logoختم نبوت

اظہار صداقت (کھلی چٹھی بنام محمد علی وخواجہ کمال الدین لاہوری)۔۔۔از۔۔۔جناب بابو پیر بخش

اظہار صداقت (کھلی چٹھی)

بنام

محمد علی و خواجہ کمال الدین

سرگروہ جماعت مرزائیہ لاہوری گروپ

مكرمنا السَّلامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى

چونکہ آپ کی مرزائی جماعت کا سالانہ جلسہ بڑے دنوں کی تعطیلوں میں ہونے والا ہے۔ اس لیے آپ کی خدمت میں دعوت الی الحق دینے کی غرض سے چند سوالات لکھے جاتے ہیں تاکہ آپ ان کے جواب دے کہ بر اور ان اسلام کی تسلی فرمائیں کیونکہ یہ موقعہ ہے کہ آپ مسلمانوں کو مطلع فرما کر مطمئن کریں۔ یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ کوئی دعوی بغیر دلیل کے مانا نہیں جاتا۔ یہ جو آپ کی جماعت کہتی ہے کہ” ہم مرزا قادیانی کو دوسرے مجددوں کی طرح ایک امت محمدی کا مجدد مانتے ہیں نبی ورسول نہیں مانتے۔“ کیونکر درست ہے؟ ہم ذیل میں مرزا قادیانی کی کتابوں سے ان کے الہامات و تحریرات درج کرتے ہیں اور التجاء کرتے ہیں کہ آپ جواب دیں بلکہ سالانہ جلسہ میں اپنے عقائد سے مسلمان پلک کی تسلی کی غرض سے مفصلہ ذیل الہامات و تحریرات مرزا قادیانی کی بابت بتائیں کہ آپ ان کو حق سمجھتے ہیں؟

الہام 1... قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلهُ وَاحِدٌ1ترجمہ :”(اے نبی ان سے) کہہ دو کہ میں تمہاری طرحانسان ہوں۔ میری طرف وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔“ یہ قرآن مجید کی آیت ہے اور یہ وہ آیت ہے جس نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو دوسرے انسانوں سے متمیز کر کے نبی و رسول بنایا۔ جب اس خدا نے اب مرزا قادیانی کو فرمایا کہ تو کہہ کہ میں تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اور اس پر اجماع امت ہے کہ وحی خاصہ انبیاء کا ہے اور جو وحی کا مدعی ہو وہ نبوت کا مدعی ہوتا ہے اور مرزا قادیانی چونکہ وحی کے مدعی ہیں تو ضرور نبی ہیں اور مستقل نبی ہونے کے مدعی ہیں کیونکہ جس سند سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ دوسرے انسانوں سے (وحی کے ہونے سے) فضیلت پا کر نبی ہو گئے تھے جب وہی سند مرزا قادیانی کو دی گئی تو پھر آپ کس طرح فرماتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے؟ جب آپ مرزا قادیانی کے مرید ہیں تو آپ کا اور مرزا قادیانی کا اعتقاد ایک ہی ہونا چاہیے اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

آنچہ من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچو قرآن منزه اش دانم
از خطا ہاهمین ست ایمانم2

مرزا قادیانی کا تو ایمان یہ ہے کہ وہ اپنی وحی کو قرآن کی مانند سمجھیں اور اپنے آپ کو نبی و رسول بنائیں اور آپ صاحبان ان کے مرید ہو کر ان کو نبی نہ سمجھیں کیونکر درست ہے؟

الہام2 ... وَمَا أَرْسَلُنكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ2 ترجمہ :”اور ہم نے تجھے تمام دنیا پر رحمت کرنے کے لیے بھیجا ہے۔“ رحمت اللعالمین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اکمل بلکہ افضل الرسل تھے کیونکہ خدا نے رحمت اللعالمین کسی نبی کو سوائے محمد رسول اللہ ﷺ کے نہیں فرمایا تو اس مکالمہ و مخاطبہ الہی نے مرزا قادیانی کو افضل الرسل بتایا۔ کیونکہ کوئی نبی رحمت اللعالمین نہ ہوا اور مرزا قادیانی رحمتہ اللعالمین ہوئے مگر آپ ان کو نبی و رسول نہیں مانتے کیا آپ ان کے مرید نہیں؟

