بسم الله الرحمن الرحیم
نحمده ونصلي ونسلم على رسوله الكريم وعلى آله وصحبه اجمعين
۲۷ اکتوبر بروز اتوار ۲۰۰۲
ماكان محمد ابا احد من رجالكم الخ
قال رسول الله له انا خاتم النبين لانبی بعدی رواه الشيخان وابوداؤد
حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت زید کو منہ بولا بیٹا بنالیا سیدہ زینب
کو نکاح کے لئے فرمایا کہ حضرت زید سے نکاح کرے آپ کے بھائیوں نے انکار کیا کہ ہاشمیہ قریہ کا نکاح غلام سے ہو تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
لا الہ الا اللہ ماننا کہ اللہ احد صمد اور لاشریک ما كان لمومن ولا مؤمنة الخ
حضرت زید حضرت زینب
سے نکاح فرمایا پھر سرکار ﷺ نے فرمایا ایک وقت آئے گا زید نیب کو طلاق دے گا میں اس نیب سے نکاح کروں گا پھر سر کا م نے نکاح فرمایا کفار نے اعتراض کیا کہ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کیا ہے۔ اپنی بہو سے نکاح کیا ہے۔
(دیوبندی مولوی نےبلغۃ الحیر ان میں لکھا ہے کہ عدت کے دوران نکاح فرمایا لیکن مسلم شریف میں ہے کہ عدت کے بعد نکاح فرمایا)
اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
ماکان محمد ابا احد من رجالكم الخ
نبی کریم ہیں کہ تم میں سے کسی کے باپ نہیں اس میں حضرت زید بھی آگئے رجل کا معنی بنوغ والے کو کہتے ہیں آپ کا کوئی صاحبزادہ بھی بلوغ تک نہ پہنچا تھا حقیقی باپ نہیں روحانی باپ ہیں۔
روحانی اب حقیقی اب سے زیادہ شفیق ہوتا ہے چنانچہ امام غزالی[symbol نے فرمایا : حق المعلم اعظم من حق الوالدين استاذ کا حق والدین کے حق سے زیادہ ہے۔ (احیاء العلوم ) حضوری کے ساری دنیا کے مربی ہیں۔
وما ارسلنك الا رحمة للعالمين
آپ عالمین کے ذرے ذرے پر رحم فرمانے والے ہیں تخلیق یہ ہے کہ عالمین کے لئے راحم ہیں۔ مومنین کے لئے رحیم ہیں راحم اسم فاعل وفقہ وقفہ سے رحم فرماتے ہیں۔ رحیم صفت حبہ ہر وقت رحم فرمانے والے ہیں ۔ حقیقی والد ہر وقت اپنی اولاد پر شفقت نہیں کرتے رسول اللہ کی ہر وقت مومنین کے لئے رحیم ہیں۔ آپ خاتم النبین ہیں۔
ختم يختم ختماً وختامة
انگوٹھی پہر کو بھی ختم کہتے ہیں۔ خاتم و خاتم ہم معنی ہیں ۔ آخری انتقام انگوٹھی لغت کے اعتبار سے ہے۔ اگر کوئی نوی معنی کر کے شرعی معنی چھوڑ دے وہ ایمان سے فارغ ہے۔
انا خاتم النبین لانبی بعدی
القرآن اسم اللفظ والمعنى جميعاً
قرآن صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ معنی بھی ساتھ ہے۔ یہ معنی شرعی ہے میں خاتم النبین ہوں آخر الانبیاء ہوں۔ نبی نکرہ ہے لا ئے نفی ہے یہ عموم ہے۔
حضرت عیسی
تو تشریف لے آئیں گے تو سر کار خاتم نہ ہوئے۔
وہ پہلے نہیں ہیں وفات کے بعد بھی نبوت باقی ہوتی ہے۔ صلاہ کا تقوی معنی کرے ارکان مخصوص نہ کرے تو ایمان سے فارغ
زکوة کا فتوی معنی کرے اصطلاحی معنی نہ کرتے بھی ایمان سے فارغ - صوم کانوی معنی کرے اصطلاحی معنی نہ کرے تو بھی ایمان سے فارغ ۔ خاتم کا معنی نحوی کرے اور شرعی معنی نہ کرے وہ بھی ایمان سے فارغ۔
الم ذالك الكتاب وما انزل من قبل
من قبل سے پہلے مراد ہیں من بعد نہیں فرمایا۔
مرزائی ، قادیانی خاتم کا لنوی معنی کرتے ہیں، شرعی معنی نہیں کرتے۔
بروز پیر ۲۸ اکتوبر ۲۰۰۲
رجال رجل کی جمع اصحاب لغت و جل بالغ مرد کے لئے بولتے ہیں۔
امام رازی فرماتے ہیں:
لغت عربیہ اور مفہوم کے اعتبار سے سرور دو جہاں پینے کے لئے کوئی کبیر بالغ بیٹا نہ تھا جس کے لئے لفظ رجل استعمال ہو۔ اگر بالغ بچے کو بھی اس میں شامل کریں تو نزول آیت کے وقت آپ کے کا کوئی صاحبزادہ نہیں تھا کیونکہ آیت خاتم النبین مدینہ منورہ میں شر کو نازل ہوئی آپ کے صاحبزادے مکہ مکرمہ میں پیدا ہو کر فوت ہو چکے تھے اور آپ کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم قرہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ مجمہ مثل پیدا ہوئے تو رجال سے آپ کے آب ہونے کی تھی ہر صورت بر حق ثابت ہے جل کا لفظ بالغ مرد کے لئے استعمال ہوتا ہے قاموس اور زہری کے علاوہ نص قطعی قرآن ثابت سےوالمستر حين من الرجال والنساء والولدان
باقی رہا یہ شبہ کہ حسنین کریمین رضی اللہ عنھما آپ کے بالغ بیٹے ہیں جیسا کہ جامع ترندی میں ہے۔ ہذان اپنایا یہ دونوں بلا واسطہ بیٹے نہیں بلکہ با واسطہ ملکہ جنت رضی اللہ عنہا آپ کے بیٹے ہیں ۔ ( تفسیر روح المعانی)
امام مبرد کے نزدیک جو تفسیر ولقت کے بادشاہ ہیں خاتم کو ماضی کا صیغہ بنایا اور انہین کو اس کا مفعول تو مطلب یہ ہوا ختم کیا آپ نے نبیوں کو یعنی انتقام ہو گیا نیوں کا آپ نے سلسلہ نبوت و وحی کو ختم فرمایا اور مفسرین نے فرمایا خاتم بکسر التاء کی قرات بھی ہے اسم فاعل کے معنی میں یعنی سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے والمراد بہ آخر ہیں سے مراد یہ ہے کہ آپ آخر الانبیاء ہیں حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں ہےولکن نبیا ختم النبین یعنی آپ نبی ہیں جنہوں نے سلسلہ نبوت کو ختم کیا ( تفسیر روح المعانی)
ائمہ لغت نے اور علماء عرب نے تصریح کی ہے کہ لفظ خاتم جب کسی قوم یا جماعت کی طرف مضاف ہوگا تو اس کا معنی فقط آخر اور ختم کرنے والے کے ہونگے مہر بھی آخر کو مستلزم ہے جیسا کہ حقیقی کے شعر سے واضح ہے:
وقد ختمت على افوادي
بحبك ان يحل به سواك
میں چلتا ہوں اے میرے محبوب آپ نے میرے دل پر مہر لگا دی اپنی محبت کی اس پر لگنے کے بعد آپ کے سوا اوروں کے لئے داخلہ بند ہو گیا۔
امام قاضی عیاض شفا شریف ج ۲ جس ۱۳۶، مطبوع مصر میں خاتم النبین کا معنی بالا جماع آخر الانبیاء کر رہے ہیں ملاحظہ ہو:
كذلك( يكفر) من ادعى نبوة احد مع نبينا صلى الله تعالى عليه وسلم او بعده الی (قوله فهؤلا كلهم كفار مكذبون للنبى له لانه صلى الله تعالى عليه وسلم اخبرانه خاتم النبین ولانبی بعده واخير عن الله تعالى انه خاتم النسين وانه ارسل كافة للناس واجمعت الامة على حمل انه هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد به دون تاویل ولا تخصيص فلاشك في كفر هؤلاء الطوائف كلها قطعا اجماعا وسمعا .
(ترجمہ) جو ہمارے نبی ﷺ کے زمانہ میں خاص حضور کے بعد کسی کی نبوت کا ادعا کرے وہ کافر ہے اور نبی نے کی تکذیب کرنے والا ہے کہ نبی ﷺ نے خبر دی کہ حضور خاتم النبین ہیں اور انکی رسالت تمام لوگوں کو عام ہے اور امت میں اجتماع کیا یہ آیات و احادیث اپنے ظاہر پر ہے جو کچھ ان سے مفہوم ہوتا ہے وہی خدا اور رسول کی مراد ہے نان میں کوئی تاویل ہے نہ کچھ تخصیص تو جو لوگ اس کا خلاف کریں وہ بحکم اجماع امت و حکم قرآن وحدیث یقینا کافر ہیں۔
امام حجه الاسلام محمد غزالیقدس سرہ العالیکتاب الاقتصاد طبع مصر ص ۱۱۴ میں فرماتے ہیں:
ان الامة فهمت من هذا اللفظ خاتم النبين انه افهم عدم نبی بعده ابدا وعدم رسول بعده ابداوانه ليس فيه تأويل ولا تخصيص من اوله بتخصيص فكلامه من انواع الهذيان ولا يمنع الحكم بتكفيره لانه مكذب لهذا النص الذي اجمعت الامة على انه غير مؤول ولا مخصوص
یعنی تمام امت نے لفظ خاتم المین سے بھی سمجھا ہے کہ وہ لفظ خاتم النبین بتاتا ہے کہ حضور اقدس ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا حضور اقدس ﷺ کے بعد کوئی رسول نہ ہو گا اور تمام امت میں بھی معنی ہے۔
کہ اس میں اصلا کوئی تاویل یا تخصیص نہیں جو شخص لفظ خاتم النبین میں انہین کو اپنے عموم اور استغراق نہانے بلکہ اسے کسی تخصیص کی طرف پھیرے اسکی بات مجنون کی بک بک ہے اسے کافر کہنے میں ممانعت نہیں کیونکہ اس نے نص قرآنی کو جھٹلایا ہا ہے جس کے بارے میں امت کا اجماع ہے کہ اس میں نہ کوئی تاویل ہے نہ تخصیص۔ (فتاوی رضویہ جلد ۱۳، صفحه ۲۳۳ طبع جدید)
عارف بالله سیدی امام عبد الغنی نابلسیقدس سرہ القدی شرح القوائد میں فرماتے ہیں:
تجویز نبى مع نبينا ه او بعده يستلزم تكذيب القرآن خاتم النبین و آخر المرسلين وفي السنة انا العاقب لانبی بعدی واجمعت الامة على ابقاء هذا الكلام على ظاهره وهذه احدى المسائل المشهورة التي كفرنا بها الفلاسفة لعنهم الله تعالى
یعنی ہمارے نبی کے ساتھ یا بعد کسی کو نبوت ملتی جائز مانا مکتب قرآن کو ستلزم ہے کہ قرآن عظیم تصریح فرما چکا ہے کہ حضور اقدس کو خاتم التمین و آخر المرسلین ہیں اور حدیث میں فرمایا: میں پچھلاتی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمام امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پر ہے یعنی عموم و استغراق بلا تاویل و تخصیص اور یہ ان مشہور مسلوں سے ہے جن کے سبب ہم اہل اسلام نے کافر کہا فلاسفہ کو اللہ تعالی ان پر لعنت کرے (فتاوی رضویہ جلد ۱۴، صفحہ ۳۳۵ طبع جدید)
خود مرزا محمد علی لاہوری مرزائی نے اپنی تفسیر میں اس امر کا صاف اعتراف کیا کہ ختم نبوت کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں وہ آیت خاتم النبین کی تفسیر ہیں اور کسی قوم کے خاتم اور خاتم سے مرادان میں آخر ہوتا ہے۔
ختام القوم و خاتمه و خاتمه آخره
خود مرزا قادیانی مدعی نبوت نے خاتم النہین کا معنی آخر الانبیاء کیا ہے۔
