیوں کی سلطنت کے وقت میں بنائی گئی ہیں من علینہ ۔ اور سچ یہ ہے کہ مجھے خبر دی گئی ہے۔ تو ایک شخص عیسی مسیح ہے ۔( ملخصاً .. الخ)

پس ناظرین یاد رکھیں کہ جب مرزا صاحب نے خود امام مہدی آخر الزمان کی آمدن سے صاف صاف انکار کر دیا ہے۔ تو پھر اپنی زبان سے میاں مٹھو طوطا کہلانا دروغ گورا حافظہ نباشد کی مثال صادق آگئی یا نہیں۔ اور اسکو امام مہدی ماننے والا کذاب تصور ہو گا یا نہیں ؟ فقط۔ (الحجب ابو المنظور محمد نظام الدین ملتانی عفی عنہ )

سوال: نبی ﷺ کے بعد دعوی نبوت کرنا درست ہے یا نہیں ۔ اور جو شخص یہ کہے کہ میں بروزی یا ظلی نبی ہوں اسکے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب: آنحضور ﷺ کے بعد دعوی نبوت کرنا صریح کفر ہے۔ اور مدعی نبوت بعد از آقائے نامدار محمد رسول اللہ ﷺ کے قابل قتل ہے۔ چنانچہ قرآن مجید و احادیث صحیحہ و اجماع امت سے یہ امراظہر من الشمس ہےلقوله تعالى: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا.

یعنی محمد رسول اللہ ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں مگر اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کو جاننے والا ہے ۔

پس اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں لفظ لکن سے جو کہ استدراک رفع تو اہم کے لیے بولا جاتا ہے۔ لا کر ابوت کی نفی فرمادی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ تمہارے حقیقی باپ نہیں کہ جس سے حرمت مصاہرت وغیرہ لازم ہو۔ ہاں یہ بات ضروری ہے کہ انبیاء علیہم السلام از روئے شفقت و محبت کے باپ ہوا کرتے ہیں جیسا کہ حضرت لوط العلم نے اپنی قوم کے لیے کہا۔هَؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُم اور محمد رسول اللہ ﷺ تو از راہ شفقت کے تمہارے والدین سے بھی زیادہ محبت کرنے والے ہیں اور انہیں کے وجود پر شفقت و محبت و رسالت و نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے اور تمہارے لیے اور کسی نبی کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ کی ذات پر ہی تمام امور ختم ہو چکے ہیں۔

چنانچہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا، پس اس آیت کریمہ سے کمالیت دین اور تمام نعمت اور رضا مندی بھی ظاہر ہوگئی اور آپکی شفقت کا انتہاء بھی ظاہر ہو گیا اور ختم نبوت بھی آنحضور ﷺ کی اظہر من الشمس ہوگئی اور علاوہ اسکے آیت کریمہ میں (النبیین ) موجود آپ کی جود ہے جو مطلق ہے اور اسپر الف لام استغراق کا ہے جس سے یہ امر ثابت ہوا کہ آ۔ ذات والا صفات کی بعثت کے بعد کسی قسم کا نبی ظالی ، بروزی مستقل نہیں آ سکتا اور خاتم کے معنی مہر و انگوٹھی اور آخری ، زبان عرب میں آیا کرتے ہیں اور یہ قاعدہ ہے کہ جب لفظ خاتم کسی قوم کی طرف مضاف ہو تو وہاں سوا اس معنی کے اور نہیں لیے جاسکتے چنانچہ : خاتم القوم وخاتم النبيين هكذا في لسان العرب وغیرہ وغیرہ اور مفردات راغب میں مسطور ہے:خاتم النبيين ختم النبوته ای تتمها بمجيه یعنی آپ خاتم النبيين اس لئے ہوئے کہ آپ نے نبوت کو ختم کر دیا۔ بسبب آنے آپ کے از تصنیف امروئی ۔

