logoختم نبوت

المکتوبات الطیبات۔۔۔از۔۔۔پیر مہر علی شاہ چشتی گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ

بسم الله الرحمن الرحيم
نحمده و نصلى على رسوله الكريم

جناب حضر تنا شیخنا سیدنا ومولانا زبدة المحققین ورئيس العارفين ! ، بعد سلام علیکم کے عاجزیوں گزارش کرتا ہے کہ فرقہ باطلہ مرزائیہ کی تائید میں مرزاغلام احمد صاحب قادیانی کے ایک معتقد مرزا ابو العطاء، حکیم خدا بخش قادیانی نے ایک ضخیم کتاب «عسل مصفی لکھی ہے اس کتاب میں مرزا موصوف نے اپنے زعم میں وفات مسیح کو تک جہاں تک ہو سکا ثابت کیا۔ مرزا صاحب قادیانی نے تو ازالہ اوہام مطبع ریاض ہند امر تسر ۱۳۰۸ھ کے صفحہ ۵۹۱ ، سے تا ۲۲۷ ، میں تمہیں (۳۰) آیات قرآنی سے وفات مسیح کا استدلال پکڑا ۔ مگر حکیم صاحب اپنے پیر سے بھی بڑھ نکلے۔ یعنی انہوں نے ساٹھ آیات قرآنی سے وفات مسیح کا استدلال پکڑا مثل مشہور ہے۔

گرو جہناں دے جاندے ٹپ جان شڑپ

راقم الحروف کی اکثر اوقات امرتسر کے مزائیوں کے ساتھ گفتگو ہوتی رہتی ہے آپ کی کتاب سیف چشتیائی نے مجھے بڑا فائدہ دیا۔ اور چند ایک مرزائیوں نے اسے پڑھا۔ چنانچہ حکیم الہی بخش صاحب مرحوم معہ اپنے لڑکے کے آخر مرزائیت سے تو بہ کر گئے ۔ اور اسلام پر ہی فوت ہوئے ۔ اور باقی مرزائیوں کے دل ویسے ہی سخت رہے ۔ سچ ہے کہ؎

خاک سمجھائے کوئی عشق کے دیوانے کو
زندگی اپنی سمجھتا ہے جو مر جانے کو

میری خود یہ حالت تھی کہ عسل مصفی کو پہلی بار پڑھنے سے دل میں طرح طرحکے شکوک اٹھے اور وفات مسیح پر پورا یقین ہو گیا ۔ مگر الحمد للہ کہ آپ کی سیف چشتیائی اور شمس الہدایات نے میرے متنذ بذب دل پر تسلی بخش امرت پکایا ۔ امید ہے کہ کئی برگشتہ آدمی اس سے ایمان میں تروتازگی حاصل کریں گے۔ عرصہ ایک سال سے عاجز نے کمر بستہ ہو کر یہ ارادہ کر لیا ہے کہ ایک ضخیم کتاب بنا کر عسل مصفی کی تردید بخوبی کی جائے اور اس کی تمام چالا کیوں کی قلعی کھولی جائے۔ چنانچہ راقم الحروف عسل مصفی کے رد میں ایک کتاب صاعقہ رحمانی بر نخل قادیانی لکھ رہا ہے اور اس کے پانچ باب ترتیب وار باندھے ہیں:

1.حیات مسیح sym-9 پندرہ (۱۵) فصلوں پر۔

2.حقیقت المسیح sym-9پندره (۱۵) فصلوں پر۔

حقیقت النبوت پندرہ (۱۵) فصلوں پر۔

4.حقیقت المهدی باره فصلوں (۱۲) پر۔

5. حقیقت الدجال آٹھ (۸) فصلوں پر۔

مصنف عسل مصفی نے چند ایک اعتراضات مسیح اور رجوع موتی پر کئے ہیں۔ عاجز ذیل میں وہ اعتراضات تحریر کر دیتا ہے اور آپ سے ان کے جوابات کا خواستگار ہے۔ میں نے امرتسر کے چند ایک عالموں مثلا محمد داؤد بن عبد البار غزنوی، خیر شاہ صاحب حنفی نقشبندی ، ابوالوفاء ثناء اللہ وغیرہ سے ان اعتراضوں کے جواب پوچھے مگر افسوس کہ کسی نے بھی جواب تسلی بخش نہیں دیئے ۔ اب امید ہے کہ آپ بخیال ثواب دارین ان اعتراضوں کے جواب تحریر فرما کر فرقہ مرزائیہ کے دام مکر سے اہل اسلام کو خلاصی دیں گے۔

اول:

1۔صحیح بخاری مطبع احمدی ، جلد ا ص (481) میں ہے: عن ابن عمر النبي رايت عيسى[symbol وموسىsym-9 وابراهيم sym-9 فاما عيسى فاحمر جعد عريض الصدر]

2۔پھر اسی بخاری میں ہے: حدثنا احمد قال سمعت ابراهيم عن ابيه قال لا والله ما قال النبي بعيسى احمر ولكن قال بينما انا نائم اطوف بالكعبة فاذا رجل ادم سبط الشعر يهادى بين رجلين يتطف رأسه ماء او يهراق الخ

اول حدیث میں عیسی مسیح بن مریم ناصری کا حلیہ سرخ رنگ، بال گھونگر دار سینہ چوڑا تھا۔ اور دوسری حدیث میں مسیح موعود کا حلیہ گندم گوں رنگ ، بال کندھوں پر لٹکے ہوئے اور سر کے بالوں سے پانی ٹپکتا ہوا ہے۔ پس اس سے ثابت ہے کہ مسیح ناصری اور ہے اور آنے والے مسیح جس نے دجال کو مارنا ہے ، اور ہے۔

دوسری حدیث میں یہ بھی ہے۔ قال ثم اذا برجل جعد قطط اعور العين اليمني كان عينه عنبة طافية كاشبه من رايت من الناس بابن قطن واضعا يديه على منكبي رجلين يطوف بالبيت .... الخ

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے دجال کو بھی کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔ مگر دوسری صحیح حدیثوں سے صاف عیاں ہے کہ دجال پر مکہ ومدینہ حرام کئے گئے ہیں ۔ پھر مسیح دجال کا طواف کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔

صحیح بخاری میں ہی ہے: عن ابن عباس قال قال رسول الله ﷺ دوم تحشرون حفاة عراة غرلا ثم قرء كما بدأنا اول خلق نعيده وعداً علينا وعد انا كنا فاعلين فاول من يكسى ،ابراهيم، ثم يؤخذ برجال من اصحابي ذات اليمين وذات الشمال فاقول اصحابي فيقال انهم لم يزالوا مرتدين على اعقابهم من فارقتهم اقول كما قال العبد الصالح عيسى بن مريم وكنت عليهم شهيدًا ما دمت فيهم فلما توفيتني ...... الخ

جز سورۃ مائدہ میں ذکر ہے کہ مسیح پر سوال ہونے پر مسیح جواب دیں گے کہ سُبْحَنَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقِّ طَ إِنْ كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ طَ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ طَ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنْتِ .... الخ

قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ یہ آیات اپنے اوپر چسپاں کر کے فرمادیں گے۔ اور اپنے بیان کو عیسی کی طرح بیان فرمادیں گے۔ اب یہ بھی ظاہر ہے کہ آپ فوت ہو چکے ہیں ۔ پس آپ یہی کہیں گے کہ جب تو نے مجھے وفات دی اور كما قال العبد الصالح صاف ظاہر کرتا ہے کہ مسیح بھی یہی کہیں گے ۔ ”جب تو نے وفات دی۔“

اب اس سے معنی وفات کے لیے کر یہ کہا جائے کہ اس سے مراد وہ موت ہے جو مسیح کو زمین پر آنے کے پینتالیس (۴۵) سال بعد آئے گی۔ تو اس پر یہ اعتراض لازم آئے گا کہ مسیح کے پیرو سجی ابھی گمراہ نہیں ہوئے بلکہ مسیح کی وفات کے بعد ہوں گے۔ اور اس جا آئندہ وفات مراد لینا اس وجہ سے بھی غلط ہے کہ خدا تو مسیح کے اس زمانے کی نسبت سوال کر رہا ہے جب کہ مسیح کو بنی اسرائیل کی طرف بھیجا نہ کہ آئندہ زمانہ کی نسبت اور پھر صحیح اتناز مانہ چھوڑ کر آئندہ موت کی بابت کس طرح گفتگو کرتے اور پھر تفسیر مثلاً کمالین و حسینی وغیرہ میں فلما توفیتنی کے معنی رفع الی السماء نہ ہوتا ۔

اور گذشتہ زمانے میں یہ کہنے پر کہ جب تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا۔ یہ اعتراض آتا ہے کہ آنحضرت پھر كما قال العبد الصالح فرما کر قیامت کو یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ جب تو نے مجھے فوت کر لیا ۔ ورنہ یوں کہنا چاہئے ۔ ” جب تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا۔ اور یہ غلط ہے جس حالت میں کہ مسیح کی طرح ہی آنحضرت ﷺ فرمادیں گے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صیح کی بابت تو آسمان پر اٹھایا جانا معنی کر یں اور آنحضرت کی بابت فوت ہو جانے کے معنی کریں ۔ کیونکہ اس سے تو مماثلت درست نہیں رہتی ۔

سوم:

صحیح بخاری میں کتاب التفسیر میں ہے۔ قال ابن عباس متوفیک ممیتک ، بعض تفسیروں میں لکھا ہے کہ ابن عباس sym-9ایسے معنی کرنے میں آیت یا عيسى اني .....الخ میں تقدیم و تاخیرے کے قائل ہیں اس پر یہ اعتراض آتے ہیں ۔

1۔صحیح بخاری سے یہ ثابت نہیں کہ ابن عباس ، تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں۔ کیونکہ کتاب التفسیر میں صرف متوفیک کے معنی ممیتک لکھے ہیں ۔

2۔اگر رافعک کے بعد متوفیک کو رھیں تو لازم آئے گا کہ مسیح کا رفع تو ہو گیا ہے۔ و مطهرك وجاعل الذين ....... الخ کا وعدہ اچھی اور انہیں ہوا بلکہ بعد وفات کے ہوگا اور یہ غلط ہے۔

3۔اگر متوفیک کو مطهرک کے بعد رکھئے تو لازم آئے گا کہ رفع و مطهر ہونے کے وعدے تو پورے ہو گئے ہیں مگر مسلمان کافروں پر غالب نہیں ہیں بلکہ موت کے بعد ہوں ۔ حالانکہ یہ غلط ہے۔

4۔اگر متوفیک کو سب کے آخر رکھیں تو لازم آئے گا کہ قیامت کے دن جب کہ اور لوگ زندہ ہو کر اٹھیں گے مسیح فوت ہو جائیں گے کیونکہ چوتھا وعدہ یہ ہے کہ قیامت تک تیرے پیروؤں کو کافروں پر غالب رکھوں گا۔

5۔یہ چار وعدے ترتیب وار ہیں اگر واؤ ترتیب کے لئے نہیں ہے بلکہ قیامت کے پہلے پہلے یہ سب وعدے پورے ہو جانے چائیں تو الی یوم القیمۃ کی ضرورت نہ تھی ۔ اور اس کی نظیر میں کوئی اور آیت بھی پیش کرنی چاہئے۔

چهارم:

بعض مفسرین نے آیت وان من اهل الكتاب ... الخ کے معنی یہ کئے ہیں کہ مسیح موعود کے وقت میں جتنے اہل کتاب ہوں گے وہ سب مسیح کی موت کے پہلے پہلے اس پر ایمان لائیں گے۔ اس پر عسل مصفی کے یہ اعتراض ہیں کہ:

1۔۔ آيت، وجاعل الذين الخ ، آیت سے صاف عیاں ہے کہ کافر قیامت تک رہیں گے پھر صحیح کے وقت کس طرح سب مومن ہو جائیں گے۔

2۔یہ معنی مفسرین کے اس آیت ن کے اس آیت کے مخالف ہیں۔ جہاں ارشاد ہے کہ ہم نے یہود اور نصاری ارٹی - کے درمیان تا امت بغض ڈالا ہے۔

3۔اور اس آیت کے بھی مخالف ہے کہ جہاں ہے کہ اگر خدا چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت پیدا کر دیتا۔ مگر یہ نت اللہ کے برخلاف ہے ۔

4۔یہ کہ جب آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں تمام اہل کتاب مسلمان نہیں ہوئے ۔ تو پھر سیح کے زمانے کو کیا خصوصیت ہے۔

5۔ دجال یہودی ہوگا اور اس کے ساتھ ۲۰ ہزار یہود ہوں گے ۔ باوجود اہل کتاب ہونے کے پھر وہ کیسے ایمان لانے کے بغیر مر جائیں گے۔

پنجم:

عسل مصفی والے مسیح sym-9 کے معجزات احیائے مولی ابراہیم sym-9 کے، رب ارني كيف تحى الموتى..الخ ، عزير sym-9 کے ۱۰۰ سال کے بعد زندہ ہو جانے ، بنی اسرائیل کے وے سرداروں کے زندہ ہو جانے سے صاف انکار کیا ہے۔ اور اس کی باطل تاویلیں کی ہیں۔ اور عدم رجوع موتی پر یہ آیات قرآنی پیش کئے ہیں :

وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ( جز 17،رکوع 7)

أَلَمْ يَرَوْاكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُونَ ( جز 23 ، رکوع1 )

حتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلَى أَعْمَلُ صَالِحاً فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (جز ۱۸، رکوع ۲ )

اللَّهُ يَتَوَفَّى الَّا نُفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتُ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأخْرِى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى( جز 23 ، رکوع6 )

ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَالِكَ لَمَيِّتُونَ( جز 18، رکوع1 )

ششم:

جز 3 سورۃ البقر میں جہاں ابراہیمsym-9 کا ذکر ہے فرمایا کہ:رب ارني كيف ..الخ اس پر مرزائی کہتے ہیں کہ مفسرین نے قیمہ کرنا، کوٹنا کس کے معنی کئے ہیں۔ گو فَصَرُ هُنَّ کے معنی کوٹنا بھی . بھی ہیں مگر یہاں الیک ایسے معنوں سے روکتا ہے کہ اگر کو ٹنا ٹکڑے ٹکڑے کرنا معنی ہوتے تو صرف فَصَرُ هُنَّ کافی تھا نہ کہ فَصَرُ هُنَّ الیک اور جز صرف ٹکڑوں کو ہی نہیں کہتے بلکہ ثابت جسم کو بھی کہہ سکتے ہیں ۔ جیسے ۱۶ آدمیوں کا جز ہم آدمی، دو آدمی آٹھ آدمی ، اور ایک آدمی بھی ہو سکتا ہے۔ میں اسی طرح ابراہیم نے چار جانوروں میں سے ایک ایک جانور پہاڑ پر رکھا اور پھر آواز دے کر ان کو اپنے پاس بلایا۔

هفتم:

جس حالت کو قرآن مجید کی میں سے زیادہ آیتوں میں متوفی کے معنی موت کے آتے ہیں ۔ تو پھر یہاں مسیح کو کیا خصوصیت ہے۔ اگر پورا لینے کے معنی لیں تو پھر بھی یہ ایک معما باقی رہتا ہے کہ

1۔کیا تم کو پورا کرنا۔

2۔کیا جسم و روح کو پورا کر لینا۔

3۔ یا اور کوئی اور معنی ، اور اگر جسم مع الروح پورا لینا مراد ہے تو باقی آیات میں جہاں توفی وغیرہ ہے تو کیا یہ معنی بنیں گے کہ خدایا فرشتے لوگوں کو جسم مع الروح اٹھا لیتے ہیں۔

بعض مفسرین نے قبض کرنا کے معنی لئے ہیں اور قبض ہمیشہ روح کا ہوا کرتا ہے۔

هشتم:

جب کہ خدا تعالیٰ فاعل ہوا اور کوئی ذی روح مفعول تو متوفی کے معنی ہمیشہ قبض روح کے ہوا کرتے ہیں اور اگر مرزائیوں کے آگے آیات توفى كل نفس ابراهيم الذي وفا و غیره پیش کی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو باب تفعل سے نہیں ہیں گو اس کا ماخذ وفا ہی ہے۔

یہ آٹھ سوال گویا تمام ” عسل مصفی “ کے اعتراضوں کا کے اعتراضوں کا خلاصہ ہے۔ ان کا جواب دینا گویا مشن مرزائیہ کے سر پر آسمانی بجلی گرانا ہے۔ امید ہے کہ آپ ان کے جوابات تسلی بخش تحریر فرمادیں گے۔

از

خادم الاسلام محمد حبیب اللہ(کٹڑہ مہیاں سنگھ کو چہ ناظر قطب الدین پاس مسجد غزنویاں امرتسر )

بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده واله وصحبه

جواب سوال نمبر 1:

احمر اور آدم سے مراد ایک ہی شخص ہے۔ کیونکہ در صورت تغائر دوسری حدیث کا جمال ( لا والله ما قال النبي بعيسى احمر ولكن قال بينما انا نائم اطوف بالكعبة فاذا رجل آدم الخ ) بے حل اور غیر مربوط ثابت ہوتا ہے اگر احمر و آدم دو شخص ہوتے تو ایک شخص کا سرخ رنگ ! ں کا رخ رنگ اور دوسرے کا گندم گوں ہونا نا ممکن اور غیر واقعی نہیں مانا جا سکتا تو پھر حلفی نفی کا کیا معنی ۔ اس قدر تشد د اور تاکید بالحلف اس صورت میں شایاں ہے کہ ایک ہی شخص کی نسبت حلیہ بیان کیا جاتا ہے۔ اور اس شخص کو ایک راوی احمر بتاتا ہے اور دوسرا آدم روایت کرتا ہے۔ اور راوی ثانی کو اجتماع بين الكليتين في شخص واحد غیر واقعی نظر آتا ہو۔ یا صرف روایت باللفظ اس کا مقصود ہو ۔ در اصل بات یہ ہے کہ مسیح ناصری و ہی مسیح موعود ہے۔ اور فی الواقع دونوں حدیثیں صحیح مانی جاسکتی ہیں ۔ راوی ثانی کا مطلب اور طرح نظر صرف روایت باللفظ ہے۔ نفی اثباتا مسیح علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی رنگت میں چونکہ سرخی و سپیدی ملی ہوئی تھی کما فی ابی داؤد وغیرہ ( فاذا رأيتموه فاعرفوه فانه رجل مربوع الى الحمرة والبياض ... الخ ) ایسی رنگت والے کو اگر سرخ کہا جائے تو بھی اور اگر گندم گوں بتایا جائے تو بھی بجا ہے۔

