logoختم نبوت

درہ محمدی۔۔۔از۔۔۔ملا محمد بخش حنفی چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ

بسم الله الرحمن الرحيم

اہل اسلام اور عیسائی صاحبان توجہ فرماویں!

1۔آج کل پنجابی مسیح کا ایک پیرو میاں کمال دین تبلیغ اسلام کے بہانے لندن پہنچا ہے اور چونکہ اس وقت مرزائی جماعت کا ایک ممتاز لیڈر گویا پنجابی سے قادیانی کا نائب سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے ہم نے بھی مجبوراً مناسب سمجھا کہ عیسائیوں اور مسلمان بھائیوں کو پنجابی مسیح قادیانی کی پھر گندی اور تہذیب سے گری ہوئی تحریرات کا ایک ادنی نمونہ بطور مشتے نمونہ از خروارے حضرت عیسی sym-9 ابن مریم کی نسبت جس کی باکمال ذات کے ساتھ متفقہ عیسائیوں کی نجات کے انحصار کے علاوہ اہل اسلام کا ایمان بھی وابستہ ہے اس کی چند باتیں معہ حوالہ جات آپ لوگوں کے سامنے پیش کریں۔

2۔پنجابی مسیح قادیانی نے اپنی مختلف کتابوں مثل (ازالہ اوہام، مخلص، ص: ۱۳۸، خزائن، ج:۳، ص: ۱۳۲) تبلیغ وغیرہ میں لکھی ہے :

”کہ عیسی ابن مریم جن کی خبرانا جیل اور اہل اسلام کی کتابوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ قریب قیامت آئیں گے وہ میں ہوں۔

3۔اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ:

عیسی ابن مریم کا انتظار مت کرو۔ نہ وہ آسمانوں پر گئے نہ وہ آسمانوں سے نازل ہوں گے۔ وہ اپنے زمانہ میں مر گئے اور ان کی قبر سری نگر (کشمیر) محلہ خانیار میں ہے۔ (رسالہ الہدی ،ص: ۱۷ ، خزائن، ج: ۱۸ ،ص: ۳۷۲،۳۷۱)

حالانکہ (انجیل مرقس باب: ۱۷، آیت: ۱۹ انجیل لوقا باب: ۲۳، آیت: ۱۵۱، اعمال باب اول آیت: ۲۰۱) سے ظاہر ہے کہ وہ زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے اور اسی طرح قرآن شریف (النساء: ۱۵۷) سے ثابت ہے کہ وہ اوپر اٹھائے گئے اور ان کا دوبارہ آنا بھی (انجیل متی باب: ۲۶، آیت ۶۴ ، مرقس باب : ۴، آیت (۳۶) بلکہ اعمال کی کتاب باب اوّل آیت ۶ تا ۱۱ سے ایسا ثابت ہے کہ وہی مسیح جو آسمانوں پر اٹھایا گیا ہے آوے گا نہ کہ کوئی دوسرا۔

جیسا کہ پنجابی مسیح نے دعویٰ کیا ہے۔ اور جس کا یہ کمال الدین خواجہ بھی پیرو ہے اور قبر کی نسبت اہل کشمیر نے خود تردید کر دی کہ کوئی ایسی قبر کشمیر میں نہیں ہے۔ (دیکھو رسالہ مرزا کی قلعی کھل گئی ) اور احادیث کی دیگر کتب کے علاوہ بخاری شریف کے ص ۴۹۰ پر حدیث ابی ہریرہ سے منقول ہے جس کا ترجمہ یہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ مسیح ابن مریم نازل ہوں گے (آسمانوں سے) اور یہ پنجابی مسیح قادیانی اس کے خلاف اپنی کتاب (ازالہ اوہام، ص: ۲۷، خزائن، ج:۳،ص:۱۲۶) پر لکھتا ہے کہ:

مسیح ابن مریم کا آسمانوں پر جانا ایک لغو خیال ہے۔

اور پھر عیسی ابن مریم کی نسبت لکھا ہے۔

4۔”اور مسیح کے حالات پڑھو تو معلوم ہوگا کہ یہ شخص اس لائق نہیں ہو سکتا کہ نبی بھی ہو۔“ 1
5۔”ایسے نا پاک خیال منکر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیا جائے۔“ 2

قادیانی مسیح کا ایک ایسے اولو العزم رسول کی نسبت ایسا لکھنا محض قرآن شریف سے رو گردانی کرنا ہے۔ دیکھو (سورہ بقرہ آیت: ۳۵۳، سورہ النساء آیت: ۱۷۰ سوره مریم، آیت :۳۱) ترجمہ حسب ذیل ہے۔ یہ سب رسول ہیں ایک سے ایک بڑا ۔ بلند کئے بعضوں کے درجے اور عیسی بن مریم کو ویئے معجزات اور زور و یا روح پاک سے۔ مسیح جو ہے عیسی بیٹا مریم کا رسول ہے اللہ کا، مانو اس کو اور اس کے رسول کو اور بولا مسیح بن مریم میں بندہ ہوں اللہ کا اس نے دی مجھ کو کتاب اور نبی کیا۔ دوسری جگہ پر پنجابی مسیح نے لکھا ہے:

6۔وہ پورا نا تواں اور بے علم تھا اس کی راست بازی میں کلام ہے۔3

پنجابی مسیح کا ایسا لکھنا قرآن کے صریح بر خلاف ہے۔ (سورہ مریم، آیت: ۳۲،۳۱) ترجمہ بنایا مجھ کو اللہ نے برکت والا اور نہیں بنایا مجھ کوزبردست بد بخت۔

7۔وہ (یعنی مسیح ابن مریم) ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا اور جب استاد کے سامنے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کر بیٹھا تو استاد نے اسے عاق کر دیا ۔4
8۔”مریم کا بیٹا کشلیا کے بیٹے سے کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتا ۔“5

کشلیا راجہ رام چندر کی والدہ کا نام ہے)

9۔”لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی ۔ بلکہ یحیٰی نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہ پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے ہالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔“6

ایمان خدا کے سچے اور پاک رسول پر افسوس!