الہام 3... مرزا قادیانی -هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله3 ترجمہ :” خدا وہ خدا ہے جس نے اپنا رسول اور اپنا فرستادہ اپنی ہدایت اور اپنے بچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرے ۔“ اس آیت سے بھی منتقل نبی بلکہ صاحب شریعت نبی کا ثبوت ہے۔ اب بطور اصولی بحث اس امر کا فیصلہ ہونا چاہیے کہ اگر آپ کا یہ اعتقاد ہے کہ یہ آیات قرآن مجید مرزا قادیانی پر دوبارہ نازل ہوئیں تو ضرور آپ کا یہ بھی اعتقاد ہے کہ مرزا قادیانی رسول و نبی مستقل تھے کیونکہ یہی آیات ہیں جنھوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی و رسول صاحب شریعت و صاحب دین بتایا تھا۔ اب وہی خدا اگر مرزا قادیانی کو دوبارہ وہی آیات خطاب کرتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی تشریعی نبی و نبی کامل نہیں تھے؟ اس آیت میں ظل و بروز کا کہیں کوئی لفظ نہیں۔ اگر کہو کہ مرزا قادیانی نے خود کسی جگہ لکھا ہے تو یہ مرزا قادیانی کا ہرگز منصب نہیں تھا کہ وحی الہی میں تحریف کریں۔ کسی لفظ کے کم و زیادہ یا تبدیل کرنے کا نام تحریف ہے۔

اس آیت سے تین امور ثابت ہیں:

امر اول ... کامل رسول کا بھیجا جانا۔ جب یہ آیت پہلے نازل ہوئی تھی تو کامل رسول کے حق میں ہوئی تھی۔ اب جو وہی انہی الفاظ میں نازل ہوئی تو جس پر نازل ہوئی وہ کامل نہی ہوا۔

دوسرا امر ... یہ ہے کہ وہ رسول دین حق اور ہدایت کے ساتھ آیا تھا۔ اگر یہ آیت دوباره نازل شده مانی جائے تو مرزا قادیانی کا دین حق اور ہدایت کے ساتھ آنا ثابت ہے۔ پھر مرزا قادیانی کے دعوی کامل رسول و صاحب شریعت نبی ہونے میں کیا شک ہے؟ یا یہ غلط ہے کہ یہ آیت دوبارہ مرزا قادیانی پر نازل ہوئی۔ آپ کا کیا اعتقاد ہے؟

تیسرا امر ... یہ کہ کل دینوں پر غالب آئے گا۔ جب مرزا قادیانی کوئی دین ہی نہیں لائے تو پھر غالب آنے کے کیا معنی ہیں؟ بچے نبی پر جب یہی آیت نازل ہوئی تو تھوڑے عرصے میں سچا رسول سب دینوں پر جو عرب میں تھے غالب آیا اور مرزا قادیانی ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان میں کھو جو باطل دین تھے ۲۳ برس کے عرصہ میں . ان پر غالب نہ آسکے۔ عقلمندوں کے واسطے یہی معیار کافی ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ یہ آیت مرزا قادیانی پر دوبارہ نازل نہیں ہوئی اور نہ مرزا قادیانی سچے رسول تھے جو اس آیت میں مخاطب تھے ۔

آپ اپنا عقیدہ بتائیں کہ آپ اس بات کو مانتے ہیں کہ مرزا قادیانی پر قرآن کی آیات دوبارہ نازل ہوئی تھیں جو کہ انھوں نے خواب میں سنیں یا دوسرے مسلمانوں کی طرح عالم خواب میں توارد کے طور پر ان کی زبان پر جاری ہوتی تھیں؟ اخیر میں ایک عبارت مرزا قادیانی کی نقل کی جاتی ہے اس کی نسبت آپ کا کیا اعتماد ہے؟ وہو ہذا

”غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں۔ جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“4

دوم ۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں ؎

آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آن جام را مرا بہ تمام 5

یعنی جو کچھ ہر ایک نبی کو نعمت دی گئی ہے ان تمام نعمتوں کا مجموعہ مجھ اکیلے کو دیا گیا ہے۔ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی تمام نبیوں سے افضل ہونے کے مدعی تھے کیونکہ کل نبیوں کے کمالات و فضائل تمام جمع کر کے جب خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو دے دیئے اور دوسرے کسی نبی کو مجموعہ کمالات انبیاء نہ بنایا تو اب مرزا قادیانی کے دعوئی افضل الرسل میں کیا شک ہے؟

آپ صاحبان جب مرزا قادیانی کے مرید ہیں اور ان کو مسیح موعود بھی یقین کرتے ہیں تو پھر ان کو نبی نہ ماننا اور مرزا قادیانی کے عقائد اور الہامات کے برخلاف صرف بلا دلیل یہ کہہ دینا کہ ہم مرزا قادیانی کو صرف ایک مجدد دوسرے امت محمدی کے مجددوں کی طرح مانتے ہیں کسی طرح درست ہے؟ کیا دوسرے مجددوں نے بھی نبوت و رسالت کا دعوی کیا تھا اور یہ کہتے تھے کہ ہم مجموعہ کمالات تمام انبیاء ہیں جو آدم سے لے کراب تک گزرے ہیں؟

ہرگز نہیں۔ کوئی سند شرعی ہے اور کوئی نظیر ہے تو بتاؤ کہ کوئی شخص امت محمدی ﷺ میں سے مدعی نبوت و رسالت ہوا اور سچا مانا گیا یا اس کو مجدد دین مانا گیا؟ اگر نہیں (اور یقینا نہیں) تو پھر مرزا قادیانی مدعی نبوت ہو کر مجدد کس طرح ہوئے؟ اس طرح تو مسیلمہ سے لے کر جس قدر مدعیان نبوت گزرے ہیں سب کے سب مجدد ہوئے اور یہ بالکل غلط اور باطل عقیدہ ہے کہ مدعی نبوت کو مجدد مانا جائے۔

آپ صاف صاف فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے دعاوی کے برخلاف آپ کس طرح کہتے ہیں کہ ہم ان کو نبی نہیں مانتے۔ کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ میں مسلمان محمدی تو ہوں مگر محمد ﷺ کو نبی نہیں مانتا؟ حالانکہ محمد ﷺ فرماتے ہوں کہ میں نبی ہوں۔ پس جب آپ ایک طرف تو مرزا قادیانی کو پیر و مرشد و مسیح موعود یقین کرتے ہیں اور دوسری طرف عام مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔

کون عقلمند اس بلا دلیل دعوئی کو مان سکتا ہے؟ کیونکہ پیر تو کہتا ہے کہ میرا ایمان یہ ہے کہ میں اپنی وحی کو قرآن کی مانند سمجھتا ہوں اور اسی وحی کی کثرت کے باعث تمام افراد امت سے ممتاز ہو کر نبی و رسول کا لقب خدا سے پایا ہے۔ مگر مرید کہتا ہے کہ میں آپ کا مرید ہوں آپ کے تابع فرمان ہوں ۔ آپ کو صاحب وحی و الہام بھی یقین کرتا ہوں۔ مسیح موعود بھی مانتا ہوں۔ مگر نبی نہیں مانتا کیسی بے دلیل اور پھیکی بات ہے؟ اسی سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ مصلحت وقت بد نظر ہے اور کھانے کے دانت اور ہیں اور دکھانے کے اور ہیں۔

