logoختم نبوت

حیات مسیح علیہ السلام۔۔۔از۔۔۔مولانا محمد شفیع اوکاڑوی

ویسے تو اختلاف آرام و مذہب سے کوئی بھی دور خالی نہیں گزرا ۔ لیکن موجودہ دور اس لحاظ سے زیادہ نازک انتہائی خطر ناک اور تباہ کن ہے۔ اس لئے کہ خود مسلمانوں میں بد قسمتی سے ایسے فرقے اص افراد پیدا ہو گئے ہیں جنھوں نے اسلام کے حصار محکم کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتے ہیں اپنی تمام قوتیں صرف کر دی ہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گذشتہ ادوار میں بھی اسلام اور مسلمانوں کو جتنا نقصان ان ما رہا ئے آستین سے پہنچا اتنا نقصان کفار و مشرکین سے نہیں پہنچا۔

یہ مارہائے آستین مصلحین کا لباس پہن کر نمودار ہوتے ہیں ۔ ان کا ظاہر بڑا دلفریب اور باطن سراسر مکرو فریب ہوتا ہے ۔ یہ گندم نما جو فروش یہ سمجھتے ہیں کہ کہ ہم نے ملت کی اصلاح میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ حالانکہ ملت کی تباہی وبربادی کا سبب یہی مفسدین اور منافقین ہی ہوتے ہیں ۔

لیکن موجودہ دور میں ان مفسدین نے اپنی خواہشات نفسانی اور اغراض طعونہ کی تکمیل کے لئے جس طرح قرآن وحدیث اور شریعت و سنت کو تختہ مشق بنایا ہے اسکی مثال نہیں ملتی ۔

مگر الحمد للہ دین و ملت کے محافظ اللہ کی رحمت سے ایسے ایسے مخلص اور پاکباز بندے پیدا ہوتے رہے جو ان عیار و مکار لوگوں کی عیاریوں، مکاریوں کا پردہ چاک کر کے ملت کو آگاہ کرتے رہے اور انشاء اللہ کر تے رہیں گے ۔

علمائے کرام کے اس مسلسل جہاد اور پیہم کوشش کے باوجو د بھی بعض فرقے جسم ملت پر ناسور کی طرح ملت کے لئے انتہائی کرب واذیت کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔

انگریز نے مرزائے قادیان کی جھوٹی نبوت کی تخلیق اور پھر اپنے زیر سایہ اسکی پرورش کر کے ملت اسلامیہ پر جو کاری ضرب لگائی ہے وہ سخت تباہ کن ثابت ہو رہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے ۔ مرزا صاحب قادیانی کے عقائد باطلہ میں سے ایک عقیدہ باطلہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ sym-9وفات پاچکے ہیں اور جس عیسیٰ ابن مریم کے آنے کی احادیث نے خبر دی ہے اور وہ میں ہی ہوں اور مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ عیسی ابن مریم آسمان پر زندہ اٹھالئے گئے ہیں اور قرب قیامت نازل ہوں گے بالکل غلط ہے۔ جو ایسا عقیدہ رکھتے ہیں گمراہ ہیں بے دین ہیں (معاذ اللہ ) اس لئے بندہ نہایت اختصار کے ساتھ مسئلہ حیات مسیح ہدیہ ناظرین کر رہا ہے ۔

(وما توفیقی الا بالله العلى العظيم )

مسئلہ حیات مسیح:

مسئلہ حیات مسیح بیان کرنے سے پہلے یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ اس مسئلہ کو مسئلہ ختم نبوت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ اگر بفرض محال حیات مسیح ثابت نہ ہو سکے تو بھی حضورﷺ آخری نبی ہیں آپ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرتا آیات قرآنی اور احادیث نبوی کا مریح انکار اور کفر ہے ۔

رہا مسئلہ حیات مسیح تو یہ مسئلہ قرآن کریم احادیث نبویہ اور اجماع امت سے ایسا واضح طور پر ثابت ہے کہ اہل اسلام میں سے آج تک کسی نے اس سے اختلاف تک نہیں کیا۔ البتہ چند فلاسفہ اور ملحد لوگوں نے اس کا فر در انکار کیا لیکن علماء امت نے بر ایران کا رد کیا اور دلائل قطیعیہ سے ثابت کیا کہ حضرت عیسی sym-9زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور قرب قیامت نزول فرمائیں گے ۔ چند دلائل ملاحظہ ہوں ۔

ا: اللہ تعالیٰ نے یہود کے ملعون و مغضوب ہونے کے جو وجوہ اور اسباب ذکر فرمائے انہیں فرمایا ۔

وَ بِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرِيمَ بهتانا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحُ عِيسَى بن مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ علم الا اتَّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ وَكَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا1

اور لیبب ان کے کفر کے اور مریم صدیقہ) پر عظیم بہتان لگانے کے اور ان کے اس قول کے سبب کہ ہم نے مسیح ابن مریم رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے حالانکہ نہ انھوں نے اسکو قتل کیا اور نہ انھوں نے اسکو سولی دیا ۔ بلکہ انکے لئے اسکی شبیہ کا ایک بنا دیا گیا ۔ اور بے شک وہ لوگ جنھوں نے اختلاف کیا اس (عیسی sym-9) کے بارے میں وہ بھی شک و شبہ میں ہیں ان کے پاس اس کا کوئی صحیح علم نہیں بجز گمان کی پیروی کے اور انھوں نے یقیناً اس (علی، کو قتل نہیں کیا بلکہ اسکو اللہ نے اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے ۔

اس آیت میں چند باتیں نہایت قابل غور ہیں ۔

اولاً :یہود پر لعنت کے اسباب سے ایک سبب ان کا یہ قول ہے کہ ہم نے مسیح کو قتل کر دیا ۔ لہذا جو یہ کہے کہ مسیح ابن مریم مقتول اور مصلوب ہوئے وہ ملعون ہے ۔

ثانیاً :ان کا یہ قول کہ ہم نے مسیح کو قتل کر دیا محض قول ہی قول اور صرف زبانی دعوئی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ نہ انھوں نے قتل کیا نہ صلیب دیا دونوں کی الگ الگ مستقل نفی فرمائی تاکہ واضح ہو جائے کہ ہلاکت کی کوئی صورت میں نہیں آئی ۔

