بسم الله الرحمن الرحيم
جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا
قادیانی گروہ کی ایک کتاب ( جس کا نام بمضمون برعکس” نہند نام زنگی کا فور“” انوار اللہ “رکھا گیا ہے اور وہ حال ہی میں بمطبع عزیز دکن واقع حیدر آباد دکن طبع ہو کر شائع ہوئی ہے ) دیکھی گئی ۔ افسوس کہ اس کے بے باک مؤلف نے عالی جناب مولانا المولوی الحاج الحافظ محمد انوار اللہ خان صاحب بہادر عم فیضہ استاد حضرت بندگا ان عالی متعالی کی نسبت بہت کچھ گستاخانہ کلمات لکھے ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ آفتاب پر خاک اڑانا گویا خود ہی کو خاک میں ملانا ہے۔
اس کتاب کے ضمیمہ میں مؤلف نے حضرت مولانا المولوى الحافظ الحاج الواعظ القاری سید شاه محمد عمر صاحب ادری کو مخاطب کر کے یہ بھی لکھا ہے کہ ( جس طرح اربعین میں آپ کو حضرت اقدس نے مباہلہ کے لئے بلایا ہے۔ کیا آپ نے اس کو منظور کر لیا ہے۔ بائیں شائیں ادھر ادھر کی گیوں میں اس بلا کو اپنے سر سے ٹالا ہوگا ۔ آپ نے خط رجسٹری میں کیا لکھا تھا۔ ذرہ چھپوائے اور سنا ہیئے ہم بھی تو سنیں ) اس عبارت کے دیکھنے سے بہت سخت تعجب ہوا۔ کیونکہ چند ہی سال ہوئے کہ قادیانیوں کی درخواست مطبوعہ ۲۷ جوان ۱۹۰۰ ء جو منجانب مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے، ایل ایل بی سکرٹری مجلس قادیان اور نیز ان کے شرکاء ڈیڑھ سو اشخاص کے نام سے شائع ہوئی تھی اور اس میں انہوں نے جمیع علماء و مشائخین ، ہندو دکن کو مخاطب کر کے ایک خاص امر ( ازالہ مرض ) کو تائید آسمانی قرار دے کر اس کے مقابلہ کے لئے بلایا تھا۔ اس کا کافی جواب منجانب اہل سنت حیدر آباد دكن صانها الله عن الشر والفتن تاريخ مورخہ ۱۳ اگست ۱۹۰۰ء مطابق ۱۶ ار ربیع الثانی ۱۳۱۸ھ دیا گیا اور بذریعہ رجسٹری انگریزی نمبر (۷۵۵) جس کی رسید ہمارے یہاں موجود ہے۔ سیکرٹری مذکور کی خدمت میں بھیجا گیا تھا اور اس میں خود ان کے پیشرو مرزاغلام احمد قادیانی کو مباہلہ مسنونہ کی دعوت دی گئی تھی اور اس کے آخر میں صاف طور پر یہ بھی لکھا گیا تھا کہ (اس کے جواب کا انتظار (حاشیہ )سلح جمادی الثانی ۱۳۱۸ ھ تک کیا جائے گا۔ در صورت سکوت آپ کا اور آپ کے پیشرو کا مقابلہ سے عاجز اور اپنے دعوے میں کا ذب ہونا مسلم ہوگا ) با وجود اس کے اس وقت تک جو پانچ سال کا زمانہ ہوتا ہے۔
حاشیہ
جیسا کہ انہوں نے بھی اپنی درخواست مذکور الصدر کے ص 7 میں جواب کے لئے ایک میعاد یعنی لغایت ۱۵ اگست ۱۹۰۰ لکھی تھی۔
حاشیہ ختم شد
مرزا قادیانی یا ان کے سیکرٹری مذکور الصدر کی جانب سے جھوٹے منہ بھی کچھ جواب نہ آنا، اور صدائے برنخواست کا پورا ظہور پانا، ایک ایسا امر ہے کہ اس نے ہم سب اہل سنت و جماعت کی جانب سے مرزا قادیانی اور ان کے اتباع پر پوری حجت قائم کر دی ہے۔ باایں ہمہ گروہ قادیانی کی یہ ہرزہ سرائی جو رسالہ مذکور یا اس کے ضمیمہ میں کی گئی ہے۔ محض لغو اور نا قابل التفات ہے۔ مگر چونکہ ان لوگوں نے ہمارے خط رجسٹر مذکور الصدر کے طبع کرانے کی خود خواہش کی ہے۔ اس لئے وہ اس کے ساتھ شائع اور ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔
قادیانیوں کو چاہئے کہ عبرت کے ساتھ آنکھ نیچی کریں اور اپنا گریبان جھانکیں۔ ورنہ وہی بات ہے جو کلام نبوت کا مفہوم ہے اور وہ کسی شاعر کے کلام میں یوں منظوم ہے۔