جب مرزا قادیانی کا دعوی ہے کہ میں مسیح موعود نبی اللہ ہوں تو پھر آپ احمدی ہو کر مرزا قادیانی کے دعوئی کے برخلاف کس طرح کہتے ہیں کہ مسیح موعود تو مانتے ہیں اور نبی اللہ نہیں مانتے۔ افَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ6 کے یہ معنی نہیں ہیں کہ یا تو آپ ان کے دعادی و الہامات کے مطابق ان کو رسول و نبی مانیں اور اگر وہ آپ کے نزدیک اس دعوی نبوت و رسالت میں سچے نہیں ہیں تو پھر ان کو مجدد بھی نہیں ماننا چاہیے کیونکہ مجدد دین کبھی مدعی نبوت نہیں ہوا۔

معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف چندہ بٹورنے کے لیے ایک چال اختیار کی گئی ہے۔ ور نہ مرید کیا اور پیر کے عقائد اور ارشاد کے برخلاف کیا؟ یہ موقعہ ہے کہ آپ مسلمانوں کی جواب باصواب سے تسلی کریں۔ مسلمان مطمئن ہو کر آپ کو چندہ بھی دیں گے اور خیر خواہ اسلام بھی سمجھیں گے اور اگر آپ نے جواب نہ دیا اور گندم نمائی کرتے رہے تو واضح رہے کہ بذریعہ فتاوی علمائے اسلام آپ کا مقابلہ کر کے مسلمانوں کو اور ان کے والیان ریاست کو روکا جائے گا کہ وہ چندہ اشاعت اسلام کے نام سے جو دیتے ہیں وہ حقیقت میں نام نہاد مناظر اسلام بن کر اشاعت مرزائیت میں خرچ ہو گا۔ جیسا کہ پہلے مرزا قادیانی نے کیا تھا کہ چندہ حمایت اسلام کے واسطے جمع کیا اور بجائے تردید عیسائیوں اور آریوں کے، مسلمانوں کے گرد ہو گئے اور ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے مسلمانوں کے اپنی رسالت و نبوت کے اثبات میں خرچ کیے۔ کتابیں تالیف کیں ۔ اشتہارات نکالے واعظین مقرر کیے اور اپنے ذاتی تصرف میں لائے ۔ ایسی ہی اب اشاعت اسلام ہوگی کہ روپیہ مسلمانوں کا ہوگا اور اشاعت مرز است میں خرچ ہو گا۔ مثل مشہور ہے آگ کا جلا ہوا جگنو سے ڈرتا ہے۔ پہلے جو مسلمان دھوکا کھا چکے ہیں۔ اس واسطے خواجہ صاحب اور محمد علی صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ جواب دیں اور پہلے اپنا اسلام مسلمان بھائیون کو بتا دیں اور پھر اس اسلام کی اشاعت کریں۔ کیا یہ اسلام ہے کہ اوتار اور ابن الله الوہیت انسان وغیرہ باطل عقائد اسلام میں داخل ہوں اور وہی اسلام غیر مذاہب والوں کے پیش کیا جائے؟

ایک عیسائی کو دعوت اسلام دے کر یہ کہا جائے کہ حضرت عیسی کو خدا کا بیٹا مت کہو، مگر مرزا قادیانی کو خدا کی اولاد اور بیٹا مانو، اور مرزا قادیانی کو خدا کے پانی سے پیدا ہوا مانو جیسا کہ ان کا الہام ہے۔ انتَ مِنْ مَائِنَا وَهُمْ مِنْ فشل7}}

(یعنی تو ہمارے (خدا) پانی سے ہے اور وہ لوگ خشکی سے) تو کیا وہ عیسائی خاک مسلمان ہو گا کہ ایک ابن اللہ کے بدلے میں دو ابن اللہ مانے گا ؟ پس لاہوری احمدی جماعت اپنا اسلام بتائے۔ مگر قبول افتد زہے عز و شرف 8

برادرانِ اسلام سے ضروری التماس:

