logoختم نبوت

خلاصۃ العقائد۔۔۔از۔۔۔علامہ عبد الماجد قادری بدایونی

پیغمبروں پر ایمان خاص کر حضور سرور عالم ﷺ پر

ضرورت رسالت کا ثبوت:

ہماری عقل کی رسائی جہاں تک ہے وہ ظاہر ہے ہماری عقل کا قصور ہمیں بار ہا تجارب متعددہ سے ثابت ہو جاتا ہے۔ ہمارا آئین کا اختلاف ایک قول کو ایک شخص کا مستحسن سمجھنا دوسرے کا اس کو قبیح اور برا جاننا اس امر کا شاہد ہے کہ حقیقت حال مشتبہ ہے خاص کر وہ امور جو متعلق تو حید و عبادت و آخرت میں ان میں تو اختلاف ہونا موجب خسران ہے۔ لہذا باعتبار حصول نجات ابدی ضرورت تھی کہ حقیقت حال اور خاص خدا کی مرضی معلوم ہو اور کوئی شخص اس کی طرف سے آئے جو اس کی مرضی کو بتائے اور حقیقت کھال سمجھائے تا کہ یہ اختلاف دور ہو اور بندے عذاب سے رہا ہوں اور ان آنے والوں کو ہی رسول کہتے ہیں ۔

رسالت کے اثبات کا دوسرا پہلو:

دیکھ رعیت کو ضرورت ہوتی ہے کہ بادشاہ کی طرف سے کوئی حاکم مقرر ہو جو تمام احکام شاہی سے مطلع کرے ۔ اس لئے کہ بادشاہ اپنی جبروت و عظمت کے سبب ہر شخص سے خود ہم کلام نہیں ہوتا۔ لہٰذا ایسا حاکم مقرر ہوتا ہے جو بادشاہ ور عایا میں واسطہ ہو ۔ اسی طرح ہم بندے ہر دینی دنیوی امور میں خدا کے محتاج ہیں اور وہ ذات قدیم بیمثل غایت تقدس و کبریائی میں ہے۔ اور ہم نفس کی خواہشوں اور وساوس و خیالات کی ظلمتوں میں پھنسے ہوئے ہیں تو ہمارا اس سے ہم کلام ہونا جس حد تک ممتنع ہے ظاہر ہے۔ پس ضروری ہوا کہ ہمارے اور اس کے درمیان میں کوئی واسطہ ہو جو ہماری تمام مشکلات خدا تک پہنچائے اور اس کے فرمان اور ہماری بہتری کی خدائی تدابیر و احکام ہمیں بتائے اور وہ واسطہ ایسا ہو جو طرفین سے مناسبت رکھتا ہوتا کہ یہ انتظام جاری رہے اور تمام ضروریات بندوں کی پوری کرتا ر ہے ۔ اسی شخص کو نبی و رسول کہتے ہیں ۔

رسالت کے اثبات کا دوسرا پہلو:

تین چیزوں کی خبر ملنا نہایت ضروری ہے:

1۔ایک تو ثواب و عذاب آخرت کیا کیونکہ ایک دن ہمیں اس عالم کو چھوڑ کر دوسرے ایسے عالم میں جاتا ہے جہاں ہمارے دنیاوی امور وافعال بلکہ ساری زندگی کا جائزہ لیا جائے گا اور ان کے مطابق عیش یا غم ملے گا۔ پس ضرور ہے کہ وہ امور بتائے جائیں جو اس مفہوم کو پورا کریں۔

2۔ دوسرا یہ معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ خدا کی عبادت کس طرح کی جائے جب تک یہ نہ معلوم ہو کہ فلاں طور سے عبادت خدا کو پسند ہے عبادت کرنا فضول ہے۔

3۔تیسرے تعلیم روحانی یعنی اس کی ذات وصفات کا علم ۔ ان تینوں باتوں میں اگر چہ عقل کو لگاؤ ہے مگر پوری پوری طرح ادراک مشکل ہے۔ بلکہ بغیر خدا کے بتائے محال اور بغیر الہام کے یہ دقیق امور معلوم ہونا مشکل ۔ پس حاجت پڑی کہ کوئی ایسا شخص آئے جو بالہام الہی ان دقیق امور کو ظاہر و آشکار فرمائے اور وہ ہی رسول ہے۔

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ نبی وہ شخص ہے کہ جس پر اللہ نے وحی کی ہے ۔ اس کے نفس کی پوری ترقی کے واسطے کسی اگلی شریعت کے ساتھ یا نئی شریعت کے ساتھ ۔ اور رسول وہ نبی ہے جس پر اللہ نے بعد اس کی ترقی و تکمیل کے ، وحی بھیجی کہ وہ بندوں کو اس کے احکام پہنچائے۔

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ وحی شرعی سواء انبیاء sym-3 کے کسی پر نہیں ہوئی ۔ اولیائے کرام پر وحی نہیں ہوتی بلکہ ان کو دوسری طرح شرف و بزرگی دی جاتی ہے۔ یعنی بذریعہ الہام اور یہ الہام ہر وقت میں ہوسکتا ہے۔ البتہ وحی شرعی جیسا کہ اوپر ہے بتایا گیا سوائے انبیاءsym-3 کے اور کسی پر نہیں ہو سکتی چونکہ ہمارے حضور خاتم النبیین ہیں لہذا اب اس ( یعنی وحی ) کا ہونا بھی محال ہے۔

مرزا جی کا دعوی نبوت:

فائده: قریب زمانہ میں اب سے چند سال پیشتر قادیان ضلع گورداسپور پنجاب میں ایک مرزا جی مرزا غلام احمد نامی مدعی ہونے کہ مجھ کو الہام ہوتا ہے۔ پہلے مہدی ہونے کا دعوی مدتوں رہا، پھر وحی نبوت کا دعوی ہوا کہ میں مسیح موعود کہوں ۔ جن کی پیشین گوئی احادیث میں وارد ہے پھر کھل کر نبوت و وحی کا دعوی کر دیا۔ عرب و عجم کے علماء نے بالاتفاق ان کی تکفیر کا فتوی دیا ۔ ۱۳۲۵ھ میں لاہور میں مرض ایلاؤس لا میں مبتلا ہو کر اپنے مفر کو پہنچے۔ کچھ لوگ اب بھی ان کے نام لیوا ہیں۔ ان کا یہ دعوی اسلامی اجتماعی منصوص عقیدہ کے خلاف تو تھا ہی مگر علاوہ اہل اسلام کے دیگر مذاہب کے تعلیم یافتہ لوگ بھی ان کے دعوئی کو لچر سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں۔ کیونکہ مرزا جی کا یہ دعولی تازیست بلا دلیل رہا محض ادہر ادہر کی گپ شپ سے کام نکالنا ان کا شیوہ تھا ۔ بہت سی پیشین گوئیاں کیں جن کے جھوٹ ہونے پر ہمیشہ ذلیل ہوتے رہے۔

حاشیہ

ایلا اوس ایک مرض ہے جس میں منہ کے راستہ سے براز نکلتا ہے ۔ ۱۲ حبیب

حاشیہ ختم شد

الہام کی ضرورت:

اضافه : قدرت مطلقہ کا بڑا عجز ماننا پڑے گا اگر الہام کو شروع دنیا کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے گا۔ کیوں نہیں ممکن کہ پہلا الہام تغیرات وحوادث زمانہ کے ہاتھوں نیست و نابود ہو جائے اور پھر قدرت اصلاح عباد کے لئے دوسرا الہام فرمائے ۔ یا بسبب تغیرات و حالات و عادات وقتا فوقتا احکام مختلفہ بذریعہ الہام آتے رہیں امکان کیسا عقل سلیم تو وقوع کی ضرورت بتاتی ہے۔ چنانچہ حق تعالیٰ نے ا نانچہ حق تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اپنے بندوں کی یہ ضرورت پوری فرمائی۔

ثبوت نبوت از معجزه:

خدا کے وہ مقدس بندے جو پیغمبر و رسول ہونے کا دعوی کرتے ہیں خدا ان کے ہاتھوں ایسے کام کراتا ہے جو طاقت انسانی اور قوت بشری کو عاجز کرنے والے ہوتے ہیں جن کو معجزات کہا جاتا ہے۔ اور ان کے سبب سے بچے جھولئے بھی میں تمیز ہو جاتی ہے کیونکہ ایسا کام جو افراد انسانی کو محال معلوم ہوتا تھا ایک بندہ کر دکھاتا ہے جس سے اس کے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے کہ میں خدائی مدد لے کر اس کا خلیفہ بن کر آیا ہوں ۔

مولوی شبلی کی رائے پر جرح:

فائدہ: مصنف علم الکلام کی رائے ہے کہ معجزہ دلیل لازم نبوت نہیں نہ کچھ ضروری ہے نہ تصدیق رسالت کا سبب بلکہ رسول کی شبانہ روز کے حالات و حرکات قابل استدلال و باعث تصدیق نبوت ہیں اس کی اچھی اچھی عادتیں ، نیک چلنی ، صدق و بانت ، امانت یہ باتیں ان کے نزدیک قابل استدلال ہیں۔

اس کے متعلق مجھے مختصر سی گزارش ہے وہ یہ کہ اگر یہی باتیں رسول کی صدق رسالت کی دلیل ہیں تو بہت سے آدمی ان خصائل حمیدہ سے موصوف نکلیں گے۔ اور ہر شخص بچے ایمان والے میں ، خدا سے ڈرنے والے میں یہ باتیں موجود ہونا چاہئے ۔ عصمت قطعی طور پر سوا، انبیاء علیہم السلام کے اور کسی کے واسطے ہمارے مذہب میں ثابت نہیں ۔ مگر اولیاء کے طبقہ میں ایسے لوگ ہوئے ہیں اور خاصان خدا متبع نبی ایسے ہو سکتے ہیں جو مدت العمر تمام کبائر وصغائر سے بچتے رہیں تو کیا وہ نبی ہو سکتے ہیں۔ یا دعوی کر کے یہ باتیں دلیل نبوت بنا سکتے ہیں ۔

اور اگر کہیے کہ ہم اس سے ایسی امور مراد لیتے ہیں اور اس شان کے ساتھ علی وجہ الکمال نبی کے واسطے مانتے ہیں کہ نوع انسان میں اور کسی فرد میں اس طرح ان کا وجود تحقق نہ ہو تو یہ بھی معجزہ ہے اور ہمارے مدعا کے مخالف نہیں جب یہ باتیں ایسی تسلیم کر لی گئیں جو عام طاقت بشری سے بڑھے ہوئے ہیں۔ پھر معجزات مشہورہ پتھر کا بولنا، ہاتھ سے چشمہ آب جاری ہونا شق القمر وغیرہ میں کیا کلام رہا مطلب و مضمون کے اعتبار سے مدعا ایک ہی ہے۔

اگر یہ کہیے کہ بعض بازی گر شعبدہ گر جادوگر وغیرہ ایسی باتیں ایسے کام کر دکھاتے ہیں جن میں اور معجزہ میں کچھ فرق نہیں ۔ تو سنیئے یہ خیال اسلامی خیال سے بے خبری پر مبنی ہے۔ بازی گر جادوگر مدعی نبوت ہو کر وہ کام یا وہ شعبدہ معجز و بنا کر دلیل نبوت ٹھہرا کر نہیں دکھا سکتا جھوٹے نبی کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر نہیں ہو سکتا ۔ مدعی نبوت بن کر کوئی شخص خوارق عادات نہیں دکھا سکتا یہ خاص خدا کا بھید ہے کہ حقیقت حال مشتبہ ہوجائے اور یہاں سارےب فلسفہ کی ترکی تمام ہے۔ہمارے مذہب میں معجزہ کو ممکن نہ ماننا اور اس کے وجود کاا نکار کرنا اس کو نبوت سے بے تعلق سمجھنا بڑی بے دینی کی بات ہے اللہ تعالیٰ سب فتنوں سے مسلمانوں کو بچائے آمین ۔

حاشیہ

جادو و غیر و سے خوارق عادات ممکن ہے مگر جب کوئی جادو گر مدق نبوت ورسالت ہو کر خارق عادت امر ظاہر کر نا چا ہے تو ہرگز ظاہر نہ کر سکے گا یا اس کا مقابلہ ظاہر ہو کر کاذب کا کذب اور صادق کا صدق ظاہر ہو گا ۔ ۱۴ حبیب الرحمن قادری

حاشیہ ختم شد

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ جس کو نبوت ملی محض خدا کے فضل ہے۔ نبوت کا انسان کے کسب سے حاصل ہونا محال ہے یعنی کوئی چاہے کہ میں بہت سی عبادتیں کر کے نبی ہو جاؤں تو ممکن نہیںذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ یہ تو خدا کا خاص فضل وکرم ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔

عصمت انبیاءsym-3:

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ تمام انبیاء ورسل قصداً گناہ کرنے سے معصوم ہیں اور ان امور میں بھی جن کے پہنچانے گئے وہ خدا کی طرف سے مامور میں خطا ، وسہو سے معصوم ہیں۔

توضیح: ان کی عصمت سے یہ مراد ہے کہ خدا نے اپنی عنایت سے ان کو محفوظ رکھا یہاں تک کہ ان پر گناہ وغیرہ کو اپنی حمایت کے سبب جائز نہ رکھا اور ایسی عصمت و حفاظت انبیاء sym-3 کے واسطے خاص ہے جو شخص کسی غیر نبی کے واسطے ایسی عصمت مانے وہ گمراہ ہے۔ ہاں بہت سے اولیاء کے واسطے حفاظت گناہوں سے ہوتی ہے مگر یہ حفاظت انبیاءsym-3کی حفاظت کی مثل نہیں ہوتی ان کے محفوظ قطعی ہونے کا وعدہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا ۔

تمام انبیاء sym-3 انسان تھے:

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ مرتبہ نبوت کسی عورت کو نہیں دیا گیا اور جو اس کے قائل ہیں ان کا قول باطل ہے اور تمام انبیاءsym-3 انسان ہی تھے ۔ جنوں کو نبی ماننا غیر معتبر قول ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں انبیاء جنس حیوانات (حاشیہ (1))کے یا جمیع مخلوقات کی جنس سے بھی ہوتے ہیں وہ گمراہ ہیں ۔

