بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على سيد المرسلين وعلى اله واصحابه الطيبين الطاهرين ، اما بعد!
بنده امید وار رحمت غفار، سید محمد عبد الجبار کان اللہ لہ بخدمت اہل اسلام مدعا نگار ہے کہ ان دنوں ایک پرچہ موسوم ” حجتہ اللہ “ شائع ہوا ہے۔ وہ ہرگز اس قابل نہیں ہے کہ اس کے جواب کی طرف کوئی اہل علم متوجہ ہو۔ اگر کوئی اہل انصاف ” حجۃ الجبار “ کو بغور ملاحظہ فرمائے اور من بعد حجتہ اللہ کو دیکھے تو صاف صاف کہہ دے گا کہ” سوال از آسمان و جواب از ریسمان“ پھر اس پر طرہ یہ کہ محض بیہودگیوں اور فضول باتوں کا طومار ہے۔ ان قادیانیوں نے ایک چمکتی ہوئی روشنی پر خاک ڈالی ہے اور ہدایت کے ایک منور آفتاب پر دھول اڑائی ہے۔ مگر وہ یاد رکھیں کہ ان چالاکیوں اور فضول باتوں سے کیا وہ حق کی روشنی کہیں بجھ سکتی ہے۔ نہیں ہر گز نہیں۔ وہ خاک انہی کے منہ پر لوٹ پڑے گی اور وہ حق کا آفتاب قیامت تک چمکتا رہے گا۔ ” والله متم نوره ولو كره الكافرون “ لہذا اکثر احباب کی یہ رائے تھی کہ اس کا جواب لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مگر راقم الحروف و دیگر بعض اصحاب کی یہ رائے ہوئی کہ ایک مرتبہ اور اصل امر کی اطلاع عوام کو کر دینی چاہئے اور ان قادیانیوں کی اہلہ فریبیوں اور چالاکیوں سے اہل اسلام کو آگاہ کرنا چاہئے۔ تا کہ کوئی مسلمان ان کے دام تزویر میں نہ آئے اور اس فتنہ آخرالزمان سے بچے۔ اس کے بعد پھر اگر وہ لوگ یاوہ گوئی کریں گے اور اپنے نامہ اعمال کی طرح کا غذات کو بھی سیاہ کیا۔ کریں گے تو ہمیں ان سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
ناظرین! بغور ملاحظہ فرمائیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے نہ صرف ایک اشتہار بلکہ کئی اشتہاروں اور متعدد کتابوں میں یہ تحریر کی ہے کہ میں” مثیل مسیح موعود “ ہوں اور مہدی بھی ہوں اور علماء و مشائخین سے جو صاحب مجھے مباہلہ کرنا چاہیں میں تیار ہوں۔ اسی بناء پر اس فقیر سراپا تقصیر نے حسب الحکم حضرات علماء حیدر آباد دکن صانها الله عن الشر والفتن ایک رجسٹری خط مندرجہ رسالہ ” حجۃ الجبار “ بنام معتمد مجلس قادیانی۔ خاص قادیان ہی کو روانہ کیا تھا کہ بہو نہ تعالی ہم سب اہل سنت بنظر احقاق حق مباہلہ کے لئے تیار ہیں اور اس کے جواب کا انتظار فلاں تاریخ تک رہے گا۔ پھر کیا تھا۔ رجسٹری کیا پہنچی کہ ایک آفت پہنچی۔ صدائے برنخواست کا مضمون پورا ہو گیا۔
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطره خون نہ نکلا
حاشیہ
دیکھو( آئینہ کمالات اسلام ص ۳۳۱، خزائن ج ۵ ص ایضا) جس کی یہ عبارت ہے۔ مباہلہ کی نسبت خود بخود اللہ جل شانہ نے اجازت دے دی۔ اوّل حال میں مباہلہ نا جائز تھا۔ سبحان اللہ ! مرزا قادیانی جائز کرنا جائز اور نا جائز کو جائز بھی کرتے ہیں۔ تحلیل تحریم پر بھی ان کا قبضہ ہے۔
حاشیہ ختم شد
بہر حال ان کے اس سکوت سے یہ نتیجہ تو ضرور برآمد ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے دعوے میں سراسر کا ذب ہے۔ پہلے تو خود ہی نے مباہلہ کا دعوی کیا۔ پھر جب مقابل تیار ہوا تو گریز کر کے سکوت اختیار کیا ۔ ماشاء الله چشم بد دور حکم، موید من اللہ، مسیح موعود، مہدی، امام الزمان کی یہی شان ہے۔ ادھر تو سر گروہ نے سکوت اختیار کر کے دیکی ماری۔ ادھر حیدر آباد کے قادیانیوں کو پانچ سال کے بعد غیرت دامنگیر حال ہوئی ۔ لکھنے لگے کہ وہ رجسٹری خط چھپوا ؤ ۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ پس اس احقر نے اظہار حق کے لئے اس خط کو چھوا دیا۔ جس کا نام ” حجۃ الجبار “ ہے۔ تا کہ علی العموم مرزا قادیانی کی پہلو تہی اور مباہلہ سے پسپائی واضح ہو جائے۔ کیا دلیری اس کا نام ہے اور کیا موید من اللہ کا یہی کام ہے کہ پہلے تو خود ہی مباہلہ کی خواہش کریں اور پھر بوقت مقابلہ منہ چھپائیں۔ واہ صاحب اسی برتے پر مباہلہ کا دعوی ، پھر منہ اور یہ گرم مصالحہ لا حول ولا قوة الا بالله!