اذا لم تخش عاقبة الليالي ولم تستحى فاصنع ما تشاء فلا والله ما في العيش خير ولا الدنيا إذا ذهب الحياء
جب تو انجام کار سے نہ ڈرے اور نہ شرمائے سو جو چاہے کہ ۔ خدا کی قسم جب کہ حیاء نہ ہو تو پھر زندگی میں کوئی خوبی نہیں ہے۔
حضرات ناظرین! اس کو انصافانہ ملاحظہ فرمانے کے بعد ضرور نتیجہ پیدا کر سکتے ہیں کہ جنس گردہ کا متبوع جواب و مباہلہ سے عاجز رہا ہو، اس کے اتباع اگر کچھ لکھیں یا شائع کریں تو کب اس قابل ہیں کہ ان کا پھر کچھ جواب لکھا جائے یا اس طرف توجہ کی جائے ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ قادیانیوں کی تحریرات پر ہرگز توجہ نہ کریں، اور اپنے دین وایمان کی حفاظت فرمائیں۔ جس کے لئے یہی چاہئے کہ طریقہ مسنونہ کی پیروی سلف صالحین کی اقتداء سے اختیار کریں اور علماء اہل سنت کی صحبت اور انہی کے مؤلفہ و مصنفہ کتب سے فائدہ لیں۔ ان کے سوا دوسرے فرق محدثہ ضالہ کی صحبت سے پر ہیز رکھیں۔ قیامت کے پہلے ایسے اشخاص کا ظہور جو دین اسلام میں فساد بر پا کرنے والے اور نئی نئی باتیں کہنے والے ہوں گے۔ احادیث نبویہ ﷺ(حاشیہ )سے بخوبی ثابت اور وہ وہی لوگ ہیں جو نصوص قرآنیہ و حدیثیہ کی ایسی تاویلات کرتے ہیں جو مخالف اقوال علماء کرام اور ائمہ عظام ہیں ۔ اللهم اهدنا سواء الطريق واجعل لنا التوفيق خير رفيق امين بحرمة النبي الامين صلى الله تعالى عليه وعلى اله وصحبه اجمعين
خاکسار: سید عبد الجبار قادری کان اللہ لہ!
حاشیہ
جیسا کہ روایت کی امام بخاری نے عبداللہ بن مسعود سے کہ فرمایا حضور ﷺ نے ان مما ادرك الناس من كلام النبوة الأولى اذالم يستحي فاصنع ما شئت(بخاری) ، یعنی جو بات کہ لوگوں نے قدیم نبوت کے کلام سے حاصل کی ہے، ۔ وہ یہ ہے کہ جب تو شرم نہ رکھے سو جو چاہے کر۔
حاشیہ ختم شد
حامداً ومصليا ومسلما
الجواب
خدمت مولوی محمد علی صاحب ایم اے، ایل ایل بی سیکرٹری مجلس و جمله شر کا مجلس معتقد بن مسیح قادیانی
فردا کہ پیش گاه حقیقت شود پدید
شرمنده ره رویکہ عمل بر مجاز کرد
ہم نے آپ لوگوں کی درخواست مورخہ ۲۷ جون ۱۹۰۰ء دیکھی جو بوجوہ ذیل بالکل مخدوش اور غیر قابل الالتفات ہے۔
1۔ درخواست مذکور کے ص ٣ میں حق جوئی کے ذریعے تین مرتبوں یعنی ( خدا کی کتابیں، خداداد عقل، تائید آسمانی) میں جو منحصر کئے گئے ہیں۔ یہ انحصار غیر مسلم ہے۔ کیا وجہ ہے کہ احادیث نبویہ ﷺ اور اجماع امت جو منجملہ ارکان علوم دین ہیں۔ حق جوئی کے اصول سے علیحدہ سمجھ جائیں۔
2۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ خداداد عقل کس کا نام ہے اور وہ حق جوئی کا ذریعہ کسی طرح بن سکتی ہے۔ کیونکہ پہلے تو آپ نے اس کو احقاق حق کا ذریعہ ٹھہرایا اور پھر اپنے ثبوت دعوی کے لئے غیر ضروری سمجھا۔ دیکھو صفحہ (حاشیہ )درخواست (۵،۳)
حاشیہ
صفحہ ۳ میں یہ ہے۔ ( یہ امر کسی پر پوشیدہ نہیں ہے کہ سنت اللہ کے موافق حق جوئی کے تین ذریعے ہیں۔ خدا کی کتا بیں اور خداداد عقل اور خدا کی آسمانی تائیدیں) اور ص ۵ میں بعد ذکر طریق اول کے یوں لکھا ہے۔ ”پھر اس کے بعد دوسرا طریق احقاق حق اور ابطال باطل کا عقلی استدلال ہے۔ سو اس کے ذکر کی کچھ بھی ضرورت نہیں۔“
حاشیہ ختم شد