10۔”یہ بات پوشیدہ نہیں کہ کس طرح پر وہ (مسیح بن مریم) نامحرم نو جوان عورتوں سے ملتا تھا اور کسی طرح ایک بازاری عورت سے عطر ملواتا تھا۔“7
11۔یہ بھی یادر ہے کہ:
الف... ”آپ ( مسیح بن مریم کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی ۔“
ب...”آپ کا ایک یہودی استاد بھی تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا۔ معلوم ہوتا ہے یا تو قدرت نے آپ کو زیر کی سے بہت حصہ نہیں دیا تھا یا استاد کی یہ محض شرارت تھی کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا۔ بہر حال آپ علمی اور عملی قوی میں بہت کچھے تھے۔ اسی وجہ سے ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے ۔“
ج...”آپ کو اپنی زندگی میں تین مرتبہ شیطانی الہام ہوا۔ چنانچہ ایک مرتبہ اسی الہام سے خدا سے منکر ہونے کے لئے تیار ہو گئے ۔“
د...”انہی حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔“8

یہ ہے قادیانی مسیح اور اس کی امت کا ایمان خدا کے پاک رسول (مسیح) پر جس کی نسبت خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔

الف۔۔۔ مسیح بیٹا مریم کا مرتبہ والا دنیا میں اور آخرت میں مقربین میں (آل عمران: ۴۵)سکھلا دے گا اس کو کام کی باتیں توریت اور انجیل، اور ہوگا رسول بنی اسرائیل کی طرف۔ (آل عمران: ۳۹۰۲۸)

ب۔۔۔زکریا، کئی (یوحنا) اور عیسی اور الیاس سب ہیں نیک بختوں میں ۔(انعام: ۸۵)

د۔۔۔ناظرین خدارا انصاف فرمادیں کہ قرآن شریف میں اللہ تعالٰی حضرت مسیح ابن مریم کی نسبت فرماتا ہے۔ زور دیا اس کو روح پاک ہے۔ مرتبہ والا دنیا میں وہ مقربین میں سے ہے۔ وہ ہے نیک بختوں میں۔

ہ۔۔۔اور اسی طرح اناجیل میں بھی مسیح ابن مریم کی راست بازی کا ثبوت ملتا ہے۔ صوبہ دار نے یہ حال دیکھ کے خدا کی تعریف کی اور کہا بے شک یہ آدمی راست باز تھا۔(انجیل لوقا باب: ۲۳، آیت: ۴۷، ۲۸)

قرآن شریف اور انجیل کا ایک ایک کلمہ مسیح ابن مریم کی نسبت قابل توجہ ہے اور ادھر مرز اعلام احمد قادیانی کی تحریر پاک نوشتوں کے خلاف کہ مسیح کو تین مرتبہ شیطانی الہام ہوا۔ خدا سے منکر ہونے کو تیار ہو گیا۔ وہ پاگل تھا۔ جوان بے تعلق نا محرم بازاری عورتوں سے خدمت کراتا اور ان کی کمائی کا عطر ملواتا تھا۔ ایک خوبصورت لڑکی پر عاشق ہو گیا۔ قابل غور ہے کیا خواجہ کمال دین ان تحریروں سے انکار کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں اور کیا کمال دین بتا سکتا ہے کہ یہ باتیں جو عیسی بن مریم کی نسبت اس کے رسول ( پنجابی مسیح) نے لکھی ہیں قرآن شریف کی کن کن آیات کا ترجمہ ہے؟

12۔پنجابی مسیح غلام احمد قادیانی نے دوسری جگہ پر لکھا ہے۔

” نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے ( مسیح بن مریم ) پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا اور پھر ایسا ظاہر کیا کہ گویا میری تعلیم ہے۔ لیکن جیسے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی بہت رو سیاہی ہوئی ۔“

اور پھر لکھا ہے:

”افسوس ہےکہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں۔ عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہی ہیں ۔“9

اس تحریر سے تین باتیں معلوم ہوئیں:

(1)..... نعوذ باللہ مسیح ابن مریم چور تھا۔ کیونکہ اس نے طالمود کی کتاب سے سرقہ کیا اور اس کا نام انجیل رکھا ۔

(2). با وجود سرقہ کے انجیل کو مرتب کیا۔ پھر اس سے انکار کر کے اس کو اپنی تعلیم قرار دیا اور اس سے عیسائی بہت شرمندہ ہیں اور نیز اپنی اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی ۔

(3) وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں ۔ کیونکہ مشکل اور کانشنس کے خلاف ہے۔

پنجابی مسیح کے اس فاسد عقیدہ سے دو اور اہم سوال پیدا ہوئے ہیں:

1۔ اگر مسیح ابن مریم نے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا اور اس کا نام انجیل رکھا تو پھر قرآن شریف میں کیوں اور کس لئے خدا نے فرمایا: ”اور دی ہم نے مسیح کو انجیل“ ۔ حالانکہ بقول مسیح پنجابی وہ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر خود مسیح بن مریم نے لکھی تھی۔

جب کہ وہ بقول پنجابی مسیح اس کی تعلیم عمدہ نہیں اور عقل کے خلاف ہے تو کیوں اور کس لئے قرآن میں انجیل کی نسبت خدا نے فرمایا: ” اس میں نور اور ہدایت ہے۔“10

اب انصافاً اگر عیسائی پنجابی مسیح اور اس کے گروہ سے یہ سوال کریں کہ کیا یہ آیات قرآن شریف کی دربارہ انجیل سچی ہیں یا پنجابی مسیح کی تحریر؟ تو دیکھیں مرزائی فرقہ کی طرف سے کیا جواب سنایا جاوے۔ ہمارے خیال میں تو وہ یہی جواب دیں گے کہ خدا نے غلطی کھائی ہے۔ (معاذ اللہ ) لیکن قادیانی مسیح کی تحریر پتھر پر لکیر ہے۔ آج کل کے نوجوان مسلمانو! برائے خدا پنجابی مسیح کی تحریر کا قرآن شریف سے مقابلہ کر کے دیکھو اور اس فریق سے دریافت کرو کہ جب قرآن شریف کا نزول چھ سو برس بعد عیسی بن مریم کے ہوا ہے تو پنجابی مسیح کن کن آیات قرآنیہ کا یہ ترجمہ تمہارے اور ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ اگر تمہارا خدا کے کلام قرآن شریف پر ایمان ہے تو ضرور آپ عمدہ نتیجہ پر پہنچیں گے۔

13۔ہم آپ کی توجہ پنجابی مسیح کی اور فراخ حوصلگی کی طرف حضرت مسیح بن مریم کی نسبت منعطف کراتے ہیں ۔ جی تو نہیں چاہتا کہ ایسی گندی مکروہ اور فحش تحریر کو آپ لوگوں کے سامنے جن کو مہذب ہونے کا دعوی ہے پیش کیا جائے اور بیشک آپ مہذب بھی ہیں۔ اس لئے ہمیں بھی پوری امید ہے کہ آپ ضرور انصاف سے چشم پوشی نہ فرمائیں گے۔ نقل کفر کفر نباشد، مسیح پنجابی حضرت مسیح ابن مریم کی نسبت لکھتا ہے۔

آپ کا خاندان بھی نہایت پاک ومطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا اور آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ وہ نہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک، تھر لگاونے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔ 11

اس جگہ پنجابی مسیح کی چالاکی جو اس نے کی ہے اس کا ذکر کر دینا بھی بے محل نہ ہوگا۔ چنانچہ اس جگہ بجائے لفظ مسیح کے اب یسوع لکھ دیا ہے۔ جس کا جواب پنجابی مسیح اور مرزائی مسلمانوں کا منہ بند کرنے کے لئے یہ دیتے رہے ہیں کہ یہ جو کچھ لکھا ہے یسوع کی نسبت لکھا ہے۔ تو یہ جواب محض غلط ہے۔ کیونکہ خود پنجابی سے دوسری جگہ (نور القرآن نمبر ۲ ،ص :۱۲، خزائن ج :۴،ص: ۳۹۴ ) میں عیسائیوں کو مخاطب کر کے لکھتا ہے :