جس طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے حمایت اسلام کے بہانہ سے مناظر و مباحث اسلام بن کر مسلمانوں سے براہین احمدیہ کے نام پر چندہ فراہم کر کے اپنے مسیحیت و مهدویت و کرشنیت و ابنیت والوہیت و نبوت و رسالت وغیره وغیره دعاوی باطلہ خلاف اسلام کی اشاعت میں صرف کیا تھا۔ اسی طرح اب مرزا قادیانی کے مرید خواجہ کمال الدین وغیرہ وغیرہ اسلام کا کشکول لے کر والیان ریاست امراء و روساء و عامه اہل اسلام سے چندہ فراہم کر رہے ہیں تاکہ اسلام کے پردہ میں بیٹھ کر مرزائی عقائد کا جال پھیلا ئیں۔ لہذا ضروری ہے کہ اہل اسلام پہلے خواجہ وغیرہ کے اسلام کی بابت اطمینان کر لیں اور چندہ دینے سے پہلے سوالات مندرجہ رسالہ ہذا کا جواب باصواب لے لیں کیونکہ خواجہ صاحب ایک طرف تو فراہمی چندہ کی غرض سے مسلمانوں میں کہتے ہیں کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ورسول نہیں مانتے اور دوسری طرف ان کو مسیح موعود و کرشن اوتار وغیرہ کہتے جاتے ہیں۔ خواجہ صاحب اپنی کتاب ” کرشن اوتار“ صفحہ ۳۰ پر لکھتے ہیں:

ضروری تھا کہ کرشن اگر اوتار لے تو اس وقت عرب میں ادتار لے اور عرب میں آ کر پھر رفتہ رفتہ ان تمام ممالک کو بدیوں سے پاک کرے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ کرشن نے عرب میں اوتار لیا۔ یہ درست ہے کہ ان ممالک کے سارے باشندوں نے اس نبی عرب کو قبول نہیں کیا۔ الخ۔

اب اس عبارت خواجہ صاحب سے کوئی شک نہیں رہتا کہ ان کے اعتقاد میں کرشن اوتار و نبی ایک ہی ہے۔ جب کرشن جی نے پہلے عرب میں اوتار لیا تو نبی کہلائے اور رحمت اللعالمین و افضل الرسل ہوئے پھر ۱۳ سو برس میں کوئی کرشن اوتار و نبی امت محمدی میں نہ ہوا اور یہی مرزا قادیانی کا دعوی ہے کہ امت محمدی میں سے میرے سوا کوئی نبی کے نام پانے کا مستحق نہیں جب مرزا قادیانی کی خصوصیت خواجہ صاحب نے کرشن اوتار و نبی ہونے کی مان لی تو پھر اب کسی طرح بلا دلیل کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ یہ تقیہ نہیں تو اور کیا ہے؟

خاکسار پیر بخش سیکرٹری انجمن تائید اسلام لاہور حسب الارشاد اراکین انجمن


  • 1 (حقیقۃ الوحى ص ۸۲ خزائن ج ۲۲ ص ۸۵)
  • 2 ( نزول المسیح ص ۹۹ خزائن ج ۱۸ ص نے۷ ۴۷)
  • 2 ( حقیقت الوحی ص ۸۲ خزائن ج ۲۲ ص ۸۵)
  • 3 (حقیقت الوحی ص اے خزائن ج ۲۲ ص ۷۴)
  • 4 (حقیقت الوحی ص ۳۹۱ خزائن ج ۲۲ ص ۴۰۲)
  • 5 (نزول المسیح ص ۹۹ خزائن ج ۱ ص ۴۷۷)
  • 6 (بقرہ ۸۵)
  • 7 (اربعین نمبر ۳ ص ۳۴ خزائن ج ۱۷ ص ۴۲۳)
  • 8 (رسالہ تائید الاسلام لاہور ج ۲ س ۱۲)

Netsol OnlinePowered by