logoختم نبوت

فتح رحمانی بہ دفع کید کادیانی۔۔۔از۔۔۔مفتی غلام دستگیر ہاشمی قصوری رحمۃ اللہ علیہ

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده وعلى اله وصحبه الذين راعوا عهده اما بعد عبده القير محمد ابو عبد الرحمن فقیر غلام دستگیر ہاشمی حنفی قصوری کان اللہ لہ برادران دین اسلام کی خدمت میں اعلام کرتا ہے کہ فقیر ابتداء ۱۳۰۲ ہجری مقدسہ سے مرزاغلام احمد قادیانی کو دنیا پرست اور دین فروش جانتا ہے چنانچہ محض ابتغاء لمرضات الله اس کی تردید میں حتی الامکان مصروفیت کر کے حضرات علماء حرمین محترمین زادهما الله تعالى حرمة وشرفاًسے اس کی کتاب ہیں احمد یہ اور اشاعۃ السنہ ذی قعده وذى الحجہ (۱۳۰۵، و محرم ۱۳۰۲ جس میں اس کی تاویلیں تھیں بھیج کر استفتا کیا تھا کہ ایسا شخص جوا الہام کو مترادف وحی انبیاء یعنی قطعی ویقینی ویقینی نی جانتا ہے اور انبیاء سے کھلی کھلی برابری بلکہ بعض جگہ اپنے آپ کو انبیاء سے بڑھاتا ہے اس کا کیا حکم ہے اس پر حضرت مولانا مولوی محمد رحمت اللہ ( کیرانوی ) علیہ الرحمۃنے ( جو منجانب حضرت سلطان روم تجویز حضرت شیخ الاسلام کے ملقب بخطاب پا یہ حرمین شریفین میں ) فقیر کے رسالہ کے رسالہرجم الشياطين برداغلوطات البراهين کی نقول کو مطابق اصل براہین کر کے لکھ دیا تھا کہ مرزا قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

پھر حضرات مفتیان حرمین شریفین نے بھی اس کے بارہ میں قادیانی شیطانی اور مسیلمہ کذاب و غیر هما الفاظ کو استعمال فرما کر رسالہ موصوفہ کی کمال تصدیق فرمائی ۱۳۰۵ھ میں واپس آیا جس کو فقیر نے بعد مدت دراز اس کی توبہ کے انتظار کے ۱۳۱۲ھ کے صفر میں شائع کر کے اپنی سبکدوشی حاصل کر لی تھی پھر آخیر رجب ۱۳۱۴ میں مرزا جی نے رسائل از بعد فقیر کو بھیج کر بشمولیت بہت سے علماء دین متین کے فقیر کو بھی مباہلہ کے واسطے قسمیں دے کر بلایا اور مباہلہ نہ کر نیوالوں کو ملعون بنایا فقیر نے بنظر صیانت عقائد عوام اہل اسلام مرزا جی کو قبولیت مباہلہ لکھ کر ۱۵ رشعبان تاریخ مقرر کر کے معہ اپنے دونوں فرزند زادوں کے ۳ شعبان کو وارد لاہور ہوا جس پر مرزا جی کی طرف سے حکیم فضل الدین لاہور میں آیا اور ایک مجتمع عظیم کر کے مسجد ملا مجید میں فقیر پر معترض ہوا کہ حضرت اقدس مرزا صاحب نے آپ کی سہ منی نکالی ہے کہ مباہلہ قرآنی میں صیغہ جمع ہے آپ تنہا کیونکر مباہلہ کر سکتے ہیں فقیر نے اس مجمع میں اپنے رقعہ قبولیت مباہلہ سے اپنے فرزندوں کی شمولیت سے اپنا جمع ہونا ثابت کیا بلکہ اس وقت دونوں کو رو برو دکھلا دیا۔ جس پر مدعی مسیح موعود اور اس کے حواریوں کی غلطی مانی گئی تھی پھر ظہور اثر مباہلہ کے لئے جو مرزا جی نے ایک برس کی میعاد رکھی تھی اس کو فقیر نے بدلیل قرآن و حدیث اٹھانا چاہا اس پر حکیم مذکور اور مرزاجی نے ہٹ کیا۔ جس پر فقیر نے ۱۶ شعبان کو اشتہار شائع کر کے میعاد ۲۵ رشعبان ایزاد کی اور آخیر شعبان تک منتظر رہا بلکہ پانچ روز امرتسر میں جا کر مرزاجی کو بلا یا وہ مباہلہ کے لئے نہ آئے اور اشتہار مورخہ ۲۰ شعبان بجوب اشتہار فقیر اس مضمون کا شائع کیا کہ تمام احادیث صحیحہ سے ظہور اثر مباہلہ کی میعاد ایک سال ثابت ہے اور میں ہے ، اور میں مدعی نبوت پر لعنت بھیجتا ہوں اور میری تکفیر کرنے والے تقوی اور دیانت کو چھوڑتے اور مجھ کو باوجود کلمہ گو اور اہل قبلہ ہونے کے کافر ٹھہراتے ہیں الخ ۔

اس کے جواب میں فقیر نے پندرہ اکابر علمائے اہل سنت لا ہور وقصور و امرتسر سے بدلیل قرآن وحدیث تصدیق کرایا کہ مباہلہ شرعی میں کوئی میعاد سال وغیرہ نہیں ہے مرزا قادیانی نے محض بغرض دھوکہ دہی جو اس کا جبلی وطیرہ ہے قید ایک سال لگائی ہے اغ اور فقیر نے رمضان مبارک میں اس کے اشتہار کی تردید میں بہت سی تصانیف مرزا قادیانی سے اس کے کھلے کھلے دعوی نبوت کے اور نیز تو میں انبیاء کرامعلیہم الصلوۃ والسلام جو سبب ہے اس کی تکفیر کا ثابت کر دیئے ہیں اوران شاء اللہ العزیز وہ تمام مضمون ایک کتاب موسوم بنام التصديق المرام بتكذيب قادیانی و لیکھرام میں شائع ہوں گے جس سے سب پر ظاہر وباہر ہو جائے گا کہ مرزا جی با وصف ان دعوی نبوت و تو بین انبیاء کے ہرگز کلمہ گو اور اہل قبلہ متصور نہیں ہیں نعوذ بالله من الحور بعد الكور جب فقير اخير شعبان میں قصور میں آیا تو ابتدائے رمضان مبارک میں حضرت صاحبزادہ حافظ حاجی مولوی سید محمد شاہ صاحب قصوری نے ایک سال کی میعاد ظہور اثر مباہلہ کے واسطے قبول کر کے مرزا جی کو بہ ثبت دستخط قریب ایک سو مسلمانوں کے لکھ بھیجا کہ ایک عذاب تین قسم عذاب مبابلہ سرور عالم ﷺ سے مقرر کر دیں کہ ایک یں کہ ایک سال میں یہ معین عذاب ہے مذاب ہوگا تو ہم سب لوگ آپ کے ساتھ مباہلہ کرنے کے واسطے مولوی صاحب کو ہمراہ لے کر لاہور میں آجائیں گے تا کہ قطعی فیصلہ ہو جائے اور روزمرہ کی اشتہار بازی ختم ہو اس پر بھی مرزا جی نے کچھ جواب نہ دیا اور حکیم فضل الدین نے سخت زبانی اور دریدہ دہانی سے سب کو منافق وغیر ہ لکھ کر آخیر میں درج کیا کہ بدون بدون شائع کرنے اشتہار کے مسیح موعود کوئی جواب اللہ اب نہ دیں گے جس سے بخوبی ثابت ہوا کہ مرزا جی اشتہاری ہیں اور مباہلہ سے بالکل فراری اور ہر تحریر میں دام تزویر پھیلاتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر افترا کر کے سادہ لوحوں کو پھنساتے ہیں فالی الله مشتکی طرفہ تریہہ ہے کہ اس مرزا نے اپنی الہامی کتاب ازالہ اوہام کے صفحہ ۵۹۵ تا ۵۹۷ میں مباہلہ کے عدم جواز کو بڑی شد و مد سے ثابت کیا ہے اور حضرت ابن مسعود ی پر بسبب درخواست مباہلہ کے سخت زبان درازی کی ہے اور ثمرہ مباہلہ کا مسلمانوں کا گھٹانا اور کافروں کا بڑھانا بیان کر کے مباہلہ کی درخواست کرنے والے مولویوں پر بے حیائی اور فتنہ انگیزی کا فتوی دیا ہے اب بر خلاف اس کے مباہلہ کے لئے الہامی اشتہار جاری ہو رہے ہیں اب غور کرو کہ وہ پہلا الہام غلط تھا یا یہ دوسرا الہام غلط ہے اور باوصف اس کے مباہلہ کے میدان میں آنا اور راستبازی کا نمونہ دکھانا کہاں اور مرزا جی کہاں ۔ سچ ہے بے حیا باش ہر چہ خواہی کن۔ الغرض رمضان مبارک کے اخیر عشرہ کے اخیر بحالت اعتکاف فقیر ایک چار ورقہ اشتہار مطبوعه فرزکاری پریس بود یا نہ منجانب مرزا حکیم رحمت اللہ (حاشیہ )و جماعت مرزائیان بود یا نه 9 معرفت مرز افضل بیگ مختار قصور کے فقیر کو پہنچا۔

حاشیہ

یہ رحمت اللہ نہ کوئی حکیم ہے اور نہ ملا ہے بلکہ ایک معمولی حیثیت کا بازاری جاہل بے علم محض اردو خواندہ ہے غالبا یہ اشتبار خود مرزا کا لکھا ہوا معلوم ہوتا ہے جو اس کے نام سے شائع کیا گیا ہے ۔ ۱۲ منہ ۔

حاشیہ ختم شد

جس میں بڑے زور وشور سے مرزا قادیانی کے بالقاء ربانی مسیح موعود و مہدی مسعود ہونے کو آفتاب نصف النہار کی طرح ثابت مان کر منکرین کو بے علم مولوی وغیرہ وغیرہ ناشائستہ کلمات سے موصوف کر کے اس کی پیشانی پر اشتہار صداقت آثار ) لکھا ہے اور فی الواقع تقلید ازالہ اوہام قادیانی کے از سر تا پا ئض کذب وافتر اسے کارروائی کی ہے چونکہ اس اشتہار میں اولا واصالتا علما امرتسر ولود یا نہ مخاطب ہیں اور اس کے جواب کی ان سے درخواست کی ہے اس لئے فقیر نے اس کے جواب میں تعویق کی اور کئی دوستوں کو اس کے بعضے بہتانات پر مطلع کر کے اصل واقعہ پر اطلاع دی تھی اب ۱۲ شوال ۱۳۱۳ھ میں جو فقیر ایک دینی کام کے انجام کولو دیا نہ میں وارد ہوا تو سنا گیا کہ حضرات علما ، لو دیا نہ کی طرف سے کسی مصلحت کے واسطے اس کا جواب نہیں دیا گیا اس پر غیرت دینی نے جوش دلایا کہ ان جعلسازوں اور افتر اپردازوں کا بقدر ضرورت ضرور ہی جواب شائع کرنا بلکہ مرزا کے تین سو تیره ( ۳۱۳) حواری مندرجہ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم کو پہنچانا(حاشیہ) لازم ہے تا کہ ان کی بواقعی تبکریت اور مجز ثابت ہوا اور یہ عذر نہ ر ہے کہ کسی نے اس مسیح کا ذب کے دلائل کو نہیں توڑا۔واللہ هو الهادی یہ کیسی ہٹ دھرمی ہے کہ عرب و عجما مرزا جی کی بواقعی تردید شائع ہورہی ہے اور مرزائی یہ کہتے جارہے ہیں کہ کسی نے ان کے دلائل تو ڑ کر نہیں دکھائے لیجئے اب آپ کے دلائل اشتہار جو تمام دلائل کا خلاصہ ہیں اور جس کے جواب کی مرزائی کمال اصرار سے طلبہ گار میں بطور قال اقول کے تو ڑ کر دکھلاتا ہوں اور دانشمندوں کے لئے تبصرہ بناتا ہوں اگر ہادی حقیقی نے چاہا تو کوئی مرزائی بھی راہ راست پر آجائے گاوالله هو الموفق.