ہمارے نبی
خاتم النبین ہیں اور ہمارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ ( حمامتہ البشری ص ۲۶، ۲۹،۷۸)
مرزا قادیانی نے اپنی حمامۃ البشری کے ص ۹۶ میں لکھا ہے:
وما كان في عن ادى النبوت واخرج من الاسلام والحق الكافرون
مجھ مرزا کے لئے نبوت کا دعوٹی کروں اور اسلام سے نکل جاؤں اور کافروں سے مل جاؤں۔
نومبر 1901ء سے پیشتر کی ہے اس کے بعد اگر کوئی چھوٹی کرے کہ مرزا کی پچھلی کتا بیں منسوخ ہو گئیں اس لئے کہ شیخ احکام میں چلتا ہے عقائک اخبار میں نہیں۔
مسلمانوں کے عرف میں جب خاتم القوم رہ میں استعمال ہوتے ہیں اس کے قائل نے اس میں آخر قرار دیا ہے اگر اس کا علم مستقبل کو محیط نہ ہواور کلام الہی آنے والے وقت کو محیط ہے۔ وكان الله بكل شي عليهاجن میں بے علمی کی بناء پر خاتم النبین نہیں کہ رہا ۔
(2) والذين يومنون بما انزل الخ
(3) [font
آج کے دن تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا۔
ولا يحتاجون دین الی غیر ولا الى نبى الى غير ولهذا جعل الله خاتم الانبياء (تفسیر ابن کثیر ج ۳، ص ۲۷۹)
یعنی مسلمانوں کا دین مکمل ہو چکا اب نہ کسی دین کی ضرورت ہے نہ کسی نبی کی ضرورت اس لئے آپ کو خاتم الانبیاء بنالیا۔
(4) واذاخذ الله ميثاق النبين الخ
اللہ تعالی نے دو جلسے منعقد کئے ایک اپنے منوانے کے لئے اور دو سر رسول کو منوانے کے لئے۔ جلسہ توحید میں مومنین کفار و مشرکین کی رو میں شامل تھیں مگر جلسہ آخر الانبیاء میں نفوس قدسیہ کی رو میں تھیں۔
اپنے منوانے کے لئے پوچھا:
الست بربکم قالوا بلی
ایک سوالیہ فکر سے جلسہ تو حید ختم ۔ جب حبیب کی باری آئی تو اس جلسہ کو طول دے کے بیان فرمایا: واذ اخذ الله
اذ ظرفیہ یہ مفعول فیہ اس سے پہلے نسل ہے ان کو یعنی اے حبیب یاد کرو
النبين الف لام استغراق
ثم جاء كم
رسول نکرہ ہے کیوں تنوین تحیر تنظیم کے لئے ہے۔
(5) هو الاول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شي عليم
هو ضمیر کا مرجع اللہ تعالی بھی ہے اور رسول اللہ کے بھی ہیں ۔ تخلیق میں اول الست کے جواب میں اول
اول الساجدین اول المؤمنين
شفاعت کی درخواست دینے میں اول بعثت میں آخر۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی
بقول اعلیٰ حضرت بركة رسول اللہ فی الھند اسی آیت کی بھی تفسیر کرتے ہیں ۔ )
مدارج النبوة ، ج ، ج ۲، جواہر البحار، ج ۳، شیخ اکبر ابن عربی فتوحات مکیه باب ۱۰ مرج ۱۰ ص ۱۷۳) جواہر المخارج اص ۱۱۳ میں بھی موجود ہے شفاء شریف، ج ا ص ۲۰۰ میں بھی یہی ہے نسیم الریاض امام خفاجی ، ج ۲، ص ۲۲۰۰۲۲۶ میں بھی بھی موجود ہے۔
امام ملا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری نے شرح شفاء میں ہی لکھا ہے:
شیخ فرید الدین عطار علی رحمہ الغفار جنہوں نے بے سرنامہ لکھی اپنی کتاب منطق الطیر میں یہی نقل کیا ہے اور اسی طرحمفسر جمل
نے بھی کہیں نقل فرمایا ہے۔
۲۹ اکتوبر ۲۰۰۲ بروز منگل
طبرانی معجم کبیر اور حاکم اور بیلی دلائل النبوۃ میں امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم
سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔
جب آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لغزش واقع ہوئی۔ عرض کی انہی میں مجھے محمد (ﷺ) کا واسطہ دیکر سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما ارشاد ہوا اے آدم (علیہ السلام ) تو نے محمد (ﷺ) کو کیو نکر پہچانا حالانکہ میں نے ابھی اسے پیدا نہ کیا (یعنی جسم کو ) عرض کی ابھی جب تو نے مجھے اپنی قدرت سے بنایا اور مجھ میں روح پھونکی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو عرش کے پایہ پر لکھا پایا لا الہ الا الله محمد رسول الله ﷺ اللہ تو میں نے جاتا تو نے اس کا نام اپنے نام پاک کے ساتھ ملایا ہو گا جو تجھے تمام جہاں سے زیادہ پیارا ہے فرمایا صدقت یا آدم انه لاحب الخلق الی اے آدم تو نے ہی کہا بے شک وہ تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے اور جب تو نے مجھے اس کا واسطہ دیکر سوال کیا تو میں نے تیرے لئے مغفرت فرمائی کہ محمد (ﷺ) نہ ہوتا تو میں تجھے نہ بناتا ۔
امام طبرانی نے یہ اضافہ روایت کیا ہے وہ تیری اولاد میں سب سے آخری نبی ہیں (ﷺ ) مستدرک حاکم کتاب التاریخ استغفار آدم بحق محمد ﷺ( مطبوعہ دار الفکر بیروت ج ۲ ،ص:610،دلائل النبوۃ للبیہقی مطبو عہ بیروت ج ۵ میں ۴۸۹ المعجم الاوسط للطبرانی میں 6498مطبوعہ ریاض ج ۷، ص ۲۰۹
ابو نعیم حضرت ابو ہریرہ
سے راوی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔
جب موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) پر تو رات اتری اسے پڑھا تو اس میں اس امت کا ذکر پایا عرض کی اے میرے رب میں ان ارواح میں ایک امت پاتا ہوں کہ وہ زمانے میں سب سے پھیلی اور مرتبے میں سب سے اگلی تو کیا یہ میری امت ہے فرمایا یہ امت احمد (ﷺ) کی ہے اس میں موسی
کو اطلاع دی گئی کہ آخری امت ہے اس لئے کہ آخر الانبیاء کے کلمہ پڑھنے والے ہیں۔( دلائل النبوة لابی نعیم مطبوعہ بیروت ، ج: ا ،ص:۴۱)
ابن عساکر حضرت ابو ہریرہ
سے راوی رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہیں جب اللہ تعالی نے آدم
کو پیدا کیا انہیں ان کے بیٹوں پر مطلع فرمایا وہ ان میں ایک کی دوسرے پر فضیلتیں دکھائے گئے تو ان سب کے آخر میں بلند اور روشن نور دیکھا عرض کی انہی یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ تیرا بیٹا احمد (ﷺ) ہے ہی اول ہے یہی آخر ہے اور یہی سب سے پہلا شفیع اور یہی سب سے پہلا مشفع بنایا گیا۔( دلائل النبوة لابی نعیم مطبوعہ بیروت ، ج: ا ،ص:۱۴)
نیز ابن عساکر حضرت جابر بن عبد اللہ
سے راوی فرمایا آدمعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی دونوں شانوں کے وسط میں کلام قدرت سے لکھا ہوا ہے محمد رسول اللہ خاتم النبین (مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر مطبوعہ بیروت ج ۲، ص ۱۳۷)
ابن ابی شیبہ مصنف میں حضرت کعب بن احبار
سے راوی کہ سب سے پہلے جو دروازہ جنت کی زنجیر پر ہاتھ رکھے گا اس کے لئے دروازہ کھولا جائے گاوہ بھی کی ہیں۔ پھر تو رات مقدس کی آیت پڑھی۔
نحن آخرون الاولونیعنی مرتبہ میں امت محمد اول ہے اور زمانے میں میں آخر ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبه مطبوعہ کراچی ادارۃ القرآن ج ۱۱، ص ۴۳۲)
ور ابن سعد عامر شمی سے راوی سیدنا ابراہیم
کے صحیفوں میں ارشاد ہوا بے شک تیری اولاد میں قبائل در قبائل ہونگے یہاں تک کہ نبی امی خاتم الانبیاء جلوہ فرما ہونگے۔ (طبقات کبری لابن سعد طبع بیروت ج ا ص ۱۱۳)
ابن عساکر محمد بن ترحمی سے راوی اللہ عزوجل نے یعقوب
کو وحی بھیجی میں تیری اولاد سے سلاطین و انیمیاء بھیجتا ہوں گا یہاں تک کہ بھیجونگا اس حرم محترم والے نبی کو جس کی امت بیت المقدس کی بلند تعمیر بنائے گی اور وہ آخر الانبیاء ہو گے اور ان کا نام احمد ہوگا۔ (طبقات کبری لابن سعد ج ا ص ۱۶۳)
ابن ابي حاكم وهب بن منبہ سے راوی اللہ عز وجل نے اشعیاء علیہ السلام پر وحی بھیجی میں نبی امی کو بھیجنے والا ہوں اسکے سبب بہرے کان اور غافل دل اور اندھی آنکھیں کھول دونگا اور اس کی پیدائش مکہ میں ہے اور ہجرت مدینہ میں اور تخت گاہ شام میں اس کی امت کو سب امتوں میں سے جو لوگوں کے لئے ظاہر کی گئی انکو افضل کرونگا اور انکی کتاب پر کتابوں کو ختم کرونگا اور انکی شریعت پر شریعتوں کو اور دین کو سب دینوں پر ختم کرونگا۔ (بحوالہ ابی نعیم خصائص کبری للسیوطی ج ۱ ص ۳۴۰۳۳)
ابن عساکر حضرت ابن عباس
سے راوی نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگلی کتابوں میں میرے بینام تھے۔
احمد (اللہ تعالی کی سب سے زیادہ تعریف کرنے والے)
محمد (زیادہ سے زیادہ تعریف کیا ہوا)
ماحی (کفر و شرک کو مٹانے والا )
مقفی (سب سے پیچھے آنے والا)
نبي الملاحم (جہادوں کے پیغمبر)
حفظ یا (حرم الہی کے حمایتی )
فارقلیطا ( حق کو باطل سے جدا کرنے والا )
ماذ ماذ( ستھرے پاکیزہ)
( خصائص کبری للسیوطی، حوالہ ابی نعیم عن ابن عساکر مطبوع معرج ۱ ص ۱۳۲)}}ابن عساکر حضرت سلمان فارسی
سے راوی جبریل امین
نے حاضر ہو کر حضور اقدسﷺسے عرض کی حضور کا رب فرماتا ہے بے شک میں نے تم پر انبیاء کو ختم کیا اور کوئی ایسا نہ بنایا جو تم سے زیادہ میرے نزدیک عزت والا ہو تمہارا نام میں نے اپنے نام سے ملایا۔ کہ کہیں پر اذ کر نا ہو جب تک میرے ساتھ یاد نہ کیئے جاؤ بے شک میں نے دنیا اور اہل دنیا سب کو اس لئے بنایا کہ تمہاری عزت اور اپنی بارگاہ میں تمہارا مرتبہ ان پر ظاہر کروں اگر تم نہ ہوتے تو میں آسمان وزمین اور جو کچھ اس میں ہے اصلا نہ بنانا۔ (مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر طبع بیروت میں ۱۳۶،۱۳۷)
خطیب بغدادی حضرت انس بن مالک
سے راوی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:لما اسری بی الى السماء قربني حتى كان بينى وبينه قاب قوسین اوادنی