علاوہ ان دلائل کے ناظرین یاد رھیں کہ جب آنحضور ﷺ کی ذات والا صفات تمام جہانوں کے لیے قیامت تک کامل نبی ہو کر تشریف فرمائیں اور حیات النبی ہیں تو پھر مرزا صاحب کی نبوت ماننے کی ہمیں کیا ضرورت رہی دیکھو لقوله تعالى: قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا .... الخ وَلِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَمَا أَرْسَلْنكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيراً وَنَذِيراً وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ )

پس یہ ہر دو آیتیں ہر زمانہ و هر مکان و ہر مذہب والے کے لئے بیان کرتی ہیں کہ نبی ہر ایک کے لیے کافی وافی ہیں اور قیامت تک کسی نبی کے مبعوث ہونے کی ضرورت نہیں اور وہ ایک ہی نبی کامل ہے جس کے ذریعہ سے ہر فرد اپنے خالق حقیقی تک پہنچ سکتا ہے اور نجات حاصل کر سکتا ہے اور ان کے ہوتے کسی ظلمی بروزی نبی کی ضرورت نہیں۔

اور آنحضور ﷺ نے اپنی خاتمیت نبوت اور جھوٹے مدعیان نبوت کی نسبت خود کئی دفعہ زبان درفشان سے فرمایا ہوا ہے چنانچہ بطور مشتے نمونہ از خروارے چند ایک حدیثیں تحریر کر دی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں ۔

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا وُضِعُ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعُ عَنْهَا عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ وَلا يَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ حَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الأَوْثَانَ وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلْثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعَمُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ وَأَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ لا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَلَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ امر الله (رواه ابوداود والترمذي و مشكوة كتاب الفتن فصل ثانی ) ترجمہ: روایت ہے تو بان سے کہ فرمایا رسول خدا نے کہ جس وقت رکھی جائے گی تلوار میری امت میں نہیں اٹھائی جائے گی تلوار قیامت تک اور نہیں قیامت قائم ہوگی یہاں تک کہ ملیں گے میری امت کے قبیلے مشرکین سے اور یہاں تک کہ نہ بتوں کو پوجیں گے اور نشان یہ ہے کہ قریب ہے کہ امت میری میں جھوٹے تین آدمی ہوں گے جو کہ (اپنے آپ کو نبی اللہ کہیں گے ) اور حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور نہیں کوئی نبی بعد میرے۔ اور ہمیشہ رہے گی ایک جماعت غالب میری امت سے حق پر اور نہیں ضرر پہنچا سکے گا ان کو وہ شخص کہ مخالفت کرے ان کی یہاں تک کہ آئے گا حکم خدا تعالیٰ کا۔

اور بخاری و مسلم و مشکوة باب مناقب علی اله فصل اول میں بایں الفاظ حدیث آنحضور کی نبوت پر شاہد ہے:

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ لِعَلِيِّ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا إِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِى ( متفق علیہ ) ترجمہ: یعنی سعد بن وقاص سے منقول ہے کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے حضرت علی نے کے لیے کہ تو مجھے بمنزلہ ہارون کے ہے موسیٰ سے مگر فرق یہی ہے کہ نہیں ہے کوئی نبی بعد میرے۔

اور مشکوۃ میں عقبہ بن عامر سے ہے کہ فرمایا نبی ﷺ نے:لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمُرُ ابْنُ الْخَطَّابِیعنی فرمایا :آپ نے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت ابن عمر بن خطاب ہوتا ۔ اور مشکوۃ باب اسماء النبی فصل اول حضرت جبیر بن مطعم سے ہے کہ فرمایا نبی نے کہ میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور ماحی ہوں اور حاشر ہوں اور عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے کہ جس کے پیچھے کوئی نبی نہ ہو ۔وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَہ نبی( نقل از بخاری ومسلم) اور حدیث صحیح مشکوۃ میں ہے کہ فرمایا حضور ﷺ نے: ولا فَخُرَ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّين

اور ایک حدیث میں بایں طور پر ہے کہ فرمایا آپ نے : مثلِی وَمِثْلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ مُحْسِنَ بُنْيَانُه تُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لِبْنَةٍ فَطَافَ بِهِ النَّظَارُ يَتَعجَّبُونَ مِنْ أَحْسَنِ بُنْيَانِهِ إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللبنة فَكُنتُ أَنَا سَدَّدُتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ خُتِمَ فِي الْبُنْيَانُ وَخُتِمَ لِيَ الرُّسُلُ وَفِي رَوَايَةٍ فَأَنَا اللبنة وَأَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ )(نقل از مشکوۃ باب فضائل سید المرسلین فصل اول) ترجمہ: ابوہریرہ سے روایت ہے کہ کہا کہ فرما یا رسول خدا ﷺ نے مثل میری اور مثل انبیاء کی ایک محل کی ہے کہ اچھی بنائی گئی دیوار اسکی اور چھوڑی گئی اس محل سے ایک اینٹ کی جگہ پھر پھرنے لگے اسکے چوگرد دیکھنے والے اور حالانکہ تعجب کرتے تھے۔ اس دیوار کی خوبی سے مگر ایک اینٹ کی جگہ وہ میں ہوا کہ بند کی اینٹ کی جگہ جو خالی تھی۔ ختم کی گئی دیوار ساتھ میرے اور ختم کئے گئے تمام رسول ساتھ میرے اور ایک روایت میں ہے کہ میں مثل اس اینٹ کے ہوں اور میں ختم کرنے والا ہوں نبیوں کا۔

اور یہ حدیث بخاری و مسلم کی ہے پس ان تمام دلائل قاطعہ سے روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ آنحضور ﷺ کی نبوت کے بعد کسی قسم کا نبی ہرگز نہیں آ سکتا اور نہ ہی دعوی نبوت کرنا اسکا سچا تصور کیا جا سکتا ہے اور نبوت ظلی یا بروزی وغیرہ تشریعی اپنے آپکو کہلا نا منع ہے کیونکہ یہ الفاظ بناوٹی ہیں قرآن مجید و احادیث صحیحہ کے یہ الفاظ نہیں ۔ لہذا مدعی نبوت بعد از آقائے نامدارﷺ کے کافر و حکم مرتد میں گنا گیا ہے (دیکھو شرح شفا قاضی عیاض و غیرہ کتب معتبره)فقط والله اعلم بالصواب۔(الجيبالمنظور محمد نظام الدین ملتانیعفی عنہ )

سوال: مرزا قادیانی کہتا ہے کہ حضرت عیسی sym-9فوت ہو چکے ہیں انکی قبر کشمیر میں ہے کیا یہ کہنا اسکا درست ہے یا غلط؟فقط ( السائل الاحتقر العباد غلام محی الدین از کونله )

جواب بیشک حضرت عیسی [symbolزندہ ہیں اور آخر فوت ہونگے اور انکی قبر نہ ہی کشمیر میں ہے اور نہ کسی اور جگہ ہے اور یہ محض مرزا غلام احمد قادیانی وغیرہ کا کہنا غلط اور خلاف قرآن مجید و اجماع صحابہ و احادیث نبویہ کے ہے چنانچہ دلائل قاطعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔

لقوله تعالى: وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَأَنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِّ ط وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيمًا ، وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا. . یعنی یہودی کہتے رہے کہ ہم نے عیسی بن مریم رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے۔ اور حالانکہ نہ اسکو قتل کیا ہے اور نہ اسکو سولی سے مارا۔ انکے واسطے شبہ ڈالا گیا اور لوگوں نے اسکے بارے میں اختلاف کیا اور وہ اسکی طرف سے ضرور شک میں ہیں انکو اس کا کچھ علم نہیں صرف انہوں نے ظن کی پیروی کی اور یقینا اسکو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسکو اپنی طرف اٹھا لیا اور کوئی اہل کتاب نہیں مگر وہ اپنی موت سے پہلے اسپر ایمان لائے گا۔ اور قیامت کے دن ان پر شہید ( گواہ ) ہوگا۔ (صفحه ۳۰۱ تفسیر قرآن بالقرآن از عبدالحلیم ڈاکٹر )

پس اس آیت سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ حضرت عیسی sym-9کو نہ کسی نے قتل کیا ہے اور نہ ہی سولی پر چڑھایا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ ہی اپنی طرف قدرت کاملہ سے

Netsol OnlinePowered by