تعداد انبیاء مقرر نہیں:

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ اللہ تعالی نے بہت سے رسول بھیجے بعض کا تو ان میں سے اپنے کلام مبین میں ذکر فرمادیا اور بعض کا ذکر نہ کیا ان کی یقینی تعداد و گفتی مقر رو معین نہ کرنا چاہئے۔ بعض روایتوں میں جو ان کا تقر رو تعین آگیا ہے وہ قابل اعتبار نہیں نہ اس پر حکم قطعی ہو سکتا ہے۔

فائدہ: ہمارے رسول پاک ﷺ کے زمانہ سے پہلے ہندوستان میں بھی رسول خدائی الہام دوجی پائے ہوئے آئے ہوں گے مگر چونکہ صیح طریقہ سے کسی خاص شخص کی نسبت یہ بات ثابت نہ ہوئی لہذا کسی خاص کو نبی یا رسول مان لینا ہرگز جائز و درست نہیں ہو سکتا مشکوک حالت پر عقل حکم نہیں لگا سکتی ۔

حیات انبیاء sym-3:

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ انبیاء عالم برزخ میں زندہ ہیں ۔ اور وہ زندگی(حاشیہ (2)) ہے ایسی ہے جیسی عالم دنیا میں تھی اس میں کسی مسلمان کو خلاف نہ ہونا چاہئے ۔

حاشیہ

(1) حیوانات وغیرہ میں نبی ہونا مرتبہ نبوت کی حقارت ہے کیونکہ نبی خدا کا خلیفہ ہوتا ہے اس کو مکلف ہوتا پاک لطیف ستھرا ہونا ضروری ہے۔ معارف توحید سے باخبر صاحب ادراک و شعور ہونا لازم ہے۔فافهم۱۳ حبیب الرحمن قادری بدایوانی

(2)یعنی ان کے اجسام بھی باقی رہتے ہیں وہ ہرگز ہرگز گلتے سڑتے ہیں جیسا کہ حدیث میں آگیا ہے ان اللہ حرم علی الأرض ان ياكل من اجساد الانبياءفتذكر١٢ حبيب قادری

حضور ﷺ کی نبوت کے اثبات پر تقریر

سردار رسل حضور والا ٹھہرے
واللہ کہ سب جہاں سے اعلیٰ ٹھہرے
منظور ملا انہیں کو یہ رتبہ پاک
محبوب خداوند تعالیٰ ٹھہرے

حضور سرور عالم کا تشریف لانا تواتر سے ثابت ہے۔ عرب میں خاندان قریش میں عبد المطلب کے گھر ان کے صاحبزادہ حضرت عبداللہ کی اولاد میں حضور اکرم روحی له الفداء کا پیدا ہونا تینی ہے۔ ان کا دعوی نبوت مانا ہوا امر ہے۔ معجزوں کا حضور ﷺ کے ہاتھ پر ظاہر ہونا اس کا مصدق اور آپ کی نبوت کا ثابت کرنے والا ، اور آپ کے بچے نبی ہونے کا شاہد ہے۔ حضور ﷺ کے دین توحید کا سارے عالم میں پھیلنا خدا کی تائید سے بڑی بڑی سلطنتوں کا حضور کے اور حضور ﷺ کے غلاموں کے قبضہ میں آنا آپ کے بچے نبی ہونے کا گواہ ہے۔ اس لئے کہ بموجب وعدہ ابھی جھوٹا نبی ذلیل ہوتا ہے اور اس کے دین کو فروغ نہیں ہوتا اس کا جھوٹا ہونا خدا کی طرف سے آشکار و ظاہر کیا جاتا ہے۔

بشارات صحف سابقین:

حضور ﷺ کا اچھے اچھے اخلاق سے آراستہ ہونا ، کفار قریش کا باوجود مذہبی عداوت کے آپ کے شبانہ روز کے حالات و واقعات پر طرز معاشرت پر کوئی حرف گیری نہ کر سکنا اور برابر آپ کو امین کہتے رہنا۔ علاوہ اس کے حضور ﷺ کی تشریف آوری کی بشارتیں اگلی کتابوں آسمانی صحیفوں میں موجود تھیں اور اب بھی باوجود تحریف و تغیر یہ مضمون نکلتا ہے چنانچہ توریت کے باب استثناء میں اللہ تعالیٰ کا کلام اس طرح منقول ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔

میں ان کے لئے ان کے بھائیوں سے تجھ سا نبی بر پا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اس سے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہو گا جو کوئی میری بات کو جسے وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا اور جو بھی ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرا نام لے کر کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا تو وہ قتل کیا جائے گا۔ یہ بشارت نہ تو حضرت عیسی sym-9 کے لئے ہے نہ حضرت یحی sym-9 کے لئے بلکہ خاص حضور سرور عالم محمد عربی ﷺ کے لئے ہے کیونکہ حضرت یحیی sym-9اور حضرت عیسی sym-9 کے وقت میں بھی اس نبی کا انتظار تھا اس وقت کے علماء توریت اس کے منتظر تھے۔ دوسرے یہ کہ حضرت موسیٰsym-9 سے فرمایا گیا کہ تیری مثل نبی بر پا کروں گا اور یہ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰsym-9کی مثل نہ تو حضرت یحی sym-9 تھے نہ حضرت عیسیsym-9 اس لئے کہ حضرت موسیsym-9کو جدید شریعت عطا ہوئی تھی اور حضرت یحیی sym-9 حضرت موسی sym-9 کی شریعت کے متبع تھے۔ اور حضرت عیسیsym-9 کو تو عیسائیوں نے خود اس بشارت سے خارج کر دیا کیونکہ وہ ان کو خدا یا خدا کا بیٹا مانتے ہیں اور حضرت موسی sym-9 آدمی تھے لہذا مماثلت نہ رہی۔ تیسرے حضرت عیسی sym-9 بقول نصاری پھانسی دیئے گئے اور حضرت موسیٰsym-9 پر ایسا واقعہ نہ ہوا۔ حضرت عیسیsym-9بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور حضرت موسی sym-9ایسے نہ تھے غرضیکہ ان دونوں حضرات میں مماثلت نہ پائی گئی اور یہ دونوں اس بشارت سے مراد نہ ہوئی ۔ بلکہ ہمارے حضور سرور عالم مراد ہیں جس طرح حضرت موسیٰ sym-9کی شریعت میں حلال و حرام کے احکام تھے ویسے ہی حضور کی شریعت بیضاء کے احکام میں حضرت موسیٰsym-9 انسان تھے بیوی بچے رکھتے تھے ایسے ہی حضور ﷺ بھی ۔

زبور میں حضرت داؤود sym-9 کا قول اس طرح حضور اکرم ﷺ کی شان پاک میں منقول ہے۔ ملاحظہ ہو ۔