شب اسری مجھے میرے رب نے اپنے قریب کیا یہاں تک کہ مجھ میں اور اس میں ایک کمان کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم کا فاصلہ رہا اور مجھ سے فرمایا اے محمد (ﷺ) کیا تجھے اس کا غم ہے کہ میں نے تجھے سب انبیاء کے آخر میں بھیجا۔
میں نے عرض کی بیغیر مایا کیا تیری امت کو اس کا رنج ہے کہ میں نے انکو تمام امتوں کے آخر میں بھیجا عرض کی بغیر ملا اپنی امت کو خیر دے دے میں نے انکو سب سے پیچھے اس لئے کیا کہ اور امتوں کو ان کے سامنے رسوا کروں اور انکو رسوائی سے محفوظ رکھوں ۔ (فتاوی رضویہ ج ۵ ص ۲۳۷)
ابن جریر اور این حازم اور بیزار ابو یعلی اور امام بھی اپنی سند کیسا تھ حضرت ابو ہریرہ
سے حدیث طویل اسراء میں رادی پھر حضرت اقدس کے ارواح انبیاء
سے ملے پیغمبروں نے اپنے رب عز و جل کی حمد کی ابراہیم پھر موسیٰ پھر داو دی پھر سلیمان، پھر عیسی علیہم الصلوۃ بترتیب حمد الہی بجالائے اس کے ضمن میں اپنے خصائص و حامد بیان فرمائے۔
سب کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب جل جلالہ کی شنا کی اور فرمایا تم سب اپنے رب کی تعریف کر چکے اور اب میں اپنے رب کی حمد کرتا ہوں سب خوبیاں اللہ کو جس نے مجھے سارے جہاں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور تمام آدمیوں کی طرف بشارت دیتا اور ڈر سنانا مبعوث کیا اور مجھ پر قرآن اتارا جس میں ہر کسی کا روشن بیان ہے اور میری امت کو تمام امتوں پر فضیلت دی اور انہیں عدل وعدالت و اعتدال والی است کیا اور انہیں کو اول اور انہیں کو آخر رکھا اور میرے واسطے میرا ذکر بلند فرمایا اور مجھے فاتحہ دیوان نبوت و خاتمه دفتر رسالت بنایا، ابراہیم علیہ الصلوة والسليم نے فرمایا ان وجوہ سے حمد کے تم سے افضل ہوئے۔ پھر حضور کے سدرہ تک پہنچے، اس وقت رب العزت جل جلالہ نے ان سے کلام کیا اور فرمایا میں نے تجھے اپنا خالص پیارا بنایا اور تیرا نام توریت میں حبیب الرحمن لکھا ہے، میں نے تیرے لئے تیراؤ کر اونچا کیا کہ میر ا ذ کر نا ہو جب تک میرے ساتھ تیری یاد نہ آئے اور میں نے تیری امت کو یہ فضل دیا کہ وہی سب سے اگلے اور وہی سب سے پچھلے اور میں نے تجھے سب پیغمبروں سے پہلے پیدا کیا اور سب کے بعد بھیجا اور تھے فاتح و خاتم کیا ہے۔
جعلتك الاول النبين خلقا او آخرهم بعنا و ناظر او خانها (تفسیر ابن جریر طبری طبع مصرج ۱۵ ص ۷ تا ۹)
امام ابو داؤ د سیاسی مطولا اور ابن ماجہ مختصر اور ابو علی حضرت عبد اللہ بن عباس
سے راوی رسول الله حدیث طویل شفاعت کبری فرماتے ہیں:
یعنی جب لوگ اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے حضور سے مایوس ہو کر پھریں گے تو سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس حاضر ہو کر شفاعت چاہیں گے مسیح فرمائیں گے میں اس منصب کا نہیں مجھے لوگوں نے اللہ کے سوا خدا بنا یا تھا مجھے آج اپنی ہی فکر ہے مگر ہے یہ کہ جو چیز کسی سر بہر برتن میں رکھی ہو کیا ہے میرا اٹھائے اُسے پاسکتے ہیں لوگ کہیں گے نہ فرمائیں گے تو محمدﷺ خاتم النبیین ہیں اور یہاں تشریف فرما ہیں۔ لوگ میرے حضور حاضر ہو کر شفاعت چاہیں گے میں فرماؤں گا میں ہوں شفاعت کے لئے پھر جب اللہ عزوجل اپنی مخلوق میں فیصلہ کرنا چاہے گا ایک منادی پکارے گا کہاں ہیں احمد اور ان کی امت کی ہے تو ہمیں پچھلے ہیں اور ہمیں اگلی سب اُمتوں سے پچھلے آئے اور سب پہلے ہمارا حساب ہوگا اور سب امتیں عرصات محشر میں ہمارے لئے راستہ دیں گی۔ (مسند ابو یعلی حدیث 2324 عبد اللہ ابن عباس، مؤسسته علوم القرآن بیروت ۲/۳)
احمد و بخاری و مسلم وتر مذی حدیث طویل شفاعت میں ابو ہریرہ
سے راوی، رسول اللہ ﷺ کے فرماتے ہیں:
اولین و آخرین حضور خاتم التمین افضل المرسلین ﷺ کے حضور آکر عرض کر دینگے حضور اللہ تعالیٰ کے رسول اور تمام انبیاء کے خاتم ہیں ہماری شفاعت فرمائیں۔ (صحیح البخاری، کتاب التفسیر ، سورہ بنی اسرائیل ، قدیمی کتب خانہ کراچی،(۶۸۵/۲
ابونیم حلیة الاولیا اور ابن عساکر دونوں بطریق عطاء حضرت ابو ہریرہ
سے راوی، رسول الله فرماتے ہیں:
جب آدم علیہ الصلوۃ والسلام بہشت سے ہند میں اترے تو گھبرائے ، جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے اتر کر اذان دی، جب نام پاک آی آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا محمد کون ہیں، کہا: آپ کی اولاد میں سب سے پچھلے نبی ( ﷺ) (حلیۃ الاولیاء ترجمه عمر و بن قیس الملائی دار الکتاب العربی بیروت (۱۰۷/۵)
ابو نعیم دلائل میں یونس بن میسرہ بن جلیس سے مرسلا اور داری و ابن عساکر بطریق یونس هذا عن ابی اور لیس الخولانی عبد الرحمن بن هنم اشعری
سے موصولاً راوی وهذا الفظ المرسل رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ فرش ہونے کا طشت لے کر آیا اور پیر اشکم مبارک تیر کر دل مقدس نکالا اور اُسے دھو کر کچھ اس پر چھڑک دیا ہم کر کہا۔
حضور محمد رسول اللہ ﷺسب انبیاء کے بعد تشریف لانے والے تمام عالم کو حشر دینے والے ہی( الخصائص الکبری، بحوالہ ابی نعیم عن يونس باب ما جاء في قلبه الشريف دار المكتب الحديثة (۱۶۲/۱)
حدیث مفصل میں یوں ہے۔ جبریل اتر کر حضور کے کا شکم چاک کیا ، پھر کہا:
مضبوط و محکم دل ہے اس میں دوکان میں شنوا اور دو آنکھیں ہیں بیٹا محمد اللہ کے رسول ہیں انبیاء کے خاتم اور خلائق کو حشر دینے والے ﷺ (الخصائص الکبری باب ماجاء فی قلبه الشریف کے دارالحدیثیہ ، شارع الجمهورية بعابدین (۱۶۲/۱)
ابو نعیم بطریق شهر بن حوشب اور ابن عساکر بطریق مرتب بن رافع وغیرہ حضرت کعب احبار سے راوی نہوں نے فرمایا: میرے باپ اعلم علمائے تو راہ تھے، اللہ عزوجل نے جو کچھ موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام پر اتارا اس کا علم اُن کے برابر کسی کو نہ تھا، وہ اپنے علم سے کوئی شے مجھ سے نہ چھپاتے ، جب مرنے لگے مجھے بلا کر کہا: اے میرے بیٹے!
تجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنے علم سے کوئی چیز تجھ سے نہ چھپائی مگر ہاں دو ورق رکھتے ہیں ان میں ایک نبی کا بیان ہے جس کی بعثت کا زمانہ قریب آپہنچا میں نے اس اندیشے سے مجھے ان دو ورتوں کی خبر نہ دی کہ شاید کوئی جھوٹا مدعی نکل کھڑا ہوا تو اس کی پیروی کر لے یہ طاق تیرے سامنے ہے میں نے اس میں وہ اوراق رکھ کر اوپر سے مٹی لگادی ہے ابھی ان سے تعرض نہ کرنا، نہ انہیں دیکھا جب وہ نہی جلوہ فر ما ہو اگر اللہ تعالی تیرا بھلا چاہے گا تو تو آپ ہی اس کا پیرو ہو جائے گا یہ کہ کر وہ مر گئے ہم ان کے دفن سے فارغ ہوئے مجھے ان دونوں ورقوں کے دیکھنے کا شوق ہر چیز سے زیادہ تھا، میں نے طاق کھولا اورقی نکالے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان میں لکھا ہے:
محمد اللہ کے رسول ہیں ، سب انبیاء کے خاتم ، ان کے بعد کوئی نبی نہیں، ان کی پیدائش کے میں اور ہجرت دینے کو (الخصائص الکبری باب ما جاء فی قلبی الشریف و دار الحرشة شارع الجمهورية بعابدین (۱۶۲/۱)
بیہقی طبرانی و ابو نیم اور خرائطی کتاب الہواتف میں خلیفہ بن عبدہ سے راوی، میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے پوچھا جاہلیت میں کہ ابھی اسلام نہ آیا تھا تمہارے باپ نے تمہارا نام محمد کیونکر رکھا ، کہا میں نے اپنے باپ سے اس کا سبب پوچھا ، جواب دیا کہ بنی تمیم سے ہم چار آدمی سفر کو گئے تھے ایک میں اور سفیان بن مجاشع بن دارم اور عمر بن ربیعہ اور اُسامہ بن مالک، جب ملک شام پہنچے ایک تالاب پر اترے جس کے کنارے پیڑ تھے ، ایک راہب نے اپنے دیر سے ہمیں جھانکا اور کہا تم کون ہو؟ ہم نے کہا اولا د مشر سے کچھ لوگ ہیں۔ کہا۔
سکتے ہو تقریب بہت جلد تم میں سے ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے تم اس کی طرف دوڑنا اور اس کی خدمت واطاعت سے بہر میاب ہونا کہ وہ سب میں پچھلا نہیں ہے۔
ہم نے کہا اس کا نام پاک کیا ہوگا؟ کیا حمد ۔ جب ہم اپنے گھروں کو واپس آئے سب کے ایک ایک لڑکا ہوا اس کا نام محمد رکھا، انہیں واللہ اعلم حیث مشکل رسالت (الخصائص الکبری بحوالہ البیھقی والطبرانی و الخرائطی علی باب اخبار الاحبارات والكتب الحديثة شارع الجمهورية بعابدین ( ۵۷،۵۸،۱)
زید بن عمرو بن نفیل کہ احد العشرة المبشرة سیدنا سعید بن زید کے والد ماجد ہیں رضی اللہ تعالی عنہم وعنہ
مواحدان دمومنان عہد جاہلیت سے تھے طلوع آفتاب عالمتاب اسلام سے پہلے انتقال کیا مگر اسی زمانے میں توحید البی در سالت حضرت ختم بناری اے کی شہادت دیتے ، ابن سعد و ابو نعیم حضرت عامر بن ربیعہ
سے راوی، میں زید
سے ملائکہ معظمہ سے کوہ حرا کو جاتے تھے، انہوں نے قریش کی مخالفت اور ان کے معبودان باطل سے جدائی کی تھی ، اس پر آج اُن سے قریش سے کچھ لڑائی رنجش ہو چکی تھی، مجھے دیکھ کر بولے، اے عامر میں اپنی قوم کا مخالف اور ملت ابراہیم کا ہیرو ہوا اس کو معبود مانتا ہوں جسے ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام پوجتے تھے۔