اگر بچے ہو تو جو کہے وہ کر دکھائے ۔ خدا کے لئے مرد میدان بنئے ۔ ورنہ ایسی فضول باتوں اور جھوٹے دعوؤں سے توبہ کیجئے کہ ابھی باب تو یہ باز ہے۔ اب آپ ہی سچ فرمائے کہ مقابلہ سے صریح پہلو تہی اور خاموشی اختیار کرنے والا کیوں نہ اپنے دعوے میں کا ذب و مفتری سمجھا جائے۔ کون ذی فہم ہوگا کہ ایسے شخص کو سچا مسح دمہدی تصور کرے۔ مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوؤں کے متعلق” ازالہ اوہام“ ، ” آئینہ کمالات اسلام“ وغیرہ کتب میں جو کچھ تحریری دلائل لکھے تھے ان تمام ڈھکوسلوں اور فضول باتوں کا جواب تو وقت بوقت علماء اہل سنت نے دے دیا اور مشل ہباء منثورا کے اڑا دیا ہے۔ جیسا کہ ان تمام کتابوں سے جو ان کے رد میں لکھی گئیں اور شائع ہو چکی ہیں ظاہر وباہر ہے۔
رہا سہا دعوئے مباہلہ جس کو آخر معاملہ کہنا چاہئے ۔ اس میں بھی ان کی ترقی تمام ہو گئی اور بعونہ تعالٰی ان کی اس خاموشی سے ایسی زک نصیب ہوئی۔ جو ایک دنیا پر کا لشمس فی نصف النہار روشن ہے۔ اب ان کے حیدر آبادی حواریین نے اس ذلت وخواری کے مٹانے اور اپنے سرگروہ (مرزا قادیانی) کی بلا ٹالنے کے واسطے مردان علی کو مرد میدان بنا کے ایک چو ورقہ پرچہ حجۃ اللہ کے نام سے موسوم کر کے یہ مضمون طبع کرایا کہ ہم سے مباہلہ کرو۔ ہم تیار ہیں اور فلاں تاریخ مقرر کی جائے ۔ ماشاء اللہ چشم بد دور کیا کہنا ہے مدعی ست گواہ چست ۔ سچ فرمائیے کہ یہ دخل در معقول ہے یا نہیں۔ دعوئے پیغمبری تو مرزا قادیانی کریں اور مباہلہ کے لئے ان کے حوار بین کو دیں۔ سبحان اللہ مثل مشہور ہے۔ بیل نہ کو دا کو دے گون ان لوگوں کو یہ بھی نہ سوجھا کہ مباہلہ کا مخاطب کون ہے اور بیچ میں ٹانگ اڑانے والے کون ہیں۔
اہل انصاف ! انصاف فرمائیں کہ ہم اہل سنت کو ان لوگوں سے کیا سروکار ہے۔ ان نادان قادیانیوں کو اتنا بھی خیال نہ آیا کہ بلدۂ حیدر آباد میں اہل سنت و جماعت کی حکومت ہے اور یہاں بفضلہ تعالیٰ صاحب علم واہل بصیرت بکثرت ہیں۔ ہماری اس بیجا دخل اندازی کو دیکھ کر سب قہقہہ اڑائیں گے اور کہیں گے کہ یہ لوگ کیسے بے تکے ہیں۔ ذرا غور بھی نہیں کرتے کہ جب ہمارے پیشوا (مرزا قادیانی) نے مقابلہ سے سکوت اختیار کر لیا۔ جس سے ان کا عجز ثابت ہو گیا ہے تو بھلا ہم کیوں نہ ایسے شخص کی اتباع سے باز آئیں۔ نہ کہ اس کے بالعکس فحواء ”ہم بھی ہیں پانچویں سواروں میں خود ہی کود کر اپنی جہالت و ضلالت کا آپ ہی ثبوت دیں۔ جہالت ہو تو ایسی ہو، بلادت ہو تو ایسی ہو۔ افسوس صد افسوس یہ لوگ باوجو دے کہ حق ظاہر ہو چکا۔ تب بھی اس سے چشم پوشی کرتے ہیں اور اپنے جھوٹے پیشرو کے پیچھے آپ بھی خراب ہوئے جاتے ہیں۔ کیا یہی ایمانداری کا نتیجہ ہے۔ نہیں بلکہ فرضی پیغمبر پر ایمان لانے کا ثمرہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کبھی امر حق پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ کسی کے چھپائے نہیں چھپتا۔