ہاں ! مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے اس کا جواب کبھی بھی آپ نے سوچا ہوگا ۔“

دیکھو اس جگہ لفظ مسیح لکھا ہے۔ اسی طرح (تحفہ قیصرہ ص ۲۱، خزائن ج ۲ ص ۲۷۳) پر یسوع اور مسیح کو خود پنجابی مسیح نے ایک شخص واحد لکھا ہے۔ اب اگر کوئی مرزائی اس کی تاویل کرے تو اس کو چاہئے کہ سب سے پہلے وہ لکھ دے کہ پنجابی مسیح کی تمام کتابوں کو دیکھ کر یہ تحریر شائع کرتا ہے۔ جناب قاضی فضل احمد صاحب کورٹ انسپکٹر لدھیانہ نے لفظ یسوع کی جو تحقیقات کی ہے اس کی نسبت ان کی کتاب کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام قادیانی کا ص۱ ۷ملاحظہ ہو۔

بموجودگی ایسی گستاخانہ تحاریر اگر پنجابی مسیح اور اس کا گروہ مسلمانی کا دعوی کرے تو کیا یقین کے لائق ہے؟ اور افسوس ان مسلمانوں پر جو خدا کے ایک پاک رسول اور پیارے نبی مسیح ابن مریم جس کی خود اللہ تعالٰی تعریف کرتا ہے پنجابی مسیح کے توہین کرنے پر قرآن شریف کی ذرا بھی پرواہ نہ کر کے کچھ غیرت نہیں کرتے اور فراخدلی سے قادیانی گروہ کو چندوں سے مدد دیتے ہیں کہ پنجابی مسیح کا گروہ کھائے اور پیئے اور پھر دل کھول کر ان کے پیشواؤں امور بزرگان دین پر پنجابی مسیح کی تحریروں کے مطابق صلواتیں سنائے اور یہ بے غیرت بن بن کر برا خفش کی طرح سن سن کر اور سر ہلا ہلا کر آمنا وصدقنا کہتے جاتے ہیں۔

قادیانی گروہ نے تو اپنا پنجابی مسیح تلاش کر لیا۔ اب مسیح ابن مریم پر جس قدر بہتان اور الزام لگائیں تھوڑے ہیں۔ ہم بھی دیکھ رہے ہیں کہ کن کن نام کے مسلمانوں کے نام چندہ دہندگان کی فہرست میں درج ہیں۔ جو اپنے آپ ہی خدا اور اس کے رسول کے پکے دشمن بن کر اپنے ہی ہاتھوں دوزخ کے کندے بن رہے ہیں۔ واہ رے بے غیرتی! اگر ان کے ماں باپ کو کوئی ایسی گندی بیہودہ فحش مغلظ گالیاں دے تو شاید عدالت ہائیکورٹ تک پیچھا نہ چھوڑیں ۔ بلکہ پھانسی پر لٹکوا کر بھی دل ٹھنڈا نہ ہو۔ صاحبو! اس پنجابی مسیح اور اس کے گروہ کی کتا بیں کھول کر پڑھو اور تصدیق کرو اور ان کے منہ کی الفاظوں کی طرف مت جاؤ۔ جیسا کہ اب پیغام صلح مورخہ ۱۱ستمبر ۱۹۱۴ء میں فقط چندہ بٹورنے کے لئے تحریر کیا گیا ہے۔ ایک تن ہو کر خواجہ صاحب کا ہاتھ بٹاؤ اور اپنے اندرونی تفرقوں کو کچھ مدت کے لئے لپیٹ رکھو۔

اس کے بعد جب تمہاری جیبیں خالی ہو جاویں وہی مرغی کی ایک ٹانگ کیا سچ ہی تمہاری حمیت اسلامی اب یہی رہ گئی ہے کہ یہ قادیانی گردہ تمہارے چندوں سے پیٹ پالے اور تمہارے پیشوایان دین پر یہ بیہودہ اور گندے الزام لگائے اور تم کروٹ تک نہ بدلو۔ ابھی تو ہم نے محض حضرت مسیح بن مریم کی ہی نسبت جو الزام پنجابی مسیح نے لگائے ہیں ان کا ایک شمّہ تحریر کیا ہے تاکہ اس فرقہ کے اندرونی خیالات جو عیسائی مذہب اور اہل اسلام کے ساتھ وابستہ ہیں۔ معلوم ہو جاویں۔ کیونکہ مرزائی فرقہ کا ایک فرد کمال دین نامی آج کل لندن میں تبلیغ اسلام کی آڑ میں مرزائی مذہب پھیلا رہا ہے اور جب ہم نے حضرت محمد رسول الله اور دیگر انبیاء کی نسبت مرزائی عقیدہ ان کی تحریروں سے بھی لکھا تو دیکھنا کیا کیا گل کھلیں گے۔ مگر نام کے مسلمانوں کو اسلام سے کیا کام۔ یہ تو وسعت خیالی اور صلح کلی کی راگنی الاپتے رہتے ہیں۔

ہم بڑے حیران تھے کہ کمال دین جس کو علم دین سے کچھ بھی مس نہیں اور اس نے کسی دینی درسگاه مثل مدرسہ نعمانیہ لاہور یا دیو بند وغیرہ میں با ضابطہ دینی تعلیم حاصل ہی نہیں کی اور جو قرآن اور احادیث وغیرہ علوم دینیات سے محض نا آشنا اور کورا ہے۔ کس طرح سے لارڈ ہیڈلے کو جس کی نسبت مسلمان ہونا بیان کیا جاتا ہے اپنے زیر اثر کر لیا۔ مگر ہماری اس حیرانی کو خود مرزائی (اخبار پیغام صلح مورخہ ۱۶ دسمبر، ۱۹۱۳ ، مکتوبات احمدیہ جدید ،ج: ا ،ص: ۴۹۵) نے رفع کر دیا ہے۔ لارڈ ہیڈلے تحریر میں لکھتے ہیں:

ممکن ہے کہ میرے بعض احباب یہ خیال کریں کہ میں مسلمانوں کے دباؤ کے نیچے آ گیا ہوں ۔ حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ہے۔ لیکن میرے موجودہ خیالات میرے کئی سالوں کی تحقیقات اور تفتیش کا نتیجہ ہیں۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ساتھ مذہب کے بارہ میں میری اصلی خط وکتابت چند ہی ہفتہ قبل شروع ہوئی اور یہ بات میری دلی خوشی اور مسرت کا باعث ہوئی کہ میرے تمام خیالات اسلام کے عین مطابق نکلے۔ میرے دوست خواجہ کمال الدین صاحب نے ذرہ بھر کوشش مجھے اپنے زیر اثر لانے کی نہیں کی۔

