بسم الله الرحمن الرحيم
کیا کسی نبی کونا جائز خوشامد کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟
پنجابی نبی مرزاغلام احمد قادیانی کی ٹوڈیت کا ثبوت
مرز اغلام احمد قادیانی ماہ جون ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوئے۔ مرزے نے ۱۸۶۴ء میں سیالکوٹ میں بطور اہلمد ملازمت اختیار کی ۔ ترقی کے خیال سے ۱۸۶۸ء میں مختاری کا امتحان دیا لیکن فیل ہو گئے۔ اس ناکامی سے بددل ہو کر اور ملازمت چھوڑ کر اپنے وطن قادیان میں چلے آئے۔ شہرت طلبی کی تدابیر سوچنے لگے۔ اتفاق یا مرزا قادیانی کی خوش قسمتی سے یہ وہ وقت تھا کہ یہ وہ تھا عیسائیوں اور آریوں کی طرف سے اسلام پر اعتراضات اور حملے ہورہے تھے۔
مرزا قادیانی نے موقع کو نیمت سمجھ کر قلم ہاتھ میں لیا اور ۱۸۸۰ء میں براہین احمدیہ نامی کتاب کی تالیف و ترتیب شروع کی۔ جس کے لئے اسلام کے نام پر چندے کی اہلیں شائع کی گئیں۔ ان اپیلوں کے جواب میں مسلمانوں نے فراخ دلی سے روپیہ دیا۔ اس کتاب کی تالیف کا سلسلہ ۱۸۸۴ء میں ختم ہوا۔ اس دوران میں مرزا قادیانی نے پروپیگنڈا کے فن میں مہارت تامہ پیدا کرنے کے علاوہ کافی شہرت بھی حاصل کرلی۔
مرزا قادیانی نے اس اثناء میں ایران کے مدعی مہدویت علی محمد باب اور مدعی نبوت اور مسیحیت بہاء اللہ کی تالیفات اور ان کے دعاوی و دلائل کا مطالعہ شروع کیا۔ جن سے مرزا قادیانی کو اپنے عزائم و مقاصد میں بڑی مدد لی ۔
چنانچہ مرزا قادیانی نے ۱۸۹۱ ء میں ”صحیح“ اور ” مہدی“ ہونے کا اعلان کر دیا اور اس کو کافی نہ سمجھ کر ۱۹۰ ء میں صریح الفاظ میں نبوت کا دعوی کیا۔ عیسائیوں کا مسیح اور مسلمانوں کا مہدی اور نبی بننے کے بعد مرزا قادیانی نے ہندوؤں پر بھی کرم فرمائی ضروری سمجھی۔ چنانچہ ۱۹۰۴ء میں کرشن اوتار ہونے کا دعوی فرمایا۔ اس کے بعد اس قدر گونا گوں دعاوی کئے کہ بس وہ اپنی مثال آپ ہی ہیں۔
نبوت ورسالت کا عظیم الشان دعوی (جس کے مدعی کو محمد مصطفی ﷺکے بعد امت مرحومہ کے تمام اکابر واصاغر اور اولین و آخرین کا فر سمجھتے رہے ہیں) ایسا نہ تھا کہ مسلمان اس کو تسلیم کر لیتے۔ دوسری طرف کرشن اوتار اور مسیحیت کا دعوئی بھی ہندوؤں اور عیسائیوں کے نزدیک مضحکہ خیز تھا۔ اس لئے سب قوموں نے مرزا قادیانی کی مخالفت کی اور ان کے من گھڑت دعاوی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مرزا قادیانی اپنے ان دعاوی میں سچے اور مامور من اللہ ہوتے تو تمام مخلوق سے بے نیاز ہو کر اپنا کام کئے جاتے ۔ لیکن چونکہ ان دعاوی کی بنیاد نفسانیت پر قائم تھی۔ اس لئے آپ کو ایک ایسے مادی سہارے کی تلاش ہوئی۔ جس کے بل بوتے پر آپ اپنے مشن کو جاری رکھ سکتے۔
چنانچہ اس مقصد کے لئے آپ نے حکومت وقت ( جس کو آپ و جان کے لقب سے ملقب کر چکے تھے) کی کاسہ لیسی اور ڈلیل خوشامد کا پیشہ اختیار کیا اور اس معاملہ میں اس قدر غلو کیا کہ جہاد جیسے اسلام کے قطعی مسئلہ کا ( جس کو اسلامی مسائل کی روح کہنا چاہئے انکار کر دیا اور عمر بھر میں جس قدر کتا بیں، رسالے، اشتہار اور اخبار شائع کئے ان کا اکثر و بیشتر حصہ یہی تعلیم دینے میں صرف کر دیا کہ گورنمنٹ کی ہر حال میں اطاعت و فرمانبرداری جزو ایمان ہے اور جہاد حرام ہے۔
چنانچہ آپ نے لکھا ہے:
” میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گذرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتا ہیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتا ہیں اکٹھی کی جاویں تو پھر اس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممانک عرب اور مصر اور شام اور کامل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری یہ ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے بچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو اجمعوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“1