الحاصل جب کہ خود مرزا قادیانی نے باوجود ہم اہل سنت کے آمادہ ہونے کے مباہلہ سے سکوت اور مقابلہ سے پہلو تہی کر چکی ہے، تو اب اس وقت ہم کو کوئی ضرورت باقی نہیں رہی ہے کہ ہم پھر ان کے کسی پیرو کی تحریر کا جواب دیں یا اس کے مقابلہ کی طرف توجہ کریں۔ تاہم اور بھی لیجئے ۔ ہم سب شرکاء مجلس اہل سنت اس وقت اس بات کے لئے آمادہ ہیں کہ اگر مرزا قادیانی خود یہاں آ جائیں تو ہم ان کے ساتھ مباہلہ مسنونہ برابر کریں گے۔ بغیر ان کے آنے کے کسی اور کو ان کی جائے نہ سمجھیں گے اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ جو شخص دین محمدی ﷺمیں خلل ڈالے اور برخلاف اقوال مسلمات علماء سلف نئی نئی باتیں تراش کر اہل اسلام میں تفرقہ پیدا کرے، اور فساد برپا کرے اور اپنا ایک نیا فرقہ بنائے ۔ اس سے ہم کو مقابلہ و مباہلہ کرنا چاہئے ۔ تا کہ احقاق حق اسی شخص مدعی کے مقابل میں ہو اور اس مدعی باطل پر اس کے باطل دعوؤں کا اثر علی رؤس الاشہاد نمودار ہو کر اس کے مٹنے سے ایک جہاں کا شر و فساد مٹ جائے ، اور اہل اسلام اس فساد و تفرقہ سے محفوظ رہیں اور اپنے دین وایمان کو ہر طرح کی نئی باتوں سے مامون رکھیں۔
مرزا قادیانی کے حوار یین ( حیدر آباد کے قادیانیوں ) کو چاہئے کہ اگر ان کو دعا کرنے اور میدان میں آنے کا شوق ہے تو بسم اللہ ۔ کیا دیر ہے۔ اپنے مصنوعی پیغمبر، اپنے فرضی امام، اپنے پیشرو (مرزا قادیانی) کو بلا کر آگے کھڑا کریں، اور یہ سب اتباع ان کے امتی پیچھے کھڑے ہو کر آمین آمین پکاریں، اور جہاں تک ہو سکے دعاؤں کا زور لگائیں، اور یہ آہ وزاری خوب گڑ گڑا کر پورے ارمان مٹائیں، اور اس میں کسی طرح کا دقیقہ باقی نہ رکھیں ۔ تا کہ اس طرف سے بھی ہم اہل سنت محمد رسول اللهﷺ روحی فدا ﷺکی امت اپنے یہاں کے مقتداء سادات و علماء کرام کثر ہم اللہ تعالیٰ و نصر ہم کے ساتھ ساتھ بالحاح تمام و بہ آہ وزاری اس رب العزت ذوالقمر والجلال کی بارگاہ میں عرض کریں کہ الہی، اس جھوٹے پیغمبر، جھوٹے مسیح ، مصنوعی مہدی پر پھٹکار اور اپنا غضب نازل فرما! اور احقاق حق و ابطال باطل سے اپنے پاک حبیب محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے دین متین اور ان کی امت خیر الامم کی حفاظت فرما، اور جھوٹے کو سچے سے ظاہر کر ۔
پھر دیکھئے کہ مرزا قادیانی اور ان کو مثیل مسیح ماننے والے اور ان کو امام برحق و مہدی موعود جاننے والے اور شب و روز ان پر درود پڑھنے والے، ان کی تصویر کی پرستش کرنے والے، دین اسلام میں فساد و تفرق ڈالنے والے نئی نئی باتوں سے قرآن وحدیث کی تاویل کرنے والے، اسلامی علماء سلف وخلف کے مخالف طریقے نکالنے والے۔ مسلمانوں کو کافر جاننے والے ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو حرام ماننے والے غالب آتے ہیں؟ یا نبی برحق حبیب مطلق محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کی ذریت دامت اور اس کے علماء ومقتدا بازی لے جاتے ہیں۔ ہم خدائے تعالیٰ سے جس نے اپنے حبیب پاک ﷺ کے دین متین کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ ضرور یہ امید قوی رکھتے ہیں کہ اس صورت میں فورا احق حق کو حق اور باطل کو باطل کر دکھلائے گا اور علی العموم دنیا کے پردے سے یہ فساد یہ تفرق مٹ جائے گا۔