میں ایک نبی کا منتظر ہوں جونی اسمعیل اور اولاد عبد المطلب سے ہوں گے ان کا نام پاک احمد ہے میرے خیال میں میں ان کا زمانہ پاؤں گا میں ابھی ان پر ایمان لانا اور اُن کی تصدیق کرنا ان کی نبوت کی گواہی دیتا ہوں، تمھیں اگر اتنی عمر ملے کہ انہیں پاؤ تو میر اسلام انہیں پہنچانا ، اسے عامر ! میں تم سے ان کی نعت وصفت بیان کئے دیتا ہوں کہ تم خوب پیچان لو، درمیان قد میں سر کے بال کثرت و قلت میں معتدل ، اُن کی آنکھوں میں ہمیشہ سرخ ڈورے رہیں گے، اُن کے شانوں کے بیچ مہر نبوت ہے، ان کا نام احمد ، اور یہ شہر اُن کا مولد ہے، یہیں ان کی رسالت ظاہر ہوگی، ان کی قوم انہیں ملے میں نہ رہنے دے گی کہ ان کا دین اسے ناگوار ہو گا وہ ہجرت فرما کر دینے جائیں گے، وہاں سے اُن کا دین ظاہر و غالب ہوگا، دیکھو تم کسی دھو کے قریب میں آکر ان کی اطاعت سے محروم بندر بنا۔
کہ میں دین ابراہیمی کی تلاش میں شہروں شہروں پھر ایہود و نصاری ، مجوس جس سے پوچھا سب نے ہی جواب دیا کہ یہ دین تمہارے پیچھے آتا ہے اور اس نبی کی وہی صفت بیان کی جو میں تم سے کہہ چکا اور سب کہتے تھے کہ اُن کے سوا کوئی نی باقی نہا
قد رأيته في الجنة يسحب ذيله
میں نے اُسے جنت میں دامن کشاں دیکھا ( الخصائص الکبری حوالہ ابن سعد والی نسیم عن عامر بن ربیعہ ) ( باب اخبار الاخبار الح دار الكتب الحديثة شارع الجمهورية بعابدين(1/61،62)
امام واقدی و ابونعیم حضرت مغیرہ بن شعبہ
سے حدیث طویل ملاقات مقوقس بادشاہ مصر میں رادی، جب ہم نے اس تصرانی بادشاہ سے حضور اقدس ﷺ کی مدح و تصدیق سنی اس کے پاس وہ کلام سن کر اٹھے جس نے ہمیں محمد کے لئے ذیل و خاضع کر دیا ہم نے کہا سلاطین عجم اُن کی تصدیق کرتے اور ان سے ڈرتے ہیں حالانکہ اُن سے کچھ رشتہ علاقہ نہیں اور ہم تو ان کے رشتہ دار ان کے ہمسائے ہیں وہ ہمارے گھر ہمیں دین کی طرف بلانے آئے اور ہم ابھی ان کے پیرو نہ ہوئے، پھر میں اسکندریہ میں ٹھہرا کوئی گر جا کوئی پادری قبلی خواہ رومی نہ چھوڑا جہاں جا کر مینے کی صفت جو وہ اپنی کتاب میں پاتے ہیں نہ پوچھی ہو۔ ان میں ایک پادری قبلی سب سے بڑا مجتہد تھا محمد اُس سے پوچھا،
هل بقى احد من الانبياء
آیا پیغمبروں میں سے کوئی باقی رہا؟ وہ بولا:
ہاں ایک نہی باقی ہیں وہ سب اشیاء سے پچھلے ہیں ان کے اور عینی کے بیچ میں کوئی نبی نہیں، عیسی علیہ الصلوٰة والسلام کو ان کی پیروی کا حکم ہوا ہے، وہ نبی امی عربی میں ان کا نام پاک احمد ہے۔ پھر اس نے حلیہ شریفہ و دیگر فضائل لطیفہ ذکر کئے ہغیرہ نے فرمایا: اور بیان کر اس نے اور تائے، از انجملہ کہا: انہیں وہ خصائص عطا ہوں گے جو کسی نبی کو نہ ملے ہر نبی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا وہ تمام لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے۔ مغیرہ فرماتے ہیں میں نے یہ سب باتیں خوب یا درکھیں اور وہاں سے واپس آکر اسلام لایا ۔ (دلائل النبوة لابن نعیم ، الفصل الخامس، عالم الكتب بیروت ، ص ۲۱ و ۲۲)
۳۱ کتوبر ۲۰۰۲ ء بروز جمعرات
امام ابونعیم حضرت حسان
سے راوی کہ میں سات برس کا تھا کہ مدینہ منورہ کے ایک ٹیلے سے یہودی رات کے پچھلے حصے میں احمد کریم کا نا را طلوع ہوا اب انبیاء میں سے کوئی باقی نہ رہا سوائے احمد (ﷺ) کے۔(دلائل النبوة لابی نعیم ص :۱۷)
تو رات کے قاری یہودی علماء اپنی کتب کے حوالہ سے یہ ذکر کرتے تھے کہ مکہ مکرمہ میں ایک نبی پیدا ہونگے جن کا نام احمد (ﷺ) ہو گا اب ان کے سوا کوئی نہی باقی نہیں۔ ( خصائص کبری ،ج ا ص ۶۵
(۲۴) بنی قریظہ اور نی تغیر کے یہودی علماء آپ کو کی صفت بیان کرتے رہتے تھے جب سرخ رنگ کا نارا طلوع ہوا ان یہودی علماء نے کہانی آخر الزماں پیدا ہو گئے اب ان کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ ( خصائص کبری ج اص:۶۶)
(۲۵) اعلان ہوا اے اہل مدینہ محمد کی ولادت کا نا را طلوع ہوا وہ آخر الانبیاء ہیں مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے۔ ( خصائص کبری ج :اص :۶۸)
(۲۶) یوشع یہودی عالم نے کہا آخری نبی احمد کی ولادت کا تارا طلوع ہو چکا اور یہ مدینہ انکی ہجرت کی جگہ ہے ( خصائص کبری ، ج ا ص ۶۵ ،۶۶)
(۲۷) ابن سعد حاکم بھی ابو نعیم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ
سے راوی کہ مکہ مکرمہ میں ایک یہودی پادری عالم رہتا تھا ۔ جس رات آپ ﷺ کی ولادت ہوئی وہ تقریش کی مجلس میں جا کر پوچھنے لگا کہ آج رات تم میں کوئی لڑکا پیدا ہوا قریش نے جواب دیا ہمیں پتہ نہیں وہ بولا اے قریش مکہ خوب یاد کرو جو بات میں تم سے کہتا ہوں آج رات مکہ مکرمہ میں اس آخری امت کافی پیدا ہوا۔ جس کے دو کاندھوں کے درمیان علامت ہے۔ ( خصائص کبری ج اص۱۲۳)
(۲۸) امام بخاری امام مسلم امام ترندی امام نسائی امام مالک امام احمد امام ابو داؤ د یاسی امام این سعید امام طبرانی امام حاکم امام علی امام ابو نسیم (رحمۃ اللہ علیم ) غیر ہم حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے راوی رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہیں میرے متعدد نام ہیں میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماتی ہوں کہ اللہ تعالی میری وجہ سے کفر کو کو کرتا ہے اور میں حاشر ہوں کہ لوگوں کا حشر میرے قدموں یہ ہو گا اور میں آخر ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں (صحیح مسلم ج ۲ ص۲۶۱
الا الطبرانی کی روایت میں اسم خاتم روایت ہے۔
(۲۹) میں متقی اور حاشر ہوں۔ (رواہ احمد ومسلم و الطبرانی فی الکبیر عن ابن موسی اشعری رضی اللہ عنہ ) ( صحیح مسلم ج۲،ص ۲۶۱)
(۳۰) نوٹ اسمائے طیبہ خاتم آخر مقفی تو معنی نبوت میں نص صریحی ہے۔
علماء فرماتے ہیں اہم پاک حاشر سے بھی ختم نبوت ثابت ہے نووی شرح مسلم عاشر کے معنی میں امام نووی کے حاشر سے ختم نبوت ثابت ہے۔ ( مسلم نووی ج ۲ ج:۲۶۱)
حاشر کا معنی [font (تیسیر شرح جامع صغیرج اص ۳۴۵)
حاشر کا معنی لیس بعدی نبی (جمع الوسائل فی شرح الشمائل لعلی قاری علیہ الرحمۃ الباری ج دوم ،ص: ۱۸۲)
(۳۱) ابن مردویہ تفسیر میں ابی نعیم دلائل میں اور ابن عدی اور ابن حسا کر دو دیلمی روایت کرتے ہیں حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے رب کے ہاں میرے دیس نام ہیں محمد ، احمد، فاتح، خاتم ، ابو القاسم، حاشر، آخر الانبیاء، ماحی کفریسین ،طہ (صلی اللہ علیہ والہ و صحبہ اجمعین ) (ابن عدی فی الکامل ج ۳ ص ۱۲۷۳)
(۳۲) میں حاشر ہوں میں عاقب ہوں میں خاتم الا نبیاء ہوں میں مقفی ہوں (ﷺ ) ( کامل ج ۷ ص ۲۵۲۷)
(۳۳) میں حاشر ہوں میں عاقب ہوں ( رواه الحاکم فی المستدرک و صححہ ج ۳ ص 415)
(۳۴) میں متقی ہوں اور حاشر ہوں ( ﷺ) (طبقات ابن سعد ج ا ص۱۰۵)
(۳۵) ہم زمانے میں آخر ہیں اور قیامت میں سابق ہیں ۔ ( صحیح بخاری ج ۱، ص ۱۲۰ مسلم ج ۱ ص ۲۸۲)
(۳۶) ہم دنیا میں آخر ہیں اور قیامت میں اول ہیں۔ ( صحیح مسلم ج ا ص ۳۸۲)
(۳۷) ہم آخر ہیں اور قیامت میں سابق ہیں ۔ (دارمی شریف کنز العمال ج ۱ ص ۴۴۲)
(۳۸) حضرت عمر
نے ایک یہودی سے فرمایا تم زمانے میں پہلے ہوا اور ہم آخر ہیں مگر قیامت کے دن ہم سب سے پہلے ہونگے (رواہ اسحاق ابن ابی شیبہ ،ج ۱ ۱ ص ۵۱۱، مصحف ابن ابی شیبه )
(۳۹) آپ فرماتے ہیں کہ میں فاتح و خاتم بنا کے بھیجا گیا۔ ( بیہقی شعب الایمان طبع بیروت ج ۴، ص ۳۵۸)
(۳۰) ابن ابی حاکم بغوی ثعلبی تفاسیر میں ابو اسحاق تاریخ میں ابی نعیم دلائل میں متعدد روایوں سے حضرت ابی ھریرہ
سے راوی ابن سعد طبقات ابن لال عفالے میں حضرت قتادہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کریمہ واذا اخذنا من النبيين ----- ومنك ومن نوح الآيه
اس آیت کی تفسیر میں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا
انا اولهم خلقاً وآخرهم بعثا یعنی تخلیق میں اول میں ہو اور ظہور میں آخر میں ہوں ( رواہ ابونعیم فی الدلائل )
خصائص کبری ج ۱ ص ۳، جواہر البحارج ا ص ۱۲ نا قلا عن الشفاء
نسیم الریاض للخفاجی ج ۲ ص ۴۲۳
شرح شفاءعلی قاری ج ۲ ص ۴۳۲
مرقات شرح مشکوۃ ج ۵ ص ۳۶۶
شفاء ج اص ۲۰۱، زرقانی شرح مواهب ج ۵ ص ۲۳۲
شفا ج اص ۳۷ نسیم الریاض
شرح شفاء القاری ، ج ا ص ۲۵۰
جواهر البحا را زابی نعیم ج ا س ۲۸
جواهر البحارج اص ۱۸۲ تفسیر مظہری ج ۷، ص ۲۱۰
حدیقہ ندیہ امام عبد الغنی نابلسی ج اص ۳۰
تفسیر خازن ج ۳ ص ۴۵۳
تفسیر معالم التنزیل للبغویج ۵ میں ۱۹۲
تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۳۶۹
امام سیوطی نے در منشور میں ج ۵ ص ۸۳ انو احادیث اس آیت کی تفسیر میں نقل فرمائی۔
مطالع المسرات ج ،ص ،
تفسیر روح البیان، ج ۵، ص ۲۷۱
(مزید تفصیل کے لئے شیخ الحدیث و التفسیر بیہقی وقت حضرت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی
کی معرکۃ الآراء تصنیف لطیف مقام رسول ص ۲۰۶ سے ۲۱۲ تک کا مطالعہ کریں)
(۴۱) امام محمد باقر
سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے بلی فرمایا اس لئے آپ کو انبیاء پر تقدم ہوا اور وہ آخر میں مبعوث کئے گئے۔ ( خصائص کبری ج ،۱ص:9)