3۔ ذرائع ثلثہ سے آپ نے اپنے دعوے کے ثبوت میں صرف ایک ہی طریقہ ( تائید آسمانی) کو اختیار کیا ہے۔ جس کی وجہ ایسی بتائی گئی ہے کہ اول تو اس سے صریح مصادرة علی المطلوب لازم آتا ہے۔ بھلا جو لوگ کہ قادیانی صاحب کے مسیح ہونے کے ہی سرے سے منکر ہوں۔ ان کے روبرو آپ کا یہ کہنا کہ وہ مسیح حکم ہیں بالکل ہمون آش در کاسہ کا مضمون ہے۔ جس کو کوئی ادنی سمجھ والا بھی تسلیم نہیں کر سکتا اور پھر حکم کے ایسے معنے کئے گئے کہ قرآن وحدیث سے بالکل چھٹی مل گئی۔ کیونکہ آپ کے روبرو قرآن وحدیث کی جو دلیل پیش کی جائے اس کو لا محالہ آپ لوگ یا اپنے پیشرو کی بے اصل تاویل سے ماڈل ٹھہرائیں گے۔ یا حدیث موضوع قرار دیں گے۔ جیسا کہ درخواست کے ص ۴، ۵ (حاشیہ )سے ہویدا ہے۔ پس ص ۶ میں آپ کا یہ قول کہ نقلی طور پر آپ لوگ مغلوب ہو چکے ہیں ) محض لغو ہے۔
حاشیہ
ص ۴ میں یہ عبارت ہے۔ غرض ہم نے اپنے نور ایمان سے خوب سمجھ لیا ہے کہ نصوص قرآنیہ و حدیثیہ کے رو سے جس قدر ہمارے امام کا دوسرے علماء سے اختلاف ہے۔ اس اختلاف میں اول تو تمام قرآن اور کافی حصہ احادیث کا ہمارے امام کے ساتھ ہے۔ پھر اگر بعض احادیث جو دراصل قرآن کے مضمون سے بھی مخالف ہیں۔ کوئی اور باتیں بیان کرتے ہوں تو ان کی ہمیں بالکل پروانہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ اس حکم کا یہ حق ہے کہ اس علم کے ساتھ جو خدا سے اس نے پایا ہے ایسی حدیثوں کو رد کرے۔ اگر چہ وہ دس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ ہوں ۔“
اور صفحہ مذکور کے حاشیہ میں یہ نوٹ دی گئی ہے: ”ہمارے امام کو مہدی ہونے کا بھی دعوی ہے۔ جیسا کہ مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔ مگر ان کا یہ دعوی نہیں کہ میں فاطمی مہدی ہوں جو جہاد کرنے والا ہے۔ بلکہ وہ ان تمام حدیثوں کو مجروح اور موضوع سمجھتے ہیں۔ جو حکومت طلب لوگوں کے لئے عباسیوں کے عہد اور دوسر نے زمانوں میں بنائی گئیں ہاں ان کو اس عظیم الشان مہدی ہونے کا دعوی ہے جو مسیح موعود بھی ہے۔ ذرہ بھی ہمارے مسلمات میں دخل نہ دے۔ اور پھر یہ لکھا ہے کہ : سو نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے رو سے اب علماء مخالف کو ہاتھ ڈالنے کی جگہ نہیں ۔ اور پھر یہ لکھا: ” اب جس شخص کا حکم ہونے کا دعویٰ ہے اور خدا سے مؤید ہے اور مدلل جواب دینا ہے اس کے مقابل یہ رکیک عذر پیش کرنا کہ فلاں کو کیوں قبول نہیں کرتے۔ سخت درجہ کا حمق ہے۔“
حاشیہ ختم شد
4۔ آپ لوگوں کا تائید آسمانی کو صرف ایک ہی مصداق (ازالہ مرض) کے ساتھ خاص کرنا جیسا کہ صفحہ ۶ میں مرقوم ہے کہ (چند بیمار مصیبت زدہ باتفاق فریقین منتخب ہو کر بطور قرعہ اندازی ان کو اس طرح پر تقسیم کر لیں ، کہ نصف ان میں سے ہمارے امام الوقت کے حصے میں آئیں ، اور نصف ان میں سے آپ لوگوں کے حصے میں آئیں، اور اسی جلسہ میں فریقین دعا کریں کہ یا الہی ان دونوں گروہوں میں سے جو سچا گروہ ہے اس کی دعا کی قبولیت ظاہر فرما اور اس کو غالب کر۔ اس کے بعد اگر کسی فریق کے حصہ کے مصیبت زدہ جلد یا دیر سے سب کے سب ان مصیبتوں سے رہائی پا جائیں یا اکثر رہائی پائیں تو وہی فریق صادق سمجھا جائے گا ) اول تو یہ ایک بے دلیل بات ہے اور پھر علی فرض التسلیم جو صورت کہ خاص کی گئی ۔ ہے۔ وہ بقول آپ ہی کے پیشرو کے تائید آسمانی نہیں بن سکتی۔ بلکہ ایک مسمریزم کا عمل ہے۔ جس کو خود آپ کے پیشرو مکروہ و قابل نفرت سمجھتے ہیں۔ گو اس فعل کو حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب بھی کیا ہے۔ لیکن اپنے کو روحانی طریق پسند ہونے سے ایسے اعمال کا رد لکھا ہے۔