حاشیہ

اللہ تعالیٰ جزاء خیر عطا کرے خواجہ احمد شاہ صاحب تاجر لدھیانہ کو جنہوں نے اس امر خیر کی کفالت کی حق تعالی انجام بخیر کرے آمین ۱۲ منہ عفی عنہ

حاشیہ ختم شد

قوله : اور آنے والے مسیح اور مہدی کا ایک ہی ہونا جیسا کہ حدیث لا مهدى الا عيسى سے ثابت ہے صفحہ (۱) سطر ۹،۸)

:اقول خود مرزا جی نے بھی رسالہ ازالہ اوہام کے صفحہ ۵۶۸ کی. ۵ میں لکھا ہے کہلامهدی الا عیسی بن مریم اور نیز صفحہ ۵۸۱ کی سطر ۱۲ میں اسی ازالہ کے لکھا ہے اس حدیث کے معنی کہلا مهدی الاعیسی یہ کئی ہیں انج پس مرزا جی اور مرزائیوں کی اس حدیث کا جواب ہم ان کی ہی مسلمہ بڑی معتبر اہل حدیث کی کتاب مجمع بحار الانوار سے ہی لکھتے ہیں جس کی تعریف و مستند ہونا اس کے اس اشتہار کے صفحہ ۲ سطر اخیر میں تحریر ہے اور وہ جواب یہ ہے کہ صاحب مجمع بحار الانوار اس کے خاتمہ کے صفحہ ۵۱۹ سطر ۲ میں لکھتے ہیں الصغاني لامهدى الاعيسى ابن مریم موضوع یعنی مرزائیوں کے معتبر محدث نے ایک اور کمال معتبر محدث کی سند سے لکھا ہے کہ یہ حدیث کہ مہدی اور سی ایک ہی ہے موضوع یعنی بناوٹی ہے اب یہ امر سب پر ظاہر ہے کہ موضوع حدیث کی سند سے کوئی حکم ثابت کرنا حرام اور بالکل ناروا ہے اور موضوع حدیث بنانے والا جہنمی ہوتا ہے علاوہ اس سے سنن ابن ماجہ کے حاشیہ ۳۰۲ میں ذہبی کی میزان سے اس حدیث کا منکر ہونا اور تہذیب سے غریب ہونا اور حضرت امام شافعی استاذ محدثین کا رویا میں فرمانا کہ یونس نے مجھ پر جھوٹ باندھا ہے میں نے ہرگز اس حدیث لا مهدی الا عیسی ابن مریم کی روایت نہیں کی ہے یہ تمام مراتب نقل کر کے یہ بھی تصریح کی ہے کہ حضرت امام مہدیsym-5 کے تشریف لانے کی حدیثیں اصح الاسناد ہیں اور اخیر میں زجاجہ حاشیہ ابن ماجہ کا نام لکھا ہے ۔}}

پس سخت افسوس ہے مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کی ہمت پر کہ ایسی موضوع و منکر و غیر هما حدیث سے استناد کر کے حضرت مہدیsym-5 کے وجود مسعود سے جس کے تمام اولیا ء وعلماء ربانین بلکہ جمیع مومنین معتقد میں منکر ہو کے مہدیsym-5 اور عیسیٰ sym-9 کو ایک ہی بنا کر مرزا قادیانی کی جعلی مہدویت و عیسویت پر ایمان لے آئے اور جمہور کیا جمیع اہل اسلام خاص و عام سب کے برخلاف ایک نیا عقیدہ گھر لیا اور مصداق من شذ شذ في النارکے ہو گئے والعياذ بالله من ذلکپھر اسی اشتہار کے صفحہ ۲ سطر ۱۰ سے حضرت عیسی sym-9 کی وفات کی سند آیت سورہ مائدہ کے اخیر کی بدیں عبارت نقل کی ہے۔

قوله: کہ جب اللہ تعالیٰ مسیح سے پوچھے گا کہ کیا تو نے اپنی امت کو شرک کی تعلیم دی تھی تو وہ کہیں گے یا انہی جب تک میں ان میں زندہ رہا تو توحید ہی سکھاتا رہا لیکن فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ یعنی جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی ان پر نگہبان تھا۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیsym-9 فوت ہو گئے جب ہی تو ان کی امت بگڑیانتھی بلفظہ

اقول:اس جگہ آیت قرآنی میں مشتہرین نے سخت بے ایمانی کی ہے کہ اپنی طرف سے لفظ زندہ رہا قرآن مجید کے ترجمہ میں بڑھا دیا ہے دیکھو فرقان حمید میں فرمان ہے و کنت عليهم شهيداً ما دمت فيهم یعنی حضرت عیسی sym-9 سے حکایت ہے کہ اور میں ان سے خبر دار تھا جب تک ان میں رہا۔

پس زندہ کا لفظ بڑھانا قرآن محفوظ کی تحریف نہیں تو اور کیا ہے پھر مادمت فيهم کے پیچھے جو فقر و ( تو توحید ہی سکھاتا رہا ) جو لکھا ہے تو یہ بھی تحریف قرآنی ہے کیونکہعلمتهم التوحيد فقط يا ما علمتهم الا التوحيد قرآن مجید میں کہیں بھی نہیں ہے جس کا یہ ترجمہ لکھا ہے پھر لیکن کا لفظ بڑھانا اور توفیتنی کے ترجمہ میں تو نے مجھے وفات دی لکھنا یہ سب قرآن مجید میں تصرف بیجا نہیں تو اور کیا ہے کیونکہ کسی تفسیر یا ترجمہ قرآن مجید میں تو فیتنی کے معنی موت کے نہیں لکھے بلکہ آسمان کی طرف اٹھانے کے لکھے گئے ہیں اور اگر بر خلاف تصریح تفاسیر و تراجم مان بھی لیں کہ اس کے معنی فوت کرنے کے ہیں تب بھی حضرت عیسیsym-9 ان کے اس وقت فوت ہونے پر ہرگز دلیل نہیں بن سکتی ہے کیونکہ یہ واقعہ سوال و جواب کا بروز قیامت ہوگا چنانچہ خود مشتہرین نے اس ترجمہ میں پوچھے گا اور وہ کہیں گے مستقبل کے لفظ لکھتے ہیں پس قیامت کے دن سے پہلے تو حضرت عیسی ابن مریم علی نبیینا وعلیہما السلامآسمان سے اتر کر دنیا میں اپنی عمر پوری کر کے وفات پاہی چکے ہوں گئے تو قیامت کو ان کا یہ لفظ تو فیتنی کا فرمانا اس وقت کی ان کی موت پر دلیل لا نانری دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے اب جائے غور ہے کہ ایسے سخت بے علم قرآن مجید میں تحریف کرنے والے اگر اپنے مخالف دیندار با وقار فاضلوں کو بے علم مولوی وغیرہ لکھ دیں تو کیا بعید ہے۔

گزار بسیط نہ میں عقل منعدم گردد
بخو دگماں نہر دیچکس که نادانم ۔

رہا یہ جو ازالہ اوہام کے صفحہ ۶۰۲ میں لکھا ہے کہ آیت فلما توفیتنی سے پہلے یہ آیت ہےواذقال الله يعيسى انت قلت للناس الخ اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اول از موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصه وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا رخ تو اس کا جواب یہ ہے کہ

اولا: یہ مجددیت اور مہدویت اور میسویت کا ادعا کرنے والا سخت بے علم ہے جس نے فقره آ رہ آیت یا عیسی ابن مریم ، انت قلت للناس الآيةمیں چار فاحش نما حش غلطیاں کی ہیں اول یعیسی موصول کو یا کیسے مفصول لکھدیا ہے دوم لفظ ابن مریم کو درمیان سے سقط ہی کر دیا ہے سوم دانت جو بہمزہ مقدم بالف سے موسوم ہوتا ہے اس کو دانت دونوں الفوں سے لکھ دیا ہے چهار م الایة کی جگہ یہ قرآن مجید کے فقرہ آیات کے پیچھے لکھا جاتا ہے الخ لکھ دیا ہے۔

ثانیاً: قال اور ان کی دلیل سے زمانہ ماضی کا قصہ بنانا قرآن مجید کی سخت مخالفت ہے کیونکہ واذقال الله یعیسی واذقال الله يعيسى ابن مریمکے اوپر کا رکوع یوم یجمع الله الرسل الآية ( یعنی جس دن خدا رسولوں کو جمع کرے گا ۱۲۔ ) سے شروع ہوتا ہے اور ما بعد اس کے قال الله هذا يوم ينفع الصدقين صدقهم الآية ( کہے گا خدا یہ دن ہے کہ فائدہ دے گا بچوں کو بیچ ان کا ) وارد ہے جو صاف اور صریح دلیل ہے اس پر کہ یہ واقعہ قیامت کے دن کا ہے اس واسطے سوا، سدی مفسر کے جمیع مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ واقعہ قیامت کو ہوگا اور لفظ ان کا بھی شافی جواب مفسرین نے دیا ہے کہ اذ بمعنی اذا قر آن مجید میں موجود ہے ولو ترى اذ فزعوا بمعنى اذا فزعوا( اور تو دیکھے جب ڈریں گے ۱۲۔ ) پھر راجز نے کہا ہے ثم جزاک الله عنی اذ جزى جنات عدن في السموات العلی (پر خدا میری طرف سے تجھے بدلہ دے جب بدلہ دے گا بہشتوں عدن کا اونچے آسمانوں میں ۔ اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں ان مستقبل کے واسطے ہیں تفسیر خازن وغیرہ میں دیکھو۔

ثالثاً: مرزا جی نے اپنے منہ سے دعوئی تو کر دیا کہ زمانہ ماضی کا واقعہ ہے مگر یہ تو نہ لکھ سکے کہ وہ ماضی کا زمانہ کونسا تھا افسوس پر افسوس ہے کہ اس مدعی مسیحیت کو قرآن کی مخالفت اور معتبر مفسرین کی معاندت سے کچھ بھی خوف و حیا نہیں ہے سچ ہے الحياء من الایمان۔