رہا آنحضرت ﷺ کا مسیح اور دجال دونوں کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھنا سو معلوم ہو کہ خیال منفصل اور عالم رویا میں عالم شہادت کے محالات ممکنات دکھائی دیتے ہیں ایسا ہی مجردات الجسم ہو کر ۔ چنانچہ حق سبحانہ وتعالیٰ کا بروز حشر ایک صورت میں جلوہ گر ہونا جس کا مؤمنین انکار کریں گے۔ پھر دوسری صورت میں متجلی ہونے پر اقرار ۔ ایسا ہی آنحضرت ﷺ کا ( علم ) کو درصورت لبن مشاہدہ فرمانا۔

اور نیز واضح رہے کہ ہر ایک شخص اپنے خیالات اور اعتقادات و اعمال میں مرکز استعداد ذالی اپنے کے ارد گرد گھومتا رہتا ہے۔ یعنی ان اسماء الہیہ کے دائرہ سے باہر نہیں جا سکتا کہ جن اسماء کے لئے اس کا عین ثابت فیض اقدس میں بغیر تحلل جعل مظہر قرار دیا گیا ہے۔ صدیقی عین ثابت ( ھادی ) اور ابو جہل کا عین ثابت (مضل ) کے احاطہ سے باہر نہیں جاسکتا۔ ایسا ہی عیسی علی نبینا و عليه الصلوة والسلام کا عین ثابت اور دجال کا بھی۔

حدیث کا مطلب:

آنحضرت ﷺ نے مشاہدہ فرمایا کہ عیسی ابن مریم اور دجال دونوں اپنے بیت اللہ اسمائی کا طواف کر رہے ہیں ۔ ایک یھدی من یشاء کے اظہار میں اور دوسرا يضل من يشاء کے اسباب میں سرگرم اور کمر بستہ ہے۔ بادی اور مغل کا موصوف چونکہ ذات واحدہ ہے لہذا عالم رویا میں آنحضرت ﷺ کو ایک ہی بیت اللہ مشہود ہوا یہ ہے مطلب مسیح اور دجال دونوں کے طواف کرنے کا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

دوسری حدیث جس میں دجال کی عدم رسائی بیت اللہ تک کا ذکر ہے وہ بھی صحیح و بجا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ حسب ارشاد نبوی ﷺ دجال کو عالم شہادت میں بیت اللہ تک رسائی نہ ہوگی ۔

جواب سوال نمبر 2،3:

توفی کا معنی موت نہیں بلکہ موت ایک نوع بے معنی توفیٰ کے انواع میں ے ، توفی کا معنی قبض کر لینا، اٹھا لینا، پورا کر لینا ، سولانا، دیکھو لسان العرب قاموس ، صراح و غیر ہا سیف چشتیائی ملاحظہ ہو ۔

پھر قبض کر لینا عام ہے، ایسا ہی اٹھالینا۔ اگر اس قبض و رفع کا متعلق نفوس و ارواح ہوں اور فاعل اللہ تعالی تو اس کے لئے دو صورتیں ہیں ۔ ایک موت ، دوسری نیند ۔ پس موت اور نیند معنی توفی کے لئے جزئیات و مواد ٹھہرے۔ چنانچہ آیت ۔ ذیل سے صاف ظاہر ہے اللهُ يَتَوَفَّى الَّا نُفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا (الزمر ،آیت :46) یعنی قبض نفوس وارواح کی دو صورتیں ہیں ایک موت ، دوسری نیند ۔

اگر یتوفی کا معنی موت دینا اور مارنے کا لیا جائے تو کلام الہی ( معاذ اللہ ) بالکل بے معنی ہو جاتا ہے کیونکہ جب توفی کے مفہوم میں موت ہے تو پھر (حین موتها ) لغو شہرے گا اور (والتي لم تمت ) میں بوجہ عطف کے (الانفس ) پر اجتماع ضدین ( موت و عدم موت ) کا سامنا آئے گا وھو باطل ۔

آیت کا مطلب یہ ہوا کہ قبض نفوس گو دو صورتیں موت و نیند میں ہوتا ہے۔ مگر در صورت موت نفس مقبوضہ کو چھوڑ انہیں جاتا بخالف حالت نیند کے کہ اس میں نفس مقبوضہ کو اجل مسمی و میعاد معین تک چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ساری آیت پڑھو۔

اللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمْتُ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى

پس ثابت ہوا کہ توفی کا معنی صرف قبض ہے اور مقبوض شدہ شے خواہ نفوس وارواح ہوں ۔ اور پھر چھوڑے نہ جائیں ۔ چنانچہ موت کی صورت میں یا پھر چھوڑ دیئے جائیں چنانچہ بحالت نیند و بیداری ، یا غیر نفوس ہوں ۔ چنانچہ تو فیت مالی وغیرہ محاورات عرب کما فی السان العرب وغیرہ ایسا ہی (متوفیک) اور (فلما توفیتنی ) خارج ہے موضوع لہ توفی سے کہ (المضاف اذا اخذ من حيث انه مضاف يكون التقييد داخلا والقيد خارجا ) قاعدہ مسلمہ ہے۔

فرض کیا کہ زید مر گیا اور عمر وسو رہا ہے ۔ اور دونوں کے متعلقین نے بعد مر جانے زید کے اور سو جانے عمرو کے ارتکاب جرائم اعتقادی و عملی کرنا شروع کیازید و عمر و دونوں سے سوال کرنے میں ایک ہی عبارت کا استعمال بحسب شهادت آیت مذکورہ بالا ۔

اللَّهُ يَتَوَفَّى الَّا نُفُسَ کیا جا سکتا ہے ۔ مثلاً (انتما قلتما ان يعتقد واويعملوا كذا و كذا) بجواب اس کے دونوں کہہ سکتے ہیں کہ (ما كان ان نقول لهم كذا كذا الا ما امرتنا وكنا عليهم شهيدين مادمنا فيهم فلما توفيتنا كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شيء شهيد ) یعنی برخلاف ارشاد الہی ان کو کہنا ہم کو شایاں نہیں تھا۔ ہم جب تک ان میں موجود تھے ان کو ہدایت کرتے رہے اور فرمانِ خداوندی پہنچاتے رہے۔ پھر جب تو نے ہمارے ارواح کو قبض کر لیا اور اٹھا لیا پھر تو ان پر نگہبان تھا۔

بشہادت آیہ مسطوره بالا و کتب لغت لسان العرب، قاموس صراح ۔ توفی کا معنی قبض و رفع کا ٹھہرا اور موت و نیند انواع و اقسام ٹھہرے معنی قبض کے لئے اور مسلمہ قاعدہ ہے کہ استعمال کلی کا جزئی میں مجاز ہے نہ حقیقت لہذا اہل لغت نے موت کو معنی مجازی ٹھہرایا ہے۔ توفی کے لئے سیف چشتیائی ملاحظہ ہو۔

ایسا ہی آنحضرت ﷺ اور مسیح ابن مریم عليهما السلام بجواب سوال مذکوره لفظ فلما توفيتنی استعمال فرما سکتے ہیں ۔ یعنی آپ ﷺ بایں معنی پھر جب قبض کر لیا تو نے روح میری اور مسیح ، وح میری اور مسیح علی نبینا و علیہ السلام پھر جب قبض کر لیا تو نے مجھ کو یعنی میرے جسم کو مع الروح پکڑ لیا اور اٹھا لیا۔ وجہ اس کی وہی ہے کہ توفی کا معنی مطلق قبض و رفع کا ہے اور شی ء مقبوض و مرفوع اس کے معنی سے خارج ہے۔ جملہ توفی الله زيداً ، کو تینوں صورتوں میں بول سکتے ہیں ۔

1۔اللہ تعالیٰ نے زید کو مار دیا۔ یعنی اس کی روح کو قبض کرنے کے بعد نہ چھوڑا۔

2۔یاللہ تعالیٰ نے زید کو سلایا۔ یعنی اس کی روح کو بعد القبض چھوڑ دیا۔

3۔یا اللہ تعالی نے زید کو بالکلیہ ( جسم مع الروح) قبض کر لیا اور اٹھالیا۔ تیسری صورت محل نزاع ہے اور پہلی دو صورتیں آیۃ اللهُ يَتَوَفَّى الأَنْفُسَ سے صراحت ثابت ہیں۔

بلکہ اس آیت میں یتوفیٰ کے معنی میں غور کرنے پر یہ اشکال جاتا رہتا ہے کہ جسم مع الروح کا اٹھا لینا جملہ مذکورہ سے کیسے مراد ہو سکتا ہے ۔ حالانکہ محاورہ قرآنیہ میں جس جگہ توفی کا فائل اللہ تعالیٰ ہو وہاں معنی موت ہی مراد ہے۔ کیونکہ مطلق قبض ورفع توفی کا معنی ہے نہ خاص موت ہی ۔

جو لفظ کہ معنی کلی ( مطلق و رفع و قبض ) کے لئے موضوع بشہادت لغت و قرآن کریم ہے اس لفظ (توفی) کو ایک اس معنی کی جزی کے لئے موضوع سمجھ لینا مثلا انسان کو خاص زید کے لئے موضوع قرار دے لینا سراسر جہالت ہے۔