لارڈ ہیڈلے نے جو خیال اپنے آپ کو کمال دین کے زیر اثر لانے کی نسبت ظاہر کیا ہے قابل غور ہے۔ بیشک اس سے پیشتر بھی مسٹر جان ڈیون بور ڈ صاحب جیسون نے انگلینڈ اور ایسا ہی دوسرے نامی گرامی اصحاب کا دوسری ولائیتوں میں اسلامی دائرہ میں منسلک ہونا لارڈ ہیڈلے کی طرح کئی سالوں کی تحقیقات اور تفتیشوں کا نتیجہ قرار دیا ہے اور واقعی یہ سچ ہے کہ کمال دین عیسائیوں کو کیا خاک مسلمان بنائے گا۔ جس کی نسبت لارڈ ہیڈلے نے بھی اپنا خیال ظاہر کر دیا۔ کیا۔ پنجابی مسیح جس کا یہ کمال دین پیرو ہے کسی ایک فرد کو بھی مذاہب غیر میں سے اپنے زیر اثر لا سکا؟ ہر گز نہیں اور جھوٹی پیش گوئیاں کرتا مر گیا۔

دیکھو! پنجابی مسیح کیا پیش گوئی کرتا ہے۔

”میں اس لئے آیا ہوں کہ عیسی پرستی کے ستون کو توڑوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلاؤں۔ اگر میں مر گیا اور یہ کام پورا نہ ہوا تو میں جھوٹا ۔“12

دیکھو! صوبہ پنجاب میں ہی ہندوستان کے دیگر صوبہ جات کے علاوہ اور دیگر ممالک کا تو ذکر ہی نہیں ۔ عیسائیت کو کس قدر ترقی ہوئی۔ مردم شماری ۱۹۰۱ء میں پنجاب میں عیسائیوں کی تعداد ۳۷۶۹۵ تھی اور ۱۹۱۱ء میں ۱۶۳۰۹۴ یعنی عرصہ دس برس میں ۱۳۵۳۹۹ کی بیشی ہوئی۔13

اب اگر پنجابی مسیح کے گروہ میں ایک رائی کے دانہ برابر بھی انصاف ہوگا تو ضرور پنجابی مسیح کو جھوٹا کہیں گے اور اسی طرح پنجابی مسیح کی دوسری تحریر ملاحظہ ہو۔

”اس صدی کے اواخر میں بقول پیکر صاحب پانچ لاکھ تک صرف ہندوستان میں ہی کرسشان لوگوں کی نوبت پہنچ گئی ہے۔“ 14

کیا پنجابی مسیح کا گروہ ہم کو بتا سکتا ہے کہ اسی عرصہ میں اس کی کوشش سے کتنے عیسائی قادیانی مشن کے زیر اثر ہوئے۔ اب ان دنوں ایک یا دو کا ولایت میں مسلمان ہونے کا راگ سنانا اس پر بغلیں بجانا اور سیکڑوں تحریریں اسلام کی آڑ میں چندہ مانگنے پر لکھ کر اخباروں کے کالم کے کالم سیاہ کر ڈالنا اسی گروہ کا کام ہے۔ افسوس ہزاروں تو کیا لاکھوں پنجابی مسیح کی برکت سے اپنے ہی ملک کے بھائی آپ سے علیحدہ ہو کر عیسائی ہو گئے تو ان کی کچھ پرواہ نہیں کی گئی اور ذراغم نہیں کیا گیا۔ افسوس اگر مرزائی ہوں تو ایسے بھی ہوں۔ اس کا راز تو آید و مرواں چنین کنند!

آپ کو تو چندہ سے کام ہے اور اس بناء پر لکھا جاتا ہے۔ خواجہ صاحب کا ہاتھ بٹاو اور اپنے اندرونی تفرقوں کو کچھ مدت کے لئے لپیٹ رکھو۔ اب دیکھیں مردم شماری کی بابت جو تعداد . عیسائیوں کی سرکاری کا غذات میں درج ہے اور جس نے پنجابی مسیح کی پیش گوئی پر پانی پھیر دیا اس کی نسبت مرزائی گروہ کی طرف سے کیا گل فشانیاں ظہور میں آتی ہیں۔ مگر یادر ہے۔؎

گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر

ناظرین! اس جملہ معترضہ کو چھوڑ کر اصلی مدعا پر آتا ہوں اور آپ کی توجہ اس تحریر کی طرف منعطف کراتا ہوں جو پنجابی مسیح نے حضرت مسیح کی ایسی ناپاک اور گندی تحریر کی قرآن شریف سے ملی تردید ظاہر ہے۔ قرآن مجید میں لکھا ہے: تحقیق اللہ نے پسند کیا آدم کو اور نوح کو اور ابراہیم کے گھر کو سارے جہان والوں سے کہ اولاد تھی ایک دوسرے کی اور اللہ سنا جانتا جب بولی عورت عمران کی کہ اے رب میں نے نذر کیا تیری جو میرے پیٹ میں ہے۔ آزاد، سوتو مجھے قبول کر تو ہی محل سنتا جانتا اور پھر اس کو جنی۔ بولی اے رب میں یہ لڑکی جنی اور اللہ کو بہتر معلوم ہے جو کہ جنی اور بیٹا نہ ہو جیسی وہ بیٹی اور جنی اس کا نام رکھا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود ہے۔ پھر قبول کیا اس کو اس کے رب نے۔ اچھی طرح کا قبول اور ٹھہرایا اس کو اچھی طرح ٹھہرانا ۔ یہ تو ہے قرآن کی تعلیم یعنی خدا تعالی مسیح ابن مریم کے نانا عمران اور اس کے سب گھر والوں کو پسند کرتا ہے اور مسیح ابن مریم کی نانی کا دعا مانگنا اور حضرت مریم اور اس کی اولاد کو خدا کی پناہ میں دینا اور شیطان سے بچانا اور خدا کا اس دعا کو قبولیت کا شرف بخشا۔ قرآن سے صاف ظاہر ہے اور پنجابی مسیح کا اس کے برخلاف لکھنا کہ مسیح ابن مریم شیطان کے پیچھے چلے گئے اور ان کی دادیاں اور نانیاں معاذ اللہ زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ کفر اور الحاد نہیں تو اور کیا ہے؟ اے نام کے مسلمانوں کیا اس کی حمایت میں چندہ دیتے ہو۔ کیا پنجابی سکے کے پیرو کمال دین نے اپنے مشن کی طرف سے ان باتوں کو عیسائیوں پر ولایت میں ظاہر کیا اور ان کو قابل کیا کہ واقعی پنجابی مسیح کی تحریر کے مطابق مسیح ابن مریم ایسا ہی تھا۔ اگر ان تحریروں کو ظاہر نہیں کیا تو کیوں؟

افسوس ! جب کہ مسیح ابن مریم کی کوئی دادی نہ تھی تو اسے اس الزام میں کسی طرح شامل کر لیا گیا۔ کیونکہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔

الف..... دیکھو قرآن شریف” تحقیق عیسی کی مثال اللہ کے نزدیک جیسے آدم نے بنایا اس کو مٹی سے پھر کہا اس کو ہو جاوہ ہو گیا ۔“ 15

ب... اور دوسری جگہ پر” کہاں سے ہوگا مجھ کو لڑکا اور مجھ کو ہاتھ نہیں لگا یا کسی آدمی نے کہا اسی طرح پیدا کرتا ہے اللہ جو چاہے جب حکم کرتا ہے ایک کام کو۔ یونہی کہتا ہے اس کو کہ ہو، وہ ہو جاتا ہے۔“ 16

ج... اسی طرح انا جیل میں بھی مسطور ہے۔ 17

د...(انجیل متی باب اول آیت :۱۸) جب کہ الہی نوشتوں کے مطابق اس کا باپ ہی نہ تھا تو اس کی دادی کہاں سے آگئی۔ لیکن پنجابی مسیح قرآن اور اناجیل کے خلاف یوسف نجار کو اس کا باپ لکھتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ ۲۲ برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے۔ 18

14۔اور یہ جو پنجابی مسیح نے (مکتوبات احمد یہ، ج :۲ ،ص: ۴۹۰ جدید) کے مطابق دعوی کیا کہ عیسی پرستی کے ستون کو توڑوں گا اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلاؤں گا۔ اسی طرح کے خلاف خود تثلیث پرستی کا دعوی بڑے زور وشور سے کیا۔ دیکھو اس کا عربی الہام : ”انت منی بمنزلة اولادي انت منى وانا منك “ اور خود ترجمہ بھی کرتا ہے۔

”خدا کہتا ہے تو میرے لئے ایسا ہے جیسا کہ اولاد، تو مجھ میں سے اور میں تجھ میں سے جس کا صاف مطلب بلا کسی تاویل کے یہ ہے کہ پنجابی مسیح خدا کا بیٹا بھی ہے اور خدا بھی بلکہ خدا کا باپ بھی ۔ 19

کیا کمال الدین نے ان جملہ تحریرات کو جو ہم نے پنجابی مسیح کی کتابوں ، اخباروں اور رسالہ جات سے حوالہ وار درج کی ہیں۔ آپ لوگوں پر ظاہر کی ہیں ؟ اگر نہیں تو اس نے اپنے مشن کا کچھ کام نہ کیا۔ لارڈ ہیڈلے صاحب نے تو صاف کھلے الفاظ میں انکار کر دیا جیسا کہ خود مرزائی اخبار پیغام صلح سے ظاہر ہے کہ خواجہ صاحب نے ان کو اپنے زیر اثر لانے کے لئے ذرا بھر کوشش نہیں کی اور اگر دیگر صاحبوں کی نسبت بھی اس کی کوششوں کا یہی حال ہے جو ایک حد تک ممکن ہے کہ صحیح ہو تو ہم نے پنجابی مسیح کے مشن کی طرف سے اس کے عقائد کو حضرت مسیح ابن مریم اور دیگر چند امور کی نسبت جن پر اس کے گروہ کا دل و جان سے ایمان ہے آپ پر ظاہر کر دیا تو شاید ہرج کی بات متصور نہ ہوگی۔

پنجابی مسیح حضرت مسیح ابن مریم کے معجزات سے بھی انکار کرتا ہے جیسا کہ لکھتا ہے:

”اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر دیا جائے جو محض افتراء کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے گھڑے گئے ہیں تو کوئی عجوبہ نظر نہیں آتا۔ بلکہ مسیح کے معجزات اور پیش گوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں ۔“ 20
”مگر پھر بھی عوام الناس ایک انبار معجزات کا ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔“21
”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ مگر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔“ 22
حالانکہ قرآن شریف ( سوره بقره: ۵۷، مائده : ۱۱۰، آل عمران : ۴۹) میں خداوند تعالی صاف صاف اور کھلے کھلے الفاظ میں فرما رہا ہے کہ: ”ہم نے عیسی بن مریم کو معجزات دیئے ۔ وہ اندھوں کو آنکھیں دیتا، کوڑھی کو پاک صاف کر دیتا اور مردوں کو زندہ کرتا اللہ کے حکم سے “ اور اسی طرح سے ظاہر ہے اور علمائے اسلام مکہ معظمہ و مدینہ منورہ دہندوستان وغیرہ نے پنجابی مسیح اور اس کے گروہ کو بباعث فحش تحریرات مخالف قرآن اور احادیث وبے ادبی وبے حرمتی وتوہین انبیاء sym-3 دائرہ اسلام سے خارج کر دیا ہے۔ نہ وہ مسلمان ہیں اور نہ ہم اہل اسلام سے ان کا کچھ واسطہ ہے اور جو شخص ایسا عقیدہ حضرت مسیح بن مریم کی نسبت رکھتا ہو جیسا کہ ہم نے پنجابی مسیح کی کتابوں سے ظاہر کیا ہے۔ ہم اس کو ہرگز مسلمان نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس گروہ کے کسی فرد کو بھی خواہ وہ کمال دین ہی کیوں نہ ہو۔ اہل اسلام کی طرف سے کوئی بھی حق نیابت یا لیڈری کا نہیں۔

اگر کوئی پنجابی مسیح کا پیر ویا ان کا کوئی ہم خیال یہ کہے کہ یہ یسوع کی نسبت کہا گیا ہے نہ کہ مسیح ابن مریم کی نسبت تو اس کو چاہئے کہ وہ مسیح کو یسوع کا غیر ثابت کر کے مبلغ تین سو روپیہ کا انعام ہمارے انعامی اشتہار مورخہ ۳ جولائی ۱۹۰۷ء کے مطابق حاصل کرے۔ قریباً سات برس 1902ء سے کسی مرزائی کو اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ مذکورہ بالا انعام حاصل کرتا۔ مرزائی جو لفظ یسوع اور مسیح کی نسبت دھوکا دیتے ہیں۔ اس سے بچو اور اس کی تحقیقات میں رسالہ عدالت ہائیکورٹ آسمانی کا صفحہ ۸۴ ملاحظہ کرو۔

کیا کمال دین پنجابی مسیح کی ان تمام تحاریر کی نسبت جن میں حضرت مسیح ابن مریم پر قرآن شریف و احادیث اور اناجیل کے بر خلاف الزام لگائے ہیں انکار کر سکتا ہے۔ ہرگز نہیں اور کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ وہ تحریریں اس کی نظر سے نہیں گزریں یا اس کو خبر نہیں۔ اس کی ان تحریروں کا بہت سا حصہ اس کتاب میں پایا جاتا ہے۔ جس میں یہ پنجابی مسیح نے اپنے خاص الخاص ۱۱۳ مریدوں کی ایک فہرست دی ہے۔ جس میں کمال الدین کا نمبر 62ہے۔ 23