(۴۲) حضرت عمر
نے آپ کے وصل کے بعد آپ سے عرض کیا آپ آخر الانبیاء ہیں۔ (المواهب اللدنیہ لامام قسطلانیج ص ۵۵۵)
(۴۳) حضرت جبریل
نے آپ سے عرض کی لسعاك اول لانك اول الانبياء وخلقاتم بآخر لانك اخر الانبياء في اخاتم الانبياء وخاتم الامم
آپ اب محمود ہے آپ محمد ہیںﷺ۔
آپ اب اول آخر ظاہر باطن ہیں
آپ ہی اول آخر ظاہر باطن ہیں
آپ نے فرمایاالحمد لله الذى فضلني على جميع النبيين
حتی کہ میرے نام میں ہی اور وصف میں ہی علی قاری شرح شفاء میں فرمایا اس حدیث کو طلمسانی نے ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ( شرح شفاء ج ۲ ص ۴۲۵)
(۴۴) آپ فرماتے ہیں مجھ سے انبیاء ختم کئے گئے۔ (صحیح مسلم ج ا،ص:۱۸۹)
(۴۵) میں خاتم النبین ہوں یہ بات فخر انہیں کہہ رہا ہوں ۔ (دارمی ج اص ۳۹ بسند صحیح بخاری ( تاریخ ) طبرانی اوسط میں پہلی سنن میں ابو نیم دلائل میں اس حدیث کے خرج ہیں)
(۴۶) میں اللہ کے ہاں لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہوں کہ میں خاتم النبین ہوں ۔ (رواہ احمد محہ الحاکم فی المستدرک رج (۲۰۰ ۲
(۴۸) متم قصر نبوت ﷺ نے فرمایا میں ہی نبوت کی آخری اینٹ ہوں جس سے نبوت کا محل مکمل ہو گیا رسولوں کا مجھ سے انتقام ہوا۔ میں ہی آخری نبی ہوں۔
صحیح بخاری ج ا ص ۵۰۱ صحیح مسلم ج ۲ ص ۲۳۸ مشکوة شریف ص ۵۱۱)
(۴۹) تو اور میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے راوی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اول الرسل آدم و آخر هم محمد صلی الله عليه وعلى نبينا وسلم
(۵۰) طبرانی اوسط میں اور صغیر میں ابن عدی کامل میں حاکم کتاب المحجرات بھی اور ابونعیم ولائل میں ابن عساکر تاریخ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے راوی آپ کے اصحاب کے مجمع میں تشریف فرما تھے قبیلہ بنی عالم امکان کے بادشاہ نے فرمایا:
من تعبد
المسلم قال اس ذات کی عبادت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دلائل النبوۃ لابی نعیم ج ۲ ص ۱۳۲
اس حدیث کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا۔
امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے جامع صغیر میں نقل کیا۔
۲ نومبر ۲۰۰۲ بروز ہفتہ
امام ترمذی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے راوی انہوں نے فرمایا حضور ے کے دوشانوں کے بیچ میں مہر نبوت اور حضور خاتم النبین ہیں۔ (جامع ترندی ج ۲ ص ۲۰۵)
طبرانی اور ابو نعیم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے درود شریف کا ایک صیغہ بلیغہ راوی فرمائے الحاتم الماسیقی انبیاء سابقین کے ختم کرنے والے ( حجم اوسط ۹۰۸۵، ج ۱۰، ص ۳۶)
نبی کریم ہی کے فرماتے ہیں انما عنی اسرائیل سیاست فرماتے ہیں جب ایک نبی تشریف لے جانا دوسرا اس کے بعد آنا میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ ( صحیح بخاری ج ا جس ۳۹۱)
احمد ترندی حاکم بسند صحیح مع اقرار می حضرت انس رضی اللہ عنہ سے راوی رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہیں کہ رسالت اور نبوت ختم ہو گئی اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی ۔ (ترمذی ج ۲ میں ۵۱)
امام بخاری حضرت ابو هریرة رضی اللہ عنہ سے راوی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں نبوت سے کچھ باقی نہ رہا صرف بشارتیں ہاتی ہیں اچھے خواب ۔ ( صحیح بخاری ج ۲ ص ۱۰۳۵)
طبرانی کبیر نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سند صیح راوی کہ رسول اللہ ﷺ کے فرماتے ہیں نبوت گئی۔ میرے بعد ثبوت نہیں مگر بشارتیں ہیں، اچھا خواب کہ انسان آپ دیکھے یا اس کے لئے دیکھا جائے۔(طبرانی کبیر ۳۵۵۱، ج ۳، ص۱۷۹)
احمد اور ابن ماجه وابن خزیمه و این جهان کل ما فی احمد فهو مقبول (اصول حدیث)
صحیح امام الائمه ابن خزیمہ اور ابن حبان میں ہر حدیث صحیح ہے یہ ام قرظ سے راوی خاتم العین می فرماتے ہیں نبوت ختم ہوگئی اور بتارش باقی ہیں ۔ ( سنن ابن ماجہ ص ۲۸۷)
حضور ﷺ نے فرمایا اے لوگو نبوت کی بشارتوں سے کچھ باقی نہ رہا سوائے اچھے خوابوں کے جو مسلمان خود دیکھے یا اس کے لئے دیکھا جائے ۔ (سنن ابن ماجہ ص ۱۸۶، ۲۸۷)
رسول الله فرماتے ہیں: لو کان بعدی نبی لکان عمر
اگر میرے بعد کوئی نہیں ہوتا عمر ہوتے (احمد بترندی، حاکم طبرانی وقیانی ابویعلی حضرت ابن عساکر خطیب لمن حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہا) طبرانی حضرت ابو سعید خدری سے مذکورہ حدیث راوی (جامع ترمزی ج ۲ ص ۲۵۲)
اسماعیل بن ابی خالد سے ہے میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی صوفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ نے ابراہیم بن صاحبزادہ رسول کے کو دیکھا تھا فر مایا ان کا بچپن میں انتقال ہوا اور اگر مقدر ہوتا نبی کریم نے کے بعد کوئی نبی ہو تو حضور کے صاحبزادے حضرت ابراہیم زندہ رہے مگر حضور کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (رواہ البخاری ج ۲ ص ۹۱۴ )
امام احمد کی روایت میں انہی سے ہے فرمایا:
لوكان بعد النبي له بنی مامات ابنه ابراهیم (مسند احمد ،ج:۴ ،ص۳۵۳)
ابن عبد اللہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے راوی انہوں نے فرمایا حضرت ابراہیم بن محمد کو اتنے ہو گئے تھے کہ ان کا جسم مبارک گہوارے کو بھر دیتا اگر زندہ رہتے نہیں ہوتے مگر زندہ نہ سکے تھے کہ تمہارے نبی آخر الانبیاء ہیںشرح زرقانی علی المواهب ج ۳، ص ۲۱۷۰۱۵)
اسکی اصل احادیث مرفوعہ سے ہے
رسول اللہ نے فرمایا : لو عاش ابراهيم لكان صديقا نبيا - (کنز العمال ج ۱۱ ص ۴۲۹)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس امت میں نہیں کے قریب دجال کذاب نکلیں گے ہر ایک ڈھوٹی کرے گا کہ یہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (رواہ البخاری عن ابی حریرة رضی اللہ تعالی عنہ واحمد و مسلم ابو داؤد والترنزی و این ماجه عن ثوبان رضی اللہ عنہ ) ( بخاری ج ۲ ص ۱۰۵۶)
نبی کریم فرماتے ہیں کہ میری امت دعوت میں 27 کذاب دجال ہونگے ان میں چار عورتیں ہونگی حالانکہ میں خاتم الانبیاء ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (رواہ احمد والطبرانی والضیاء من حذیفہ رضی اللہ عنہ ) ۔ (مسند احمد (۵اص (۳۹۲)
رسول اللہ ﷺ کے فرماتے ہیں قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میں دجال کذاب مدعی نبوت نکلیں گے۔ (تاریخ این عساکر، ج ۳، ص ۳۴۳)
خاتم النبین ﷺ فرماتے ہیں۔
قیامت نہ آئے گی جب تک تمہیں کذاب نہ نکلیں ان میں مسیلمہ اور اسود عسی اور مختار ثقفی ہے۔ (رواہ ابو یعلی فی المسند بسند حسن عن عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہا) (مسند ابو یعلی ج ۷ ہیں (۱۹۹)
حضرت امیر المؤمنین مولی علی کرم اللہ تعالی وجہ الکریم کے بارے میں تواتر حدیثیں ہیں کہ نبوت ختم ہوگئی نبوت میں حضرت علی کا کچھ حصہ نہیں۔
آخر الانبیا ﷺ نے فرمایا اے علی کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم میرے یہاں ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام جب اپنے رب سے کلام کے لئے حاضر ہوئے تو ہارون علیہ السلام کو اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے حالانکہ فرق ہے ہارون نبی تھے میں جب سے نہیں ہوا دوسرے کے لئے نبوت نہیں میرے بعد کوئی نبی نہیں اے علی تو نبی نہیں۔
امام احمد مند میں بخاری، مسلم ترندی بنسائی ، ابن ماجہ، ابن ابی شیبہ ابن جریر تھذیب الآثار میں کئی سندوں سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے راوی امام حاکم بن صحیح استاد مستدرک میں طبرانی کبیر واوسط میں اوبکر فوائد میں ہزار حسن بن سعد موٹی علی سے ابن عساکر عقیل عن علی رضی اللہ عنہ، امام احمد حاکم طبرانی عقیلی، عن ابن عباس ن رضی اللہ عنہ ، امام احمد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے ، احمد ہزار ابو بکر مطیری ابو سعید حسن ابوترندی جابر سے اور حضرت ابوهريرة رضی اللہ عنہ سے طبرانی کبیر میں خطیب کتاب المحقق یں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ابونعیم فضائل صحابہ میں بطبرانی کبیر نے حضرت براء بن عازب زید بن ارقم جابر بن ثمره مالک بن زیرسید ه ام سلمہ زوجہ مولی علی حضرت اسماء رضی اللہ عنہم اجمعین سے راوی ہیں مرضی اللہ تعالی عنہم اجمعین مسند احمد مستدرک میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
حضرت اسماء کی حدیث میں ہے
جبریل امین نے خاتم النین ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی ان ربك يقرئك السلام فرما ہے علی تجھے سے بمنزلہ ہارون کے بہ نسبت موسیٰ ہیں ولکن لانبی بعدی (طبرانی ج ۱۳ ص ۱۳۶)
فضائل صحابه مش امام احمد راوی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے ایک مرتبہ پوچھا امیر نے فرمایا مولی علی سے پوچھو وہ اعلم ہے صاحب نے کہا اے امیر مجھے آپ کا جواب ان کے جواب سے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت امیر نے فرمایا تو نے سخت بری بات کبھی ایسے کو نا پسند کیا جس کے علم کی نبی عزت فرماتے تھے۔