سطحی فرقہ کو دھوکا لگنے کی وجہ علاوہ قلت مبلغ علمی کے یہ بھی ہے کہ معنی کلی توفی کے جزئیات و مواد میں سے موت والا مادہ فی الواقع بھی بہت ہے۔ اور قرآن کریم میں بھی بکثرت وارد ہوا ہے یہاں تک کہ اس کثرت کی وجہ سے عوام نے موت کو معنی حقیقی توفیٰ کے لئے سمجھ رکھا ہے۔ مگر اہل تحقیق واہل بصیرت کی نظر واقعات پر ہوتی ہے۔ یعنی وہ لوگ مثالا دیکھتے ہیں کہ گو قر آن کریم ہی میں خلقت انسان نطفہ سے بنائی گئی ہے اور اس کے نظائر و جزئیات کے لئے اس قدر وسعت اور فراخی ہے کہ شمار میں نہیں آسکتے۔ اور إِنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ اور ایسا ہی خُلِقَ مِن مَّاء دَافِقٍ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ بھی کثرت مذکورہ پر شاہد ہیں ۔

مگر اس سے ہرگز ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ لفظ خلق کا معنی یہی قرار دیا جائے کہ نطفہ سے پیدا کرنا بلکہ خلق کا معنی مطلق پیدا کرنا ہے خواہ نطفہ والدین سے ہو چنانچہ کثیرا الوقوع ہے یا صرف نطفہ والدہ سے چنانچہ صیح ابن مریم یا جسم انسانی کے پہلو سے چنانچہ حواsym-6، یا مٹی سے چنانچہ آدم علی نبینا وعلیہ السلام لہذا توفی کا معنی صرف موت بشهادت كثرة نظائر قرآنیہ سمجھ لیا گیا ہے۔

یہاں پر بالطبع سوال ذیل پیدا ہوتا ہے کہ إِنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ ، خُلِقَ مِن مَّاء دَافِقٍ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ کے عموم سے نصوص قرآنیہ مثلاً و خُلِقَهُ مِنْ تُرَابِ اور وَإِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللَّهِ الخ آدم و عیسی على نبينا وعليهما السلامكو استثناء کنندہ موجود ہیں ۔ اور عیسی علی نبینا و عليه السلام کو کون سی نص قرآنی کثیرة الوقوع جزئیات و مواد سے مستثنی کرتی ہے۔

جواب: آیت وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنَا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ نص قطعی ہے۔ عیسی ابن مریم علی نبينا و عليه السلامکے تمامہ وزندہ اٹھایا جانے پر ۔

سوال: بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ سے مراد رفع درجات واعزاز ہے۔ کما قال سبحانه وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَات ، نہ یہ کہ اللہ تعالی نے مسیح ابن مریم علی نبینا و علیه السلام کو زندہ اٹھالیا۔

جواب: بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ سے رفع درجات مراد لینا بالکل مخالف ہے سیاق کلام الہی کے۔ اس لئے کہ ماقبل میں قول یہود کا ذکر ہے کہ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ ، یعنی یہود کا یہ خیال تھا کہ ہم نے مسیح علی نبینا و علیہ السلام کو بذریعہ صلیب مار ڈالا جس کی تردید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسیح کا بذریعہ صلیب قتل کرنا یہ محض میبود کا غیر واقعی زعم ہے۔ انہوں نے مسیح کو قتل نہیں کیا تھا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اٹھا لیا یعنی مسیح کو ان کے ہاتھ سے بچالیا۔ چنانچہ دوسری جگہ فرماتا ہے وَإِذْ كَفَفْتَ بَنِي إِسْرَائِيلَ عنک یعنی اے مسیح منجملہ ہمارے انعامات و احسانات کے جو تجھ پر ہم نے کئے ہیں۔

اور جن کا ذکر ماقبل میں ہے مثلا احیاء موتی وابراء اکمہ و تائید بروح القدس ، ایک یہ بھی احسان ہے کہ ہم نے تم کو یہود کے ہاتھ سے بچا لیا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تر دید اسی صورت میں تردید ما قبل یعنی قول یہود کی ہو سکتی ہے کہ رفعہ اللہ الیہ سے رفع جسمانی لیا جائے یعنی اللہ تعالی نے مسیح کے جسم کو اٹھا لیا اور یہود کے پنجہ سے بچا لیا۔ كما قال وَإِذْ كَفَفْتَ بَنِي إِسْرَائِيلَ عنک اور نیز در صورت رفع درجات واعز از کلمہ بل کے ماقبل اور مابعد یعنی قتل و رفع میں علاوہ مخالفت سیاق کلام کے تضاد بھی نہیں پایا جاتا جو کہ قصر قلب کا مفاد ہوتا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے۔ ” ما اهنت زیدا بل اکرمته“ میں نے زید کی اہانت نہیں کی بلکہ اس پر اکرام کیا ہے اور اس کو عزت بخشی ہے۔ اہانت اور اکرام میں تضاد ہے دونوں جمع نہیں ہو سکتے ۔ ایسا ہی قتل اور رفع کا بھی اجتماع نہ ہونا چاہئے۔ قتل جسمی اور رفع جسمی میں تو بیشک تضاد اور عدم اجتماع ہے اور قتل جسمی اور رفع درجات میں تضاد نہیں کیونکہ جو شخص بے گناه مقتول و شہید ہو اس کے لئے رفع درجات بھی ہوتا ہے ۔ لہذا بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ سے رفع جسمی مراد ہے نہ رفع درجات ۔

سوال : قتل صلیبی چونکہ حسب تصریح تو راه موجب امن و ملعونیت ہے۔ لہذا ذ کر ملزوم وارادہ لازم کے طریق پر گویا کلام مذکورہ بمنزلہ ” وما كان ملعونا بل رفعه الله اليه“ کے شہرا اور ملعونیت اور رفع درجات روحی کے مابین تضاد ہے۔ دونوں بہم جمع نہیں ہو سکتے ۔

جواب: مقتول صلیبی کا مستوجب لعن ہونا اسی صورت میں ہے۔ جبکہ مقتول مرتکب جرم ہو۔ ورنہ در صورت غیر مجرم ہونے کے مستحق اعزاز واکرام ہوتا ہے۔ دیکھو تو راۃ ، کتاب استثنا آیہ ۲۲ اور ۲۳ میں اس امر کی تصریح کر دی گئی ہے جس کو ہم سیف چشتیائی میں تو راۃ سے بعبار یہ نقل کر چکے ہیں۔ اس وقت یہ قلم برداشتہ میں لکھ رہا ہوں کوئی کتاب سامنے نہیں آیت بَل رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں تحقق ہے اس وعدہ کا جو آیت انِّی مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى ... الخ میں دیا گیا تھا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ آیت بَل رُفَعَهُ اللهُ إِلَيْه نص قطعی ہے رفع جسمی و حیات تیج پر اور حقق ہے اس وعدہ کے لئے جو کہ ”متوفیک و رافعک“ دونوں سے کیا گیا ہے۔ اور ( فلما توفیتنی ) میں وہی مطلق رفع مراد ہے یعنی در جواب سوال خداوندی انحضرت و سیح دونوں اس توفیتنی کو استعمال فرمائیں گے۔ چنانچہ اوپر لکھ چکا ہوں ۔ پس ثابت ہوا کہ انی متوفیک اور فلما توفیتنی اور بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ میں رفع جسم والروح مراد ہے۔

واضح ہو کہ ابن عباس و بخاری sym-8كا نذهب حیات مسیح کا ہے۔ چنانچہ مرویات ابن عباس مندرجہ تفسیر در منثور و کتب احادیث اور تراجم بخاری سے ظاہر ہے اور حدیث بر ملا وہی عیسی ابن مریم ۔ اوصی عیسی ابن مریم سے بھی کل صحابہ علیہم الرضوان کا اجماعی عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔ سیف چشتیائی ملاحظہ ہو۔

لہذا قول ابن عباس متوفیک ممیتک مندرجہ بخاری سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کے ان کا مذہب بر خلاف عقیدہ اجماعی کے ہو ممکن ہے کہ متوفیک کا معنی ممیتکامتحا نا فرما دیا ہو۔ چنانچہ آپ ابن عباس رضى الله تعالى عنهما مباحثات یومیہ میں جو فیما بین صحابہ آیات قرآنیہ کے متعلق ہوا کرتے تھے اثناء تقریر میں مسح على الرجلین کو مدلل طور پر امتحانا بپایہ ثبوت پہنچاتے تھے۔

حالانکہ مذہب ان کا غسل رجلین کا ہے۔ اور نیز یہ روایت معارض ہے۔ دوسری روایات ابن عباس سے جن کو در منثور وغیرہ نے باسانید صحیحہ ذکر کیا ہے۔

جواب سوال نمبر 4:

آیت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ مسیح موعود کے وقت جتنے اہل کتاب ہوں گے وہ سب مسیح کی موت کے پہلے اس پر ایمان لائیں گے مرزائیوں کے اس پر اعتراضات ہے کہ:

1۔یہ معن لف ہے آیت وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةَ ہے کیونکہ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کافر قیامت تک رہیں گے پھر مسیح کے وقت کس طرح سب مؤمن ہو جائیں گے ۔

الجواب:

قیامت تک غالب رہنے کا معنی مدت دراز تک تا قریب قیامت غالب رہنے کا ہے نہ یہ کہ شروع یوم حشر تک ۔ عرصہ دراز سے قرآن کریم میں تعبیر نہ صرف الی یوم القيامة کے ساتھ کی گئی ہے بلکہ اس معنی کو ( خالدین ) کے ساتھ بھی تعبیر کیا گیا ہے۔

دیکھوخَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ حالانکہ مدت دوام آسمان وزمین دنیو یہ محدود اور متناہی ہے کہ بطریق خلوو ۔

اہل عرب کا محاورہ ہے کہتے ہیں ۔ لا اتيک مادامت السموات والأرض وما اختلف الليل والنهار اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں جب تک زندہ ہوں تیرے پاس نہ آؤں گا۔ اس سے اگر کوئی یہ سمجھ لے کہ قائل لا آ تیک تا مدت بقاء آسمان زمین اور تا تعاقب لیل و نہار زندہ رہے گا۔ تو یہ حماقت ہے۔ جس کا منشاء بغیر از جہالت اور نہیں اس تقریر سے مطلب آیة وَالْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةَ کا بھی معلوم ہو سکتا ہے۔

رہی آیت وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ سو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تم سب کو ر اور است پر کر دیتا مگر ایسا نہیں چاہا۔ یعنی کسی کو کا فرکسی کو مؤمن بنایا۔ اس سے یہ نہیں پایا جاتا اگر مثلا خطہ عرب کے سارے موجودہ لوگ مشرف بالا یمان بعد از کفر و شرک ہو جائیں ۔ چنانچہ ایسا ہوا ہے تو یہ امر آیت لو شاء لهدا کمسے بر خلاف ہوگا ۔ ایسا ہی کسی شہر یا کسی ملک یا روئے زمین کے باشندے مختلف المذاہب اگر مسلمان ہو جائیں تو آیت مذکورہ کی مخالفت نہیں ۔ ایسا ہی مسیح علی نبینا وعلیہ السلام کے وقت موجودہ لوگ جو قتل و ہلاکت سے بچ رہے ہوں سارے ہی مسلمان ہو جائیں تو ہو سکتا ہے۔

در جان مع ستر ہزار یہود اگر بغیر ایمان لانے کے مرجائیں تو اس سے اس کلیہ میں جو مدلول آيت وَإِن مِنْ أَهْلِ الْكِتب ... الخ کا ہے کوئی خلل نہیں آتا کیونکہ ليو من قضیه موجبہ ہے اور صدق ایجاب وجود موضوع کا مقتضی ہوتا ہے ۔ پس محکوم علیہا وہ افراد ہوں گے جو کہ قتل و ہلاکت سے بچ جائیں گے۔ مثلا اگر کہا جائے عرب میں سب لوگ مسلمان رہیں گے یا ہوں گے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ بعد جہاد و مقابلہ جو بچ رہیں گے وہ مسلمان ہی ہوں گے ۔ ”صدق الايجاب يقتضى وجود الموضوع“ قضيه مسلمه ہے۔

یہ خیال کرنا کہ جب بعبد مبارک آنحضرت ﷺ تمام اہل کتاب مسلمان نہیں ہوئے تو پھر مسیح کے زمانہ کو کیا خصوصیت ہے۔ بالکل بے جا اور جہالت ہے۔

اگر کوئی کہے کہ اہل فارس و روم و غیر ہ بعہد نبوی مشرف با اسلام نہیں ہوئے تو بعہد خلیفہ اول یا ثانی یا ثالث یا رابع یا بعہد خلیفہ آخری ( مہدی موعود ) کیسے مسلمان ہو سکتے ہیں تو ایسے قائل کو جوابا یہی کہا جائے گا کہ خلفاء عليهم الرضوان کی کاروائی چونکہ تاسیس نبوی کی ترقی ہے اور اسی ڈالی ہوئی بنیاد کی تعمیر ہے۔

لہٰذا بعینہ نبوی کا روائی کہلانے کا استحقاق رکھتی ہے بلکہ پیشین گوئی آیت لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلہ والی آخری خلیفہ نبوی کے زمانہ میں بر وقت نزول مسیح متحقق ہوگی ۔ چنانچہ وعدہ فتوح بلا دشام مندرجه سفر تو رایت موسوی از مانه میں ظہور میں نہیں آیا تھا بلکہ بعہد یوشع خلیفہ موسی علی نبینا وعليهما السلام متحقق ہوا۔

ایسا ہی وعده لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله بعبد خلیفہ آخری بر وقت نزول عیسی علی نبینا و علیه السلام ظہور میں آئے گا۔ اور یہ سب کمال نبوی ہو گا ۔

جواب سوال نمبر5 :

1۔انکار معجزات مرزا اور مرزائیوں سے کوئی نئی بات نہیں فلاسفہ اور معتزلہ ان سے پہلے منکر چلے آئے ہیں ۔ اور اہل السنت اپنے تفاسیر و مؤلفات میں جابجا مع مالها و ما علیہا” انا الله وانا اليه راجعون“ ان کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ آیات خمسہ ذیل ہیں۔

وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ

أَلَمْ يَرَوُا كَمُ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنَ الْقُرُونِ أَنَّهُمُ إِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُونَ

حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتَ .... الخ )

اللَّهُ يَتَوَفَّى الَّا نُفُسَ الخ

ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ الخ

بیان ہے اکثر یہ کا اور انتفاء امر طبعی کا یعنی موتی بحسب الطبع رجوع کو نہیں چاہتے كما قال لا يرجعون اس سے یہ یہ نہیں ثابت ہوتا کہ اگر اللہ تعالی موتی کو اس عالم میں دوبارہ لائے تو بھی ناممکن اور غیر واقع ہے ہاں اس میں شک نہیں کہ خرق عادت ہو گا نہ بر وفق عادت اورقوله تعالى وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلاً خرق اور وفق دونوں کو شامل ہے۔

جواب سوال نمبر 4:

رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ وہ چار پرندے پہلے مار دیئے گئے تھے۔ بعد ازاں زندہ کئے جانے پر ابراہیم الکلی کے پاس دوڑ کر پہنچے قیمہ، کوٹنا وغیرہ وغیرہ ہو یا نہ ہو پہلے ان کی موت تو ضروری ٹھہرتی ہے۔ تا کہ احیاء موتی کا معنی متحقق ہو۔ بخالف اس صورت کے کہ جب چاروں زندہ پہاڑوں پر چھوڑ دیئے گئے ہوں اور بعض کو ان میں سے بلایا گیا ہو کیونکہ اس صورت میں احیاء موتی والا معنی جس کو ابراہیم العلما نے معاینہ کرنا چاہا تھا پایا نہیں جاتا مفسرين عليهم الرضوان کا بیان ( قیمہ، کوٹنا وغیرہ ) بیان تاریخی ہے نہ ترجمہ ۔

جواب سوال نمبر7 :

قرآن کریم میں میں (۲۰) کی جگہ اگر لاکھ جگہ متوفی کا معنی موت لیا گیا ہو تو بھی کلیہ اس سے ثابت نہیں ہو سکتا ۔ چنانچہ جواب سوال نمبر ۲ میں لکھا گیا ہے۔

(۸) آٹھویں سوال کا جواب بھی پہلے جواب سوال نمبر ۲ سے آپ معلوم کر سکتے ہیں ۔

والسلام خير ختام والحمد الله اولا وآخرا
والصلوة والسلام منه باطناً عليه ظاهراً.
العبد الحي والمشتکی الی الله المدعو بمهر علی شاہ عفی عندربه
بقلم خود از گولڑه ( ۱۸ ذوالحجه ۱۳۳۴ه )

مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهَهُ فِي الدِّينِ
ايضاح المراد الدفع الايراد
بجواب عنایت نامہ محبی مولوی عبداللہ صاب سجادہ نشین گڑھی شریف
بسم الله الرحمن الرحيم
حامدا و مصليا مشتكيا ومتشبثا

از مشتکی الى الله متشبث بذيل رسول الله المدعو به مهر على شاه عفى عنه ربه بخدمت معظمی و مکرمی جناب مولوی عبد الله جيو صاحب متع الله المسترشدين بطول حياته

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته. اما بعد صحیفہ گرامی و نميقہ سامی مشتمل بر اظهار هو الحق وازهاق ما هوا لباطل متفقد حال ایں بے پروبال گردید۔

حاشیہ

و نیز مشتمل بود بر خوشنودی از اندراج اسم جناب موصوف در رد الرد و عدم الرضا بر اخراج بعد الا ندران کما حرر الحمد لله وكفى بالله شهيداً کہ غایت خوشنودی حاصل گردید - اما بعد از اندراج محو کردن و جبہے دارد .انتھی بلفظه ۱۲ م چ غ ۔

اشعار
ولما تجلت للعيون تزاحمت
على حسنها للناظرين مطامع
تجمعت الابصار فيها وحسنها{{quote
اذا ما يدت عينا فكلى اعين
وان هي ناجتني فكلى مسامع
فيا قلب شاهد حسنها وجمالها
ففيها لاسرار الكمال ودائع
وصاحب بموسى العزم خضر ولائها
ففيها الى ماء الحيات منافع
فقرى بها يا نفس عينا فانه!
تحدثني والمولنون هوا جع

درباره بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ هدایت شده بود که ابطال (انا قتلنا است نہ قتلوا انتهى بمحصله) محذوما در آیت کریمه وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيناً بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ابطال عكس ما يذكره المتکلماست

اولا: کہ نقیض صریح اوست وابطال انا قتلنا است

ثانياً: بوجه اتحاد معنون، واو جمع، ونا ضمير متكلم مع الغير تشریح این را در رد الرد مطالعه فرمائیند که به مصطلحات اهل معانی تعلق دارد.