ثالثاً: فرمایا کہ ان کے لئے آ لئے ایک کو عیسیٰ کا شبیہ اور ہمشکل بنا دیا گیا تا کہ اسکو عیسیٰ سمجھ کر قتل کریں اور ہمیشہ کے لئے اشتباہ میں پڑے رہیں چنانچہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح کے قتل کا ارادہ کیا تو پہلے ایک شخص ان کے گھر میں داخل ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا اور اس شخص کی صورت آپ کی صورت کے مشابہ کر دی ۔ جب دوسرے لوگ گھر میں گھسے تو انھوں نے اس شخص کو مسیح سمجھ کر قتل کر دیا ۔ جب مقتول کو اچھی طرح دیکھا تو کہنے لگے اس کا چہرہ تو مسیح کے چہرے سے مشابہ ہے اور باقی بدن ہمارے ساتھی کا معلوم ہوتا ہے ۔

بعض نے کہا کہ اگر یہ مقتول مسیح ہے تو ہمارا آدمی کہاں گیا اور اگر یہ مقتول بہار آدی ہے تو مسیح کہاں ہے ؟ عرض کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ صحیح علم کسی کو بھی نہیں ۔ چنانچہ یہود و نصاری کے تمام فرقے غلط فہمیوں اور اشتباہ کا شکار ہیں اور صرف جھوٹے گمان کی اتباع کرتے ہیں۔

رابعا : حضرت مسیح کے متعلق تمام پھیلے ہوئے نظریات کا بطلان کر کے فرمایا کہ جس عیسیٰ کو انھوں نے قتل نہیں کیا اور سولی نہیں دی اس کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا کیونکہ یہ امر بالکل واضح ہے کہ قبل رفعہ کی ضمیر اسی طرف راجع ہے جس طرف ملوک اور ملبوی کی تعمیریں راجع ہیں اور ظاہر ہے کہ قتل اور صلیب حسم ہی کا ممکن ہے روح کا قطعاً نا ممکن تو معنی یہ مکن ہے روح کا قطعانا ممکن و معنی یہ ہوئے کہ جس جسم کو انھوں نے قتل نہیں کیا اور سوئی نہیں دی اسی جسم کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا ۔ اٹھا لیا ۔

خامسا : یہود کا قول کہ ہم نے مسیح ابن مریم کو قتل کر دیا جسم کے قتل سے متعلق تھا نہ کہ روح کے ؟ اور اسی جسم کے قتل کی اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی کہ تم غلط کہتے ہو کہ تم نے اس کے جسم کو قتل کیا یا صلیب پر چڑھایا ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم کو صحیح و سالم آسمان پر اٹھا لیا۔ لہذا ثابت ہوا کہ اللہ تعالے نے جسمانی قتل و صلیب کی نفی فرمائی اور جسمانی رفع کا اثبات فرمایا ۔

سادسا :کلمہ بل کے ماقبل اور مابعد میں منافات اور تضاد کا ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ فرمایا وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمنُ وَلَدًا سُبُحْنَهُ بَلْ عِبَادُ مُكْرَ مُونَ دیکھئے ما قبل ولدیت اور مابعد عبودیت ہے اور دونوں میں منافات ہے دونوں جمع نہیں ہو سکتے اور زیر بحث آیت میں کلمہ زنبل کے ما قبل قتل اور صلیب ہے اور ما بعد رفع الی الله ہے تو اگر رفع الی اللہسے روحانی رفع بمعنی موت ہو تو ان دونوں میں منافات اور تضاد نہیں یہ دونوں ؟ یہ دونوں جمع ہو سکتے ہیں دیکھئے شہداء کا جسم قتل ہو جاتا ہے اور روح آسمان پر اٹھالی جاتی ہے ۔ ٹھالی جاتی ہے ۔ لہٰذا ضروری ہوا کہقبل رفعہ اللہ میں رفع جسمانی مراد ہو جو کہ قتل اور صلیب کے منافی ہے ۔

سابعا : اگر اس آیت میں رفع روحانی بمعنی موت مراد ہو تو ماننا پڑے گا کہ وہ رفع یہود کے قتل اور صلیب سے پہلے واقع ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أَمْ يَقُولُونَ بِه جنَّهُ بَلْ جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ ۔ اور فرمایا وَ يَقُولُونَ اَئِنَا لَتَارِ کو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونَ بَلْ جَاءَ هُمُ بالحق ان آیتوں میں حضور ﷺ کا حق لے کر آنا ان کے شاعر اور مجنوں کہنے سے پہلے واقع ہوا ۔

اسی طرح رفع روحانی بمعنی موت کو ان کے قتل اور میلب سے پہلے ماننا پڑے گا حالانکہ مرزا صاحب قادیانی اسکے قائل نہیں وہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ sym-9 یہود سے نجات پاکر فلسطین سے کشمیر گئے وہاں عرصہ دراز تک یعنی شناسی سال زندہ رہے پھر وفات پائی اور سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے وہیں آپ کا مزار ہے(معاذ اللہ)

ثامنا :یہ کہ رفع روحانی بمعنی موت مراد لینے سےوَكَانَ الله عَزیز حکیما کے ساتھ مناسبت نہیں رہتی کیو نکہ عزیزاً حکما ایسے ہی موقع پر فرمایا جاتا ہے جہاں کہ کوئی عجیب و غریب اور فارق عادت امر پیش آیا ہو چونکہ رفع جسمانی عجیب و غریب امر تھا لہذا عزیز احكيما فرما کہ اس طرف اشارہ فرمایا۔ وہ اللہ غالب و قادر اور حکیم ہے کسی کو زندہ آسمان پر اٹھا لینا اس کے لئے کوئی محال اور مشکل امر نہیں بلکہ وہ اس پر قادر ہے اور وہ حکیم بھی ہے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا ۔ لہذا حضرت مسیح sym-9کو زندہ آسمان پر اٹھانا مصلحت و حکمت پر مبنی ہے۔

تاسعاً :یہ کہنا کہ آسمان پر جانے کی کوئی تصریح نہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْر الْمَاكِرِينَ إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى إِلَى مُتَوَفِّيكَ وَرَا فِتْكَ إلى وَ مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَى مَرْجِعُكُمْ فَاحْكُمُ بَيْنَكُمْ فيما كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (آل عمران)

اور یہودیوں نے مسیح کو قتل کرنے کی ، خفیہ سازش کی اور اللہ نے بھی ( مسیح کو بچانے کی خفیہ تدبیر کی اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر کر نے والا ہے ۔ )جبکہ فرمایا اللہ نے اسے علی بے شک میں تجھے پورا پورا لینے والا ہوں اور مجھے اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھانے والا ہوں اور تجھے پاک کرنے والا ہوں ان لوگوں کی تہمتوں سے جنہوں نے دتیرا، انکار کیا ۔ اور جنھوں نے تیری پیروی کی انکو قیامت تک تیرے، منکروں پر غالب کرنے والا ہوں۔ پھر تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے پس (اس وقت) میں فیصلہ کروں گا تمھارے در میان دان امور کا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے۔