بہر حال ہم اس مسنون مباہلہ کے لئے بشرطیکہ مرزا قادیانی بذات خود آئیں ۔ اب بھی موجود ہیں رہا یہ کہ ترک غذا کی قید جو ہمارے پہلے خط میں لگائی گئی تھی۔ اس سے صرف یہی مقصود تھا کہ اس سے دعا میں جلد اثر ہو اور فیصلہ میں دیر نہ ہو اور اس مقدس جناب ( جس کی شان انی ابيت يطعمني ربی ویسقینی ہے۔ بخاری ج ۲ ص ۱۰۱۲، باب کم التحزیر والارب) کی متابعت سے ایک خاص اثر پیدا ہو اور مرزا قادیانی کی روحی قوت کا حال اور ان کا موید من اللہ ہونا ظاہر ہو(1)۔
حاشیہ
(1)الحمد للہ حق بات صاف طور سے ظاہر ہوگئی۔ مرزائی چلا اٹھے کہ ترک غذا بدعت ہے اور انوار اللہ کے ص ۳۲۵ پر لکھا کہ : یونس نبی دو چار دن کے بھو کے رہنے کے سبب سے ان کی کیا حالت ہوگئی تھی۔ قریب مرگ ہو گئے تھے۔ افسوس کہ جب اس خرق عادت کی خود میں قوت نہ پائی تو انبیاء کرام
کو بھی اپنا ہم رنگ بنایا۔ کاش مقابلہ کر کے غلامان انبیاء
کی قوت کو دیکھ لیا ہوتا اور خود خس کم جہاں پاک کے مصداق ہو جاتے ۔ قوت القلوب اور احیاء العلوم وغیرہ میں موجود ہے کہ صمدانی چالیس دن میں ایک مرتبہ کھاتا ہے۔ مرزا قادیانی اگر خود ترک غذا سے خوف جان کرتے ہیں تو اچھا ہمارے ہی حضرات سے یہ خرق عادت دیکھ کر اپنے عقائد سے تو بہ کریں اور سمجھ جائیں کہ میری قرآن فہمی میں پرلے درجہ کا نقصان ہے اور انبیاء کرام
پر اس طرح کا عیب لگا کر اپنا ایمان بر باد کرنا مجھے ہرگز ہرگز زیبا نہیں۔
کارپا کان را قیاس از خود مگیر
گرچہ باشد در نوشتن شیر و شیر
لیکن مرزا قادیانی اور ان کے حوار بین کو صرف زبانی جمع خرچ سے کام لینا خوب یاد ہے۔ خود مرزا قادیانی حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے مقابلہ کے لئے تاریخ مقرر کر کے لاہور میں نہ آئے اور بے محل آیت ” ولا تلقوا بايديكم الى التهلكة “ پڑھ کر جان بچالی۔ اسی طرح یہاں کے حواریوں نے بھی اس مقابلہ میں یہ آیت پڑھ دی۔
حاشیہ ختم شد
اس کو اصل مباہلہ کی قید لازمہ سمجھنا قادیانیوں کی جہالت کی نشانی ہے۔ اچھا صاحب ترک غذا یا قلت غذا جانے دیجئے ۔ خوب پلاؤ تور ے کھائیے مرغ پلا ؤ اڑائیے ۔ مگر پہلے اپنے مصنوعی پیغمبر کو تو بلائیے ۔ بغیر ان کے بلائے صرف زبانی جمع خرچ اور فضول باتوں سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ چند مهملات و خرافات کو جمع کر کے کسی کا نام انوار اللہ کسی کا نام حجہ اللہ کسی کا نام نظر سرسری رکھنا کیا فائدہ ہے۔ خوب یاد رکھو کہ اس سے کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو گا۔ ہزار زبان درازیاں کرو۔ ہمارا کچھ نہ بگڑے گا۔ ان امور واہیہ سے عند العقلاء بحجر حماقت و جہالت کے کوئی عمدہ ثمرہ مرتب نہ ہوگا۔نہیں کہ مرزا قادیانی کا سکوت کرنا اس بناء پر ہو کہ ان کے حواریین مباہلہ کے لئے آمادہ ہوں اور خود بدولت قادیان میں گلچھرے اڑائیں۔
