یہ تحریر مرزائی نبوت کے ابتدائی زمانہ کے ایک رسالہ (جو انجمن ہمدردان اسلام کی طرف سے بطور سوال چھپا تھا۔ جس کا جواب مرزائی صاحبان ابھی تک نہیں دے سکے) سے نقل کی گئی ہے۔ (مؤلف)
ناظرین! ایک مضمون وعدہ کا مہدی و مسیح آگیا آگیا آگیا کئی بار آ گیا کل میری نظر سے گزرا جس میں مرزائیوں کی طرف سے قاضی فضل کریم مرزائی ساکن لنڈا بازار لاہور نے حق تبلیغ ادا کیا ہے۔ ہم بھی مانتے ہیں کہ آ گیا اور بیشک آ گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا لایا اور کسی واسطے آیا؟ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے فرمانے کے مطابق آیا؟ اگر ان سوالات کا جواب تسلی بخش اور قرآن و حدیث سے ہے تو بیشک کسی مسلمان کو جو محمد رسول اللہ ﷺ کو مخبر صادق یقین کرتا ہے جائے انکار نہیں اور اگر ان سوالات کا جواب یہ ہو کہ شرک لایا ۔ الحاد لایا۔ نیچریت لایا ۔ تفسیر بالرائے لایا۔ تو پھر مسلمان جو قرآن اور رسول پاک ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں؟ کس طرح مان سکتے ہیں؟ کیونکہ مدعی سچا بھی ہوتا ہے اور چھوٹا بھی اور خاص کر ایسی حالت میں جبکہ اس مخبر صادق نے یہ بھی خبر دی ہو کہ میری اُمت میں سے تھیں کا ذب بھی آئیں گے۔ چنانچہ ۲۹ پہلے آچکے اور صرف ایک باقی تھا۔ چنانچہ حضرت ثوبان سے روایت کی ہے۔
قال رسول الله له وانه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى و انا خاتم النبيين لا نبى بعدى ولا تزال طائفة من امتى على الحق الخ.1ترجمہ: تحقیق ہوں گے میری امت سے جھوٹے تھیں۔ وہ سب گمان کریں گے کہ نبی خدا کے ہیں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ نہیں نبی پیچھے میرے اور ہمیشہ ایک جماعت میری امت سے ثابت رہے گی حق پر ۔ الخ۔}}حدیث بھی چلی جاتی ہے جو مشکوۃ میں بھی ہے۔ جس کا جی چاہے دیکھ لے۔
اب اس صورت میں کیا مسلمانوں کا فرض نہیں ہے کہ اپنے پیغمبر ﷺ کے فرمودہ کے مطابق سچ اور جھوٹ میں اپنی عقل خداداد سے تمیز کریں۔ بیشک فرض ہے اور ہر سچے مسلمان کا فرض ہے کہ کاذب مدعی کے پنجے میں نہ پڑے۔ اب سوال یہ ہے کہ صادق اور کاذب میں فرق کرنے والی کیا چیز ہے۔ جس سے عوام کو معلوم ہو جائے کہ یہ مدعی سچا ہے اور یہ مدعی جھوٹا ہے؟ وہ تعلیم مدعی ہے۔ جس مدعی کی تعلیم قرآن شریف اور شریعت محمدی ﷺ کے برخلاف ہو۔ وہ یقینا جھوٹا ہے۔ مسیلمہ کذاب کیوں جھوٹا سمجھا گیا؟ اس واسطے کہ اس نے زکوۃ دینا موقوف کرنا چاہا جو کہ مریخ نص قرآنی کے بر خلاف تھا۔ اور وہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں مقتول ہوا۔ یہ مرزائیوں کا خیال غلط ہے کہ چونکہ وہ مارا گیا تھا۔ اس واسطے وہ جھوٹا تھا کیونکہ جو کاذب جنگ میں نہ جائے بلکہ گھر سے بھی باہر نہ نکلے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔ وہ کس طرح مارا جا سکتا ہے؟
پس قرآن معیار ہے اور وہ چیز جو دیکھتی ہے۔ وہ مدعی نبوت کی تعلیم ہے۔ ہم سب کچھ ماننے کو تیار ہیں۔ بلکہ اگر وہ کوئی اور دعوی بھی ہم سے منوانا چاہیں تو ہم مانتے۔ کو تیار ہیں۔ مگر صرف پوچھتے ہیں کہ مرزا قادیانی ہم کو سکھاتے کیا ہیں؟ اگر وہ قرآن کے مطابق ہے۔ تو مرزا قادیانی بچے ہیں۔ ورنہ خیر ۔ اب سنو! مرزا قادیانی ہم کو کیا سکھاتے ہیں؟
(1) مرزا قادیانی فرماتے ہیں:
” سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب و تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ اس کے خلق پر میں قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا۔ انا زينا السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں“2ناظرین! کل دنیا کے مسلمان کیا شرق و غرب کیا شمال و جنوب کے رہنے والے کسی کا بھی یہ اعتقاد ہو سکتا ہے کہ نا چیز انسان ارض و سماء اور انسان کا خالق ہو سکے؟ ہوتا تو بجائے خود ممکن ہی نہیں کیونکہ قرآن مجید میں تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ تَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (النحل3)إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْض ان تزولا(فاطر 41)اللهُ الَّذِي رفع السموات بغير عمداً ترونها (الرعد2) بنينا فوقكم سبعًا شَدَادًا (نبا12) يَتَفَكَّرُونَ في خلق السموات والأرض ربنا ما خلقت هذا باطلا(آل عمران 191)
ناظرین! تمام قرآن انھیں آیات . سے پر ہے بلکہ خدا تعالٰی نے اپنی ہستی کی دلیل یہی دی ہے کہ میں خالق السموات والارض ہوں اور میرے سوا کوئی خالق اور مالک نہیں ۔ مگر اب مرزا قادیانی نے اپنی زمین اور آسمان اور انسان بنا کر شک میں ڈال دیا کہ ان کے بنانے والے دو ہیں۔ اب خدا کو سچا سمجھیں یا مرزا قادیانی کو؟ خدا تو فرماتے ہیں۔ میں نے آسمان زمین اور انسان وغیرہ کائنات بنائی اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں نے بتائی۔ اب مرزائی صاحبان فرمائیں کہ مرزا قادیانی کا یہ فرمانا محمد رسول اللہ ﷺ کے فرمانے کے مطابق ہے؟
ہم کو اکثر مرزائی صاحبان جواب دیتے ہیں کہ یہ مرزا قادیانی کا کشف ہے۔ ہم اس جواب کو کافی نہیں سمجھتے کیا کسی بزرگ یا امام کا کشف خلاف قرآن ہو تو مانا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر یہ جواب کہ یہ مرزا قادیانی کا کشف ہے درست نہیں۔ اگر مرزا قادیانی کا ایسا کوئی دوسرا کلمہ کفر پیش کریں گے تو یہ حضرت صاحب کا الہام ہے۔ اس طرح کہو گے کہ یہ حضرت صاحب کا خواب ہے اور یہ ان کا شعر ہے، تو پھر امام کے کلام اور مجذوب کی بڑ میں کیا فرق ہوا؟ دوم مرزائی صاحبان اس کشف کو جائز نہیں سمجھتے تو کبھی کسی نے اشتہار دیا ہے؟ کہ یہ کشف قابل اعتبار نہیں اور اس کو غلط سمجھتے ہیں؟
کیا مرزا قادیانی کو اختیار ہے کہ بذریعہ کشف اپنا خالق ہونا مسلمانوں کو منوا کر مشرک بنا کر وارث جہنم قرار دیں اور کیا ایسے کشف والے کو امام مانا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کشف کے معنی کھولنا ہے یہ خوب کھولا ہے کہ صاف اور سیدھا اعتقاد جو مسلمانوں کا کہ سوائے خدا کے آسمانوں زمینوں اور آدمیوں کا خالق اور کوئی۔ مرزا قادیانی نے خوب حل کیا اور بذریعہ کشف خدا سے دریافت کر کے مریدوں کو اطلاع دی۔ اب تک تمام اور محمد مصطفے ﷺ معاذ اللہ غلطی پر تھے کہ صرف اکیلے خدا کو خالق مانتے گئے؟
(دوم) اگر یہ فرمائیں کہ صوفیائے کرام نے بھی ایسے ایسے خلاف شرع الفاظ منہ سے نکالے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ حالت سکر میں اپنی ہستی سے غافل ہو کر کہہ گئے ہیں۔
مرزا قادیانی بر خلاف قاعدہ صوفیائے کرام انانیت کے مقام میں ہو کر فرماتے ہیں کہ میں نے منشاء حق کے مطابق جس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا انبیاء اور محمد وجود الگ تھا۔ جس کو وہ میں سے پکارتے ہیں اور خدا کا وجود الگ دیکھ رہے تھے جس کو وہ حق فرماتے ہیں۔ یعنی ”میں نے منشاء حق کے مطابق “ تو صاف ظاہر ہے کہ حق میں اور اپنے آپ میں فرق جانتے تھے اور یہ مقام انانیت کا ہے پس اس مقام پر ایسا کلمہ موجب کفر و شرک ہے۔