اور جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسے عیسیٰ ابن مریم کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری والدہ کو اللہ کے سواد و مجبور بنا لو ؟ اس کے جواب میں عیسیٰ sym-9 جو کچھ کہیں گے اس میں یہ بھی کہیں گے۔

ما قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَن ا عبد اللهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمُ شَهِيدًا مَا دُمُتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَو فَيْتَنِي كُنتُ انتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَھید2

میں نے انھیں کہا مگر وہی جس کا تو نے مجھے حکم دیا ۔ کہ عبادت کرد اللہ کی جو میرا بھی اور تمھارا بھی پروردگار ہے اور میں ان پر مطلع تھا۔ جب تک میں انہیں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگراں تھا اور تو ہر چیز کا مشاہد کرنے والا ہے۔

وَإِن مِنْ اهْلِ الْكِتَابِ الآليو مِنن. به قبل موتِهِ وَيُومَ الْقِيَامِهِ يَكُونُ . عَلَيْهِمْ شَهِيدًا

اور کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں ہو گا مگر وہ ضرور ضرور ایمان لائے گا۔ عیسی ( sym-9) پر انکی موت سے پہلے اور وہ (عیسی sym-9) ان پر قیامت کے دن گواہ ہوں گے۔

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں جمہور مفسرین فرماتے ہیں کہ ہم اور موتہ کی دونوں ضمیریں حضرت عیسی sym-9 کی طرف راجع ہیں جیسا کہ سیاق و سباق سے بھی واضح ہے۔ اور خود نبی کریم ﷺ، صحابہ کرام ، تابعین، اور ائمہ عظام sym-7 سے بھی ایسا ہی مروی ہے ۔ چنانچہ ملاحظہ ہو۔ حضرت ابو ہریرہ sym-5 فرماتے ہیں کہ حضور ﷺنے فرمایا ۔

والذي نفسی بیده لیوشکن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عد لا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الحرب ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون -السجدة الواحدة خيرلہ من الدنيا وما فيها تم يقول ابوهريرة واقروا ا ان شتم وان من اهل الكتاب الاليو مننن ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا3

اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے بے شک عنقریب تم میں ابن مریم نازل ہونگے اس حال میں کہ وہ حاکم عادل ہوں گے۔ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے جنگ کو ختم کر دیں گے اور اسقدر مال بہا دیں گے کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ہوگا۔ اور ایک سجدہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوگا۔ پھر ابو ہریرہ sym-5نے فرمایا اگر چاہو تو اسکی تصدیق کے لئے یہ آیت پڑھو۔وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ الايۃ

مرزا صاحب قادیانی اور ان کے متبعین کہتے ہیں واقر اوا ان شئتم یہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد نہیں بلکہ ابو ہریرہ کا استنباط ہے جو حجت نہیں ۔ یعنی یہ حدیث مرفوع نہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ امام ابن سیرین جلیل القدر تابعی sym-5فرماتے ہیں کہ کل حدیث ابی ہریرہ عن النبی ﷺد شرح معانی الاثار صبا ، کہ ابو ہریرہ کی تمام حدیثیں مرفوع ہیں بظاہر وہ موقوف ہوں۔ لیکن ہم ثابت کرتے ہیں کہ یہ روایت مرفوع ہے ملاحظہ ہو حضرت ابو ہریرہ sym-5فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ۔

یوشک ان منزل فيكم ابن مریم حکم عد لا يقتل الدجال وتقتل الخنزير ويكسر الصليب ويصع الجزية ويفيض المال حتى يكون السجدة واحدة الله رب العلمين واقر أوا ان شئتم وان من اهل الكتاب الالیومنن به قبل موته موت عیسی ابن مریم4

عنقریب تم میں سے ابن مریم نازل ہوں گے اس حال میں کہ وہ حاکم عادل ہوں گے ۔ دجال کو اور خنزیز ۔ کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے اور مال کو بہا دیں گے ۔ یہاں تک کہ سجدہ صرف اللہ رب العالمین کے لئے ہی ہوگا اور اگر چاہو تو تو ۔ د تصدیق کے لئے یہ آیت پڑھو۔وان اهل الكتاب الالیو منن به قبل موته موت عیسی بن مریم دیکھئے یہ روایت مرفوع ہے اور حضور ﷺکا ارشاد ہے ۔ اور اس ارشاد گرامی میں ہے ۔ قبل موتہ موت علی ابن مریم -

اور حضرت قتادہ و حضرت ابن عباس sym-8 بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں کہ قبل موت سے مراد موت عیسیٰ ابن مریم ہے۔ ملاحظہ ہو۔وان من اهل الكتاب الالیو منن به قبل موته قال موت عیسی بن مریم5

حضرت حسن بصری sym-5 اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:قبل موتہ قال قبل موت عیسیٰ والله انه الآن لمی عند الله ولكن اذا نزل آمنوا به اجمعون6 کہ قبل موتہ سے مراد موت عیسیٰ ہے اور خدا کی قسم وہ عیسیٰsym-9 اس وقت اللہ کے پاس یقیناً زندہ ہیں ۔ اور جب نازل ہوں گے سب اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے ۔

ان آیتوں میں چند باتیں نہایت قابل غور ہیں ۔ اولاً ۔ یہودیوں کی خفیہ سازش اور اللہ تعالے کی خفیہ تدبیر کیا تھی۔ تو اس سلسلے میں تمام مفسرین فرماتے ہیں کہ یہودیوں کی خفیہ سازش و تدبیر حضرت عیسی کو قتل کرنے اور صلیب دینے کی تھی اور اللہ تعالٰی کی خفیہ تدبیر حضرت عیسیٰsym-9 کے بچانے اور زندہ آسمان پر اٹھانے کی تھی ۔ تو یہودیوں کی سازش ناکام ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر غالب و کامیاب ہوئی اس لئے کہ اللہ سب سے بہتر تدبیر فرمانے والے ہیں۔ ہو نہیں سکتا کہ کسی کی تدبیر اللہ کی تدبیر پر غالب آجائے ۔

ثانیا : اگر اس آیت میں تو فی سے مراد موت ہی جائے تو یہ یہودیوں کی تدبیر کی کامیابی ہوگی کیونکہ انکی تمنا آمنہ یہی تھی کہ میں کو ختم کر دو تو اللہ نے ان کو موت دے کہ یہودیوں کی تمناؤ آرزو کے مطابق کر دیا۔ پھر تو اللہ تعالے کی تدبیر کو ناکام ماننا پڑے گا ر معاذ اللہ