بلکہ کمال دین کی تعریف بھی کرتا ہے۔ دیکھو وہی کتاب حاشیہ ص ۳۱ کیا ہو سکتا ہے کہ کمال الدین انکار کرے۔

علاوہ مذکورہ بالا تحاریر کے پنجابی مسیح اپنے آپ کو پیغمبر نہیں بلکہ رسول بھی کہتا ہے اور جو اس کی نبوت اور رسالت کا انکار کرے گا وہ مستوجب سزا ہو گا اور اس کا یہ بھی دھوئی ہے کہ نبوت کا دروازہ قیامت تک کھلا رہے گا اور رسول آتے رہیں گے (توضیح مرام ،ص: ۱۸، خزائن، ج:۳،ص:۶ مخلص ) اور وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کا قائل نہیں ۔ مثلاً اور قرآنی احکام کے آیت:” ولكن رسول الله وخاتم النبيين “حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا اور ختم کرنے والا نبوت کا ہے۔

”اور اپنے آپ کو بعینہ محمد اور اس کا بروز ( اوتار ) کہتا ہے۔“ (ایک غلطی کا ازالہ، ص :۵، خزائن ،ج: ۱۸ ،ص :۲۱۲ نومبر ۱۹۰۱ء)
”وہ دعوی کرتا ہے کہ وہ کرشن کا اوتار بھی ہے۔“( لیکچر سیالکوٹ میں ۳۳، خزائن ج ۲ ص ۲۳۸)
”وہ اپنے آپ کو آدم، ابراہیم ، نوح، یوسف اور موسیٰ کا بھی بروز قرار دیتا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص: ۲۵۳، خزائن ،ج: ۳ ،ص :۲۲۷، ۲۳۸)

18۔پنجابی مسیح کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ قرآن شریف غلطیوں سے پاک نہیں اور پنجابی مسیح قرآن شریف کی غلطیاں نکالنے کے لئے آیا ہے۔ (ازالہ اوہام ص ۷۰۸، خزائن ج ۳ ص ۲۸۲ اختص) اور اسی بناء پر چند آیات قرآنی کو بڑھا گھٹا کر رسالہ اربعین میں لکھا۔ مقابلہ کرو (صف آیت : 7، 8، آل عمران آیت: ۱۳۳، بقره آیت: ۲۱۰۱۰۶ ہود آیت: ۳۷، مؤمن آیت ۷۷، یوسف آیت: ۸۷، حج آیت: ۲۳، آیت: ۳ نمل آیت : ۴۵، یونس آیت : ۹۱) جس کو اور زیادہ شوق ہو دیکھے (ضمیمہ شحنہ ہند، مورخہ ۱۶، ۲۴ جولائی ۱۹۰۲، نمبر ۲۷، ۲۸، ج :۲۰، ص: ۲۲۶ تا ۲۳۰)

اے پنجابی مسیح کے گروہ پر جان فدا کرنے والو اور چندہ دینے والو کچھ تو غیرت کو کام میں لاؤ۔ اگر بقول پنجابی مسیح قرآن ہی غلطیوں سے منزہ (پاک) نہیں تو تم کیا خاک اس کی تبلیغ کے لئے ایڑیاں رگڑ رہے ہو؟ لیکن یاد رکھو جب کہ خود خدا تعالی اپنے کلام کا محافظ ہے جیسا کہ انا له لحافظون سے ظاہر ہے تو پنجابی مسیح کا آیات قرآنی میں گھٹانا ہو اور اس کی چوری جلد پکڑی گئی۔ یہ ہی اس کا ایمان اور اس کے گروہ کا خدا کے پاک نوشتوں پر۔

19۔اب جب کہ پنجاب میں پنجابی مسیح اور اس کے گروہ کی دال نہ گلی تو ولایت میں تبلیغ کے خواب آنے لگے۔ اب دیکھیں کہ پنجابی مسیح کے ان عقائد کی جو قرآن واحادیث نبویہ اور اناجیل کے برخلاف ہیں۔ جن کو ہم نے حوالہ وار او پر درج کیا ہے۔ کون کون صاحب شرف قبولیت بخش کر پنجابی مسیح کے مشن کے زیر فرمان ہونا قبول کرتا ہے۔

20۔وہ دو ایک شخص جن کی نسبت یہاں بڑے شدو سے ظاہر کیا جاتا ہے کہ انگلستان اور فرانس میں مسلمان ہوئے ہیں تو ہم ان سے یہ پوچھنے کی ضرور جرات کریں گئے کہ کیا آپ نے مان لیا کہ پنجابی مسیح نے جس کا کمال دین مرید ہے جو کچھ حضرت مسیح ابن مریم کی نسبت قرآن واحادیث اور اناجیل کے خلاف اور جسے ہم پیچھے ظاہر کر چکے ہیں لکھا بالکل سچ اور صحیح ؟ اور پنجابی مسیح محمد رسول اللہ ﷺ کا بروز، کرشن کا اوتار، خدا کا بیٹا، بلکہ خدا کا باپ بھی ہے۔ اگر ان سب باتوں پر آپ ایمان لے آئے ہیں تو ہم بھی زور سے کہیں گے کہ آپ کا اور اسلام کا کچھ بھی تعلق نہیں ۔ ہم روئے زمین کے نوے کروڑ مسلمان ایسے عقائد رکھنے والے کو ہرگز ہرگز مسلمان نہیں سمجھتے۔