میرے دل میں اچھا مضمون جوش مارتا ہے میں ان چیزوں کو جو باشادہ کے حق میں بتایا ہے بیان کرتا ہوں۔ تو حسن میں نبی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے ہونٹوں میں لطف ڈالا گیا ہے۔ اس لئے ابد تک خدا نے تجھ کو مبارک کیا۔ اے پہلوان اپنی تلوار کو جو تیری حشمت و بزرگی سے حمائل کر کے اپنی ران پر لنگا ۔ اور سچائی واقبال مندی سے آگے بڑھ۔ تیرے تیر تیز ہیں۔ تیرے سارے لباس سے خوشبو آتی ہے۔ بادشاہوں کی بیٹیاں تیری عزت والیوں میں ہیں۔ تیرے بیٹے باپ داداؤں کے قائم مقام ہوں گے تو ان کو تمام زمین کا سردار مقرر کرے گا۔

تمام اہل کتاب اس امر کو مانتے ہیں کہ داؤد sym-9ایک ایسے نبی کی بشارت دیتے ہیں جو ان کے بعد ان صفات سے موصوف ہو کر ظاہر ہوگا۔ عیسائی اس بشارت سے حضرت عیسی sym-9کو مراد لیتے ہیں اور ہمارے نزدیک حضور سید الانبیاء محمد عربی ﷺ اس سے مراد ہیں ۔ چونکہ اس بشارت میں چند اوصاف موجود ہیں اور یہ باتیں مذکور ہیں ۔ حسین ہونا قوی ہونا، افضل البشر ہونا فصیح ہونا، کپڑوں سے خوشبو آنا ، بادشاہوں کی بیٹیوں کا ان کے گھر میں آنا ، ان کی اولاد کی سرداری وغیرہ۔ ان اوصاف سے خصوصی طور پر کوئی وصف بھی حضرت عیسی sym-9سے مخصوص نہیں ۔ اب ہم سے سینے ۔

حضرت ابو ہریرہ sym-5 سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور سرور عا ں عالم سے زیادہ حسین کوئی نئے نہ دیکھی گویا آفتاب حضور کے چہرۂ انور میں چلتا تھا۔

خوشبو کا یہ حال تھا کہ جس گلی کوچہ سے حضور گزرتے تھے گلیاں مہک جاتی تھیں اور لوگ جان جاتے تھے کہ سرکار یا گل گلشن توحید یا معرفت الہی کا سدا بہار پھولا ر پھول از ہر ہو کر گزرا ہے۔ حضور کا عرق یعنی پسینہ ایک عورت کے لگا دیا اس کی کئی پشت تک برابر خوشبو آتی رہی اور وہ گھر عرب میں بیت العطارین مشہور ہو گیا۔

قوت کا یہ حال تھا کہ بڑے بڑے قومی لوگ جس کام سے عاجز آتے حضور اونی توجہ میں اسے پورا فرماتے ۔ رکا نہ عرب کا نامی بیشل پہلوان ایک دن جنگل میں حضور سے ملا اور کہا مجھے کشتی میں مغلوب کر دیجئے تو تصدیق رسالت کروں گا چنانچہ فرمایا: آ ، زور کر ۔ گھنٹوں سر مارا۔ پسینہ میں شرابور ہو گیا۔ مگر حضورﷺ ویسے ہی کھڑے ہم فرماتے رہے۔ اور ذرا آپ ﷺ نے شارہ فرمادیا کہ رکا نہ زمین پر آ گرا۔

تیراندازی تو خاص بنی اسمعیل کا حصہ ہے ہمارے حضور نبی کریم ﷺ کے پاس بھی تیر کمان اکثر وقت رہتا تھا اور بچپن سے آپ کو اس کا شوق تھا۔ اس مقام پر ایک مخالف مذہب یورپ کے مشہور فلاسفر مسٹر ٹامس کا قول مجھے یاد آیا ۔ وہ کہتا ہے محمد (ﷺ) کے یار بڑے جواں مرد اور بہادر تھے اس لئے کہ خود محمد صاحب میں بہادری کی اعلیٰ روح سرایت کئے ہوئے تھی۔

بادشاہوں کی بیٹیوں نے آپ کی آل کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا امام حسینsym-5 لینے کے حرم میں یزد جرد کسری فارس کی لڑکی حضرت شہر بانو تھیں ۔ اسی طرح سادات کو دین و دنیا کی سرداری ملی حضرت امام حسین sym-5وہ خلیفہ ہوئے اور حضرت مہدی sym-5جو آخر زمانہ میں ظہور فرمائیں گے وہ بھی آپ کی اولاد سے ہوں گے۔ اور آپ نے فرمایا ہے حسن و حسین (sym-7 ) جوانان جنت کے سردار ہیں۔

غرضیکہ حضرت داؤد sym-9کی بشارت من کل الوجوہ حضور سرور عالم ﷺ کے حق میں ہے۔ جیسا کہ ہم نے آپ بتا دیا۔

حضرت مسیحsym-9 کی بشارت:

انجیل باب (۱۴) میں حضرت مسیح sym-9کا یہ قول ہے اپنے حواریوں سے فرماتے ہیں اگر تم مجھے دوست رکھتے ہو تو میری وصیتوں کو سنو ۔ اور میں باپ سے مانگتا ہوں وہ تمہیں دے گا۔ فارقلیط اور رائے میں نے تم کو اس کے آنے سے پہلے خبر کر دی تا کہ جب وہ آئے تو تم ایمان لاؤ

فارقلیط کے معنی محمد یا احمد کے ہیں جیسا کہ بعض پادریوں نے خود اس کو مان لیا ہے۔ یہ دلیلیں صرف مخالفوں کا سر جھکانے اور انہیں کی اٹھی اور انہیں کا سر کی مصداق ہیں۔ ور نہ ہم مسلمانوں کو خدا کا کلام کافی ہے جس میں وہ اپنے حبیب لبیب کے بچے نبی ہونے کی شہادت دے رہا ہے۔ مگر اس زمانہ میں چونکہ یہ رنگ طبیعتوں کو بھلا معلوم ہونے لگا ہے کہ فلاسفران یورپ وغیرہ کے اقوال بھی دلیل میں بیان کئے جائیں ۔ حالانکہ خدائی شہادت ہوتے ہوئے کسی اور شہادت کی ضرورت نہیں مگر پھر بھی ہمارے نبی کریم ﷺ کی عظمت وشان کا غیبی نمونہ اور قاہر کرشمہ ہے کہ مخالف تک آپ کے قائل ہور ہے ہیں ۔ اور مجبور کر کے قدرت ان کی زبان سے مدح محبوب کرا رہی ہے۔ اور یوں اس سردار کل کا بول بالا ہورہا ہے۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے اقوال کو بہت سے لوگوں نے بصورت رسالہ جمع کیا ہے ان سب رسالوں میں میرے مخدوم مولانا سید نذیر احسن صاحب ایرانیانی کار ساله طریق الامان خوب ہے اس سے لے کر دو چار اقوال میں بھی نقل کرتا ہوں ۔

علمائے نصاری کی شہادت:

مسٹر جان ڈرپوٹ کھلم کھلا اقرار کرتے ہیں کہ مجھے اس میں شک نہیں کہ اس شئے سے کے آنے کی خبر اپنے بھائیوں میں حضرت موسیٰsym-9 نے دی تھی اور فارقلیط جس کی خبر حضرت عیسیsym-9نے انجیل یوحنا میں دی تھی محمد ﷺصاحب مراد ہیں ۔ اس طرح مسٹر گاڈ فری ہینکس نے اپنی کتاب اپالوجی قراقم دی محمد ( ﷺ ) میں بڑے شرح وبسط سے بیان کیا ہے کہ آپ بچے نبی اور خلق کو ہدایت کرنے والے تھے اسی طرح مسٹر ہنٹر صاحب و اسکاٹ صاحب وغیرہ وغیرہ بہت سے عیسائی مشہور لوگوں کے اقوال ہیں۔

خیال کرو آج یہ تمام مذہبی مخالفین جس کی مدح میں رطب اللساں ہیں ۔ وہ کس درجہ کا عظمت والا اور سچائی وراحتی کا پھیلانے والا ہوگا کہ سیکٹروں صدیاں گزرنے پر بھی جس کا روحانی صداقت سے بھر اہوا اثر مخالفین سے یہ کچھ کہلوار ہا ہے۔

الحق کہ وہ بچے اور اپنے بچے خالق و مالک عاشق خدا کے برگزیدہ محبوب و نبی ہیں ۔ اور میں بچے دل سے ان کی رسالت کی تصدیق کر کے کہتا ہوں اور تمام ناظرین رسالہ کو گواہ کرتا ہوںلا اله الا محمد رسول الله اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله الذي بعث الى الاحمر و الاسود وكافة للناس بشيرا ونذيرا

ختم نبوت:

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ خدا نے حضور پر نبوت ختم کر دی اور حضور خاتم النبیینﷺ ہیں اور جو اس کا منکر ہے وہ کافر ہے۔ کیونکہ یہ مضمون نص قطعی سے ظاہر ہے ارشاد ہوتا ہے۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النبيين بس اب نبی ہونا محال ہے کیونکہ اب حضور ﷺ کا خاتم النبیین ہونا واجب بالغیر ہو گیا اور سلب خاتمیت حضور ﷺ سے ممتنع بالغیر ہے اگر ممکن مانا جائے تو کذب النبی لازم اور وه محال - فافهم.

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ حضور کی نبوت تمام مصنفین کے لئے عام ہے خاص عرب کے لئے آپ نہیں ہیں بلکہ کافتہ للناس تمام آدمیوں کے لئے تمام عالم کے واسطے۔

حضور ﷺ کی افضلیت اور امت کا شرف:

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ حضور اکرم ﷺ تمام خلق خدا سے افضل ہیں فرشتوں اور پیغمبروں میں بھی کوئی آپ کے مرتبہ کا نہیں پھر باقی عالم میں کون ہے آپ کی امت کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہےوکنتم خير امة الخ یعنی اے امت محمد تو سب سے اچھی ہے۔

فائدہ:۔ ظاہر ہے کہ امت کی فضیلت کسی کمال دینی کا سبب ہے اور وہ کمال دینی حضور سرور عالم ﷺ کے کمال کا تابع ہے پس جب امت تمام امتوں سے افضل ہوئے تو حضورﷺ بھی جن کے کمال سے امت کو یہ فضیلت ملی تمام پیغمبروں سے افضل ہوئے اور مخلوق الہی میں سب سے افضل پیغمبر ہیں لہذا حضورﷺ تمام عالم سے افضل ہیں۔

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ کمالات مخصوصہ میں حضور کا مثل محال ہے۔جو بزرگیاں، بہتریاں، بڑائیاں ، خوبیاں ان کے چاہنے والے خدا نے ان کو دیں وہ کسی دوسرے کو نہیں مل سکتیں اور جو اس کا منکر ہے وہ راہ حق سے دور ہے اس لئے کہ ان کو وہ اوصاف کمالیہ عطا ہوئے جس میں شرکت کو گنجائش نہیں ۔ مثلا دو (۲) افضل حقیقی ہونا محال ہیں ورنہ اجتماع النقیضین لازم آئے اور وہ محال ہے اور محال قدرت الہی میں داخل نہیں۔

معراج اور اس کے متعلق تفصیلی بات چیت:

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ معراج حق ہے اللہ تعالی جاگتے میں حضور ﷺ کو مسجد اقصیٰ(حاشیہ ) تک لے گیا پھر وہاں سے آسمانوں کی طرف پھر وہاں سے جہاں اس نے چاہا اور حضور کو سر کی آنکھوں سے دیدار الہی نصیب ہوا۔

حاشیہ

یعنی بیت المقدس ، اور وہاں لے جانے میں یہ حکمت تھی کہ خدا جانتا تھا کہ کفار وہاں کا حال حضور سے پوچھیں گے اور یہ سب پر ظاہر ہے کہ حضور کبھی وہاں گئے نہیں ہیں اور کفار میں سے اکثر جاتے رہتے ہیں لہذا حضور کا وہاں کی حالت بتانا تصدیق معمران ہوگا ۔ ۱۲ حبیب الرحمن قادری بدایونی ۔

حاشیہ ختم شد

تفصیلی مقام:

کیفیت معراج میں بعض لوگوں کو اختلاف ہے ایک گروہ نے یہ مذہب لیا کہ معراج روحی ہوئی اور جسد مظہر مکہ میں بستر پر رہا۔ اس گروہ میں دو (۲) خیال کے لوگ ہیں ایک وہ جو احادیث اور اقوال صحابہ سے اپنا مدعا ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ دوسرے وہ جونئی روشنی نئے خیال جدید فلسفہ کے حلقہ بگوش ہیں ۔ ہم دونوں سے ہر ایک کے مذاق کے موافق مختصری گفتگو کرتے ہیں۔

پہلے گروہ والوں کے پاس چند احادیث ہیں جن سے ثابت کرتے ہیں که معراج جسدی نہ تھی بلکہ محض روح کو عالم خواب میں مناظر علویہ الہیہ کی سیر ہوئی تھی ۔ یہ لوگ حضرت معاویہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کے اقوال پیش کرتے ہیں حضرت صدیقہ مقدسہ کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے۔ کہ حضور ﷺ کا جسم نہ مفقود ہوا، یا بروایت دیگر مجھ سے حضور کا جسم اس رات جس رات معراج ثابت کی جاتی ہے جدا نہ ہوا۔ اور حضرت معاویہ کا یہ قول بیان کیا جاتا ہے کان رؤيا صالحة۔ پہلی روایت حضرت صدیقہ کو صحیح مان کر ہم جواب دے سکتے ہیں کہ مطلب اس قول کا یہ ہے کہ حضور کا جسم نہ مفقود ہوا یعنی روح بدن سے علیحدہ آسمانوں پر نہیں گئی بلکہ مع جسد وروح معراج ہوئی جو ہمارے مدعا کے موافق ہے۔ دوسری روایت میں ہم کو کلام(حاشیہ )ہے۔ اس لئے کہ حضرت عائشہ اس وقت پیدا بھی نہ ہوئی تھیں یا سن شعور کو نہ پہنچی تھیں پھر ان کا قول ان صحابہ کے اقوال کے مقابلہ میں جو اس وقت موجود تھے قابل اعتبار نہیں ۔

