بسم الله الرحمن الرحيم
حامدا ومصليا ومسلما
اما بعد آج کل بعض حواریان مرزا غلام احمد، مرزا صاحب کے دعوی مسیح موعود ہونے کے اثبات میں صحیح مسلم کی یہ حدیث پیش کرتے پھرتے ہیں کیف انتم اذا نزل ابن مريم فامكم منكم یعنی کیا حال ہوگا تمہارا جب ابن مریم اترے گا پس تمہاری امامت کرائے گا تم میں سے۔ کہتے ہیں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو ابن مریم نازل ہوگا وہی امام بنے گا یعنی مہدی مسعود ہو گا اور یہی دعویٰ مرزا صاحب کا ہے کہ میں مسیح موعود اور مہدی مسعود دونوں ہوں ۔
فاقول اولا : اس حدیث اور دیگر احادیث نزول مسیح موعود میں رسول اکرم ﷺ نے مسیح موعود یعنی اترنے والے کا اسم علم بتلا دیا ہے اور وہ علم انبیاء بنی اسرائیل میں سے ایک مشہور نبی کا نام ہے اور یہ امر جملہ فرق اسلامیہ میں بلا اختلاف مانا ہوا ہے کہ کتاب اللہ اور احادیث رسول اللہ ﷺ میں اعلام انبیاء آدم
سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ تک جس جگہ مذکور ہیں ان اعلام سے ان کے مسمی اور اشخاص خاص ہی مراد ہیں کیونکہ وہ اعلام ذاتی ہیں ذات خاص کے مقابلہ میں وضع کئے گئے ہیں ان اعلام کا اطلاق کر کے ان کے مسمی اور موضوع لہ کو چھوڑ کر ان کا مثیل مراد لینا کسی طرح لغۃً اور شرعاً درست نہیں۔
( صحیح مسلم کی دوسری جلد کے صفحہ ۳۶۹) میں سعید بن جبیر ﷺ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس
سے عرض کیا کہ نوف بکالی کہتا ہے قرآن شریف میں جو قصہ حضرت موسی
و حضرت خضر
کا مذکور ہے اس میں موسیٰ
سے حضرت موسی
نبی مراد نہیں ( یعنی کوئی اور ان کے نام پر ہیں ) حضرت ابن عباس
نے فرمایا کذب عدو الله اس دشمن خدا نے جھوٹ بولا ۔
اس حدیث عبداللہ بن عباس
سے واضح طور پر معلوم ہو گیا کہ جو اسامی انبیاء قرآن وحدیث میں مذکور ہیں ان میں تاویل کر کے ان کے مسمی اور موضوع لہ کے سواء کوئی اور مثیل وغیرہ مراد لینا نا جائز ہے۔ اور خدا کا دشمن بننا ہے پس جس جگہ قرآن وحدیث میں ابن مریم یا عیسی بن مریم مذکور ہے وہاں یقیناً وہی ابن مریم مراد ہیں جو بنی اسرائیل کے رسولوں میں سے ایک رسول گزرے ہیں ۔ اور جس پر انجیل نازل ہوئی ہے اس اسم کے مسمی کو چھوڑ کر اور جس ذات کے مقابلہ میں یہ نام وضع کیا گیا ہے اس موضع لہ کو ترک کر کے مثیل ابن مریم مراد لینا الحاد کا دروازہ کھولنا ہے کیونکہ اجماعی عقیدہ اہل حق کا ہے کہ نصوص قرآن وحدیث کے متبادر معنی کو بلا صارف چھوڑ کر اپنی طرف سے نئے معنی گھڑنا الحاد ہے كما في العقائد وصرف النصوص عن الظاهر والعدول عنها الحاد
ثانیا: یہ حدیث صحیح بخاری میں اور نیز صحیح مسلم کی دیگر روایات میں ان الفاظ سے مروی ہے كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منکم یعنی کیا حال ہو گا تمہارا جب ابن مریم تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پہلی روایت اور اس میں کس قدر اختلاف ظاہری تو موجود ہے مگر فی الواقع کچھ اختلاف نہیں بلکہ یہ دونوں روایتیں عیسی