ہندوستانی مسلمانوں کو مرزا قادیانی نے انگریزی اطاعت کا جو درس دیا ہے اسے قطع نظر کر کے سوال یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں انگریزی اطاعت اور مخالفت جہاد کا پروپیگنڈا کرنے کی آپ کو کیا ضرورت پیش آئی ؟ کیا وہاں کے مسلمان بھی انگریزی رعایا میں داخل تھے کہ ان کو اطاعت کا سبق پڑھانا تحمیل ایمان کے لئے لازمی سمجھا گیا۔ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر اس پروپیگنڈا کا بجز اس کے اور کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی اسلامی ممالک کے مسلمانوں کی روح جہاد کو بھی کھلنے کا تہیہ کر چکے تھے اور آپ اسلامی ممالک کو بھی برطانیہ کے زیر تکین دیکھنے کے لئے بے تاب و بے قرار تھے۔ ” انا الله وانا اليه راجعون“
اس نہایت ہی نا پاک مقصد کی تکمیل کے لئے مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کو تیار کیا اور ملی طور پر بتا دیا کہ مرزائی مذہب کے عالم وجود میں آنے کی غرض وغایت کیا ہے۔ چنانچہ آپ اپنی پچاس الماریوں والی کتابوں میں لکھتے ہیں:
” وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی ساتھ و رکھتی ہے وہ ایک بچی مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعوٹی سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے۔ جن کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔ “ 2
2۔۔۔۔” اور میں دھوئی سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اول درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریز کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اول درجہ پر بنا دیا ہے۔ (1) اول والد مرحوم کے اثر نے ۔ (۲) دوم اس گورنمنٹ عالیہ - گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے۔ (۳) تیسرے خدا تعالی کے الہام نے ۔“ 3
کیا آج تک کسی نبی کو اس قسم کا الہام ہوا ہے؟ مرزائی صاحبان جواب دیں۔
3۔۔۔۔” اس لئے خدا تعالٰی نے اس تنبیہ کی صورت کو مسلمانوں کے بہر پر سے بہت جلد اٹھا لیا اور ابر رحمت کی طرح ہمارے لئے انگریزی سلطنت کو دور سے لایا اور وہ کئی اور حرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اٹھائی تھی۔ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آکر ہم سب بھول گئے اور ہم پر اور ہماری ذریت پر یہ فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار ہیں۔“4
مرزا قادیانی نے اپنی ذریت کے علاوہ عام مسلمانوں کے لئے بھی یہ فرض قرار دے دیا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے بچے خیر خواہ اور ولی جاں شمار ہو جائیں ۔ اگر وہ اس سے انکار کریں تو خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
” میں برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں۔ جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے۔ جس کے ترک کرنے سے وہ خدا تعالی کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے بچے خیر خواہ اور دلی جاں نثار ہو جائیں ۔“5
4۔۔۔۔جمہور اہل اسلام کے نزدیک اولی الامر منکم سے اسلامی حکومت مراد ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اپنے گھر کی منطق پر استدلال کرتے ہوئے اس میں انگریزوں کو شامل کر رہے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