(سوم) نبی اور امام وقت ہونے کے مدعی کی شان سے بعید ہے کہ وہ بحیثیت امام و مسند نشین شریعت محمدی ﷺ ہو کر ایسے کلمات خلاف شرع منہ سے نکال کر باعث ضلالت ہو۔
(۲) ”مسیح اور اس عاجز (یعنی مرزا قادیانی) کا مقام ایسا ہے کہ جس کو استعارہ - ا کے طور پر اہلیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ محبت الہی کی چمکنے والی آگ سے ایک تیسری چیز پیدا ہوتی ہے۔ جس کا نام روح القدس ہے۔ اس کا نام پاک تثلیث ہے اس لیے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لیے بطور ابن اللہ کے ہے۔“3
ناظرین! پاک تثلیث مرزا قادیانی کی سن لی۔ یہ وہ صاحب ہیں جو پکار پکار کر فرما رہے ہیں کہ میں صلیب توڑنے آیا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ لکڑی کی صلیب نہیں بلکہ صلیبی تعلیم کو موقوف کرانے آیا ہوں۔ مگر یہ تو نعوذ باللہ صلیب کا معجزہ ہے کہ اس نے مرزا قادیانی کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور مہ مرزا قادیانی خوا خوری مٹانے کے لیے آپ تشریف لائے تھے۔ ناظرین! غور قائل ہو گئے جس کی تعلیم مٹانے فرمائیں۔قل هو الله احد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احدا پر ایمان رکھنے والے لوگ ایسی تعلیم کو کچی تعلیم سمجھ سکتے ہیں؟
جناب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تمام انبیاء علاقی بھائی ہیں یعنی تمام انبیاء توحید الہی کے پھیلانے کے واسطے مبعوث ہوئے ہیں اور سب کا مقصود ایک ہی ہے۔ یعنی توحید۔ اب ہم مرزا قادیانی کے مریدوں سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا امام وقت مسیح و مہدی نے ایسی شرک بھری تعلیم کے واسطے آنا تھا؟ اکثر مرزائی صاحبان کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تمام کتابیں از اول تا آخر دیکھنا چاہیے۔ جس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان ایک ہی کلمہ کفر سے کافر ہو جاتا ہے اور ایک ہی فعل سے جو قابل گرفت و اعتراض ہو موجب سزائے ہلاکت ہے۔ اگر کوئی شخص چوری کرے یا کسی بڑے آدمی کو گالی دے اور جب پکڑا جائے تو کہے کہ میری سابقہ عمر کے افعال دیکھئے۔ میں نے کبھی چوری نہیں کی۔ اس لیے چوری جائز ہے۔ یا میں نے پہلے . کبھی اس شخص کو گالی نہیں دی۔ اب گالی دینا جائز ہے کیا یہ درست ہے ہرگز نہیں۔ پس ایک ہی کلمہ ہے جو انسان کو کافر بنا دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص خدا کو یا نبی کو گالی دے اور چار پانچ صفحے تعریف کر دے تو اس گالی کے جرم سے بری ہو سکتا؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔
(۳) حول ذات باری تعالی انسانی قالب میں تعلیم فرماتے ہیں۔ ” جب کوئی شخص زمانہ میں اعتدال روحانی حاصل کر لیتا ہے تو خدا کی روح اس کے اندر آباد ہوتی ہے۔“ (نعوذ باللہ )4
ناظرین! اس کے جواب کی کچھ ضرورت نہیں کیونکہ خالق مخلوق کے اندر آ نہیں سکتا۔ اس پر تمام علما و صلحائے امت کا اتفاق ہے کہ واجب الوجود ممکن الوجود میں کما نہیں سکتا۔
(۴) ”پس جب جبرائیلی نور خدا تعالیٰ کی کشش اور تحریک نفخہ نورانیہ سے جنبش میں آ جاتا ہے تو معنا اس (اللہ تعالی) کی عکسی تصویر جس کو روح القدس کے ہی نام سے موسوم کرنا چاہیے۔ محبت صادق کے دل میں نقش ہو جاتی ہے۔“5
