اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَئِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ1 اللہ چنتا رھیگا رسولوں کو ۔
اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ ہی چنتا ہے فرشتوں میں سے رسول اور انسانوں میں سے ۔ اور اس کا ترجمہ یوں کرنا کہ چلتا رہے گا گویا قرآن میں تناقض ثابت کرنا ہے۔ اور حالت تناقض میں قرآن کا من عند اللہ ثابت نہ ہوگا ۔ لہذا یہ ترجمہ کرنا کہ چلتا رہے گا بلکہ اس آیت میں تو اس امر کا بیان ہے کہ رسول دو قسم پر ہیں۔ انسان اور ملک (فرشتہ ) اور اس امر کا رد ہے کہ رسول .... انسان نہیں ہو سکتا۔
علامہ سفلی
فرماتے ہیں:
( ومن المليكة رُسُلًا ) كَجِبْرَئِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَائِيلَ وغيرهم ( ومن الناس ) رُسُلًا كَابْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى وَمُحَمَّدٍ وغيرهم عليهم السلام - هذا رَدُّنِنَا انكروه مِن أَنْ يَكُونَ الرَّسُولُ مِنَ الْبَشَرِ وَ بَيَانٌ أَنَّ رَسُلُ اللَّهِ عَلَى ضَرْبَيْنِ مَلَكٌ وَ بَشَرٌ2
یعنے فرشتوں میں سے اللہ تعالیٰ نے جبرئیل اور میکائیل اور اسرائیل و غیر ہم رسول چنے اور انسانوں میں سے حضرت ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ اور حضور
بنے۔ یہ رد ہے ان کا جو کہتے ہیں رسول انسانوں سے نہیں ہو سکتا۔ اور بیان ہے اس امر کا کہ رسول دو قسم پر ہیں۔ ملک اور انسان ۔
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں اللہ کا منشا یہ نہیں کہ وہ حضور
کے بعد بھی رسول چلتا رہے گا۔ علامہ ابن جریر
فرماتے ہیں۔
وَمِنَ النَّاسِ كَا نَبِيَائِهِ الَّذِينَ أَرْسَلَهُمْ إِلَى عِبَادِهِ مِنْ بَنی آدم3
اللہ ہی چلتا ہے رسول ملائکہ سے اور انسانوں سے جیسے کہ وہ نبی جنہیں اس نے اپنے بندوں کی طرف بھیجا۔
تو معلوم ہوا کہ اس کا ترجمہ یہ نہیں کہ چلتا رہے گا۔ بلکہ یہاں وہ انبیاء مراد ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف بھیج چکا۔ علامہ جلال الدین سیوطی
ایک صحیح حدیث سید المفسرین حضرت ابن عباس الی اللہ سے نقل فرماتے ہیں۔ فرمایا :
اخرج الحاكم وصححه عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله اصطفى موسى بالكلام وابراهيم بالخلة
یعنی حضور
نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے موسیٰ
کو کلام کے ساتھ اور حضرت ابراہیم
کو خلہ کے ساتھ چن لیا۔ 5
معلوم ہوا کہ حضور
خود فرما گئے کہ ایسا نہ سمجھ لینا کہ میرے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے رسول چننے کا وعدہ فرمایا ہے۔ بلکہ اس آیت میں تو اللہ عز وجل نے ان نبیوں کے متعلق ذکر فرمایا ہے۔ جنہیں وہ مبعوث فرماچ کا مثلاً موسیٰ
کو کہ انہیں اللہ تعالٰی نے کلام کے ساتھ چن لیا اور ابراہیم کہ انہیں اللہ عز وجل نے خلت کے ساتھ چن لیا۔