ثالثا : اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح sym-9 کا ذکر فرمایا کہ انکی قوم نے آپس میں حلفیہ طور پر یہ طے کیا کہ رات کے وقت صالح sym-9 اور ان کے اہل کو قتل کر دیں اور بعد میں ان کے وارثوں سے کہدیں گے کہ ہم تو اس موقعہ پر موجود ہی نہ تھے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس طرح :

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ7

انھوں نے صالح sym-9 کے قتل کی خفیہ سازشیں کیں اور ہم نے بھی ران کے بچانے کی ، خفیہ تدبیر کی کہ انکو خبر بھی نہ ہوئی تو دیکھ لو ان کے مکر کا کیا انجام ہوا بیشک ہم نے ان کو اور انکی ساری قوم کو ہلاک کر دیا ۔

دیکھئے اس آیت میں بھی دمکرم کے بعد دمکرنا ہے ۔ قوم ثمود نے صالحsym-9 کے قتل کی تدبیر کی تو اللہ نے ان کے بچائے کی آخر اللہ کی تدبیر غالب ہوئی ۔ صالح sym-9 زندہ و سلامت رہے اور قوم تباہ و برباد ہو گئی ۔ ایسا ہی حضور ﷺکے ذکر میں فرمایا :-

وَاذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيَتُبُوكَ او يَقْتُلُوكَ أَو يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُنَ وَيَمْكُرُ اللهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ8

اور (اے محبوب) ، یا دکہ رجب کفار تمہارے متعلق سازشیں کر رہے تھے کہ تھیں قید کر دیں یا تمھیں قتل کر دیں یا تمھیں جلا وطن کر دیں وہ بھی خفیہ سازشیں کر رہے تھے اور اللہ بھی خفیہ تدبیر فرما رہا تھا۔ اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر کرنے والا ہے۔

دیکھئے اس آیت میں بھی ویمکرُونَ کے بعد دیگر اللہ ہے ۔ کفار مکہ نے حضور ﷺ کے قتل وغیرہ کی خفیہ سازشیں کیں تو اللہ تعالے نے بھی آپ کی حفاظت کی خفیہ تدبیر فرمائی ۔ آخر اللہ تعالے کی تدبیر غالب ہوئی کہ آپ کو صحیح سلامت مدینہ منورہ پہنچا دیا اور کفار کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔

اسی طرح اللہ تعالی نے حضرت عیسیٰ sym-9کے ذکر میں فرمایاوَمَكَرُوا وَ مَكَرَ اللهُ وَاللَّهِ خَيْرُ الْمَاكِرِينَکہ یہود نے ان کے قتل کی سازشیں کیں اور اللہ تعالیٰ نے انکی حفاظت کی تدبیر کی کہ دشمنوں سے بچا کہ آسمان کی طرف ہجرت کرادی۔

فائدہ :

حضور ﷺ کی ہجرت مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ اس لئے کہ آپ کے اجزائے جسمیہ مدینہ منورہ کی مبارک زمین سے لئے گئے تھے اور حضرت عیسیٰsym-9کی ہجرت آسمان پر ہوئی اس لئے کہ ان کے اجزائے جسمیہ آسمان سے جبریل امینsym-9 لے کر آئے تھے اور جہاں سے کسی کے اجزائے جسمیہ آتے ہیں وہیں اسکی ہجرت ہوتی ہے اور ہجرت کے بعد واپسی ضرور ہوتی ہے ۔ دیکھئے حضور نبی کریمﷺہجرت کے کچھ عرصہ بعد مکہ فتح کرنے کے لئے تشریف لائے اور اہل مکہ آپ پر ایمان لائے ۔ اسی طرح عیسیٰ sym-9بھی فتح اسلام کے لئے ضرور تشریف لائیں گے اور اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے ۔

مذکورہ بالا دلائل سے ثابت ہو گیا کہ انی متوفیكَ وَرَافِعُكَ إِلَى اور فَلَمَّا تَوَفِّيَتَنَى کا مطلب موت کے بعد روحانی طور پر اپنی طرف اٹھانا نہیں ہے بلکہ پورا پورا یعنی بمعہ جسم وروح زندہ اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھاتا ہے ۔

رابعا : إِلَى مُتَوَفِيكَ اور فَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِنی کا معنی کیا ہے ؟ مُتَوَفِی اور توفیت کا مصدر ہوتی ہے اور توفی وفا سے مشتق ہے وفا کے اصلی اور حقیقی معنی ہیںاخذا شیئی وافیاکسی چیز کو پورا پورائے لینا کہ کچھ باقی نہر ہے۔

قرآن کریم کی دو آیات ملاحظہ ہوں :

كل نفس ذائقة الموت وانما توفون أجُورَكُمْ يَوْمَ القيامة9

ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے اور سوائے اس کے نہیں کہ تم قیامت کے دن پورا پورا اجر دیئے جاؤ گے۔

ثُمَّ تَوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُم لا يظلمون10

پھر پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔

فائدہ کچھ تھوڑا بہت اجبرو تو دنیا میں بھی مل جاتا ہے اس لئے فرمایا کہ پورا پورا اجر قیامت کے دن ملے گا ۔

اور یہی ہے جوتم کو ات کو پورا پورا سے پتا ہے اور جانتا۔ الے اور ہے جو تم نے دن میں کمایا ۔ اس آیت میں توفی کا اطلاق نیند پر ہوا ہے ۔ چونکہ نیند کے وقت عقل وادراک اور تمیز و ہوش کو پورا پورا لے لیا جاتا ہے اس لئے کوئی کا اطلاق ہوا اللهُ يَتَوَ فِى الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِي لَمْ تَمْتُ فِي مَنَا مها12 اللہ ہی قبض کرتا ہے نفسوں کو جب ان کے مرنے کا وقت ہوتا ہے اور جو نہیں مرے انکو قبض کرتا ہے انکی نیند کے وقت ۔