ہم مرزائی صاحبان کی دعوت قبول کرنے کو تیار ہیں۔ مگر وہ خدا کے واسطے شاعرانه عبارت آرائی اور مبالغہ سے کام نہ لیں اور صاف صاف اپنے عقائد کے موافق جواب دیں کہ مرزا قادیانی کے مرید ایسے ایسے ذات باری کی نسبت رکھتے ہیں تو پھر مسلمان اور عیسائی اور مشرک میں کیا فرق ہے؟ جو اب صاف اور بلا مبالغہ الفاظ میں ہونا چاہیے تا کہ عام مسلمانوں کو موازنہ کرنے کا موقعہ ملے۔ طول طویل عبارت میں مطلب فوت ہو جاتا ہے اور دین کے مسائل کی تحقیق میں عبارات مبالغہ آمیز نہیں ہونی چاہئیں۔ نہایت افسوس سے لکھا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں میں کلام کا جو عیب تھا۔ یعنی طول بیانی اس کو ہنر سمجھ رکھا ہے اور ذرہ کی بات کا بتنگڑ بنا کر دکھانا چاہتے ہیں۔
کوئی عبارت وہ بتائیں جو ما قل ودل پر بھی صادق آئے ۔ ہرگز نہیں۔ ہم دعوئی سے کہتے ہیں کہ بہت سا حصہ اس کا فضول و بے مطلب ہوتا ہے اور اصل مضمون صرف تھوڑا جس سے صرف ان کا مقصود مطلب کو گم کرنا ہوتا ہے اور طول بیانی سے وہ اپنا غلبہ چاہتے ہیں اور راہ تحقیق سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔ جس شخص کو ہمارے مذکورہ بالا بیان کا شک ہو۔ وہ قاضی اکمل قادیانی کی ہی تحریر ملاحظہ فرمائیں۔ میرے پاس نقل کی اتنی گنجائش نہیں ۔ البتہ اختصار بغرض جواب لیا جائے گا۔
قولہ :” خود مرزا قادیانی اسی طرح آ گیا جس طرح حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک تمام نبی و رسول
تشریف لائے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضرت آدم سے حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ تک نبی تشرعی و غیر تشریعی مبعوث ہو کر آتے رہے آ گیا ہے۔ یعنی مرزا قادیانی اور ان میں کوئی فرق نہیں۔“
ناظرین یہ بالکل غلط اور دھوکا ہے۔ قاضی اکمل قادیانی کو خود اپنے گھر کی خبر نہیں۔ مرزا تو خود کہتا ہے۔
ع من هیستم رسول و نیاورده ام کتاب6
مرزا قادیانی خود کہتا ہے کہ میں بنسبت متابعت محمد رسول اللہ ﷺ کے ظلی ناقص نبی ہوں کیونکہ نبوت کا دروازہ بالکل مسدود نہیں ہوا۔ جس سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کوئی کتاب نہیں لائے تو صاف ظاہر ہوا کہ آدم سے محمد ﷺ تک کے مرسلوں کی طرح نہیں آئے ۔ بلکہ بغیر کتاب کے آئے۔ بغیر کسی شریعت کے آئے۔ بغیر کسی معجزہ کے آئے۔ اگر کہا جائے کہ پیشگوئیاں لائے تو درست نہیں کیونکہ صرف پیشگوئیاں دلیل نبوت نہیں۔ پیشگوئیاں رمال بغار نجوی کاہن اور تجربہ کار جن کی قوت متفکرہ زیادہ پیشگوئیوں میں مشتاق ہے کرتے ہیں اور ان کی پیشگوئیاں بھی بعض دفعہ کچی اور بعض دفعہ جھوٹی نکلتی ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی جھوٹ نکلیں۔
اب صرف یہ دیکھنا ہے کہ بغیر کتاب کے بھی کوئی نبی بعد محمد رسول اللہ ﷺ کے آ سکتا ہے یا نہیں؟ اگر آ سکتا ہے تو قرآن مجید کی کوئی آیت دکھا دو ہم مان لیں گے۔ مگر آپ ہرگز نہ دکھا سکیں گے کیونکہ قرآن مجید نے محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم التمین فرمایا ہے۔ جیسا کہ مشہور آیت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ تم میں سے کسی کا باپ نہیں۔ اللہ کا رسول اور ختم کرنے والا نبیوں کا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ محمد رسول الله خاتم النبین سے ہے اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کوئی ان کا بیٹا نہیں کیونکہ اگر بیٹا ہوتا تو وہ بھی نبی ہوتا ۔ حضرت ﷺ کے بعد بیٹے کا نہ ہونا دلیل ختم نبوت ہے۔ پہلا جملہ معلول ہے یعنی کیوں بیٹا نہیں یا محمد رسول اللہ ﷺ کیوں باپ نہیں جس کی علت یہ ہے کہ وہ خاتم النبین ہے اور تفاسیر والوں نے بھی یہی معنی کیے ہیں کہ ہر قسم کی نبوت ختم ہے۔ تشریحی و غیر تشریحی ۔
اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی شریعت میں غیر تشریعی نبی ہوتے تھے تو محمد رسول ﷺ کی شریعت کے واسطے غیر تشریعی نبی کیوں نہ ہوئے؟ ضرور ہونا چاہیے۔ جس کا جواب یہ ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے باب نبوت مسدود نہ تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالی نے خاتم انہین نہیں فرمایا تھا۔ اس لیے ان کی شریعت کے تابع نبی ہوتے تھے۔ مگر جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا اور الیوم اکملت لکم دینکم سے ممتاز فرمایا تو ساتھ ہی غیر تشریعی نبوت کا باب مسدود کر دیا۔ باقی رہی یہ بات کہ شریعت محمدی کی تجدید کے واسطے پھر کیا انتظام کیا گیا تو حضرت ﷺ نے فرمایا۔ عُلْمَاءِ أُمَّتِی كَانُبَيَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ7 یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے .. نبیوں کی مانند تبلیغ شریعت کریں گے اور صحابہ کرام میں سے کسی کو نبی کہلانے کی اجازت نه دی حالانکہ بعض اوقات صحابہ کرام میں سے حضرت ﷺ کی زندگی میں بھی ان کی غیر حاضری میں بطور قائم مقام کام کرنا پڑتا تھا مگر تا ہم بھی وہ نبی نہ کہلاتے تھے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے باوجود کامل متابعت قرابت کے فرمایا۔ الاوانی لَسْتُ نَبِي وَ لا يوحى إلى8 یعنی میں نبی نہیں ہوں اور نہ میری طرف وحی کیا جاتا ہے اب ایک بحثہ یہ ہے کہ مرزائی یہ کہتے ہیں کہ ختم کے معنی مہر کے ہیں۔ بند کرنے کے نہیں اس واسطے مختصر طور پر ہم اس پر بحث کرتے ہیں۔ اول تو قرآن شریف میں پاتے ہیں کہ ختم کے معنی بند کرنے کے ہیں۔ ختم الله على قلوبهم الخ یعنی اللہ نے کفار کے دلوں کو مختوم کر دیا ہے یعنی وہ حق کو قبول نہیں کرتے اور ولهم عذاب عظیم کے وعید سے باکل صاف ہو گیا کہ ختم کلی بند کرنے کو کہتے ہیں۔ نہ کہ جزوی کو ۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا خیال ہے۔ نیز قرآن میں ہے۔يُسْقَوْنَ من رحیق مختوم ختامه مسک یعنی وہ شراب طہور کی بوتلیں جو مشک یعنی کستوری سے منہ بند ہوں گی۔ قرآن مجید سے ثابت ہو گیا ہے کہ ختم کے معنی بند کرنے کے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی خاتم النبین ﷺ کے معنی ختم کرنے والا نبیوں کا کیسے ہیں۔
(1) حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا۔ تو عمر ہوتے۔
(۲) لا نبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔
(۳) حضرت ثوبان کی حدیث جو ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ تمہیں کذاب ہوں گے کہ دھوئی نبوت کریں گے حالانکہ وہ میری امت سے ہوں گے اور حالانکہ میں خاتم النبین ﷺ ہوں۔ یعنی خاتم النبین ﷺ کے معنی رسول اللہ ﷺ نے خود کر دیے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہاں مرزا قادیانی اور ان کے مرید ایک حدیث حضرت عائشہ کی پیش کیا کرتے ہیں کہ قولوا خاتم النبيين وَلا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدہیعنی یہ کہو کہ حضرت خاتم النبین ﷺ ہیں مگر یہ مت کہو کہ ان کے بعد نبی نہیں آئے گا۔ جس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ حضرت عائشہ