یہ بیچارے پریشان ہوں اور وہ مزے لوٹیں اور خوشی سے بغلیں بجائیں۔ واہ واہ خوب ٹھہری کہ یا رستے چھوٹے ۔ اپنی بلامریدوں نے مول لی۔ لیکن یہ نہ سمجھے کہ حیدر آبادی حوار بین نے تو ایک نرالی سج دھج نکالی ہے۔ مرزا قادیانی کو ان کی آن بان کے قربان جانا چاہئے کہ ان کی جان کے بدلے اپنی جانوں کو کھپانے اور قربان کرنے کے لئے بظاہر موجود نظر آتے ہیں۔ مگر حقیقت میں انہوں نے وہ چال چلی ہے کہ اپنی بلا مرزا قادیانی ہی کے سر ڈالی ہے۔
چنانچہ (حجۃ اللہ ص ۴،۳) میں مباہلہ کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ اگر مرزا قادیانی کا ذب ہوں تو ہلاک ہو جائیں، اور بصورت صادق ہونے کے شخص مقابل فنا ہو جائے۔ غرض یہ کہ حوار بین دونوں صورتوں میں ہر آفت سے بچے رہیں۔ سبحان اللہ ! امتی ہوں تو ایسے ہوں۔ چیلے ہوں تو ایسے ہوں۔ دیکھئے ہم پھر کہے دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا بذات خود آنا مباہلہ کے لئے ضرور(1)ہے۔ اس کے بغیر ہم کسی کی نہ سنیں گے۔
حاشیہ
(1)کیونکہ مباہلہ مفاعلہ ہے۔ جو اشتراک کے لئے ہے اور قرآن وحدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ فریقین کو ایک دوسرے کی حضوری میں دعا کرنا چاہیے نہ کہ ایک حاضر ہو اور دوسرا غائب۔
حاشیہ ختم شد
اب اور لیجئے اگر مرزا قادیانی مباہلہ سے بالکل منہ : چھپاتے ہیں تو اس سے زیادہ آسان کام ہم ان کو اور بتلاتے اور ان کو ایک دوستانہ مشورہ دیتے ہیں۔ جس کے کرنے سے احقاق حق اور ابطال باطل بخوبی ہو جائے اور مرزا قادیانی کے طریقہ کی شہرت علی وجہ الکمال تمام دنیا میں بچ جائے ۔ وہ یہ کہ اب آپ ما شاء اللہ مالدار بھی ہو گئے ہیں۔ حج بیت اللہ آپ پر فرض ہو گیا ہے۔ ذرا مہر بانی فرما کر اپنے عنان کومکہ معظمہ ومدینہ منورہ زاد ہما اللہ شرف و کرامتہ کی جانب پھر ایئے اور وہاں جا کر حج وزیارت بھی کیجئے اور اپنی دعوت بھی پھیلائیے۔
چہ خوش بود کہ برآید بیک کرشمہ سہ کار
صرف قادیان میں شور کرنے اور کل یا میں گڑ پھوڑنے سے کیا ہوتا ہے۔ ان مقامات متبرکہ میں جن کے فضائل نصوص قرآنیہ واحادیث نبویہ (1)و اقوال مصطفویہ ﷺسے ظاہر و باہر ہیں ۔ پہنچ کر اپنی مہدویت اور عیسائیت کا اظہار کیجئے اور چونکہ آپ اور آپ کے حوار بین بقول آپ کے مستجاب الدعوات واہل حق ہیں۔ لہذا دعاؤں کی بوچھاڑ لگا ئیے ۔
حاشیہ
(1) وعن أبي هريرة مرفوعاً يوشك أن يضرب الناس أكباد الابل يطلبون العلم فلا يجدون احدا اعلم من عالم المدينة (رواه الترمذى ج ۲ ص ۹۷، باب ماجاء في عالم المدينة ) ، یعنی تقریب لوگ سفر کر کے طلب علم کریں گے۔ پس کسی کو عالم مدینہ سے بڑھ کر زیادہ عالم نہ پائیں گے۔
وعن أبي هريرة مرفوعاً ان الايمان ليأ رزالي المدينة كما تارز الحية الى جحرها انوار اللہ (رواه البخاري ج ۱ ص ٢٥٢ ، باب الايمان يارزالي المدينة ) يعنى ضرورت ہے کہ ایمان مدینہ کے جانب سمٹ کر جائے گا۔ جیسا کہ سمٹتا ہے سانپ اپنی بل کی طرف۔
