logoختم نبوت

مسئلہ ختم نبوت کی نزاکت و اہمیت۔۔۔از۔۔۔مولانا ابو داؤد صادق رحمۃ اللہ علیہ

محبوب خدا محمد مصطفیعلیہ التحیۃ والثناء کے آخری نبی ہونے پر قرآن پاک کی آیات کثیرہ اور بے شمار احادیث نبویہ شاہد و دال ہیں خصوصا آیہ کریمہولکن رسول اللهِ وَخَاتَمَ النَّبيين قرآن کی نص قطعی ہے۔ جس میں انکا رو شک اور احتمال و تو ہم کی بالکل گنجائش نہیں ۔

خدا وند قدوس نے قرآن پاک میں جہاں دیگر انبیاء علیہ السلام کے بعد نبوت جاری رہنے کی خبردی جیسا کہ آیات کثیرہ سے ظاہر ہے وہاں اپنے لاڈلے حبیب کے متعلق ولكن رسول اللہ وخاتم النبيينفرما کر حضور پر باب نبوت مسدود فرمادیا یہی وجہ ہے کہ اس امت میں بڑی بڑی عظیم المرتبت ہستیاں گزاریں مگر کوئی بھی منصب نبوت پر فائر نہ ہو سکا۔ اور ہوتا بھی کیسے کہ خود نبی آخر الزماںعليه الصلوة والسلام نے حضرت عمر فاروق sym-5 جیسی شخصیت کے متعلق فرمادیا کہ لو کان بعدی نبى لكان عمر بن الخطاب(مشکوۃ ) اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔ تو حضرت عمر نبی نہیں ہوئے کیونکہ حضور کے بعد نبی ہو سکتا ہی نہیں ۔

بلکہ مولا علی شیر خدا sym-5کو بھی سرور دو عالم عليه الصلواة والسلام نے فرمایاانت منی بمنزلة هارون من موسى الا انه لانبي بعدی( متفق علیہ) یعنی اے علی تو میری نیابت میں ایسا ہے جیسا موسی کے لئے ہارون مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں تو مولا علی با وجودیکہ حضور کے بھائی اور نائب ہیں لیکن حضور نے اپنے بعد نبوت کی نفی فرما کہ اس وہم نبوت کو دور کر دیا جو کہ حضرت علی کے بمنزلہ ہارون sym-9 ہونے سے پیدا ہو سکتا تھا۔

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی sym-5 فرماتے ہیں کہ :

ولو قضى ان يكون بعد محمد صلى الله علیہ وآلہ وسلم نبى عاش ابنه ولكن لا نبی بعدی(بخاری شریف جلد ثانی) اور اگر مقدر ہوتا کہ محمد ﷺکے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضور کے صاحبزادے ابراہیم زندہ رہتے مگر حضور کے بعد نبی نہیں ۔

اہل ایمان غور فرمائیں کہ جب سیدنا فاروق اعظم سیدنا وسید نا مولی علی اور سیدنا ابراہیم فرزند نبی کریم، نبی نہیں ہوئے اور ان کے علاوہ دیگر صحابہ و تابعین اور یے ان کے بعد والے مسلم اکابرین امت مثلاً حضرت امام اعظم و حضرت غوث اعظم و غیر ہما sym-7 مقام نبوت تک نہیں پہنچ سکے تو بھلا مرزائے قادیان جو کہ اپنی زبانی کرم خاکی اور بشر کی جائے نفرت ہے اور اپنے آدم زاد ہونے کا ہی انکار کرتا ہے اور کبھی اپنا حائفہ و حاملہ ہونا بیان کرتا ہے اور جسے سو سو دفعہ پیشاب آئے اور دن رات پیشاب کرنے میں گزاریں جس کی کوئی بات بھی ٹھکانے کی نہ ہو اور اس سے نہ صرف غلات منصب نبوت بلکہ خلاف انسانیت حرکات سرزد ہوں وہ نبوت کا اہل کیسے ہو سکتا ہے قرآن و احادیث کی روشنی میں امت کا اجتماعی و اتفاقی مسئلہ ہے کہ سر در عالم ﷺ کے بعد مدعی نبوت کا دعویٰ کرنا تو الگ رہا حضور کے بعد نبوت کی تمنا کرتا بھی کفر ہے ۔ ائمہ دین کے صریح ارشادات اس بارے میں موجود ہیں ۔

چنانچہ اعلام بقواطع الاسلام میں ہے : قال الحليمي ما لو تمنى في زمن نبينا او بعده ان لو كان نبينا فيكفر في جميع ذالك والظاهر انه لا فرق بين تمنى ذالك باللسان او القلب (مختصر) امام حلیمی نے فرمایا ۔

سبحان اللہ جب مجرد تمنا پر کافر ہو جاتا ہے ۔ تو ادعائے نبوت کس درجہ کا کفر خبیث ہوگا۔ والعیاذ با الله رب العالمین (جزاء الله عدوه )

اور پھر مدعی نبوت پر ایمان لانا تو علیحدہ رہا۔ حضور کے بعد مدعی نبوت سے معجزہ طلب کرنا بھی کفر ہے۔

اسی اعلام بقواطع السلام میں ہے: واضح تکفیر مدعی نبوت ويظهر كفر من طلب منه معجزة لانه بطلبه لها منه مجوز لصدقه مع استحالته المعلومة من الدين بالضرورة مدعی نبوت کی تکفیر تو خود ہی روشن ہے اور جو اس سے معجزہ مانگے اس کا بھی کفر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مانگنے میں اس مدعی کا صدق متحمل مان رہا ہے حالانکہ دین متین سے بالضرورت معلوم ہے کہ نبی ﷺکے بعد دوسرا بنی ممکن نہیں(جزاء الله عدوة )

اب خود ہی خیال فرمائیے کہ مسئلہ ختم نبوت کس قدر اہم اور نازک ہے اور مرزا قادیانی کے متعلق یا درکھیے کہ وہ صرف ختم نبوت کے انکا ر ہی کی وجہ سے مرتد نہیں بلکہ اس ڈیل کفر کے علاوہ بھی اس کے اور بیسیوں کفریات ہیں لہذا مرزا قادیانی اور کسی مدعی نبوت کو نبی ماننا مجدد ماننا اپنا امام و پیشوا جاننا تو در کنار ایسوں کو ادنی مومن سمجھنا اور ان کے کفر میں شک کرنا بھی اسلام سے خارج کے کر دیتا ہے۔ علماء عرب و حجم کا ایسے کذاب و گستاخ لوگوں کے لئے صاف ارشاد ہے کہ من شک فی عذابه وكفره فقد كفر (حسام الحرمین شریف)

خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے
خصوصاً آجکل کے انبیاء سے
{{quote | ar-quote |(و العياذ بالله ولا حول ولا قوة الا بالله

Netsol OnlinePowered by