اس آیت میں کس قدر صاف تصریح ہے کہ موت کے وقت تو فی ہوتی ہے مگر تو فی غیر موت نہیں اور موت کے ساتھ اس کو جمع اس لئے کیا گیا کہ موت کے وقت روح پوری پوری نے لی جاتی ہے ۔ حاصل یہ کہ توفی کے معنی وہی استیفار اوراخذ الشیئی وافیا کسی شیئی کو پورا پورا لے لینا کے ہیں۔ توفی میں کوئی تغیر و تبدل نہیں صرف توفی کے متعلق ہیں ۔ تبدیلی ہوتی ہے کسی جگہ توفی کا متعلق اجر و ثواب ہے تو وہ پورا پورا دیا جائے گا ۔ کسی جگہ نیند ہے تو اسمیں عقل و اور اک اور تمیز و ہوش کو پورا پورا لے لیا جاتا ہے ۔ اور کسی جگہ موت ہے تو اس میں روح کو پورا پورا لے لیا جاتا ہے آیات زیر بحث میں توقی کا متعلق حضرت عیسیٰsym-9 ہیں اور عیسیٰ صرف روح کا نہیں بلکہ روح من الجسم کا نام ہے اورمُتَوَفِيكَ وَرَافِعک میں خطاب حسم مع الروح کو ہے لہٰذاانی متوفیک ورافعک الی کا معنی یہ ہوا کہ بے شک میں تجھے پورا پورا اس طرح لے لوں گا کہ تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اسی حقیقت کو حضرت علی sym-9 قیامت کے دنفلما تو فیتنیکے الفاظ میں ظاہر فرمائیں گے کہ جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو پھر تو ہی ان پر حکمراں تھا۔ مذکورہ بالا بیان کی تصدیق و تائید میں اکابر مفسرین کے ارشادات ملاحظہ ہوں۔

1۔(ابن جریر ،183/3)وقالو بعضھم هي وفاة نوم وكان معنى الكلام على من هيم انی منمک و رافعك في نومك مقال آخرون معنی ذالك انى قابضك من الارض فنوا فعك الى قالوا ومعنى الوفا - القبض كما يقال توفيت من فلان مالى عليه بمعنى قبصة واستوفيته قالوا نمعنى قوله انی متوفیک و رافعک ای قابضك من الارض حيا الى جواری و آخذك الى ما عندى بغير موت

فرماتے ہیں کہ وفات نبند ہے ان کے اور بعض فرماتے طریق پر کلام کا معنی یہ ہوگا کہ بیشک میں تجھے سلاؤں گا اور نیند کی حالت میں تجھے اٹھاؤں گا اور دوسرے سب یہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ بیشک میں تجھے زمین سے پورا پورا لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اس لئے کہ وفا کا معنی قبض کرتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ میں نے فلاں سے اپنا سارا مال لے لیا ہے۔ یعنی قبضے میں کر لیا ہے ۔ لہذا ارشاد ربانی انی متوفیک ورا فوک کا معنی یہ ہے کہ میں تجھے زمین سے بغیر مدت کے زندہ اپنی جوار میں لے لوں گا۔

2۔( ابن جرير ،184،3)عن الحسن في قول الله عز و جل یا عیسی انی متوفیک ورافعک الى قال رفعه الله الیہ فہو عنده فی اسماء

حضرت امام حسن بصری sym-5اللہ تعالی کے اس قول انی متوفیک کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اللہ نے انکو اپنی طرف اٹھا لیا ہے تو وہ اللہ کے پاس آسمان میں ہیں ۔

3۔(تفسیر بیضاوی ،119/2(4)ارشاد الساری شرح بخاری ،109/7)( فلما توفیتنی ) با الرفع إلى السماء يقوله تعالیٰ انی متوفیک واقعہ والتوفى اخذ الشيى وافيا والموت نوع منه

فلما تو فیتنیکا معنی ہے آسمان پر اٹھا نا جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے انی متوفیک ورافعک اور تو کی کا معنی ہے شیئی کو پورا پورا سے لینا اور موت اسکی ایک نوع ہے۔

4۔(تفسير كبير ،486،3) ،فلما توفيتنى والمراد منه وفاة الرفع الى السماء من قوله انی متوفیک و رافعک الی

فلما تو فیتنیکا مطلب ہے آسمان کی طرف اٹھانا جیسا کہ اس کا ارشاد ہے :انی متوفیک ورافعک الی

5۔( تفسیر خازن ،94/2)فلما توفليتق یعنی قلما رفعتني إلى السماء فالمراد به وفات الرفع الا الموت

فلما تو فیتنیکے معنی ہیں ۔ پس جب تو نے مجھے آسمان کی طرف اٹھایا۔ اس سے مراد اٹھانا ہے موت نہیں .

6۔ (جامع البيان،ص:111)، فلما توفيتني با الرفع الى السمار والتوفى اخذ الشيئي وافيا ]

فلما تو فلینی جب تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا۔ کیونکہ توفی کا معنی ہے شیئی کو پورا پورا لے لینا ۔

7۔(ا بو السعود ،333/4 بر حاشیه کبیر)،فلما توفيتني بالوقع الى السماء كما في قوله تعالیٰ انی متوفیک در افعك الى فان التوفي اخذ الشيئی دانیا والموت نوع منه

(فلما تو فیتینی ) جب تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان انی متوفیک ورافعک الی میں ہے پس بے شک تونی کا معنی شیئی کو پورا پورا لے لینا ہے۔ اور موت اسکی ایک نوع ہے۔

8۔(تفسیر جلالین ،298/1 )فلما توفیتی ، قبضتنی با الرقع إلى السماء والتوفى اخذ الشیئی وافيا

فلما تو فیتنی یعنی جب تو نے مجھے لے کر آسمان پر اٹھا لیا ۔ اور تو نی شیٹی کو پورا پورا لے لینا ۔

ar-quote

فلما توفیتینی، تو فی کا استعمال وہاں ہوتا ہے ۔ جہاں شیئی کو پورا پورا کامل طور پر لے لیا بھاتا ہے ۔ اور موت اسکی ایک نوع ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ قبض کرتا ہے نفسوں کو انکی موت کے وقت اور جو نہیں مرے انکو قبض کرتا ہے انکی نیند کے وقت اور یہاں مراد موت نہیں بلکہ آسمان پر اٹھا نا مراد ہے ۔ جیسا کہ مفسرین نے فرمایا ہے ۔

الحمد للہ دونوں آیتوں سے بھی یہ ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ[symbolکو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہے ۔

چنانچہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ اسی آیت کے تحت فرماتے ہیں۔}}

ان المراد بقوله وكهلا ان يكون كهلا بعد ان ينزل من السماء في آخر الزمان و يكلم الناس ويقتل الدجال قال الحسین بن الفضل وفي هذه الآية نص فى انه علیه السلام سينزل الى الارض13

اللہ تعالیٰ کے فرمان و کہلا کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ sym-9آسمان سے نازل ہونے کے بعد کہوں ہوں گے ۔ اسوقت آپ لوگوں سے کلام کریں گے اور دجال کو قتل کریں گے ۔ حضرت حسین بن فضل فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس بارے میں صریح نص ہے کہ وہ عیسیٰsym-9 زمین پر نازل ہوں گے۔

ایسا ہی تفسیر بیاوی جامع البیان - خازن - معالم التنزیل اور مظہری وغیرہ میں ہے ۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے :۔

قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا انزِلُ عَلَيْنَا مَا ئِدَةً مِنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عيد الأَوَّلِنَا وَ آخِرَ نَا وَآيَةً مِنْكَ(مائده)