وعن أنس مرفوعاً ليس عن بلد الا سيطأه الدجال الامكة والمدينة ليس نقب عن انقابها الا عليه الملائكة صافين يحد سونها ( رواه الشيخان، مسلم ج ۲ ص ٤٠٥ ، باب في بقية من احاديث الدجال ) ، یعنی کوئی ایسا شہر نہیں کہ جس میں دجال نہ جائے۔ مگر مکہ و مدینہ کہ ان کے راستوں پر فرشتے صف بستہ ہوں گے اور ان کی حفاظت کریں گے۔
حاشیہ ختم شد
پھر دیکھئے کیا گل کھلتا ہے۔ اگر وہاں کے علماء و دیگر حضرات آپ کے مطیع فرمان ہو گئے تو البتہ یہ آپ کی سچائی کی بڑی علامت ہے۔ پھر بکثرت علماء واہل اسلام آپ کے مطیع ہو جائیں گے۔ اگر وہاں آپ کا جھنڈا گڑ گیا تو کل جہاں آپ کا تابع فرمان ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دین محمدی ﷺ وہیں سے نکلا ہے اور آخر وہیں سمٹ کر جائے گا۔
ناظرین! خوب یا درکھیں کہ مرزا قادیانی جانتے ہیں کہ حرمین شریفین میں ان کی خوب آؤ بھگت ہوگی اور وہاں اچھی طرح تواضع ہوگی۔ وہاں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اتنی مدت کی کی کرائی محنت اکارت جائے گی۔ وہ ہرگز نہ جائیں گے۔ بھولے سے بھی اس طرف رخ نہ کریں گے اور ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ دجال مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ میں نہیں جاسکتا۔ جیسا کہ احادیث نبویہ سے بھی ظاہر ہے۔
اور لیجئے ! اگر آپ اس سفر سے بھی ڈرتے ہیں تو ہم آپ کو اس سے بھی زیادہ تر آسان سے آسان طریقہ بقول آپ ہی کے بتلاتے ہیں۔ جو فقط ایک ہی بات میں احقاق حق و ابطال باطل ہو جاتا اور مسلمانوں کا باہمی اختلاف مٹ جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ (ضرورۃ الامام ص ۱۲ ، خزائن ج ۱۳ ص ۴۸۳) میں خود آپ لکھتے ہیں کہ:
”غرض جو لوگ امام الزمان ہوں گے ان کے کشوف اور الهام صرف ذاتیات تک محدود نہیں ہوتے ۔ بلکہ نصرت دین اور تقویت ایمان کے لئے نہایت مفید اور مبارک ہوتے ہیں اور خدائے تعالیٰ ان سے نہایت صفائی سے مکالمہ کرتا ہے اور ان کے دعا کا جواب دیتا ہے اور بسا اوقات سوال اور جواب کا ایک سلسلہ منعقد ہو کر ایک ہی وقت میں سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب ۔ ایسے صفا اور لذیذ اور فصیح الہام کے پیرا یہ میں شروع ہوتا ہے کہ صاحب الہام خیال کرتا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور امام الزمان کا ایسا الہام نہیں ہوتا کہ جیسے ایک کلوخ انداز در پردہ ایک کلوخ پھینک جائے اور بھاگ جائے اور معلوم نہ ہو کہ وہ کون تھا اور کہاں گیا ۔ بلکہ خدا تعالیٰ ان سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرہ پر سے جو نور محض ہے اتار دیتا ہے اور یہ کیفیت دوسروں کو میسر نہیں آتی ۔ بلکہ وہ تو بسا اوقات اپنے تئیں ایسا پاتے ہیں کہ گویا ان سے کوئی ٹھٹھا کر رہا ہے اور امام الزمان کی الہامی پیش گوئیاں اظہار علی الغیب کا مرتبہ رکھتے ہیں۔ یعنی غیب کو ہر ایک پہلو سے قبضے میں کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ چابک سوار گھوڑے کو قبضہ میں کرتا ہے اور یہ قوت اور انکشاف۔ اس لئے ان کے الہام کو دیا جاتا ہے کہ ان کے پاک الہام شیطانی الہامات سے مشتبہ نہ ہوں اور تا دوسروں پر حجت ہوسکیں۔“