حاشیہ

معراج کو بعض تو کہتے ہیں کے ابحثت میں ہوئی بعض کہتے ہیں کہ یبعثت میں ۔ پہلے قول پر تو حضرت خدیجہ حیات تھیں کیونکہ آپ کی وفات بعثت میں مسلم ہے۔ اور یہ مانی ہوئی بات ہے کہ حضرت خدیجہsym-6 کی حیات میں حضور نے کوئی اور نکات نہ فرمایا۔ دوسرے قول پر حضرت عائشہ نہایت صغیر سن تھیں کیونکہ وقت نکاح آپ کی عمرے سال کی تھی ۔ ۱۲

حاشیہ ختم شد

رہا حضرت معاویهsym-5 کا قول اس کا یہ حال ہے کہ آپ فتح مکہ میں ایک آپ سے مکہ میں ایک مدت بعد مشرف با سلام ہوئے ہیں ۔ پس ان کا قول بھی بمقابلہ صحابہ موجود بین معتبر نہیں اور مجوزین معراج جسدی جو آپ سے پہلے کے صحابہ میں ان کے قول کے برابر وقیع نہیں۔ علاوہ بریں حضور کو اور کئی مرتبہ معراج رویا میں بھی ہوئی شاید یہ قول اس کا بیان ہو۔

اور دوسری دلیل بین یہ ہے کہ قرآن پاک میں حق جل مجدہ ارشاد فرماتا ہے۔سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ الآية اور یہ مسلم اور مانی ہوئی بات ہے کہ لفظ عبد کا اطلاق جسم مع روح پر ہوتا ہے اور قرآن شریف میں اس معنی سے لفظ عبد بہت جگہ آیا ہے۔ مثلأَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْداً إِذَا صَلَّی اور ظاہر ہے کہ صلوۃ جسم مع روح کے معتبر وقابل ذکر ہوتی ہے اور یہاں بھی مجموعۂ روح و جسد مراد ہے۔ سورۂ جن میں ہے وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُیہاں بھی دائی جسم مع روح قرار دیا گیاہ ۔ پس بحمد اللہ تعالی واضح ہو گیا کہ معراج روح و جسد دونوں کو ہوئی ۔ اور یہ رکیک شکوک قابل اعتبار اور اعتماد نہیں۔ خواب میں تو معراج حضور کو بار ہا ہوئی چنانچہ مواہب لدنیہ میں ہے ۔ قال بعض العارفين ان له صلى الله عليه وسلم اربعة وثلثين مرة الذي اسرى به منها اسرا واحدا لجسمه والباقي بروحه رويا راها ،یعنی بعض عارفوں کا قول ہے کہ حضور کو سوتے میں چونتیس (۳۴) بار معراج ہوئی ۔ اور ایک بار جاگتے میں مع روح و جسم کے۔

دوسرے گروہ کے لوگ پھر دو (۲) رنگ کے ہیں۔ ایک فلسفہ قدیم والے ایک فلسفہ جدید والے نمبر اول جن کے یہ خیالات ہیں کہ جسم کو اس قدر جلد اتنی تیز حرکت کسی طرح ہو سکتی ہے اور تقبیل جسم کس طرح آسمانوں پر جاسکتا ہے حالانکہ نہ آسمانوں میں دروازے ہیں نہ کھڑکیاں اور نہ وہ پھٹ سکتے ہیں یہی ان کا خیال ہے جو معراج کے انکار کا سبب ہوا۔

اس امر کے متعلق دو (۲) باتوں پر نظر ڈالی جائے گی۔ اول اس کا جواز (حاشیہ)عقلی دوسرا کے دو وقوع

حاشیہ

یعنی منتقل کے نزدیک ایسی تیز حرکت جائز ہے یا نہیں اور منتقل اس کو تسلیم کرتی ہے یا نہیں ؟ ۲ ات

حاشیہ ختم شد

امر اول کے متعلق گزارش ہے کہ ایسی حرکت جو تیزی میں اس حد تک پہنچی ہوئی ہو ممکن ہے اور تمام ممکنات پر اللہ تعالی قادر ہے۔ جس سے معلوم ہو گیا کہ ایسی حرکت محال نہیں ۔ سنو! یہ بات بھی مسلم ہے کہ آفتاب کا کرہ زمین سے کئی سو حصہ بڑا ہے پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ طلوع الشمس نہایت ہی جلد ہو جاتا ہے جس سے حرکت کی تیزی کا ممکن ہونا نکلتا ہے۔ اور اگر ذرا غور کیا جائے تو حرکت آسمان وزمین اس مسئلہ امکان حرکت سریعہ کا فیصلہ کر دے گی اور پھر اس کا وقوع ہم کو خدا کے کلام سے منانے میں تامل نہ ہوگا ۔ اکثر مذہب والے ایک خبیث جسم کا وجود مانتے ہیں جس کو شیطان ابلیس کہا جاتا ہے اور ہر زبان میں وہ جدا گا نہ الفاظ میں بولا اور مانا جاتا ہے۔ اور یہ بھی مانا جاتا ہے کہ وہ ہی شیطان آدمیوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے اور یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ شیطان کے لئے ایک آن میں مشرق سے مغرب تک انتقال ممکن ہے پس جب ایسی تیز حرکت ابلیس جسم خبیث کے لئے مان لی گئی تو انبیا ء خاص کر سید الانبیا ء روحی له الفداء کے لئے ماننے میں کیا تامل ہے۔

باقی رہا حضور کے جسم لطیف(حاشیہ) کا آسمانوں پر جانا محال سمجھنا اس دلیل ہے کہ آسمانوں میں کہیں دروازے نہیں اس امر پر مبنی ہے کہ آسمان خود بخود پیدا ہوئے ہیں ورنہ کون سا محال لازم آتا ہے اگر ہم یہ کہہ دیں کہ خدا نے آسمان میں دروازے بنائے ہیں ۔

حاشیہ

اس لفظ میں اہل معرفت کے اس قول کی طرف اشارہ ہے کہ جب انسان کامل تزکیہ نفس کر لیتا ہے تو اعلی درجہ کی لطافت اس کے بدن میں آجاتی ہے کہ جسم بھی بنز لہ روح کے ہو جاتا ہے۔ پس حضور تو تمام عالم کو پاک کرنے اور تز کی سکھانے کے واسطے آئے تھے اور ظاہر ہے کہ پاک وہ ہی کرے گا جو خود پاک ہو تو حضور کا جسم لطیف آسمان سے بغیر آسمان نو نے بے نگلنا ایسا ہے جیسے آئینہ سے نظر کا پار نکلنا اسی وجہ سے تو حضورﷺ کے جسد لطیف کا سایہ نہ تھا اور یہ دلیل اعلیٰ درجہ کی لطافت کی ہے ۔ ۱۲