کو معلوم تھا کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد حضرت عیسی نبی اللہ جو مریم کا بیٹا اور ناصری نبی تھا۔ آئے گا۔ اس واسطے انھوں نے ایسا فرمایا کیونکہ ایک دوسری حدیث مشکوة شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ نے اپنی قبر کے واسطے حضرت محمد ﷺ سے درخواست کی کہ میری قبر آپ ﷺ کے پاس ہو تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ نہیں۔ میرے پاس عیسی ابن مریم نبی الله بعد نزول میرے پاس مدفون ہوں گے اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔ ور نہ عقل مان سکتی ہے کہ حضرت عائشہ قرآن اور محمد ﷺ کے برخلاف فرمائیں؟
یہ بالکل غلط ہے کہ حضرت مسیح
شریعت موسوی کے خلیفہ تھے۔ حضرت مسیح خود مرسل، صاحب کتاب ، جس کا نام انجیل ہے جس کی تصدیق قرآن نے کر دی ہے۔ اپنی شریعت الگ لائے تھے۔ حضرت ابن عربی فرماتے ہیں کہ جب تک حضرت عیسی
نے شریعت موسوی میں کچھ تغیر و تبدل نہ کیا تھا۔ تب تک یہود اس کو مانتے تھے۔ جب اس نے شریعت موسوی کے برخلاف حکم دیئے تب یہود اس سے بگڑے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح شریعت موسوی کے مبلغ نہ تھے۔
قاضی اکمل قادیانی نے ایک حدیث سے تمسک کیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اس امت کے واسطے ہر صدی کے سر پر ایک شخص کو جو تازہ کر دے گا۔ اس کے لیے دین کو اس حدیث کے پیش کرنے میں میرے مخاطب قادیانی نے خود غلطی کھائی ہے کہ نبوت مرزا قادیانی سے انکاری ہو کر ان کو مجدد ثابت کیا ہے۔ اگر یہ کہو کہ مجدد اور نبی ایک ہی ہے۔ تو یہ غلط ہے۔ کسی مجدد نے اپنے آپ کو کبھی نبی نہیں کہلایا۔ اگر مرزا قادیانی مجدد ہیں تو مسیح موعود نہیں ہو سکتے کیونکہ کسی حدیث میں نہیں ہے کہ مسیح موعود مجدد بھی ہوگا۔ اگر مرزا قادیانی کو مجدد مانیں۔ تو اس حدیث کے رو سے ایک سو برس کے بعد ان کی میعاد ختم ہو گی۔ پس مرزائی کہ تاریخ بعثت سے سو برس بعد جب کوئی دوسرا مجدد ہو گا تو مرزا قادیانی کی بیعت توڑ دیں گے؟ دوم اگر مجدد ہیں تو دین کی تجدید انھوں نے کیا فرمائی۔ اب دیکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے دین کی کیا تجدید کی۔ وھو ہذا۔
خدا تعالیٰ کو مسلمان علی کل شی قدیر اور اس کے آگے کوئی چیز غیر ممکن نہیں۔ اس میں یہ تجدید کی خدا تعالٰی ہے تو قادر مطلق ۔ مگر قانون قدرت مقرر کرده انسان کا پابند ہے اور وہ محال عقلی کے کرنے پر قادر نہیں ۔ اور جب ایک مسلمان مر جائے تو بغیر حساب قتل از قیامت بہشت میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر خدا تعالٰی کا اس پر اختیار نہیں رہتا کہ اس بندے کو دنیا میں لا سکے۔ قرآن مجید میں جو حضرت عزیز کا ذکر آتا ہے اور گائے کا ٹکڑا چھونے سے مردہ کا جی اٹھنا یا حضرت مسیح
کے معجزات سب مسمریزم تھے۔ خدا تعالیٰ خلاف قانون قدرت نہیں کر سکتا۔ مسیح
فوت ہو گیا گئیں۔ ہے۔ اب خدا اس کو واپس نہیں لا سکتا۔ سب حدیثیں نزول کی غلط نہی پر مفہوم کی کتب حضرت کا معراج جسمانی یہ نہ تھا تھا کیونکہ کیونکہ جسم جسم کو کو خدا خدا نے تعالی آسمان پر پر نہ نہیں لے جا سکتا۔ تصویر اپنی بنوائی اور مریدوں میں تقسیم کی۔ یہ بھی ایک فعل ۱۳ سو برس تک اسلام میں رواج نہ پایا تھا۔ غرض یہ قصہ بہت طول ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ شرک با اللہسکھایا۔ شرک بالنبوۃبتایا۔ قیامت یعنی حشر اجساد سے انکار ۔ دوزخ و بہشت سے انکار۔ ملائکہ سے انکار صراط و میزان وغیرہ مسائل محال عقلی سے انکار ۔ قرآن کی تلاوت سے ہٹ کر تورات و اناجیل کی تلاوت کرتے ہیں۔ آدھے نیچری اور فلسفی امت محمدیہ کو بنایا۔ مگر ہیں کون! مجدد اور کرشن جی۔ کیا مرزائی کوئی حدیث یا آیت دکھا سکتے ہیں کہ مسیح موعود کرشن بھی ہو گا؟