بے شک حضور ﷺ نے ان سے کہا تجھے مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
اے سائل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب کسی بات میں شبہ پڑتا تو اس کا حل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کراتے فضائل صحابہ احمد بن مقبل ج اس (۲۷۵)
ابو نعیم حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے راوی افضل الانبیاء ﷺ نے فرمایا اے علی میں مناصب جلیلہ اور مناقب و فضائل کثیرہ میں تجھ پر غالب ہوں میرے بعد نبوت اصلا نہیں، ( علی ج اس (۱۵)
آخر الانبیاء ﷺ نے فرمایا اے علی میں نے اللہ عزوجل سے جو کچھ اپنے لئے مانگا اس کی مانند تیرے لئے مانگا میں نے جو کچھ چاہا مجھے عطا ہو اگر فرمایا گیا کہ تمہارے بعد کوئی نبی نہیں۔ (ابن جریر طبرانی اوسط میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے راوی کنز العمال ج ۱۳ ص ۱۷۰)
نمبرا : امام مھاب الدین معتمد فی المتقید میں فرماتے ہیں آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی پیدا نہ ہو گا جو اس میں شک کرے اور وہ کہے آپ کے بعد کوئی نبی تھایا ہے یا ہو گیا مکن ہے وہ کافر ہے۔
ایمان کی سلامتی اس میں ہے آپ آخر الانماء ہیں۔
نمبر ۳،۲ : امام ابن حجر کی اور امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہا امام اعظم کے زمانے میں ایک مدعی نبوت نے کہا مجھے مہلت دو کوئی نشانی دکھاؤں امام اعظم نے فرمایا جو اس سے نشانی مانگے گا کافر ہو جائے گانشانی مانگنے سے آقا کے ارشاد قطعی مبارک ضروریت دین کی تکذیب کرتا ہے آقا نے فرمایا میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (الخیرات الاحسان ص ۱۱۹)
فتاوی هند یه فتاوی اصول اما دیه جوامع المقصود و غیر ھامیں ہے اب کسی مدعی نبوت سے معجز طلب کرنا کافر ہو جانا ہے۔ (فتاوی عالمگیری ج ۲ ص ۲۱۳)
(۸) مدعی نبوت کی تکفیر خود ہی روشن ہے اس لئے مجوزہ ما لکھنے والا بھی کافر ہے ہمارے نبی سے کے بعد دوسرانی ممکن نہیں (اعلام القواطع الاسلام فتاوی عالمگیری ج ۲ ص ۲۹۳)
(۱۰،۹) اگر کسی نے یہ تمنا کی کہ کاش ہمارے نبی کے زمانے میں یا آپ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو ایسی تمنا کرنے والا کافر ہے۔ (الاعلام ص ۳۵۲)
(۱۲،۱۱ ، ۴۱،۱۳) جو شخص آپ کے کو آخر الاخیا نہ مانے وہ پکا کافر ہے کیونکہ ضروریات دین میں سے ضروری بنیاد مند کا منکر ہے۔
الاشباہ والنظائر میں ہے۔ (اشباہ و النظائرج (ص ۲۹۷) (عالمگیری ج ۲ ص ۳۲۳)
(۱۵) اگر کسی نے کہا میں نبی ہوں یہ مقولہ بالاجماع کفر ہے۔ (تاتارخانیہ عالمگیری ج ۴ میں ۲۷۷)
(۱۶) امام قاضی عیاض خطاء میں امام خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں۔
آپ کے زمانے میں اور آپ کے بعد نبوت کا دھوئی کیا وہ پکا کافر ہے کیونکہ آپ کا آخر الانماء ہونا
قرآن وحدیث سے ثابت ہے اس کا معمر اللہ ورسول کی تکذیب کرتا ہے ۔ (کتاب الشفاء ج ۲ ص ۲۷۲) (نسیم الرياض ج ۲ ص ۵۰۲ سے ۵۰۹ تک)
مجمع الانہر میں ہے جو شخص اس بات پر ایمان لائے کہ حضور کی کے اللہ کے برحق رسول ہیں اور آخر الانماء نہیں وہ شخص مومن نہیں ۔ ( مجمع الانجرج ایس ۲۹۱)
علامہ یوسف فرماتے ہیں جو آپ کے زمانہ میں یا آپ کے زمانہ کے بعد نبوت کا ڈھوٹی کرے وہ کافر ہے
امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کتاب الاقتصار طبع معرص ۱۱۴ میں فرماتے ہیں۔
ساری امت کا اس بات پر اجماع ہے اور سب نے بالاتفاق خاتم المین کا مفہوم یہی سمجھا اور یہی بیان کیا کہ آپ آخر الانبیاء ہیں جو شخص آپ کے بعد کسی نبی کا آنا جائز قرار دے وہ کافر ہے عیسی علیہ السلام آپ کے بعد نبی نہیں ہونگے وہ پہلے سے نبی ہیں لہذا ان کا نازل ہونا آخر الانبیاء کے منافی نہیں۔ ( تحفہ شرح منہاج اور معتقدص ۱۲۸، ۱۲۷) شرح فرائد میں امام نابلسی فرماتے ہیں کہ حضور کے بعد مدعی نبوت کا فر ہے۔ اس لئے کہ لفظ قرآن خاتمالمین کا منکر ہے اور احادیث نبویہ لانی بعدی دانی عاقب کا مکذب ہو کر کافر ہو اس پر امت کا اجماع ہے۔ (المعتقدالمتقدص ۱۱۴ ۱۱۵)
جس شخص کا یہ اعتقاد ہو کہ اب نبوت حاصل کی جاسکتی ہے وہ زندیق بے دین ہے۔ (مواہب اللد نی ج ۳ ص ۱۸۳) علامہ زرقانی نے اس کے کفر کی یہ دنیل دی ہے کہ وہ خاتم النبین لفظ قرآنی کی تکذیب کر کے کافر ہوا ۔(روح البیان ج ۷، ص۱۷۷)
جو شخص ہمارے نبی کے بعد کسی اور نبی کا پیدا ہونا مانے وہ کافر ہے اس لئے کہ اس نے قرآن اور نبی کے فرمان کا انکار کیا۔ عقیدہ کی مرکزی کتاب تمہید ابوشکور میں ہے۔
آپ کے بعد نبوت کا موید کافر ہے اس لئے کہ اللہ تعالی نے آپ کو خاتم النبین فرمایا اس جھوٹے مدعی سے دیل طلب کرنے والا بھی کافر ہو جائے گا۔ تمہید ص ۱۱۴۱۱۳)
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ختم نبوت اور نبوت کے بعد صدیق کی افضلیت یقینا ثابت ہے اس کا منکر کافر ہے۔ (شرح مسلم بحر العلوم ملک العلماء میں ۲۷۰)
اس بات کی ذکر کے بعد آپ خاتم النبین ہے۔ ( مسلم ج ۲ ص ۲۳۸)
جب احادیث کے بعد بیان کی مدعی نبوت کذاب دجال ہے۔ (بخاری ج ام ۲۵۲)
امام ابو داؤد نے بھی ج ۲ ص ۲۳۳ ، پریدگی نبوت کو کذاب اور دجال ثابت کیا ہے۔
امام ترندی نے جامع میں ج ۲ ص ۵۱، باب باندھا، نبوت ختم ہو گئی
امام علی نے بھی سنن جو میں ۱۸۱، پر حضور نے کے بعد نبوت کے دعی کو دجال اور کذاب ثابت کیا ہے۔
صاحب کنز العمال نے بھی فرمایا
ان الرسالة والنبوة قد انقطعت
ابوانی نسیم نے دلائل کے ص ۱۰۹ پر یہ حدیث نقل فرمائی کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے حضور خاتم النبین مقرر ہو چکے
امام ابن عبدالبر نے اپنی کتاب الاستیعاب کے ج ام ۲۱ پر آپ کے ختم نبوت کے دلائل احادیث صحیحہ سے بیان فرماتے ہے۔
حافظ عسقلانی فرماتے ہیں کہ آپ پر رسولوں کا انتقام ہوا۔ (فتح الباری شرح بخاری ، ج ۵۳، ص ۳۱۴) امام قسطلانی شارح بخاری فرماتے ہیں:
حضور عاقب ہیں اور عاقب وہ ہوتا ہے جو سب کے بعد آئے جسکے بعد کوئی نبی نہ ہو ۔ ( ج ۶ ہیں )
مدارک ج ۳ ص ۲۳۳ تفسیر خازن ج ۵ ص ۲۱۸ تفسیر کشاف ج ۳ ص ۲۳۹ تغییر معالم التنزیل لامام بغوی صاحب مصالح ج ۵ ص ۲۸ تغییر ابن عباس رضی اللہ عنہماص (۲۱۲)
اللہ تعالی نے آپ پر نبوت ختم کی اب آپکے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ۔ (تفسیر جلالین ص ۲۶۶ تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص
لفظ خاتم النبین اس آیت میں اس بات پر نص ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ خاتم الانبیاء کا اجماعی ترجمہ آخر الانماء ہے۔
۳ نومبر ۲۰۰۲ بروز اتوار
قاسم نانوتوی نے لکھا ہے (بائی مدرسہ دیوبند )
بعد حمد و مصلوٰۃ کے قتل عرض جواب یہ گزارش ہے کہ اول معنی خاتم النبین معلوم کرنے چاہئیں تا کہ فہیم جواب میں کچھ وقت نہ ہو سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ ﷺ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ وختم النبینی فرمان اس صورت میں کو کر کیچ ہوسکتا ہے ۔ (تحذیر الناس ص ۳ مطبوع دیوبند)
پھر نانوتوی نے لکھا اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ (تحذیر الناس ص ۲۸ طبع دیوبند )
اس مضمون کی ایک اور عبارت بھی تحذیر الناس میں موجود ہے اور نانوتوی نے اس اپنی کتاب تحذیر الناس میں یہ لکھا ہے کہ قرآن لفظ خاتم النبین کا یہ پر اترجمہ میں نے گھڑا ہے مجھ سے پہلے کسی مفسر اور مترجم نے یہ ترجمہ نہیں کیا۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ عنہ نے ان تینوں عبارات پر کفر قلعی کا فیصلہ (فتوی) دیا من شک فی کفر وهذا به فقد کفر ۔ یعنی جو ان عبارات میں کفر کا شک کرے وہ خود کافر ہو جائے گا اور اسی فتوٹی پر علماء حرمین اور مصر و شام کے علماء کی تصدیقات حسام الحرمین میں ہیں۔
علماء چرمین نے پانچ افراد پر (غلام احمد قادیانی، قاسم نانوتوی رشید گنگوری، خلیل ، نیوی، اشرف علی تھانوی پر انکی کفریہ عبارات کی وجہ سے کفر قطعی کا فتوی دیا اور ائمہ اسلام نے علماء عقائد کے حوالہ سے یہ لکھا جو ان کے کفر میں شک کرے تو وہ بھی کافر ہے دیوبندی تحذیر الناس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ امام احمد رضا نے تحذیر الناس کی تین عبارات کو ایک کر کے علماء حرمین کو سامنے پیش کیا ۔ جو ابا عرض ہے کہ تینوں عبارات ملانے سے کفر نہیں بلکہ ہر عبارت مستقل کفر ہے۔
دیوبندیوں کا دوسرا اعتراض کہ اگر اور بالفرض کے لفظوں کو دیکھو تو اس سے کفر کیسے ثابت ہوگا جو ابا عرض ہے۔
نانوتوی نے آپ کے زمانہ کے بعد نبی کا پیدا ہونا لکھا ہے۔ جب وہ فی الواقع نبی کا پیدا ہونا مان رہا ہے تو خاتمیت محمدی میں ضرور فرق آجائے گا۔
ہاں دجال اور کذاب کے آنے سے آپ کی خاتمیت میں کوئی فرق نہیں آسکتا مزید وضاحت کے لئے اس عبارت کا فوٹو اسٹیٹ حاضر ہے۔