رابعا: پھر اس ازلہ کے صفحہ ۲۰۲ کے اخیر جو تحریر ہے کہ اور حدیثیں بھی اس کی مُصَدِّق ہیں کہ موت کے بعد قبل از قیامت بھی بطور باز پرس سوالات ہوا کرتے ہیں اتنی بافظہ تو یہ بھی اس شخص کی دھو کہ وہی ہے جس پر یہ مجبول ہے بندہ خدا حد یثوں کا لفظ جمع لکھنا اور ایک حدیث بھی سندا بیان نہ کرنی یہ بھی کچھ لیاقت کی بات کے آپ کا مطلب تو ایسی ویسی ہی حدیثوں سے نکلتا ہے کہ لا مهدی الا عیسی ابن مریم پھر اس سے بھی لفظ ابن مریم کو سقط کر دینا اور حضرت مسیح ابن مریم علی نبینا وعلیہ السلامکے نزول کی صیح و ضریح تر حدیثوں کی تاویلات بعیدہ اور تسویلات غیر سدیدہ لکھ کر حق تعالی پر افترا اور جھوٹ باندھ کر برخلاف عقیدہ تمام اولیاء و علمائے وصلحاء کے خود مسیح موعود و مہدی مسعود بن جانا اور بے این وبے علموں کو دام فریب میں پھنسانا اور مال حرام کمانا پناہ بخدائے لا یزال قیامت کے عذاب الیمسے علاوہ یہ کس قدر دنیا وی رسوائی ہے کہ عرباً وعجماً تکفیر تک نوبت پہنچ رہی ہے اور یہ شخص دنیا پرستی سے باز نہیں آتا ہے نعوذ بالله من غضبه وعقابه

قوله : حضرت عیسیsym-9 کی امت کے بگڑے جانے نے صاف ظاہر کر دیا کہ عیسی sym-9 فوت ہو گئے کیونکہ حضرت عیسی نے اللہ تعالیٰ کو یہی جواب دیا کہ میری امت میرے مرنے کے بعد بگڑی ہے الخ ۔

اقول:یہ بھی مرزا اور مرزائیوں کی دھوکہ دہی ہے اور محض افترا پردازی کیونکہ اس آیت سے یہ ہرگز ہرگز پایا نہیں جاتا نہ صراحتا نہ کنایہ کہ حضرت عیسیsym-9 نے اللہ تعالیٰ کو یہ جواب دیا کہ میری امت میرے مرنے کے بعد بگڑی ہے دیکھو وہ آیات قرآنی یہ ہیں واذقال الله يعيسى ابن مريم یعیسی ابن مريم ، انت قلت للناس اتخذوني وامي الهين من دون الله قال سبحنك ما يكون لي ان اقول ماليس لي بحق ان كنت قلته فقد علمته تعلم ما في نفسي ولا اعلم مافي نفسک انک انت علام الغيوب ماقلت لهم الا ما امرتني به آن اعبدوالله ربي وربكم وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شنی شهید ( سورة المائدہ آیت ۱۱۷) ترجمہ : ۔ اور جب سے گا اللہ اے میسی مریم کے بیٹے تو نے ہے کہا لوگوں کو کہ ٹھہراؤ مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود سواء اللہ کے کہے گا عیسی تو پاک ہے مجھ کو نہیں بن آتا کہ کہوں جو مجھ کو نہیں پہنچتا اگر میں نے یہ کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تو جانتا ہے برحق تو ہی ہے جانتا چھپی بات میں نے نہیں کہا ان کو مگر جو تو نے حکم دیا کہ بندگی کرو اللہ کی جو رب ہے میرا اور تمہارا اور میں ان سے خبر دار رہا جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے بھر لیا تو تو ہی تھا خبر رکھتا ان کی اور تو ہر چیز سے خبر دار ہے۔

اب غور کرو کہ اس میں تو یہی مذکور ہے کہ حضرت عیسی sym-9حق تعالیٰ کو یہ جواب دیں گئے کہ میں تو تیری بندگی کے واسطے لوگوں کو کہتا رہا تھا اور جب تک ان میں رہا ان سے خبر دار تھا پھر جب آپ نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا تو آپ ان سے خبر دار تھے یعنی مجھے اس وقت کی کیا خیر سے اہل عقل سوچیں کہ اس میں یہ کہاں مذکور ہے کہ جب حضرت عیسی sym-9 مر گئے تو ان کی امت بگڑ گئی تھی ما هذا الاهذيان وجنون حضرت عیسیsym-9 کا زندہ ہوتا ان کی امت کے عقید و توحید کو ہرگز مستلزم نہیں ہے وہ تو یہ فرمائیں گے کہ میں جب تک ان میں رہا ان کو عبادت الہی کے واسطے کہتا ر ہا یعنی صرف آ۔ لہی کے واسطے کہتا رہا یعنی صرف آپ کا عبادت الہی کیواسطے امت کو امر کرنا ثابت ہے خواہ وہ آپ کی موجودگی میں عبادت الہی کرتے رہے ہوں یا نہ فاعتبروا یا اولی الابصار ہر چند اس اشتہار میں وہ آیت نہیں لکھی جس میں مرزا جی کو بڑا زور شور ہے کہ صحیح بخاری میں بروایت ابن عباس متوفیککے معنی ممیتک کے لکھتے ہیں اور یہ نص ہے موت حضرت عیسیsym-9 پر مگر فقیر اس کا بھی جواب لکھ دیتا ہے شائد کوئی گمراہ راہ پر آجائے سورۂ آل عمران میں حضرت عیسیsym-9 ان کے بن باپ پیدا ہونے کا اور تعلیم الہی تورات و انجیل وغیر ہما کے عالم ہونے کا اور صاحب معجزات باہر ہ و عالم علم غیب بعض علوم میں ہونے کا اور بعض ! احکام توریت کے منسوخ کرنے کا پھر یہود کے کفر کے ذکر کے بعد حق تعالی فرماتے ہیں:

اذ قال الله یعیسی انی متوفیک ورافعك إلى الآية ترجمہ : کہا اللہ نے اسے عیسیٰ میں تجھ کو لینے والا ہوں اور اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں ۔

اگر چہ بہت سے مفسرین نے متوفیک کے معنی موت کے نہیں کئے مگر اس میں شک نہیں کہ حضرت ابن عباس sym-8 نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ اے عیسی میں تجھے مارنے والا ہوں تا ہم مرزا جی کی دلیل اس سے ہرگز نہیں ثابت ہوتی کہ حضرت عیسی sym-9مر گئے ہیں اس لئے کہ انہیں حضرت ابن عباس sym-8کی روایت یہ بھی ہے کہ ان دونوں لفظ متوفیک اور رافعک میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی معنی اس آیت مبارک کے یہ ہیں جب کہا اللہ نے اسے عیسی میں تجھے اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں اور تیری موت کے وقت بعد نزول آسمان کے ہارنے والا ہوں دیکھو تفسیر عباسی اور مدارک وابو السعو د وغیر ہا میں اور اتقان في علم القرآن میں ایک فصل باندھ کر علماء سلف سے تقدیم تاخیر والی آیات بیان کی ہیں جس میں یہ آیت مبارک بھی مذکور ہے تو اب بمقابلہ اتنے معتبر مفسرین کے مرزا جی کے شندوں کا کیا اعتبار ہے یہاں مختصر ذکر ہے اور کتاب تصديق المرام بتكذيب قادیانی و لیکھرام میں اس کو بقدر ضرورت بسط سے لکھا ہے :

قولہ اور صحیح بخاری کی کتاب التفسیر کے صفحہ ۱۶۵ میں یہ حدیث ابن عباس sym-8 سے آئی ہے یعنی قیامت کے دن بعض لوگ میری اُمت میں سے آگ کی طرف لائے جائیں گے تب میں کہوں گا اے رے رب یہ تو میرے اصحاب میں تب کہا جائے گا کہ تجھے ان کاموں کی خبر نہیں جو تیرے پیچھے ان لوگوں نے کئے ہیں سو اس وقت میں وہی بات کہوں گا جو ایک نیک بندے نے کہی تھی یعنی مسیح ابن مریم نے جب کہ اس کو پوچھا گیا تھا کہ تو نے تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری یہ ماں کو خدا کر کے ماننا اور وہ بات جو میں ابن مریم کی طرح کہوں گا یہ ہے کہ میں جب تک ان پر تھا ان پر گواہ تھا لیکنفلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم یعنی پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو اس وقت تو تو ہی ان کا نگہبان تھا اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ رسول ﷺ نے اپنے حق میں اور نیز عیسیsym-9 کے حق میں کلمہ فلما توفیتنیکو استعمال میر فرمایا پس جب کہ رسول ﷺ وفات یافتہ سمجھے جاتے ہیں تو پھر کیا سبب ہے کہ عیسیsym-9 کو وفات یافتہ تصور نہ کیا جائےانتھی بلفظہ

اقول صحیح بخاری کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ وانہ يجاء برجال من امتى فيؤخذ ذات الشمال فاقول يارب اصحابي فيقال انک لاتدرى ما احد ثوا بعدك فاقول كما قال العبد الصالح وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم پس قطع نظر اس سے جو اس حدیث میں مرزا اور مرزائیوں نے تصرف بھیجا کیا ہے یہ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی sym-9 کو آنحضرت ﷺ وعلی اخواله وعترته وسلم نے وفات یافته تصور فر مایا ہے حاشا و کالا اس حدیث سے تو صرف اتنا ہی ثابت ہے کہ جیسا حضرت مسیح قیامت کو یہ عذر کریں گے کہ جب تک میں ان میں رہا ان سے خبرار تھا ویسا ہی سرور عالم مرتدوں کے بارہ میں یہی عذر پیش کریں گے پس اس سے حضرت عیسی sym-9 کافی الحال وفات یافتہ ثابت کرنا نری ہٹ دھرمی ہے پھر آنحضرت ﷺ اور حضرت عیسی کے درود کو اختصار کرنا کمال ہی بے سعادتی ہے جو اپنے محل پر مبین ہے اور فقیر نے رسالہ تصريح ابحاث فرید کوٹ میں اس کا مکر ذکر کیا ہے۔

قولہ اور امام شعرانی کتاب اليواقيت والجواهر کے صفحہ ۱۷۴ میں یہ حدیث لکھتے ہیں لو كان عيسى وموسى حيين ما وسعها الا اتباعییعنی حضرت نے فرمایا کہ اگر بالفرض حضرت عیسی اور موسی دونوں زندہ ہوتے تو نہیں جائز ہوتا ان کو مگر اتباع میرا انتھی۔

اور مرزا جی نے جو صفحہ ۱۱۱ رسالہ انجام آھم : انجام آتھم میں آنحضرت ﷺ کا حضرت عیسیsym-9 کی موت سے خبر دینا لکھا ہے تو یہی حدیث یواقیت والجواهر کی مرا دیکھی ہے۔

اقول: فقیر جب بمقام لاہور شعبان میں مرزا جی کے مباہلہ کے انتظار میں تھا تو شب برات میں مولوی بغدادی صاحب کے گھر میں دو ایک نوجوان مرزائیوں نے یہ حدیث یواقیت والی فقیر کے روبرو پڑھی تھی جس کے جواب میں کہا گیا تھا کہ اس حدیث میں صرف حضرت موسیsym-9 کا نام ہے حضرت عیسیsym-9 کا نہیں ہے اگر یواقیت میں حضرت عیسیsym-9 کا نام درج ہے تو اس کی تصدیق میں کسی حدیث کی کتاب میں دکھلا دو اس پر وہ بولے کہ ہم مشکوۃ سے دکھا دیں گے تب فقیر نے کہا کہ اگر مشکوۃ کی حدیث میں موسی کے ساتھ عیسیsym-9 کا لفظ دکھا دو تو آپ کو ایک سو روپیہ انعام ملے گا ورنہ وزیر خاں کی مسجد کے چوک میں بٹھا کچھ آپ کو ایک سو جو تہ لگے گا کہ ایسی موضوع حدیث بیان کرتے ہو۔