ضمیمہ عقائد مسیح قادیانی

1۔”آنحضرت رسول خدا ﷺ سورہ زلزال کے معنے غلط سمجھے “ ازالہ، ص: ۱۳۸، ۱۲۹، خزائن، ج:۳ ،ص: ۱۶۶
2۔”قرآن خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“ لکھرام کی موت کی نسبت اشتہار مورخہ ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء، مجموعہ اشتہارات، ج :۲ ،ص: ۳۵۹
3۔”فرشتے نفوس فلکیہ و ارواح کو اکب کا نام ہے اور جو کچھ ہوتا ہے وہ سیارات کی تاثیر سے ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔“توضیح المرام ، ملخصا من ص:۳۳، ۳۷، ۳۸ تا ۲۷، خزائن ج :۳، ص: ۲۸)
4۔”جبرائیل sym-9 کبھی زمین پر نہیں آئے نہ آتے ہیں۔“توضیح مرام، ملخصا ،من ص: ۶۸ ،۸۵،۷۰، خزائن ج :۳،ص:۸۶
5۔”انبیاء sym-3 جھوٹے ہوتے ہیں۔“ ازالہ اوہام، ص: ۱۶۸ ،خزائن ،ج: ۳ ص :۴۳۹
6۔”حضرت محمد ﷺکی بھی وحی غلط نکلی ۔ “ازالہ اوہام ،ص: ۲۸۹،۷۸۸، خزائن ج: ۳ ،ص: ۴۷۱
7۔”حضرت رسول اکرم ﷺکو ابن مریم اور دجال اور خود جال، یا جوج ماجوج اور دابتہ الارض کی وحی نے خبر نہیں دی ۔“ازالہ اوہام، ص :۲۹۱، خزائن ج: ۳ ص: ۴۷۳
8۔”خر دجال زیل ہے۔ دابتہ الارض علماء ہوں گے اور دجال پادری صاحبان ۔“ازالہ ،ص: ۲۹۵، خزائن ،ج:۳ ص :۳۶۶
9۔”حضرت مسیح sym-9 مسمریزم میں مشق کرتے اور کمال رکھتے تھے۔“ازالہ اوہام ،ص: ۳۰۸، خزائن ج:۳ ص: ۲۵۷
10۔”حضرت مسیحsym-9 یوسف نجار کے بیٹے تھے ۔“ازالہ ،ص: ۳۰۳ ،خزائن ،ج:۳ ،ص :۴۳۹
11۔”براہین احمد یہ خدا کا کلام ہے۔“ازالہ، ص :۵۳۳، خزائن، ج:۳ ص: ۳۸۶
12۔”قرآن شریف میں جو معجزے ہیں وہ مسمریزم ہیں۔“از الہ اوہام ،ص: ۷۳۸ تا ۷۵۰، خزائن ج: ۳ ،ص :۰۴۰۵۰۳ ۵ ملخص
13۔”قرآن شریف میں”انا انزلناہ قريبا من القاديان “ موجود ہے۔ ازالہ ،ص: ۷۶ ،۷۷ ، خزائن ج: ۳ ص: ۱۴۰
14۔”مکہ، مدینہ، قادیان تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اعزاز کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔“از الہ، ص: ۷۶، ۷۷، خزائن، ج :۳، ص: ۱۴۰
15۔”بيت الفکر واقع قادیان ( وہ چوبارہ جس میں مرزا قادیانی بیٹھ کر کتابت کرتے ہیں)مثیل حرم کعبہ ہے۔ومن دخله كان آمنا“(برا ہین احمد یہ ،ص: ۵۵۸، خزائن ج: ا ص:۶۶۶)
16۔”آیت سبحان الذي أسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى الذي باركنا حوله“ كا معنوی اور اصلی طور پر مصداق وہ مسجد ہے جو مرزا قادیانی کے والد نے بنائی اور مرزا قادیانی نے اس میں توسیع کی ۔“(اشتهار منارة المسیح ، مجموعه اشتهارات ج: ۳ ،ص: ۲۸۹،۲۸۸، ملخص )
17۔”حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں ۔“
18۔”حضرت رسول اکرم خاتم النبيين والمرسلین نہیں “ (ازالہ، ص: ۴۲۲، خزائن ،ج: ۳ ص: ۳۲۱)
19۔”قیامت نہیں ہو گی قیامت کوئی چیز نہیں ہے۔“از الہ، ص: ۲۲۶۰۴۲۵، خزائن ج:۳ ص: ۳۲۵
20۔”حضرت مہدی نہیں آئیں گے۔“(از الہ، ص: ۵۱۸ ، خزائن ج:۳ ،ص: ۳۷۸ ،ملخص)
21۔”آفتاب مغرب سے نہیں نکلے گا۔“(از الہ اوہام، ص: ۵۱۵، خزائن ج: ۳ ص: ۳۷۶)
22۔”عذاب قبر نہیں ہے۔“(از الہ ،ص: ۴۱۵، خزائن ج: ۲ ص: ۳۱۶)
23۔”تناسخ صحیح ہے۔“(ست بچن، ص: ۸۴، خزائن ج :۱۰ ،ص:۲۰۸)
24۔”قرآن شریف میں گالیاں بھری ہوئی ہیں۔“ازالہ، ص: ۲۵، خزائن، ج:۳، ص: ۱۱۵ حاشیہ
25۔”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“(در ثمین ، اردو،ص:۲۲)

مرزائی جماعت کی نسبت چند دلچسپ باتیں:

1۔کمال دین مرزائی جو آج کل لندن میں مرزائی مشن کی تبلیغ کر رہا ہے بقول اخبار اپنی متبرک داڑھی چٹ کر بیٹھے اور کہ کوئی مہ جبیں لیڈی بھی آپ کے پاس رہتی ہے۔ افسوس کہ خواجہ صاحب بھی بایں ہمہ ریش ونش شیدائے حسن فرنگ ہو گئے اور اپنی زینت چہرہ اسلامی علامت لمبی داڑھی کو کسی دشمن دین کی نذر کر بیٹھے۔ ڈر ہے کہ کہیں مرزائی دین کی تبلیغ کرتے کرتے خود ہی عیسائیت کے دام میں نہ پھنس جائیں۔ (سراج الاخبار )

مرزائی سال اور مہینے:

مرزائی اخبار الحق اپنے یکم را گست ۱۹۱۳ء کے پرچہ میں یہ نئی تجویز پیش کرتا ہے کہ مرزائی جماعت کا سنہ بھی مرزا قادیانی کے نام پر ان کی وفات سے شمار ہونا چاہئے اور مہینوں کے نام حسب ذیل ہوں ۔ (۱) نورالدین ۔ (۲) ظہور الدین ۔ (۳) بشیر الدین۔ (۴) نذیر الدین۔ (۵) محی الدین ۔ (۱) معین الدین (۷) شمس الدین (۸) قمر الدین۔ (۹) سراج الدین۔ (۱۰) نصیر الدین ۔ (۱۱) رفیع الدین (۱۲) کمال الدین۔ جو صاحبان کہا کرتے ہیں کہ مرزائی کون سی نئی بات کرتے ہیں جس سے مسلمان ان پر ناراض ہیں بتائیں کیا آج تک کسی قرن کے مسلمان نے ایسی جرات کی ہے کہ حضرت محمد رسول الله ﷺ کے سال ہجرت کو چھوڑ کر نیا سال تجویز کرے؟ مگر مرزائی سچے ہیں کیونکہ جو تمام مسلمانوں کا اسلام ہے وہ ان کا اسلام نہیں ہے۔ (پیغام صلح، مورخہ ۱۸ جنوری ۱۹۱۴ء)

سادہ لوح مسلمانو! شرم کرو اور سوچو کہ واقعی جو ہمارا اسلام ہے وہ مرزائیوں کا اسلام نہیں۔ دیکھو نور الدین مرزائی جمہور اسلام کے خلاف آیت قرآن مجید اور مرزا کی نسبت اپنا کیا عقیدہ لکھتا ہے۔ "میں ’’مبشراً برسول ياتي من بعد اسمه احمد ‘‘ کی پیش گوئی حضرت مسیح موعود sym-9 کے متعلق مانتا ہوں کہ یہ صرف حضرت مسیح موعود sym-9 کے متعلق ہے اور وہی احمد رسول ہیں۔“

کیوں صاحب! اب بھی آپ نے عقل کے ناخن لئے یا نہیں۔ حضرت مسیح ابن مریم کی قبر کی بابت مرزا قادیانی کے متضاد بیانات۔