حاشیہ ختم شد

پہلے اس کو ثابت کر دو کہ آسمان میں دروازے ہونا محال ہے۔ اس بات کے بھی تم قائل ہو کہ آسمان منطقہ کی جگہ بہت تیز رفتار ہے۔ اور فطین کی جگہ ساکن ہے اور اس کے بھی قائل ہو کہ آسمان میں کہیں بہت دل ہے کہیں بہت پتلا ہے اور ایک جسم آسمان میں بہت زیادہ روشن ہو گیا ہے جس کو آفتاب اور اس سے کم کو ماہتاب اور اس سے کم کو تارہ کہتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے اختلافات آسمانوں میں تمہارے نزدیک بھی مسلم ہیں اگر کوئی پیدا کرنے والا نہ تھا اور مقتضائے طبعی تھا تو یہ اختلاف کس طرح ہوئے اور ان کا مرجح کون تھا جو جواب تم اس کا دو گے وہی ہم آسمانوں میں دروازے، کھڑکیاں ہونے کا دیں گے۔

دوسرے یہ کہ حکماء تو صرف نویں (۹) آسمان کا ٹوٹنا، پھٹنا محال سمجھتے ہیں نہ اور آسمانوں کا اور یہ ہمارے مدعا کے خارج نہیں اور اصل تو یہ ہے کہ یہ تمام اختلافات واہیات اور خواہ مخواہ طبع آزمائی ہے جب مالک جل مجدہ جو تمام عالم کا پیدا کرنے والا ہے خود اس امر کا چاہنے والا تھا تو کہاں کا ٹوٹنا، پھٹنا جس طرح اس کی قدرت نے چاہا ظہور فرمایا۔ یہ بات چیت دلدادگان فلسفۂ قدیمہ یونانیہ سے تھی حال کے فلسفیان جدید یورپ کے مقلدین سرے سے آسمانوں کے وجود کے منکر ہیں اور اجزام علویہ کے خرق و التیام یعنی پھٹنے چرنے کو ممکن بتاتے ہیں۔ ان سے صرف ثبوت سماوات میں بحث ہو گی ان کا شبہ انکار آسمان میں بڑے سے بڑا یہ ہوگا کہ اچھے اچھے دور بینوں کے شیشوں سے نظر نہیں آتا اس کا مختصر سا جواب یہ ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ بسبب شدت لطافت و غایت شفافیت نظر وار پار ہو جاتی ہے ان کا وجود محسوس نہیں ہوتا یا بسبب غایت بعد قوت دور بین سے پرے ہے۔

منجملہ معجزات قرآن بڑا بھاری معجزہ ہے:

جس میں اعجاز کی مختلف شامیں جلوہ گر ہیں:

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے ہاتھ پر معجزات ظاہر فرمائے اور یہ اعتقاد ضروریات دین میں داخل ہے۔ اور ان معجزات میں سے ایک یہ ہے کہ حضور ﷺپر قرآن شریف نازل ہوا جس نے بڑے بڑے فصحاء بلغاء عالی خیال عالی دماغ لوگوں کا مقابلہ کیا اور سب کو اپنا مثل لانے ۔ مثل لانے سے عاجز کیا اور یہ مجزہ متواتر ہے بلا شک و شبہ۔

فائدہ: اس مقام پر ہمارے علماء کے چند اقوال میں بعض تو فرماتے ہیں سارا مجموعہ قرآن شریف معجزہ ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس کا ہر ہر جملہ منتظمہ معجزہ ہے مگر بہتر قول یہ ہے کہ ہر تین آیتوں کی برابر جزو مل کر معجزہ ہے کیونکہ وہ سورۃ جو سب سے چھوٹی قرآن میں ہے تین آیتوں کی برابر ہے۔ اور ایک سورت کی برابر ہی مخالفوں سے اس جیسی طلب کی گئی ہے لہذا اتنی ہی بڑی سورة کی برابر آیتیں مل کر معجزہ ہے۔ اور قرآن شریف کے معجزہ ہونے کی یہ دلیل بھی بتائی گئی ہے کہ یہ ہزاروں برس پہلے کے واقعات بتاتا ہے اور غیب کی خبریں دیتا ہے۔ اور بعض کے نزدیک اس کا ایجاز (یعنی الفاظ کم اور معنی زائد ) معجزو ہے بعض کے نزدیک اس کی فصاحت معجزہ ہے کہ عرب کے بڑے بڑے شاعر نظر و نثر میں فی البدیہہ طبع آزمائی کرنے والے اس کی تین آیتوں کی برابر اس جیسا کلام نہ بنا سکے۔ اور بعض کے نزدیک اس کا یہ خاص طرز جو نظم و نثر دونوں سے علیحدہ ہے ( اور اس سے قبل اور اس کے بعد کسی کتاب کا اس اسلوب و طرز پر نہ ہونا ) معجزہ ہے اور اصل تو یہ ہے شعر؎

زفرق تا بقدم هر کجا که می نگرم
کرشمہ دامن دل میکشد که جا اینجا است

شق القمر :اور حضور ﷺ کے معجزات میں سے ایک یہ ہے کہ آپ نے موافق خواہش کفار کے چاند کے دو (۲) ٹکڑے کر دیئے اور اس معجزہ پر بھی تمام محد ثین و علما ء کا اجماع (حاشیہ ) ہے۔

حاشیہ

ابن عبد البر کہ جوا کا برمحد ثین میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ چاند کے دوٹکڑے ہونے کی حدیث بڑی جماعت صحا بہ اور ایسی ہی بزرگ جماعت تابعین سے منقول ہے۔ اور مواہب الدنیہ میں ہے کہ علامہ ابن سبکی شرح مختصر میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث میرے نزدیک متواتر و منصوص ہے ۔ ۱۲ حبیب الرحمن قادری

حاشیہ ختم شد

فائده: علامہ قاضی عیاض شفا مین آیت شریفہوَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرَضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ کو لکھ کر فرماتے ہیں اللہ تعالی اس آیت میں چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی خبر بافظ ماضی دیتا ہے اور کافروں کے اعراض و انکار کو بیان فرماتا ہے جس سے وہ وہم بھی جاتا رہا کہ یہ تو قیامت کی نشانی ہے۔ بلکہ یہاں تو گزرے ہوئے حال کو بیان فرماتا ہے اور یہ مستقل واقع شدہ معجزہ ہے غیب کی خبر ہونے کی سبب معجزہ نہیں۔

علم غیب :اور حضور ﷺ کے معجزات میں سے آپ کا علم غیب ہے۔

تحقيق مقام :یہ ہم تم کو صفات الہی کے بیان میں بتا چکے ہیں کہ خدا کی جتنی صفتیں ہیں وہ بذات خود اور مستقل ہیں یعنی بغیر کسی دوسرے سے حاصل کئے ہوئے ۔ اسی طرح خدا کا علم غیب ہے۔ اور حضور اکرم ﷺ کا علم غیب حضرت حق سبحانہ کا عطیہ غیر مستقل ۔ اگر خیال پیدا ہو کہ خدا و رسول میں برابری ہوئی جاتی ہے تو سمجھ لو کہ عطیہ اور استقلال میں بہت بڑا فرق ہے۔ اور اگر محض مشارکت اسمی کے سبب ایسا حکم لگا دیا جائے تو چاہئے کہ زندہ، حکیم، سننے والا، دیکھنے والا ، وغیرہ وغیرہ الفاظ کسی بندہ کی طرف نہ اضافت کئے جائیں۔ حقیقی حیات ، اصلی سمع و بصر تو ذات واجب کی ہے مجازا یہ سب الفاظ بندوں کی طرف اضافت کئے جاتے ہیں اسی طرح علم غیب بھی ہے البتہ اگر کوئی کہے کہ کوئی صفت کسی بندہ میں بالاستقلال بغیر عطائے خدا پائی جاتی ہے تو ضرور وہ کافر ہے۔ مگر ہم تو حضور سرور عالم ﷺ کا علم غیب خدا کا عطیہ مانتے ہیں۔ اور خدائے تعالیٰ کے علم کی برابر بھی نہیں مانتے بلکہ اس نے اپنی بے انتہا علم میں سے جتنا چاہا عطا کیا ہے