” جسمانی طور پر اولی الامر سے مراد بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے یہ مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے ہی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔ اسی لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطلع رہیں۔“6
5۔۔۔۔۔”اور میں نے ان امدادوں میں ایک زمانہ طویل صرف کیا ہے۔ یہاں تک کہ گیارہ برس انہیں اشاعتوں میں گزر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی۔ پس میں یہ دعوی کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور نہیں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویز کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس میں میری نظیر اور مثیل نہیں ۔“ 7
”اور گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں کہ ہم قدیم سے اس کی خدمت کرنے والے اور اس کے ناصح اور خیر خواہوں میں سے ہیں اور ہر ایک وقت پر دلی عزم سے ہم حاضر ہوتے رہے ہیں اور میرا باپ گورنمنٹ کے نزدیک صاحب مرتبہ اور قابل تحسین تھا اور اس سرکار میں ہماری خدمات نمایاں ہیں اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہ گورنمنٹ ان خدمات کو بھلا دے گی۔“8
7۔۔۔۔”میرا باپ اور بھائی مفسدہ ۱۸۵۷ء میں گورنمنٹ کی خدمت اور گورنمنٹ کے باغیوں کا مقابلہ کر چکے ہیں اور میں بذات خود مترہ ہیں نے خود مترہ ہوس سے گورنمنٹ کی یہ خدمت کر رہا ہوں کہ بیسیوں کتا بیں عربی، فارسی اور اردو میں یہ مسئلہ شائع کر چکا ہوں کہ گورٹمنٹ سے مسلمانوں کو جہاد کرنا ہرگز درست نہیں ہے اور میں گورنمنٹ کی پولیٹیکل خدمت اور حمایت کے لئے ایسی جماعت تیار کر رہا ہوں۔ جو آڑے وقت میں گورنمنٹ کے مخالفوں کے مقابلہ میں نکلے گی اور گورنمنٹ کے متعلق مجھے یہ الہام ہوا ہے۔ وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم اينما تولوا فثم وجه الله یعنی جب تک تو گورنمنٹ کی عملداری میں ہے۔ خدا گورنمنٹ کو کچھ تکلیف نہیں پہنچائے گا اور جدھر تیرا منہ ہو گا اس طرف خدا کا منہ ہوگا اور چونکہ میرا منہ گورنمنٹ انگلشیہ کی طرف ہے اور اس کے اقبال و شوکت کے لئے دعا میں مصروف ہے۔“9
8۔۔۔۔”ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔ مند کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں ۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالی کے بھی نا شکر گزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پار ہے ہیں۔ وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے ۔ ہر گز نہیں پاسکتے ۔“10
”میرا یہ دعوی ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی گورنمنٹ نہیں ۔ جس نے زمانہ میں ایسا امن قائم کیا ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے نے زمانہ میں اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کر سکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لا سکتے۔“11
”میں جانتا ہوں کہ ہماری یہ سلطنت جو سلطنت برطانیہ ہے خدا اس کو سلامت رکھے۔ ہے کہ اس رومیوں کی نسبت قوانین معدلت بہت صاف اور اس کے احکام پہلا طوس ہے زیادہ تر زیر کی اور فہم دہ تر یکی ار ہم اور عدالت کی چمک رومی سلطنت کی نسبت اعلیٰ درجہ پر ہے۔ سو خدا تعالی کے فضل کا شکر ہے کہ نے ایسی سلطنت کے حمل حمایت کے نیچے مجھے رکھا ہے۔ جس کی تحقیق کا پلہ شبہات کے پہلے سے بڑھ کر ہے۔“12
”ہمیں سلطان روم کی نسبت سلطنت انگریزی کے ساتھ زیادہ وفاداری اور اطاعت دکھلانی چاہئے۔ اس سلطنت کے ہمارے سر پر وہ حقوق ہیں جو سلطان کے نہیں ہو سکتے ۔ ہرگز نہیں ہو سکتے۔“13