اگر بالفرض نانوتوی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے تو نا تو توی کے نکاح میں کچھ فرق نہ آئے گا اگر تین طلاقیں دینا نکاح میں فرق لاتا ہے تو نبی کریم نے کے بعد کسی نبی کے پیدا ہونے سے آپ کی خاتمیت میں فرق آجائے گا۔
لفظ خاتم النبین کا اجماعی معنی آخر الانبیاء تحریر ہو چکا ہے مزید گھر کی چھری اور اپنی ناک۔
جو اس کا انکار کریں یہ قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔
قاسم نانوتوی پر ان کے اپنے گھر سے بمباری دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے مولوی ادریس کا ندھلوی دیوبندی لکھتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ خاتم النبین کے معنی آخر النبین ہی کے ہیں جس نبی پر یہ آیت اتری اس نے آیت کے بہی معنی سمجھے اور یہی سمجھائے اور جن صحاب نے اس نبی سے قرآن اور اسکی تعمیر پر بھی انہوں نے بھی بھی معنی سمجھے فمن بناء فليومن ومن نشاء يكفر " مسک الختام فى ختم نبوت میں (26)
الجھا ہے پاؤس یا رکا زلف دراز میں
چاہ کرنا چاه در پیش
عربی مقوله
من حفر بئراً فقد وقع فيها
معلوم ہواد یو بندی بناط اپنی تحریروں سے کافر ۔
حضور پر نور رحمتہ للعالمین خاتم النبین ہے کے بعد کذاب دجال مدعیان نبوت کے چند اسماء
فاتح رفض و خروج و قادیان فوت زمان قبلہ سید مہر علی شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالی علیہ اپنی محرکة الآراء تصنیف لطیف سیف چشتیائی کہ میں ۱۹۷ درس ۹۸ میں رقمطراز ہیں۔
مسیلمہ کذاب اور اسود علی اور حمدان بن ترمط اور محمد بن عبد الوہاب نجدی) کے بعد بھی قادیانی صاحب ہیں جنہوں نے اپنے کو ہی سمجھا اور ازالہ اوھام کے ص ۱۷۳ میں آیہ مبشر نہر سول پاتی من بعد حاسمہ احمد کے تحت لکھا کہ آنے والے کا نام جو احمد کہا گیا ہے وہی اس کی نظیر کی طرف اشارہ ہے۔
يطلع قرن الشيطن
۔1طلوع مشرق سے ہوتا ہے نجد سعودیہ عربیہ میں مشرق کی طرف ہے۔
2۔ھھنا ہے سرکار نے ہاتھ مبارک سے اشارہ کیا۔
3۔امام بخاری نے فرمایا عراق والوں کا میقات نجد والوں کا میقات قرن ہے۔
دنیائے اسلام کی معروف شخصیت مفتی حرم مکہ المکرمہ امام احمد بن زینی دحلان علیہ الرحمة والرضوان اپنی شہرہ آفاق کتاب الدر السعيد في الرد على الوہابیہ مں ۲۷ طبع عرب مصرور کی میں فرماتے ہیں: والظاهر من حالمحمد بن عبد الوهاب انه يدعى النبوة اه ابن عبد الوہاب نجدی کے حال سے ظاہر ہے کہ وہ نبوت کا دعویدار تھا۔
غیر مقلدین اور دیوبندیوں کے مشفق علیہ اور مستمد اور محمد پیشواء اسماعیل قیل دہلوی نے لکھا: اس شہنشاہ (اللہ تعالی) کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم کن سے چاہے تو کروڑوں نبی ولی جن فرشتہجبریل اور محمد پیدا کر ڈالے ( تقویۃ الایمان میں اس مطبوعہ دہلی)
السنة الجالية الاشرف علی تھانوی (جھوٹی نبوت ) الامداد تھانوی طبع تھانہ بھون ص ۳۵ ماه صفر ۱۳۳۷ء
کلمه دیوبندی :لا اله الا الله اشرف على رسول الله
دیوبندی درود :اللهم صل على سيدنا ونبينا ومولانا اشرف على
غیر مقلدین کا کلمہ :لا اله الا الله عبد الجبار امام الله
مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اپنے مسلک اہلحدیث غیر مقلدین کے امام عبد الجبار اور ان کے معتقدین کے متعلق لکھا
ہمارے ملک میں ایک نئی تثلیث قائم ہوئی ہے۔ جو عیسائیوں کی تثلیث سے زیادہ مضبوط ہے وہ کسی طرحنہیں چاہتے کہ کسی قوم سے ملکر کام کریں۔
جو شخص یہ نما نے کہا اللہ الاللہ عبد الجبار امام اللہ اس سے ملنا جائز نہیں۔ اخبارا المحدیث امر ترس امکالم تن ۱۵۰ اپریل ۱۹۱۲ء)
دیوبندی مکتبہ فکر کے رشید گنگوہی نے بھی مرزا قادیانی پر کفر کا فتوٹی نہ لگایا اور اس کے رد میں کوئی کتاب نہ لکھی جبکہ کنگوری ۱۹۰۵ء میں فوت ہوا اور مرزا قادیانی ۱۹۰۸ء میں مرا اور مرزا قادیانی نے 1900ء میں نبوت کا دعوی کیا گنگوہی کے فتاوی رشیدیہ میں مرزا قادیانی کے خلاف ایک فتوئی بھی نہیں بلکہ رشید گنگوری نے مرزا قادیانی کو ہر دو صالحقرار دیا ۔ گنگوہی نے مرزا کے تردید کرنے والوں کی تردید کی اور قادیانی کو مرد صالح قرار دیا۔ بحوالہ (فتاوی قادریہ میں
يحمدك الله يمشی اليك
اے مرزا قادیانی اللہ تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلتا ہے۔ (براہین احمدیہ میں ۵۹۲،۵۵۷) وہابیہ المحدیث غیر مقلدین نے مرزا قادیانی کی کتاب براھین احمدیہ کی تائید کی تصدیق کی تعظیم شوان الحدیث والوں نے لکھا ہے۔
براهین احمد یہ عظمت قرآن اور رسالت محمدیہ کو ثابت کرنے کی عرض سے لکھی گئی (سنت ج سے ص ۶ بحوالہ نجد سے قادیان براسته دیو بند )
نومبر ۲۰۰۲ بروز پیر
فوائد فریدیہ میں حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ نے احمد یہ قادیانی کو جہنمی قرار دیا۔
مقانین المجالس لمحفوظات خواجہ فرید علیہ الرحمہ جسکا مصنف مرزا نواز خواجہ صاحب کے ساتھ کچھ عرصہ ہا اس نے مرزا کو اچھا کیا۔
سوال کیا یہ عقیدہ اجتماعیہ اہل اسلام کو دربارہ مرفوع ہونے یعنی اٹھائے جانے مسیح ابن مریم کے آسمان پر
جواب کا فراہل اسلام مسیح بن مریم کو مرفوع الی السماء بجده العصری مانتے ہیں الا بعض اہل تحقیق نے جسم برزخی کے قائل ہیں مگر نزول مسیح پر سب ہیں اتفاق رکھتے ہیں۔
سوالان من اهل الكتب الآيه
کوئی اہل کتاب نہیں بچے گا یہودی وغیرہ سارے کے سارے حضرت عیسٰی علیہ السلام پر ایمان لائیں گے ان کو موت نہیں آئے گی وہ یہودی ایمان لائیں گے۔
1)لما اراد الله ( تفسیر ابن ابی حاتم و تفسیر نسائی شریف)
امام مجاہد فرماتے ہیں۔
(تفاسیر) تفسیر ابن کثیر تفسیر در منشور تغییر این جزیر
(احادیث) کنز العمال، مسند امام احمد، جامع کبیر
حضرت ابو ہریرہ حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عثمان بن حضرت ابوامامہ ، حضرت عبد الله بن عمر و بن العاص، حضرت حذیفہ ، حضرت جابر، حضرت ثمرہ بن جندب، حضرت عائشہ صدیقہ ، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔
(۳)وانه لا علم الساعة
نزول عیسی بن مریم علامات قیامت کے ایک علامت حضرت ابن عباس حضرت ابوہریرہ امام مجاہد ، حضرت حسن بصری ابوالا یہ ابو مالک کرم ماده ضحاک تغیر ابن کثیر رضی اللہ تعالی نهم متد و مافيه من الحد اید فی اثبات این اسید پیر بر علی یا شاہ صاحب رضی اللہ عنہ
۵ نومبر ۲۰۰۲ ۰ بروز منگل
آيت :انا بشر مثلكم الخ یہ آیت متشابہات میں ہے
بقول شیخ محقق رضی اللہ عنہ (مدارج النبوت)
(1) اما برفع عیسیٰ فاتفق اصحاب الاخبار والتفسير على رفعه ببدنه حیا وان اختلفو اهل مات قبل ان يرفع اونام اھ
حافظ الدنیا حافظ ابن حجر عسقلانی قدس سرہ النورانی اپنی تلخیص الحدیث میں ۳۱۹ میں لکھا ہے۔
(۲) تفسیر البحر المحیطص ۲۷۳ ج ۲ پر ہے۔
اجمعت الامة على ما تضمنته حديث المتواتر من ان عيسى في السماء حي وانه ينزل في آخر الزمان
ساری امت کا اجماع ہے اور حدیث متواتر ہے کہ عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور آخر زمانہ میں اتریں گے۔
(۳)تفسیر النھر الماد،ص:473 ج:2،پر ہے :
واجمعت الامة على ان عيسى حى في السماء وينزل الى الارضیعنی امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ عیسی علیہ السلام آسمان میں زندہ موجود ہیں آپ قیامت میں انہیں پر اتریں گے۔
(۴) تفسیر مجمع البیان ص ۵۲ پر
والاجماع على انه حي في السماء وينزل الدجال ويويد الدنيا ويقتل ای طرح تحقیر
(۵ ) علم عقائد کے امام امام ابو الحسن الاشعری کتاب العباره عن اصول الدیا نہ میں ۴۶ پر فرماتے ہیں۔
قال تعالى يا عيسى انى متوفيك وراكبك الى وقال الله تعالى وما قتلواه يقينا بل رفع الله اى واجمعت الامة على ان الله عز وجل رفع عيسى الى السماء
(1 ) شیخ اکبر ابن العربی سید المكاشفین امام الاولیا الکاملین فتوحات مکیہ باب نمبر ۷۳
انه ينزل في آخر الزمان
یعنی سیدنا عینی علیمینا و علیہ الصلوٰۃ والسلامآخر زمانہ میں اتریں گے۔
( ۷) علامہ سفارین شرح عقید مقاریہ میں ۹۰ ج پھر فرماتے ہیں کہ عینی علیہ السلام کا نزول من السماء
کتاب اور سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے ویل کے لئے علامہ موصوف نے ان من اھل الکتاب والی آیت اور حدیث ابوھریرہ رضی اللہ عنہ
الذي رواه الشيخانسے اثبات اور استشہاد کرنے کے بعد فرمایا۔
فقد اجتمعت الأمة على نزوله ولم يخالفه فيه احد من اهل الشريعةسوائے
فلاسفه مالا حدہ کے من ان لا يعتد بخلافه یہ بے دین ایسے لوگ ہیں ان کا خلاف معتد دین ہے۔
وقد انعقد اجماع الامة وليس ينزل بشريعة مستقلة من السماء وان كانت
النبوة قائمة به وهو متفق بها
یعنی امت کا اس بات پر اجماع ہے اہل شریعت محمدیہ کا کوئی فرد اس کا مخالف نہیں کہ عینی علیہ السلام اپنے جسم سے قرب
قیامت میں زمین کی طرف آئیں گے اپنی شریعت کا اجراء نہیں کریں گے وہ شریعت محمدی کے تابع ہونگے اگر چہ وہ اس وقت بھی نبوت سے متصف اور موصوف ہونگے۔
علامہ محقق امام زرقانی مالکی شرح مواہب الدنی ج ۵ ص ۳۳۷ پر فرماتے ہیں۔
