قُولُوا إِنَّهُ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءَ وَلَا تَقُولُو لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ کہو خاتم الانبیاء ہیں مگر یہ نہ کہو کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔1
یہ قول صاحب تکملہ مجمع البحار نے بے سند نقل کیا ہے لہذا یہ احادیث اصحاح کے مقابلہ میں نہیں آسکتا۔ ارے جب خود حضور اقدس ﷺ سے متعدد مقامات پر ثابت ہو چکا کہ آپ خود فرماتے ہیں:لانَبِی بَعْدِی اگر لانبی کہنا خطا ہوتا تو حضور اقدسﷺ کیوں فرماتے ۔ معلوم ہوا کہ یہ قول بے سند قابل حجت نہیں۔
اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ قول حضرت عائشہ
کا ہے۔ تو ہم کہیں گے کہ ذرا خدا سے ڈر کر تکملہ مجمع البحار میں اسی قول کے آگے متصلا جو جملہ ہے۔ اسے بھی لوگوں کو پڑھ کر سنا دو کہ صاحب مجمع البحار اس قول کے آگے خود تصریح فرمارہے ہیں۔ هذا نا ظرالی نزول عیسی یعنی حضرت عائشہ قولوا انه خاتم الانبياء ولا تقولو الانبي بعده حضرت عیسٰی
کے نزول کو مد نظر رکھ کر فرمایا ہے یعنی چونکہ حضرت عائشہ
حضورﷺ سے معلوم کر چکی تھیں کہ حضور کے بعد عیسی
آسمان سے اتریں گے اسلئے حضرت عائشہ
نے فرمایا کہ حضورﷺ کو خاتم النبیین تو کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس لئے کہ حضرت عیسی
نے جو ابھی آتا ہے۔ بتائیے صاحب اس قول سے تو مارے ہی عقیدہ باطلہ وفات مسیح کی تردید ثابت ہو رہی ہے۔ اجرائے نبوت کو تو ذرا بھی تمہارے اس سے تقویت نہیں پہنچ رہی۔
افسوس کہ آپ نے پوری عبارت نقل نہیں کی۔ اور کیسے کرتے ہے کہ محض دھوکا دنیا مقصود ہے۔ تکملہ مجمع البحار کی پوری عبارت یوں ہے:
وَفِي حَدِيثٍ عِيسَى أَنَّهُ يَقْتُلُ الْخِنُرِيهَ وَيَكْسُرُ الصَّلِيبَ وَيَزِيدُ فِي الْحَلَالِ أَي يَزِيدُ فِي حَلَالِ نَفْسِهِ بِأَنْ يَتَزَوَّجَ وَيُولَدْ لَهُ وَكَانَ لَمْ يَتَزَوَّجُ قَبْلَ رَفِعْهِ إِلَى السَّمَاءِ فَزَادَ بَعْدَ الْهَبُوطِ فِي الْحَلَالِ عَيْنَهُ يُؤْمِنُ كُلُّ اَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مُتَقَنَ بِأَنَّهُ بَشَرَ وَقَالَ عَائِشَةُ قُولُوا إِنَّهُ خَاتِمُ الْأَنْبِيَاء وَلَا تَقُولُوا لَانَبِيَّ بَعْدَهُ وَهُذَا نَاظِرْ إِلَى نَزُولِ عِيسَى
ترجمہ: اور حدیث عیسی
میں یہ آتا ہے کہ وہ خنزیر کو قتل کریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ اپنے نفس کے حلال میں زیادتی کریں گے بیاں طور کہ وہ نکاح کریں گے اور اولاد ہوگی اور آسمان پر تشریف لے جانے کے قبل وہ کنوارے تھے۔ پس آسمان سے اترنے کے بعد حلال میں زیادتی کریں گے پس اس وقت اہل کتاب سے ہر ایک ان پر ایمان لائے گا۔ اور انہیں انسان ہی یقیں کرے گا۔ اور حضرت عائشہ
فرماتی ہیں کہ حضور
کو خاتم الانبیا تو کہو یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں یہ قول ناظر ہے نزول عیسی
کی طرف انتھی کیوں جناب لا تقربوا الصلوۃ والا واقعہ ہوا یا نہ ہوا۔ ہم پوچھتے ؟ ہیں کہ اگر مجمع البحار کی عبارت تمہارے ہاں حجت ہے تو ساری عبارت پر ایمان لاؤ اور مانو کہ عیسی
ابھی زندہ ہیں۔ آسمان سے اتریں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ اور اگر نہیں تو پھر کس منہ سے مجمع البحار کی عبارت کا اتنا سا حصہ پیش کر دیا۔ یا تو ساری عبارت پر ایمان لاؤ۔ یا ساری کو چھوڑو اور اس واحد تمہار سے ڈرو۔