تب انہوں نے تین دن میں مشکوۃ سے حدیث کے دکھلانے کا وعدہ کر کے پھر اخیر شعبان تک شکل نہ دکھلائی سواب اس اشتہار میں یہ حدیث درج پائی اور یواقیت قلمی کے ۱۵۲ ورقہ کے دوسرے صفحہ کی سطر ۵ میں یوں کی لو كان موسى وعيسى حيين ما وسعها الا اتباعی جس سے پایا گیا کہ سہو کا تب سے موسی کے پیچھے عیسی کا لفظ لکھا گیا تھا جس میں مرزائیوں نے تقدیم تاخیر کی اپنی سند بنالی ہے دلیل اس غلطی کاتب کی یہ ہے کہ ۱۳ سطر او پر اس سے اس یواقیت والجواہر قلمی مطبوعہ میں منتقل باب ۳۳۷) فتوحات مکیہ کے یہی حدیث بلفظ لو كان موسى حياما وسعه الا ان يتبعني (حاشیہ ) درج ہے۔

حاشیہ

حضرت عمر sym-5کے تو رات سے نقل کرنے اور کچھ پڑھنے پر انحضرت ﷺ نے ناراضگی سے ارشاد فر مایا کہ باوجود اس شرع غرا کے تم کیوں تو رات کی طرف جاتے ہو حالانکہ صاحب تو رات اگر زندہ ہوتا میری اتباع کرتا ۔ ۱۲ منہ

حاشیہ ختم شد

اور مشکوۃ کے باب الاعتصام بالکتاب والسنہ کی فصل ۳٫۲ میں دو جگہ یہ حدیث درج ہے جس میں عیسیsym-9 کا لفظ نہیں ہے پہلی جگہ مسند امام احمد وشعب الایمان بیقی سے یوں ہےولو كان موسى حيا ما وسعه الا ان يتبعنی (ترجمہ: اور اگر موسی زنده ہوتا تو میری اتباع کرتا ۔ )

دوسری جگہ سنن دارمی سے یوں ہے ولو کان موسی حیا و ادرک نبوتی لا تبعنی ( اگر موسیٰ زندہ ہوتا اور میری نبوت کو پاتا تو میری اتباع ہی کرتا) کیونکہ تو رات میں سے نقل کرنے اور پڑھنے کے ذکر میں حضرت عیسیٰ sym-9کو کیا تعلق تھا یواقیت کے دوسرے موقعہ پر جو لفظ عیسی sym-9 کا درج ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے او پر یہ بیان ہے کہ سارے نبی آنحضرت ﷺ کے نائب ہیں حضرت آدم sym-9 سے لے کر آخر الانبیا ، حضرت عیسیsym-9 ان تک تو اب اس کے نیچے اس حدیث میں بھی کا تب نے از خود موسی کے لفظ سے پیچھے عیسی sym-9 کا لفظ درج کر دیا جیسے کہ کسی ایسے(حاشیہ )کاتب نے قرآن مجید کی آیت وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا وَخَرَّ عِيسَى صعقا بنا دیا تھا ہر چند یہ یقینی امر تھا کہ غلطی کاتب کی قلمی میں ہو گئی جس سے مطبوعہ میں بھی درج ہو گیا کہ پورا عالم تصحیح کرنے و والا نہ تھا مگر تا ہم جب اس حدیث کے اوپر کا مضمون دسویں باب فتوحات مکیہ سے یواقیت میں منقول ہے تو فتوحات کے دسویں باب سے جب دیکھا تو اس میں یوں درج پایا ۔ فکانت الانبياء في العالم نوابه من ادم الى اخر الرسل وهو عيسى الله وقد ابان عن هذا المقام بامور منها قوله لو كان موسى حيا ما وسعه الا ان يتبعني وقوله في نزول عيسى ابن مريم انه يومئذ منا اى يحكم بسنة نبينا ويكسر الصليب ويقتل الخنزير الخ ترجمہ: پس تمام نبی جہاں میں آنحضرت کے نائب میں حضرت آدم sym-9 سے اخیر انبیاء sym-3 حضرت عیسی sym-9 تک اور آپ نے بھی اس مقام سے خبر دی ہے چنانچہ حدیث اگر موسیٰ زندہ ہوتا تو میری اتباع ہی کرتا اور یہ حدیث کہ عیسی بن مریم sym-9 جب آسمان سے اتریں گے تو شرع محمدی پر حکم کریں گے صلیب کو توڑیں گے اور ختر می و قتل کریں گے ۔

حاشیہ

یعنی قرآن مجید کی آیت وخر موسیٰ کو دیکھ کر کاتب نے خیال کیا کہ خر تو عیسی کا تھا خر موسی غلط ہے خر عیسی چاہئے اس لئے خر عیسی لکھ دیا تھا ۱۲ منہ عفی عنہ۔

حاشیہ ختم شد

دیکھو صفحہ174 ہے کی سطر ۱۷ سے ۲۱ تک دسویں باب فتوحات مکیہ مطبوعہ میں جس سے دو فائدے حاصل ہوئے ایک عین الیقین ہو گیا کہ عیسی کا لفظ کا تب کی غلطی سے ہے دوسرا یہ کہ مرزا جی کے مستند عارف شعرانی اور شیخ اکبر ابن عربی قدس سرہ : اس کے معتقد ہیں کہ حضرت عیسی sym-9 اسی جسد عنصری سے آسمان پر ہیں اور قریب قیامت کے زمین پر اتر کر شرع محمدی پر عمل و حکم کریں گے جیسا کہ اس امر کو عنقریب یواقیت والجواہر و فتوحات مکیه سے مفصل ذکر کروں گا ۔

اور نیز اس جگہ بھی یواقیت میں اسی حدیث کے پیچھے چھٹی سطر میں لکھا ومما يشهد لكون الانبياء نوابا كون عيسى القال اذانزل كان له بالاصالة لما كان يحكم اذا انزل الى الارض الا بہ ترجمہ : ( یعنی تمام انبیا کے آنحضرت ﷺ کے نائب ہونے پر یہ بھی شہادت ہے کہ جب حضرت عیسی sym-9 زمین پر اتریں گے تو آپ کی شریعت پر ہی حکم کریں گے ۔ ( پس مرزا اور مرزائیوں کی دھوکہ بازی بالکل باطل ہو گئی ۔

عدو شود سبب خیر گر خدا خواهد
خمیر مانید دکان شیشه گرسنگ است

سخت افسوس تو یہ ہے کہ مرزا اور مرزائیوں کو اپنی کم علمی اور دھوکہ دہی پر اس قدر غرور ہے کہ جان چکے ہیں کہ دنیا میں کوئی محقق عالم موجود نہیں کہ ان کی پردہ دری کریگا حاشا وکلا ابھی خدا کے بندے موجود ہیں اور یہ فقیر کان اللہ لہ تو اس کام کے واسطے پیدا ہوا ہے کہ ایسے ناحق پرستوں کی دھوکہ دہی سے اپنے مسلمان بھائیوں کی حفاظت کر کے سرخروئی دارین حاصل کرے اس سفر لدھیانہ میں بھی یہ دونوں کتا بیں موجود ہیں جس کا جی چاہے دیکھ لے

قوله: اور کتاب مجمع بحار الانوار ، جو ایک معتبر اہل حدیث کی کتاب ہے اس کے صفحہ ۲۸۶ میں لکھا ہےو قال مالک ان عیسی مات یعنی امام مالک نے کہا کہ عیسی مر گیا ہے انی اور نیز رسالہ انجام آتھم کے صفحہ ۸ سطر ۱۳ سے ۱۸ تک خود مرزا نے لکھا ہے کہ امام مالک جو جلیل الشان اماموں سے ہے معتقدموت عیسی کا ہے اور ایسا ہی بہت سے صالحین اس مذہب پر ہیں انتھی مترجما۔

[font اب دیکھو کہ اس مجمع بحارالانوار کے اس حوالہ کے مقام سے صاف درج ہے کہ اکثر علما کا مذہب یہی ہے کہ حضرت عیسی sym-9 فوت نہیں ہوئے اور مالک قائل ہے کہ آپ تینتیس (۳۳) برس کی عمر میں فوت ہوئے اور امید ہے کہ مراد اس موت سے آسمان پر اٹھائے جانے کے ہے یا حقیقت موت مراد ہو اور قریب قیامت آپ زندہ ہوں کیونکہ آپ کے نزول کی حدیث متواتر ہے۔

اب ہم مرزاجی اور مرزائیوں سے پوچھتے ہیں که این عبارت سے آپ کو کیونکر یقین ہوا کہ مالک سے مراد امام مالک بن انس sym-4دیے ہیں دیکھو قاموس میں لکھا ہے کہ نوے (۹۰) صحابی مالک کے نام سے موسوم تھے اور ایک جماعت محد ثین کی بھی اس نام سے نامزد ہے اور مالک بن انس امام مدینہ ہیں اور تقریب التہذیب میں اکتالیس اہم شخص مالک کے نام والے محدث لکھے ہیں۔

پس مرزا اور مرزائیوں کی یہ سخت دھو کے وہی ہے کہ امام مالک ان کو قائل موت حضرت عیسی sym-9بنا دیا ہے امام مالک بن انس کی جب خود کتاب موجود ہے تو اس سے اس مطلب کو ثابت کرنا لازم ہے البتہ واقعی تحقیق دینداروں کا کام ہے اور دھو کہ باز دین اسلام کو خراب کرنے والے اور مسلمانوں کو مرتد بنانے والے بچی بات پر کیونکر قائل ہو سکتے ہیں خدا تعالیٰ ہی اپنے دین کا اس سخت غربت کی حالت میں حافظ و ناصر ہوں اللهم تقبل منى انك انت السميع العلیم

پھر یہ کس قدر مرزا کا بہتان عظیم ہے کہ بہت سے صالحین حضرت عیسی sym-9 کی موت کے معتقد ہیں کسی اور سند سے اس کی تکذیب کی کیا حاجت ہے جب خود ان کی کمال معتمد کتاب مجمع بحارالانوار میں ہی درج ہے کہ اکثر علما کا مذہب ہے کہ حضرت عیسی [symbol فوت نہیں ہوئے کما مر نقلہ

تو اب اس جگہ یادر ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد اتبعوا السواد الاعظم فانه من شذ شذ في النار ترجمہ ( اتباع کرو بہت صالحین کی جوان سے نکلے گا دوزخ میں پڑے گا ) ۔ ( جس کو مرزا جی نے بھی ( صفحہ ۵۷۹ سطر ۱۱) ازالہ اوہام میں حدیث مان کر حضرت عیسی sym-9پر اپنی کج فہمی سے یہ فتوی (یعنی بہت صالحین سے نکل کر دوزخی ہونے کا ) لگارہے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ فی الحقیقت مرزا اور مرزائی اکثر علما کی مخالفت سے دوزخ میں اوندھے ہو کر گر پڑے ہیں۔ نعوذ بالله من ذلک

اس جگہ مناسب ہے نقل کرنا اس شہادت کا جو بعضے ذی علم مسلمانان قصور ولا ہور نے بعد دیکھنے کتاب یواقیت والجواہر اور فتوحات مکیہ اور مجمع بحار الانوار اور قاموس و تقریب التہذیب کے ادا کی ہے اور وہ یہ ہے۔