ہدایت ثانیہ:

در آیت کریمه إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمُ مَيِّتُونَ ، مرجع ضمير غائب كفار است نه انبياء sym-9 پس حاجت نیست به تکلف که قضیه مطلقه عامه است نه دائمه انتهى بلفظه، معظماء منشاء این هدایت نیز ذهول است از طرز استدلال خصم که مثبت وفات مسیح است بدلالت این نص نه بعبارت او و محل استشهاد انك میت است فقط که عبارتاً دال است بروفات آنحضرتﷺ ودلالته (حاشیہ)، بر موت سائر انبیاءsym-9 چنانچه انهم میتوندال است بر موت کفار مکه

عبارة وغير مکه دلالته اگر گوئی پس آیت مذکوره صریح چگونه خواهد بود در وفات مسیح ابن مريم كما ذكر في السوالگويم علماء اصول تصريح نموده اند بآنکه دلالت النص قطعية يعرفها كل من كان من اهل اللسان وجلى بخلاف القياس فانه ظني وخفي. ومراد از (انهم میتون) که بسر سطر هر دهم واقع است همان مفهوم بحسب الدلالت است. نه مذكور في الآية بحسب العبارة فالجواب هو الجواب لا كما زعم الجناب

حاشیہ

على ما هو المقرر في علم الاصول من ان المعتبر وجود المناط سواء كان المسكوت أولى او مساوياً ١٢ م

حاشیہ ختم شد

ہدایت ثالثہ

جواب مرزا قادیانی که در آیت خاتم النبيين بانقطاع نبوت ورسالت داده اند خلاف از دلائل قطعیه است جواب شافی کافی آنست که مفسرین داده اند مراد از خاتم النبيين قاطع حدوث واستقلال نبوت است .انتهى بلفظه

مكر ما جواب بانقطاع نبوت ورسالت را که خلاف ماذكره المفسرون انگاشته اند البته از موجبات تعجب بینماید. مزید بر آن او را مخالف از دلائل قطعيه هم فرموده اند مع آنکه کلام مفسرين صراحةً وأحاديث صحيحه عباره شاهد اند بر انقطاع مذكور

1. قال الامام احمد حدثنا عفان حدثنا عبد الواحد بن زياد حدثنا المختار بن فلفل حدثنا انس بن مالک الله قال قال رسول الله ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبيي

2. حدیث دیگر که امام احمد بروایت ابی بن کعب ، اخراج نموده - عن النبي قال مثلي في النبيين كمثل رجل بنى دارا الى فانا في النبيين موضع تلك اللبنة

3. حدیث دیگر که ابو دائود طیالسی بروايت جابر بن عبد الله اه آورده - قال قال رسول الله مثلى ومثل الانبياء كمثل رجل بني دارا الى ختم بي الأنبياء عليهم الصلوة والسلام (و بخارى ومسلم و رندی نیز این را به طرق متعدده ذکر نموده . وده

4.حدیث دیگر که امام احمد بروایت ابو الطفيل اخراج نموده - يقول قال رسول الله لا نبوة بعدى الا المبشرات ....... الخ

5.حدیث دیگر که امام احمد بروایت ابی هریره یه آورده - قال قال رسول الله ان مثلى ومثل الانبياء . الى فكنت انا اللبنة

6. حدیث دیگر که او را مسلم و ترندی و ایمن به بطرق مختلفه ذکر نموده عن ابي هريرة عنه ان رسول الله قال فضلت على الانبياء بست اعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب واحلت لي الغنائم وجعلت لي الارض مسجدا وطهورا وارسلت الى الخلق كافة وختم بينى النبيون

7.حدیث دیگر که امام احمد بروایت ابی سعید خدری اخراج انا فرموده . قال قال رسول الله ﷺ مثلى ومثل الانبياء الى فجئت فاتممت تلك اللنبة

8.حدیث دیگر که امام احمد بروایت عرباض بن ساريه انه آورده - قال قال النبي اني عند الله لخاتم النبيين وان آدم لمنجدل في طينه

9.حدیث دیگر که زهری بروایت جبیر بن مطعم آورده قال سمعت رسول الله يقول ان لى اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحي الذي يمحو الله تعالى بي الكفر وانا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي وانا العاقب الذي ليس بعده نبی

10.حدیث دیگر که امام احمد بروایت عبد الله بن عمرونه آورده - يقول خرج علينا رسول الله يوما كالمودع فقال انا النبي الامى ثلثا ولا نبى بعدى ... الخ، وغيره احادیث عبارات مفسرین را نیز ملاحظه فرمائیند.

1۔.قال البيضاوى ( ولا يقدح فيه نزول عيسى بعده لانه اذا نزل كان على دينه مع ان المراد انه اخر من نبي انتهى

قال الخازن قلت ان عيسى العليا ممن نبي قبله وحين ينزل في آخر الزمان ينزل عاملا بشريعة محمد ومصليا إلى قبلته كانه بعض امته) انتهى

وفي المدارک و عیسی العلم ممن نبی قبله وحين ينزل ينزل عاملا على شريعة محمد كانه بعض امته انتهى

وفتح البيان وعيسى ممن نبى قبله وحين ينزل ينزل عاملا على شريعة محمد كانه بعض امته انتهى

وقال العلامة ابو السعود ( ولا يقدح فيه نزول عيسى بعده عليهما السلام لان معنى كونه خاتم النبيين انه لا ينبأ احد بعده وعيسى ممن نبي قبله وحين ينزل انما ينزل عاملا على شريعة محمد ومصليا الى قبلته كانه بعض امته انتهى

6۔.وفى روح البيان ( ولا يقدح في كونه خاتم النبيين نزول عيسى بعده لان معنى كونه خاتم النبيين انه لا ينبأ احد بعده كما قال لعلى هانت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى وعيسى ممن تنبأ قبله وحين ينزل انما ينزل على شريعة محمد المصليا الى قبلته كانه بعض امته فلا يكون اليه وحى ولا نصب احكام بل يكون خليفة رسول الله انتهى موضع الحاجة

وقال ابن كثير فهذه الآية نص في انه لا نبي بعده واذا كان لا نبي بعده فلا رسول با الطريق الأولى والأخرى لأن مقام الرسالة اخص من مقام النبوة.

8۔ .وفي روح المعانى لكنه لا يتعبد بها لنسخها في حقه وحق غيره وتكليفه باحكام هذه الشريعة اصلاً وفرعاً فلا يكون اليه العلم وحى ولا من حكام ملته نصب احکام بل يكون خليفة رسول الله وحاكما من حكا امته انتهى موضع الحاجة

وفي الشهاب على البيضاوى فالظاهر ان المراد من كونه على دينه الخ انسلاخه عن وصف النبوة والرسالة بان يبلغ ما يبلغه عن الوحي...... الخ انتهى.

از عبارات مسطوره پید است که عیسی را علی نبینا العليا پیش از آنحضرت نبوت تشریعیه بالا استقلال ووحى بشرع عیسوی بوده و بعد از نزول در رنگ احادامت مرحومه عامل بشرع محمدی خواهد بود و نبوت تشريعيه ووحي بشرع عيسوى منقطع خواهد گشت و همین است مراد شهاب از انسلاخ او از وصف نبوت ورسالت و از انقطاع مذکور در احادیث صحیحه نه آنکه مسيح العليم بعد از نزول از منصب رسالت معزول خواهد گشت و اطلاق نبی ورسول بر و نخواهد ماند حاشا و کلا چنانچه صاحب روح المعانی در بیان مراد شهاب می فرماید ولا اظنه عنى بالانسلاخ عن وصف النبوة والرسالة عزله عن ذالك بحيث لا يصح اطلاق الرسول والنبي فمعاذ الله ان يعزل رسول او نبي عن الرسالة او النبوة بل اكاد لا اتعقل ذالك ولعله اراد انه لا يبقى له وصف تبليغ الاحكام عن وحى كما كان له قبل الرفع.