عیسی ابن مریم نے کہا اے اللہ ہمارے پروردگار ہم پر آسمان سے ایک خوان اتا رہتا کہ وہ ہمارے لئے اولین اور ہمارے آخرین کے لئے عید ہو اور وہ تیری طرف سے ایک نشانی ہو ۔

اس آیت میں بھی حضرت عیسیٰsym-9 نے اپنے اولین اور اپنے آخرین کا ذکر فرمایا ۔ یعنی آپ کی زندگی کے دو دور ہیں۔ دور اول کے مانے والے اولین اور دور ثانی کے ماننے والے آخرین ہوں گے جیسا کہ گذشتہ آیات میں بھی وضاحت کی گئی ہے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :-

وَإِنَّهُ لَعِلْمُ لِلْسَالَةِ فَلَا تَمْتَرْنَ بها

اور بیشک وہ یعنی عیسی sym-9 قیامت کی علامت ہیں ۔ پس تم اس میں ہر گز شبہ نہ کرو ۔

اس آیت کی تفسیر میں حضرات صحابہ اور تابعین کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال ملاحظہ ہوں ۔

حضرت عبداللہ بن عباس sym-9 فرماتے ہیں :

وانه العلم للساعة قال نزول عيسی ابن مریم14

کہ بیشک قیامت کی نشانی عیسی ابن مریم کا نزول ہے ۔

حضرت ابوہریرہsym-5 فرماتے ہیں :

وانه لعلم للساعة قال خروج على يمكث في الارض اربعين سنة15

کہ قیامت کی نشانی حضرت عیسی sym-9 کا نزول ہے۔ وہ چالیس سال زمین میں رہیں گے۔

حضرت قتادہ ، حضرت مجاہد - حضرت حسن بصری - حضرت ضحاک - حضرت ابو مالک - حضرت ابن زید -sym-7 اور بعد کے جمہور مفسرین فرماتے ہیں:وانه لعلم الساعة قالوا نزول عيسى بن مريم16

علامہ امام ابن کثیر اس آیت کے تحت فرماتے ہیں :

(وانه لعلم الساعة) اى آينه الساعة خروج عیسی ابن مریم علیه السلام قبل يوم القيامة وهكذا روى عن ابي هريرة و ابن عباس والى العالية وابي مالك وعكرمه والحسن وقتاده والضحاك وغيرهم وقد تواترت الاحاديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه الخبر بنزول عیسیٰ علیه السلام قبل يوم القيامة اما ما عادلا و حكما مقسطا17

کہ قیامت کی علامت و نشانی عیسیٰ sym-9 کا اس سے پہلے نازل ہونا ہے ۔ ایسا ہی حضرت ابو ہریرہ ، ابن عباس - ابو العالیہ - ابو مالک ، عکرمہ حسن ، قتادہ ، ضحاک sym-7 اور ان کے علاوہ سے مروی ہے ۔ اور بے شک اس بارے میں رسول اللہﷺ سے متواتر احادیث آئی ہیں جن میں آپ نے قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی ہے کہ وہ امام عادل اور انصاف کرنے والے حاکم ہو کہ نزول فرمائیں گے ۔

آیات تفسیر میں صرف اکابر صحابہ اور تابعین کرام کے اقوال پیش کئے ۔ اگر بعد کے تمام مفسرین کے اقوال پیش کرتا تو مضمون بہت طویل ہو جاتا ۔

الحمد للہ قرآن کریم کی پانچ آیات اور ان کی تفاسیر سے یہ مسئلہ واضح طور پر ثابت ہو گیا ۔ اور جہاں تک احادیث مبارکہ کا تعلق ہے وہ اس بارے میں اتنی زیادہ ہیں کہ اس مختصر مضمون میں ان کے ذکر کی گنجائش نہیں ۔ ناظرین حضرات اس سے اندازہ لگا لیں کہ اکابر محدثین کرام نے اپنی اپنی معتبر اور معتمد کتب میں حضرت عیسیٰ sym-9 کے نزول کی احادیث کے باب باندھے ہیں۔

ان احادیث کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ sym-9 دو زرد چادروں میں ملبوس دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے اس حال میں دمشق کی مسجد کے سفید شرقی . مینار پر اتریں گے ان گے ان کے بالوں سے قطرات ٹیکتے ہوں گے ۔ ان کا قد میانہ ، رنگ سرخ و سپید بال کچھ کچھ گھ ر بال کچھ کچھ گھنگریا ہے اور کندھوں پر پڑے ہوں گے جب نازل ہوں گے عمر ۳۳ سال ہوگی ۔ چالیس برس زندہ رہیں گے ۔ نکاح بھی کریں گے اولاد بھی ہوگی ۔ دجال اور خنزیر کو قتل کریں گے صلیب کو توڑیں گے ۔ جزیہ ختم کر دیں گے اسلام کے سوا سب دین مٹ جائیں گے ۔ اسوقت لوگوں کے درمیان کینہ بغض اور حد وغیرہ نہ ہو گا ۔ شیر اونٹ کے ساتھ ، چیتا گائے کے ساتھ بھیڑ یا بکری کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپ کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ انھیں نقصان نہ دے گا ۔ مال کی اسقدر کثرت ہوگی کہ کوئی قبول نہ کرے گا ۔ انکی وفات کے بعد مسلمان انکی نماز جنازہ پڑھیں گے اور مدینہ منورہ میں حجرہ مبارکہ میں حضور ﷺ کے پہلو میں دفن ہوں گے ۔

اجماع امت:

عقائد کے امام حضرت امام ابو الحسن اشعری sym-5فرماتے ہیں ۔ واجمعت الامة علی ان الله عز وجل رفع عيسى الى السماء کہ ساری امت کا اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ بیشک اللہ عز وجل نے عیسی sym-9 کو آسمان پر اٹھا لیا ہے 17

علامہ سفارینی sym-4 فرماتے ہیں :فقد اجمعت الامة على نزول ولم يخالف فيه احد من اهل الشريعة18

پس تحقیق حضرت علی sym-9 کے نزول پر تمام امت کا اجماع ہو چکا ہے اور اس مسئلے میں اہل شریعت میں سے ایک فرد بھی مخالف نہیں۔

امام ابن عطیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :واجمعت الامة على ما تضمنه الحديث المتواتر من ان عيسى في السماء حى دانه ينزل فى آخر الزمان19

حدیث متواتر کے موجب تمام امت کا اسپر اجماع ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسٰی sym-9 آسمان میں زندہ موجود ہیں اور آخر زمانہ میں نازل ہوں گے ۔