کی دو حالتیں بتلاتی ہیں روایت اول میں وہ حالت مذکور ہے جب کہ عیسی
خود امامت کرائیں گے مجمع البحار میں جملہ فامکم منکم کی شرح اس طرح کی ہے ای يومكم عيسى حال كونه من دينكم یعنی عيسی
تمہارے امام بنیں گے جب کہ وہ تمہارے دین پر ہوں گے اور خود صحیح مسلم میں بھی اس جگہ اس جملہ فامکم منكم “ کے معنی اسی طرح ایک راوی سے نقل کئے ہیں۔ فامكم بكتاب ربكم عز وجل وسنة نبيكم چونکہ یہ شبہ گزرتا تھا کہ عیسی
نبی ہیں دنیا میں تشریف لا کر شاید اپنے دین کے موافق انجیل پر عمل کریں اس شبہ کو رفع کرنے کے واسطے خود صاحب صحیح مسلم ہی نے روایت نقل کر کے بتلا دیا کہ جب حضرت عیسی
نازل ہوں گے اور امام بنیں گے تو دین اسلام کے پیرو ہوں گے اور کتاب وسنت پر عمل کریں گے۔
دوسری روایت میں وہ حالت عیسی
کی بتلائی گئی ہے کہ جب وہ اول ہی اتریں گے تو حضرت امام مہدی
کے پیچھے نماز پڑھیں گے مجمع البحار میں اس کی شرح اس طرح کی ہے كيف حالكم وانتم مكرمون عند الله والحال ان عيسى ينزول فيكم وامامكم منكم وعيسى يقتدى بامامکم یعنی کیا حال ہوگا تمہارا اور تم اللہ کے نزدیک مکرم ہو جب کہ عیسی
تمہارے امام کے پیچھے اقتداء کریں گے ۔
یہ حدیث مختصر ہے صحیح مسلم کی اس دوسری مفصل حدیث کا عن جابر بن عبدالله يقول سمعت رسول الله ﷺ يقول لا يزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة قال فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ سنا میں نے رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے ہمیشہ رہے گا گروہ میری امت میں غالب اور حق پر لڑنے والا قیامت کے دن تک فرمایا پس اتریں گے عیسی
مسلمانوں کا امیر کہے گا آؤ نماز پڑھاؤ وہ انکار کریں گے اور کہیں گے تم خود ایک دوسرے کے امام ہو۔ یہ اس امت کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے عزت ہے۔ انتھی
انہیں دو حالتوں عیسی
کو صفحہ ۴۵۳ ، جلد7، عمدۃ القاری ، شرح صحیح بخاری میں ان الفاظ سے لکھا ہے: فبينما هم كذالك اذا سمعوا صوتا في الغلس فاذا عيسى وتقام الصلوة فيرجع امام المسلمين فيقول تقدم فلك اقيمت الصلوة فيصلى لهم ذالك الرجل تلك الصلوة ثم يكون عیسیٰ الامام بعد یعنی جب کہ مسلمان اپنے کام میں مصروف ہوں گے اچانک اول وقت صبح(1) کے آواز سنیں گے تو عیسی
کو پائیں گے نماز کی تکبیر کہی جائے گی تو حضرت امام مہدی
پیچھے ہٹیں گے تا کہ عیسی
نماز پڑھائیں حضرت عیسی
فرمائیں گے آپ ہی نماز پڑھا ئیں آپ کے واسطے تکبیر کہی گئی ہے چنانچہ وہی نماز پڑھائیں گے اس کے بعد حضرت عیسی
خود امام ہوں گے۔ انتھی حواری مرزا صاحب جابر بن عبد اللہ
کی حدیث سے معلوم کر لیں کہ امام وقت ( جو جمہور اہل اسلام کے نزدیک حضرت امام مہدی