چنانچہ (ازالہ اوہام حاشیه ص ۳۰۵، ۲۰۷، خزائن ج۳ ص۳۵۶) میں مرقوم ہے۔
عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر جو بالکل بے جان ہے ڈال سکتی ہے۔ تب جماد سے وہ بعض حرکات صادر ہوتے ہیں۔ جو زندوں سے صادر ہوا کرتے ہیں۔ راقم رسالہ ہذا نے اس علم کے بعض مشق کرنے والوں کو دیکھا جو انہوں نے ایک لکڑی کی تپائی پر ہاتھ رکھ کر ایسا اپنی حیوانی روح سے اسے گرم کیا کہ اس نے چار پائیوں کی طرح حرکت کرنا شروع کر دیا اور کتنے آدمی گھوڑے کی طرح اس پر سوار ہوئے اور اس کی تیزی اور حرکت میں کچھ کمی نہ ہوئی۔ سویقینی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ایک شخص اس فن میں کامل مشق رکھنے والا مٹی کا ایک پرند بنا کر اس کو پرواز کرتا ہوا بھی دکھا دے تو کچھ بعید نہیں۔ کیونکہ کچھ اندازہ نہیں کیا گیا کہ اس فن کے کمال کی کہاں تک انتہاء ہے اور جب کہ ہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ اس فن کے ذریعے سے ایک جہاد میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ جانوروں کی طرح چلنے لگتا ہے۔ تو پھر اگر اس میں پرواز بھی ہو تو بعید کیا ہے۔“
اور (ازالہ اوہام ص ۳۰۷، خزائن ج ۳ ص ۲۵۷ حاشیہ) میں ہے:
” اس جگہ یہ بھی جاننا چاہئے که سلب امراض کرنا یا اپنی روح کی گرمی جہاد میں ڈال دینا در حقیقت یہ سب عمل الترب کی شاخیں ہیں۔ ہر ایک زمانے میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس روحانی عمل کے ذریعے سے سلب امراض کرتے رہے ہیں اور مفلوج ، مبروس، مدقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہے ہیں۔ جن لوگوں کی معلومات وسیع ہیں وہ میرے اس بیان پر شہادت دے سکتے ہیں که بعض فقراء نقشبندی و سہروردی وغیرہ نے بھی ان مشقوں کی طرف بہت توجہ کی تھی اور بعض ان میں یہاں تک مشاق گذرے ہیں کہ صدہا بیماروں کو اپنے یمین ویسار میں بٹھا کر صرف نظر سے اچھا کر دیتے تھے اور محی الدین بن عربی صاحب کو بھی اس میں خاص درجہ کی مشق تھی ۔ اولیاء اور اہل سلوک کی تو تاریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پر ہیز کرتے رہے ہیں۔ مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ایک ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان مشغلوں میں مبتلا ہو گئے تھے اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح بن مریم علیہا السلام باذن و حکم الہی السیع نبی علیہ السلام کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔ گوالیع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ۳۰۹ ، خزائن ج۳ ص ۲۵۷) میں ہے:
” مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم علیہا السلام سے کم نہ رہتا ہے۔(حاشیہ )
حاشیہ
ناظرین ان اقوال سے بدیہہ معلوم کر سکتے ہیں کہ کس قدر بیبا کا نہ اور حضرت عیسی علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر کی شان میں گستاخانہ کلمات ہیں جو عد کفر تک پہنچاتے ہیں ۔ نعوذ بالله من هذه الشقاوة
حاشیہ ختم شد
ازالہ اوہام ص ۳۱۰، خزائن ج۳ ص ۲۵۸) میں ہے:
” واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نهایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنے دلی و دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے وہ اپنے ان روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں۔ بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔“