9۔۔۔۔ ”جب ہم ۱۸۵۷ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے فتوؤں پر نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے عام طور پر مہریں لگادی تھیں۔ جو انگریزوں کو قتل کر دینا چاہیئے تو ہم بحر ندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے ان کے فتوے تھے۔ جن میں نہ رحم تھا یہ عقل تھی نہ اخلاق نہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کر دیا اور اس کا نام جہاد رکھا ۔“14
مرزا قادیانی اپنے والد صاحب کا واسطہ دے کر لکھتے ہیں:
”میرا باپ مرزاغلام مرتضی اس نواح میں ایک نیک نام رئیس تھا اور گورمنٹ کے اعلیٰ افسروں نے پرزور تحریروں کے ساتھ لکھا کہ وہ اس گورنمنٹ کا سچا مخلص اور وفادار ہے اور میرے والد صاحب کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور ہمیشہ اعلیٰ حکام عزت کی نگاہ سے ان کو دیکھتے تھے اور اخلاق کریمانہ کی وجہ سے حکام ضلع اور قسمت کبھی کبھی ان کے مکان پر ملاقات کے لئے بھی آتے تھے۔ کیونکہ انگریزی افسروں کی نظر میں وہ ایک وفادار رئیس تھے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ ان کی اس خدمت کو کبھی نہیں بھولے گی کہ انہوں نے ۱۸۵۷ء کے ایک نازک وقت میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس سوارا اپنے عزیزوں اور دوستوں سے مہیا کر کے گورنمنٹ کی امداد کے لئے دیئے تھے۔ چنانچہ ان سواروں میں سے کئی عزیزوں نے ہندوستان میں مردانہ وار لڑائی مفسدوں سے کر کے اپنی جانیں دیں اور میرا بھائی مرزاغلام قادر تموں کے چین کی لڑائی میں کر اور قادر شریک تھا اور بڑی جانفشانی سے مدد دی۔ فرض اس طرح میرے بزرگوں نے اپنے خون سے اپنے مال سے اپنی جان سے اپنی متواتر خدمتوں سے اپنی وفاداری کو گورنمنٹ کی نظر میں ثابت کیا۔ سو انہیں خدمات کی وجہ سے میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ ہمارے خاندان کو معمولی رعایا میں سے نہیں سمجھے گی اور اس کے اس حق کو کبھی ضائع نہیں کرے گی جو بڑے فتنہ کے وقت میں ثابت ہو چکا ہے۔“15
جناب شہزاده ویلیز اہم نمائندگان جماعت احمد یہ جناب کی خدمت میں جناب کے ورود ہندوستان پر تہ دل سے خوشامد ید کہتے ہیں اور اگر چہ ہم وہ الفاظ نہیں پاتے جن میں جناب کے خاندان سے اپنی دلی وابستگی کا اظہار کما حقہ کر سکیں۔ لیکن مختصر لفظوں میں ہم جناب کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ اگر ہمارے ملک معظم کو ہماری خدمات کی ضرورت ہو تو بلا کسی حوض اور بدلہ کے خیال کے ہم لوگ اپنا مال اور اپنی جانیں ان کے احکام کی بجا آوری کے لئے دینے کے لئے تیار ہیں۔
حضور عالی ! چونکہ ہماری جماعت نئی ہے اور تعداد میں بھی دوسری جماعتوں کے مقابلہ میں کم ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ جناب کو پوری طرح ہماری جماعت کا علم نہ ہو۔ اس لئے ہم مختصراً اپنے متعلق جناب کو کچھ علم دے دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ اللہ تعالی کے فضل سے اس وسیع ملک کی حکومت کی باگ آپ کے ہاتھ میں آنے والی ہے اور بادشاہ کی حکومت کے استحکام میں جو امر بہت ہی محمد ہوتے ہیں ان میں سے اپنی رعایا کے مختلف طبقوں کا علم بھی ہے۔
حضور عالی اہم ایک مذہبی جماعت ہیں اور ہمیں دوسری جماعتوں سے امتیاز اپنے مذہبی عقائد کی وجہ سے ہے۔ ہم دوسرے مسلمانوں ہیں اور ہمیں اس نام پر فخر ہے۔ لیکن باوجود اس کے ہم میں اور دوسرے مسلمانوں میں ایک عظیم الشان خندق حائل ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کی طرح جو آج سے انیس سو سال پہلے خدا کے ایک برگر گزیدہ کی آواز پر لبیک کہنے والے تھے۔ اس وقت کے مامور حضرت مرزاغلام احمد ساکن قاد. قادیان ضلع گورداسپور کے ماننے والے ہیں۔ جنہیں اللہ تعالی نے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے اور ہمارے دوسرے بھائی ان لوگوں کی طرح جنہوں نے حضرت مسیح کا انکار کر دیا تھا، اس کے منکر ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ آنے والا صبح صبح کے رنگ میں آنے والا تھا نہ کہ خود مسیح نے آنا تھا۔