اصل بات یہ ہے ہم کو تو ایک دعوئی بھی سچا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ مرزا قادیانی ۲۳ برس کے عرصہ میں باوجود کمال سعی و کوشش کے اپنی پوزیشن ہی قائم نہیں کر سکے۔ اس واسطے ہمارے پاس کوئی دلیل ان پر یقین کرنے کی نہیں۔ وہ خود ہی مطمئن نہیں کبھی مثیل مسیح بنتے ہیں۔ جب کہا گیا مثیل تو اصل سے کم درجہ کا ہوتا ہے۔ جب حضرت کو بزدل اور غیر مہذب آپ فرماتے ہیں۔ تو آپ اس سے ؟ اسے بڑھ کر بزدل اور غیر مہذب ہوئے تو پھر آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ جب کہا گیا کہ مخبر صادق نے تو مسیح ابن مریم نبی آپ نے مسیح موعود اللہ کا نزول حدیثوں میں فرمایا ہے اور حضرت نے فرمایا ہے کہ ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم9یعنی عیسی نہیں مرا اور وہ تمہاری طرف آنے والا ہے تو پھر مجدد ہونے کا دعوی کیا بہت بدعات اور شرکیہ باتیں اور افعال پیش کیے گئے۔
پھر کرشن جی کا روپ دھارا۔ آپ ہی فرمائیں کہ آئے تو ضرور مگر لائے کیا سکھایا کیا جس کے واسطے ان کو مسیح موعود مانا جائے؟ باقی رہے آپ کے عقلی ڈھکوسلے تمہاری عقل نہیں مانتی۔ سو مہربان من! تمام انبیاء کے مقابلہ میں کفار بھی عقلی محالات پیش کر کے قیامت اور حشر اجساد سے انکار کرتے آئے کہ عقل نہیں مانتی کہ وجود انسانی جو خاک ہو گئے ہوں گے۔ خدا تعالیٰ ان کو کس طرح زندہ کرے گا۔ یہی مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مسیح
فوت ہو گیا ہے۔ اب خدا تعالی کا اس پر کچھ تصرف نہیں۔ وہ اس کو واپس نہیں لا سکتا اور معجزات انبیاء مسمریزم یا عمل تراب وغیرہ شعبدہ کی قسم سے تھے۔ جن کا ذکر قرآن میں ہے۔ مہربان من یہ صرف بیدینی اور لا مذہبی کی پہلی سڑھی ہے۔
جب آپ ایک محال عقلی کو نہ مانیں گے تو کل دوسرے حکم قرآن کو محال عقلی کہہ کر نہ مانیں گے۔ پھر تیسرے اور چوتھے کو غرض تمام دین کو ہاتھ سے کھو دیں گے۔ جب حضرت عیسی کو خدا تعالی مار کر پھر واپس نہیں لا سکتا تو پھر تمام گروہ گروہ اور امت امت انسانوں کو تو بالکل لانے کے قابل نہ ہوگا اور دل میں غور تو فرمائیں کہ جس نے یہ اعتقاد بنا لیا کہ خدا تعالٰی خالق کل کائنات جس کی صنعت اور قدرت کے آگے یہ زمین ایک چھوٹا کرہ ہے۔ صرف ایک کن سے بنا دیا۔ اس کو کسی چیز کی طاقت نہیں اور اس اعتقاد والے کے دل میں اس رب العالمین کی کیا عزت ہوگی جو کہ وہ خدا تعالیٰ کو ایک انسان کی مانند اسباب کا محتاج سمجھتا ہے اور اس کی قدرت اور طاقت کو محدود یقین کرتا ہے اور کیا خوف اس کو ایسے کمزور خدا کا ہو سکتا ہے اور خشوع اس کو ایسے عاجز خدا کا ہو سکتا ہے۔ جس کے قبضہ قدرت سے انسان مرکز بہشت میں داخل ہو کر آزاد ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کا اس پر قابو نہیں رہتا اور کیوں وہ ایسے خدا سے ڈرے گا۔ نہی عن المنکر اور امر بالمعروف کی پروا کرے گا؟ جب جانتا ہے کہ محال عقلی پر خدا تعالٰی قادر نہیں اور کسی واسطے خدا تعالی بندگی کرے گا۔