اس کے بعد ( ضرورت الامام ص ۲۴، خزائن ج۱۳ ص ۴۹۵) میں لکھتے ہیں:
” بالآخر یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزمان کون ہے۔ جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور ملہمونوں کو کرنی خدائے تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔ سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالی کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزمان میں ہوں ۔“
اپنا الہام ( تذکرہ ص ۵۱۷ طبع ۳ میں لکھتے ہیں کہ :
”انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون “ یعنی خدا نے ان سے (مرزا قادیانی سے ) کہا کہ: ” تو جس چیز کو کرنا چاہے تو کن کہہ دے وہ فورا موجود ہو جائے گی ۔“اس سے یہ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کو ان کے خدا سے ایسا تقرب ہے کہ بے پردہ ہو کر ان سے گفتگو کرتا اور ان کی ہر بات کو سنتا بلکہ ان سے ٹھٹھا کرتا ہے۔ طرہ یہ کہ ان کو صفت تکوین بھی دے رکھی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کو
چاہئے کہ ایک تاریخ مقرر کر کے اعلان دیں کہ فلاں تاریخ فلاں مقام میں سب مخالفین جمع ہوں ۔ اس مجمع میں ہم ان سے صرف یہ کہہ دیں گے کہ تم سب قادیانی ہو جاؤ ۔ ضرور ہے کہ یہ سنتے ہی وہ سب ان پر ایمان لائیں گے۔ اگر وہ سب ان پر ایمان نہ لائیں اور یہ کن خالی جائے تو اس روز یہ سمجھ جانا چاہئے کہ ان کے جتنے دعوے ہیں وہ سب جھوٹے ہیں اور جس طرح وہ بناوٹی مسیح ہیں۔ ویسا ہی ان کا ٹھٹھا کرنے والا خدا بھی بناوٹی خدا ہے۔ مثل مشہور ہے۔کہ جیسی روح ویسے
فرشتے۔بہر حال جب کہ مرزا قادیانی کو اپنے دین کی تائید اور اس کی تشہیر اور اس کو حق دکھلا نا منظور ہے تو ان کا یہ فرض ہے کہ ایسا اعلان جاری کریں جس نے ہزار ہا مخالفین کا مجمع ہو کر آسانی سے وقت واحد میں مقصود حاصل ہو جائے ۔
اب ہم علی الاعلان مرزا قادیانی اور ان کے اتباع کو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان شقوق مثلاثہ میں سے کوئی ایک طریقہ احقاق حق کے لئے ضرور اختیار کرنا ہوگا۔ ہم اس کے نسبت ایک ماہ تک انتظار کریں گے۔ اگر آپ نے اس مدت میں ان تینوں طریقوں سے بھی گریز فرمایا تو قطعی طور سے تمام اہل اسلام پر واضح ہو جائے گا کہ ہماری حجت مرزا قادیانی پر قائم اور ختم ہو چکی اور مرزا قادیانی بالکل اپنے دعوؤں میں کا ذب اور مفتری ہیں ۔” اللهم انا نعوذ بك من فتنة المحيا والممات، ومن فتنة المسيح الدجال ، اللهم احفظنا من شر الفتن واصلح مناما ظهر منها وما بطن، اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه آمین آمین وصلى الله تعالى على سيدنا محمد و آله وصحبه اجمعين “
الراقم : سید محمد عبد الجبار قادری کان الله لہ
معتمد مجلس اہل سنت حیدر آباد دکن