ازالہ اوہام ص۳۲۲، خزائن ج ۳ ص ۲۶۳) میں ہے:
” غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ (حاشیہ )خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا ۔
حاشیہ
یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس معجزہ کا انکار ہے جو بنص قرآنی ثابت اور علماء اسلام کا مسلم امر ہے۔
حاشیہ ختم شد
غرض یہ کہ ازالہ مرض جب کہ خود تمہارے پیشرو کے قول سے لائق اعتبار نہ رہا۔ بلکہ ایک مسمریز می عمل قرار پایا۔ جس کے عامل صدہا اس زمانہ میں بھی موجود ہیں اور جس میں اس قدر اثر ہے کہ جمادات تک بھی متحرک ہوتے ہیں تو پھر کس طرح تائید آسمانی قرار پا سکتا، اور تمہارے ثبوت مدعی کا مدار بن سکتا۔ سخت حیرت کا مقام ہے کہ جس چیز سے آپ کے پیشرو متنفر ہوں اس کو آپ لوگ تائید آسمانی قرار دیویں۔ مزید براں اس مقابلہ تائید آسمانی میں آپ نے شرط اول یعنی ص کی یہ عبارت ( رہائی پانے والا کا نام بذریعہ الہام پہلے سے ظاہر کیا جائے ) جو لگائی ہے وہ بھی آپ کے پیشرو کے قول سے لائق اعتبار نہیں ہے۔
دیکھو (ازالہ اوہام ص ۲۱۲،۲۱۱، خزائن ج۳ ص ۲۰۴، ۲۰۵) جس کی یہ عبارت ہے۔
اس جگہ پیغمبر خدا کے بیان سے بخوبی ثابت ہو گیا جو وحی کشف یا خواب کے ذریعہ سے کسی نبی کو ہو دے۔ اس کی تعبیر کرنے میں غلطی بھی ہو سکتی ہے۔}}اور یہ عبارت :
”اس حدیث میں بھی آنحضرت ﷺ نے صاف طور پر فرمادیا کہ کشفی امور کی تعبیر میں انبیاء سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔“
اور (ازالہ اوہام ص ۶۳ ، خزائن ج ۳ ص ۱۳۳ ۱۳۴) میں ہے:
” اور حقیقت مقصورہ سے بے نصیب رہنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جو یہ چاہتے ہیں کہ حرف حرف پیش گوئی کا ظاہری طور پر جیسا کہ سمجھا گیا ہو پورا ہو جائے۔ حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہوتا ۔
اور (ازالہ اوہام ص ۱۹، خزائن ج ۲ ص ۱۳۶ ) میں ہے:
”جس قدر دنیا میں ایسے نبی یا ایسے رسول آئے۔ جن کی نسبت پہلی کتابوں میں پیش گوئیاں موجود تھیں ان کے سخت منکر اور اشد دشمن وہی لوگ ہوئے ہیں کہ جو پیش گوئیوں کے الفاظ کو ان کی ظاہری صورت پر دیکھنا چاہتے تھے۔“
اور (ازالہ اوہام ص ۲۳، خزائن ج۳ ص ۱۳۴ حاشیہ ) میں لکھا ہے۔ جس کا ملخص یہ ہے :
” اب یہ جانا چاہئے کہ دمشق کا لفظ جو مسلم کی حدیث میں وارد ہے۔ یعنی صحیح مسلم میں یہ جو لکھا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے منارہ سفید مشرقی کے پاس اتریں گے ۔“
ازالہ اوہام ص ۶۵ ، خزائن ج۳ ص ۱۳۵ حاشیه )
پس واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا ہے۔ جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں۔ جن کے دلوں میں اللہ ورسول کی کچھ محبت نہیں اور احکام الہی کی کچھ عظمت نہیں۔ جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور اپنے نفس امارہ کے حکموں کے ایسے مطیع ہیں کہ مقدسوں اور پاکوں کا خون بھی ان کی نظر میں سہل اور آسان امر ہے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور خدا تعالیٰ کا موجود ہونا ان کی نگاہ میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ جو انہیں سمجھ میں نہیں آتا۔ الی ان قال !