اسی طرح تفسیر جامع البیان،ص: ۲۵ پر ہے :

والاجماع على امنه حى في السماء وينزل ويقتل الدجال ویوید الدین علما وامت کا اس پر اجماع ہے کہ بیشک وہ عیسی sym-9آسمان میں زندہ ہیں اور نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں اور دین اسلام کی تائید کریں گے۔

امام الائمہ سراج الامۃ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ sym-5 فرماتے ہیں : و خروج الدجال و یا جوج ماجوج وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى sym-9 من السماء وسائر علامات يوم القيامه على ما وردت به الاخبار الصحيحة حق کائن20

خروج دجال اور یا جوج وماجوج اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور عیسی sym-9 کا آسمان سے نز دل ہوتا اور وہ تمام علامات قیامت جو صحیح احادیث میں وارد ہوئی ہیں حق ہیں ہونے والی ہیں ۔ تقریبا یہی عبارت شرح عقائد نسفی میں ہے ۔

الحمد للہ ثابت ہو گیا کہ مسئلہ حیات مسیح امت کا اجماعی مسئلہ ہے اس پر تمام اہل ایمان اور اہل حق کا اتفاق ہے ۔

ایک نظر ادھر بھی:

مرزا صاحب قادیانی فرماتے ہیں کہ وہ عیسیٰ ابن مریم جس نے نازل ہونا تھا وہ میں ہی ہوں ۔ لوگونے کہا آپ عیسیٰ ابن مریم کیسے ہیں۔ آپ کا نام غلام احمد اور آپکی والدہ کا نام تو چراغ بی بی ہے ؟ کہنے لگے اللہ نے مجھے مریم بنا دیا چنانچہ دو سال تک میں صفت مریمیت میں پرورش پائی ۔ پھر مجھ میں عیسیٰ کی روح پھونکی گئی اور مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا یہ حل تقریبا دس مہینے رہا پھر دروزہ ہوئی ۔ پھر میں مریم سے عیسی بن گیا اس طرح میں عیسیٰ ابن مریم ہوں یعنی میں ولد ہیں ۔

لوگوں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جب ابن مریم آسمان سے اتریں گے ان پر دو زرد رنگ کی چادریں ہونگی د مرزا صاحب نے فرمایا ۔ ان زرد رنگ کی چوروں سے مراد دو بیماریاں ہیں جو مجھ کو لگی ہوئیں ہیں ۔ ایک ذیا بیطش پیشاب میں شکر آنا ۔ چنانچہ مجھ کو بعض مرتبہ ایک دن میں سو سو مرتبہ پیشاب آتا ہے ۔ دوسری مرگی و مراق چنانچہ مرزا صاحب کو دورہ پڑتا تو گر پڑتے اور ہاتھ پاؤں کا نپتے ۔

لوگوں نے کہا عیسیٰ ابن مریم دجال کو قتل کریں گے آپ کے زمانے میں کون سا دجال ہے جس کو آپ نے قتل کیا ہے ؟ کہنے لگے دجال سے مراد پادریوں کا گروہ ہے میں نے انکو شکست دیدی ہے۔

لوگوں نے کہا دجال کا گدھا بھی ہوگا ۔ اگر عیسائی پادری دجال ہیں تو ان کا گدھا کون سا ہے ؟ مرزا صاحب نے فرمایا دجال کا گدھا ریل گاڑی ہے ۔ لوگوں نے کہا عیسیٰ ابن مریم حضور کے روضنے میں دفن ہوں گے آپ کو تو حج و زیارت بھی نصیب نہیں ہوئی ۔ فرمایا میں روحانی طور پر حضور کے روضے میں دفن ہوں گا ۔؎

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کر شمہ ساز کرے

الحمد لله قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہو گیا کہ حضرت علیsym-9 زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور قرب قیامت تشریعت لائیں گے ۔

اعتراضات و جوابات:

اعتراض1: ابن عباس sym-5 نے انی متوفیک کا معنی ممیتک کیا ہے ۔ (دیکھو بخاری شریف و ابن جریر و در منثور)

جواب نمبر1 : یہ روایت ضعیف ہے اس روایت کے راوی علی بن طلحہ ہیں اور انھوں نے ابن عباس سے تفسیر نہیں سکتی اور وہ ضعیف ہیں چنانچہ تہذیب التہذیب ، 340/7 میں ہے:قال دهيم لم يسمع التفسير من ابن عباس وقال يعقوب بن سفيان ضعيف الحديث منكر ليس محمود المذهب - وعن احمد له اشیاء منکرات، رحیم نے کہا علی بن طلحہ نے ابن عباس سے تفسیر سنی ہی نہیں۔ یعقوب بن سفیان فرماتے کہ حدیث میں ضعیف ہے منکر ہے اور اس کا مذہب پسندیدہ نہیں۔ امام احمد فرماتے ہیں اس میں بہت سی برائیاں ہیں۔ کس قدر افسوس ہے کہ وہ روایت جو ضعیف اور غیر معتبر ہے وہ مرزائیوں کے نزدیک محبت ہے اور قرآن کریم ، صحیح تفاسیر داحادیث اور اجماع امت تا قابل قبول ہے ۔

جواب نمبر 2:

اگر ابن عباس سے متوفیک کا معنی ممیتک مروی ہے تو ان سے تقدیم و تاخیر بھی تو مروی ہے ملاحظہ ہو ۔( اِنِّی مَتَوَفِيكَ وَرَا فقك ) مقدم و موخر 21فرماتے ہیں انی متوفیک ورافعک میں تقدیم و تاخیر ہے۔ یعنی متوفیک بعد میں ہے اور ورافعک پہلے ہے ۔

اسکی تائید و تصدیق ان کے خاص شاگر رشید حضرت ضحاک sym-5 سے ملاحظہ ہو فرماتے ہیں :۔

عن ابن عباس في قوله تعالیٰ انی متوفیک ورافعک یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان22 کہ حضرت ابن عباس نے اللہ تعالے کے ارشادانی متوفیک ور افعک کی تفسیر میں فرمایا کہ رفع پہلے ہے وفات بعد میں آخر زمانے میں ہو گی ۔

یہ کس قدر ظلم ہے کہ ابن عباس کا نصفت قول لے لیا جائے اور نصرت چھوڑ دیا جائے ۔ وسیعلم الذین ظلموای منقلب ينقلبون

اعتراض نمبر2 :

وما محمد الارسول قد خلت قبله الرسل23

اور نہیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مگر رسول بیشک آپ سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ سے پہلے تمام رسول گزر چکے ہیں یعنی وفات پاچکے ہیں ۔ لہٰذا عیسی sym-9 بھی وفات پا چکے ہیں ۔

جواب:

لفظ خلت خُلو یا خلاء سے مشتق ہے ۔ اس کے معنی ہیں علیحدہ ہو جانا نہ کہ مر جانا اس لئے تنہائی کو خلوت کہتے اور مقام تنہائی کو بیت الخلاء ۔ اس لفظ کا استعمال نہندوں پر بھی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔وَإِذَا خَلَو إِلى شَيَاطِينِهِمُاور جب وہ اپنے شیطانوں کے پاس علیحدہ ہوتے ہیں ۔وَإِذَا خَلُو عَضُوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الغیظاور جب وہ علیحدہ ہوتے ہیں تو پھر غصے سے اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں ۔

ان دونوں آیتوں میں زندوں پر خلوا کا استعمال ہوا ہے ۔ ثابت ہوا کہ خلت کا استعمال زندوں پر بھی ہوتا ہے۔سبحان اللہ یہ اعجاز قرآنی ہے کہ ایسا لفظ فرمایا جو دونوں پر مستعمل ہے لہٰذا معنی یہ ہوا کہ حضور ﷺ سے پہلے تمام رسول تشریف لے جاچکے ہیں خواہ وفات پا کر یا آسمان پر جاکر ۔ اگر خلت کا معنی صرف مر جانا ہی کیا جائے تو پھر بیت الخلاء نام غالبا قادیانیوں کے ہاں مردہ خانہ ہو گا ۔

اعتراض نمبر3:

بخاری ومسلم شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری اُمت کے کچھ لوگ دوزخ کی طرف لے جائے جائیں گے تو میں کہوں گا ی تو میرے صحابہ ہیں اجواب ملے گا کیا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا ؟ اس وقت میں وہی کہ دوں گا جو اللہ تعالی کے صالح بندے (حضرت) عیسی کہیں گے کہ جب تک میں ان میں تھا ان پر عمران تھافَلما تَوَفَّيْتَنِي كُنْت أنْتَ الرَّقِيبَ اور جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی ان پر نگہبان تھا۔

اس حدیث سے صاف طور پر ثابت ہوا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی توفی کی صورت وہی ہے جو آں حضرت نے کی توفی ہے ورنہ آپ کا یہ فرمانا فاقول كما قال درست نہیں رہتا۔ اس حضرت کے نے بچہ وہی لفظ تو فیتنی جو سچ کے لیے استعمال ہوا اپنے لیے استعمال فرمایا تعجب ہے کہ اس حضرت پینے کے لیے جب لفظ توفی آئے تو اس کے معنی موت لیے جائیں مگر جب وہی لفظ حضرت مسیح کے لیے آئے تو اس کے معنی آسمان پر اٹھانا لیے جائیں۔

جواب:

فاقول كما قال میں تشبیہ صرف معذرت میں ہے توفی میں نہیں کہ جیسے عینی علیہ السلام قیامت کے دن معذرت کرتے ہوئے کہہ دیں گے کہ مولی جب تک میں ان میں رہا ان کی نگرانی کرتا رہا۔ بعد میں اگر وہ بدل گئے تو اسکی ذمہ داری مجھ پر عائد نہیں ہوتی کیوں کہ میں نے تیرا پیغام ان تک صاف صاف اور علانیہ پہنچا دیا تھا۔ اسی طرح میں بھی کہہ دوں گا یعنی جب تو نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا تو رفع آسمانی کے بعد جس طرح وہ اپنی اُمت کے کفر و شرک کرنے کے ذمہ دار نہیں رہے اسی طرح میں بھی اپنی وفات کے بعد ان لوگوں کا جو مرتد ہو گئے ذمہ دار نہیں۔ رہا یہ کہنا کہ لفظ ایک ہی توفیتنی کا دونوں پر استعمال ہوا ہے لہذا توفی کی صورت اور معنی بھی دونوں جگہ ایک ہی ہوں کے غلط اور کتاب وسنت سے نا واقعی کی دلیل ہے۔

ایک ادنی طالب علم بھی جانتا ہے کہ ایک ہی لفظ جب وہ مختلف اشخاص پر بولا جائے تو حسب حیثیت و حالت اس کے معنی بھی جدا جدا ہو سکتے ہیں دیکھئے آیت کریمہ ![font24 میں لفظ یتوفی (جس کا مصدر وہی توفی ہے) مگر اس کا اطلاق دو صورتوں میں اور دو معنوں پر ہوا ہے ایک جگہ توفی سے مراد موت ہے اور ایک جگہ نیند ہے۔ اس طرحتو فیتنیلفظ ایک ہی ہے جس کا مصدر روہی توفی ہے مگر ایک جگہ موت ہے اور ایک جگہ زندہ آسمان پر اٹھانا ہے۔ اگر یہ نہ مانا جائے تو حضور ا کرم ﷺکے کلام میں تضاد لازم آتا ہے کہ ایک جگہ تو فرمار ہے ہیں کہ ان کی موت ہو گئی اور دوسری جگہ فرما رہے ہیں کہ ان کو زندہ آسمان پر اٹھالیا گیا ہے اور وہ قرب قیامت تشریف لائیں گے۔ اور آپ ﷺ کے کلام میں تضاد نہیں ہو سکتا لہذا تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت عیسی sym-9کی توفی سے حضور کے کی مراد موت نہیں۔


  • 1 (النساء، آیت ۱۵۷)
  • 2 (المائدۃ،117)
  • 3 (بخاری شریف ،490/1،مسلم شریف،87/1)
  • 4 ( در منثور،242/2)
  • 5 ( ابن جریر ،12/6، در منثور ،241/2)
  • 6 ( ابن جریر ،12/6در منثور ،241/2)
  • 7 (النحل،50)
  • 8 (انفعال 30)
  • 9 (آل عمران ۱۸۵)
  • 10 (آل عمران ١٦١)
  • 11 ( انعام60)
  • 12 ( الزمر 42)
  • 13 (تفسیر کبیر،472/2)
  • 14 ( ابن جریر ،49/25،در منثور ،20/6)
  • 15 (در منثور ،20/6 )
  • 16 (ابن جریر،49/25 ،در منثور ،20/6 )
  • 17 ( تفسير ابن كثير ،133/4)
  • 17 ( کتاب الابانۃ عن اصول الایانۃ ،ص:46)
  • 18 (شرح عقيده سفارينيہ ،90/2)
  • 19 ( تفسیر بحر المحيط،473/2 )
  • 20 (فقہ اکبر ِص:7)
  • 21 ( تفسیر ابن عباس بر حاشیه در منثور 177/1)
  • 22 (در منثور ،36/2)
  • 23 (آل عمران ۱۴۴)
  • 24 (الزمر: ۴۲)

Netsol OnlinePowered by