راقم نے ان کتابوں کو دیکھا جن کا ذکر اشتہار مرزا حکیم رحمت اللہ وغیرہ میں درج ہے اگر یہ کتا بیں نہ دیکھی جاتیں تو عبارت اشتہار مذکور نے سخت دھو کہ دیا تھا۔ مگر دروغ کو کہاں تک فروغ ہوایسے اشتہار کیوں مشتہرین کی ندامت کا وسیلہ نہیں ہوتے العبد حکیم غلام محمد خان ڈپٹی انسپکٹر پنشنر ساکن قصور القلم خودا العبد عبد القادر وکیل بقلم خود العبد حافظ وہاب الدین مدرس عربی قصور بقلم خود العبد فضل الدین مدرس فارسی قصور بقلم خود العبد حافظ سید محمد عبد الحق قصوری بقلم خودا العبد منشی غلام حسین خان میونسپل کمشنر قصور العبد حافظ عبد اللہ معروف گورا میونسپل کمشنر قصور العبد بابو گل محمد بقلم خود العبد غلام نبی ملازم سول و ملٹری گزٹ پریس لاہور بقلم خود العبد نبی بخش مصنف تفسیر حلوائی بقلم خود العبد فضل الہی طالب علم مدرسہ نعمانیہ لاہور العبد خواجہ جھنڈ و وائیں بقلم گل محمد ۔

اب یہاں پر یہ بھی واجب ہے کہ یواقیت والجواہر اور مجمع بحار الانوار دونوں مقبولہ و معتمدہ کتاب مرزائیوں سے ان کے عقید و وفات حضرت مسیح اللہ اور مرزا کے مسیح موعود ہونے کی واقعی تر دی لکھی جائے کہ یہ نسبت دوسری دینی کتابوں کے ان پر بہت موثر اور ان کی تکبیت کے لئے کافی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ یواقیت والجواہر کے مبحث (حاشیہ )، ۲۵ میں لکھتے ہیں: کہ تمام قیامت کی شرطیں جن کی سرور عالم ﷺ نے خبر میں دی ہیں وہ قیامت کے پہلے ضرور ہی واقع ہوں گی۔

حاشیہ

المبحث الخامس والستون في بيان ان جميع الشراط الساعة التي اخبر بها الشارع حق لابد ان تقع قبل قيام الساعة وذلك كخروج المهدى ثم الدجال ثم نزول عيسى الخ

حاشیہ ختم شد

جیسا کہ حضرت مہدی کا تشریف لانا پھر دجال کا آنا پھر حضرت عیسی sym-9 کا نزول فرمانا الخ

پھر اسی یواقیت(حاشیہ ) میں فتوحات مکیہ کے باب (۳۳۶) سے نقل کیا ہے اور یقین کرو کہ حضرت مہدی sym-5ضرور ہی آئیں گے لیکن تب جب ساری زمین جور وظلم سے پر ہو جائے گی تو آپ اس کو انصاف و عدل سے بھر دیں گے اور اگر دنیا سے ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو اس کو اللہ تعالیٰ ایسا لمبا کر دیں گے کہ مہدی کی حکومت ہو جائے گی اور وہ آنحضرت ﷺ کی ذریت بنی فاطمہ سے ہوں گے الی قولہ اور جان لے کہ حضرت مہدی تشریف لائیں گے اور سب مسلمان خاص و عام خوش ہو جائیں گے اور آپ کے ساتھ خدائی بندے ہوں گے جو آپ کی دعوت کو قائم کریں گے اور آپ کی مددفرمائیں گے وہ آپ کے وزیر ہوں گے جو آپ کی بادشاہت کے کاروبار میں مددگار خدمت گار ہوں گے تب حضرت عیسی آپ پر اتریں گے سفید مناره شرقی دمشق سے دوفرشتوں کے اوپر تکیہ کئے ہوئے ایک فرشتہ آپ کے دائیں ہوگا دوسرا بائیں اور لوگ عصر کی نماز کے پڑھنے کی فکر میں ہوں گے تو حضرت مہدی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے اور حضرت عیسی شرع اسلام کے طور پر جماعت کرائیں گے صلیب کو توڑیں گے اور خنز میر کو قتل کریں گے۔ الخ

حاشیہ

قال الشيخ في الباب الثالث والثلثين وثلثماية من الفتوحات واعلم انه لابد من خروج المهدى العليم لكن لا يخرج حتى تمثلى الأرض جوراً وظلماً فيملاها قسطاً وعدلاً ولو لم يكن من الدنيا الا يوم واحد لطول الله ذلك اليوم حتى يلى هذه الخليفة وهو من عشرة رسول الله صلى الله عليه وسلم من بنى فاطمة تاقول وى ثم قال واعلم ان المهدى اذا خرج يفرح بجيمع المسلمين خاصتهم عامتهم وله رجال الهيون يقيمون دعوته وينصرونه هم الوزراء له يتحملون القال المملكة ويعيينونه على ما قلده تعالى له ينزل عيسى ابن مريم عليهما السلام بالمنارة البيضا شرقي دمشق متكأ على ملكين ملكاً عن يمينه وملكاً عن يساره والناس في صلوة العصر فيتنحى له الامام عن مقامه فيتقدم فيصلي بالناس يوم الناس بسنت محمد صلى الله عليه وسلم يكسر الصليب ويقتل الخنزير الخ بالقيل فما الدليل على نزول عيسى من القرآن فالجواب الدليل على نزوله قوله تعالى وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته اى حين ينزل يجتمعون عليه وانكرت الفلاسفة والمعتزلة واليهود والنصاري عروجه بجسده إلى السماء قال تعالى في عيسى القليلة وانه لعلم الساعته تا قول وى معناه ان نزوله علامة القيامة وفي الحديث في صفة الدجال فبينما هم في الصلوة اذ بعث الله المسيح ابن مریم تاقول وى فقد ثبت نزوله بالكتاب والسنه وزعمت النصارى ان ناسوته صلب ولاهوته رفع والحق انه رفع بجسده الى السماء والايمان به واجب قال تعالى بل رفعه الله اليه ١٢ اليواقيت والجواهر من عن

حاشیہ ختم شد

پھر حضرت عیسی sym-9 کے نزول کے بعد آپ کے وقت وفات اور کیفیت وفات کا حال فتوحات مکیہ کے باب تین سو انہتر ۳۶۹ سے بیان کر کے پھر لکھا ہے کہ حضرت عیسی sym-9 کے نزول کی دلیل آیت قرآنی وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته(حاشیہ ) ( ترجمہ: اور کوئی اہل کتاب سے نہیں مگر عیسی کے مرنے سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے۔ ) لکھ کر کہا ہے کہ فلاسفہ اور معتزلہ اور یہود و نصاری حضرت عیسی کے جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھنے کے منکر ہیں حالانکہ حق تعالی نے حضرت عیسی کے حق میں فرمایا ے کہ وہ یعنی عیسی قیامت کی علامت ہے یعنی ان کا اتر نا آسمان سے قیامت کی نشانی ہے۔

حاشیہ

اس آیت کے فائدے میں موضح القرآن میں لکھا ہے۔ حضرت مسیح sym-9 ابھی زندہ ہیں جب یہود میں دجال پیدا ہو گا تب اس جہان میں آکر اس کو ماریں گے اور یہود و نصاری ان پر ایمان لائیں گے کہ یہ نہ مرے تھے ۔ وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به یعنی بعیسی العلم وانه عبدالله ورسوله و روحه وكلمته هذا قول ابن عباس وأكثر المفسرين ۱۲ تفسير خازن من عن

حاشیہ ختم شد

اور حدیث صفت دجال میں واقع ہے کہ جب حضرت مہدی العلیا اور آپ کے رفقا نماز کی فکر میں ہوں گے تو نا گہاں حق تعالیٰ حضرت مسیح ابن مریم کو بھیج دے گا جو سفید منارہ شرقی دمشق کے پاس سے اتریں گےالی قولہ۔

پس تحقیق حضرت مسیحsym-9 کا آسمان سے اتر نا قرآن وحدیث کی دلیل سے ثابت سے ثابت ہے اور نصاری کہتے ہیں کہ آپ کا جسم پھانسی دیا گیا تھا اور روح آسمان پر چڑھ گیا تھا اور حق یہ ہے کہ ا یہ ہے کہ حضرت مسیح اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور اس پر ایمان لانا واجب ہے حق تعالی فرماتا ہے بل رفعه الله الیہ (حاشیہ) یعنی حضرت عیسی کو نہ کسی نے مارا ہے نہ سولی پر چڑھایا ہے بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طر طرف اٹھایا ہے یہ ترجمہ ہے عبارت یواقیت والجواہر و فتوحات مکیہ، نقل سے اور اصل عبارت بھی حاشیہ میں مرقوم ہے۔

حاشیہ

وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه والمعنى وما قتلوا المسيح يقينا كما ادعوا انهم قتلوه وقيل ان قوله يقينا يرجع الى ما بعده تقديرة وما قتلوه بل رفعه الله اليه يقينا والمعنى الهم لم يقتلوا عيسى ولم يصلبوه ولكن الله عز وجل رفعه اليه وطهره من الذين كفروا وخلصه من أراد بسوء وقد تقدم كيف كان رفعه في سورة ال عمران (بما فيه كفاية 12لتفسير خازن من عن )

حاشیہ ختم شد

اور اس امر کو بھی یواقیت والجواہر وفتوحات مکیہ میں بخوبی ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح sym-9 آسمان پر تسبیحات و تبلیلات کی غذا سے زند وتبلیلات کی غذا سے زندہ ہیں جیسے کہ فرشتے اور آپ کو روح اللہ ہونے کی وجہ سے فرشتوں سے کمال مشابہت بھی یواقیت والجواہر علمی کے ورق ۲۴۱ سے ۲۴۴ تک میں دیکھو اور واضح رہے کہ امام شعرانی و شیخ اکبر مرزاجی کے کمال معتقد فیہما ہیں جن سے ازالہ اوہام وغیرہ میں سند لی ہے اور ان پر مرزا کا یہ اعتقاد ہے کہ یہ آنحضرت سے حدیثوں کی صحت دریافت کر لیتے ہیں ازالہ اوہام کے صفحہ ۱۴۹ سے ۱۵۲ تک دیکھو۔

پس جب ان دونوں حضرات مستند مرزا نے صاف فرمادیا کہ حضرت مسیحsym-9 کا اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا اور پھر قریب قیامت کے زمین پر اتر نا قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور اس پر ایمان واجب ہے اور منکر اس کے یہود ونصاری وفلاسفہ و معتزلہ میں تو اب مرزاجی اور مرزائیوں کو یہود و نصاری وغیر ہما سے نکل کر مسلمانوں میں داخل ہونا منظور ہے تو تو به نصوح کے اشتہار شائع کریں اور حضرت مہدی و مسیح کے ایک ہونے اور حضرت مسیح sym-9 کی موت کے اعتقاد سے تھی تو بہ کر کے اشتہار دیں ورنہ بمو جب شہادت اپنے کمال معتقد فیہ امام شعرانی و شیخ اکبر قدس سرہما کے خسر الدنیا والآخرۃ ہو چکے ہیں۔