(ازالہ اوہام ص اے، خزائن ج ۳ ص ۱۲۸)
اب پہلے ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرمادیا ہے کہ یہ قصبہ قادیان ہے۔ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے اور وہ اس بات کا شاہد حال ہے کہ اس نے قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے ۔“
(ازالہ اوہام ص ۷۳ ، خزائن ج۳ ص ۱۳۸)
یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے کہ انا انزلناه قريباً من القاديان وبالحق انزلناه وبالحق نزل وكان وعد الله مفعولا یعنی ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اتارا اور سچائی کے ساتھ اترا اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہوتا تھا۔
ازالہ اوہام ص ۷۵، خزائن ج ۳ ص ۱۳۹)
گویا یہ فقرہ اللہ جل شانہ نے الہام کے طور پر اس عاجز کے دل پر القا کیا ہے کہ انا انزلنا قريباً من القادیان اس کی تفسیر یہ ہے کہ انا انزلناه قريباً من دمشق بطرف شرقي عند المنارة البيضاء کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے مشرقی کنارہ پر ہے۔ منارہ کے پاس۔“
اور (ازالہ ص ۷۶، خزائن ج۳ ص ۱۴۰ حاشیہ) میں ہے:
پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا۔ میری عبادت گاہ میں ان کے چولہے ہیں۔ میری پرستش کی جگہ میں ان کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں۔ ٹھوٹھیاں وہ چھوٹی پیالیاں ہیں۔ جن کو ہندوستان میں سکوریان کہتے ہیں۔ عبادت گاہ سے مراد اس الہام میں زمانہ حال کے اکثر مولویوں کے دل ہیں جو دنیا سے بھرے ہوئے ہیں ۔
الغرض جب کہ بقول تمہارے پیشرو کے خود انبیاء علیہم السلام کے پیش گوئیاں لائق تاویل ٹھہریں۔ چنانچہ دمشق قادیان قرار پایا وغیرہ وغیرہ اور ان پیش گوئیوں میں غلطی بھی ممکن ہوئی ۔ بالخصوص خود تمہارے پیشرو کے الہامات تاویلات سے پر ہیں۔ جن میں سے مشتے نمونہ ہم نے تھوڑے سے الہامات او پر نقل کئے تو پھر الہام یا اخبار بالغیب کا کیونکر اعتبار کیا جائے اور ایسی بے اعتبار چیز پر کسی طرح اتنے بڑے دعوے کا ثبوت موقوف رکھا جائے اور بصورت تسلیم بر وقت مقابلہ ہر شخص اپنے الہام سے رہائی پانے والے مریضوں کی تعیین نام بنام جو کرے گا تو بقول تمہارے پیشرو کے اس میں تاویل کو گنجائش رہے گی۔ پس ممکن ہے کہ بعد اچھے ہونے مریضوں کے اگر کچھ اس تعیین میں غلطی ظاہر ہو تو وہ شخص تاویل سے اس کی توفیق و تطبیق کر دے۔ جس میں بڑی وسعت ہے۔ مثلاً رہائی پانے والے مریض کا نام جو بذریعہ الہام عبد الحکیم بتلایا جائے اور بجائے اس کے عبد الحلیم اچھا ہو۔ یا یہ کہ غلام احمد بتلایا جائے اور وہ ہلاک ہو کر بجائے اس کے غلام محمد اچھا ہو دے تو اس میں حسب قاعدہ آپ کے پیشرو کے تاویل کو بڑی گنجائش یعنی بلحاظ ترکیب اضافی وغیرہ تطبیق کا عمدہ موقع ہے۔ بخلاف دمشق و قادیان وغیرہ وغیرہ کے کہ بالکل مناسبت معدوم ہے۔