افسوس آریہ سماجیوں کی مانند خدا کا اعتقاد مرزائی صاحبان بھی بتانے لگے۔ آریہ کہتے ہیں کہ خدا بیشک سرب شکستی مان ہے۔ یعنی قادر مطلق ہے۔ مگر بناتا کچھ نہیں۔ روح اور مادہ پہلے سے تھا اگر روح مادہ نہ ہوتا تو خدا یہ کائنات نہ بنا سکتا کیونکہ عدم سے وجود محال عقلی ہے۔ خدا دیالو یعنی دینے والا تو ہے۔ مگر دیتا کبھی کچھ نہیں کیونکہ ہم کو جو کچھ ملتا ہے اپنے کرموں کا پھل ملتا ہے یہ طول بحث ہے۔ عاقل کو صرف اشارہ کافی ہے۔
برادران اسلام اہل اسلام اور غیر اہل اسلام میں یہی فرق ہے کہ اہل اسلام ابتدائے آفرینش سے انبیاء پر ایمان لاکر ان کی تعلیم توحید کو بلا حجت مانتے چلے آئے ہیں اور غیر مسلم بھی ایسی ایسی محال عقلی دلیلیں پیش کر کے وہ بھی ساتھ ہی ساتھ انکار کرتے چلے آتے ہیں کہ اکیلے خدا سے یہ مخلوقات کی طرح پیدا کی جاسکتی ہے؟ جب ہم نے محمد ﷺ کو مخبر صادق مانا اور اس پر ایمان لائے اور قرآن مجید جو اس پر نازل ہو ۔ ہوا خدا کی طرف سے برحق مانتے ہیں تو پھر اپنے عقلی ڈھکوسلے لگا۔ برحق مانتے ہیں تو پھر اپنے عقلی ڈھکوسلے لگانے کے کیا معنی؟ کیا کے حضرت محمد ﷺ نہیں جانتے تھے کہ نزول عیسی ابن مریم محال عقلی ہے اور آسمان پر جسد عصری سے نہیں جا سکتا ہے۔ کیا اس رسول ﷺ پاک کو قرآن کریم کی سمجھ نہ آئی کہ اس نے فرمایا کہ وہی عیسی جس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہ زمین پر اترے گا۔ کیا محمد رسول اللہ ﷺ کو رفع کے معنی نہ آتے تھے کہ وہ ہر ایک حدیث میں صحیح ناصری کی خبر دیتے چلے آئے ۔ کیا ۱۳ سو برس تک تمام صحابہ کرام تابعین و تبع تابعین ائمه اربعه اور کل صوفیائے کرام (رضوان اللہ اجمعین) جو کہ تمام اہل زبان عربی النسل تھے۔ قرآن کے معنی نہ سمجھتے تھے جو کہ سب کے سب حضرت عیسی
ابن مریم نبی اللہ ناصری کے نزول کے قائل چلے آئے ۔
ہاں بعض مفسرین جیسا کہ حضرت ابن عباس وغیرہ مسیح
کی موت کے بھی قائل ہوئے۔ مگر وہ بھی پھر زندہ ہو کر تیسرے دن آسمان پر جانے کے قائل ہیں اور اناجیل مقدس میں بھی حضرت مسیح
کا آسمان پر زندہ رہنا ثابت ہے تو پھر کسی قدر دلیری ہے کہ سب کو چھوڑ کر الٹ پلٹ معنی کر کے اپنی یا اپنے پیر کی بات کو ترجیح دی جائے اور یہی قرآن اور رسول کے ساتھ تمسخر کرنا ہے۔ ایک بھی شخص نکالو۔ جو یہ کہتا ہو کہ مسیح
ابن مریم ناصری کا نزول نہیں ہو گا۔ کاش کہ کوئی ضعیف حدیث ہی پیش کی ہوتی۔ شاعرانہ عبارت آرائی اور مبالغہ غلو سے کام لے کر دینی مسائل کو پیش کرنا خشیتہ اللہ کے خلاف ہے۔
واضح رہے کہ آپ کی عقل کیا، ہماری عقل بھی دینی یا دنیوی اور محال عقلی مسائل کو نہیں مانتی مگر کیا کریں۔ خدا اور اس کا رسول منواتا ہے۔ اگر اس پر ایمان ہے تو مانو۔ ورنہ آپ کا اختیار ہے ایمان ایک مسلمہ امر کا نام ہے جو کہ بلا دلیل مانا جاتا ہے۔ اگر کوئی ایمان چھوڑ دے تو اس کو نہ ماننا اور کسی فرمودہ پیر سے انکار کرنا کچھ مشکل بات نہیں۔ یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ اگر آپ قرآن اور رسول ﷺ کو مانو گے۔ تو اس کی ہر ایک بات کو ماننا پڑے گا تب مسلمان ہو۔ ورنہ محال عقلی کہہ کر بے دین لامذہب۔ وریه یا پنیر ہو جاؤ گے اور اپنی عبادات کا کچھ اثر نہ پاؤ گے کیونکہ جب اعتقاد ہی درست نہ ہو تو اعمال کیا درست ہوں گے۔ یہ سخت ٹھوکر ہے اس سے بچو اور اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کا دامن مضبوط پکڑو اور پیر پرستی کو چھوڑو۔ آئندہ آپ کا اختیار ہے۔
وما علينا الا البلاغ(پیر بخش پنشنر ۔ پوسٹ ماسٹر لاہور )