نبی علیہ السلام رسول بھی ہیں اور آقا کے صحابی بھی ہیں۔
۲ نومبر ۲۰۰۲ روز بده
مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے آپ کو میل مسیح اور مہدی اور ابن مریم ہونے کا با رہا ر اعلان کیا ان ۔۔۔ عبارات کے علاوہ اس کے کفریات کثیرہ سے دس کفریات فی الحال لکھوائے جاتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت تعظیم البرکت امام اہل سنت مجد د دین دولت شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا خانعلیہ الرحمة والرضوان نے اپنے ایک رسالہ السوء والعقاب علی اصح الکذاب میں لکھا ہے مرزا کی تحریروں میں صاف صاف انکار ضروریات دین اور باوجوہ کثیرہ کفر وارتداد مبین فقیران میں سے بعض کی اجمالی تحصیل کرے گا۔
کفر اول: مرزے کا ایک رسالہ ہے جس کا نام ایک غلطی کا ازالہ ہے اس کے مقوس ۱۷ پر لکھتا ہے۔
میں احمد ہوں جو آیت مبشراً برسول یا تی من بعدی اسمه احمد میں مراد ہے۔ آیہ کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا مسیح رہائی عیسی بن مریم روح اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ مجھے اللہ عز و جل نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے تو رات کی تصدیق کرنا اور اس رسول کی خوشخبری سنانا جو بعد تشریف لانے والا ہے جس کا نام پاک احمدہ ہے۔
از الہ کے قول ملعون نے کور میں صراحتا ادعا ہوا کہ رسول پاک جنکی جلوہ افروزی کا مردہ حضرت میم لائے معاذ اللہ مرزا قادیانی ہے مزید حوالہ توضیح المرام مطبوعہ ریاض الهند امر تسر ص ۱۶ کفر دوم توضیح المرام طبع ثانی ص 19 ایک اور طبع میں میں 7 اپر قادیانی لکھتا ہے کہ میں محدث ہوں اور محدث بھی ایک معنی سے نہی ہوتا ہے۔
امام احمدرضا رضی اللہ عنہ نے لکھالا الہ الا الله لقد كذب روح اللہ یعنی اللہکے سوا کوئی معبود نہیں دشمن خدا نے جھوٹ بولا اے مسلمانوںسید المحد ثین امیر المؤمنینحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں کہ انہوں نے ان کے واسطے سے حدیث محمد تین آئی انہی کے صدقہ میں ہم نے اس پر اطلاع پائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگلی امتوں میں کچھ لوگ محمد شہ ہوتے تھے یعنی فراست صادقہ و الہام حق والے اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تو وہ ضرور تمرین خطاب ہے رضی اللہ عنہ سے احمد اور بخاری نے روایت کیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بخاری ج ام ۵۲ مناقب عمر رضی اللہ عنہ
اور اسی حدیث کو احمد ، مسلم پترنزی اور نسائی نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ (ترندی ج ۲، ص ۲۱۰)
فاروق اعظم نے نبوت کے کوئی معنی نہ پائے ارشاد فر مایا:
لوکان بعدی نبى لكان عمر بن الخطاب رضى الله عنه
اسے احمد رندی اور حاکم نے عقبہ بن عامر سے اور طبرانی نے کبیر میں اسماء بنت مالک سے روایت کیا ۔ (بخاری جا
میں ۵۳ مستدرک ج ۳، ص ۸۵ جامع ترندی ج ۲ (۳۹)
مگر پنجاب کا محدث (حادث) یہ حیا نہ محدث ہے نہ محبت ہے یہ ضرور ایک معنی پر نہی ہو گیا۔
الا لعنة الله على الكذبين والعياذ بالله رب العلمين کفر سوم: قادیانی اپنی کتاب واضع البلاء مطبوعہ ریاض مهندس اپر لکھتا ہے۔ نیز مطبوعہ قادیانی ص ۲۲
هو الذي ارسل رسوله بقادیان
کچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا
کفر چهارم براہین احمدیہ میں قادیانی نے لکھا اس عاجز کا نام اللہ تعالی نے امتی بھی رکھا ہے اور نبی بھی۔
ان اقوال خبیثہ میں اولا کلام انہی کے معنی میں مریخ تحریف کی کہمعاذ اللہ آیہ کریمہ میں بے شک قادیانی مراد ہے نہ کہ
حضور ثانیا فی اللہ و رسول الله دکلمتہ اللہ عیسی روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام پر افتراء کیا کہ وہ اسکی بشارت دینے کو اپنا تشریف لانا بیان فرماتے تھے۔
ثالثا اللہ عز وجل پر افتراء کیا کہ اس نے عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایک شخص قادیان کی بشارت دینے کے لئے بھیجا اور
اللہ عز و جل فرماتا ہےان الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون-
بے شک جو لوگ اللہ عز وجل پر جھوٹ بہتان اٹھاتے ہیں فلاح نہ پائیں گے اور فرماتا ہے:
انما يفترى الكذب الذين لا يؤمنون افتراء
وہی باندھتے ہیں جو بے ایمان کا فر ہیں۔
را بعا اپنی گھڑی ہوئی کتاب براہین غلامیہ کو اللہ عزوجل کا کلام کرایا کہ خدا تعالی نے براہین رحمیہ میں یوں فرمایا ہے اور اللہ عز و جل فرماتا ہے۔
فويل اللذين يكتبون الكتاب بايديهم ثم يقولون هذا من عند الله ليشتر و ابه ثمنا قليلا فويل لهم مما كتبت ايديهم .....
ان سے قطع نظر ان کلمات ملعونہ میں صراحتا اپنے لئے نبوت و رسالت کا ادعائے کبیرہ ہے اور وہ با جماع قطعی کو مریحہے فقیر نے رسالہجزا ء اللہ عد و با باء ختم النبوة معفر ۱۳۱۷ د خاص اس مسئلے میں لکھا اور اس میں آ کر آن اور ایک حدیث اور تین نصوص کو جلوہ دیا۔ اور ثابت کیا کہ محمدرسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین مانتا ان کے زمانے میں خواران کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقینا قطعا محال اور باطل جانا فرض اجل جز ایمان ہے۔ خاتم النبین آیہ نص قطعی قرآن ہے اس کا منکر نہ منکر بلکہ شر کرنے والا نہ شمار ادئی ضعیف احتمال خفیف سے تو ہم خطاب رکھنے والا اجالا کافر معلون مختلافی امیر ان ہے نہ لیا کہ وہ کافر ہو بلکہ جو ا سکے عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہونے میں شک وتر دو کو راہ دے وہ بھی کافر ہے۔
الكفر جميع الكفرانہے۔
قول دوم و سوم شاید و ھیا اس کے اذناب آج کل کے بعض شیاطین سے سیکھ کر تاویل کی آڑ میں یہاں نبی ورسول سے معنی نوی مراد ہے یعنی خبر دار یا خیر دهنده را فرستاده مگر یہ محض حیث ہے۔ اولا صرت لفظ میں تاویل نہیں کی جاتی فتاوی خلاصہ حصول - جامع العضو فتاوی ہندیہ میں ہے۔
واللفظ ... هو قال انا رسول الله اوقال بالفارسيه من پیغمبرم پریا به من پیغام می برم یکفر (فتاوی عالمگیری طبع پشاوی ج ۲ ص ۲۷۳)
امام قاضی عیاضعلیه الرحمه ادام
کتاب الشفاءمیں فرماتے ہیں۔
قال احمد بن ابی سلیمان صاحب رحمتہ اللہ تعالی فی ۔ جل قبل له لا فقال] ( مخارج اص ۲۰۹)
یعنی امام احمد بن ابی سلیمان تحمید رفیق امام رحمتہ اللہ تعالی سے ایک مردک کی نسبت کسی نے پوچھا کہ اس سے کہا گیا تھا کہ رسول کے حق کی قسم اس نے کہا اللہ رسول اللہ کے ساتھ ایسا ایسا کرے اور اس پر کلام ذکر کیا کہا گیا کہ دشمن خدا تو رسول اللہ کے بارے میں کیا بکتا ہے تو اس سے بھی سخت تر لفظ لگا پھر بولا میں نے اس رسول اللہ ہے۔۔۔ مراد لیا تھا امام احمد سے مفتی نے فرمایا تو تم اسے سے گواہ ہو جاؤ اور اسے سزائے موت دلانے اور اس پر ثواب ملے گا تو میں اس کا شریک ہوں تو حاکم شرح کے حضور اس پر شہادت دو میں ثابت کرونگا ہم تم اس کو سزائے موت دلانے کا ثواب پائیں امام جیب نے فرمایا کہ اس میں تاویل کا دھوئی مسموع نہیں ہوتا ۔
امام علی قاری علیہ رحمۃ الباری اسکی شرح میں فرماتے ہیں یعنی وہ جو اس مردک نے کہا کہ میں نے بچھو مرا دلیا اس نے رسالت عرضی کو معنی نوی کی طرف ڈھالا کہ بچھو کو بھی خدائی نے بھیجا اور خلق یہ مسلط کیا ہے ایسی تاویل قواعد شرع کے نزدیک مردود ہے۔ ( خفاجی ج ۲ ص (۳)
علامہ خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں تقوی معنی جس کی طرف اس نے ڈھالا ضرور بلا شک حقیقی معنی ہے بایں ہم قاتل کا دھوئی مقبول نہیں کہ اس نے معنی تقوی مر کہ لئے تھے اس لئے کہ بیتا ویل دور از کار ہے لفظ کا اس کے معنی ظاہری سے پھر جانا مسموئے تھیں جسے کوئی اپنی صورت تو طالق ہے میں نے مراد لے لیا تھا کہ تو کھلی ہوئی ہے کہ بندھی ہوگی نہیں ایسی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگا اور اسے زیاں سمجھا جائے گا۔ (نسیم الریاض ج ۲ ص ۳۳۳) تانیا و اس انقاض مرح و فضل جانتا ہے ایسی بات
تمام دانت منہ میں ہیں تیری آنکھیں ابرو کے نیچے ہیں کوئی عاقل بلکہ نیم پاگل بھی ایسی بات کو جو ہر انسان پر بھنگی چہار بلکہ پر جانور پر کافر مرتد میں موجود ہو گل طرح میں ذکر نہ کرے گا نہ اس کے فضل وشر جانے گا بھلا کہیں براہین غلامیه
میں یہ بھی لکھا ہے سچا خدا وہی ہے جس نے مرزے کی ناک میں دو مجھے رکھے مرزے کے کان میں دو گھونگے بنائے یا خدا نے براہین احمدیہ میں لکھا ہے اس عاجز قادیانی کے ناک ہوتوں سے اوپر ہے کیا ایسی بات لکھنے والا پورا مجنون پکا پاگل نہ کہلایا جائے گا شک نہیں وہ معنی بنوی یعنی کسی چیز کی خبر رکھنا یا دینا یا بھیجنا ہوا ہونا کی مثالوں سے بھی زیادہ عام ہے جائزوں کے ناک۔۔۔ اصلا نہیں ہوگی مگر خدا نے انہیں علم ہے۔۔۔۔ مرد کی پیٹھ سے مادہ کے پیٹ سے دنیا میں میدان میں بھیجا جس طرح اس مروک خبیث نے بچھو کو رسول بھی مقوی بنایا اللہ تعالی فرماتا ہے۔
فارسلنا عليهم الطوفان الخ
ہم نے فرعونوں پر بھیجے طوفان نڈیاں اور جوش اور مینڈ کیں اور خون کیا مرزا ایسی بیمار سالت پر فخر رکھتا ہے۔