پس جناب را حسب اقرار خویش هذا جواب شافي وكافي آن است که مفسرین داده اند لازم که جواب شمس الهدایت را قبول فرمائیند و آنچه فرموده اند که جواب انقطاع نبوت ورسالت خلاف از دلائل قطعیه است منشاء او بغير اغماض از احادیث صحيحه و اقوال مفسرین مرقومه بالاچه خواهد بود. مخدوما آیا این همه مفسرین بر خلاف دلائل قطعیه فرموده اند آنچه بالا مرقوم گشته و بر تقدیر انکار از دلیل قطعی بر کفر و در صورت عدم علم بدان بر جهالت مرده اند. حاشا وکلا . یا شارع ال از دلائل قطعیه جناب بی خبر مانده در احادیث مذکوره تصریح به انقطاع نبوت فرموده. العياذ بالله مخدوما اعتراض جناب نه تنها بر شمس الهدایت است بلکه بر فرمان پاک آنحضرت ﷺ که موصوف است به وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحى بوده لهذا بلب ادب ملتمسم که ازین عقیده نامرضیه که ناشی است از التزام مطالعه کتاب امروهی تو به نمایند. مومن چگونه روا دارد که سرور عالم مالك علم اولین و آخرین

برخلاف دلائل قطعيه ارشاد فرموده باشند معاذ اللهسخت متعجب ام که جناب چگونه احادیث انقطاع نبوت ورسالت رامع اتفاق الائمة على صحتها مخالف از دلائل قطعیه انگاشته اند. اگر فرمائیند که مراد از انقطاع نبوت ورسالت آنست که این هر دو بطريق حدوث و استقلال منقطع شده اند گوهم همیں است معنی عبارات منقوله مفسرین ومعنى عبارت شمس الهدايت ومعنى احاديث صحيحه منقوله بالا

از این بیان كالشمس في النهارواضح گشته که جناب در اعتراض ثالث که بعنوان جواب ثالث تعبیر فرموده اند. بچهار وجه فکر صائب را مبذول نه فرموده اند.

اول آنکه انقطاع نبوت و رسالت را بعد آنحضرت ﷺخلاف از دلائل قطعیه نوشته اند مع آنکه به نصوص قطعيه ثابت استكما ذكرنا.

دوم آنکه مفسرین را بانقطاع نبوت و رسالت قائل نشمرده اند مع آنکه از تصریحات او شان ثابت است.

سوم آنکه بر ناصیه علم این متجران داغ جهل و نادانی از احادیث مذکوره بالا نهاده اند .

چهارم آن معنی که جناب به نسبت مفسرین ذکر فرموده اند. او را مغائر از انقطاع نبوت ورسالت دانسته اند مع آنکه انقطاع استقلال نبوت عين انقطاع نبوت و رسالت تشریعیه است. زیرا که استقلال في النبوت عبارت است از تعمیل بشرع خویش بغیر اتباع بکسے پس انقطاع استقلال في النبوت عين انقطاع نبوت ورسالت تشريعيه خواهد بود.

شاید وجه انکار جناب از قول بانقطاع نبوت ورسالت آنست که قول مذكور بزعم جناب مستلزم معزولیت معصوم است از منصب نبوت چنانچه مرزا در ایام صلح و امروهی امروهی در شمس بازغه همین معنی را دلیل آورده اند برائی بطلان نزول مسیح اسرائیلی

وهمه مفسرين ومحدثين وفقهاء امت مرحومه را از خیر القرون الى يومنا هذا زیرا این الزام داشته اند. مخدوما این الزام او شان في الواقع ناشي است از جهالت و از همین قبیل است استدلال بعض معتزله و جهميه بآیت خاتم النبيين برائے انکار از احادیث نزول تشریحش آنکه نبوت و رسالت را دو رخ است ظهور وبطون ظهور عبارت است از توجه الى الخلق ، و دعوت الی الشریعت. چنانچه بطون عبارت است از استفاضه من الله وحصول مقام اختصاص وظهور نبوت بسبب تغير وتبدل شرائع واحكام متغير ومتبدل میگردد.

و هیچ نقصی ازیں تغیر و تبدل عائد به حال نبی ورسول نمیشود. بلکه حکیم مطلق این تغیر و تبدل را در حق داعی و مدعو سبب تکمیل حالات او شان ساخته هر چند که دعوت بشرع مستقل خویش منصبى است عظيم لكن اتباع شرع محمدی مقامیست بس بلند و بزرگ که تابع را بعد حصول فناء اتم از ثرثی تابه ثریا بل بما فوق العرش و وراء الوری میرساند و همه انبیاء عظام چونکه فی الحقیقت نواب آنحضرت بوده اند كماصرح به صاحب الفتوحات پس بر تقدیر حیات او شان در دوره محمدی لا بداست از اتباع همین شرع شريف كما قال لو كان موسى -حياما وسعه الا اتباعي تخصیص موسی از روئی نظر به خصوص محل است والا فالحكم عام ولنعم ما قيل

ایکہ از بهر وجود همہ عالم سببی
شافع روز جزا دافع رنج وتعبی
همہ خواهند بشوقت چه نبی و چہ ولی
مرحبا سید مکی مدنی العربی
دل و جان با دخدانت چہ عجب خوش لقمی
گفتنت شمس و قمر کہ نه پسندد جانم
نسبت حور و ملک با تو محقر دانم
چہ بگونم چہ نویسم چه حسنت خوانم
من بیدل بجمال تو عجب حیرانم
اللہ اللہ چہ جمال است بدیں بو الحجمی
اے فلک اوج و ملک فوج وشہ ہر دوسرا
بشری را بتوہم پلہ مشمارم حاشا
عالم پاک کجا مرتبه خاک کجا
نسبتے نیست بذات تو بنی آدم را
بهتر از آدم و عالم تو چہ عالی نسبی
عالم پاک کجا مرتبه خاک کجا

و از جهت نیل همین شرف وفوز ھمیں سعادت سيدنا الغوث الاعظم فرموده(خضنا بحر الم يقف على ساحله الانبياء) مراد از بحر ذات مبارك آنحضرت استکما فی شعر ؎

كالزهر في ترف والبدر في شرف والبحر
في كرم والدهر في همم

آری بطون نبوت ومقام اختصاص بالكل مبرا ومنزه است ازینکه زوال و انقطاع را در و مساغی باشد چه این مستلزم خزی و خذلان است که انبياء ورسل sym-9بالقطع محفوظ ومصون اندازد كما صرح به العلامة السيوطى وغير واحد من السلف وصاحب روح المعاني حيث قال فمعاذ الله ان يعزل رسول او نبي عن الرسالة او النبوة بل اكاد لا اتعقل ذلك وايضا ذكر)(ثم انه العليا حين ينزل باق على نبوته السابقة لم يعزل عنها بحال .... الخ )

پس مراد از مراد از نبوت ورسالت منقطعه او ست يعنى تبليغ ودعوت بحسب شرع عيسوى محدود است تا بظهور شرع محمدی نه اینکه عیسی علی نبينا الا بعد النزول از منصب مقام اختصاص كه لازم غير منفك است مر انبیاء را sym-9 معزول خواهد بود چه قول بانقطاع نبوت ورسالت بایں معنی کفر است و خلاف نصوص بینه و چونکه حصول این مقام حضرت عیسی القلا را پیش از سرور عالم بوده لهذا نزول او باوصف نبوت من حيث البطون منافي بآيت خاتم النبيين نخواهد بود مگر نبوت مزعومه کادیانی که بوجه حدوث بعد آنحضرت لا محاله بآیت مذکور منافی است. از اینجابر ناظرز کی بوضوح پیوسته باشد که ...

1۔حصول بطون نبوت عيسويه قبل از بعثت محمدیه ، .....

2۔ و بودن عيسى بعد النزول در رنگ احاد امت مرحومه هر دور را دخل است در دفع منافات مذکوره پس جواب خازن ومدارك وفتح البيان وابو السعود وصاحب روح البيان اتم واسلم است از آنچه قاضی بیضاوی درین مقام فرموده. الا ان يحمل كلامه على خلاف الظاهر

ونيز وجه تطبيق ميان قول بانسلاخ از وصف نبوت وقول بعدم انسلاخ از و كما صرح به العلامة السيوطي ويدل عليه حديث عائشة الصديقة رضى الله عنها لا تقولو الانبي بعده ( كما في در المنثور)

بظهور پیوست یعنی مراد از نبوت ورسالت منقطعه نبوت ورسالت تشریعیه است. آری نبوت ورسالت غير تشريعية برحال خود استفعیسی بعد النزول نبي ورسول برسالة غير تشريعية عامل بشرع محمد والحاصل ان اللازم غير قادح والقادح غير لازم كما قال الشيخ له في الباب الثالث والسبعين من الفتوحات فان النبوة التي انقطعت بوجود رسول الله ﷺ انما هي نبوة التشريع لا مقامها فلا شرع يكون ناسخا لشرعه ولا يزيد في شرعه حكما آخر.

وهذا معنى قوله ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبى اى لا نبي بعدى يكون على شرع يخالف شرعى بل اذا كان يكون تحت حكم شريعتي ولا رسول اى لا رسول بعدى الى احد من خلق الله بشرع يدعوهم اليه فهذا هو الذى انقطع وسد بابه لا مقام النبوة فانه لاخلاف ان عيسى العليلا نبي ورسول وانه لا خلاف انه ينزل في آخر الزمان حكما مقسطا عدلا بشر عنا لا بشرع آخر ولا بشرعه الذى تعبد الله به بنی اسرائیل من حيث ما نزل هو به بل ما ظهر من ذالك هو ما قرره شرع محمد ونبوة عيسى ثابتة له محققة فهذا لبى ورسول قد ظهر بعده وهو الصادق في قوله انه لا نبي بعده فعلمنا قطعا انه يريد نبوة التشريع خاصة انتهى موضع الحاجة وكما صرح به صاحب روح المعاني حيث قال ولعله اراد انه لا يبقى له وصف تبليغ الاحكام عن وحى كما كان له قبل الرفع ...... انتهى.