توضیح کلام: اور حضور ﷺ کا یہ معجزہ بھی مشہور ہے کہ آپ نے بہت سی پوشیدہ باتوں کی خبر دی بعض ان میں سے واقع ہو چکیں ۔ جیسے فتح مکہ اور فتح روم ، شام، بیت المقدس وغیرہ اور آپ کا فرمانا کہ میرے اہلبیت میں سے مجھ سے سب سے پہلے ملنے والی میری صاحبزادی ( حضرت سیدہ فاطمہ sym-6۔ چنانچہ حضور ﷺ کی وفات شریف کے چھ ( ۶ ) ماہ بعد حضرت سیدہsym-6 کا انتقال ہوا اور آپ سے پہلے اہلبیت میں سے کسی کی وفات ثابت نہیں۔ اور حضور ﷺنے حضرت عثمان sym-5نے کے قتل کی خبر دی کہ آپ قرآن شریف پڑھتے شہید کئے جائیں گے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور حضرت سید الشہداء ( حضرت امام حسین رند) کی شہادت کی خبر واقعہ کربلا کی پیشین گوئی متعدد بار مختلف طور پر فرمائی اور وہ اسی طرح پوری ہوئی ۔ زید بن صوحان سے فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں تیرے بدن کا ایک ٹکڑا تجھ سے پہلے جنت میں جارہا ہے۔ چنانچہ ان کا ایک ہاتھ لڑائی میں شہید ہوا۔

حضرت حذیفہsym-5 وہ صحابی رسول کریم ﷺ کہتے ہیں کہ ایک دن حضور اکرم خطبہ پڑھنے کھڑے ہوئے اور قیامت تک کا حال آپ نے بتا دیا ایسی ہی ہزاروں حدیثیں ہیں جن سے کتب احادیث بھری ہوئی ہیں۔

شفاء قاضی عیاض اور خصائص سیوطی و مواہب لدنیہ و غیر ما کتب احادیث میں بسیط بخشیں اور طویل با میں بنی ہوئی ہیں۔ اورحضور ﷺ کا ہی ہونا بھی مجزہ ہے اور خاص فضیات ہے۔ ہاں سوا حضور کے اور میں یہ بات نقصان کی ہے اور باعث ذلت اس وجہ سے کسی غیر نبی کی تشبیہ حضور سے امی ہونے میں جائز نہیں اور ان امور میں بھی جو حضور کے حق میں جنس کمالات سے ہیں اور غیر نبی کے حق میں جنس نقصان سے تشبیہ دینا گمراہی ہے۔

مرتبہ شفاعت:

بحث شفاعت: اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ حضورﷺ کو بزرگی آخرت کی عطا فرمائے گا اور اس کا ظہور قیامت میں ہوگا ۔ کوثر حضور کو ملے گا ، اور مقام شفاعت پر جلوہ فرمائیں گے۔ اور یہ بھی ہمارا اعتقاد ہے کہ مرتبۂ شفاعت کا دروازہ حضور ہی کھولیں گے۔ اور سب اگلے پچھلے حضور ہی سے التجاء کریں گے ۔ آج جو دنیا میں ان سے مدد چاہنے کو نا جائز بتاتے ہیں فردائے قیامت دیکھیں گے کہ آدمsym-9سے حضرت عیسی sym-9 تک اس سر کار دولت مدار سے لو لگائے ہوں گے ۔ خدائی بھر کے وہ ہی جان عالم شفیع ہوں گے۔ دوزخ جنت دونوں انہیں کے حکم سے بھری جائیں گی ۔ اپنے چاہنے والے رب کے حکم سے وہ اپنی شان محبوبیت کا جلوہ دکھائیں گے گنہگاروں کی شفاعت کے لئے لب کشائی فرمائیں گے ادہر سے اس ادائے خاص پر خاص فضل و نعمت کا انعام ہوگا۔ مقام محمود کی مسند پر خدا کی خدائی کا نو شاہ بٹھایا جائے گا۔ وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکرَک کا سہرا جبین نورانی پر باندھا جائے گا۔ سلامی میں جنت غلاموں پر کرم و عنایت و رحمت ۔ اللہ اللہ مجب سماں ہوگا۔ مغفرت کی روح تہذیت خواں جنت کی جان مدح سرا غرضکہ جو وہ چاہیں گے ان کا رب کرے گا ۔محبوب دل میلا نہ فرمائے گا۔

اقسام شفاعت :

اور یہ بھی ہم مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی شفاعت بہت قسم کی ہوگی ۔ اس میں ایک شفاعت عظمی ہے کہ وہ تمام مخلوق کے آرام کے لئے ہوگی جب کہ وہ قبروں سے نکل کر ایک جگہ ؟ جگہ جمع ہوں گے اور یہ شفاعت عامہ ۔ عامہ ہے مسلمانوں اور کافروں سب کو ا سب کو شامل ہے۔ اور اس قسم میں کسی کو خلاف نہیں ۔ اور ایک قسم کی شفاعت یہ ہوگی کہ حضور ایک قوم کو جنت میں بغیر حساب و کتاب سوال و جواب داخل کرائیں گے ۔ اور ایک قسم کی شفاعت ان لوگوں کے حق میں ہوگی جو بعد حساب مستحق نار ٹھہرے ہیں۔ ان کو عذاب دوزخ سے نجات دلائیں گے۔ اور ایک قسم کی شفاعت یہ ہوگی کہ گنہگاروں کو دوزخ سے نکالیں گے۔ اور ایک قسم کی شفاعت یہ ہوگی کہ بعض کافروں کے عذاب میں آپ تخفیف و کمی کرائیں گے جیسا کہ حضرت کے چچا ابو طالب کہ ان کے حق میں احادیث متفق علیہا سے ثابت ہے کہ حضورﷺ تخفیف عذاب کے واسطے شفاعت فرمائیں گے۔ غرضیکہ یہ ہمارا اعتقاد ہے کہ دربار حدیث میں حضور حبیب کریم ﷺ کی خاطر داری اور عزت قیاس و شمار سے باہر ہے اور کوئی شخص ایسا نہیں جس کو حضور ﷺ کی عزت کی ضرورت نہ ہو بلکہ سب خدا کے دربار میں حضور کے حاجت مند ہیں اور حضور سرور عالمﷺ خدا کے محبوب اور پیارے ہیں اور حضور ﷺکی رضا اور خواہش خدا کو مطلوب ہے۔

اللهم صل على محمد واله على قدر حسنه وجماله
وفضله وكماله وغره ووقاره وجلاله

Netsol OnlinePowered by