ہیں ) وہ حضرت عیسی
سے جدا ہیں پھر دونوں کو ایک قرار دینا حدیث رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتا ہے یا نہیں اور مکذب حدیث کون ہوتا ہے۔ بینو ا بالانصاف حاليا عن الزيغ والاعتساف
ثالثاً: رسول اکرم ﷺ نے پیشین گوئی نزول عیسی
میں علاوہ نام بتا دینے کے یہ بھی فرمایا کہ وہی عیسی
نبی اتریں گے جو میرے سے پہلے ہوئے ہیں پس اس تعین زمان ماضی سے حدیث نزول میں تاویل مثیل عیسی
کا احتمال ہی ناممکن ہو گیا۔ حيث قال ﷺ لیس بینی و بینه یعنی عیسیٰ نبی وانه نازل فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مابین میرے اور عیسی
کے اور کوئی نبی نہیں گزرا اور وہی عیسی
نبی اتریں گے ۔ ( ابو داؤ د ۲۳۸، جلد ۲ )
حاشیہ
(1) بعض علماء نے وقت عصر لکھا ہے مگر وقت صبح با عتبار روایت کے قوی ہے۔ ۱۲ منہ
حاشیہ ختم شد
پھر نزول عیسی کی پیشین گوئی ایک دو حدیث میں نہیں بلکہ احادیث نزول عیسی
تو اتر معنوی کے درجہ پر پہنچتی ہیں اور طرفہ یہ کہ ہر ایک حدیث میں یہ پیشین گوئی لفظ نزول اور اس کے مشتقات ہی سے کی گئی ہے۔ لہذا یہ احتمال بھی باقی نہیں رہا کہ نزول اس پیشین گوئی میں اپنے حقیقی معنی فرود آمدن میں مستعمل نہیں ۔ كما يقول بعض الحواري تبعاً للقادیانی کہا علامہ شوکانی نے اپنے رسالہ توضیح میں فهذا تسعة وعشرون حديثاً تنضم اليها احاديث اخر ذكر فيها نزول عيسى ، یعنی انتیس (۲۹) حدیثیں ہیں اور ان کے ہمراہ اور احادیث ملتی ہیں جن میں عیسی
کے اترنے کا ذکر ہے۔ پھر فرماتے ہیں: وجميع ما سقناه بالغ حد التواتر كما لا يخفى على من له فضل اطلاع یعنی تمام احادیث جو اس جگہ ہم لائے ہیں تواتر کی حد تک پہنچتی ہیں۔
اور یہی بشارت نزول حضرت ممدوح معمولی ہی الفاظ میں نہیں بلکہ بعض احادیث بخاری میں رسول اکرم ﷺ نے قسم کھا کر نزول عیسی
کی خبر دی ہے اور حروف تاکید سے موکد فرما دیا ہے:كما قال ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم .. الخ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے البتہ قریب ہے کہ اتریں گے تمہارے اندر ابن مریم ۔
اس حدیث بخاری کی شرح میں شارحین محد ثین نے جو واقعی حقیقی معنی نزول کے آسمان سے اترنے کے ہیں وہی بتلا دیئے ہیں چنانچہ کہا عمدۃ القاری ميں ليسر عن نزول ابن مريم فيكم ونزوله من السماء فان اله رفعه اليها وهو حى ينزل عند المنازة البيضاء بشرقي دمشق واضعا كفيه على اجتحة ملكين وكان نزوله عند انفجار الصبح (ص ۵۸۳، ج:5) یعنی مسیح ابن مریم تم میں اتریں گے اور ان کا اترنا آسمان سے ہوگا کیونکہ اللہ تعالی نے ان کو آسمان کی طرف اٹھا لیا ہے اور وہ زندہ ہیں اتریں گے دمشق کے مشرق کی طرف سفید منارہ کے پاس ان کے دونوں ہاتھ دوفرشتوں کے بازؤوں پر ہوں گے اور وہ صبح نکلتے ہی اتریں گے ۔ انتہیٰ۔ پس ان تمام احادیث متواترہ المعنی کی تاویل بے دلیل یا تحریف معنوی کے درپے ہونا تكذيب النبي فيما علم مجيئه بالضرورة میں داخل ہے یا نہیں ۔