ہمارے سلسلہ کی بنیاد انتیس سال سے پڑی ہے اور ہا وجود سخت سے سخت مظالم کے جو ہمیں برداشت کرنے پڑے ہیں۔ اس وقت ہندوستان کے ہی ہر ایک صوبہ میں ہماری جماعت . نہیں ہے۔ بلکہ سیلون، افغانستان، ایران، عراق، عرب، روس، ماریشس، نیپال، ایسٹ افریقہ، ، مصر، سیرالیون، گولڈ کوسٹ، نائجر یا، یونایٹر ٹیس۔ خود انگلستان میں ہماری جماعت موجود ہے اور ہمارا اندازہ ہے کہ دنیا میں نصف ملین کے قریب لوگ اس جماعت میں شامل ہیں اور یہی نہیں کہ صرف مختلف ممالک کے ہندوستانی ساکنین ہی اس جماعت میں شامل ہیں۔ بلکہ خود ان ممالک کے رہنے والے اس جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔ چنانچہ لنڈن کے علاقہ پٹنی میں ہمارا مشن قائم ہے اور ایک مسجد بھی ہے اور انگلستان کے قریبا دو سو آدمی اس سلسلہ میں شامل ہو چکے ہیں اور اسی طرح یونائٹیڈ سٹیٹس کے لوگوں میں یہ سلسلہ پھیل رہا ہے اور ہم لوگ یقین رکھتے ہیں کہ ایک وقت یہ سلسلہ سب جہاں میں پھیل جائے گا۔
حضور عالی! ان مختصر حالات بتانے کے بعد ہم جناب کو بتلانا چاہتے ہیں کہ ہمارے وفا داری چناب کے والد مکرم سے کسی دنیا دی اصل پر نہیں ہے اور نہ کوئی دنیادی طمع اس کا موجب ہے جو خدمات گورنمنٹ کی بحیثیت جماعت ہم کرتے ہیں۔ اس کے بدلہ میں کبھی کسی بدلہ کے طالب نہیں ہوئے ۔ ہماری وفاداری کا موجب ایک اسلامی حکم ہے۔ جس کے متعلق بانی سلسلہ نے ہمیں سخت تاکید کی ہے کہ کبھی اسے نظر انداز نہ ہونے دیں اور وہ حکم یہ ہے کہ جو حکومت ہمیں مذہبی آزادی دے اس کی نہیں ہر حالت میں فرمانبرداری کرنی چاہئے اور اگر کوئی حکومت ہمارے مذہبی فرائض میں دست اندازی کرے تو بجائے اس کے ملک میں فساد ڈلوانے کے اس کے ملک سے ہمیں نکل جانا چاہئے ۔
ہمارے تجربہ نے ہمیں بتلا دیا ہے کہ تخت برطانیہ کے زیر سایہ ہمیں ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے۔ حتی کہ اکثر اسلامی کہلانے والے ملکوں میں ہم اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کر سکتے۔ مگر تاج برطانیہ کے زیر سایہ ہم خود اس مذہب کے خلاف جو ہمارے ملک معظم کا ہے تبلیغ کرتے ہیں اور ان کی اپنی قوم کے لوگوں میں ان کے اپنے ملک میں جاکر اسلام کی اشاعت کرتے ہیں اور کوئی ہمیں کچھ نہیں کہتا اور ہم یقین کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کی اس قدر جلد اشاعت میں حکومت برطانیہ کے غیر جانبدار ردیہ کا بھی بہت کچھ دخل ہے۔ سو حضور عالی، ہماری فرمانبرداری مذہبی امور پر ہے۔ اس لئے گو ہم حکومت وقت کی پالیسی سے کس قدر ہی اختلاف کریں۔ کبھی اس کے خلاف کھڑے نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اس صورت میں ہم خود اپنے عقیدہ کے رو سے مجرم ہوں گے اور ہمارا ایمان خود ہم پر حجت قائم کرے گا۔
حضور ملک معظم کی فرمانبرداری ہمارے لئے ایک مذہبی فرض ہے۔ جس میں سیاسی حقوق کے ملنے یا نہ ملنے کا کچھ دخل نہیں۔ جب تک ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ہم اپنی ہر ایک ہیں۔ جب تک ہمیں مذہبی آزادی حاصل چیز تاج برطانیہ پر شمار کرنے کے لئے تیار ہیں اور لوگوں کی دشمنی اور عداوت ہمیں اس سے باز نہیں رکھ سکتی ۔ ہم نے بار ہاسخت سے سخت سوشل بائیکاٹ کی تکالیف برداشت کر کے اس امر کو ثابت کر دیا ہے اور اگر ہزار ہا دفعہ پھر ایسا موقعہ پیش آئے تو پھر ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ بوقت ضرورت ہمیں اس دعوٹی کے ثابت کرنے کی اس سے زیادہ توفیق دے گا۔ جیسا کہ وہ پہلے اپنے فضل سے دیتا رہا ہے۔