من آنچہ شرط بلاغست با تو میگویم
تو خواہ پند ازاں در پذیرو خواه ملال

اب سنیئے مجمع بحار الانوار کی شہادت جو دوسری مرزا اور مرزائیوں کی نہائیت مستند کتاب ہے اس میں صفحہ ۴۷۹ لفظ ہدی(حاشیہ ) کے معنی میں لکھتے ہیں کہ حضرت مہدی اس سے نام رکھے گئے ہیں جن کی آنحضرت ﷺ نے بشارت دی ہے کہ آخر زمانہ میں تشریف لائیں گے اور یہ وہ مہندی میں جو حضرت عیسی سے مل کر قسطنطنیہ کو فتح کریں گے اور عرب و عجم کے بادشاہ ہوں گے اور دجال وغیرہ کو قتل کریں گے جیسا کہ حدیثوں میں وارد ہوا ہے۔

حاشیہ

و به سمى المهدى الذي بشر بمجيئه في آخر الزمان من يريد به المهدي الذي يجتمع مع عيسى القيم ويفتح القسطنطينه ويملك العرب والعجم ويقتل الدجال وغير ذلك مماورد به الاخبار صفحه ۴۷۹ ومنه مهدى آخر الزمان من أي الذي في زمن عيسى العليم ويصلى معه ويقتلان الدجال ويفتح القسطنطنته ويملك العرب والعجم ويملأ الأرض قسطا ويولد بمدينة ويكون بيعته بين الركن والمقام كرها عليه ويقاتل السفياني ويلجاء اليه ملوك الهند مغلفلين إلى غير ذلك واقل حياء واسخف عقلاً والجهل ديناً وديانتا قوم اتخذوا دينهم لهواً ولعباً كلعب الصبيان بالخزف والحصى فجعل بعضها سلطاناً ومنها فيلا وافراسا وجنوداً فهكذا هؤلاء المجنونون جعلوا واحداً من غرباء المسافرين مهدياً بدعواه الكاذبة بلاسند وشبهة جاهلاً متجهلاً وبلاخفاء لم يشم نفحة من علوم الدين والحقيقة فضلا من فنون الأدب يفسر لهم معافى الكلام الرباني ويتبؤ به مقاعد في النار ويسفهم بالاحتجاج بايات المثانى بحسب ما ياولها لهم فيما شرع لهم عن عقائد ظهرت فسادها عند الصبيان واذا اقيم الحجج النبوية الدالة على شروط المهدى يقول غير صحيحويعلل بان كل حديث يوافق أوصافه فهو صحيح وما يخالفه فغير صحيح ويقول ان مفتاحالإيمان بيدى فكل من يصدقني بالمهدوية فهو مؤمن ومن ينكرها فهو كافر ويفضل ولايته على نبوة سيد الانبياء وينسبه الى الله عز وجل ويستحل قتل العلماء واخذ الجزية وغير ذلك من خرافاتهم ويسمون واحداً ابابكر الصديق والحرياخر وبعضهم المهاجرين ولا نصار وعائشه وفاطمة وغير ذلك وبعض اغبيائهم جعلوا شخصاً واحداً من السند . عیسی فهل هو الا العبد الشيطان لولا ان لزمهم من الخلووفى العذاب السرمد والنيران وكانوا على ذلك مددًا كثيرًا وقتلوا في ذلك من العلماء عديلاً الى ان سلط الله عليهم جنودا لم يروها فاجلی اكثره وقتل كثيرًا وتوب أخرى توبة وفيرا ولعل ذلك بسعى هذا الحقير واستجابة الدعوة الفقير والله الموفق لكل خير فالحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات ۱۲ خاتمه مجمع صفحه۱۸۰،۱۷۹

حاشیہ ختم شد

پھر اس مجمع بحار الانوار کے خاتمہ میں فرماتے ہیں کہ حضرت مہدی sym-5اور حضرت عیسی sym-9 با هم نماز پڑھیں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور قسطنطنیہ کو فتح کر کے عرب و عجم کے بادشاہ بن جائیں گے اور زمین کو انصاف سے بھر دیں گے مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے اور بیت اللہ کے طواف میں رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان با کراہ آپ سے بیعت ہوگی اور ہند کے بادشاہ آپ کی طرف مالچی ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ اور سخت بے حیا اور نہائیت کم عقل اور دین کے بالکل جاہل ہیں وہ لوگ جنہوں نے دین کو لہو ولعب بنالیا ہے جیسے اطفال خورد سال مٹی سے کوئی بادشاہ کوئی امیر کوئی ہاتھی کوئی گھوڑا کوئی لشکر بنا لیتے ہیں ایسا ہی ان دیوانوں نے ایک غریب مسافر کو اس کے جھوٹے دعوئی پر مہدی موعود مان لیا جس پر کوئی بھی دلیل نہیں ہے اور بالکل نادان ہے دینی علوم سے اس کو بو تک نہیں پہنچی چہ جائیکہ فنون ادب سے واقف ہو اپنی رائے سے آیات قرآنی کے معانی کر کے دوزخ میں جگہ بنا رہا ہے اور اپنے عقائد پر جن کا فساد اطفال مکتب پر ظاہر ہے آیات قرآنی کو ماؤل کر کے دلیل لا رہا ہے۔

جب دلائل شرعیہ احادیث نبویہ سے جس میں مہدی sym-9 کی شرطیں ہیں اس پر قائم کیجاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہیں ! نہیں ہیں اور اس کا ادعا یہ ہے کہ جو احادیث میرے اوصاف سے موافق ہیں وہ صحیح ہیں اور جو اس کے مخالف ہیں وہ غیر صحیح ہیں ایمان کی تالی میرے ہاتھ میں ہے جس نے میری تصدیق کی وہ مومن ہے اور میرا منکر کا فر ہے اور مخبر صادق پر اور کافر اپنی فضیلت ثابت کر کے اس کو حق تعالی کی طرفی مغصوب کرتا ہے اور علماء کے قتل کو حلال جانتا ہے اور جزیہ کا لینا وغیرہ اس کی خرافات سے ہے کسی کا نام ابوبکر کسی کا کچھ اور بعضے مهاجرین وانصار و عا ئشہ و فاطمہ وغیر ہڈ لک رکھا ہے اور بعضے ان کے نادانوں نے ایک شخص سندی کو عیسیٰ بنادیا پس یہ بالکل شیطانی کھیل ہے اور ہمیشہ کے عذاب و دوزخ کا لزوم ہے بہت مدت تک اس حالت میں رہے اور کئی علماء دین کو قتل کیا تھا کہ حق تعالی نے ان پر غیبی شکر بھیج دیا جس نے اکثر جلا وطن اور بہتوں کو قتل اور بعضوں کو تائب کرایا اور امید ہے کہ اس گنہ گار حقیر کی کوشش اور اس فقیر کی دعا کی قبولیت سے یہ ہوا ہو۔ اور خدا ہی توفیق خیر دینے والا اور تمام حمد باری تعالیٰ کے لئے ہے جس کی نعمت سے اعمال نیک پورے ہوتے ہیں۔

یہی ترجمہ ہے عبارت مجمع بحار الانوار کا اور اصل عبارت بھی حاشیہ میں منقول ہے جس سے مرزاجی اور مرزائیوں کا قدم بقدم ہونا پہلے کا ذب مہدی و جعلی صحیح سے ثابت ہو کر ان کے دعوی مہدویت و مسیحیت کی بواقعی تر دید و بطالت متحقق ہو گئی ۔ اللهم يا ذالجلال والاکرام یا مالک الملک جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع بحار الانوار(حاشیہ ) کی دعا اور سعی سے اس مہدی کا ذب اور جعلی صحیح کا بیڑا اغارت کیا تھا ویسا ہی دعا و التجاء اس فقیر قصوری کان اللہ لہ سے ( جو سچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع ساعی ہے ) مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو تو بہ نصوح کی توفیق رفیق فرما اور اگر یہ مقدر نہیں تو ان کو مورداس آئیت فرقانی کا بنا فقطع دابر القوم الذين ظلموا والحمد لله رب العلمين انك على كل شى قدير وبالاجابة جدير. أمين.

حاشیہ

مجمع بحارالانوار کے جھوٹے مہدی اور جعلی میسی اور مرزا قادیانی کے ادعا میں بہت وجود سے کمال مطابقت ہے صرف اتنا ہے کہ اس سے پیشتر مہدی sym-5 اور عیسی sym-9 دو علیحدہ ملیحد شخص تھے مرزا جی نے سب کے بر خلاف ان دونوں کو ایک بنا کر خود مہدی ومیٹی بن گئے پہلوں نے علماء دین کے قتل کرائے تھے مرزا کو یہ طاقت میں اس نے علماء کو مغالطہ گالیاں دیں اور یہود سیرت اور بے ایمان و غیر با اپنی کتابوں میں لکھنا شروع کر دیا ہے اور اس پر جاء افسوس نہیں ہے جب شخص من على نبينا وعليه الصلوة والسلام بينی انبیاء اولو احترم کو خاص گالیاں دینے سے نہیں شرماتا تو علما ء دین اسکے آگے کیا حقیقت رکھتے ہیں۔

حاشیہ ختم شد

ہر چند اب دوسرے ہفوات ان مشتہرین کے روا کی کچھ حاجت نہیں رہی ابن قیم وغیرہ تو مسلم الثبوت نہیں ہیں شاہ ولی اللہ محدثsym-4 پر تو نرا بہتان اگر ان کی کسی تصنیف کا حوالہ ہوتا تو ہم اس کی بھی تردید کر کے مرزائیوں کی کج فہمی و دھوکہ دہی ثابت کر دکھاتے مگر تفسیر سینی کی سند کا جواب سن لو۔

قولہ اور تفسیر حسینی میں آیت فلما توفیتنیکی تفسیر میں لکھا ہے پس اس وقت کہ لیا تو نے مجھ کو یا مارا تو نے مجھ کو پس اس مضمون سے صاف ظاہر ہے کہ صاحب تفسیر حسینی بھی حیات پر مصر نہیں بلکہ وفات کا قابل ہوا۔ الخ۔

حاشیہ

قائل کے لفظ کے نیچے دو نقطے یا کے لکھنے مرزائیوں کی سخت بے علمی کی دلیل ہے جس کا مختصر ذکر فقیر نے رسالہ ظہور الجامعہ کے اخیر درج کیا ہے ۱۲ من عفی عنہ۔

حاشیہ ختم شد

اقول صاحب تفسیر حسینی کو قائل وفات حضرت مسیح sym-9 کہنا محض افترا پردازی اور دھو کہ دینا ہے۔ دیکھو تفسیر حسینی میں آیت وان من اهل الكتب الاليؤمنن به قبل موته کے ذیل میں لکھا ہے کہ جب حضرت عیسیsym-9 آسمان سے اُتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے تو سب اہل کتاب حضرت عیسیsym-9 پر ایمان لائیں گے اور یقین کریں گے کہ وہ پیغمبر تھے اقتل مترجما اور آیت وانه لعلم للساعة کے معنی میں لکھا ہے بدرستیکہ عیسیsym-9 است ساعت را یعنی بد و بدانت که نزداست قیامت چه یکی که از علامات قو قیامت نزول عیسی sym-9 ست العلوم که بعد از تسلط دجال از آسمان برابل زمین فرود آید نزد یک مناره بیضا در طرف شرقی دمشق الخ