رابعاً: جس مسیح موعود کے نزول کی خبر مخبر صادق ﷺ نے دی ہے ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا ہے کہ وہ موعود نبی ہیں۔ حدیث ابو داؤ د تو اوپر گزر چکی اور صحیح مسلم کے صفحہ ۴۰۱ جلد دوم میں ان کلمات سے مسیح موعود کا نام بتلایا گیا ہے یحصر نبي الله عيسى واصحابه اور گھیرے جائیں گے اللہ کے نبی عیسی مع ہمراہیوں کے۔ دوسری جگہ فرمایا فيرغب نبي الله عيسى واصحابه الى الله پس متوجہ ہوں گے اللہ کے نبی عیسی
معہ ہمراہیوں کے اللہ کی طرف۔ پھر فرمایا : ثم يهبط نبی اللہ عیسیٰ واصحابه الى الارض پھر اتریں گے اللہ کے نبی عیسی
مع ہمراہیوں کے زمین کی طرف۔
پس موافق فرمانے رسول اکرم ﷺ کے مسیح موعود یقیناً نبی ہیں لہٰذا اگر مرزا صاحب ادعاء مسیح موعود ہونے کے ساتھ مدعی نبوت بھی ہیں جیسا کہ یقیناً ان کے رسائل توضیح المرام اور ازالہ اوہام وغیرہما سے ظاہر ہے تو مرزائیاں بشرطیکہ کچھ بھی قواعد اور عقائد اسلام کے پابند ہیں انصاف سے کہہ دیں کہ بعد خاتم النبیین ﷺ دعوی نبوت کفر ہے یا نہیں؟ اور اگر بفرض تسلیم ( جیسا کہ بعض نئے حواری دبی ہوئی زبان سے کہتے ہیں ) مرزا صاحب مدعی نبوت نہیں تو یقیناً مسیح موعود بھی نہیں کیونکہ مسیح موعود کے واسطے نبوت وصف لازم ہے ۔ و انتفاء اللازم يستلزم انتفاء الملزوم
عبرت: مرزا صاحب کے ایک نئے حواری سے جب راقم الحروف نے یہ بیان کیا کہ احادیث صحیحہ میں مسیح موعود کو نبی بتایا گیا ہے لہذا تمہارے نزدیک تو مرزا صاحب یقیناً نبی ہیں ورنہ مرزا صاحب کا دعوی غلط اور وہ مسیح موعود نہیں ۔ نئے حواری نے سوچ کر یہ جواب دیا اور چل دیئے کہ ان احادیث میں نبی کے اصطلاحی معنی مراد نہیں جو دعوی نبوت لازم آئے بلکہ لغوی معنی مراد ہے۔ میں نے کہا کیا خوب پس تمہاری شریعت بھی مسلمانوں کی شریعت سے جدا ہے جس میں دو قسم کے معنی ہیں اصطلاحی اور لغوی ۔ فاعتبروا یا اولی الابصار كيف انحرفوا عن طريق الاخيار ولم يخافوا من حديث سيد الابرار (صلوات الله وسلامه عليه وعلى اله وصحبه من الرب الغفار) من كذب على متعمدا فليتبوء مقعده من النار
خامساً: مرزا صاحب کا یہ دعویٰ کہ میں مہدی مسعود بھی ہوں احادیث متواتر رسول اکرم کے مخالف ہے کیونکہ وہ سب احادیث اس امر کو ثابت کرتی ہیں کہ مہدی مسعود جو آخر زمانہ میں قیامت کے قریب پیدا ہوں گے وہ حضرت سیده فاطمه الزہرا
كي اولاد سے ہوں گے حالانکہ باقرار خود مرزا صاحب مغل ہیں کہا لمعات شرح مشکوۃ میں قد تظاهرت الاحاديث البالغة حد التواتر معنى في كون المهدى من ولد فاطمة ، یعنی احادیث متواتر معنوی کے درجہ پر پہنچی گئیں ہیں جو اس امر کو ثابت کرتی ہیں کہ حضرت امام مہدی