ہم اس امر کو سخت نا پسند کرتے ہیں که اختلاف سیاسی کی بناء پر ملک کے امن کو برباد کیا جائے۔ ہمارا مذہب تو ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر نہ ہی ظلم بھی ہو۔ تب بھی اس ملک کا امن پر ہا نہ کرو۔ بلکہ اسے چھوڑ کر چلے جاؤ۔ لوگ ہمارے ان خیالات پر ہمیں قوم اور ملک کا بدخواہ کہتے ہیں اور بعض گورنمنٹ کا خوشامدی سمجھتے ہیں اور بعض بیوقوف یا موقعہ کا متلاشی قرار دیتے ہیں۔ مگر اے شہزادہ مکرم! ہم لوگوں کی باتوں سے خدا کو نہیں چھوڑ سکتے۔ دنیا ہمیں کچھ کہے۔ جب کہ ہمارے خدا نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم امن کو بر باد نہ ہونے دیں اور صلح کو دنیا پر قائم کریں اور تمام بنی نوع انسان میں محبت پیدا کر کے انہیں باہم ملائیں تو ہم صلح اور محبت کا راستہ نہیں چھوڑ سکتے ۔ ہم بہر حال اپنے بادشاہ کے وفادار ہیں گے اور اس کے احکام کی ہر طرح فرمانبرداری کریں گے۔
حضور عالی ! آپ نے اس قدر دور دور از کا سفر اختیار کر کے جو ان لوگوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرنی چاہی ہے۔ جن پر کسی آئندہ زمانہ میں حکومت کرنا آپ کے لئے مقدر ہے۔ اس قربانی وایثار کو ہم لوگ شکر اور امتحان کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کوئی شخص جو ذرہ بھر بھی حق اور اس کی محبت اپنے دل میں رکھتا ہے۔ آپ کے سفر کو کسی اور نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ پس ہم لوگ آپ کی اس ہمدردی اور ہمارے حالات سے دلچسپی رکھنے پر آپ کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ جس طرح آپ نے اپنے باپ کی رعایا کی طرف محبت کی نظر ڈالی ہے۔ وہ بھی آپ پر اپنی محبت کی نظر ڈالے۔
حضور عالی! ہماری جماعت نے جناب کے ورود ہندوستان کی خوشی میں جناب کے لئے ایک علمی تحفہ تیار کیا ہے۔ یعنی اس سلسلہ کی تعلیم اور اس کے تعلیم اور اس کے قیام کی غرض اور دوسرے سلسلوں سے اس کا امتیاز اور باقی سلسلہ کے مختصر حالات اس رسالہ میں لکھے ہیں اور اس میں جناب ہی کو مخاطب کیا گیا ہے۔ سلسلہ کے موجودہ امام نے اسے لکھا ہے اور بتیس ہزار آدمیوں نے اس کی چھپوائی میں حصہ لیا ہے۔ تاکہ ان کے خلوص کے اظہار کی یہ علامت ہو اور ابھی وقت کی قلت مانع رہی ہے۔ ورنہ اس سے بہت زیادہ لوگ اس میں حصہ لیتے۔
حضور شہزادہ والا تبار ہم یہ تحفہ بوساطت گورنمنٹ پنجاب حضور میں پیش کرتے ہیں اور ادب و احترام کے ساتھ لیتی ہیں کہ کچھ وقت اس کے ملاحظہ کے۔ کے ملاحظہ کے لئے وقف فرمایا جاوے۔
آخر میں پھر ہم جناب کو تہہ دل سے ورود ہندوستان اور پھر ورود پنجاب پر جو مرکز سلسلہ احمد یہ ہے خوش آمدید کہتے ہیں اور آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے والد مکرم سے ہماری طرف سے عرض کر دیں کہ ہماری جماعت باوجود اپنی کمزوری نا طاقتی اور قلت تعداد کے ہر وقت جناب کے لئے اپنا مال و جان قربان کرنے کے لئے تیار ہے اور ہر حالت میں آپ اس جماعت کی وفاداری پراعتماد کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت دے اور آپ کے قدم کو اپنی خوشنودی کی راہوں پر چلائے اور ہر ایک آفت زمانہ سے آپ کو محفوظ رکھے۔ بلکہ اپنی مرد اور نصرت کا دامن آپ کے سر پر پھیلائے۔16
انصاف کی کسوٹی پر اس چیز کو پر کھا جائے کہ غیر اللہ کی کاسہ لیسی اور ذلیل خوشامد جس خانه ساز نبوت کا فرض اولین اور جزو ایمان ہو کیا اسلام جیسے پاکیزہ دین اور خدا تعالی جیسی بلند ہو ترین ہستی کے ساتھ اسکو دور کاتعلق بھی ہو سکتا ہے؟وما علينا الا البلاغ
(ما خود از تائید اسلام)