اب غور کرو کہ کیسا صاف صاف اس تغیر حسینی سے حضرت عیسیsym-9 میں کا زندہ ہونا اور قریب قیامت آسمان سے اترنا ثابت ہے جو عقید و اہل اسلام ہے اور فلما توفیتنی جو قیامت کو کہا جائے گا اس کے معنی میں موت کے لفظ سے حضرت عیسیsym-9 کی فی الحال موت پر دلیل لائی سراسر کذب اور دھو کہ بازی ہے ہم اوپر تفسیر خازن وغیرہ سے نقل کر چکے ہیں کہ سوائے محمد بن مروان سدی صغیر کے جمیع مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ واقعہ سوال و جواب جس میں فلما توفیتنی مذکور ہے قیامت کو ہوگا۔

اورمجمع بحارالانوار مرزائیوں کی نہائت معتبر کتاب کے صفحہ ۵۰۹ میں دیکھ لو کہ امام سیوطی کی سند سے سدی صغیر کے سلسلہ کو سلسلہ ، کذب لکھا ہے جس کی اصل (حاشیہ )عبارت حاشیہ میں منقول ہوتی ہے۔

حاشیہ

قال السيوطي واوهى طرف تفسير ابن عباس طريق الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس فاذا انضم اليه محمد بن مروان السدى الصغير فهي سلسلة الكذب ١٢ مجمع من عن

حاشیہ ختم شد

اب رہا جواب اس کا جو اس اشتہار میں درج ہے کہ جب کسی مولوی سے بمقابلہ مرزا قادیانی کے وفات مسیح کے بارے کچھ نہ بن پڑا تو مرزا پر فتوی کفر کا تیار کیا انچ سو یہ بھی نرا جھوٹ ہے کیونکہ مرزا کے پاس تو کوئی بھی دلیل شرعی نہیں ہے نہ مسئلہ وفات مسیح نہ اس کے مورد الہام ربانی ہونے کے بارے میں جس کو اس امر پر یقین کرنا منظور ہو فقیر کے رسالہ رجم الشياطين برد اغلوطات البراهین کو بغور مطالعہ کرے اور خود اسی تحریر میں دیکھ لو کہ اس کی مقبولہ اور مستند کتابوں سے اس کی بواقعی تردید کر دی ہے کہ یہ الیواقیت والجواهر و فتوحات مکیہ و مجمع بحار الانوار سے ہی مرزا اور مرزائیوں کی بخوبی تبلیت و تکذیب ہوگئی ہے کسی دوسری دینی کتب سے نقل کرنے کی حاجت نہیں رہی ورنہ تمام کتب عقائد اسلامیہ و کلامیہ اس کی تردید میں موجود ہیں اور واقعہ تکفیر مرزاجی کو ہم عنقریب مدلل بیان کرتے ہیں اس جگہ اتنا اور بھی سن لو کہ جو اس اشتہار میں بسند مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی قدس سره امام ربانی مرزا کی تائید کی ہے اور نیز خود مرز اچھی نے اپنے الہام وغیرہ میں ان کے مکتوبات سے اپنی تائید چاہی ہے سو یہ بھی محض دھو کہ دیا ہے اور تو یہ مکتوبات کیا کسی بھی دینی کتاب یواقیت وغیرہ میں درج نہیں ہے کہ علماء دین حضرت مہدی یا حضرت مسیح کی تکفیر کریں گے۔

ثانیاً:انہیں مکتوبات کی جلد ثانی میں افادہ فرماتے ہیں علامات قیامت کے مخبر صادق علیہ الصلوۃ والسلام ازاں خبر داده است حق است احتمال تخلف ندارد که طلوع آفتاب از جانب مغرب و ظهور حضرت مہدی علیہ الرضوان و نزول حضرت روح اللہ وخروج دجال اغ دیکھو صفحہ ۱۳۲ میں پھر یہ بھی فرماتے ہیں کہ اہل ہند سے مہدی کا ہونا جھوٹ . ہے اور احادیث صحیحہ جو مجد شہرت بلکہ بحد تو اتر پہنچی ہیں ان سے علامت مہدی کی اہلبیت نبوت سے ان کا ہونا اور ان کے باپ کا نام موافق آنحضرت ﷺ کے ہونا ثابت ہے اور حضرت عیسی sym-9 ان کے زمانہ میں اتریں گے۔

اور نیز ان کے ظہور سلطنت کے زمانہ میں چودہ رمضان کو سورج گرہن ہونا اور ابتدا میں چاند گرہن ہونا بر خلاف عادت زمانہ اور برخلاف حساب منجمین کے وارد ہے الخ ۔

اب کو دیکھو کہ بسند مکتوبات حضرت قدس سرہ امام ربانی کے مرزا قادیانی کے ادعاء مہدویت و مسیحیت کا سارا دفتر گا ؤ خورد ہو گیا ہے اور یہ دعوی بھی جو سال گذشتہ رمضان شریف میں خسوف و کسوف معمولی کو اپنے ظہور کی دلیل بنا کر نامے کے نامے سیاہ کر دیئے تھے وہ سب کے سب باطل ہوگئے و الحمد لله علی ذلک پھر یہ جو اسی اشتہار میں لکھا ہے کہ مکفرین مرزا جی کے باہم ایکدوسرے کی تکفیر کر رہے ہیں تو ان کا کیا اعتبار ہے سو اولاً تو اس کا جواب یہ ہے کہ مقلدین و غیر مقلدین میں غالبا اختلاف جزئیات میں ہے جو موجب جو موجب تکفیر ہرگز نہیں ہو سکتا ہے۔

ثانیا علماء نجم سے پہلے حضرات اہے -مفتیان حرمین محترمین نے مرزا قادیانی کی تکفیر کی ہے جس کا مختصر ذکر ہم ابتدا اس تحریر کے تسطیر کر چکے ہیں اور رسالہ رجم الشیاطین کے دیکھنے سے وہ تمام احوال مفصلا معلوم ہو سکتے ہیں رہا یہ جو اخیر صفحہ اس اشتہار مفقود التاریخ میں لکھا ہے کہ امام اعظم sym-4(حاشیہ ) کے مذہب میں ننانوے وجہ کفر کی ہو اور ایک وجہ اسلام کی تو کافر لکھنا منع ہے۔

حاشیہ

حضرت امام اعظم sym-4کے نام کے پیچھے اللہ لکھنا اگر مسخری سے ہے تو حق تعالی منتقم کافی ہے اور نہ مرزائیوں کی سخت جہالت کی دلیل ہے ۲ ا منہ عفی عنہ

حاشیہ ختم شد

سو یہ بھی ان مرزائیوں کی دھوکہ بازی ہی ہے بندہ خدا مرزا قادیانی کی تکفیر اہل حق کے نزدیک دو سبب سے ہے ایک یہ کہ وہ مدعی نبوت ورسالت ہے دوم انبیاء sym-3 کی اس نے سخت تو دین کی ہے۔ دعوی نبوت کی ایک مثال تو اس اشتہار کے صفحہ ۵ کے اخیر اور صفحہ کے ابتدا میں سورہ میں مبارک کی آیت ( يا حسرة على العباد ماياتيهم من رسول الا كانوا به يستهزعون کا یعنی کیا افسوس ہے بندوں پر کوئی رسول نہیں آیا ان کے پاس جس سے ٹھٹھا نہیں کرتی ) لکھی ہے۔

حاشیہ

بے تمیزی کہ یحسرة موصول کو مفعول بصورت يا حسرة مفعول لکھ دیا . ا ہے جو خلاف رسم قرآنی ہے البتہ جب خود مرزا کو یہ تمیز نہیں جیسا کہ اس نے یعیسی ، انت قلت الآیہ] میں تین غلطیاں کی ہیں جن کا اوپر ذکر کر رہا ہے تو جب جعلی مسیح خود غلط کار ہے تو اس کے حواری غلطی کیوں نہ کریں گے نعوذ باللہ منہ ۱۲ منہ۔

حاشیہ ختم شد

اب اس میں کیا شک ہے کہ مرزائیوں نے مرزا کو رسول بنا دیا اور علماء ربانیین کو جو مرزا کے مخالف ہیں رسول سے ٹھٹھا کرنے والے جان لیا ہے۔ اب آگے مرزا جی کے دعوی رسالت و نبوت کا نمونہ ان کی کتابوں سے سنئے صفحہ ۲۳۹ ، ۴۴۹ ، دو جگہ براہین احمد یہ میں پھر صفحہ ۱۹۲ ۱۹۳ ، ۶۷۵ ،۶ ۶۷ ، ۷۶۸، ۶۹ کے میں پانچ جگہ ازالہ اوہام کے اور نیز انجام آنهم وغیرہ میں دعوی کیا ہے کہ آیت ھو الذی ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره علی الدین کلہ مرزا قادیانی کے حق میں پیشنگوئی ہے مرزا کے زمانہ سے پہلے اس پیشنگوئی کا ظہور ممکن نہ تھا اور سیفی فتح ( یعنی جو زمانہ نبوت و خلافت میں واقع ہوئی ہے ) کچھ چیز نہیں چند روزہ اقبال کے دور ہونے سے وہ فتح بھی معدوم ہو جاتی ہے سو وہ فتح اب مرزا کے زمانہ میں حاصل(حاشیہ ) ہوئی ہے۔ اور یہ پیشنگوئی قرآن میں مرزا کے زمانہ کے لئے لکھی گئی ہے اور اس سے پہلے اس کے ظہور کا وقت ہرگز نہ تھا یہ حاصل مراد ہے۔

حاشیہ

اور یہ کہ اس مرزا کے مقابلہ میں عیسائیوں اور آریوں نے اپنی کتابوں اور اخباروں اور خطوں میں آنحضرت کو سخت نا شائستہ لفظوں اور مغلظہ گالیوں سے یاد کیا ہے ۱۲ م منہ عفی عنہ

حاشیہ ختم شد

ان مقامات(حاشیہ ) محولہ کا جس کا جی چاہے غور سے تمام مقامات کو دل لگا کر دیکھے یا فقیر کے پاس آئے کہ عین الیقین کر دوں کہ دعوی نبوت کے علاوہ آنحضرت ﷺ کے حق میں اس آیت مبارک کے نازل ہونے سے صریح انکار ہے جو یقیناً برحق رسول اور اس آیت کا مورد آپ ہی قدر فضلہ و کمالہ ۔

حاشیہ

بعضے مقامات مسلمانان لدھیانہ کو جمعہ کے وعظ میں دکھلائے گئے تھے جس پر مشہور تھا کہ کئی لوگ مرزا قادیانی سے منحرف ہو گئے ہیں والحمد لله على ذلك ١٢ منه عفى عنه

حاشیہ ختم شد

پھر توضیح المرام کے صفحہ ۸ کی سطر ۳ سے ۱۳ تک جمیع لوازم نبوت کو مرزا جی نے اپنی محدثیت میں اپنے لئے ثابت کر لیا ہے زبانی دعوی نبوت جزئی کیا ہے مگر نبوت تامہ سے کوئی دقیقہ فروگذار نہیں چھوڑا ہے یہ کتا بیں فقیر کے پاس سجنس موجود ہیں جو چاہے دیکھ لے۔