الحاصل نبوت ورسالت من حيث التشريع بعد آنحضرت ابلكه نبوت تشریعیه بر مشرع سابق بعد وجود مشرع لاحق منقطع گشته و همین مراد است از احادیث و از آنچه در شمس الهدایت(حاشیہ) ، اندراج یافته و بودن حدوث نبوت يا ثبوت او مدلول برائے صيغة نبي مبحثی است نفیس وانسب بمقام لكن خوف ملالت طبع جناب آبی است از تشریح او.

حاشیہ

ومحصله ان التقسيم في الاعتراض غير حاصر ونختار شقا ثالثاً وهو ان عيسى بعد النزول نبي ورسول يعمل بشرع محمد عليهما السلام لانقطاع النبوة والرسالة التشريعتين بعد خاتم النبيين١٢ منه.

حاشیہ ختم شد

اعتراض چهارم :

که بعنوان سوال ذکر فرموده اند یعنی از وجه استلزام بين الآيتين الشريفتين استفسار فرموده اند مكر ما غرض سائل از معنی کلمه توحید ابطال هر دو شق است یعنی اراده معنی وجوب و امکان ازاله هر دو صحیح نمیتواند شد. پس عدم وجود استلزام نیز از وجوه ابطال است منشاء این سوال و اعتراض جناب هم ذهول است از غرض سائل

الغرض هر چهار اعتراض جناب مشابه اند به اعتراضات امروهی و کادیانی که بر احادیث صحیحه وسلف صالحین نموده اند بغیر این که غرض قائل را فهمیده باشند گویا از قبیل قبل از مرگ واویلا هستند.

على جاها این طر از که تخمیناً از عرصه يك و نيم سال بر خود گرفته اندهر گز بر جامه درویشی نمی زیبد. طرز مشائخ عظام را باید وزید غور فرمایئند که حضرات تو سويه ومكهديه وحضرت صاحب میروی بلکه کل سجاده نشینان پنجاب و هندوستان بر کدام راه میروند و جناب کدام طریق گرفته اند. آیا مثل جناب علم و تقوى نه دارند یا لباس اظهار حق و ازهاق باطل بلائے قد شاں راست نمے آید. کلمات قدسیه حضرت تونسوی و فقرات نصحيه حضرت میروی و مخدومی امیر حمزه صاحب را خیال نه فرمودند پشاور وهزاره وميره شريف ومكهد شریف و علاقه کوه مری وگڑھی شریف وغيره مواضع هر جا که تشریف از زانی فرموده اند باظهار فضیلت وكمال علمى حريف مقابل و تجهیل و تغلیظ این نیاز مند شغلی داشته اند. مخدوما این بی هیچ را نه دعوی علم است نه کمال دیگر وَمَا أُبَرِى نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوْءِ تاکه از عنایت کذائیه جناب خطرناك باشد .

دستار نداریم غم هیچ نداریم

البته ورزش این وضع مر کسی را که بر جاده مشیخت باشد مضر است برائے خودش مع المعتقدین که مؤثر تر می آید در حق عوام و موجب تذبذب میباشد در اسلام

چه خوش بودے اگر جناب قبل از اشاعت مذکوره مراد احاديث واقوال مفسرين بغور فهمید ندی یا مثل دیگر علمائے کرام اغماض فرمودندی

تاکه این کرم فرمائی جناب موجب خوشنودی مخالفین نه بودی انیست آنچه نیاز مند در این مقامات مراد داشته و نوشته بهم

وما ابرء نفسي والانصاف على الناظرين من العلماء العظام والصوفية الكرام

الهی اگر ازیں بی هیچ که مستندی بغیر از فضل و کرم توندار وخطائے ونسیا نے سر زده باشد عفو فرما فانه لاحول ولا قوة الا باللہ

یک رباعی

من بے تودھے قرار نتوانم کرد
احسان ترا شمار نتوانم کرد
گر برتن من زبان شود هر بن موئے
يك شكر تو از هزار نتوانم کرد

الهی بحرمت آنانکه بکلی از خود رفته اند و بشهود جمال تو پیوسته این گرفتار پندار هستی را نجاتی به محض فضل وکرم خویش ارزانی فرما و از هر چه مانع یافت سعادت ذکر حقیقی است آزادی به بخشا.

بالنبي الهاشمى واله وعترته وروحى وروحی سیدی شمس العلا عليه وعليهم الصلوه والتسليمات ما لا تعدو ولا تحصى قلم اینجا رسید و سر در كشيد اللهم صل وسلم وبارك وادم على سيدنا محمد واله وعترته وصحبه ملاء علمك وزينة حلمك من اول الدنيا الى فنائها ومن اول الا اخرة الى بقائها واهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين آمين وآخر دعونا ان الحمد لله رب العالمين

اگر دعوتم رد کنی ور قبول
من و دست دامان آل رسول

العبد الفقير الملتجی الى الله الغنی بہ عما سواه

المدعو به مهر علی شاه

۶ محرم ۱۳۲۰۶، سجادہ نشین گڑھی از نشین گڑھی افغاناں ۱۹۰۲ء۔

مرزائیوں کی طرف سے دوسوال اور حضور قبلہ عالم کی طرف سے ان کے جواب:

پہلا سوال: پیر صاحب عیسائیوں کے اس قول کی تائید کرتے ہیں کہ سچ ۳۳ سال کی عمر میں آسمان پر چلے گئے ہیں ۔ مگر اپنے نانا صاحب سید الاولین والآخیران ﷺ کے اس قول کو کیوں نہیں مانتے جو مشرک اور طبرانی میں موجود ہے۔ واخبرني ان عیسیٰ بن مریم عاش عشرين ومائة ست

جواب: ناظرین علماء کرام سے اس میں نہایت ہی متعجب ہیں کہ اس کو بہ نسبت مدعی اہل اسلام کے جو عقیدہ اجماعیہ ہے۔ کیا خیال کیا جائے ۔ آیا مناقضہ ہے یا معارضہ یا منع ۔ رفع خواہ ۳۳ سال کے بعد ہو یا ۱۲۰ سال یا ۱۵۰ سال کے علی حسب اختلاف الروايات حیات مسیح الى الآن کو منافی نہیں۔ قطع نظر اس جہالت کے امام جلیل حافظ عماد الدین ابی کثیر نے ۳۳ سال کی روایت کو مطابق حدیث صحیح کے لکھا ہے اور (نا ہا ہے اور ( خازن اور ابن سعد اور احمد اور حاکم ) نے اس کو صحا بہ عظام کی طرف منسوب کیا ہے۔

فانه رفع وله ثلث وثلثون سنة في الصحيح وقد ورد ذالك في حديث فى صفة اهل الجنة انهم على صورت ادم وميلاد عيسى وثلث وثلثين سنة واما ما حكاه ابن عساكر عن بعضهم أنه رفع وله مائة وخمسون سنة فشاذ غريب بعيد (ابن کثیر ، ص :۲۴۵)

قال ابن عباس ارسل الله عيسى العلي وهو ابن ثلاثين سنة فمكث في رسالته ثلاثين شهراً ثم رفعه الله اليه ( تفسیر خازن ، صفحہ، (۵۰۴)

واخرج ابن سعد واحمد في الزهد والحاكم من سعيد بن المسيب قال رفع عيسى ابن ثلاث وثلثين سنة

سوال ۲: اگر مسیح زندہ آسمان پر بلا ایذا یہود چلا گیا تو وہ مسیح کا ہمشکل جو مصلوب ہوا تھا اس کی نعش کد ھر گئی ۔ اگر وہ مصلوب کوئی اور تھا تو حواریوں کو اس کے چرانے کی کیا ضرورت تھی؟

جواب : بحکم آنکه دروغ گوئی را حافظه نه باشد

پہلا الزام جو پیر صاحب پر لگایا تھا۔ یعنی اتباع قول عیسا ئیان جلدی خیال سے جاتا رہا۔ اب فرمائیے یہ قول کس کا ہے اور صریح قول اللہ تعالی کے مخالف ہے یا نہیں ۔ دیکھو وَإِذْ كَفَفْتَ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنْكَ إِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ یعنی اے سی منجملہ ہماری نعمتوں کے ایک یہ بھی نعمت ہے میرے پر کہ ہم نے بنی اسرائیل کو جب انہوں نے تیرے ایذا اور قتل کا ارادہ کیا روک دیا۔ اور تم کو ان کی ایڈا سے بچالیا۔ مسیح کا قبل الرفع ۳۳ سال کا ہونا یا ۱۲۰ یا ۱۵۰ کہیں قرآن میں مذکور نہیں ۔ ہم کو حواریوں سے کیا مطلب ۔

آپ ہی چونکہ ان کے تابع ہیں ان سے دریافت فرمالیں ۔ خیر تبرعا ہم ہی سمجھا دیتے ہیں ۔ جب حواریوں کو ابتداء میں صلیب چڑھانے کے وقت دھوکا لگا تو مطابق اس زعم اپنے کے نعش مصلوب کو بھی قبر سے چرایا ۔ یہ سوال آپ صلیب پر چڑھانے کے وقت کرتے تو اتنی لیاقت ظاہر نہ ہوتی ۔ مگر آپ نے پہلے ہی سر اشتہار پر صاف لکھ دیا ہے:

چو دربستہ باشد چہ داند کسے
کہ جوهر فروش است یا پیلہ ور

جو ہر فروش تو نہیں البتہ نیلوفر اور پنشہ فروشی آپ کی پنڈی سے ہرا ایک دیکھ رہا ہے ۔

تمت

Netsol OnlinePowered by