بنی فاطمہ سے ہوں گے۔ اور کہا علامہ شوکانی نے اپنے رسالہ توضیح میں فهذا فيها الصحيح والحسن والضعيف المخبر وهي متواتر بلاشبهة پھر فرماتے ہیں: واما الآثار من الصحابة المصرفة بالمهدى كثيرة
بعض اہل اسلام یہ کہا کرتے ہیں کہ اگر کوئی حدیث ایسی معلوم ہو جائے جس سے عیسی
کا زندہ آسمان پر جانا ثابت ہوتا ہے تو ہمارے دل کو پوری تشفی ہو جائے پس سچے مسلمانوں کے اطمینان کے واسطے لکھا جاتا ہے کہ سعید بن منصور اور نسائی اور ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ چار حدیث کی کتابوں میں عیسی
کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا ثابت ہے۔ کہا تفسیر البیان میں اخرج سعيد بن منصور والنسائي وابن ابی حاتم وابن مردوية عن ابن عباس قال لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء خرج الى اصحابه وفى البيت اثنا عشره رجلا من الحواريين فخرج عليهم من عين البيت وراسه يقطر ماء...... الى ان قال : ورفع عيسى من روزنته في البيت الى السماء روایت کیا سعید بن منصور ونسائی وابن حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس
سے کہا انہوں نے جب ارادہ کیا! اللہ نے یہ کہہ کر اٹھایا حضرت عیسی
کو آسمان کی طرف نکلے حضرت عیسی
اپنے یاروں کی طرف اور گھر میں بارہ شخص تھے حواریوں میں سے پس نکلے ان پر ایک چشمے سے جو گھر میں تھا اور سر سے ان کے پانی ٹپکتا تھا ( یہاں تک کہ ابن عباس نے فرمایا) اور اٹھائے گئے عیسی روشندان سے جو گھر میں تھا آسمان کی طرف انتهى بقدر الضرورة
اور تفسیر ابن کثیر میں حضرت امام المحد ثین خواجہ حسن بصری
سے روایت ہے کہ وہ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ عیسی
اب زندہ ہیں اور جب اتریں گے سب اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے ۔ عبارت بلفظہ یہ ہے ۔ قال ابن جریر حدثنی یعقوب حدثنا ابن علية حدثنا ابورجاء من الحسن وان من اهل الكتاب إلا ليومنن به قبل موت عيسى والله انه لحى الان عند الله ولكن اذا نزل امنو به اجمعون اور حدیث مرسل حسن بصری کی حکم میں مرفوع کے ہے تہذیب میں علی بن مدینی سے نقل کیا ہے و مرسلات الحسن البصرى التي رواها عند الثقات صحاح اقل ما يسقط منها
الحاصل جملہ اہل اسلام آنحضرت ﷺ کے وقت سے اب تک یعنی صحابہ تابعین و محدثین و مجتہدین فقہا و عارفین کا یہی اعتقاد ہے کہ عیسی
نازل ہوں گے اور دجال کو وہ شخص معین ہی قتل کریں گے اور وہ اب آسمان پر زندہ مع الجسد موجود ہیں ۔ (شرح صحیح مسلم کی جلد دوم صفحہ ۳۹۹) میں حضرت امام نووی
بعد ذکر کرنے دجال کے اور عیسی
کے اس کو قتل کرنے کے فرماتے ہیں ۔ هذا مذهب اهل السنة وجميع المحدثين والفقهاء والنظار خلافا لمن انكره وأبطل امره من الخوارج والجهمية وبعض المعتزلة. وفي هذا كفاية لمن له دراية والحمد لله اولا واخرا ظاهرا وباطنا . وانا العبد المذنب العاصي
مشتاق احمد انبیٹھوی عفی اللہ عنہ