پھر انجام آتھم کے صفحہ ۲۷ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے مجھ کو لفظ رسول و نبی و مرسل سے بار بار مخاطب کیا ہے اور میں (یعنی مرزا ) ان . 1) ان کے ظاہر کرنے پر مامور ہوں (یعنی مرزا ) کو ۱۳، اور اخیر میں جو یہ تاویل کی ہے کہ یہ الفاظ اپنے حقیقی معنی پر مستعمل نہیں ہیں تو یہ حض دھوکہ دہی عوام اہل اسلام اور ان کی زبان بندی ہے اس لئے کہ شرع اسلام میں ہرگز روا نہیں کہ کوئی رسول یا نبی ہونے کا خواہ مجازی معنی سے دعوی کرے اور اللہ تعالی کسی کو بھی رسول یا نبی یا مرسل کے لفظ سے بعد سرور خاتم ﷺ کے مخاطب فرمائے کہ یہ مناقض ہے حکم ولكن رسول الله وخاتم النبيين لانبوة ولانبی بعدی کے کے جس جس . سے ہرقسم اور ہر نوع نبوت ورسالت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔

قابل غور یہ ہے کہ زمانہ اصلی محدث (حاشیہ ) حضرت عمر فاروق نے سے تیرہ سو برس سے زائد مدت تک حق تعالیٰ نے کسی کو بھی رسول و نبی و مرسل کے خطاب سے نہ فرمایا اب یہ مرزاجی جو فی الحقیقة عبدالدنیا و بندہ درہم میں کیونکر ان خطابات کے مورد ہو گئے حاشا و کلا ۔

حاشیہ

جن کے اصل محدث ہونے کا مرزا قادیانی کوبھی اقبال ہے دیکھور سالہ فتح اسلام کے صفحہ ۲ انکے حاشیہ میں سطر ۲ سے ۱۵ تک عفی عنہ

حاشیہ ختم شد

اب ان دنوں کے ارفروری ۱۸۹۷ء کا مرزا جی کا ایک اشتہار ہے کہ ہم کو مکان فراخ کرنے کا دوبارہ الہام ہوا ہے دو ہزار روپیہ جماعت خلصین جلد بہم پہنچائیں اور پہلے سے سابق قدم ہو جا میں اخ فاعتبروا یا اولی الابصار

اور جب فقیر شعبان میں وارد لاہور تھا تو ایک خط میں مولوی محمد حسین امروہی نے فقیر کو خط لکھا تھا آپ کے چند خیالات مندرجہ خطوط و نیز اشتبار مبابله بحضور حضرت امام مهدی یعنی مسیح موعود مصداق امامكم منكم عليه الصلوة والسلام جو عاجز کے روبرو پڑھے گئے الخ

اور یہ بھی مشہور ہے کہ اس ننے مولوی نے ایک رسالہ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے پیس اب کونسی بات رہ گئی دعوی نبوت ہے و رسالت سے اور تاویل معنی مجازی کی محض عوام اہل اسلام کے بلوے کے خوف سے ۔ اب سنو نمونہ تو بینات انبیاء عليهم الصلوة والثناء کا رساله ازالہ اوہام کے صفحہ کے سطر ۶ میں ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی (حاشیہ ) پیشنگوئیاں نملط نکلیں اس قدر صیح نہیں نکلیں ۔

حاشیہ

چونکہ مرزا کی پیشنگو نیاں سب جھوٹا دعوئی اور نری دام تزوی ہے جس کے راست ہونے کی قطعی نا امیدی ہے اس لئے مرزا رہی نے یہ چھالا کی دکھلائی کہ پہلے انبیاء کی پیشنگوئیاں بہت نمایا نکلی ہیں سومعاذ اللہ یہ محض کذب ہے بھلا خدا کا رسول کیا اور کیا کیا پیشنگوئی غلط کیا جا بجا انبیاء کے صدق دراق پر قرآن وحدیث گواہ ہیں جس کا شمہ کتاب اللہ لیں الوکیل میں مذکور ہے ۱۲ منہ عفی عنہ

حاشیہ ختم شد

صفحہ ۸ میں ہے حضرت موسیsym-9 کی بعض پیشنگوئیاں بھی اسی صورت پر ظہور نہیں ہوئیں جس صورت پر حضرت موسیsym-9 نے اپنے دل میں امید باندھ لی تھی عالیہ مافی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیحsym-9 کی پیشنگوئیاں زیادہ غلط نکلیں صفحہ ۳۰۲ میں مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان sym-9کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ جو شعبدہ بازی کی قسم سے ہے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے صفحہ ۳۰۳ میں ہے حضرت مسیح ابن مریم sym-9اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام کرتے رہے ان صفحہ ۶۲۹ میں ہے کہ ایک (حاشیہ )بادشاہ کے وقت میں چارسو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیشنگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی الخ ۔

حاشیہ

یہ قصہ تو رات سے نقل کیا ہے جس کا معترف ہونا قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور بی حدیث میں وارد ہےلا تصدقوا اهل الكتاب ولا تكذبوهم حضرت عمر کے محدث کو تو رات سے نقل کرنے پر زجر ہوئی تھی جس پر لو كان موسى حيا الحديث ارشاد : و انتخاب اس جھوٹے محدث کو تو رات سے نقل کرنا کیونکر جائز ہو گیا ۱۲ من عفی عنہ

حاشیہ ختم شد

پھر صفحہ ۴۱ رسالہ انجام آتھم میں ہے اور مریم کا بیٹا کشلیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا اور پھر صفحہ ۳ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم سے صفحہ ۸ تک حضرت یسوع کو نادان ، شریر، مکار روح والا ، گالیاں بد زبانی کر نیوالا ہوئی مقتل ولا جھوٹا ، چور ، شیطان کے پیچھے چلنے والا ، اس کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے اور کچھ نہ تھا۔ آپ کی تین دادیاں ، نانیاں زنا کار اور کسی عور تیں تھیں ۔ آپ جدی مناسبت سے کنجریوں سے میلان اور محبت رکھتے تھے۔(حاشیہ )

حاشیہ

براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۹ میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ میں حضرت مسیح sym-9کی پہلی زندگی کا نمونہ ہوں جیسے کہ ایک درخت کے دو پھل یا ایک جوہر کے دو ٹکڑے ایسی واضح رہے کہ حضرت مسیحsym-9 ہونا اہلے، جن کا نام نامی یسوع بھی ہے وہ تو باتفاق اہل اسلام تمام صغیر و کبیرہ گناہوں سے پاک اور مکارم اخلاق کے پہلے تھے مثل تمام انبیاء sym-3 کے مگر جب مربوط قادیانی ان کو ان صفات میمہ سے موصوف جانتا ہے تو مرزایی خود بھی نادان ، شهریه مدگار رون والا ، گالیاں بد زبانی کر کے اولاد ہوئی مقتل والا جھوٹا، چورہ شیطان کا تابع ۔ اس کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے چھو نہیں جس کی تمرین دادیاں نانیاں انار کا تھیں۔ خود جدی مناسبت سے کنجری باز ثابت ہو گیا کیونکہ والی جو ہر کانگڑہ اور اسی درخت کا دوسرا پھل ہے۔ یہ اس کو کسی نے نہیں کہا بلکہ وہ اپنے الہام سے ایسا ثابت ہو چکا ہے ۱۲ منہ عفی عنہ

حاشیہ ختم شد

یہ سب کچھ لکھ کر اخیر میں مسلمانوں کو دھو کہ دیا ہے کہ یسوع کا حال قرآن میں کچھ درج نہیں ہے کہ یہ کون ہے سو یہ محض جھوٹ ہے کیونکہ یسوع عیسی کا ملقوب حضرت مسیح ابن مریم کا نام مشہور ہے کوئی ادنی دانشمند بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا ہے۔ پھر ازالہ کے صفحہ ۴۷ میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کا معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا اب یہ ظاہر ہے کہ کلمات تو میں انبیاء میں کسی طرح سے بھی کفر سے مخلصی نہیں ہوتی دیکھو شفاء اور اس کی شرح مولانا قاری میں اور تمام مبسوطات عقائد اسلامیہ میں یہ مسئلہ درج ہے۔ پس مرزا قادیانی اور اسکے حواری اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ یہ کس قدر سخت درجہ کے کافر ہیں چونکہ یہ بحث کتاب تصديق المرام بتكذيب قادیانی و لیکھرام میں مفصل بیان کیا گیا ہے اس لئے یہاں پر اسی قدر مختصر پر کفایت کیجاتی ہے یہ بھی واضح رہے کہ مرزا جی جو اپنی پیشنگوئیوں کے راست ہونے میں اشتہارات کے ذریعے سے عوام اہل اسلام کو دھو کہ دے رہے ہیں تو اولاً معلوم ہو کہ پیشنگوئیوں کا معاملہ مسلمان ہونے کے بعد پر کھا جاتا ہے مرزا جی اول مسلمان بن لیں پھر پیشنگوئی وغیرہ کا نام لیں ۔

ثانیا مرزاجی ہمیشہ کا ذب ہوتے رہے اگر سارا ذکر کروں تو ایک دفتر مرتب ہو جائے گا بہت لوگوں نے اس کی بابت بہت کچھ لکھا ہے فقیر اس میں اپنا قیمتی وقت رائگاں نہیں کرتا مگر نمونہ ظاہر کئے بغیر نہیں رہتا دیکھو بڑی پیشنگوئی لیکھرام کی موت ہے جس پر مرزا اور مرزائیوں کو سخت ناز ہے اس کی بابت مرزائی اخیر ورق سبز رنگ رسالہ ” برکات الدعا کے حاشیہ پر لکھا تھا کہ ۲ اپریل ۱۸۹۳ء مطابق ۱۴ رمضان ۱۳۱۰ھ میں ایک فرشتہ غلاظ شدا الیکھرام کی سزا دہی کے لئے مامور کیا گیا ہے ادھ ملخصا غور کرو کہ چار سال سے زائد مدت تک فرشتہ کو لیکھر ام نہ ملا جواب چار سال سے زائد مدت کو وہ مقتول ہوا هل هذا الاهذيان

پھر جلسہ تحقیق مذاہب میں پسندیدگی مضمون طرزا جی کا الہام جس اضغاث احلام کو وہ خود اور عبد القادر لدھیانوی اپنے خط میں مشتہر کرتا ہے سو یا کرتا ہے سو با وصف تخلف مکانن جلسه و ایزاد تاریخ جلسہ کے اس مضمون سے کون سے آریہ یا عیسائی وغیرہ ایمان لے آئے ۔ جسے پسندیدگی مضمون معلوم ہوئی ۔ معہذا؎

گاه باشد کہ کودک ناداں
بغلط بر هدف زند تیرے

مشہور ہے اللهم يا كريم يا رحيم يا ارحم الراحمین جیسے کہ تیرے جیسے کہ تیرے فضل وکرم سے پیشتر ماہ شعبان مدت انتظار مباہلہ میں لاہور میں بارش ہو کر آٹھ سیر گیہوں کی گیارہ سیر ہوگئی تھی ویسے اب مذہب فقیر قوی امیدان بلکہ یقین یقین رکھتا ہے کہ اس عمل خیر تحریر تردید مرزا اور مرزائیوں میں بھی ہم عاجز بندوں پر رحم فرما اور ہمارے گناہ معاف کر اور سچی توبہ کی توفیق رفیق فرما اللهم ربنا اغفر لنا وتب علينا انك انت التواب الرحيم وصلى الله تعالى على خير خلقه محمد و عترته وسلم اجمعين شہر لدھیانہ میں ۱۶ شوال ۱۳۱۴ھ میں حسن اختتام پایا۔

Netsol OnlinePowered by