طرفہ یہ کہ (ازالہ اوہام ص سے ، خزائن ج ۳ ص ۱۰۶) میں آپ کے پیشرو یہ کہتے ہیں ۔
اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح علیہ السلام کی پیش گوئیاں غلط نکلیں ۔ اس قدر صحیح نکل نہ سکیں ۔پس ضرور ہوا کہ مثیل مسیح کی پیش گوئیاں بھی اکثر غلط نکلیں کہ مماثلت اس کے مقتضی ہے۔}}
5۔درخواست کے صلے کے حاشیہ میں اس مقابلہ تائید آسمانی کے لئے آپ لوگوں کا یہ قید لگانا کہ: ” سب ملک کر مقابلہ کریں ۔ متفرق طور پر ہر ایک سے مقابلہ نہیں ہوگا۔“
اور ص ۸ میں یہ شرط لگانا کہ:
” اور آپ لوگوں کی طرف سے میاں نذیر حسین دہلوی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اور دوسرے وہ تمام نامی علماء بھی حاضر ہوں جنہوں نے فتوی تکفیر پر مہریں لگا ئیں یا اب مکفر یا مکذب ہیں ۔
اس سے آپ کے پیشرو کے اس اشتہار کی تکذیب ہوئی جاتی ہے۔ جس کو انہوں نے (ازالہ اوہام حصہ اول ص ۱، خزائن ج۳ ص ۱۰۲) کے ساتھ چسپاں کیا ہے۔ جس عبارت یہ ہے :
” اگر آپ لوگ مل جل کر یا ایک ایک آپ میں سے ان آسمانی نشانیوں میں میرا مقابلہ کرنا چاہیں جو اولیاء الرحمن کے لازم حال ہوا کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ تمہیں شرمندہ کرے گا اور تمہارے پردوں کو پھاڑ دے گا۔
اب نہ معلوم کہ آپ کا کلام سچا ہے یا آپ کے پیشرو کا۔ کیا عجب ہے کہ جس طرحآپ کے پیشرو قرآن وحدیث کے نصوص کو تغیر و تبدل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ لوگ جو ان کے اتباع ہیں خود ان کے اقوال کو رد و بدل کر سکتے ہوں۔ پھر تو بحث کی ضرورت ہی کیا ہے کہ ہر چیز کے محو و اثبات پر اپنا ہی قبضہ ہے۔ معاذ اللہ منہا!
علاوہ یہ کہ یہ قیود صاف کہہ رہی ہیں کہ آپ لوگوں کو حقیقت ظاہر کرنا منظور نہیں ہے۔ کیونکہ آپ جیسے چند صاحبوں کے سوا جتنے ہیں وہ سب مکذب ہیں۔ پھر اتنے لوگوں کی ایک جائے فراہمی خصوص مختلف المذاہب فرقے مثلاً مقلد و غیر مقلد و غیر ہم کا اتفاق محض دشوار ہے۔ داعی خیر و طالب حق کے لئے تو ان قیود کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہر شخص کی تسکین کر دینا گو منفرد ہی آوے۔ اس کے ذمہ واجب ولازم ہے۔
آپ نے جس صورت کو تائید آسمانی قرار دیا تھا۔ وہ تو بشر و طہا خود آپ کے پیشرو کے اقوال سے غیر معتبر نکلی و غلط ٹھہری۔ جس پر آپ کی درخواست بلکہ دعوی کی ترکی تمام ہوگئی۔ کیونکہ آپ نے ثبوت دعوی میں صرف تائید آسمانی ہی کو اپنا مدار بنایا تھا اور اس کے لئے ایک صورت خاص پیش کی تھی ۔ ” فجاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا “ اب لے ! ہماری بھی سنتے اور اظہار حق کے لئے اگر تائید آسمانی اور یہ کہ خدا کس کے ساتھ ہے، اور اس کا مقدس ہاتھ کس کے سر پر ہے۔ دیکھنا منظور ہو تو طریق ماثور کو اختیار کیجئے۔ یعنی وہ امر آسمانی جس کے لئے ہمارے نبی پاک صاحب لولاک روحی فدام بمقابلہ منکرین دین حق مامور تھے۔ یعنی مباہلہ جو بھوائے آیہ کريم : ” فمن حاجك فيه من بعد ما جاءك من العلم فقل تعالوا ندع ابناء نا وابناء كم ونساء نا ونساء كم وانفسنا وانفسكم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله على الكاذبين“ پھر جو کوئی جھگڑے تم سے اس بات میں بعد اس کے کہ پہنچ چکا تم کو علم تو کہو آو بلا دیں ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جان اور تمہاری جان پھر دعا کریں اور اللہ کی لعنت ڈالیں جھوٹوں پر۔
قرآن پاک سے مستفاد ہے۔ اس کو تائید آسمانی قرار دینا اور اپنے نبی پاک کی اتباع کرنا چاہئے۔ تا کہ احقاق حق اور ابطال باطل بطریق کامل ہو جائے اور جو عقویت آجلہ کہ فریق باطل کے لئے مقرر ہے۔ عاجلا اسی دارد نیا میں اس کو پہنچ جائے ۔ ہم یقینا خداوند کریم جل شانہ کو . گواہ رکھ کے آپ کے پیشرو کو مخاطب کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ ادھر ہمارے بعض حضرات مد فیوضہم اس مباہلہ کے لئے اس بلده حیدر آباد میں آمادہ ہیں۔ پھر کیا دیر ہے۔ بسم اللہ مرد میدان بنئے اور مبالہ کے لئے آئے اور خدا پاک جلت عظمته سے رفع اختلاف چاہئیے۔ مگر ضرور ہے کہ جب تک کسی فریق کو غلبہ نہ ہوئے اور دوسر ا ہلاک نہ ہو دے۔ تب تک دونوں فریق کے سر گروہ اس ایک جائے پر رہیں اور اپنی اپنی دعاؤں اور روحی اثروں سے ایک دوسرے پر اثر ڈالیں اور چاہئے کہ دعا کی قبولیت اور روحی اثر کے پورا ہونے کے لئے دونوں جانب کے پیشوا ترک غذا کریں۔ تا کہ فیصلہ کو دیر نہ ہو اور چھوٹے بچے کا بہت جلد ظہور ہو۔ آپ کے پیشرو کو تو مثیل خاتم النبین میں ہے جن کی شان انی ابیت عند ربي يطعمني ويسقيني ضرور میں اپنے پروردگار کے پاس رات رہتا ہوں کہ وہ مجھ کو کھلاتا اور پلاتا ہے ) کہی ہونے کا دعوی ہے۔ معاذ الله منها!
لیکن ہمارے حضرات کو تو غلامی کی نسبت ہے۔ پھر دیکھیں کہ غذا روحی ونوری سے کون اپنے جسم کی پرورش کرتا ہے اور کون پسپا ہو جاتا ہے۔ یہ ہے امر ربانی، یہ ہے تائید آسمانی کہ پھر چون و چرا کا موقع ہی باقی نہ رہے ۔ ” اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه امين والسلام على من اتبع الدين وصلى الله تعالى على سيدنا محمد واله وصحبه اجعمین “اس کے جواب کا انتظار مسلح جہادی الثانی ۱۳۱۸ ھ تک کیا جائے گا۔ ور صورت سکوت آپ کا اور آپ کے پیشرو کا مقابلہ سے عاجز اور اپنے دعوے میں کا ذب ہونا مسلم ہوگا۔
الراقم
سید عبد الجبار قادری معتمد مجلس اهل سنت و جماعت حیدر آباد دکن ساکن محله قاضی پوره قریب ڈیوڑ ہی عبداللہ بن علی جمعدار مرحوم بمکان جناب مولانا و مرشد نا مولوی حافظ حاجی واعظ قاری سید شاہ محمد عمر صاحب قادری مدفیضہ
شرکاء مجلس کے اسماء گرامی جن کی طرف سے میں معتمد ہوں مفصلاً بروقت طبع درج ہوں گے۔
مرقوم ۶ ار ربیع الثانی ۱۳۱۸ھ مطابق ۱۳ راگست ۱۹۰۰ ء روز دوشنبہ
دستخط : سید عبد الجبار قادری