پہلی قبر:

یسوع (مسیح) سو اس بات کو عقل قبول کرتی ہے کہ انہوں نے (یعنی حواریوں نے) فقط ندامت کا کلنک اپنے منہ پر سے اتارنے کی غرض سے ضرور یہ حیلہ بازی کی ہوگی کہ رات کے وقت جیسا کہ ان پر الزام لگا تھا یسوع کی نعش کو اس کی قبر میں سے نکال کر کسی دوسری قبر میں رکھ دیا ہوگا اور پھر حسب مثل مشہور کہ خواجہ کا گواہ ڈڈو کہہ دیا ہوگا کہ لو جیسا تم درخواست کرتے تھے یسوع زندہ ہو گیا۔ (ست بچن ،ص: ۱۶۲، خزائن ،ج:۰ ۱ ،ص :۲۸۶)

یہ قبر یروشلم میں ہے جہاں یسوع صلیب دیا گیا بقول مرزا۔

دوسری قبر:

ہاں بلاد شمام میں حضرت عیسیٰ کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں پر ہزار ہا عیسائی سال بسال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں ۔(ست بچن حاشیہ، ص :۱۶۴، خزائن ،ج: ۱۰، ص: ۳۰۹)

تیسری قبر:

”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔“(ازالہ اوہام، مطبوعہ بار دوم ،ص: ۴۷۳، خزائن، ج :۳، ص: ۳۵۳)

چوتھی قبر:

”اور حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کشمیر میں جا کر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔“ (ست بچن حاشیہ، ص: ۱۹۲، خزائن، ج :۱۰، ص: ۳۰۷)

ناظرین! غور فرمائیں اور انصاف کریں کہ مسیح قادیانی کی کس بات کو سچا سمجھا جائے۔ پہلے وہ مسیح کی قبر یروشلم میں پھر بلاد شام میں پھر اپنے وطن گلیل میں اور پھر سری نگر کشمیر میں بتاتا ہے اور جب کہ وہ یروشلم کی قبر سے حضرت عیسی کی نعش کا چرا لے جانا بتاتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ حضرت عیسی sym-9 یروشلم میں فوت ہو کر دفن ہو چکے تھے۔ پھر مرزا قادیانی حضرت عیسی sym-9 کے اپنے وطن گلیل میں جا کر اور فوت ہو کر دفن کا بیان لکھتا ہے۔ بعد ازاں کشمیر میں جا کر وفات پانے اور دفن ہو جانے کا بیان کرتا ہے تو گویا بقول مرزا قادیانی حضرت مسیح sym-9 چار دفعہ فوت ہوئے اور چار جگہ دفن کئے گئے۔ کیا یہ مرزا قادیانی کا خلل دماغ ہے یا کہ حضرت مسیح واقعی بار بار مرتے اور دفن ہوتے رہے ہیں؟ افسوس! پس مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ وفات مسیح قرآن مجید وانجیل کے بالکل بر خلاف ہے۔ مرزائی مشن کو تقویت دینے والو یعنی کمال الدین کو لندن میں چندہ بھیجنے والو کچھ تو انصاف کرو اور غیرت سے کام لو اور بجائے اپنے مذہب کی توہین کرانے کے اور دشمنان دین کو چندے دے دے کر دوزخ خریدنے کے اپنے پاک مال میں سے ان لوگوں کو چندے دو جو مرزائی گروہ کی فتنہ پروازیوں، ابلہ فریبیوں کے اسرار کو طشت از ہام کر رہے ہیں۔ یعنی انجمن حای اسلام لاہور نے یہ عزم بالحزم کر لیا ہے کہ مختلف ٹریکٹوں کی صورت میں قادیانی فرقہ کے عقائد باطلہ کی تردید وغیرہ شائع کی جایا کرے۔ پس آپ انجمن مذکور کے سیکرٹری کی دامے درمے سخنے قلمی امداد کے لئے فوری کوشش فرمائیں۔ خادم الاسلام ملا محمد بخش سیکرٹری انجمن حای اسلام لاہور نزد کٹڑہ ولی شاه!


  • 1 اخبار حکم ،مورخہ 21فروری 1903، ملفوظات، ج :۳ ،ص :۱۳۶
  • 2 ضمیمہ انجام آتھم ،ص: ۹، خزائن، ج: ۱ ،ص: ۲۹۳
  • 3 اخبار الحکم ،مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۲ ،ملفوظات، ج: ۳ ،ص: ۱۳۷
  • 4 الحکم، ۲۱ فروری ۱۹۰۲ ، بالفوظات، ج :۳ ،ص: ۱۳۷
  • 5 انجام آتھم ،ص: ۱ ۴، خزائن، ج:۱ ۱، ص:۴۱
  • 6 (دافع البلاء، ٹائل پیچ ، خزائن، ج: ۱۸ ،ص :۲۲۰)
  • 7 قادیانی مسیح کا اخبار الحکم ،مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۲ء، ملفوظات ،ج :۳ ،ص :۱۳۷
  • 8 ضمیمہ انجام آتھم، ص: ۶، ۷ ، خزائن، ج:۱ ۱، ص :۲۹۰
  • 9 ضمیمہ انجام آتھم، ص: ۶، خزائن ،ج:۱ ۱ ،ص :۳۹۰
  • 10 مائده : ۲۳۷
  • 11 ضمیمہ انجام آتھم، ص :، خزائن ،ج:۱ ۱، ص: ۲۹۱
  • 12 البدر مور خہ ۱۹ جولائی ،۱۹۰۲ء، مکتوبات احمد یہ جدید،ج: ا،ص: ۴۹۵
  • 13 سراج الاخبار جہلم ،مورخہ :۲، دسمبر ۱۹۱۳ء
  • 14 ازالہ اوہام، ص: ۴۹۱، خزائن، ج: ۳، ص: ۳۶۴
  • 15 سوره آل عمران آیت : ۵۲
  • 16 سوره آل عمران آیت : ۴۲
  • 17 انجیل لوقا باب اول آیت: ۲۶ تا ۳۱ اور آیت: ۳۳، ۳۷
  • 18 ازالہ اوہام ،ص: ۳۰۳ ، خزائن، ج :۳ ص :۲۵۴ حاشیہ
  • 19 دافع البلاء ،ص: ۶، ۷ ، خزائن ،ج: ۱۸ ،ص :۲۲۷
  • 20 ازالہ اوہام ،ص: ۶، خز ائن ،ج: ۳، ص :۱۰۶
  • 21 ازالہ اوہام، ص :۸، خزائن ،ج :۳، ص :۱۰۸
  • 22 ضمیمہ انجام آتھم ،حاشیہ، ص :۶، ۷ ، خزائن ،ج: ۱۱، ص: ۲۹۰، ۲۹۱
  • 23 ضمیمہ انجام آتھم ، ص: ۳۲، خزائن، ج :۱۱، ص: ۳۲۶

Netsol OnlinePowered by